پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

حضرت نوح علیہ السلام


ناصر مکارم شیرازی

سید صفدر حسین نجفی

قرآن مجید، بہت سی آیات میں نوح کے بارے میں گفتگو کرتا ھے اور مجمو عی طور پر قرآن کی انتیس سورتوں میںاس عظیم پیغمبر کے بارے میں گفتگو هوئی ھے،ان کانا م۴۳مرتبہ قرآن میں آیا ھے ۔
قرآن مجید نے ان کی زندگی کے مختلف حصوں کی باریک بینی کے ساتھ تفصیل بیان کی ھے ایسے جوزیادہ تر تعلیم وتربیت اور پندو نصیحت کے پھلوؤں سے متعلق ھیں ۔
مورخین ومفسرین نے لکھا ھے کہ نوح کا نام ”عبد الغفار“ یا "عبد الملک “یا ”عبد الاعلی“ تھا اور ”نوح“ کا لقب انھیں اس لئے دیا گیا ھے ، کیونکہ وہ سالھا سال اپنے اوپر یا اپنی قوم پر نوحہ گریہ کرتے رھے ۔آپ کے والد کا نام ”لمک“ یا ”لامک“ تھا اور آپ کی عمر کی مدت میں اختلاف ھے ،بعض روایات میں ۱۴۹۰ /اور بعض میں ۲۵۰۰ /سال بیان کی گئی ھے ، اور ان کی قوم کے بارے میں بھی طولانی عمریں تقریبََا۳۰۰ سال تک لکھی گئی ھیں ،جوبات مسلم ھے وہ یہ ھے کہ آپ نے بہت طولانی عمر پائی ھے، اورقرآن کی صراحت کے مطابق آپ۵۰ ۹سال اپنی قوم کے درمیان رھے ( اور تبلیغ میں مشغول رھے)۔
نوح کے تین بیٹے تھے ”حام“ ”سام“ یافث اور موٴرخین کا نظریہ یہ ھے کہ کرئہ زمین کی اس وقت کی تمام نسل انسانی کی بازگشت انھیں تینوں فرزندوں کی طرف ھے ایک گروہ ”حامی“ نسل ھے جو افریقہ کے علاقہ میں رہتے ھیں دوسرا گروہ ”سامی “نسل ھے جوشرق اوسط اور مشرق قریب کے علاقوں میں رہتے ھیں اور ”یافث “ کی نسل کو چین کے ساکنین سمجھتے ھیں ۔

950 سال تبلیغ ۷ مومن !!

اس بارے میں بھی ،کہ نوح (ع)طوفان کے بعد کتنے سال زندہ رھے ،اختلاف ھے بعض نے ۵۰ /سال لکھے ھیں اور بعض نے ۶۰ /سال ۔1 نوح علیہ السلام کا ایک اور بیٹا بھی تھا جس کا نام ”کنعان “تھا جس نے باپ سے اختلاف کیا، یھاں تک کہ کشتی نجات میں ان کے ساتھ بیٹھنے کے لئے بھی تیار نہ هوا اس نے برے لوگوں کے ساتھ صحبت رکھی اور خاندان نبوت کے ا قدار کو ضائع کردیا اور قرآن کی صراحت کے مطابق آخر کاروہ بھی باقی کفار کے مانند طوفان میں غرق هوگیا ۔اس بارے میں کہ اس طویل مدت میں کتنے افراد نوح(ع) پر ایمان لائے ،اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار هوئے ،اس میں بھی اختلاف ھے بعض نے ۸۰/ اور بعض نے ۷افراد لکھے ھیں۔
نوح علیہ السلام کی داستان عربی اور فارسی ادبیات میں بہت زیادہ بیان هوئی ھے، اور زیادہ تر طوفان اور آپ کی کشتی نجات پر تکیہ هوا ھے ۔ نوح علیہ السلام صبر وشکر اور استقامت کی ایک داستان تھے ، اور محققین کا کہنا ھے کہ وہ پھلے شخص ھیں جنھوں نے انسانوں کی ہدایت کےلئے وحی کی منطق کے علاوہ عقل واستدلال کی منطق سے بھی مددلی (جیسا کہ سورہٴ نوح کی آیات سے اچھی طرح ظاھر ھے ) اور اسی بناء پر آپ اس جھان کے تمام خدا پرستوں پر ایک عظیم حق رکھتے تھے ۔

قوم نوح علیہ السلام کی ھلا دینے والی سرگزشت

اس میں شک نھیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کا قیام اور ان کے اپنے زمانے کے متکبروں کے ساتھ شدید اور مسلسل جھاد اور ان کے برے انجام کی داستان تاریخ بشر کے فراز میں ایک نھایت اھم اور بہت عبرت انگیز درس کی حامل ھے۔
قرآن مجید پھلے مرحلے میں اس عظیم دعوت کو بیان کرتے هوئے کہتا ھے ”ھم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور اس نے انھیں بتایا کہ میں واضح ڈرانے والا هوں“۔2
اس کے بعد اپنی رسالت کے مضمون کو صرف ایک جملہ میںبطور خلاصہ بیان کرتے هوئے کہتا ھے میرا پیغام یہ ھے کہ “ اللہ “کے علاوہ کسی دوسرے کی پرستش نہ کرو 3 پھر بلا فاصلہ اس کے پیچھے اسی مسئلہ انذاراور اعلام خطر کوتکرار کرتے هوئے کھا :”میں تم پر درد ناک دن سے ڈرتا هوں “۔4
اصل میں اللہ (خدا ئے یکتا ویگانہ ) کی توحید اور عبادت ھی تمام انبیاء کی دعوت کی بنیاد ھے ۔
اب ھم دیکھیں گے کہ پھلا ردّ عمل اس زمانے کے طاغوتوں ،خود سروں اور صاحبان زرو زورکا اس عظیم دعوت اور واضح اعلام خطرکے مقابلے میںکیا تھامسلماََسوائے کچھ بیهودہ اور جھوٹے عذر بھانوں اور بے بنیاد استدلالوں کے علاوہ کہ ان کے پاس کچھ بھی نھیں تھا جیساکہ ھر زمانے کے جابروں کے طریقہ ھے ۔
انهوں نے حضرت نوح کی دعوت کے تین جواب دئے: ”قوم نوح(ع) کے سردار اور سرمایہ دارکا فرتھے انهوں نے کھا: ھم تو تجھے صرف اپنے جیسا انسان دیکھتے ھیں“۔5
حالانکہ اللہ کی رسالت اور پیغام تو فرشتوں کو اپنے کندھوں پر لینا چاھیئے نہ کہ ھم جیسے انسانوں کو ،اس گمان کے ساتھ کہ انسان کا مقام فرشتوں سے نیچے ھے یا انسان کی ضرورت کو فرشتہ انسان سے بہتر جانتا ھے۔!
امام زادوں کو زائرین کی تعداد سے پہچاناجاتا ھے
ان کی دوسری دلیل یہ تھی کہ: انهوںنے کھا: اے نوح(ع): ”ھم تیرے گردوپیش اور ان کے درمیان کہ جنهوں نے تیری پیروی کی ھے سوائے چند پست، ناآگاہ اور بے خبرتھوڑے سن وسال کے نوجوانوں کے کہ جنهوں نے مسائل کی دیکھ بھال نھیں کی کسی کو نھیںدیکھتے“۔
کسی رھبر اور پیشوا کی حیثیت اور اس کی قدر ورقیمت اس کے پیروکاروں سے پہچانی جاتی ھے اور اصطلاح کے مطابق صاحب مزار کو اس کے زائرین سے پہچانا جاتا ھے جب ھم تمھارے پیروکاروں کو دیکھتے ھیں تو ھمیں چند ایک بے بضاعت،گمنام،فقیر اور غریب لوگ ھی نظر آتے ھیں جن کا سلسلہٴ روز گار بھی نھایت ھی معمولی ھے تو پھر ایسی صورت میں تم کس طرح امید کر سکتے هو کہ مشهور و معروف دولت مند اور نامی گرامی لوگ تمھارے سامنے سر تسلیم خم کرلیں گے۔؟!!
ھم اور یہ لوگ کبھی بھی ایک ساتھ نھیں چل سکتے ھم نہ تو کبھی ایک دستر خوان پر بیٹھے ھیں اور نہ ھی ایک چھت کے نیچے اکھٹے هوئے ھیں تمھیں ھم سے کیسی غیر معقول توقع ھے۔
یہ ٹھیک ھے کہ وہ اپنی اس بات میں سچے تھے کہ کسی پیشوا کو اس کے پیروکاروں سے پہچانا جاتا ھے لیکن ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے شخصیت کے مفهوم اور معیار کو اچھی طرح نھیں پہچانا تھا۔ان کے نزدیک شخصیت کا معیارمال و دولت لباس اور گھر اور خوبصورت اور قیمتی سواری تھا لیکن طھارت،تقویٰ،حق جوئی جیسے اعلیٰ انسانی صفات سے غافل تھے جو غریبوں میں زیادہ اور امیروں میں کم پائی جاتی ھیں۔
طبقاتی اونچ نیچ بدترین صورت میں ان کی افکار پر حکم فرما تھی۔ اسی لئے وہ غریب لوگوں کو”اراذل“، (ذلیل) سمجھتے تھے۔
اور اگر وہ طبقاتی معاشرے کے قید خانے سے باھر نکل کر سوچتے اور باھر کی دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تو انھیں معلوم هوجاتا کہ ایسے لوگوں کا ایمان اس پیغمبر کی حقانیت اور اس کی دعوت کی سچائی پر بذات خود ایک دلیل ھے۔
اور یہ جو انھیں ”بادی الراٴی“ (ظاھر بین بے مطالعہ اور وہ شخص جو پھلی نظر میں کسی چیز کا عاشق اور خواھاں هوتا ھے)؛ کا نام دیا ھے حقیقت میں اس بناء پر ھے کہ وہ ہٹ دھرمی اور غیر مناسب تعصبات جو دوسروں میں تھے وہ نھیںرکھتے تھے بلکہ زیادہ تر پاک دل نوجوان تھے جوحقیقت کی پھلی کرن کو جوان کے دل پر پڑتی تھی جلدی محسوس کرلیتے تھے وہ اس بیداری کے ساتھ جو کہ حق کی تلاش سے حاصل هوتی ھے ،صداقت کی نشانیاں،انبیاء کے اقوال وافعال کا ادراک کرلیتے تھے ۔6
ان کاتیسرا اعتراض یہ تھا کہ قطع نظر اس سے کہ تو انسان ھے نہ کہ فرشتہ ، علاوہ ازیں تجھ پر ایمان لانے والے نشاندھی کرتے ھیں کہ تیری دعوت کے مشتملات صحیح نھیں ھیں ”اصولی طور پر تم ھم پر کسی قسم کی برتری نھیں رکھتے کہ جس کی بناء پر ھم تمھاری پیروی کریں “۔7
”لہٰذا ھم گمان کرتے ھیں کہ تم جھوٹے هو“۔8

