پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

شيعوں کا علمي تفکر



مذھبي تفکر کے معني

مذھبي تفکر اس بحث و جستجو اور تلاش ميں غور و خوض کرنے کو کھتے ھيں کہ جس کے ذريعے مذھب کے اصولوں اور مذھبي مواد ميں سے ايک اصل يا مادہ کے بارے ميں مذھبي تعليم سے نتيجہ اخذ کيا جا سکے جيسا کہ علم رياضي ميں تفکر، اس سوچ اور غور کو کھتے ھيں جس کے ذريعے رياضي کے ايک مسئلے يا نظرئيے کے متعلق حل تلاش کر کے کسي نتيجے پر پھونچ سکيں ـ

اسلام ميں مذھبي تکفر کے بنيادي مآخذ

البتہ مذھبي تفکر کے لئے بھي دوسرے تمام تفکرات کي طرح مآخذ کي ضرورت ھوتي ھے ـ کيونکہ فکري مواد انھيں سے پيدا ھوتا ھے اور انھيں پر تکيہ کرتا ھے جيسا کہ رياضي کا ايک مسئلہ حل کرنے کے لئے تفکر ميں معلومات کے تسلسل کو ذھن ميں لانا پڑتا ھے جو آخر کار ايک نتيجے پر پھونچ جاتا ھے ـ صرف ايک مآخذ جس پر آسماني دين اسلام تکيہ کرتا ھے ( اس لحاظ سے کہ يہ دين آسماني وحي تک پھونچتا ھے ) قرآن مجيد ھي ھے اور قرآن مجيد، پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي نبوت اور رسالت کي ھميشگي، عمومي اور قطعي دستاويز ھے ـ اس آسماني کتاب ميں جو کچھ لکھا ھوا ھے وہ اسلامي دعوت يا دين کھلاتا ھے، البتہ قرآن کريم کے واحد اور اکيلے مآخذ کے معني يہ نھيں ھيں کہ تفکر کے دوسرے صحيح منابع و مآخذ اور دلائل کو باطل يا منسوخ سمجھا جائے جيسا کہ ھم اگلے صفحات ميں تفصيلاً بيان کرينگے ـ

تين طريقے جن کي طرف قرآن مجيد مذھبي تفکر کے لئے رھنمائي کرتا ھے
قرآن کريم اپني تعليمات ميں معارف اسلامي اور مقاصد ديني کو سمجھنے اور ان تک پھونچنے کے لئے اپنے پيرو کاروں کے سامنے تين طريقے رکھتا ھے، اور يہ تين راستے ان کو دکھاتا ھے :
1ـ ظواھر ديني ( شريعت )
2ـ عقلي حجت
3ـ معنوي پھچان ( شريعت، طريقت اور حقيقت ) بندگي اور اخلاص کے ذريعے ـ

اس کي وضاحت يوں ھوتي ھے کہ ھميں معلوم ھے کہ قرآن کريم اپنے بيانات ميں سب انسانوں کو مخاطب کرتا ھے اور کبھي کبھي اپنے قول کے مطابق کسي دليل، حجت اور برھان کے بغير صرف خدا وند تعاليٰ کي فرمان روائي اور حکومت کو قبول کرنے، اعتقادي اصول مثلاً توحيد، نبوت اور معاد کو ماننے اور اسي طرح عملي احکام مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰة وغيرہ کو تسليم کرنے کا حکم ديتا ھے ـ اس کے ساتھ ھي بعض اعمال اور کاموں سے منع فرماتا ھے ـ قرآن کريم اگر ان لفظي بيانات کي دليل نہ رکھتا تو ھرگز لوگوں کو فرماں برداري اور اس کے قبول کرنے کا حکم کبھي نہ ديتا، پس ناگزير يوں کھنا چاھئے کہ قرآن مجيد کے ايسے سادہ بيانات، مقاصد ديني اور معارف اسلامي کو سمجھنے کے لئے ايک مآخذ يا طريقے کا کام ديتے ھيں ـ ھم لفظي بيانات مثلاً ” اٰمنوا با للہ و رسولہ “ اور ” اقيمو ا الصلاة “ کو ديني ظواھر کھتے ھيں ـ

اور دوسري طرف ھم ديکھتے ھيں کہ قرآن مجيدا پني بھت زيادہ آيات ميں عقلي حجت ( دليل و برھان يا عقلي دلائل ) کي طرف رھبري و راھنمائي کرتا ھے اور لوگوں کو انفس و آفاق کي نشانيوں ميں غور و خوض کرنے کي دعوت ديتا ھے اور خود بھي حقائق کو واضح کرنے کے لئے عقلي دلائل اور استدلال کو بيان کرتا ھے، حقيقت ميں دوسري کوئي آسماني کتاب قرآن کريم کي طرح اس قدر دلائل علم و معرفت کو انسان کے لئے فراھم نھيں کرتي ـ

قرآن مجيد اپنے بيانات کے ذريعے عقلي حجت اور آزاد دلائلي استدلال ( منطق ) کو مسلم سمجھتا ھے يعني يہ نھيں کھتا کہ سب سے پھلے معارف اسلامي کي حقانيت کو قبول کرو اور پھر عقلي دلائل ميں غور کر کے مذکورہ معارف اور علوم کو اس ميں سے اخذ کرو، بلکہ اپني واقعيت اور حقيقت پر کامل اعتماد رکھتے ھوئے فرماتا ھے کہ عقلي دلائل کو سمجھتے ھوئے مذکورہ علوم اور معارف کي حقانيت پر غور کرو اور پھر اسے قبول کرو اور وہ دعويٰ اور باتيں جو تم اسلامي تحريک ( دين اسلام ) سے سنتے ھو، تم ان کي تصديق آفرينش جھان ( دنيا کي حقيقت اور فطرت ) سے کرو جو سچي اور حقيقي گواھي ھے اور پھر سند اور آخر کار صدق و ايمان کو اپنے غور و خوض اور دلائل کے نتيجے کے ذريعے حاصل کرو، نہ يہ کہ پھلے ايمان لے آؤ اور پھر اس کے مطابق دلائل لاؤ ـ پس فلسفي تفکر ايک ايسا طريقہ ھے جس کي موجودگي کي قرآن کريم تصديق کرتا ھے ـ دوسري طرف ھم ديکھتے ھيں کہ قرآن کريم بھت ھي دلچسپ اور واضح طور پر بيان کرتا ھے کہ دنياکے سارے حقيقي علوم و معارف، توحيد اور حقيقي خدا شناسي سے سر چشمہ حاصل کرتے ھيں اور خدا شناسي ميں کمال صرف وھي لوگ حاصل کر سکتے ھيں جن کو اللہ تعاليٰ نے ھر طرف سے اکٹھا کر کے صرف اپنے لئے مخصوص کر رکھا ھے ـ يہ وھي لوگ ھيں جنھوں نے ھر طرف سے منہ موڑ کر اور ھر چيز کو بھول کر صرف اپني بندگي اور اخلاص کي وجہ سے فقط عالم بالا ( خدا ) کي طرف مبذول کر لي ھے اور خدا وند عزوجل کے نور سے ان کي آنکھيں منور اور پر نور ھو چکي ھيں انھوں نے اپني حقيقت بين آنکھوں سے اشياء کي حقيقت، آسماني فرشتوں اور زمين کي واقعيت کو ديکہ ليا ھے، کيونکہ اخلاص اور بندگي کے ذريعے وہ عين اليقين تک پھونچ چکے ھيں اور اسي يقين و ايمان کي وجہ سے ان کے سامنے عالم ملکوت، آسمان، زمين ھميشہ کي زندگي اور ابدي دنيا کي حقيقت آشکار اور بے پردہ ھو گئي ھے ـ

ان آيات کريمہ ميں توجہ کرنے سے يہ دعويٰ مکمل طور پر واضح ھو جاتا ھے :ـ
” و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحي اليہ انہ لا الٰہ الا انا فاعبدون “ (سورہُ انبياء / 25) ” اور ( اے رسول ) ھم نے تم سے پھلے جب کبھي کوئي رسول بھيجا تو اس کے پاس ھم يھي وحي بھجتے رھے کہ بس ھمارے سوا کوئي معبود قابل پرستش نھيں تو ميري عباد ت کيا کرو “ ـ

اور پھر فرماتا ھے :
” سبحان اللہ عما يصفون، الا عباد اللہ المخلصون “ (سورہُ صافات / 159ـ160 ) ” يہ لوگ جو باتيں بنايا کرتے ھيں ان سے خدا پاک وصاف ھے مگر وہ لوگ جو خدا کے برگزيدہ اور خالص ھيں “ـ

اور پھر فرماتا ھے :
” قل انما انا بشر مثلکم يوحيٰ اليّ انما الٰھکم الٰہ واحد فمن کان يرجوا لقاء ربہ فليعمل عملا ً صالحاً و لا يشرک بعبادة ربہ احدا “ ( سورہ ٴ مريم / 110 ) ” اے نبي کھدو کہ ميں بھي تمھاري طرح ايک انسان ھوں ليکن مجھے تمھارے خدا کي طرف سے وحي بھيجي جاتي ھے اور تمھارا خدا ايک ھے پس جو کوئي خدا کي ملاقات کا اميدوار ھے اس کو نيک کام کرنے چاھيں اور خدائے وحدہ لا شريک کے ساتھ عبادت ميں کسي کو اس کا شريک نہ بنائے “ـ

پھر فرماتا ھے :
” و اعبدو ربک حتي ياتيک اليقين “ (سورہُ حجرات / 99 ) ” اور اپنے پروردگار کي عبادت کرو يھاں تک کہ تم يقين ( عين اليقين ) تک پھونچ جاؤ “ـ

اور پھر فرماتا ھے :
” وکذٰلک نري ٓ ابراھيم ملکوت السموات و الارض و ليکون من الموقنين “ ( سورہُ انعام / 75)” اور اسي طرح ھم ( اپنے پيغمبر ) ابراھيم عليہ السلام کو آسمانوں اور زمين کے عجائبات دکھاتے تھے تاکہ وہ يقين کرنے والے لوگوں ميں سے ھو ( اس کو يقين ھو جائے اور اس کا ايمان مزيد پختہ ھو جائے “ـ

اور پھر فرماتا ھے :
”کلّآ ان کتٰب الابرار لفي عليّين، و مآ ادرٰک ما علّيّون، کتٰب مّرقوم يّشھد ہ المقرّبون “ ( سورہ ٴمطففين / 18ـ21) ” حقا کہ بے شک نيکو کار لوگوں کا تقدير نامہ عليين ميں لکھا ھوا ھے ـ کيا تو جانتا ھے کہ عليين کيا چيز ھے ـ عليين ايک لکھي ھوئي کتاب ھے جس کي گواھي مقربان درگاہ خدا ديتے ھيں “ ـ

اور پھر فرماتا ھے :
” کلّا لو تعلمون علم اليقين، لترونّ الجحيم “ ( سورہُ تکاثر / 5ـ6) ” ھر گز نھيں، کيا تم جانتے ھو کہ علم اليقين کيا ھے ؟ البتہ يہ اس وقت معلوم ھو گا جب تم دوزخ کو اپني آنکھوں سے ديکہ لو گے “ ـ

پس خدائي معارف کو سمجھنے کے طريقوں ميں سے ايک طريقہ پاکي نفس اور بندگي ميں اخلاص ھے ـ

ان تين طريقوں کے درميان فرق

پچھلے بيان سے واضح ھو گيا ھے کہ قرآن مجيد، ديني معارف اور مفاھيم کو سمجھنے کے لئے تين طريقے پيش کرتا ھے، ظواھر ديني ( شريعت ) اوربندگي ميں عقل و اخلاص، حقائق اور باطني مشاھدات کے موجب ھيں، ليکن يہ جاننا ضروري ھے کہ يہ تين طريقے چند لحاظ سے باھم فرق رکھتے ھيں ـ

پھلا :” ظواھري ديني “ چونکہ ايسے لفظي بيانات ھيں جو سادہ ترين الفاظ اور بيان ميں بتائے گئے ھيں اور ان کو لوگوں کي دسترس اور اختيار ميں ديا گيا ھے اور ھر شخص اپنے فھم و عقل کے مطابق ان سے بھرہ مند ھوتا ھے اور فائدہ اٹھاتا ھے ـ يعني دوسرے دو طريقوں کے بالکل بر عکس جو ايک خاص گروہ سے تعلق رکھتے ھيں اور عمومي نھيں ھيں ـ

