پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

مذھب شیعہ کی پیدائش، آغاز اور اس کی کیفیت (1)



تاریخی اعتبار سے مذھب شیعہ کے ماننے والے کو سب سے پھلے حضرت علی (ع) کا شیعہ یا پیرو کار کھا گیا ھے۔ مذھب شیعہ کی پیدائش یا آغاز کا زمانہ وہ زمانہ ھے جب پیغمبر اکرم (ص) اس دنیا میں موجود تھے ۔ پیغمبر اکرم کی ولادت سے لے کر ۲۳ سالہ زمانۂ بعثت تک اور تحریک اسلام کی ترقی کے دوران بھت سے ایسے اسباب و واقعات رونما ھوئے جن کے نتیجے میں خود رسول خدا (ص) کے اصحاب میں ایک ایسی جماعت کا پیدا ھونا ناگزیر اور لازمی ھوگیا تھا ۔مندرجہ ذیل امور اس امر کی توثیق کرتے ھیں 1
1) رسول خدا کو اپنی بعثت کے اوائل میں ھی قرآن مجید کی آیت کے مطابق حکم ملا کہ اپنے خویش و اقارب کو اپنے دین کی طرف بلائیں ۔ لھذا آپ نے واضح طور پر ان لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص تم میں سب سے پھلے میری دعوت کو قبول کرے گا وھی میرا وصی، وزیر او ر جانشین ھوگا ۔ حضرت علی (ع) نے سب سے پھلے اسلام قبول کیا اور پیغمبر اکرم (ص) نے بھی ان کے ایمان کو تسلیم کرلیا اور اپنے وعدہ کو پورا کیا ۔
فطری طورپریہ بات محال ھے کہ ایک تحریک کا قائداور رھبر اپنی تحریک کے آغاز میں اپنے قرابت داروں اور ۔ دوستوں میں سے ایک شخص کو اپنے وزیر، جانشین یا نائب کے طور پر دوسروںکے سامنے پیش کرے لیکن اپنے فداکاراور جاں نثار اصحاب اور دوستوں سے اس کا تعارف نہ کرائے یا اسکی صرف وزارت اورجانشینی کو خود بھی قبول کرے اوردوسروں سے بھی قبول کرائے لیکن اپنی دعوت اور تحریک کے پورے عرصے میں اس کو وزارت اور جانشینی کے فرائض سے معزول رکھے اور اسکی جانشینی کو نظر انداز کرتے ھوئے اس کے اور دوسروں کے درمیان کوئی فرق روانہ رکھے ۔
2) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کئی مستفیض اور متواتر روایات جو شیعہ اور سنی دونوں ذرائع سے ھم تک پھنچی ھیںکے ذریعے واضح طور پر فرمایا ھے کہ حضرت علی علیہ السلام اپنے قول و فعل میں خطا اور گناہ سے پاک ھیں، وہ جو کچھ بھی کھتے ھیں یا جوکام بھی انجام دیتے ھیں وہ دین اسلام کی دعوت و تبلیغ کے ساتھ مطابقت رکھتا ھے نیز وہ اسلامی معارف کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے ھیں ۔
3) حضرت علی علیہ السلام نے بھت گراں بھا خدمات انجام دیں اور بے اندازہ فداکاریاں کیں مثلاً ھجرت کی رات دشمنوںکے نرغے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بستر مبارک پر سوئے۔ بدر، احد، خندق اور خیبرکی جنگوں میںاسلام کوحاصل ھونے والی فتوحات آپ ھی کے ایثار کانتیجہ تھیں اگر ان میں سے ایک معرکے میں بھی علی علیہ السلام موجود نہ ھوتے تو دشمنان حق کے ھاتھوں اسلام اور اھل اسلام کی بیخ کنی ھوجاتی ۔ 2