حضرت نوح علیہ السلام کے جوابات

قرآن میں ان بھانہ جو اورا فسانہ ساز افراد کو حضرت نوح(ع) کی طرف سے دیئے گئے جوابات ذکرکیے گئے ھیں پھلے ارشاد هوتا ھے:
اے قوم :” میں اپنے پرورد گار کی طرف سے واضح دلیل اور معجزہ کا حامل هوں اور اس نے اس رسالت وپیغام کی انجام دھی کی وجہ سے اپنی رحمت میرے شامل حال کی ھے اور یہ امر اگر عدم توجہ کی وجہ سے تم سے مخفی هوتو کیا پھر بھی تم میری رسالت کا انکار کرسکتے هو اور میری پیروی سے دست بردار هوسکتے هو“۔9
یہ جواب قوم نوح(ع) کے مستکبرین کے تین سوالوں میں سے کس کے ساتھ مربوط ھے؟ مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ھے لیکن غور وخوض سے واضح هو جاتا ھے کہ یہ جامع جواب تینوں اعتراضات کا جواب بن سکتا ھے کیونکہ ان کا پھلا اعتراض یہ تھا کہ تم انسان هو آپ نے فرمایا یہ بجاھے کہ میں تمھاری طرح کا ھی انسان هوں لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت میرے شامل حال هوئی ھے اور اس نے مجھے کھلی اورواضح نشانیاں دی ھیں اس بناء پر میری انسانیت اس عظیم رسالت سے مانع نھیں هوسکتی اور یہ ضروری نھیں کہ میں فرشتہ هوتا ۔
ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ تھارے پیروکار بے فکر اور ظاھر بین افراد ھیں ۔آپ نے فرمایا تم بے فکر اور بے سمجھ هو جو اس واضح حقیقت کا انکار کرتے هوحالانکہ میرے پاس ایسے دلائل موجود ھیں جو ھر حقیقت کے متلاشی انسان کے لئے کافی ھیں اور اسے قائل کرسکتے ھیں مگر تم جیسے افراد جو غرور ،خود خواھی،تکبر اور جاہ طلبی کا پردہ اوڑھے هوئے ھیں ان کی حقیقت بین آنکھ بیکار هوچکی ھے ۔
ان کا تیسرا اعتراض یہ تھا کہ وہ کہتے تھے : ھم کوئی برتری اور فضیلت تمھارے لئے اپنی نسبت نھیں پاتے، آپ نے فرمایا: اس سے بالاترکون سی برتری هوگی کہ خدانے اپنی رحمت میرے شامل حال کی ھے اور واضح مدارک ودلائل میرے اختیار میں دیئے ھیں اس بناء پر ایسی کوئی وجہ نھیں کہ تم مجھے جھوٹا خیال کرو کیونکہ میری گفتگو کی نشانیاں ظاھر ھیں ۔
”کیا میں تمھیں اس ظاھر بظاھر بینہ کے قبول کرنے پر مجبور کرسکتا هوں جبکہ تم خود اس پر آمادہ نھیں هو اور اسے قبول کرنا بلکہ اس کے بارے میں غوروفکر کرنا بھی پسند نھیں کرتے هو“ ۔10

میں کسی صاحب ایمان کو نھیں دھتکارتا

”اے قوم: میں اس دعوت کے بدلے تم سے مال وثروت اور اجرو جزا کا مطالبہ نھیں کرتا“۔11
یہ امراچھی طرح سے نشاندھی کرتاھے کہ اس پروگرام سے میرا کوئی مادی ہدف نھیں ،میں سوائے خدا کے معنوی وروحانی اجر کے سواکچھ بھی نھیں سوچتا اور کوئی جھوٹا مدعی ایسا نھیں هوسکتا جو اس قسم کے سردرد ،ناراحتی اور بے آرامی کو یوں ھی اپنے لئے خرید لے اور یہ سچے رھبروں کی پہچان کے لئے ایک میزان ھے،ان جھوٹے موقع پرستوں کے مقابلے میں، کہ وہ جب بھی کوئی قدم اٹھاتے ھیں بالواسطہ یابلا واسطہ طور پر اس سے ان کا کوئی نہ کوئی مادی ہدف اور مقصد هوتا ھے ۔
اس کے بعد ان کے جواب میں جنھیں اصرار تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام، اپنے اوپر ایمان لانے والے غریب حقیر اور کم عمر افراد کو خود سے دور کردیں حضرت نوح (ع)
(حتمی طور پر فیصلہ سناتے هوئے )کہتے ھیں :
”کیونکہ وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کریں گے اوردوسرے جھان میں اس کے سامنے میرے ساتھ هوںگے“۔ 12
آخر میں انھیں بتایا گیا ھے :” میں سمجھتا هو ں کہ تم جاھل لوگ هو“۔13
”اے قوم اگر میں ان باایمان لوگوں کو دھتکاردوں تو خدا کے سامنے (اس عظیم عدالت میں بلکہ اس جھان میں ) کون میری مدد کرے گا “۔14
”کیا تم کچھ سوچتے سمجھتے نھیں هو“ ۔15 جان لو کہ جو کچھ میں کہتا هوں عین حقیقت ھے۔