دوسرا :” ظواھري ديني “ کا طريقہ وہ طريقہ ھے جس پر چل کر اصول ديني، فروعات اور اسلامي معارف کو پھچان کر ايماني اور عملي دعوت ( اصول معارف اور اخلاق ) تک رسائي حاصل کي جا سکتي ھے، دوسرے دو طريقوں کے بالکل بر خلاف، کيونکہ اگر چہ عقل کے ذريعے، اعتقادي، اخلاقي اور عملي مسائل کے کليات کو سمجھا جا سکتا ھے ليکن احکام(شريعت) کي جزئيات چونکہ خاص مصلحتوں کي بنا ء پر عقل کي دسترس ميں نھيں دي گئي ھيں لھذا اس کے دائرہ عمل سے خارج ھيں اور اسي طرح تھذيب نفس کا طريقہ ھے ـ چونکہ اس کا نتيجہ حقائق کے انکشاف پر مبني ھے اور وہ ايسا علم ھے جو خدا داد ھے اس لئے اس کے نتيجے اور اس سے حاصلہ حقائق کے لئے جو اس خدائي عنايت کے ساتھ ظاھر ھوتے ھيں کوئي حد معين نھيں کي جا سکتي يا اس کا اندازہ نھيں کيا جا سکتا ـ يہ لوگ چونکہ ھر چيز سے الگ ھو چکے ھيں اور اللہ تعاليٰ کے سوا انھوں نے ھر چيز کو فراموش کر ديا ھے لھذا وہ براہ راست خدا کي ولايت اور سر پرستي کے دائرے ميں چلے جاتے ھيں، پس خدا کي مرضي اور عنايت سے ( نہ کہ ان کو اپني مرضي سے ) ھر چيز ان پر منکشف اور ظاھر و واضح ھو جاتي ھے ـ

پھلا طريقہ ـ ظواھر ديني اور ان کي اقسام

جيسا کہ اوپر بيان کيا گيا ھے، قرآن مجيد جو اسلام کے بنيادي مذھبي تفکر کا مآخذ ھے، اپنے ظاھري الفاظ کے ذريعے اپنے قارئين اور سامعين کے سامنے حجت ( برھان ) پيش کرتا ھے اور يھي ظاھري آيات پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي احاديث کو دوسرے درجے پر رکھتي ھيں اور وہ بھي قرآن مجيد کي طرح حجت ( دليل و برھان ) لاتي ھيں ـ قرآن مجيد فرماتا ھے : ” و انزلنا اليک الذکر لتبين للناس ما انزل اليھم “ ( سورہ ٴ نحل /44 ) ”اور ھم نے تجھ پر ذکر ( کتاب ) نازل کيا تاکہ جو کچھ تم پر نازل کيا گيا ھے اس کو لوگوں کے سامنے بيان کرو “ـ

پھر فرماتا ھے : ” ھو الذي بعث في الاميّن رسولا منھم يتلوا عليھم اٰيٰتہ و يزکيّھم و يعلّمھم الکتٰب و الحکمة “(سورہُ جمعہ / 2 ) ” وہ ( خدا ) جس نے مکہ والوں ميں ان ھي ميں کا ايک رسول بھيجا جو ان کے سامنے اس کي آيتيں پڑھتا اور ان کو پاک کرتا ھے اور ان کو کتاب ( قرآن ) اور حکمت ( دانش و علم ) سکھاتا ھے “ـ

اور پھر فرماتا ھے :” لقد کان لکم في رسول اللہ اسوة حسنة “ ( سورہ ٴ احزاب / 21 ) ” بيشک تمھارے لئے رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي اقتدااور پيروي لازمي اور ضروري ھے “ ـ

پس معلوم اور واضح ھے کہ اگر پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے گفتار و اعمال اور حتيٰ کہ آپ کي خاموشي اور دستخط ھمارے لئے قرآن کي طرح حجت اور دليل نہ ھوتے تو مذکورہ مفھوم اور مطلب بھي ٹھيک نہ ھوتا، پس پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کا بيان ان لوگوں کے لئے جنھوں نے خود آپ سے سنا يا قابل اعتماد ذرائع سے ان تک پھونچا ھے، لازم الاتباع ھے ( يعني اس بيان کي اطاعت، پيروي اور پابندي لازمي ھے ) اور اسي طرح آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے يہ بيانات قطعي تواتر احاديث کي صور ت ميں ھم تک پھونچے ھيں، يعني آپ کے اھلبيت عليھم السلام کے بيانات بھي پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے بيانات کے بعد قابل اعتماد اور معتبر ھيں اور اھلبيت عليھم السلام علمي رھبري رکھتے ھيں کيونکہ وہ اسلام معارف اور احکام کے بيان ميں ھرگز خطا اور غلطي نھيں کرتے، لھذا ان کے بيانات خواہ وہ زباني ھوں يا لکھے ھوئے ھوں ( البتہ قابل اعتماد ذرائع سے ) حجت، دليل اور برھان ھيں ـ

اس بيان سے واضح ھو جاتا ھے کہ ظواھر ديني جو اسلامي تفکر ميں ايک سند اور دستاويز ھے دو اقسام پر مشتمل ھيں ” کتاب اور سنت “ کتاب سے مراد قرآني آيات کے ظاھري معني ھيں اور سنت سے مراد پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اور اھلبيت عليھم السلام کي احاديث ھيں جو ھم تک صحيح ذرائع سے پھونچي ھيں ـ

صحابہ کي احاديث

ليکن وہ احاديث جو صحابہ کے ذريعے لکھي گئي يا نقل ھوئي ھيں، اگر وہ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے قول و فعل کے مطابق ھوں اور اھلبيت عليھم السلام سے روايت شدہ احاديث کے بھي مخالف نہ ھوں تو قابل قبول ھيں اور اگر خود صحابي کي نظر اور رائے کي مطابق ھوں تو وہ حجت و برھان نہ ھوں گي ( قابل قبول نہ ھوں گي ) اور صحابہ کا حکم بھي دوسرے تمام مسلمانوں کے برابر اور مانند ھے ـ خود اصحاب رسول صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم آپس ميں ايک دوسرے کے ساتھ ايک عام مسلمان کي طرح سلوک کيا کرتے تھے ـ

کتاب اور سنت کے بارے ميں دوبارہ بحث

کتاب خدا ( قرآن مجيد ) ھر قسم کے اسلامي تفکر کا بنيادي مآخذ ھے، اور يہ قرآن کريم ھي ھے جو دوسرے تمام ديني مآخذ کے ثبوت کو اعتبار بخشتا ھے اور ان کے معتبر ھونے کي سند ديتا ھے يھي وجہ ھے کہ قرآن مجيد سب کے لئے قابل فھم ھے ـ

اس کے علاوہ خود قرآن کريم اپنے آپ کو ” نور “ اور ھر چيز کو واضح کرنے والا بتاتا ھے اورچيلنج کرتے ھوئے لوگوں سے درخواست کرتا ھے کہ قرآني آيات ميں غور و خوض اور فکر کريں کہ اس کي آيات ميں کسي قسم کا اختلاف اور تضاد موجود نھيں ھے اور اگر نھيں مانتے تو اس کي مانند کتاب لکہ کر لائيں اور اس کے ساتھ مقابلہ و معارضہ کريں ـ واضح رھے کہ اگر قرآن مجيد سب لوگوں کے لئے قابل فھم نہ ھوتا تو اس قسم کي حقانيت کے کوئي معني ھي نہ ھوتے ـ

البتہ ھرگز يوں نھيں سمجھنا چاھئے کہ قرآن مجيد جو خود بخود قابل فھم ھے اور گزشتہ مطلب کے منافي ھے جس ميں کھا گيا ھے کہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اور آئمہ اھلبيت عليھم السلام اسلامي معارف اور علوم ميں علمي مراجع (ديني اورعلمي رھبر ) ھيں اور وہ خود در حقيقت قرآن کريم کے مضامين ميں سے ھيں کيونکہ بعض معارف اور علوم جن کو شريعت کے احکام اور قوانين کھا جاتا ھے، قرآن مجيد ان کو مجموعي اور کلي طور پر بيان کرتا ھے ليکن ان کي تفصيلات کو جاننے کے لئے مانند نماز، روزہ وغيرہ اور اسي طرح لين دين اور دوسري عبادات وغيرہ سنت پيغمبر صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اور اھلبيت عليھم السلام کي احاديث کي طرف رجوع کرنے سے واضح ھوتے ھيں اور يہ امور و احکام انھيں پر موقوف ھيںـ

اسلام کا دوسرا حصہ جو اعتقادي اور اخلاقي تعليمات اور اسي طرح معارف اسلامي پر مشتمل ھے اگر چہ ان کے مضامين اور تفصيلات عام افراد کے لئے قابل فھم ھيں ليکن ان کے معاني سمجھنے کے لئے اھلبيت عليھم السلام کي روش اختيار کرني چاھئے ـ اسي طرح ھر قرآني آيات کو اس کي دوسري آيات کے ساتھ ملا کر معني، توضيح اور تفسير کرني چاھ+ئے نہ کہ اپنے نظريئے اور خيالات کے مطابق جيسا کہ ھمارے زمانے ميں يہ رسم اور عادت عام ھو چکي ھے اور ھم بھي اس طريقے سے مانوس ھو چکے ھيں ـ حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں : ” قرآن مجيد کي بعض آيات، بعض دوسري آيات کے ذريعے واضح ھوتي ھيں اور معني ديتي ھيں، اور اس کي بعض آيات بعض دوسري آيات کے متعلق گواھي ديتي ھيں اور ان کي تصديق کرتي ھيں “ 1 اور پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ھيں :” قرآن مجيد کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کي تصديق کرتے ھيں “2 اور پھر فرماتے ھيں :” جو شخص قرآن مجيد کي تفسير صرف اپنے نظريئے اور اپني رائے کے مطابق کرے گا وہ اپنے لئے جھنم ميں ٹھکانہ بنائے گا 3

قرآن سے قرآن کي تفسير کے لئے ايک بھت ھي سادہ سي مثال وہ ھے جو خدا تعاليٰ قوم لوط کے عذاب کي داستان ميں ايک جگہ فرماتا ھے :” ھم ان پر بري بارش کريں گے “ ( سورہ ٴ شعراء /173 ) اور ايک دوسري جگہ اسي لفظ کو ايک دوسرے لفظ کے ساتھ بدل ديتا ھے اور فرماتا ھے :” ھم ان پر پتھروں کي بارش کريں گے “( سورہ ٴ حجر / 74) ان دو آيات کے انضمام سے واضح ھو جاتا ھے کہ بري بارش کا مطلب ” آسماني پتھر ھے “ اگر کوئي شخص تحقيق و جستجو کے ساتھ اھلبيت عليھم السلام کي احاديث اور ان روايات سے جو مفسرين صحابہ اور تابعين سے ھم تک پھونچي ھيں، ان کے اندر معني تلاش کرے تو اس ميں کوئي شک و شبہ نھيں رھے گا کہ قرآن سے قرآن کي تفسير کا طريقہ صرف اھلبيت عليھم السلام سے ھي مختص ھے ـ

قرآن مجيد کا ظاھر اور باطن

جيسا کہ ھميں يہ معلوم ھو چکا ھے کہ قرآن کريم اپنے لفظي بيان کے ساتھ ديني مقاصد اور مطلب کو واضح کرتا ھے، اور لوگوں کو اعتقاد، ايمان اورعمل کے بارے ميں احکام ديتا ھے، ليکن قرآن مجيد کے مقاصد صرف اسي مرحلے پر منحصر يا ختم نھيں ھوتے بلکہ انھيں الفاظ و عبارات کے اندر اور انھيں مقاصد کے پردے ميں ايک معنوي مرحلہ اور کئي دوسرے گھرے مقاصد اپني بے انتھا وسعتوں کے ساتھ چھپے ھوئے ھيں کہ اللہ تعاليٰ کے خاص بندے اپنے پاک دلوں کے ساتھ ان کو سمجھ سکتے ھيں ـ

پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم جو قرآن مجيد کے خدائي معلم ھيں فرماتے ھيں : ” قرآن مجيد کا ظاھر بھت ھي خوش آيند اور خوبصورت ھے اور اس کا باطن بھت ھي گھرا اور وسيع ھے “ـ ( تفسير صافي ج /4 ) پھر فرماتے ھيں :” قرآن مجيد کا ايک باطن ھے ( ايک باطني معني ھے ) اور ھر باطن کے اندر سات باطن ( معني ) ھيں اور اسي طرح آئمہ عليھم السلام کي احاديث ميں بھي قرآن کے باطن کي طرف بھت زيادہ اشارے ھوئے ھيں “( سفينة البحار تفسير صافي ص 153، اور تفسير مرسلا ميں آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے حديث نقل کي گئي ھے اور تفسير عياشي، معاني الاخبار ميں بھي ايسي احاديث نقل ھوئي ھيں ) ـ

ان احاديث کي اصل بنياد اور ساکہ وہ مثال ھے جو اللہ تعاليٰ سورہ ٴ رعد آيت 17/ ميں بيان فرماتا ھے اللہ تعاليٰ اس آيہ کريمہ ميں آسماني فيض کو اس بارش سے تشبيہ ديتا ھے جو آسمان سے نازل ھوتي ھے اور زمين و اھل زمين کي زندگياں اس سے وابستہ ھيں ـ بارش آنے سے سيلاب جاري ھو جاتا ھے اور سيلاب کے مختلف راستے اپنے اندازے کے مطابق اس پاني کو اپنے اندر کھينچ ليتے ھيں اور ان کے اندر پاني بھر جاتا ھے اور وہ پاني جا ري ھو جاتا ھے ـ سيلاب کا پاني جھاگ اور کف سے پوشيدہ ھو جاتا ھے ليکن اس جھاگ کے نيچے بھي وھي پاني ھوتا ھے جو زندگي بخش ھے اور لوگوں کے لئے بھت ھي فائدہ مند ھوتا ھے ـ 4

جيسا کہ مندرجہ بالا مثال ميں خدا وند تعاليٰ اشارہ کرتا ھے، آسماني معارف اور قرآني علوم جو انسان کي معنويت کو جان بخشتے ھيں، کو حاصل کرنے ميں لوگوں کے فھم و ادراک اور سوچ کي گنجائش بھي مختلف ھوتي ھے بعض لوگ ايسے ھوتے ھيں جو اس چند روزہ عارضي زندگي اور جھان گزراں ميں مادے اور مادي زندگي کے علاوہ کسي اور چيز کو کوئي اھميت ھي نھيں ديتے اور اسي طرح مادي خواھشات کے بغير کسي دوسري چيز ميں زيادہ دلچسپي نھيں ليتے ـ اور مادي نقصانات کے سوا کسي اور چيز سے نھيں ڈرتے ـ ان لوگوں کو چاھئے کہ کم از کم اپنے درجات ميں اختلاف کے لحاظ سے آسماني معارف اور علوم کو قبول کريں اور اجمالي اعتقادات پر يقين کريں اور اسلام کے عملي دستور اور قانون پر عمل کريں اور آخر کار خدائے وحدہ لا شريک کي پرستش اور عبادت، قيامت کے دن ثواب کي خواھش يا عذاب کے ڈر سے ھي کريں اور ايسے لوگ بھي موجود ھيں جو صفائے باطن اور صفائے فطرت کے ذريعے اپني سعادت اور خوش بختي کو اس دنيا کي چند روزہ اور عارضي زندگي کي لذتوں ميں نھيں جانتے اور اس جھان کے سود و زيان، نفع و نقصان، تلخيوں اور شيرينيوں کو ايک دھوکے باز خيال ( سراب ) کے سوا کچھ نھيں سمجھتے اور ايسے ھي اس کاروان ھستي کے گزرے ھوئے لوگ جو گزشتہ زمانے ميں سر خرو زندگي گزار کر اس جھان فاني سے رخصت ھو چکے ھيں اور آج ھمارے لئے افسانہ بن چکے ھيں ـ ان کي زندگيوں اور کارناموں سے عبرت حاصل کرتے رھتے ھيں ـ

يہ لوگ اپنے پاک دلوں کے ذريعے فطري طور پر ابدي دنيا کي طرف متوجہ ھوتے ھيں اور اس نا پائيد ار اور عارضي دنيا کے نقوش اور گونا گوں نظاروں کو خدا تعاليٰ کي نشانيوں کے طور پر ديکھتے ھيں ليکن وہ اس کے لئے کسي قسم کي حقيقت، استقلال اور پائيداري کے قائل نھيں ھوتے ـ

اس وقت يہ لوگ ان زميني دنياوي اور آسماني نشانيوں کے ذريعے خدائے پاک کي لا متناھي عظمت اور طاقت کو اپنے معنوي ادراک کے ساتھ مشاھدہ کرتے ھيں اور ان کے ناپاک دل آفرينش، فطرت اور حقيقت کے رموز کے واقف اور شيفتہ ھو جاتے ھيں اور وہ لوگ بجائے اس کے کہ ذاتي منفعت پرستي کے تنگ و تاريک غاروں ميں مقيد ھوں، ابدي دنيا کي لا متناھي فضا ميں پرواز کرتے ھوئے اوپر چلے جاتے ھيں ـ

يہ لوگ جب آسماني وحي کے ذريعے سنتے ھيں کہ خدائے تعاليٰ بتوں کي پرستش سے منع فرماتا ھے اس کے معني ظاھري بتوں کے سامنے سجدہ نہ کرنے کے ھيں تو وہ اس ممنوعيت اور ” نھي “ کے ذريعے سمجھ جاتے ھيں کہ خدا کے سوا کسي اورکي پرستش اور اطاعت نھيں کرني چاھئے کيونکہ اطاعت کي حقيقت بھي بندگي اور سجدہ کرنے کے سوا کچھ نھيں ھے ـ پھر وہ لوگ اس سے اور زيادہ سمجھ جاتے ھيں کہ خدا کے سوا کسي سے نھيں ڈرنا چاھئے اور نہ ھي کسي سے اميد اور توقع رکھني چاھئے ـ اس سے بھي اوپر چلے جاتے ھيں اور ان کو معلوم ھو جاتا ھے کہ نفساني خواھشات کے سامنے بھي سر تسليم خم نھيں کرنا چاھئے پھر اس سے بھي زيادہ سمجھ جاتے ھيں کہ خدا کے سوا کسي اور کي طرف نھيں توجہ کرني چاھئے ـ

اسي طرح جب کہ قرآن مجيد کي زباني سنتے ھيں کہ قرآن کريم نماز کا حکم ديتا ھے اور اس کے ظاھري معني صرف مخصوص عبادت کي انجام دھي کے ھيں تو باطني طور پر وہ سمجھ جاتے ھيں کہ جان و دل سے خدا کے سامنے خضوع و خشوع کے ساتھ سجدہ ريز ھو جانا چاھئے ـ پھر اس سے زيادہ سمجھتے ھيں کہ خدا کے سامنے اپنے آپ کو، سچ جاننا چاھئے اور اپنے آپ کو بھول جانا چاھئے اور صر ف خدا کي ياد ميں ھي مصروف رھنا چاھئے ـ

جيسا کہ واضح ھے مندرجہ بالا دو مثالوں ميں جو باطني معني لکھے گئے ھيں وہ امر و نھي کے لفظي معني نھيں ھيں ليکن جو لوگ وسيع طور پر تفکر کرتے ھيں اور جھان بيني کو خود بيني پر ترجيح ديتے ھيں ان کے لئے ان معاني کا ادراک ناقابل اجتناب ھے ـ

گزشتہ بيان سے قرآن مجيد کے ظاھري اور باطني معني واضح ھو گئے ھيں اور يہ بھي واضح ھو گيا ھے کہ قرآن مجيد کا باطن اس کے ظاھر کو منسوخ نھيں کرتا بلکہ اس روح کي طرح ھے جو اپنے جسم کو زندگي اور جان ديتي ھے ـ اسلام ايک عمومي اور ابدي دين ھے جو انسانيت کي اصلاح اور بھتري کے لئے آيا ھے اور اس کے سامنے معاشرے اورانسانوں کي اصلاح بھت زيادہ اھميت رکھتي ھے لھذا اسلام اپنے ظاھري قوانين سے جو معاشرے کي اصلاح کے لئے ھيں اور اپنے سادہ عقائد سے جو مذکورہ قوانين کے نگھبان اور محافظ ھيں، ھر گز ھاتہ نھيں اٹھاتا، يا ان کو نظر انداز نھيں کرتاـ

يہ کيسے ممکن ھے کہ ايک معاشرہ اس فريب اور دھوکے کے ساتھ کہ انسان کا دل پاک ھونا چاھئے اور عمل کي کوئي اھميت نھيں ھے ـ ھرج و مرج اور افرا تفري کے ساتھ زندگي گزارے اور پھر بھي سعادت اور خوش بختي کو حاصل کرے ؟ اور پھر يہ بھي کيسے ممکن ھو سکتا ھے کہ نا پاک کردار اور گفتار، ايک پاک دل کو جنم دے سکے يا ايک پاک دل سے نا پاک کردار اور گفتار جنم لے ؟ خداوند تبارک و تعاليٰ اپني کتاب مقدس ميں فرماتا ھے :” پاک لوگ پاک لوگوں ميں سے ھيں اور نا پاک لوگ نا پاک لوگوں ميں سے ھيں ـ

پھر فرماتے ھے : ” اچھي زمين اپني نباتات کو اچھي طرح پرورش کرتي ھے اور بري زمين سے برے فصل کے سوا کچھ پيدا نھيں ھوتا “ ـ ” و البلد الطيب يخرج بناتہ باذن ربہ، و الذي خبت لا يخرج الا نکدا، کذٰلک نصرف الاٰيٰت لقوم يشکرون “ (سورہ ٴ اعراف / 58)

گزشتہ بيان کے ذريعے واضح ھو گيا ھے کہ قرآن مجيد ميں ظاھر اور باطن موجود ھے اور پھر باطن کے مختلف درجات ھيں اور وہ احاديث نبوي جو قرآن کريم کے اس بيان کي تصديق کرتي ھيں، اگلے صفحات ميں آئيں گي ـ

قرآن مجيد کي تاويل

اسلام کے اوائل ميں اکثريت اھلسنت ميں يہ مشھور تھا کہ جس وقت ضرورت اور دليل موجود ھو، قرآن مجيد کے ظاھري معاني سے چشم پوشي کر کے معنوي اور باطني معني مراد لئے جا سکتے ھيں اور ان ظاھري معاني کے خلاف تفسير کو ” تاويل “ کھا جاتا تھا، اور جس چيز کو قرآن مجيد ميں تاويل کھا گيا ھے وھي معني تفسير کو ديئے جاتے تھے ـ اھلسنت کي مذھبي کتابوں اور اسي طرح مختلف مذاھب کے مناظروں ميں جو لکھے بھي جا چکے ھيں، يہ مسئلہ بھت زيادہ دکھائي ديتا ھے کہ ايک مسئلے ميں جو مذھبي علماء کے اجماع سے يا کسي اور وجہ سے ثابت ھو جاتا ھے ـ اگر ايک آيت کے ظاھري معني دوسري قرآني آيات کے مخالف ھوں تو اس آيت کي تاويل کر کے خلاف ظاھر معاني کر ديئے جاتے ھيں اور کبھي کبھي دو مخالف گروہ اپنے دو متقابل اقوال کے لئے قرآني آيات سے دلائل سے حاصل کرتے ھيں اور دونوں گرھوں ميں سے ايک گروہ کي آيات کي تاويل کرتا ھے ـ

يہ طريقہ کم و بيش شيعہ مذھب ميں بھي سرايت کر گيا ھے اور ان کي بعض علم کلام کي کتابوں ميں بھي ديکھا جاتا ھے، ليکن جو چيز قرآني آيات اور ائمہ اھلبيت عليھم السلام کي احاديث ميں کافي غور و فکر کے بعد حاصل ھوتي ھے وہ يہ ھے کہ قرآن مجيد نے اپنے رس بھرے بيان اور واضح مطالب ميں ھر گز معمہ گوئي اور مبھم روش کو اختيار نھيں کيا ھے اور اپنے مطالب اور مضامين کو سوائے ظاھري معاني کے ،اپنے ماننے والوں کے سامنے پيش نھيں کرتا اور جس کو قرآن مجيد ميں تاويل کھا گيا ھے، وہ لفظي معني نھيں ھيں بلکہ وہ حقائق ھيں جو عام لوگوں کے فھم و ادراک سے بھت بالاتر ھيں جن ميں سے اعتقادي معارف اور قرآن مجيد کے علمي احکام سر چشمہ حاصل کرتے ھيں ـ ھاں ! تمام قرآن مجيد کي تاويل ھو سکتي ھے اور اس کي تاويل بھي براہ راست غور و فکر اور فکر و تدبير کے ذريعے قابل فھم نھيں ھے اور الفاظ کے ذريعے بھي اس کو بيان نھيں کيا جا سکتا اور صرف خدا کے پيغمبر، پاک لوگوں اور اولياء اللہ ھي جو انساني آلائشوں سے پاک ھوتے ھيں، اپنے مشاھدات کے ذريعے ان کو سمجھ سکتے ھيں، مگر قرآن مجيد کي تاويل قيامت کے دن سب لوگوں پر ظاھر ھو جائے گا ـ

