پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

قرآن اور محکم و متشابہ آیات


محمد ابراهیم حکمتی


محکم کسي مضبوط اور متقن شي کو کہا جاتا ہے۔ ہر چيز کا استحکام خود اس شئي کي نسبت مختلف ہوا کرتا ہے، کلام کا استحکام و اتقان يہ ہے کہ وہ صريح ہو اور اس کي مراد واضح و روشن ہو اور مراد کلام غير مراد سے مشتبہ نہ ہو۔ يعني کلام ايسا ہو، جو اپني مراد کے علاوہ ہر قسم کے غير مراد احتمال کوآنے سے دور رکھے۔
محکم يعني ’’احکمت عباراتھا بان حفظت من الاحتمال و الاشتباہ‘‘ اس بنا پر وہ آيت جس کا مفہوم بالکل واضح ہو اور اس کے خلاف کوئي احتمال نہ ہو يا بنابر قولہ احتمال مرجوح ہو تو اس کو محکم کہا جاتا ہے۔ محکم آيات کو قرآن مجيد ميں’’ ام الکتاب‘‘ کہا گيا ہے۔يعني اصل مرجع اور مفسر ۔
متشابہ دو ايسي چيزوں کو کہتے ہيں کہ جو اس طرح ايک دوسرے سے شباہت رکھتي ہوں کہ ذہن ان دونوں ميں تميز نہ دے سکے،ا سي بنا پر ان آيات کو جنکا معني پيچيدہ ہو اور ابتدائي نظر ميں انکي مراد ميں چند احتمال ہوں اور انکے اصل معني ميں تميز دينا مشکل ہو ’’متشابہ ‘‘ کہتے ہيں۔
قرآن مجيد ميں محکم و متشابہ کا دوسرے معنوں ميں بھي استعمال ہوا ہے، جسکي بنياد پر پورے قرآن کو محکم و متشابہ کہا گيا ہے۔ وہاں محکم سے مراد آيات قرآن کا معني و مراد کے لحاظ سے آپس ميں ہم آہنگ اور ايک دوسرے سے متناسب ہونا ہے اور متشابہ سے مراد حق و حقيقت و صدق و صداقت ميں آيات کا ايک دوسرے کے مثل و مانند ہونا ہے۔ اس لحاظ سے تمام آيات متشابہ ہيں۔
چنانچہ محکم وہ آيا ت ہيں جنکا معني واضح ، روشن، اور صريح ہو اور معني کي تشخيص ميں کسي قسم کا تردد و اشتباہ نہ ہو اور متشابہ وہ ہيں جنکا معني روشن نہ ہو اور مراد ظاہر نہ ہو بلکہ اسکي مراد تاويل کے بغير سمجھ ميں نہ آئے ۔
’المحکم واضح الدلالۃ و المتشابہ لا تفہم معانيھا‘ (تفيسر جلالين)

محکم ومتشابہ کے بارے ميں ہماري ذمہ داري

اہل سنت کے نزديک مشہور قول يہ ہے کہ آيات متشابہ کے حقيقي معني اور انکي تاويل اللہ تعاليٰ کے سوا اور کوئي نہيں جانتا حتيٰ کہ خود پيغمبر اسلام بھي نہيں جانتے۔ فخر رازي نے اپني تفسير ميں اس قول کو ابن عباس مالک بن انس و معتزلہ کي طرف نسبت دي ہے بقول فکر رازي : ’’ہمارا (يعني اہل سنت کا) يہي عقيدہ ہے۔ اہل سنت کے مشہور قول کے مطابق آيات متشابہ جنکے معني بغير تاويل کے سمجھ ميں نہيں آسکتے اور تاويل بھي چونکہ اللہ کے سوا اور کوئي نہيں جانتا لہذا ان پر ايمان لانا ضروري ہے ليکن ان پر عمل نہيں کيا جاسکتا۔‘‘
اور آيات محکم کہ جنکي مراد واضح و صريح ہے اس پر ايمان لانا اور عمل کرنا ضروري ہے۔ اسکي دليل يہ حديث نبوي ہے ’’فما عرفتم فاعملوا بہ و ما تشابہ عليکم فآمنوا بہ‘‘۔ ليکن يہ حديث ہماري اس بحث سے کہ متشابہ کے معني اور تاويل سوائے خدا کے اور کوئي جانتا ہے يا نہيں؟ کوئي ربط نہيں رکھتي،جيسا کہ صاحبان فہم پر واضح ہے۔
علماء اماميہ کا نظريہ يہ ہے کہ آيات متشابہ کي تاويل اور انکي مرادا ورانکے معني کا علم رسول اکرم و ائمہ اہلبيتٴ کے پاس ہے۔ چنانچہ ہماري ذمہ داري يہ ہے کہ متشابہ کے معني و مرادسمجھنے کے لئے نبي اکرم اور ائمہ اہلبيت ٴ کي طرف رجوع کريں۔
حق و انصاف يہ ہے کہ يہ قول کہ آيات متشابہات کا معني کوئي نہيں جانتا اور اس کے سمجھنے کے لئے کوئي راہ موجود نہيں متعدد عقلي و نقلي دليلوں کے مطابق درست و معقول نہيں ہے۔