خدائی خزانے میرے قبضہ میں نھیں ھیں

اپنی قوم کے مھمل اعتراضات کے جواب میں حضرت نوح(ع) آخری بات کہتے ھیں کہ اگر تم خیال کرتے هو اور توقع رکھتے هوکہ وحی اور اعجاز کے سواء میں تم پر کوئی امتیاز یا برتری رکھوں ،تو یہ غلط ھے میں صراحت سے کہنا چاہتا هوں “میں نہ تم سے کہتا هوں کہ خدا ئی خزانے میرے قبضے میں ھیں اور نہ ھر کام جب چاهوں انجام دے سکتاهوں “ نہ میں غیب سے آگاھی کا دعویٰ کرتا هوں “اور نہ میں کہتا هوں کہ میں فرشتہ هوں“۔16
ایسے بڑے اور جھوٹے دعوے جھوٹے مدعیوں کے ساتھ مخصوص ھیں اور ایک سچا پیغمبر کبھی ایسے دعوے نھیں کرے گا کیونکہ خدائی خزانے اورعلم غیب صرف خدا کی پاک ذات کے اختیار میں ھیں اور فرشتہ هونا بھی ان بشری احساسات سے مناسبت نھیں رکھتا لہٰذا جو شخص ان تین میںسے کوئی ایک دعویٰ کرے یا یہ سب دعوے کرے تو یہ اس کے جھوٹے هونے کی دلیل ھے ۔
آخر میں دوبارہ مستضعفین کا ذکر کرتے هوئے تاکید اََکھا گیا ھے ”میں ھرگز ان افراد کے بارے میں جو تمھاری نگاہ میں حقیر ھیں ،نھیں کہہ سکتا کہ خدا انھیں کو ئی جزائے خیر نھیں دے گا“ 17 بلکہ اس کے برعکس اس جھان اور اس جھان کی خیر، انھیںکے لئے ھے اگر چہ ان کاھاتھ مال ودولت سے خالی ھے یہ تو تم هو جنهوں نے خام خیالی کی وجہ سے خیر کو مال ومقام یا سن وسال میں منحصر سمجھ لیا ھے اور تم حقیقت سے بالکل بے خبر هو ۔
اور بالفرض اگر تمھاری بات سچی هو اور وہ پست اور اوباش هوں تو خدا ان کے باطن سے آگا ہ ھے ۔
میں تو ان میں ایمان اور صداقت کے سوا کچھ نھیں پاتا ،لہٰذامیری ذمہ داری ھے کہ میں انھیں قبول کرلوں، میں توظاھر پر مامور هوں اور بندہ شناس خدا ھے۔” اور اگر میں اس کے علاوہ کچھ کروں تو یقینا ظالموں میں سے هو جاؤں گا “۔ 18

کھاں ھے عذاب ؟

قرآن میں حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیا ن هونے والی باقی گفتگو کی طرف اشارہ هوا ھے قرآن میں پھلے قوم نوح(ع) کی زبانی نقل ھے کہ انهوں نے کھا :
”اے نوح :تم نے یہ سب بحث وتکراراور مجادلہ کیا ھے اب بس کرو ،تم نے ھم سے بہت باتیں کی ھیں اب بحث مباحثے کی گنجائش نھیں رھی،”اگرسچے هو تو خدائی عذابوں کے بارے میں جو سخت وعدے تم نے ھم سے کئے ھیں انھیں پورا کردکھاؤ اور وہ عذاب لے آؤ‘۔(۳)??
یہ بعینہ اس طرح سے ھے کہ ایک شخص یاکچھ اشخاص کسی مسئلے کہ بارے میں ھم سے بات کریں اور ضمناََھمیں دھمکیاں بھی دیں اور کھیں کہ اب زیادہ باتیںبند کرو اور جو کچھ تم کرسکتے هو کرلو اور دیر نہ کرو ،اس طرف اشارہ کرتے هوئے کہ ھم نہ تو تمھارے دلائل کو کچھ سمجھتے ھیں نہ تمھاری دھمیکوں سے ڈرتے ھیںاور نہ اس سے زیادہ ھم تمھاری بات سن سکتے ھیں ۔ انبیا ء الٰھی کے لطف ومحبت اور ان کی وہ گفتگو جو صاف وشفاف اور خوشگوار پانی کی طرح هو تی ھے اس طرزعمل کا انتخاب انتھائی ہٹ دھرمی تعصب اور جھالت کی ترجمانی کرتا ھے۔
قوم نوح علیہ السلام کی اس گفتگو سے ضمناً یہ بھی اچھی طرح سے واضح هوتا ھے کہ آپ نے ان کی ہدایت کے لئے بہت طویل مدت تک کوشش کی اور انھیں ارشاد وہدایت کے لئے آپ نے ھرموقع سے استفادہ کیا، آپ نے اس قدر کوشش کی کہ اس گمراہ قوم نے آپ کی گفتار اور ارشادات پر اکتاہٹ کا اظھار کیا۔
حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں قرآن حکیم میں جودیگر تفصیل آئی ھے اس سے بھی یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح هوتی ھے ، یہ مفهوم تفصیلی طور پر بیان هوا ھے:” پروردگارا : میں نے اپنی قوم کو دن رات تیری طرف بلایا لیکن میری اس دعوت پر ان میں فرار کے علاوہ کسی چیزکا اضافہ نھیں هوا میں نے جب انھیں پکارا تاکہ تو انھیں بخش دے، توانهوںنے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے لباس اپنے اوپر لپیٹ لئے انهوں نے مخالفت پر اصرارکیا اورغرور تکبرکا مظاھرہ کیا میں نے پھر بھی انھیں دعوت دی ،میں نے پیھم اصرار کیا مگر انهوں نے کسی طرح بھی میری باتوں کی طرف کان نہ دھرے “۔19
حضرت نوح علیہ السلام نے اس بے اعتنائی، ہٹ دھرمی اوربے هودگی کا یہ مختصر جواب دیا : خدا ھی چاھے تو ان دھمکیوں اور عذاب کے وعدوں کو پورا کرسکتا ھے “۔20
لیکن بھرحال یہ چیز میرے اختیار سے باھر ھے اور میرے قبضہ قدرت میں نھیں ھے میں تو اس کا رسول هوں اور اس کے حکم کے سامنے تسلیم هوں، لہٰذا سزا اور عذاب کی خواہش مجھ سے نہ کر و، لیکن یہ جان لو کہ جب عذاب کا حکم آپہنچے گاتو پھر تم اس کے احاطہ قدرت سے نکل نھیں سکتے اور کسی پناہ گا ہ کی طرف فرار نھیں کر سکتے “ ۔21

معاشرے کو پاک کرنے کا مرحلہ

قرآن مجید میں حضرت نوح(ع) کی سرگذشت بیان هوئی ھے اس کے در حقیقت مختلف مراحل ھیں میں سے ھرمرحلہ متکبرین کے خلاف حضرت نوح کے قیام کے ایک دور سے مربوط ھے پھلے حضرت نوح(ع) کی مسلسل اور پر عزم دعوت کے مرحلے کا تذکرہ تھا جس کے لئے انهوں نے تمام تروسائل سے استفادہ کیا یہ مرحلہ ایک طویل مدت پر مشتمل تھا اس میں ایک چھوٹا ساگروہ آپ پر ایمان لایا، یہ گروہ ویسے تو مختصر ساتھا لیکن کیفیت اور استقامت کے لحاظ سے بہت عظیم تھا۔
قرآن میں اس قیام کے دوسرے مرحلے کی طرف اشارہ کیا گیا ھے یہ مرحلہ دور تبلیغ کے اختتام کا تھا جس میں خدا کی طرف سے معاشرے کوبرے لوگوں سے پاک کرنے کی تیاری کی جانا تھی پھلے قرآن میں ارشاد هوتاھے۔ ”نوح (ع) کو وحی هوئی کہ جو افراد ایمان لاچکے ھیں ان کے علاوہ تیری قوم میںسے کوئی ایمان نھیں لائے گا “۔22
یہ اس طرف اشارہ ھے کہ صفیںبالکل جدا هو چکی ھیں ، اب ایمان اوراصلاح کی دعوت کا کوئی فائدئہ نھیں اور اب معاشرے کی پاکیز گی اور آخری انقلاب کے لئے تیار هو جانا چاہئے اس گفتگو کے آخر میں حضرت نوح کی تسلی اور دلجوئی کے لئے فرمایا گیاھے :”اب جب معاملہ یوں ھے تو جو کام تم انجام دے رھے هو اس پر کوئی حزن وملال نہ کرو“۔23
مربوطآیت سے ضمنی طور پر معلوم هوتا ھے کہ اللہ اسرار غیب کا کچھ حصہ جھاں ضروری هوتا ھے اپنے پیغمبر کے اختیار میں دے دیتا ھے جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کو خبر دی گئی ھے کہ آئندہ ان میں سے کوئی اور شخص ایمان نھیں لائے گا ،بھر حال ان گناہگار اور ہٹ دھرم لوگوںکو سزا ملنی چاہئے ، ایسی سزا جو عالم ہستی کو ان کے وجود کی گندگی سے پاک کردے اور مومنین کو ھمیشہ کے لئے ان کے چنگل سے نجات دےدے، ان کے غرق هونے کا حکم هوچکا ھے لیکن ھر چیز کے لئے کچھ وسائل واسباب هوتے ھیں لہٰذا نوح کو چاہئے کہ وہ سچے مومنین کے بچنے کے لئے ایک مناسب کشتی بنائیں تاکہ ایک تو مومنین کشتی بننے کی اس مدت میں اپنے طریق کار میں پختہ تر هوجائیں اور دوسروں کے لئے بھی کا فی اتمام حجت هوجائے ۔