وضاحت

ھم بخوبي جانتے ھيں کہ جس چيز نے انسانوں کو بات کرنے، الفاظ بنانے اور ان الفاظ سے استفادہ کرنے پر مجبور کيا ھے وہ معاشرتي اور مادي ضروريات ھيں، انسان اپني معاشرتي زندگي ميں مجبور اور نا گزير ھے کہ اپنے ضمير کي آواز اور اپنے ارادے کو اپنے ھم جنسوں کے سامنے پيش کرے، ان کو اپنے دل کي بات بتائے اور سمجھائے اسي وجہ سے وہ اپني آواز اوراپنے کانوں سے مدد ليتا ھے اور اس کے علاوہ کبھي کبھي اشاروں اور آنکھوں سے بھي فائدہ اٹھاتا ھے، يھي وجہ ھے کہ ايک گونگے اور ايک نا بينا فرد ميں يہ مفاھمت نھيں پائي جاتي، کيونکہ جو بات نابينا کرتا ھے، گونگا اور بھرہ شخص اس کو نھيں سن سکتا اور جس چيز کے بارے ميں گونگا اشارہ کرتا ھے اسے نابينا شخص نھيں ديکہ سکتا ـ اسي وجہ سے الفاظ بنانے اور چيزوں کے نام رکھنے کے لئے مادي ضرورت کو پورا کيا گيا ھے اور چيزوں کے بارے ميں الفاظ بنائے گئے ھيں جو مادي ھيں يا احساس کے نزديک ھيں، جيسا کہ ھم ديکھتے ھيں کہ وہ شخص جس سے ھم بات کرنا چاھتے ھيں، اگر اس کے حواس خمسہ ميں ايک حس کي کمي موجود ھے اور ھم اسي حس کے مطابق جو اس شخص ميں موجود ھي نھيں ھے بات کريں تو ايک قسم کي مثال دے کر اپنے مطلب کو واضح کرتے ھيں يا اشارہ کرتے ھيں ـ اور اگر ايک پيدائشي نابينا شخص ھو اور ھم اس کے ساتھ روشني يا رنگ کے بارے ميں بات کريں يا ايک بچے کے ساتھ جو ابھي سن بلوغ کو نھيں پھونچا ھے جنسي عمل کي لذت کے متعلق بات کريں تو اپنے مطلب کو ايک دوسري چيز سے تشبيہ دے کر يا مقابلہ کر کے يا مناسب مثال دے کر اسے سمجھاتے ھيں اور يوں اپنے مطلب کو ادا کرتے ھيں، لھذا اگر فرض کريں کہ اس جھان ھستي ميں بعض حقائق اور رموز موجود ھيں جو مادے اور مادي آلائشوں سے پاک ھيں ( اور حقيقت بھي يھي ھے ) اور ھر زمانے ميں انسانوں ميں سے صرف چند لوگ ان کے مشاھدے اور ادراک کي صلاحيت رکھتے ھيں تو يہ حقائق و رموز لفظي بيان اور عام تفکر کے ذريعے قابل فھم نھيں ھوں گے اور مثال و تشبيھہ کے بغير ان کے بارے ميں کچھ بتايا نھيں جا سکے گا ـ

اللہ تعاليٰ اپني کتاب ميں فرماتا ھے : ھم نے اس کتاب کو پڑھے جانے والے الفاظ اور عربي زبان ميں نازل کيا ھے تاکہ شايد تم غور کرو اور سمجھ سکو، حالانکہ يہ ام الکتاب ( لوح محفوظ ) ميں ھمارے پاس موجود ھے جو بھت ھي بلند مقام ھے ( يعني عام فھم دماغ اس تک نھيں پھونچ سکتا اور اس کو نھيں سمجھ سکتا ) ”انا جعلنٰہ قرآنا عربيا لعلّکم تعقلون، و انہ في ام الکتٰب لدينا لعلي حکيم “ ( سورہُ زخرف /403)

اور پھر فرماتا ھے :” بيشک يھي کتاب يعني قرآن مجيد ھے جو بھت ھي عزيز اور گرامي ھے اور حقيقت ميں يہ عام نظروں سے پنھاں ھے کہ کوئي آدمي اس کو چھو نھيں سکتا مگر خدا کے پاک بندے “ـ ” انہ لقراٰ ن کريم، في کتٰب مکنون، لا يمسّہ الا المطھرون “ ( سورہ ٴ واقعہ /77ـ79)

اسي طرح پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اور آپ کے اھلبيت عليھم السلام کے بارے ميں فرماتے ھيں :” اللہ تعاليٰ چاھتا ھے کہ اے( پيغمبر کے ) اھلبيت خدا تو بس يہ چاھتا ھے کہ تم کو ( ھر طرح ) کي برائي سے دور رکھے اور جيسا پاک و پاکيزہ رھنے کا حق ھے ويسا پاک و پاکيزہ رکھے ـ ” انما يريد اللہ ليذھب عنکم الرجس اھل البيت و يطھرکم تطھيرا “ (سورہُ احزاب / 33)

ان آيات کے ثبوت سے قرآن کريم کا منبع اور سر چشمہ اس جگہ ھے جھاں لوگوں کے فھم و ادراک کو ھر گز راہ نھيں ھے اور وہ لوگ اس تک پھونچنے سے عاري ھيں، صرف خدا کے پاک بندوں کے سوا کسي شخص کو اس تک رسائي نھيں ھے اور نہ ھي کوئي اس کو سمجھ سکتا ھے اور نہ ھي اس کا دماغ وھاں تک پھونچ سکتا ھے اور پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے اھلبيت عليھم السلام انھيں پاک بندوں ميں سے ھيں ـ

ايک اور جگہ فرماتا ھے :” يہ لوگ جو قرآن مجيد پر ايمان نھيں لاتے وہ اس چيز کو تکذيب کرتے ھيں جس کے علم کو وہ احاطہ نھيں کر سکتے اور ابھي تک اس کي تاويل ان پر ظاھر نھيں ھوئي ھے “ ( يعني يہ تاويل ان پر قيامت کے دن ظاھر اور واضح ھو گي جب ھر چيز کو آنکھوں سے ديکھا جا سکے گا ) ( سورہ يونس /39) ” بل کذّبوا بما لم يحيطوا بعلمہ و لما ياتھم تاويلہ، کذٰلک کذّب الذين من قبلھم فانظر کيف کان عاقبة الظالمين “

پھر ايک اور جگہ فرماتا ھے :” جس دن قرآن کي تاويل ( پورا قرآن ) ظاھر ھو گي تو جن لوگوں نے اس کو فراموش کر ديا تھا، اس دن نبوت کي دعوت پر اعتراف کريں گے ( سورہ ٴ اعراف / 53) ” ھل ينظرون الا تاويلہ، يوم ياتي تاويلہ يقول الذين نسوہ من قبل قد جآء ت رسول ربنا بالحق “ ـ

حديث کي بحث کا تتمہ

اصل حديث کا معتبر ھونا، جس کي قرآن کريم نے ضمانت اور تصديق کر دي ھے، اس کے بارے ميں شيعوں اور تمام ديگر مسلمانوں کے درميان کوئي اختلاف نھيں ھے ليکن اسلام کے اوائل ميں حکمرانوں کي طرف سے حديث نبوي کو حفاظت ميں جو کوتاھي ھوئي اور ايسے ھي صحابہ اور تابعين کي طرف سے حديث رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کو رواج دينے ميں جو افراط ( زيادتي ) پيدا ھوئي اس کي وجہ سے حديث نبوي سخت افسوس ناک حالت سے دو چار ھو گئي ـ

ايک طرف تو خلفائے وقت حديث لکھنے اور اس کي حفاظت سے منع کيا کرتے تھے اور ھر وہ ورق جس پر حديث لکھي ھو، ملتا تھا تو اس کو ڈھونڈاور کھوج کر جلا ديتے تھے اور کبھي کبھي حديث بيان کرنے پر بھي پابندي عائد کر دي جا تي تھي، اس وجہ سے بھت زيادہ احاديث ميں تغير و تبدل آگيا، يا بھت سي احاديث بھول گئيں يا ان کو بيان نہ کيا گيا ـ

دوسري طرف پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام جن کو پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي احاديث سننے کا فخر حاصل رھا ھے وہ خلفائے وقت اور عام مسلمانوں کے لئے قابل احترام تھے، انھوں نے احاديث کي ترويج شروع کي اور اس کا نتيجہ يہ ھوا کہ حديث کو قرآن مجيد پر فوقيت اور حکمراني مل گئي اور کبھي کبھي يوں بھي ھوتا کہ حديث کے حکم سے قرآن مجيد کي آيت کو منسوخ کر ديا جاتا تھا ـ

اور کئي بار ايسا بھي ھوتا کہ حديث کو نقل کرنے والے اشخاص ايک حديث کو سننے کے لئے کئي کئي ميل کے سفر کي صعوبت اٹھايا کرتے تھے ـ

بعض غير مسلم افراد جنھوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اور ظاھري طور پر اسلام بھي قبول کر ليا تھا اور ايسے ھي اسلام کے اندروني دشمنوں نے حديث ميں تغير و تبدل شروع کر ديا اور اس طرح حديث کا اعتبار اور وثوق ختم کر ديا گيا ـ

اسي وجہ سے اسلامي دانشوروں کو فکر لاحق ھوئي اور انھوں نے راہ حل ڈھونڈنا شروع کيا، پھر انھوں نے بعض علوم پيدا کئے يعني ” علم رجال “ اور ” علم درايت “ وغيرہ تاکہ درست اور غلط احاديث کو ايک دوسرے سے جدا کيا جائے ـ

ليکن شيعہ باوجوديکہ حديث کي سند اور اصلاح اور پاک کرنے کے لئے کوشش کرتے ھيں، حديث کے متن کو قرآن کريم سے بھي مطابقت ديتے ھيں اور حديث کے معتبر ھونے کے لئے اس عمل کو ضروري جانتے ھيں ـ

مذھب شيعہ ميں بھت زيادہ احاديث پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اور ائمہ اھلبيت عليھم السلام سے پھونچي ھيں 5 جن کي قطعي سند موجود ھے ـ کيونکہ وہ حديث جو قرآن مجيد کے مخالف ھو ھر گز قابل قبول نھيں ھے اور صرف اسي حديث کو ھي معتبر جاننا چاھئے جو قرآن کے عين مطابق ھو ـ

اس بيان کے مطابق وہ احاديث جو قرآن مجيد کے مخالف ھوں شيعہ ان پر عمل نھيں کرتے اور ايسے ھي وہ احاديث 6 جن کي قرآن مجيد کے ساتھ مخالفت يا مطابقت معلوم نھيں، انکے بارے ميں ائمہ اھلبيت عليھم السلام کي طرف سے جو حکم ملتا ھے، قبول يا رد کئے بغير ان کو ويسا ھي چھوڑ ديا جاتا ھے اور ان کے متعلق بحث نھيں کرتے، البتہ شيعہ مذھب ميں بھي ايسے آدمي مل جاتے ھيں جو اھلسنت کي طرح، جو حديث ان کو مل جاتي ھے اس پر عمل کرنا شروع کر ديتے ھيں ـ

حديث پر عمل کے بارے ميں شيعوں کا طريقہ

وہ حديث جو بلا واسطہ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اور ائمہ اھلبيت عليھم السلام کي زباني سني گئي ھو وہ قرآن کريم کا حکم رکھتي ھے، ليکن وہ حديث جو بعض ذرائع سے ھم تک پھونچي ھو، شيعہ اس حديث پر مندرجہ ذيل طريقے سے عمل کرتے ھيں :