اولاً: يہ قول خود وہ آيت جس ميں متشابہ اور محکم کا ذکر ہوا ہے’’ ھو الّذي انزل اليک الکتاب منہ آيات محکمات ھنّ ام الکتاب و اخر متشابہات‘‘سے مطابقت نہيں رکھتا۔ چونکہ خود اسي آيہ کريمہ ميں آيات محکمات کو ’’ھنّ ام الکتاب‘‘ بتايا گياہے،جسکا معني ہے اصل ، مرجع، اور مفسر ہے جسکا مطلب يہ ہے کہ بقيہ آيات کے مطالب آيات محکمات پر موقوف ہيں۔ اس کا لازمہ يہ ہے آيات متشابہ مدلول و مراد کے لحاظ سے آيات محکمات کي طرف لوٹتي ہيں۔

ثانياً: خود قرآن ميں ارشاد ہو رہا ہے کہ:
فاما الّذين في قلوبہم زيغ فيتبعون ما تشابہ منہ ابتغائ تاويلہ وما يعلم تاويلہ الّا اللہ والراسخون في العلم...( آل عمران : ٧ )
ترجمہ : جنکے دلوں ميں کجي ہے وہ متشابہات کے پيچھے پڑے رہتے ہيں تاکہ فتنہ انگيزي کرتے رہيں اور انکي غلط تفسيرکرنا چاہتے ہيں حالانکہ انکي تفسير اللہ اور علم ميں راسخ لوگو کے علاوہ اور کوئي نہيں جانتا مذکورہ آيت سے ثابت ہوتا ہے کہ متشابہات کا علم خدا کے علاوہ بھي ان لوگوں کو ہے جنہيں قرآن نے راسخون في العلم کہا ہے

ثالثا: قرآن نے اپني وصف بيان کي ہے کہ يہ نور، تبيان اور ہدايت ہے ۔ قرآن کا نور، ہدايت اور تبيان ہونا کسي بھي صورت ميں آيات کے گنگ اور ناقابل فہم ہونے سے سازگارنہيں رکھتا ہے۔

رابعاً: خود قرآن ميں قرآني آيات کو سمجھنے اور تدبر کرنے کي دعوت دي ہے ،اور يہ غير معقول ہے کہ اللہ تعاليٰ آيات کو نازل کرے سمجھنے کي دعوت دے اور انکا سمجھنا ممکن نہ ہو اور انکي معني ومراد سمجھنے کي کوئي راہ بھي نہ ہو ۔
علاوہ از اين: يہ ايک اصل اور قاعدہ ہے کہ الفاظ کا استعمال اسلئے ہوتا ہے کہ اپني مراد پہونچائي جائے تاکہ جس سے گفتگو ہو رہي ہے اسے يہ بتايا جا سکے کہ ہمارے ذہن اور دل و دماغ ميں کيا ہے ہماري منشاء کيا ہے ؟ يعني الفاظ ہيں ہي افہام و تفہيم کے لئے چنانچہ استعمال الفاظ کي غرض ہے مراد و مقصود کو پہچانا، پس اگر الفاظ ہوں اور القاء کلام ہو ليکن اس کي مراد اور اسکے معنيٰ کا کچھ پتہ نہ ہو تو لغو لازم آتا ہے اور حکيم کبھي بھي کار لغو انجام نہيں ديتا ۔اور يہ قرآن ربّ حکيم کي طرف سے القاء شدہ ہے’’انّک لتلقّي القرآن من لدن حکيم خبير‘‘۔
ان تمام باتوں کے علاوہ اگر ہم روايات کو ملاحظہ کريں توروايات و احاديث ميں بطور صريح بيان ہوا ہے کہ پيغمبر اکرم اور ائمہ ٴ کے پاس پورے قرآن ( محکم و متشابہ) کا علم موجود ہے۔
چنانچہ حضرت امير المومنينٴ سے روايت ہے’’قد جعل اللہ للعلم اہلاً و فرض عليٰ العباد طاعتہم بقولہ و ما يعلم تاويلہ الّا اللہ و الرّاسخون في العلم‘‘
اسکے علاوہ امام صادق ٴ سے بھي اس سلسلہ ميں روايت ہے ’’انّ رسول اللہ افضل’ الراسخون في العلم‘ فقد علم جميع ما انزل اللہ ... و ماکان اللہ لينزل عليہ شيئاً لم يعلمہ تاويلہ و اوصياو ہ من بعدہ يعملونہ ( نور الثقلين )
محکم اور متشابہ آيات کے سلسلہ ميں علماء اہل سنت کے اقوال:
تفيسرکشاف ،زمحشري، اور تفسير ابن کثير ميں ہے کہ آيات متشابہ کي تاويل يعني حقيقي مراد جن پر متشابہ کو حمل کيا جائے اللہ اور راسخون کے سوا کوئي نہيں جانتا اور بعض نے وقف کيا ہے لفظ اللہ پہ اور آيات متشابہ کي حقيقي معني و تاويل کے علم کومخصوص کيا اللہ سے ليکن قول اول زيادہ مناسب ہے۔ ’’انتہيٰ کلامہما ‘‘
ابن کثير نے اسي کے ساتھ ايک اور مطلب کااضافہ کيا ہے کہ ’’ يہ مسئلہ کہ آيا وقف کلمہ اللہ پہ ہو کہ جسکا مقصد يہ ہے کہ سوائے اللہ کے اور کوئي تاويل نہيں جانتا يا يہ کہ اللہ پر وقف نہ کيا جائے بلکہ ’’والرّاسخون في العلم‘‘ کو ملا کر پڑھا جائے کہ جسکا مقصد يہ ہے کہ راسخون في العلم بھي جانتے ہيں اس سلسلہ ميںکچھ علمائ تفصيل کے قائل ہيں۔اور کہتے ہيں کہ اگر تاويل سے کنہ و حقائق اشياء مراد ہوں تو وقف اللہ پر کرنا چاہيے، کيونکہ حقائق اشياء کا علم کما ھي عليہ اللہ تعاليٰ کي ذات سے مخصوص ہے۔ ليکن اگرتاويل سے آيات کي تفسير، معني اور مقصد مراد ہو تو اس صورت ميں راسخون کو ملا کر پڑھا جائے گا، کيونکہ راسخون مخاطب کے لحاظ سے ما خوطبوا بہ کو جانتے ہيں اگر چہ حقائق کنہ اشيائ کو کما ھي عليہ نہ جانتے ہوں۔
ليکن اس تفصيل ميں يہ اشکال وارد ہوسکتا ہے کہ اگر تاويل سے مراد حقائق و کنہ اشيائ ہوناہے تو بھي يہ امراس بات سے کوئي منافات نہيں رکھتا ہے کہ تاويل اور حقائق اشياء کا علم بھي پيغمبر اسلام يا ائمہ ٴپاس ہو۔ جيسا کہ خود پيغمبر کي دعا ہے کہ ’’اللّہم ارني الاشياء کما ھي‘‘ اور نبي اکرم مولا علي ٴ کو مخاطب کر کے فرماتے ہيں ’’يا علي انّک تريٰ ما اريٰ...... ‘‘