کشتی نوح علیہ السلام

”ھم نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ ھمارے حضور میں اور ھمارے فرمان کے مطابق کشتی بنائیں“۔24
لفظ <وحینا> سے یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ حضرت نوح کشتی بنانے کی کیفیت اور اس کی شکل وصورت کی تشکیل بھی حکم خدا سے سیکھ رھے تھے اور ایساھی هونا چاہئے تھا کیونکہ حضرت نوح آنے والے طوفان اور اس کی کیفیت ووسعت سے آگا ہ نہ تھے کہ وہ کشتی اس مناسبت سے بنا تے اور یہ وحی الٰھی ھی تھی جو بہترین کیفیتوں کے انتخاب میں ان کی مدد گار تھی ۔
آخر میں حضرت نوح علیہ السلام کو خبردار کیا گیا ھے :” آج کے بعد ظالم افراد کے لئے شفاعت اور معافی کا تقاضانہ کرنا کیونکہ انھیں عذاب دینے کا فیصلہ هوچکا ھے اور وہ حتماََ غرق هوجائیں گے“۔ 25

کشتی بنارھے هو دریابھی بناؤ

اب چندجملے قوم نوح علیہ السلام کے بارے میں بھی سن لیں :وہ بجائے اس کے کہ ایک لمحہ کے لئے حضرت نوح(ع) کی دعوت کو غور سے سنتے ، اسے سنجیدگی سے لیتے اور کم ازکم انھیں یہ احتمال ھی هوتا کہ هو سکتا ھے کہ حضرت نوح کے بار بارکے اصرار اور تکرار دعوت کا سر چشمہ وحی الٰھی ھی هو اور هو سکتا ھے طوفان اور عذاب کا معاملہ حتمی اور یقینی ھی هو، الٹا انهوں نے تمام مستکبر اور مغرور افراد کی عادت کا مظاھرہ کیا اور تمسخرواستہزاء کا سلسلہ جاری رکھا ۔ ان کی قوم کا کوئی گروہ جب کبھی ان کے نزدیک سے گزرتا اور حضر ت نوح اور ان کے اصحاب کو لکڑیاں اور میخیں وغیرہ مھیا کرتے دیکھتا اور کشتی بنانے میں سرگرم عمل پاتا تو مذاق اڑاتا اور پھبتیاں کستے هوئے گزر جاتا “۔26
کہتے ھیں کہ قوم نوح علیہ السلام کے اشراف کے مختلف گروهوں کے ھردستے نے تمسخر اور تفریح وطبع کے لئے اپناھی ایک انداز اختیار کررکھا تھا ۔
ایک کہتاتھا:”اے نوح(ع) !دعوائے پیغمبری کا کاروبار نھیں چل سکا تو بڑھئی بن گئے، دوسرا کہتا تھا :کشتی بنا رھے هو؟ بڑا اچھا ھے البتہ کشتی کے لئے دریا بھی بناؤ، کبھی کوئی عقلمنددیکھا ھے جو خشکی کے بیچ میں کشتی بنائے؟
ان میں سے کچھ کہتے تھے : اتنی بڑی کشتی کس لئے بنارھے هو اگر کشتی بنانا ھی ھے تو ذرا چھوٹی بنالو جسے ضرورت پڑے تو دریا کی طرف لے جانا تو ممکن هو ۔
ایسی باتیں کرتے تھے اور قہقھے لگا کرہنستے هوئے گزر جاتے تھے یہ باتیں گھروں میں هوتیں ۔کام کاج کے مراکز میں یہ گفتگو هوتیں گویا اب بحثوں کا عنوان بن گئی وہ ایک دوسرے سے حضرت نوح اور ان کے پیروکاروں کی کوتاہ فکری کے بارے میں باتیں کرتے اور کہتے : اس بوڑھے کو دیکھو! آخر عمر میں کس حالت کو جاپہنچا ھے اب ھم سمجھے کہ اگر ھم اس کی باتوں پر ایمان نھیں لائے تو ھم نے ٹھیک ھی کیا اس کی عقل تو بالکل ٹھکانے نھیں ھے ۔
دوسری طرف حضرت نوح علیہ السلام بڑی ا ستقامت اور پامردی سے اپناکام بے پناہ عزم کے ساتھ جاری رکھے هوئے تھے اور یہ ان کے ایمان کانتیجہ تھا وہ ان کو رباطن دل کے اندھوں کی بے بنیاد باتوں سے بے نیازاپنی پسند کے مطابق تیزی سے پیشرفت کررھے تھے اور دن بدن کشتی کا ڈھانچہ مکمل هو رھا تھا کبھی کبھی سراٹھا کران سے یہ پرمعنی بات کہتے: ”اگر آج تم ھمارا مذاق اڑاتے هو توھم بھی جلدی ھی اسی طرح تمھارا مذاق اڑائیں گے“۔27
وہ دن کہ جب تم طوفان کے درمیان سرگرداں هوکر ،سراسیمہ هوکر ادھر ادھر بھاگو گے اور تمھیں کوئی پناہ گاہ نھیں ملے گی موجوں میں گھرے فریاد کرو گے کہ ھمیں بچالو جی ھاں اس روز مومنین تمھاری غفلت اور جھالت پر مذاق اڑائیں گے”اس روز دیکھنا کہ کس کے لئے ذلیل اور رسوا کرنے والا عذاب آتا ھے اور کسے دائمی سزا دامن گیر هوتی ھے “۔28
اس میں شک نھیں کہ کشتی نوح کوئی عام کشتی نہ تھی کیونکہ اس میں سچے مو منین کے علاوہ ھر نسل کے جانور کو بھی جگہ ملی تھی اور ایک مدت کے لئے ان انسانوں اور جانوروں کو جو خوراک درکار تھی وہ بھی اس میں موجود تھی ایسی لمبی چوڑی کشتی یقینا اس زمانے میں بے نظیر تھی یہ ایسی کشتی تھی جو ایسے دریا کی کوہ پیکر موجود میں صحیح وسالم رہ سکے اور نابود نہ هو جس کی وسعت اس دنیا جتنی هو، اسی لئے مفسرین کی بعض روایات میں ھے کہ اس کشتی کا طول ایک ہزار دو سو ذراع تھااور عرض چھ سو ذراع تھا (ایک ذراع کی لمبائی تقریباََآدھے میڑکے برابر ھے ) ۔
بعض اسلامی روایات میں ھے کہ ظهور طوفان سے چالیس سال پھلے قوم نوح(ع) کی عورتوں میں ایک ایسی بیماری پیدا هو گئی تھی کہ ان کے یھاں کوئی بچہ پیدا نھیں هوتا تھا یہ دراصل ان کے لئے سزا کی تمھید تھی ۔