اعتقادي معارف ميں نص قرآن کي رو سے علم اور يقين ضروري ھے لھذا جو احاديث متواتر ( احاديث ثقہ ) ھيں يا کوئي ايسي حديث ھے جو قرائن و شواھد کے ذريعے ثقہ احاديث کے زمرے ميں آتي ھے، اس پر عمل ضروري اور لازمي ھے، ان دو طريقوں کے علاوہ کسي دوسرے طريقے سے جس کو ” خبر واحد “ ( يعني وہ احاديث جو صرف ايک ھي ذريعے سے حاصل ھوئي ھے ) کھتے ھيں ـ کسي حديث کو قابل اعتبار اور قابل اعتماد نھيں کھا جا سکتا ـ

ليکن شرعي احکام ميں جب کسي حکم کا نتيجہ حاصل کيا جاتا ھے، تو تعين شدہ طريقے اور دلائل پر نظر رکھتے ھوئے ” حديث متواتر اور حديث قطعي “ کے علاوہ ” خبر واحد “ ( حديث واحد ) پر بھي عمل کيا جاتا ھے، بشرطيکہ اگر وہ کسي ذريعے اور طريقے سے قابل يقين اور قابل وثوق ھو ـ

پس احاديث متواتر اور احاديث قطعي، شيعوں کي نظر ميں مکمل طور پر لازم الاتباع يا واجب العمل ( جن پر عمل کرنا فرض اور ضروري ھو ) ھيں اور اسي طرح غير قطعي اور غير يقيني ( خبر واحد ) احاديث، بشرطيکہ کسي طريقے اور ذريعے سے قابل يقين ھو جائيں تو صرف شرعي احکام ميں ھي حجت اور برھان ھوں گي ( يعني صرف شرعي احکام ميں ھي ان کي پيروي اور اطاعت ضروري ھو گي نہ کہ تمام امور ميں ) اور يہ احاديث لازم الاتباع نھيں ھيں ـ

اسلام ميں عام تعليم و تعلم

علم حاصل کرنا دين اسلام کے فرائض ميں سے ھے ـ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ھيں :” علم حاصل کرنا ھر مسلمان پر فرض ھے اور قطعي شواھد سے تصديق شدہ احاديث کے مطابق اس علم کا مطلب اسلام کے تين اصولوں ( توحيد، نبوت، معاد يعني روز قيامت ) کو جاننا ھے، اور ايسے ھي ان کے قريبي علوم کو سمجھنا ھے، پھر اسلامي احکام اور قوانين کي تفصيلات کو سمجھنا ھے ،يعني ان تمام علوم کو حاصل کرنا فرض ھے، جس قدر بھي ھر انسان کرسکتا ھو اور زندگي ميں اسے ضرورت ھوتي ھو ـ

البتہ واضح ھے کہ اصول دين کے ساتھ علم حاصل کرنا، خواہ و ہ اجمالي لحاظ سے ھي کيوں نہ ھو، ھر شخص کے لئے ميسر ھے اور ھر انسان کي طاقت ميں بھي ھے ليکن ديني قوانين اور احکام کے تفصيلي معني کے لحاظ سے کتاب و سنت ( فقہ استدلالي ) کے بارے ميں ٹيکنيکل اور مستند علم حاصل کرنا ھر شخص کے بس کي بات نھيں ھے اور صرف بعض لوگ ھي اسے حاصل کر سکتے ھيں اور اسلام ميں طاقت فرسا ( حرجي ) حکم نھيں آيا ھے ( يعني کوئي ايسا حکم نھيں ديا گيا جس کي وجہ سے انسان کو دکہ اور تکليف ھو )

لھذا دليل و برھان کے ذريعے ديني قوانين و احکام کے بارے ميں علم حاصل کرنا ” واجب کفايہ “ ھے اور صرف بعض افراد سے متعلق ھے جو اس کي صلاحيت اور طاقت رکھتے ھيں اور باقي تمام افراد کا فرض يہ ھے ( جيسا کہ عام دستور اور قانون کے مطابق يعني جاھل شخص ايک عالم اور فاضل شخص کي طرف رجوع کرے، عالم کي طرف رجوع کرنے کا طريقہ کھ) مذکورہ اشخاص کي طرف رجوع کريں ( جن کو مجتھد اور فقيہ يا عالم کھا جاتا ھے ) اور اس رجوع کو تقليد کھا جاتا ھے، البتہ يہ رجوع اور تقليد اس رجوع اور تقليد کے علاوہ ھے جو اصول معارف ميں موجود ھے اور قرآن مجيد کي نص صريحہ ” و لا تقف ما ليس لک بہ علم “ کے مطابق ممنوع ھے ـ

يہ جاننا چاھئے کہ شيعہ ابتدائي تقليد ميں مردہ مجتھد کو جائز نھيں جانتے يعني جو شخص مسئلے کو اجتھاد کے ذريعے نھيں جانتا اور ديني فرض کے مطابق اسے ايک مجھتد کي تقليد کرني چاھئے، پس وہ مجتھد جو زندہ نھيں ھے اس کے نظرئيے کي تقليد نھيں کر سکتا ـ البتہ اگر اس مجتھد کي زندگي ميں اس کي تقليد کرتا رھا ھو، اس کي وفات کے بعد بھي وہ اس کا مرجع تقليد باقي رھے گا ( يعني مجتھد کي وفات کے بعد بھي اس کي تقليد کو جاري رکہ سکے گا ) اور يہ مسئلہ شيعوں کي اسلامي فقہ کو زندہ اور تازہ رکھنے کے عناصر و عوامل ميں سے ھے تاکہ کچھ لوگ ھميشہ اجتھاد تک پھونچنے کي کوشش اور جدو و جھد کرتے رھيں اور اس طرح فقھي مسائل ميں اپني تحقيق جاري رکہ سکيں، ليکن اھلسنت پانچويں صدي ھجري ميں اجماع امت کي وجہ سے اپني فقہ کے چار اماموں يعني امام ابو حنيفہ، امام مالک، امام شافعي اور امام احمد حنبل ميںسے کسي اور کي تقليد کو بھي جائز نھيں سمجھتے، اور اس کے نتيجے ميں ان کي فقہ اسي سطح پر باقي رہ گئي ھے جيسا کہ بارہ سو سال پھلے تھي، ليکن اس آخري زمانے ميں بعض افراد نے پراني اجماع اور تقليد سے انکار کرتے ھوئے آزاد اجتھاد کو شروع کر ديا ھے ـ

شيعہ اور نقل علوم

اسلامي علوم جو علمائے اسلام کي تدوين و اختراع اور ايجاد کے مرھون منت ھيں، دو حصوں ميں منقسم ھيں يعني ” علوم عقلي “ اور ” علوم نقلي “ علوم نقلي وہ علوم ھيں جن کے مسائل کو لکھا جاتا ھے يا زباني بيان کيا جاتا ھے مثلا علم لغت، علم حديث، رمل تاريخ اور ايسے ھي دوسرے علوم اور علوم عقلي ان کے علاوہ دوسرے تمام علوم ھيں مثلا علم فلسفہ اور علم رياضي وغيرہ جن کے بارے ميں غور و فکر کي ضررت ھے ـ

اس ميں کوئي شک نھيں ھے کہ اسلام ميں علوم نقلي کي پيدائش کا اصلي سبب يا عنصر خود قرآن کريم ھي ھے اور دو تين علوم يا فنون مثلا تاريخ، انساب اور عروض کے علاوہ باقي تمام علوم اسي آسماني کتاب کے خانہ زاد ھيں ـ

مسلمانوں نے ديني تحقيق و بحث کي رھنمائي ميں ان علوم کو شروع کيا ھے جن ميں اھم عربي ادبيات، علم نحو، صرف، معاني، بيان، بديع و لغت وغيرہ شامل ھيں اور ايسے ھي ديني ظواھر کے متعلقہ علوم مثلا علم قراٴت، علم تفسير، علم رجال، علم درايت، علم اصول اور علم فقہ ھيں ـ

شيعوں نے بھي کوشش اور ھمت کے مطابق ان علوم کي تدوين اور تصنيف ميں بھت ھي اھم، اور خصوصي حصہ ليا، بلکہ ان ميں سے بھت زيادہ علوم کے باني بھي شيعہ ھي تھے، جيسا کہ علم نحو ( عربي زبان کي گرامر ) کو ابو الاسود دئلي نے جو پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اور حضرت علي عليہ السلام کے اصحاب ميں سے تھے، حضرت علي عليہ السلام کي رھنمائي ميں تدوين کيا تھا، اور اسي طرح علم فصاحت و بلاغت، علم معاني، بيان اور بديع کے بھت بڑے مصنفين ميں سے 7 ايک صاحب بن عياد شيعي تھے جو آل بويہ کے وزير تھے ـ اسي طرح سب سے پھلے لغت کي کتاب کتاب العين ھے(وفيات ابن خلکان ص/ 190، اعيان الشيعہ اور دوسري تمام کتب ترجمہ ) جو مشھور و معروف دانشور اور ماھر علوم شيعہ خليل بن احمد بصري نے لکھي تھي جو علم عروض کے باني اور مصنف تھے اور علم نحو ميں سيبويہ نحوي کے استاد بھي تھے ـ

عاصم کي قراٴ ت قرآن بھي ايک واسطے سے حضرت علي عليہ السلام تک پھونچتي ھے اور عبد اللہ بن عباس جو علم تفسير ميں سب سے پھلے صحابي شمار ھوتے ھيں، حضرت علي عليہ السلام کے شاگردوں ميں سے تھے اور علم حديث اور علم فقہ ميں اھلبيت عليھم السلام اور ان کے شيعوں کي کوششيں اور اسي طرح اھلسنت کے چار فقيھوں ( فقہ کے چار اماموں ) کا شيعوں کے پانچويں اور چھٹے امام کے ساتھ تعلق بھي مشھور ھے ـ اصول فقہ ميں بھي وحيد بھبھاني (وفات 1205ھء ) کے زمانے ميں عجيب ترقي ھوئي خصوصا شيخ مرتضيٰ انصاري ( وفات 1281ھء) کے ذريعے اصول فقہ ( شيعہ ) نے جو ترقي کي وہ اھلسنت کے اصول فقہ سے قابل موازنہ نھيں ھے ـ ( اتقان سيوطي )

دوسرا طريقہ : عقلي بحث

عقلي، فلسفي اور کلامي تفکر
اسلام کے فلسفي اور کلامي تفکر ميں شيعوں کي پيش قدمي
فلسفہ اور دوسرے تمام عقلي علوم کے بارے ميں شيعوں کي انتھک کوششيں
شيعوں ميں فلسفہ کيوں باقي رہ گيا ھے ـ
شيعوں ميں سے چند ايک مشھور علمي شخصيتيں

عقلي، فلسفي اور کلامي تفکر

اس سے پھلے بھي بيان کيا جا چکا ھے کہ قرآن کريم نے علمي تفکر ( غور و فکر ) کے لئے بھت زيادہ تاکيد کي ھے، اور اس کو مذھبي تفکر کا جزء قرار ديا ھے البتہ انعکاس کے طور پر عقلي تفکر نے بھي پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي نبوت اور حقانيت کي تصديق کرنے کے بعد قرآني ظواھر ( شريعت کے احکام ) جو آسماني وحي ھيں اور پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اور اھلبيت عليھم السلام کے بيانات کو بھي عقلي حجت کي صف ميں لا کھڑا کيا ھے اور وہ عقلي دلائل جو انسان اپني خداداد فطرت اور نظريات کے ذريعے ثابت کرتا ھے وہ دو قسم کے ھيں :” برھان اور جدل “ ـ

برھان :ـ وہ حجت اور دليل ھے جس کے مواد ابتدائي اور حقيقي ھوں ـ اگر چہ مشھور يا مسلم بھي نہ ھوں ـ دوسرے الفاظ ميں وہ مسائل ھيں جن کي ضروريات کو انسان اپنے خدا داد شعور سے سمجھ ليتا ھے اور تصديق کرتا ھے، جيسا کہ ھم جانتے ھيں ( تين کا عدد چار کے عدد سے چھوٹا ھے ) اس قسم کا تفکر، عقلي تفکر کھلاتا ھے ـ اگر يہ تفکر اس دنيا کے اندر مجموعي طور پر انجام پذير ھو، مثلا آفرينش کے مبداء ميں تفکر، لھذا دنيا اور اھل دنيا کا انجام فلسفي تفکر کھلائے گا ـ