4) غدیر خم کا واقعہ جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کواپنے جانشین کے طور پرمسلمانوں کے سامنے پیش کیا اور ان کو اپنا وصی بنایا ۔ 3
ظاھر ھے کہ ان خصوصی امتیازات اورفضائل 4 کے علاوہ جو سب افراد کے لئے قابل قبول تھے حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بے اندازہ محبت 5 نے فطری طور پر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک بڑی تعداد کوان کی فضیلت اور حقیقت کاشیفتہ بنادیا تھا ۔ یھی وجہ تھی کہ انھوں نے حضرت علی علیہ السلام کومنتخب کیا اور ان کے گرد جمع ھوگئے اوران کی پیروی اور اطاعت شروع کردی یھاں تک کہ بعض لوگوں نے اس پسندیدگی کی وجہ سے آپ سے حسدبھی کرنا شروع کردیا اورآپ کے دشمن ھو گئے ۔
ان سب کے علاوہ شیعۂ علی (ع) اور شیعۂ اھلبیت (ع) کالفظ پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث میں بھت زیادہ نظر آتا ھے ۔

شیعہ اقلیت کی سنی اکثریت سے جدائی کی وجہ اور اختلافا ت کا پیدا ھونا

رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، صحابۂ کرام اور تمام مسلمانوں کی نظر میں حضرت علی علیہ السلام کی قدرو منزلت کے باعث آپ کے پیروکاروں کو یقین تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد خلافت اور رھبری حضرت علی علیہ السلام کا مسلمہ حق ھے ۔ اس کے علاوہ تمام شواھد و حالات بھی اس عقیدے کی تصریح کرتے تھے، سوائے ان واقعات کے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری کے زمانے میں رونما ھوئے 6 لیکن ان لوگوں کی توقعات کے بالکل بر خلاف ٹھیک اس وقت جبکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رحلت فرمائی اور ابھی آپ کی تجھیز و تکفین بھی نھیں ھوئی تھی اور اھلبیت علیھم السلام اور بعض اصحاب کفن ودفن کے انتظامات کررھے تھے، خبر ملی کہ ایک جماعت نے جو بعد میں اکثریت کی حامل ھوئی، نھایت جلد بازی میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اھل و عیال، رشتہ داروں اور پیروکاروں سے مشورہ کئے بغیر حتی ان کو اطلاع دیئے بغیر، ظاھری خیر خواھی اور مسلمانوں کی بھبودی کی خاطر مسلمانوں کے لئے خلیفہ کا انتخاب کرلیاھے۔ اس کی خبر حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے پیرروکاروں کوخلیفہ کے انتخاب کے بعد دی گئی تھی۔ 7 حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کفن ودفن کے بعد جب حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے پیروکاروں عباس، زبیر، سلمان، ابوذر، مقداد اور عماروغیرہ کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو انھوں نے انتخابی خلافت اورخلیفہ کو انتخاب کرنے والوں پر سخت اعتراضات کئے اور اس ضمن میں احتجاجی جلسے بھی ھوئے مگر جواب دیا گیا کہ مسلمانوں کی اسی میں بھتری ھے ۔