آغاز طوفان

گزشتہ صفحات میں ھم نے دیکھا ھے کہ کس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور سچے مومنین نے کشتی نجات بنانا شروع کی اور انھیں کیسی کیسی مشکلات آئیں اور بے ایمان مغرور اکثریت نے کس طرح ان کا تمسخراڑایا اس طرح تمسخر اڑانے والوں نے کس طرح اپنے آپ کو اس طوفان کے لئے تیارکیا جو سطح زمین کو بے ایمان مستکبرین کے منحوس وجود سے پاک کرنے والا تھا ۔
یھاں پر اس سرگزشت کے تیسرے مرحلے کے بارے میں قرآن گویا اس ظالم قوم پر نزول عذاب کی بولتی هوئی تصویر کو لوگوں کے سامنے پیش کررھا ھے ۔
پھلے ارشاد هوتا ھے :”یہ صورت حال یونھی تھی یھاں تک کہ ھماراحکم صا در هوا اور عذاب کے آثار ظاھر هونا شروع هوگئے پانی تنور کے اندر سے جو ش ما رنے لگا“۔29
اس بار ے میں کہ طوفان کے نزدیک هونے سے تنور سے پانی کا جوش مارنا کیامناسبت رکھتا ھے مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ھے۔30
موجودہ احتمالات میں سے یہ احتمال زیادہ قوی معلوم هوتا ھے کہ یھاں “ تنور“ اپنے حقیقی اور مشهور معنی میں آیا ھے اور هوسکتا ھے اس سے مراد کوئی خاص تنور بھی نہ هو بلکہ ممکن ھے کہ اس سے یہ نکتہ بیان کرنا مقصود هوکہ تنور جو عام طوپر آگ کا مرکزھے جب اس میں سے پانی جوش مارنے لگا تو حضرت نوح اور ان کے اصحاب متوجہ هوئے کہ حالات تیزی سے بدل رھے ھیں اور انقلاب قریب تر ھے یعنی کھاں آگ اور کھاں پانی بالفاظ دیگر جب انهوں نے یہ دیکھا کہ زیرزمین پانی کی سطح اس قدراوپر آگئی ھے کہ وہ تنور کے اندر سے جو عام طور پر خشک،محفوظ اور اونچی جگہ بنایا جاتا ھے ، جوش ماررھا ھے تو وہ سمجھ گئے کہ کوئی اھم امر درپیش ھے اور قدرت کی طرف سے کسی نئے حادثے کاظهور ھے ۔ اور یھی امر حضرت نوح اور ان کے اصحاب کے لئے خطرے کا الارم تھا کہ وہ اٹھ کر کھڑے هوں اور تیار رھیں ۔
شاید غافل اور جاھل قوم نے بھی اپنے گھر وں کے تنور میں پانی کو جوش مارتے دیکھا هو بھرحال وہ ھمیشہ کی طرح خطرے کے ان پر معنی خدائی نشانات سے آنکھ کان بند کیے گزرگئے یھاں تک کہ انهوں نے اپنے آپ کو ایک لمحہ کے لئے بھی غور وفکر کی زحمت نہ دی کہ شاید شرف تکوین میں کوئی حادثہ پوشیدہ هواور شاید حضرت نوح(ع) جن واقعات کی خبر دیتے تھے ان میں سچائی هو ۔
بعض نے کھا ھے کہ یھاں ”تنور“ مجازی اور کنائی معنی میں ھے جو اس طرف اشارہ ھے کہ غضب الٰھی کے تنورمیں جوش پیدا هوا اوروہ شعلہ ورهوا اوریہ تباہ کن خدائی عذاب کے نزیک هونے کے معنی میں ھے ایسی تعبیر فارسی اور عربی زبان میں استعمال هوتی ھیں کہ شدت غضب کو آگ کے جوش مارنے اور شعلہ ور هونے سے تشبیہ دی جاتی ھے ۔
اس وقت نوح(ع) کو ”ھم نے حکم دیا کہ جانوروں کی ھرنوع میں سے ایک جفت (نراور مادہ کا جوڑا) کشتی میں سوار کرلو “ ۔تاکہ غرقاب هو کر ان کی نسل منقطع نہ هوجائے ۔
اور اسی طرح اپنے خاندان میں سے جن کی ھلاکت کا پھلے سے وعدہ کیا جاچکا ھے ان کے سواباقی افرادکو سوار کرلو نیز مومنین کو کشتی میں سوار کرلو“۔31

نوح علیہ السلام کا بیٹابدکاروں کے ساتھ رھا

یہ قرآن ایک طرف حضرت نوح(ع) کی بے ایمان بیوی اور ان کے بیٹے کنعان کی طرف اشارہ کرتا ھے جن کی داستان آئندہ صفحات میں آئے گی جنهوں نے راہ ایمان سے انحراف کیا اور گنہگاروں کا ساتھ دینے کی وجہ سے حضرت نوح سے اپنا رشتہ توڑلیا وہ اس کشتی نجات میں سوار هونے کا حق نھیں رکھتے تھے کیونکہ اس میں سوار هونے کی پھلی شرط ایمان تھی ۔
دوسری طرف یہ قرآن اس جانب اشارہ کرتاھے کہ حضرت نوح نے جو اپنے دین وآئین کی تبلیغ کے لئے سالھاسال بہت طویل اور مسلسل کوشش کی اس کا نتیجہ بہت تھوڑے سے افراد مومنین کے سوا کچھ نہ تھا بعض روایات کے مطابق ان کی تعداد صرف اسی(۸۰) افرادتھی یھاں تک کہ بعض نے تو اس سے بھی کم تعداد لکھی ھے اس سے پتہ چلتا ھے کہ اس عظیم پیغمبر نے کس حد تک استقامت اور پامردی کا مظاھرہ کیا ھے کہ ان میں سے ایک ایک فرد کے لئے اوسطاََ کم از کم د س سال زحمت اٹھائی اتنی زحمت تو عام لوگ اپنی اولاد تک کی ہدایت اورنجات کے لئے نھیں اٹھاتے ۔

اللہ کا نام لے کرکشتی پرسوارهوجاؤ

بھرحال حضرت نوح(ع) نے جلدی سے اپنے وابستہ صاحب ا یمان افراد اور اصحاب کوجمع کیا اورچونکہ طوفان اور تباہ کن خدائی عذابوں کا مرحلہ نزدیک آرھا تھا،” انھیں حکم دیاکہ خدا کے نام سے کشتی پرسوار هوجاؤ اور کشتی کے چلتے اور ٹھھرتے وقت خدا کا نام زبان پر جاری کرو اور اس کی یاد میں رهو“۔32
بالآخرآخری مرحلہ آپہنچا اور اس سر کش قوم کے لئے عذاب اورسزا کافرمان صادرهوا تیرہ وتار بادل جو سیاہ رات کے ٹکڑوں کی طرح تھے سارے آسمان پرچھا گئے اور اس طرح ایک دوسرے پرتہ بہ تہ هوئے کہ جس کی نظیراس سے پھلے نھیں دیکھی گئی تھی پے درپے سخت بادل گرجتے خیرہ کن بجلیاںپورے آسمان پر کوندتیں آسمانی فضاگویا ایک بہت بڑے وحشتناک حادثے کی خبردے رھی تھی ۔
بارش شروع هوگئی اور پھر تیزسے تیزترهوتی چلی گئی بارش کے قطرے موٹے سے موٹے هوتے چلے گئے جیسا کہ قرآ ن کہتاھے :
”گویا آسمان کے تمام دروازے کھل گئے اورپانی کا ایک سمندر ان کے اندرسے نیچے گرنے لگا“۔33
دوسری طرف زیر زمین پانی کی سطح اس قدر بلند هوگئی کہ ھر طرف سے پرجوش چشمے ابل پڑے، یوں زمین وآسمان کا پانی آپس میں مل گیا اور زمین،پھاڑ،دشت ،بیابان اور درہ غرض ھر جگہ پانی جاری هوگیا بہت جلد زمین کی سطح ایک سمندر کی صورت اختیار کرگئی تیز هوا ئیں چلنے لگیں جن کی وجہ سے پانی کی کوہ پیکر موجیں امنڈنے لگیں اس عالم میں ”کشتی نوح کوہ پیکر موجوں کا سینہ چیرتے هوئے آگے بڑھ رھی تھی “۔34