جدل :ـ وہ دليل، بحث يا برھان ھے جس کا سارا يا کچھ مواد مشھور يا مسلم اشياء يا دلائل سے ليا گيا ھو، جبکہ مختلف اديان يا مذاھب کے ماننے والوں کے درميان معمول ھے کہ اپنے مذھبي عقائد اور نظريات کو اس مذھب کے مسلمہ اصول کے ساتھ ثابت کرتے ھيں ـ

قرآن مجيد نے دونوں طريقوں کو استعمال کيا ھے اور ان دونوں طريقوں کے بارے ميں قرآن مجيد ميں بھت سي آيات موجود ھيں ـ سب سے پھلے تو ( قرآن مجيد ) کائنات کے کليات اور ھر دو جھاں کے مجموعي نظام اور ايسے ھي خاص نظاموں مثلا آسمان، زمين، چاند، سورج، ستاروں، دن رات، نباتات، حيوانات اور انسانوں کے متعلق آزاد تفکر کي دعوت ديتا ھے اور آزاد عقل تحقيق کي بھترين الفاظ ميں تعريف و توصيف کرتا ھے اور پھر عقلي، جدلي تفکر جس کو عام طور پر ” بحث کلامي “ کھا جاتا ھے، کے لئے حکم صادر کرتا ھے بشرطيکہ يہ امر بھترين طريقے سے ( يعني بغير کسي ضد بازي کے اچھے اخلاق کے ساتھ حق کا اظھار ) انجام پائے، جيسا کہ فرماتا ھے : ” ادع الي سبيل ربک بالحکمة و الموعظة الحسنة و جاد لھم بالتي ھي احسن “ (سورہُ نحل / 125) ” ( اے رسول ) تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کي راہ پر حکمت اور اچھي اچھي نصيحت کے ذريعے بلاؤ اور بحث و مباحثہ کرو بھي تو اس طريقے سے جو ( لوگوں کے نزديک ) سب سے اچھا ھو ـ

اسلام کے فلسفي اور کلامي تفکر ميں شيعوں کي پيش قدمي

يہ تو مکمل طور پر واضح ھے کہ شيعہ اقليت، سني اکثريت سے ابتدائے اسلام ميں ھي جدا اور الگ ھو گئي تھي اور ھميشہ اپنے مخالفين کے بارے ميں خاص نظريات رکھتي تھي اور اپنے مخالف ( اھلسنت ) کے ساتھ دلائل کے ساتھ بحث کرتي تھي ـ يہ ٹھيک ھے کہ دلائل کے ساتھ بحث کرنا دو طرفہ ھے اور طرفين اس ميں برابر کے شريک ھوتے ھيں ليکن ھميشہ شيعہ حملہ کرتے تھے اور دوسرے دفاع کرتے تھے اور جو شخص حملے ميں پيش قدمي کرتا ھے وہ مجبور ھے کہ کافي ساز و سامان سے ليس ھو ـ

پھر وہ ترقي جو تدريجا کلامي بحثوں کو نصيب ھوئي اور دوسري صدي ھجري اور تيسري صدي ھجري کے آغاز ميں معتزلي مذھب کے شروع ھو جانے سے يہ ترقي اوج پر پھونچ گئي اور شيعہ محققين اور علماء کتب اھلبيت عليھم السلام کے شاگردوں ميں تھے، بلکہ ان متکلمين ( ماھرين علم کلام ) کا سلسلہ بھي اشاعرہ اور معتزلہ سے ھوتا ھوا شيعوں کے پھلے امام، حضرت علي عليہ السلام تک پھونچتا ھے ـ

ليکن وہ لوگ جو پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے اصحاب کي کتابوں سے پوري طرح واقفيت رکھتے ھيں وہ يہ بخوبي جانتے ھيں کہ صحابہ کي ان تمام کتابوں ميں ( جن کي تعداد تقريباً بارہ ھزار تک پھونچتي ھے ) حتيٰ کہ ايک کتاب بھي فلسفي تفکر کے بارے ميں نھيں لکھي گئي ھے، اور صرف حضرت علي عليہ السلام ھي تھے جن کے دلچسپ اور دلکش بيانات ” علم الھيات “ کے عميق ترين فلسفي تفکر پر مشتمل ھيں ـ

صحابہ اور علمائے تابعين جو اصلي صحابہ کے بعد آتے ھيں اور آخر کار عربي لوگ اس زمانے ميں آزاد فلسفي تفکر سے واقفيت اور آشنائي نھيں رکھتے تھے لھذا پھلي صدي کے دانش مندوں اور علماء کے اقوال و بيانات ميں فلسفي تحقيق کا کوئي نمونہ ديکھنے ميں نھيں آيا ـ صرف شيعہ اماموں کے پُر مغز بيانات اورخصوصاً امام اول اور امام ھشتم کے بيکراں علمي خزانے فلسفي افکار پر مشتمل ھيں اور انھوں نے ھي اپنے شاگردوں اور ماننے والوں کي ايک اچھي تعداد و جماعت کو اس طرز فکر سے آشنا کيا تھا ـ

عربي لوگ فلسفي طرز فکر سے نا واقف تھے، يھاں تک کہ دوسري صدي ھجري کے آغاز ميں بعض فلسفے کي کتابوں کا ترجمہ يوناني زبان سے عربي زبان ميں کيا گيا تھا ـ اس کے بعد تيسري صدي ھجري کے اوائل ميں يوناني، سرياني اور دوسري زبانوں سے بھت زيادہ کتابيں عربي زبان ميں ترجمہ ھو گئيں، اس طرح فلسفي طرز تفکر عام لوگوں کي دسترس ميں آگيا، مگر پھر بھي اکثر فقھا ء اور متکلمين ( ماھرين علم کلام ) فلسفہ اور دوسرے تمام عقلي علوم کي طرف، جو تازہ وارد مھمانوں کي حيثيت رکھتے تھے، زيادہ توجہ نھيں ديا کرتے تھے، اور يہ مخالفت شروع شروع ميں اس لئے زيادہ موثر واقع نہ ھوئي تھي کيونکہ حکومت ِوقت ان علوم کي حمايت کيا کرتي تھي، ليکن تھوڑے ھي عرصے بعد حالات بالکل تبديل ھو گئے اور فلسفے کي کتابوں کے مطالعے کي سخت مخالفت اور ممانعت کے ساتھ ساتھ فلسفے کي تمام کتابوں کو سمندر ميں پھينک ديا گيا اور رسائل اخوان الصفا جو مصنفين کي ايک گمنام جماعت کے ذھن کي تراوش ھے ابھي تک اس زمانے کي ياد گار باقي ھے، يہ رسائل اس بات کي گواھي اور شھادت ديتے ھيں کہ اس زمانے ميں کيسے پريشان کن اور آشفتہ حالات تھے، اس زمانے کے بعد چوتھي صدي ھجري کے آغاز ميں فلسفہ، ابو نصر قارابي کے ذريعے دوبارہ زندہ ھو گيا ـ اور پانچويں صدي ھجري کے شروع ميں مشھور فلسفي دانشور بو علي سينا کي کوششوں سے اس علم کي توسيع اور تکميل ھوئي، چھٹي صدي ھجري ميں بھي شيخ شھاب الدين سھروردي نے فلسفہ اشراق کو پاک کيا ـ اور اسي جرم کي وجہ سے ھي سلطان صلاح الدين ايوبي کے ايماء پر اس کو شھيد کر ديا گيا تھا ـ اس کے بعد بھي اکثر لوگوں کے درميان فلسفہ کي کھاني تقريباً ختم ھو گئي اور کوئي مشھور فلسفي پيدا نہ ھوا سوائے اس کے کہ ساتويں صدي ھجري ميں اندلس ميں جو اسلامي ممالک ميں شمارھوتاتھا، ابن رشد اندلسي پيدا ھوئے جنھوں نے فلسفے کو پاک و پاکيزہ کرنے کي کوشش کي ـ ( مندرجہ بالا مطالب اخبار الحکماء اور وفيات ابن خلکان اور دوسري ترجمہ کي کتابوں سے اخذ کئے گئے ھيں )

فلسفہ اور دوسرے تمام نقلي علوم ميں شيعوں کا کردار

شيعہ مذھب اور شيعہ دانشور جيسا کہ شروع سے ھي فلسفي تفکر کي پيدائش ميں ايک اھم عنصر رھے ھيں، اس قسم کے تفکر کي پيشرفت اور علوم نقلي کي ترويج ميں بھي اھم رکن تھے اور ان علوم کي ترقي کے لئے ھميشہ کوشش کيا کرتے تھے کيونکہ اگر چہ ابن رشد کي وفات سے اھلسنت کے اکثر لوگوں ميں فلسفہ ختم ھو گيا تھا مگر شيعوں کے درميان ختم نھيں ھوا تھا ـ اس کے تھوڑے عرصے بعد بعض مشھور فلسفہ دان مثلاً خواجہ نصير الدين طوسي، مير داماد اور صدر المتاھلين پيدا ھوئے جو يکے بعد ديگرے فلسفہ کي تعليم اور تحرير کے لئے بھت زيادہ کوشش کرتے رھے ھيں ـ

اس طرح تمام عقلي علوم ميں بعض دانشور مثلاً خواجہ نصير الدين طوسي اور بير جندي وغيرہ پيدا ھوئے ـ

يہ سب علوم اور خصوصاً فلسفہُ الٰھي شيعوں کي انتھک کوششوں کي وجہ سے بھت زيادہ ترقي کر گيا جيسا کہ خواجہ نصير الدين طوسي، شمس الدين ترکہ، ميرداماد اور صدر المتاھلين کي کتابوں کے مطالعے اورگزشتہ دانشمندوں کي کتب کے ساتھ مقابلہ کرنے سے واضح ھو جاتا ھے ـ

شيعوں ميں فلسفہ کيوں باقي رہ گيا ؟

کيونکہ شيعوں ميں فلسفي اور عقلي تفکر کي پيدائش ميں اھم ترين اور موثر ترين عنصر علمي ذخائر اور خزانے تھے ـ اور يہ تفکر شيعوں کے ذريعے سے ھي دوسروں کے درميان پيدا ھوا جو شيعوں کے اماموں اور پيشواؤں سے يادگار کے طور پر باقي رہ گيا تھا ـ اس طرز تفکر کي بقاء ميں اھم اور موثر عنصر شيعوں کے درميان وہ علمي ذخائر ھيں جن کو شيعہ احترام اور عزت کي نگاہ سے ديکھتے ھيں، اور اس مطلب کي وضاحت کے لئے کافي ھے کہ اھلبيت عليھم السلام کے علمي ذخائر کا فلسفے کي کتابوں کے ساتھ مقابلہ کريں جو کہ ھر زمانے ميں لکھي گئي ھيں، کيونکہ اس طرح ھميں صاف طور پر نظر آجائے گا کہ دن بدن فلسفہ مذکورہ علمي ذخائر کے بھت نزديک آتا جا رھا تھا ـ يھاں تک کہ گيارھويں صدي ھجري ميں تقريباً ان دونوں ( اھلبيت عليھم السلام کي علمي کتابوں اور فلسفہ کي کتابوں ) نے مطابقت پيدا کر لي ھے اور ان کے درميان سوائے تعبير اور تشريح کے کوئي فاصلہ نہ رھا ـ

شيعوں کي کچھ مشھور علمي شخصيتيں

1ـ ثقة الاسلام شيخ محمد بن يعقوب کليني ( وفات 329ھء ) شيعوں ميں سے پھلے شخص تھے جنھوں نے شيعہ روايات و احاديث کو اصول سے ( ھر محدث نے جو احاديث ائمہ اھلبيت عليھم السلام سے اخذ کي ھيں ان کو جمع کرتے تھے اور مذکورہ کتاب کو ” اصل “ کھا جاتا ھے ) نکال کر اور ان کے بارے ميں بڑے غور و خوض سے تحقيق کر کے ان کو ابواب فقہ کي ترتيب اور اعتماد سے مرتب کيا تھا ـ ان کي کتاب جو ” کافي “ کے نام سے مشھور ھے تين حصوں ميں منقسم ھے يعني اصول، فروع اور روضہ (متفرقہ ) اور اس کتاب ميں سولہ ھزار ايک سو ننانو ے (199،16) احاديث ھيںاس طرح يہ کتاب حديث کي کتابوں ميں ايک معتبر اور مشھور کتاب ھے جو دنيائے شيعہ ميں موجود ھے اور تين دوسري کتابيں جو ” کافي “ کے بعد آتي ھيں وہ يہ ھيں :” کتاب استبصار “ تاليف شيخ طوسي ( وفات460ھء )