یھی اعتراضات تھے جنھوں نے اقلیت کو اکثریت سے جدا کردیا تھا اورحضرت علی علیہ السلام کے پیروکاروں کو معاشرے میں ”شیعۂ علی (ع)“ کے نام سے پھچنوایا تھا البتہ حکومت اور خلافت کے مامورین بھی سیاسی لحاظ سے کڑی نظر رکھے ھوئے تھے کہ مذکورہ اقلیت اس نام سے مشھور نہ ھو اوراسلامی معاشرہ اکثریتی اور اقلیتی گروھوں میں تقسیم نہ ھونے پائے کیونکہ وہ خلافت کو اجماع امت جانتے تھے۔
البتہ شیعہ شروع سے ھی وقتی سیاست کے محکوم ھوگئے تھے لیکن صرف اعتراضات کے ذریعے کوئی کام انجام نھیں دے سکتے تھے ۔ادھر حضرت علی علیہ السلام بھی مسلمانوں اور اسلام کی خاطر اور کافی طاقت و قوت نہ رکھنے کی وجہ سے ایک خونی انقلاب برپا نہ کرسکے لیکن یہ اعتراض کرنے والے اپنے عقیدے اورنظریے کے لحاظ سے اکثریت کے تابع نہ ھوئے اور پیغمبر اکرم کی جانشینی اورعلمی رھبری کو حضرت علی (ع) کاحق سمجھتے نیز علمی ومعنوی مرکز صرف حضرت علی (ع) کوھی مانتے رھے اورساتھ ھی دوسروں کو بھی حضرت علی (ع) کی طرف دعوت دیتے رھے ۔

جانشینی اور علمی رھبری کے دومسائل

اسلامی تعلیمات کے مطابق شیعوں نے جو کچھ سیکھا تھا اس پرمعتقد تھے ۔ جو چیز معاشرے کے لئے سب سے زیادہ اھمی� خود غرض دانشوریاعام افراد ان میں اپنی مرضی سے کمی بیشی کردیں۔لھذاایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جس کی تصدیق پیغمبر اکرم نے کی ھو او ر وہ شخص اپنے قول و فعل میں پاک اور پختہ ھو، اس کے طور طریقے کتاب خدا اورسنت رسول کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتے ھوں۔ ایسے شخص صرف حضرت علی (ع) تھے ۔ 8
اگر چہ اکثر لوگ کھتے ھیں کہ اگر قریش حضرت علی (ع) کی خلافت حقہ کے مخالف تھے تو اس صورت میں ضروری تھا کہ مخالفوں کو حق کی اطاعت پر مجبور کیاجاتا اور سرکش لوگوں کو سر اٹھانے کی اجازت نہ دی جاتی نہ کہ قریش کی مخالفت کے ڈر سے حق کو پامال کیاجاتا، جیسا کہ خلیفۂ اول نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تھی جنھوں نے زکوٰة دینا بند کردی تھی لیکن زکوٰة لینے سے چشم پوشی نھیں کی تھی ۔
حقیقت یہ ھے کہ جس چیز نے شیعوں کو انتخابی خلافت کے قبول اور تسلیم نہ کرنے پرابھارا وہ یہ تھی کہ ان کو بعد میں رونما ھونے والے ناگوار اتفاقات و حوادث کاخوف تھا یعنی اسلامی حکومت کے نظام اور طریقوں میں بدعنوانی اور فساد کے نتیجے میں دین مبین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں خرابی لازمی نظر آتی تھی ۔ اتفاق سے بعد میں رونما ھونے والے حوادث بھی اس عقیدے یا پیشینگوئی کو تقویت دے رھے تھے۔ جس کے نتیجے میں شیعہ جماعت اپنے عقیدے پر زیادہ سے زیادہ مضبوط ھوتی جارھی تھی یا یوں کھاجائے کہ ظاھری طور پر ایک چھوٹی سی جماعت ایک بڑی اکثریت کو اپنے اندر ضم کرنے چلی تھی لیکن باطنی طور پر اھلبیت (ع) سے اسلامی تعلیمات کے حصول اور اپنے طریقے کی طرف لوگوں کو دعوت دے رھی تھی اور اپنے عقائد پرمصر تھی مگر اس کے ساتھ ھی اسلامی طاقت کی ترقی اور حفاظت کے پیش نظر حکومت کے ساتھ اعلانیہ مخالفت بھی نھیں کرتی تھی حتی کہ شیعہ، اکثریت کے دوش بدوش جھاد پر جاتے اوررفاہ عامہ کے کاموں میں حصہ لیتے تھے اور خود حضرت علی (ع) اسلام کے مفادات کی خاطر لوگوں کی رھنمائی کیا کرتے تھے 9

انتخابی خلافت کا سیاسی طریقہ اور اسکا شیعی عقیدے کے ساتھ اختلاف

شیعہ جماعت کا عقیدہ تھاکہ اسلام کی آسمانی اور خدائی شریعت جسکا سارا مواد خدا کی کتاب اور پیغمبر اکرم (ص) کی سنت میں واضح کیا جاچکا ھے، قیامت تک اپنی جگہ پر قائم ودائم ھے اور ھرگز قابل تغییر نھیں ھے ۔ لھذا اسلامی حکومت کے پاس اس قانون شریعت کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لئے کوئی عذر یابھانہ نھیں ھے کہ اس شریعت کی خلاف ورزی کرے ۔اسلامی حکومت کا اولین فرض یہ ھے کہ شریعت اسلامی کی حدود میں مشورے اورمصلحت وقت کے پیش نظر فیصلے کرے اور قدم اٹھائے لیکن شیعوں کی سیاسی و مصلحتی بیعت اور اسی طرح کاغذ، قلم اور دوات کا واقعہ جو پیغمبر اکرم (ص) کی زندگی کے آخری ایام میں پیش آیا تھا، سے ظاھر تھاکہ انتخابی خلافت کے طرفداروں اور اس کے چلانے والوں کا اعتقاد تھا کہ خدا کی کتاب (قرآن مجید) بنیادی قانون کی طرح محفوظ رھے لیکن پیغمبراکرم (ص) کی احادیث اور سنت اپنی جگہ پر ثابت نھیں سمجھتے ان کا عقیدہ تھا کہ اسلامی حکومت، زمانے کی ضروریات او ر مصلحت وقت کے سبب اسلامی احکام کے نفاذ کو نظر انداز کرسکتی ھے اور یہ عقیدہ ان بھت سی احادیث وروایات کے ذریعے جو بعد میں نقل ھوئیں، صحابہ کے حق میں ثابت ھوگیاتھا کہ وہ مجتھد ھیں اور اگر اجتھاد یا مصلحت اندیشی میں اختلاف کریں تومجبورھیں اور خطاکریں تو معذور ۔ اس کا اھم ترین نمونہ وہ ھے جبکہ خلیفہ کا گورنر خالد بن ولید رات کے وقت ایک مشھور مسلمان (مالک بن نویرہ) کے گھر مھمان ھوا اور پھر موقع پاکر اس کو قتل کردیا ۔ اس کا سرکاٹ کر بھٹی میں جلادیا اور پھر اسی رات مالک بن نویرہ کی بیوی کے ساتھ اس نے زنا کیا ۔ اس شرمناک واقعے کے بعد چونکہ خلیفۂ وقت کوایسے گورنرکی ضرورت تھی لھذا شریعت کی حد کو خالد بن ولید کے حق میں جاری نہ کیا گیا ۔10 اسی طرح اھلبیت (ع) کو خمس کا حصہ نہ دیا گیا، پیغمبر اکرم کی احادیث کا لکھنا بالکل ممنوع کردیا گیا، اگر کوئی حدیث کسی جگہ لکھی ھوئی نظر آتی یا کسی سے ملتی تواس کو فوراً ضبط کرکے جلا دیاجاتا 11 ۔ یہ ممنوعیت تمام خلفا ئے راشدین کے زمانے سے لیکر عمربن عبد العزیز اموی خلیفہ (۹۹تا ۱۰۲ھجری) کے عھد تک جاری رھی 12۔ خلیفہ دوم کے زمانے میں یہ سیاست بالکل واضح ھوگئی تھی ۔ خلیفۂ وقت نے بعض شرعی احکام مثلاً حج تمتع، نکاح متعہ اور اذان میں” حی علی خیر العمل“ کھنا ممنوع قرار دیدیاتھا۔ تین طلاق دینے کی رسم نافذ کی گئی اور ایسے ھی کئی دوسرے احکام۔ 13 ان کی خلافت کے دوران بیت المال کا حصہ عوا م کے درمیان فرق اور اختلاف سے تقسیم ھوا 14جس کے نتیجے میں عجیب طبقاتی اختلاف اور خطرناک خونی مناظر سامنے آئے ۔ ان کے زمانے میں معاویہ، شام میں قیصروکسریٰ جیسے شاھانہ ٹھاٹ باٹ اور رسم و رواج کے ساتھ حکومت کرتا تھا ۔یھاں تک کہ خلیفہ ٴوقت بھی اسے کسریٰ عرب (عرب کا بادشاہ) کھہ کر خطاب کیاکرتا اور کبھی اس کے اس حال پر اعتراض نہ کرتاتھا ۔
خلیفہٴ دوم ۲۳ ھ میں ایک ایرانی غلام کے ھاتھوں قتل ھوئے اورچھ رکنی کمیٹی کی اکثریت رائے سے جو خلیفہ دوم کے حکم سے تشکیل پائی تھی، خلیفۂ سوم نے زمام امور سنبھالی ۔انھوںنے اپنے عھد خلافت میں اپنے اموی خویش واقارب کو لوگوں پر مسلط کردیا تھا اور اس طرح حجاز، عراق، مصر اورتمام اسلامی ممالک میں عنان حکومت ان کے ھاتہ میں سونپ دی تھی 15 ۔ انھوں نے لاقانونیت کی بنیادرکھی اور آشکار ا طور پر ظلم وستم اور فسق وفجور اور اسلام کی خلاف ورزی اسلامی حکومت میں شروع کردی تھی۔ دارالخلافہ میں ھر طرف سے شکایتوں کے طومار آنے لگے لیکن خلیفہ اپنی اموی کنیزوں، لونڈیوں اور خاص کر مروان بن الحکم 16 کے زیر اثر ان شکووں اور شکایتوں پرتوجہ ھی نہ کرتے تھے اور اس طرح ظلم وستم کا انسداد کرنے کی نوبت ھی نہ آتی تھی بلکہ کبھی کبھی حکم دیتے کہ شکایت کرنے والوں پر مقدمہ چلایاجائے اورآخر کار ۳۵ھ میں لوگوں نے ان کے خلاف مظاھرے کئے اور چند روز تک ان کے مکان کو گھیرے رکھا اور پھر ماردھاڑ کے بعد ان کو قتل کردیاگیا ۔ خلیفہ ٴسوم نے اپنے دور ان خلافت میں شام کی حکومت معاویہ کو دے رکھی تھی جو ان کے اموی خویش واقارب میں بھت ھی اھم شخص تھا ۔ وہ معاویہ کو زیادہ سے زیادہ مدد دیتے اوراس کو مضبوط کیا کرتے تھے ۔ در اصل شام خلافت کا اصلی مرکز بن چکا تھا اور مدینہ میں صرف نا م کی حکومت باقی رہ گئی تھی ۔ 17 خلیفہ ٴاول کی خلافت اکثریت صحابہ کی رائے اور انتخاب سے معین ھوئی تھی اور خلیفہ دوم، اول کی وصیت سے منتخب ھوئے اور خلیفہ سوم چھ رکنی مشاورتی کمیٹی کی رائے کے ساتھ انتخاب کئے گئے تھے اس کمیٹی کا دستور العمل اورمنشو ربھی خود خلیفۂ دوم نے ترتیب دیا تھا ۔مجموعی طور پر تین خلفاء کا انتظام حکومت داری، جنھوں نے ۲۵ سال تک حکومت کی تھی، یوں تھا کہ اسلامی قوانین، اجتھاد اور مصلحت وقت کے مطابق معاشرے میں نافذ کئے جائیں اور اس مصلحت بینی کو خود خلیفۂ وقت تشخیص دے ۔