آيات کے متشابہ ہونے کے اسباب

اس باب ميں علمائ اسلام نے گر چہ مختلف نظريات قائم کئے ہيں ان ميں سے اکثر ياقابل اعتناء نہيں يا يہ کہ قابل جمع ہيں اور ايک ہي سبب ميں جمع ہو سکتے ہيں ہم يہاں ان اقوال و نظريات کو جاننے کے لئے اپنے قارئين محترم کو مربوطہ کتب کي طرف رجوع کے ليئے عرض کرتے ہوئے اس حقيقت کي طرف مختصرلفظوں ميں اشارہ کرتے ہيں۔
يہ ايک حقيقت ہے کہ اس زمين پر انسان کا رابطہ مادي و حسي اشيائ سے ہے لہذاوہر چيز کو ماديات کے ذريعہ ہے سمجھنے کي کوشش کرتا ہے۔ اور يہ بھي حقيقت ہے کہ عالم حس اور مادہ ماورائ مادہ اور طبيعت کے مقابل ايسا ہے جيسے سمندر کے سامنے چھوٹا سا قطرہ اور قرآن کريم انہي بلند و بالاو ارفع و اعليٰ معارف پر مشتمل پر ہے لہذا وہ مطالب جو مادي امور سے کئي گنا زيادہ اور بلند و ارفع ہيں يا دوسرے الفاظ ميں وہ مطالب جو کہ مادہ اور طبيعت ماورائ عالم کے فني اور تکنيکي مسائل ہيں کہ جنکوفقط عالم اعلي کے اہل ہي جان سکتے ہيں اور اگر کوئي انکو درک کرنا چاہے توان مطالب کو مقتضاء مخاطب کے مطابق ہي سمجھا جا سکتا ہے غير از اين ان کے بغير وہ سمجھ ميں نہيں آسکتے۔لہذا يہ جو کہا جاتا ہے کہ آيات متشابہ خدا نے غير واضح رکھي ہيں يہ اس معني ميں ہرگز نہيں ہے کہ خود خدا نے ان آيات کو غير واضح بيان کيا ہے بلکہ اس معني ميں ہے کہ يہ آيات ايسے بلند واعليٰ معارف اور معاني پر مشتمل ہيں کہ ان کو معصوم اور مطہر ہستيوں کے بغير نہيں سمجھا جا سکتا۔

خلاصہ کلام

محکم وہ آيات ہيں جنکے معني و مراد واضح ہوں متشابہ وہ آيات ہين جنکي مراد روشن نہ ہو اور مراد ظاہر نہ ہو۔آيات محکم خود بخود محکم اور واضح الدالۃ ہيں اور انکا معني سمجھا جا سکتا ہے۔ اور آيات متشابہ آيات محکم اور احاديث نبوي اور ائمہ اہلبيت ٴ کے احاديث کي روشني ميں محکم اور واضح الدلالۃ ہيں ليکن انکے بغير ان آيات کو بھي نہيں سمجھا جا سکتا ہے ۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
1+7 =