بـ ابو القاسم جعفر بن حسن بن يحييٰ حلّي المشھور بہ ” محقق ‘ ( وفات 667ھء ) آپ ماھر فقہ اور شعبہ فقيھوں ميں سب سے بڑے عالم تھے، ان کے فقھي شاھکاروں ميں سے ايک کتاب ” نافع “ اور دوسري کتاب ” شرائع “ ھے جو سات سو سال تک فقيھوں کے درميان بھت مشھور اور مقبول رھي ھيں اور ان کتابوں کو بڑي قدر داني اور عزت کي نگاہ سے ديکھا جاتا ھے ـ

محقق حلي کے بعد شھيد اول شمس الدين محمد بن مکي کو شمار کرنا چاھئے، جن کو 786ھء ميں دمشق ميں شيعہ ھونے کے الزام ميں شھيد کر ديا گيا تھا ـ ان کے فقھي شاھکاروں ميں سے ايک کتاب ” لمعہ دمشقيہ “ ھے جو ان کي گرفتاري کے بعد سات دن کے اندر جيل ميں لکھي گئي تھي اور اسي طرح شيخ جعفر کاشف الغطاء نجفي ( وفات 1227ھء) کو بھي انھيں دانشوروں ميں شمار کرنا چاھئے ـان کے فقھي شاھکاروں ميں ايک کتاب ” کشف الغطاء “ ھے ـ

جـ شيخ مرتضيٰ انصاري شوشتري جنھوں نے 1281ھء ميں وفات پائي، انھوں نے علم اصول فقہ کو کانٹ چھانٹ کر صاف کيا اور علمي اصول کے طريقے کو جو اس فن اور علم کا سب سے اھم حصہ ھے تحرير فرمايا ـ اب ايک سو سال سے زيادہ عرصہ گزر چکا ھے کہ ان کا مکتب تمام شيعہ فقھا کے لئے معتبر اور جاري ھے ـ

دـ خواجہ نصير الدين طوسي ( وفات 676ھء) آپ سب سے پھلے شخص ھيں جنھوں نے علم کلام کو فني اور ٹيکنيکل شکل ميں مدّون کيا اور ان کے علمي شاھکاروں ميں سے ايک کتاب ” تجويد الکلام “ ھے جس کو سات سو سال سے زيادہ عرصہ گزر چکا ھے ليکن يہ کتاب اب تک اھل فن کے درميان معتبر ھے اور اسي لئے عام و خاص نے اس کتاب پر بھت زيادہ شرحيں لکھيں اور حاشئے بھي لکھے ھيں، خواجہ نصير الدين طوسي علم کلام ميں بھت مھارت رکھنے کے علاوہ فلسفہ اور رياضيات ميں بھي اپنے زمانے کي ماھر شخصيت رھے ھيں اور اس دعوے کا بھترين ثبوت ان کي گرانقدر تاليفات ھيں جو انھوں نے تمام عقلي علوم ميں لکھي تھيں، ان عقلي علوم ميں سے وہ رصد خانہ بھي ھے جو آپ نے مراغہ شھر ميں ھلاکو خان کي حکومت ميںبنواياتھا ـ

ھـ صدر الدين محمد شيرازي ( ولادت 79 9ھء / وفات 1050ھء ) آپ سب سے پھلے فلسفي ھيں جنھوں نے فلسفے کے مسائل کو ( اگر چہ فلسفہ صديوں تک اسلام ميں مختلف مراحل طے کرتا رھا تھا ) انتشار اور پراگندگي سے باھر نکالا اور رياضي کي طرح اس کو ايک منظم اور مرتب شکل دي ـ
اس طرح سب سے پھلے تو فلسفے کو يہ امکان اور وقار ملا کہ وہ سينکڑوں فلسفي مسائل جو پھلے کبھي فلسفہ ميں داخل اور قابل بحث نھيں سمجھے گئے تھے ـ اب ان کو پيش اور حل کيا گيا ـ پھر عرفاني مسائل کو ( کہ اس زمانے تک ايسے مسائل کو و رائے عقل کي قسم يا نا قابل ادراک اور ايسي معلومات ميں شمار کيا جاتا تھا جو حس و ادراک اور فھم و شعور سے بالاتر ھيں ) بڑاآسان اور قابل بحث بنايا، اور ان کے بارے ميں بحث اور نظريات قائم کئے ـ تيسرا يہ کہ ظواھر دين ( احکام شرع ) ميں بھت سے علمي ذخيرے اور خزانے اور ائمہ اھلبيت عليھم السلام کے گھرے فلسفي بيانات جو صديوں تک لا ينحل معمہ کے طور پر موجود تھے اور ان ميں سے اکثر ” متشابھات “ ميں شمار ھوتے تھے، حل اور واضح ھو گئے اور اسي طرح ديني ظواھر، عرفان اور فلسفہ ميں بھي ايک قسم کي مکمل مفاھمت پيدا ھو گئي اور ان تينوں علوم نے ايک مشترکہ راستہ اختيار کر ليا ـ صدر المتاھلين سے پھلے بھي بعض دانشمند اور فلسفي پيدا ھوئے تھے ـ مثلا شيخ شھاب الدين سھروردي مولف کتاب ” حکمة الاشراق “ چھٹي صدي ھجري کے فلسفي اور شمس الدين محمد ترکہ جو آٹھويں صدي ھجري کے فلسفي تھے وغيرہ، جنھوں نے اس ميدان ميں موثر قدم اٹھائے ليکن مکمل کاميابي صدر الدين شيرازي صدر المتاھلين کو ھي ملي ـ

صدر المتاھلين اس روش اور طريقے کے ذريعے کامياب ھو گئے کہ ” جوھري حرکت “ کے نظريئے کو ثابت کريں اور اس کے بعد ” رابع اور نظريہ ٴ اضافيت “ کو ( ذھن کے باھر نہ ذھن اور فکر کے اندر ) دريافت کريں ـ انھوں نے تقريباً پچاس کتابيں اور رسالے تصنيف و تاليف کئے اور ان شاھکاروں ميں سے ايک کتاب ” اسفار “ چار جلدوں پر مشتمل ھے ـ

تيسرا طريقہ: کشف

انسان اور عرفاني ادراک
اسلام ميں عرفان کا ظھور
عرفان نفس اور اس کے منصوبوں کي طرف کتاب و سنت کي رھنمائي

انسان اور عرفاني ادراک

اگر چہ دنيا کے تمام انسان اپني معاشي حالت کو سدھارنے اور روز مرہ زندگي کي ضروريات کو پورا کرنے کي کوشش ميں ھمہ تن مصروف ھيں اور معنويات کي طرف توجہ نھيں ديتے ليکن اس کے باوجود ان افراد کي سرشت ميں ايک فطرت يا احساس موجود ھے جس کو حقيقت بيني کا احساس يا غريزہ “ کھا جا تا ھے جو کبھي کبھي بعض انسانوں ميں پيدا اور جاري ھوتا ھے اور يھي احساس ان کو بعض معنوي مطالب کے سمجھنے کے لئے ابھارتا ھے ـ

ھر انسان ( سوفسطائيوں اور شکاکوں کے علاوہ جو حقيقت اور واقعيت کو ايک خيال و گمان يا وھم و خرافات جانتے ھيں ) ايک ثابت اور مستقل حقيقت پر ايمان رکھتا ھے اور جب کبھي اپنے صاف ذھن اور پاکيزہ فطرت کے ساتھ اس کائنات کي مستقل اور ثابت حقيقت ميں غور کرتا ھے تو اس وقت اس دنيا کے تمام اجزاء کي نا پائداري کو سمجھ ليتا ھے ـ دنيا اور دنيا کے مظاھر کو ايک آئينے کي طرح ديکھتا ھے جو خوبصورتي کي مستقل حقيقتوں کو نظروں کے سامنے لے آتے ھيں کہ ان حقائق کو سمجھنے کي لذت ديکھنے والوں کي نظروں ميں ھر دوسري لذت کو ذليل و خوار اور پست کر ديتا ھے لھذا فطري طور پر يہ لذتيں انسان کو ان دوسري تمام لذتوں کي طرف لے جانے سے روکتي ھيں جو اس دنيا ميں موجود ھيں اور مادي زندگي کي ناپائيدار لذتوں پر مبني ھيں ـ

يہ وھي عرفاني جذبہ ھے جو خدا شناسي انسان کو عالم بالا ( خدا ) کي طرف متوجہ کرتا ھے اور خدائے پاک کي حجت کو انسان کے دل ميں جا گزين کرتا ھے اور اللہ کے سوا ھر چيز کو بھلا ديتا ھے اور اس طرح انسان کي تمام مادي، دنياوي آرزوؤں اور خواھشوں پر خط بطلان کھينچ ديتا ھے ـ پھر انسان کو خدائے غائب کي پرستش اور عبادت کے لئے ابھارتا ھے، جھاں ھر چيز واضح اور آشکار ھو جاتي ھےـ در حقيقت يہ بھي باطني کشش کا نتيجہ ھے جس کے ذريعے خدائي اور آسماني مذاھب اس دنيا ميں پيدا ھوئے ھيں، ” عارف “ اس شخص کو کھا جاتا ھے جو مھر ومحبت اور عشق کے ساتھ خدا کي عبادت اور پرستش کرے نہ کہ ثواب کي اميد اور عذاب کے ڈر سے ـ يھاں يہ چيز واضح ھو جاتي ھے کہ عرفان کو ھر گز دوسرے مذاھب کے مقابلے ميں ايک مستقل مذھب نھيں جاننا چاھئے بلکہ عرفان عبادات کے طريقوں ميں سے ايک طريقہ ھے ( يعني محبت اور عشق کے ساتھ عبادت، نہ کہ اميد اور خوف سے ) اور مذاھب کے حقائق کو سمجھنے کے لئے ايک راستہ ھے جو ظواھر ديني اور عقلي تفکر کے مقابلے ميں ايک طريقہ ھے ـ

خدا پرستي ( توحيد ) کے تمام مذاھب حتيٰ کہ ثنويت ( دو خداؤں پر ايمان ) ميں بھي ايسے لوگ موجود ھيں جو سلوک ( عرفان ) کے ذريعے خدا تک پھونچتے ھيں يا عبادت کرتے ھيں اور ايسے ھي ثنويت، يھوديت، عيسائيت، مجوسيت اور اسلام ميں بھي عارف لوگ موجود ھيں اور غير عارف بھي ـ

اسلام ميں عرفان کا ظھور

پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے اصحاب ميں ( جن کي تعداد کتب رجال ميں تقريباً بارہ ھزار ) لکھي ھوئي ھے اور ان کي شناخت ھو چکي ھے ) سے صرف حضرت علي عليہ السلام ھي ھيں جن کے فصيح و بليغ بيانات عرفاني حقائق اور معنوي زندگي کے مراحل اور بيکران علمي ذخائر پر مشتمل ھيں ـ وہ تحريريں جو تمام صحابہ کرام سے ھم تک پھونچي ھيں ان ميں اس قسم کے مسائل موجود نھيں ھيں ـ آپ کے اصحاب اور شاگردوں ميں سے بعض سلمان فارسي، اويس قرني، کميل بن زياد، رشيد ھجري اور ميثيم تمار ايسے اشخاص بھي موجود ھيں جن کو عام اسلامي عارف لوگ حضرت علي عليہ السلام کے بعد اپنے سلسلوں کے باني اور روحاني مرشد کھتے ھيں ـ اس گروہ اور طبقے کے بعد بعض دوسرے افراد مثلاً طاؤس يماني، مالک بن دينار، ابراھيم ادھم اور شفيسق بلخي ايسے افراد ھيں جو دوسري صدي ھجري ميں پيدا ھوئے تھے اور تصوف و عرفان کو آشکار نہ کرتے ھوئے بھي عام زاھدوں اور لوگوں کے لئے اولياء اللہ اور پاک بندوں کے طور پر مشھور تھے، ليکن بھر حال يہ لوگ اپنے سے پھلے طبقے کے ساتھ اپنے تعلقات کو مخفي نھيں رکھتے تھے ـ