پسر نوح کا درد ناک انجام

پسر نوح(ع) ایک طرف اپنے باپ سے الگ کھڑا تھا نوح(ع) نے پکارا: ”میرے بیٹے،ھمارے ساتھ سوارهوجاؤ اور کافروں کے ساتھ نہ هوورنہ فناهوجاؤگے “۔35
پیغمبر بزر گوارحضرت نوح(ع) نے نہ صرف باپ کی حیثیت سے بلکہ ایک انتھک پر امید مربی کے طور پر آخری لمحے تک اپنی ذمہ داری سے دست برداری نہ کی ،اس امیدپر کہ شاید ان کی بات سنگدل بیٹے پر اثر کرجائے لیکن افسوس کہ برے ساتھی کی بات اس کے لئے زیادہ پرتاثیر تھی لہٰذا دلسوز باپ کی گفتگو اپنا مطلوبہ اثر نہ کرسکی، وہ ہٹ دھرم اور کوتاہ فکر تھا اسے گمان تھا کہ غضب خداکا مقابلہ بھی کیا جاسکتا تھا اس لئے اس نے پکار کرکھا :” ابامیرے لئے جوش میں نہ آؤ میں عنقریب پھاڑپر پناہ لے لوںگا جس تک یہ سیلاب نھیں پہنچ سکتا“۔36
نوح(ع) پھربھی مایوس نہ هوئے دوبارہ نصیحت کرنے لگے کہ شاید کوتاہ فکر بیٹا غرور اور خود سری کے مرکب سے اترآئے اور راہ حق پرچلنے لگے۔انهوں نے کھا:”میرے بیٹے آج حکم خدا کے مقابلے میں کوئی طاقت پناہ نھیں دے سکتی،نجات صرف اس شخص کے لئے ھے رحمت خدا جس کے شامل حال هو “۔37 پھاڑتو معمولی سی چیزھے خود کرہ ارض بھی معمولی سی چیز ھے ۔سورج اور تمام نظام شمسی اپنے خیرہ کن عظمت کے باوجود خدا کی قدرت لایزال کے سامنے ذرئہ بے مقدار سے زیادہ حیثیت نھیں رکھتا ۔
اسی دوران ایک موج اٹھی اور آگے آئی،مزید آگے بڑھی اور پسر نوح کو ایک تنکے کی طرح اس کی جگہ سے اٹھایا اوراپنے اندر درھم برھم کردیا،”اور باپ بیٹے کے درمیان جدائی ڈال دی اور اسے غرق هونے والوں میںشامل کردیا “۔38

اے نوح علیہ السلام تمھارا بیٹا تمھارے اھل سے نھیں ھے

جب حضرت نوح(ع) نے اپنے بیٹے کو موجوں کے درمیان دیکھا تو شفقت پدری نے جوش مارا انھیں اپنے بیٹے کی نجات کے بارے میں وعدہ الھی یاد آیا انهوں نے درگاہ الھی کا رخ کیا اور کھا :”پروردگار ا! میرا بیٹا میرے اھل اور میرے خاندان میں سے ھے اور تو نے وعدہ فرمایاتھا کہ میرے خاندان کو طوفان اور ھلاکت سے نجات دے گا اور تو تمام حکم کرنے والوں سے برترھے اور تو ایفائے عہد کرنے میں محکم ترھے “۔39
یہ وعدہ اسی چیز کی طرف اشارہ ھے جو سورہٴ هود میں موجود ھے جھاں فرمایا گیا ھے:
”ھم نے نوح(ع) کو حکم دیا کہ جانوروں کی ھر نوع میں سے ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلو اور اسی طرح اپنے خاندان کو سوائے اس شخص کے جس کی نابودی کے لئے فرمان خدا جاری هوچکا ھے “۔40
حضرت نوح(ع) نے خیال کیا کہ ”سوائے اس کے کہ جس کی نابود ی کے لئے فرمان خدا جاری هوچکا ھے ،اس سے مرادصرف ان کی بے ایمان اور مشرک بیوی ھے اور ان کا بیٹا کنعان اس میں شامل نھیں ھے لہٰذاانهوں نے بارگاہ خداوندی میں ایسا تقاضاکیا لیکن فورا ًجواب ملا (ھلادینے والا جواب اور ایک عظیم حقیقت واضح کرنے والا جواب )”اے نوح !وہ تیرے اھل اور خاندان میں سے نھیں ھے ،بلکہ وہ غیرصالح عمل ھے“۔41
وہ نالائق شخص ھے اور تجھ سے مکتبی اور مذھبی رشتہ ٹوٹنے کی وجہ سے خاندانی رشتے کی کوئی حیثیت نھیں رھی۔
”اب جبکہ ایسا ھے تو مجھ سے ایسی چیزکا تقاضانہ کر جس کے بارے میں تجھے علم نھیں ،میں تجھے نصیحت کرتا هوں کہ جاھلوں میں سے نہ هوجا “۔42
حضرت نوح (ع) سمجھ گئے کہ یہ تقاضا بارگاہ الٰھی میں صحیح نہ تھا اور ایسے بیٹے کی نجات کو خاندان کی نجات کے بارے میں خدا کے وعدے میں شامل نھیں سمجھنا چاہئے تھا لہٰذا آپ نے پروردگار کا رخ کیا اور کھا:
”پروردگار ا: میں تجھ سے پناہ مانگتا هوں اس امر سے تجھ سے کسی ایسی چیز کی خواہش کروں جس کا علم مجھے نھیں ،اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور اپنی رحمت میرے شامل حال نہ کی تو میں زیاں کاروں میں سے هوجاؤںگا “۔43

اس داستان کا اختتام

آخرکار پانی کی ٹھاٹھیںمارتی هوئی لھروںنے تمام جگهوں کو گھیرلیا پانی کی سطح بلند سے بلند تر هوتی چلی گئی جاھل گنہگاروںنے یہ گمان کیا کہ یہ ایک معمولی سا طوفان ھے وہ اونچی جگهوں اور پھاڑوں پر پناہ گزین هو جائیںگے، لیکن پانی ان کے اوپر سے بھی گزر گیا اور تمام جگھیںپانی کے نیچے چھپ گئیں ان طغیان گروں کے جسم ،ان کے بچے کچے، گھراور زندگی کا سازوسامان پانی کی جھاگ میں نظر آرھا تھا ۔
حضرت نوح (ع) نے زمام کشتی خدا کے ھاتھ میں دی موجیں کشتی کوادھر سے ادھرلےجاتی تھیں روایات میں آیا ھے کہ کشتی پورے چھ ماہ سرگرداںرھی یہ مدت ابتدائے ماہ رجب سے لے کر ذی الحجہ کے اختتام تک تھی ایک اورروایت کے مطابق دس رجب سے لے کر روزعاشورہ تک کشتی پانی کی موجوں میں سرگرداں رھی۔
اس دوران کشتی نے مختلف علاقوں کی سیرکی یھاں تک کہ بعض روایات کے مطابق سرزمین مکہ اور خانہٴ کعبہ کے اطراف کی بھی سیرکی، آخر کارعذاب کے خاتمے کا اور زمین کے معمول کی حالت میں لوٹ آنے کا حکم صادر هوا ،قرآن میںاس فرمان کی کیفیت ،جزئیات اور نتیجہ بہت مختصر مگرانتھائی عمدہ اور جاذب وخوبصورت عبارت میں چھ جملوںمیں بیان کیا گیا ھے : پھلے ارشاد هوتا ھے :”حکم دیاگیا کہ اے زمین:اپنا: پانی نگل جا،اورآسمان کو حکم هوا‘اے آسمان ھاتھ روک لے،،۔
”پانی نیچے بیٹھ گیا “
”اورکام ختم هوگیا“
”اورکشتی کو ہ جو دی کے دامن سے آلگی“ ۔
”اس وقت کھا گیا: دور هوظالم قوم “۔44
مندر جہ بالا قرآنی ٴتعبیرات مختصر هوتے هوئے بھی نھایت موٴثراوردلنشین ھیں ،یہ بولتی هوئی زندہ تعبیرات ھیں اورتمام ترزیبائی کے باوجود ھلا دینے والی ھیںبعض علماء عرب کے بقول مذکورہ آیت قرآن میں سے فصیح ترین اوربلیغ ترین آیت ھے ۔45

کوہ جودی کھاں ھے ؟

بہت سے مفسرین نے کھا ھے کہ کو ہ جو دی جس کے کنارے کشتی نوح (ع) آکر لگی تھی اور جس کا ذکر قرآن میں آیا ھے وھی مشهور پھاڑھے جو موصل کے قریب ھے، بعض دوسرے مفسرین نے اسے حدود شام میں یا ” آمد“ کے نزیک یا عراق کے شمالی پھاڑ سمجھا ھے۔
کتاب مفردات راغب نے کھا ھے کہ یہ وہ پھاڑ ھے جو موصل اور الجزیرہ کے درمیان ھے ”الجزیرہ“ شمالی عراق میں ایک جگہ ھے اور یہ ”الجزائر“ یا ”الجزیرہ “نھیں جو آج کل مشهور ھے، بعید نھیں کہ ان سب کی بازگشت ایک ھی طرف هو کیونکہ موصل، آمد اور الجزیرہ سب عراق کے شمالی علاقوں میں ھیں اور شام کے نزدیک ھیں۔بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاھر کیا ھے کہ جودی سے مراد ھر مضبوط پھاڑ اور محکم زمین ھے، یعنی کشتی نوح ایک محکم زمین پر لنگر انداز هوئی جو اس کی سواریوں کے اترنے کے لئے مناسب تھی لیکن مشهور معروف وھی پھلا معنی ھے 46

حضرت نوح(ع) باسلامت اترآئے

حضرت نوح(ع) اور ان کی سبق آموزسرگزشت کے بارے میںیہ آخری حصہ ھے ھیں ان میں حضرت نوح(ع) کے کشتی سے اترنے اور نئے سرے سے روئے زمین پر معمول کی زندگی گزارنے کی طرف اشارہ کیا گیا ھے ۔
قرآن میں ارشاد هوتا ھے: ”نوح (ع) سے کھا گیا کہ سلامتی اور برکت کے ساتھ جو ھماری طرف سے تم پر اور تمھارے ساتھیوں پر ھے، اترآؤ“۔47
اس میں شک نھیں کہ “طوفان“ نے زندگی کے تمام آثار کو درھم برھم کردےا تھا فطری طور پر آباد زمینیں، لھلھاتی چراگا ھیں اور سرسبز باغ سب کے سب ویران هوچکے تھے اس موقع پر شدید خطرہ تھا کہ حضرت نوح اور ان کے اصحاب اور ساتھی زندگی گزارنے اور غذا کے سلسلے میں بہت تنگی کا شکار هوںگے ۔لیکن خدا نے ان مومنین کو اطمینان دلایا کہ برکات الٰھی کے دروازے تم پر کھل جائیں گے اور زندگی اور معاش کے حوالے سے تمھیں کوئی پریشانی لاحق نھیں هوگی۔
علاوہ ازیں ممکن تھا کہ حضرت نوح اور ان کے پیروکاروں کو اپنی سلامتی کے حوالے سے یہ پریشانی هوتی کہ طوفان کے بعد باقی ماندہ ان گندے پانیوں ،جو ہڑوں اور دلدلوں کے هوتے هوئے زندگی خطرے سے دوچار هوگی لہٰذا خدا تعالیٰ اس سلسلے میں بھی انھیں اطمنان دلاتا ھے کہ تمھیں کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نھیں هوگا اور وہ ذات جس نے ظالموں کی نابودی کے لئے طوفان بھیجا ھے اھل ایمان کی سلامتی اور برکت کے لئے بھی ماحول فراھم کرسکتی ھے ۔
اس بناء پر جس طرح حضرت نوح اور ان کے ساتھی پروردگار کے لامتناھی لطف وکرم کے سائے میںطوفان کے بعد ان تمام مشکلات کے باوجود سلامتی وبرکت کے ساتھ جیتے رھے ،اسی طرح مختلف قسم کے جانور جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی سے اترے تھے خدا کی طرف سے سلامتی وحفا ظت کے ساتھ اور اس کے لطف وکرم کے سائے میں زندگی بسر کرتے رھے ۔

کیا طوفان نوح(ع) عالمگیر تھا ؟

قرآنی بہت سی آیات کے ظاھر سے معلوم هوتا ھے کہ طوفان نوح کسی خاص علاقے کے لئے نہ تھابلکہ پوری زمین پر رونما هوا تھا کیونکہ لفظ ”ارض“ (زمین) مطلق طور پر آیا ھے:
”خداوندا !روئے زمین پر ان کافروں میں سے کسی کو زندہ نہ رہنے دے کہ جن کے بارے میں اصلاح کی کوئی امید نھیں ھے “۔48
اسی طرح سورہ هود میں ارشاد هوتا ھے: ”اے زمین اپنا پانی نگل لے“۔49
بہت سی تواریخ سے بھی طوفان نوح(ع) کے عالمگیر هونے کی خبر ملتی ھے اسی لئے کھا جاتاھے کہ موجودہ تمام نسلیں حضرت نوح(ع) کے تین بیٹوں حام،سام اور یافث کی اولاد میں سے ھیں جو کہ زندہ بچ گئے تھے ۔
طبیعی تاریخ بھی سیلابی بارشوں کے نام سے ایک دور کا پتہ چلتاھے اس دور کو اگر لازمی طور پرجانداروں کی پیدائش سے قبل سے مربوط نہ سمجھیں تو وہ بھی طوفان نوح پر منطبق هوسکتا ھے ۔50،51

طوفان کے ذریعے سزا کیوں دی گئی ؟

یہ صحیح ھے کہ ایک فاسداور بری قوم کو نابود هونا چاہئے ،چاھے وہ کسی ذریعے سے نابودهو، اس سے فرق نھیں پڑتا لیکن آیات قرآنی میں غور کرنے سے پتہ چلتا ھے کہ عذاب و سزا اور قوموں کے گناهوں میں ایک قسم کی مناسبت تھی اور ھے، فرعون نے عظیم دریائے نیل اور اس کے پر برکت پانی کو اپنی قوت وطاقت کا ذریعہ بنارکھا تھا یہ با ت جا ذب نظر ھے کہ وھی اس کی نابودی کا سبب بنا !!۔
نمرود کو اپنے عظیم ظلم پر بھروسہ تھا اور ھم جانتے ھیں کہ حشرات الارض کے چھوٹے سے لشکر نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو شکست دےدی۔ قوم نوح زراعت پیشہ تھی ان کی کثیر دولت کا دارومدار زراعت پر ھی تھا۔
ھم جانتے ھیں کہ ایسے لوگ اپنا سب کچھ بارش کے حیات بخش قطروں کو سمجھتے ھیں لیکن آخر کار بارش ھی نے انھیں تباہ وبر باد کرڈالا ۔

جناب نوح (ع) کی بیوی

قرآن مجید دوبے تقویٰ عورتوںکی سرنوشت جو دو بزرگ پیغمبر وں کے گھر میں تھیں، اور دومومن وایثارگر خواتین کی سرنوشت بیان کرتاھے جن میں سے ایک تاریخ کے جابرترین شخص کے گھر میں تھی ۔
پھلے فرماتا ھے ”خدا نے کافروں کے لئے ایک مثال بیان کی ھے نوح کی بیوی کی مثال اور لوط کی بیوی کی مثال“ وہ دونوں ھمارے دوصالح بندوں کے ما تحت تھیں لیکن انهوں نے ان سے خیانت کی لیکن ان دو عظیم پیغمبر وں سے ان کے ارتباط نے عذاب الٰھی کے مقابلہ میں انھیں کوئی نفع نھیں دیا “۔52
حضرت نوح کی بیوی کا نام ”والھہ“ اور حضرت لوط کی بیوی کا نام ”والعة“تھا ۱ اور بعض نے اس کے برعکس لکھا ھے یعنی نوح کی بیوی کانام”والعة“ اورلوط کی بیوی کا نام ”والھہ“ یا ”واھلہ“ کھا ھے۔
بھرحال ان دونوں عورتوں نے ان دونوں عظیم پیغمبروں کے ساتھ خیانت کی ،البتہ ان کی خیانت جائدہ عفت سے انحراف ھرگزنھیں تھا کیونکہ کسی پیغمبر کی بیوی ھرگز بے عفتی سے آلودہ نھیں هوتی جیسا کہ پیغمبر اسلام سے ایک حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان هواھے: ”کسی بھی پیغمبر کی بیوی ھرگز منافی عفت عمل سے آلودہ نھیںهوئی“۔ حضرت لوط کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ اس پیغمبر کے دشمنوں کے ساتھ تعاون کرتی تھی اور ان کے گھر کے راز انھیں بتاتی تھی اور حضرت نوح کی بیوی بھی ایسی ھی تھی ۔
قرآن آخر میں کہتا ھے: ”اور ان سے کھا گیا کہ تم بھی آگ میں داخل هونے والے لوگوں کے ساتھ آگ میں داخل هوجاؤ “ 53

منبع: قصص قرآن (منتخب از تفسیر نمونه)؛ آیت الله العظمی ناصر مکارم شیرازی – مترجم: سید صفدر حسین نجفی، ترتیب و تنظیم: اقبال حیدر حیدری.