اس طبقے کے بعد دوسري صدي ھجري کے آخر اور تيسري صدي ھجري کے آغاز ميں ايک دوسرا گروہ پيدا ھوا جن ميں با يزيد بسطامي، معروف کرخي، جنيد بغدادي اور ايسے ھي دوسرے اولياء اللہ حامل ھيں جنھوں نے عرفاني سير و سلوک کي وادي ميں قدم رکھا اور تصوف و عرفان کو آشکار کيا کرتے تھے ـ يہ لوگ کشف و شھود اور کرامت کا اظھار بھي کيا کرتے تھے ـ لھذا يہ لوگ اپنے نا شائستہ اور نا پسنديدہ اظھارات وبيانات کي وجہ سے اپنے وقت کے فقيھوں اور متکلمين ( ماھرين علم کلام ) کو اپنے خلاف ابھرنے کا موقع ديا کرتے تھے، جس کے نتيجے ميں انکے لئے بھت زيادہ مشکلات پيدا ھو گئيں، اس طرح ان ميںسے بھت زيادہ افراد کو قيد و بند اور شکنجوں کي سزائيں دي گئيں، حتيٰ کہ بعض کو سولي پر بھي چڑھا ديا گيا ـ

اس کے باوجود يہ لوگ اپنے مخالفوں اور دشمنوں کا مقابلہ کيا کرتے تھے اور اس طرح دن بدن طريقت ميں توسيع اور ترقي ھوتي رھي، يھاں تک کہ ساتويں اور آٹھويں صدي ھجري ميں يہ تصوف و عرفان اور طريقت بھت زيادہ وسعت اور طاقت اختيار کر گئي ـ اس کے بعد کبھي اوج اور کبھي تنزل پر پھونچتي رھي اور آج تک اپنے طريقوں اور زندگي کو جاري رکھے ھوئے ھے ـ

اگر چہ مشائخ عرفان، جن کے نام تذکروں ميں محفوظ ھيں، ظاھري طور پر مذھب اھلسنت رکھتے ھيں، اور وہ طريقت جو آج ھم مشاھدہ کرتے ھيں ( کہ ايک قسم کے آداب و رسوم پر مشتمل ھے اور کتاب و سنت ميں ايسي ھرگز موجود نھيں ھے) انھيں کي ياد گار ھے، پھر ان کے بعض آداب و رسوم شيعوں ميں بھي سرايت کر چکے ھيں يا شيعوں سے ملتے جلتے ھيں ـ

جيسا کہ کھا جاتا ھے، ايک گروہ کا عقيدہ يہ تھا کہ اسلام ميں سير و سلوک کا منصوبہ يا پروگرام صاف طور پر بيان نھيں کيا گيا ھے بلکہ معرفت ِ نفس ( خود ي ) کا طريقہ ھي ايسا ھے جس کو مسلمانوں نے شروع کيا تھا اور يھي خدا کا پسنديدہ اور مقبول طريقہ ھے مثلا رھبانيت کا طريقہ حضرت عيسيٰ مسيح عليہ السلام کي دعوت حق اور تبليغ دين ميں موجود نہ تھا ليکن عيسائيوںنے خود بخود اس کو گھڑ کر مقبول بنا ديا ھے ـ

اس طرح مشائخ طريقت ميں سے ھر ايک نے جس طرح بھي آداب و رسوم کے مطابق ٹھيک سمجھا اسے اپنے سير و سلوک کے پروگراموں اور منصوبوں ميں جاري کر ديا اور اپنے مريدوں کو حکم ديا کہ اس طريقے کي پيروي کريں لھذا يہ طريقہ يا پروگرام آھستہ آھستہ ايک مستقل اور وسيع شکل اختيار کر گيا ـ

مثلاً مريدي اختيار کرنے کي رسومات، ذکر اور وظيفے کي تلقين، خرقہ پھنانا، موسيقي کا استعمال، خوراک و غذا کا پروگرام، ذکر اور وظيفے کے وقت وجد ميں آنا اور کبھي کبھي بعض فرقوں ميں نوبت يھاں تک پھونچ گئي کہ شريعت کو بالکل نظر انداز کر ديا گيا اور پھر شريعت و طريقت ميں جدائي پڑ گئي لھذا اس طريقے کے جانبدار اور طرفدار و پيروکار عملي طور پر باطني فرقے کے ساتھ ملحق ھو گئے، ليکن شيعوں کے عقيدتي قوانين کے پيش نظر جو چيز حقيقي اسلام اور اس کے اصلي اصولوں اور اسناد سے ثابت ھوتي ھے ( يعني کتاب و سنت سے ) وہ اس عقيدے اور طريقے کے بالکل خلاف ھے اور اس کا مطلب ھرگز يہ نھيں کہ ديني اسناد وبيانات ( آيات و احاديث ) اس حقيقت کي طرف رھنمائي نھيں کرتے يا اس کے بعض پروگراموں اور منصوبوں کو واضح کرنے ميں سستي کرتے ھيں يا کسي شخص کے متعلق ( خواہ کوئي بھي ھو ) فرائض اور حلال و حرام کو نظر انداز کر ديتے ھيں ـ

عرفان، نفس اور اس کے منصوبوں کي طرف کتاب و سنت کي رھنمائي

اللہ تعاليٰ اپنے کلام ميں چند جگہ فرماتا ھے اور حکم ديتا ھے کہ لوگوں کو چاھئے کہ قرآن مجيد ميں تفکر اور غور کريں اور اس کے ساتھ ھي اس کے احکام پر عمل کريں اور صرف معمولي اور سطحي طور پر سمجھنے پر ھي قناعت نہ کريں اور اپني بھت زيادہ آيات ميں دنيائے فطرت کا اور اس کے علاوہ جو کچھ اس ميں موجود ھے کسي استثناء کے بغير اپني آيات اور نشانيوں کا تعارف کراتا ھے ـ

آيت يا نشاني کے معني ميں تھوڑا سا غور کرنے سے يہ بات واضح ھو جاتي ھے کہ آيت يا نشاني اس وجہ سے آيت اور نشاني ھے کہ دوسري چيز کو واضح کرے نہ کہ اپنے آپ کو مثلاً سرخ بتي جو خطرے کي علامت ھے اور ايک جگہ پر نصب کي جاتي ھے، اس کو ديکھنے سے انسان خطرے کا احساس کرتا ھے اور خطرے کے سوا اس کے ذھن ميں اور کوئي چيز نھيں آتي، لھذا اس کو ديکھنے سے انسان صرف سرخ بتي کي طرف توجہ نھيں کرتا ( بلکہ خطرے کي طرف توجہ کرتا ھے ) اور اگر بتي کي شکل اور شيشے کي خاصيت يا رنگ کا خيال کرے تو اس کے ذھن ميں بتي کي صورت يا شيشے اور رنگ کے سوا کچھ نھيں آئے گا، نہ کہ خطرے کا تصور ـ

لھذا اگر دنيا اور دنيا کے مظاھر سب کے سب اور ھر لحاظ سے خدا وند کريم کي نشانيوں کے طور پر سمجھے جائيں تو يہ سب چيزيں الگ وجود کي مالک نھيں ھو ں گي اور جس طرح بھي ان ميں غور کيا جائے خدا وند پاک کي نشانيوں اور علامتوں کے سوا اور کوئي چيز نظر نھيں آئے گي ـ جو شخص قرآني تعليمات اور ھدايات کے ذريعے اس تصور سے دنيا اور اھل دنيا کي طرف توجہ کرے کہ وہ خدائے پاک کے سوا کسي اور چيز کو نھيں ديکھے گا اور اسي طرح دنيا کي خوبصورتي و رعنائي جو دوسرے لوگوں کودنيا کے نقشے پر نظر آتي ھے، کے مقابلے ميں وہ ايک لا متناھي خوبصورتي کو ديکھے گا جو اس دنيا کے تنگ دريچے سے اپني تجلي کو ظاھر کرتي ھے اور اس وقت انسان اپني زندگي کے خرمن کو برباد کر کے اپنے دل کو خدا کي محبت اور عشق ميں محو کر ديگا ھے ـ

جيسا کہ واضح ھے، يہ ادراک، کانوں، آنکھوں يا دوسرے حواس يا عقل و خيال کے ذريعے حاصل نھيں ھو سکتا، کيونکہ ان چيزوں يا اعضاء کا کام خود بھي خدا کي نشانيوں اور علامتوں يا آيات ميں ھے لھذا يہ تمام حواس اس ادراک و ھدايت کو حاصل کرنے ميں عاجز اور قاصر ھيں ـ 8

وہ سالک جو خدا کي يا د ميں ما سواء اللہ کو فراموش کرنے کي کوشش نھيں کرتا، جب سنتا ھے کہ خدا وند تبارک و تعاليٰ اپنے کلام پاک ميں ايک جگہ فرماتا ھے :

” يآا يّھا الذين اٰمنوا عليکم انفسکم، لا يضرکم من ضل اذا اھتديتم “( سورہُ مائدہ /105 ) ” اے لوگو! جو ايمان لائے ھو اپنے نفس کو پھچانو، کيونکہ جب تم نے حقيقي راستے کو پھچان ليا تو دوسرے لوگ جو گمراہ ھو چکے ھيں تمھيں کوئي نقصان نھيں پھونچا سکيں گے “ـ

تو اس وقت سمجھ ليتاھے کہ وہ شاھراہ جس پر چل کر حقيقي اور کامل ھدايت حاصل کي جا سکتي ھے، صرف انساني نفس کا ھي راستہ ھے اور انسان کے حقيقي راھنما نے جو اس کا خدا ھے، اس انسان کو ذمہ دار اور خود مختار بنا ديا ھے تاکہ اپنے آپ کو پھچانے اور تمام دوسرے راستوں اور طريقوں کو نظر انداز کر کے صرف نفس کا طريقہ اپنائے اور اپنے نفس کے ذريعے خدا کو ديکھے اور پھچانے، اگراس نے ايساکرلياتووہ اپنے حقيقي اور واقعي مطلوب کو پالے گا ـ

” من عرف نفسہ فقد عرب ربہ “ ” جس شخص نے اپنے آپ کو پھچان ليا اس نے خدا کو پھچان ليا “ـ

” اعفکم بنفسہ اعرفکم بربہ “ ”تم ميں سے وھي شخص خدا کو بھتر طور پر پھچانتا ھے، جو اپنے آپ کو بھتر پھچانتا ھے “ـ

ليکن سير و سلوک کا منصوبہ اور پروگرام ! اس سے متعلق قرآن کريم کي بھت زيادہ آيات موجود ھيں جو خدا کو ياد کرنے کا حکم ديتي ھيں ـ مثلاً اللہ تعاليٰ فرماتا ھے :

” فاذکروني اذکرکم “(سورہ ٴ بقرہ / 152) ” مجھے ياد کرو تاکہ ميں بھي تمھيں ياد کروں “ ـ

اس کے علاوہ دوسري آيات، اعمال صالح ( نيک اعمال ) کے متعلق قرآن و سنت ميں تفصيلات آئي ھيں اور آخر ميںخداوندعالم فرماتا ھے : ” لقد کان لکم في رسول اللہ اسوة حسنة “ ( سورہُ احزاب / 21)” تمھارے لئے سيرت رسول خدا ميں اسوہ حسنہ ھے ـ

پس کيسے ممکن اور متصور ھو سکتا ھے کہ اسلام، خدا کے راستے کو تو تشخيص دے اور پھر لوگوں کو اس راستے پر چلنے کي تاکيد اور وصيت نہ کرے ؟

يا اس راستے کو دوسروں کے سامنے تو پيش کرے ليکن اس کے منصوبوں اور پروگراموں کو بيان کرنے ميں غفلت يا سستي کرے ؟

حالانکہ خدا وند تعاليٰ اپنے کلام ميں فرماتا ھے : ” و نزّلنا عليک الکتٰب تبيانا لکل شي ءٍ “ ( سورہ نحل / 89 ) ”ھم نے قرآن کو تم پر نازل کيا ھے اور يہ کلام ھر اس چيز کے بارے ميں واضح بيان کرتا ھے، جو لوگوں کے دين و دنيا سے متعلق ھو ـ




1. نھج البلاغہ خطبہ 231.
2. در المنثور ج /2 ص / 6 .
3. تفسير صافي ص / 8 ـ بحار الانوار ج /19 ص / 28 .
4. بحار الانوار ج / 1 ص / 117 .
5. بحار الانوار ج/ 1 ص / 139 .
6. بحار الانوار ج / 1 ص / 55 .
7. وفيات ابن خلکان ص/ 78، اعيان الشيعہ ج/ 11 ص / 231 .
8. بحار الانوار ج/ 2 ص / 186.




تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
9+3 =