1. یهود کے منابع (موجودہ توریت میں بھی نوح کی زندگی کے بارے میں تفصیلی بحث آئی ھے ،جو کئی لحاظ سے قرآن سے مختلف ھے اور توریت کی تحریف کی نشانیوں میں سے ھے ، یہ مباحث توریت کے سفر”تکوین “میں فصل ۶،۷،۸ ،۹ اور ۱۰ میں بیان هوئے ھیں ۔
2. سورہٴ هود آیت ۲۵۔
3.
4. سورہٴ هود آیت۲۷۔
5. سورہٴ هود آیت۲۷۔
6. سورہٴ هود آیت ۲۷۔
7. سورہٴ هود آیت ۲۷۔
8. سورہ هود۲۷۔
9. سورہٴ هو دآیت۲۸ ۔
10. سورہٴ هو دآیت۲۸۔
11. سورہ هودمیں ۲۹ ۔
12. سورہٴ هو دآیت۲۹۔
13. سورہ هود ۲۹۔
14. سورہٴ هو دآیت۳۰ ۔
15. سورہٴ هود۳۰ ۔
16. سورہٴ هو دآیت۳۱ ۔
17. سورہٴ هو دآیت۳۱۔
18. سورہٴ هو دآیت۳۱ ۔
19. نوح آیات ۵ تا۱۳ ۔
20. سورہٴ هو دآیت۳۳ ۔
21. سورہٴ هو دآیت۳۳ ۔
22. سورہٴ هو دآیت۲۱۔
23. سورہٴ هو دآیت۳۔
24. سورہٴ هو دآیت۳۷۔
25. سورہٴ هو دآیت۳۷ ۔
26. سورہٴ هو دآیت۳۸۔
27. سورہٴ هود آیت۳۸۔
28. سورہٴ هو دآیت۳۹۔
29. سورہٴ هو دآیت۳۰ ۔
30. بعض نے کھا ھے کہ تنور سے پانی کا جوش مارنا خدا کی طرف سے حضرت نوح کے لئے ایک نشانی تھی تاکہ وہ اصل واقعہ کی طرف متوجہ هوں اور اس موقع پروہ اور ان کے اصحاب ضروری اسباب ووسائل لے کر کشتی میں سوار هوجائیں ۔
31. سورہٴ هو دآیت۴۰۔
32. سورہٴ هو دآیت ۴۱۔
33. سورہٴ قمر آیت۱۱۔
34. سورہٴ هودآیت ۴۲۔
35. سورہٴ هو دآیت۴۳۔
36. سورہٴ هو دآیت۴۳ ۔
37. سورہٴ هو دآیت۴۳۔
38. سورہٴ هو دآیت۴۳۔
39. سورہٴ هو دآیت۴۵۔
40. سورہٴ هو دآیت۴۰ ۔
41. سورہٴ هو دآیت۴۶۔
42. سورہٴ هو دآیت۴۶۔
43. سورہٴ هو دآیت۴۷۔
44. سورہٴ هودآیت ۴۴۔
45. روایات اور تو اریخ میں اس کی شھادت موجود ھے، لکھا ھے : کچھ کفارقریش قرآن سے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے هوئے انهوں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ قرآنی آیات جیسی کچھ آیات گھڑیں ان سے تعلق رکھنے والوں نے انھیں چالیس دن تک بہترین غذائیں مھیا کیں ،مشروبات فراھم کیے اور ان کی ھر فرمائش پوری کی خالص گندم کا میدہ ،بکرے کا گوشت ،پرانی شراب غرض سب کچھ انھیں لاکر دیا تا کہ وہ آرام وراحت کے ساتھ قرآنی آیات جیسے جملوں کی ترکیب بندی کریں ۔لیکن جب وہ مذکورہ آیت تک پہنچے تو اس نے انھیں اس طرح سے ھلاکر رکھ دیا کہ انهوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کرکھا کہ یہ ایسی گفتگو ھے کوئی کلام اس سے مشا بہت نھیں رکھتا ،یہ کہہ کر انهوں نے اپناہ ارادہ ترک کردیا اور مایوس هوکر ادھر ادھرچلے گئے ۔
46. مزید نفصیلات کے لئے رجوع کریں تفسیر نمونہ جلد۵ ۲۶۹ ۔
47. سورہٴ هو دآیت۴۸ ۔
48. سورہٴ نوح آیت ۲۶ ۔
49. سورہٴ هود آیت۴۴۔
50. زمین کی طبیعی تاریخ میں یہ نظر یہ بھی ھے کہ کرہ زمین کا محور تدریجی طور پر تغیر پیدا کرتا ھے یعنی قطب شمالی اور قطب جنوبی خطّ استوا میں تبدیل هوجاتے ھیں اور خط استوا قطب جنوبی کی جگہ لے لیتا ھے، واضح ھے کہ جب قطب شمالی وجنوبی میں موجود بہت زیادہ برف پگھل پڑے تو دریاؤں اور سمندروں کے پانی کی سطح اس قدر اوپر آجائے گی کہ بہت سی خشکیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور پانی زمین میں جھاں جھاں اسے گنجائش ملے گی ابلتے هوئے چشموںکی صورت میں نکلے گا، پانی کی یھی وسعت بادلوں کی تخلیق کا سبب بنتی ھے اور پھر زیادہ سے زیادہ بارشیں انھی بادلوں سے هوتی ھیں۔
یہ امر کہ حضرت نوح نے زمین کے جانوروں کے چند نمونے بھی اپنے ساتھ لئے تھے طوفان کے عالمگیر هونے کا موٴید ھے ۔
جیسا کہ بہت سی روایات سے معلوم هوتا ھے کہ حضرت نوح کوفہ میں رہتے تھے دوسری طرف بعض روایات کے مطابق طوفان مکہ اور خانہ کعبہ تک پھیلا هوا تھا تو یہ صورت بھی اس بات کی موٴید ھے کہ طوفان عالمگیر تھا ۔
لیکن ان تمام چیزوںکے باوجود اس امر کی بھی بالکل نفی نھیں کی جاسکتی کہ طوفان نوح ایک منطقہ کے ساتھ مخصوص تھا کیونکہ لفظ ”ارض“ (زمین ) کا اطلاق قرآن میں کئی مرتبہ زمین کے ایک وسیع قطعے پر بھی هوا ھے جیسا کہ بنی اسرائیل کی سرگزشت میں ھے: ”ھم نے زمین کے مشارق اور مغارب بنی اسرائیل کے مستضعفین کے قبضے میں دئیے ۔“ (سورہ اعراف آیت۱۳۷)
کشتی میں جانوروں کوشاید اس بناء پر رکھا گیا هو کہ زمین کے اس حصے میںجانوروں کی نسل منقطع نہ هو خصوصاً اس زمانے میں جانوروں کا دور دراز علاقوں سے منتقل هونا کوئی آسان کام نھیں تھا۔ اسی طرح دیگر مذکورہ قرائن اس بات پر منطبق هوسکتے ھیں کہ طوفان نوح ایک خاص علاقہ میں آیا تھا۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ھے کہ طوفان نوح تو اس سرکش قوم کی سزا اور عذاب کے طورپر تھا اورھمارے پاس کوئی ایسی دلیل نھیں ھے کہ جس کی بنا پر یہ کھا جاسکے کہ حضرت نوح کی دعوت تمام روئے زمین پر پہنچی تھی ۔
اصولی طور پر اس زمانے کے وسائل وذرائع کے ساتھ ایک پیغمبر کی دعوت کا (اس کے اپنے زمانے میں ) زمین کے تمام خطوں اور علاقوں تک پہنچنا بعید نظر آتا ھے ۔ بھرحال اس عبرت خیز واقعے کو بیان کرنے سے قرآ ن کا مقصد یہ ھے کہ اس میں چھپے اھم تربیتی نکات بیان کیے جائیں، اس سے کوئی فرق نھیں پڑنا چاھیے کہ یہ واقعہ عالمی هو یا کسی ایک علاقے سے تعلق رکھتا هو ۔
51. اس روئے زمین پرسبھی حضرت نوح کی اولاد سے ھیں ؟ رجوع کریں تفسیر نمونہ ج۱۰ ص۵۰۳ سورہ صافات آیت ۸۲ کی تفسیر میں۔
52. سورہٴ تحریم آیت ۱۰ ۔
53. سورہٴ تحریم آیت ۱۰ ۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
1+10 =