اس زمانے میں اسلامی علوم ومعارف کاطریقہ یہ تھا کہ صرف قرآن کو وہ بھی کسی تفسیر اور غور و خوض اور معانی کو سمجھے بغیر پڑھا اور پیغمبر اکرم کی احادیث کو لکھے بغیر ھی بیان کیاجائے یعنی سننے یابتانے سے تجاوز نہ کیا جائے ۔ قرآن کریم کی کتابت پربھی اجارہ داری تھی ۔ حدیث کی کتابت تو ممنوع ھی تھی ۔ 18 جنگ یمامہ جو ۱۲ ھ میں ختم ھوئی تھی اور اس جنگ میں صحابہ اور قرآن کے قاریوں کی ایک بھت بڑی تعداد شھید ھوگئی تھی، کے بعد عمر بن الخطاب نے خلیفہ ٴاول کو تجویز پیش کی کہ قرآنی آیات کو ایک مصحف (جلد) میں جمع کردیاجائے کیونکہ خدانخوستہ اگر ایسی ھی ایک اورجنگ رونما ھوگئی اورباقیماندہ قاری بھی شھید ھوگئے تو قرآن مجید ھمارے ھاتھوں سے نکل جائے گا۔لھذا ضروری ھے کہ قرآنی آیات کو ایک مصحف (جلد) میں جمع کردیاجائے ۔ 19
قرآن مجید کے بارے میں تویہ فیصلہ کردیاگیا مگر احادیث رسول اکرم (ص) جوقرآن مجید کے بعد دوسرے درجے پرآتی ھیں، کے بارے میں کوئی اقدام نھیں کیاگیاجبکہ احادیث کو بھی وھی خطرہ در پیش تھایعنی معانی اورکتابت میں کمی بیشی، جعل، فراموشی اور دست بردسے محفوظ نھیں تھیں لیکن احادیث شریف کی حفاظت کے لئے کوئی کوشش نہ کی گئی بلکہ احادیث کی کتابت تک کو ممنوع قراردے دیاگیا۔جب بھی کوئی لکھی ھوئی حدیث ھاتہ لگتی تواس کو جلا دیا جاتا تھا، یھاں تک کہ اسلامی احکام و ضروریات مثلا ً نماز کے بارے میں بھی متضاد اور متعدد احادیث وروایات پیدا ھوگئیں تھیں اسی طرح دوسرے تمام علمی موضوعات کے متعلق بھی کوئی خاطرخواہ اقدام نہ کیاگیا ۔ قرآن مجید او ر احادیث نبوی میں اجتھاد و تفقہ کرنے کے بارے میں جو احترام اور تاکید موجود ھے اور علوم کو وسعت وترقی دینے پر جس قدر زور دیا گیا ھے وہ سب کے سب بے اثر ھوکر رہ گیا ۔ اکثر لوگ اسلامی فوجوں کی پے درپے فتوحات میں سرگرم اور بے اندازہ مال غنیمت سے راضی اورخوش تھے جو ھر طرف سے جزیرة العرب میں آرھاتھا، لھذا اب خاندان رسالت مآب کے علوم کی طرف کوئی توجہ نہ تھی جس کے بانی حضرت علی (ع) تھے۔ 20
پیغمبر اکرم نے ان کو سب سے زیادہ عالم اور قرآن و اسلام کا شناسا کھہ کر لوگوں سے متعارف کرایا تھا ۔ حتیٰ کہ قرآن شریف کو جمع کرنے کے واقعے میں (باوجودیہ کہ سب جانتے تھے کہ آپ نے رسول اکرم کی رحلت کے بعد ایک مدت تک گوشۂ عزلت میں بیٹھ کر قرآن مجید کو ایک مصحف میں جمع کردیا تھا) بھی آپ کوشامل نہ کیا گیا، 21 حتیٰ کہ آپ کا نام تک نہ لیا گیا۔ یہ اور ایسے ھی دوسرے امور تھے جو حضرت علی (ع) کے پیروکاروں کواپنے عقیدے میں زیادہ سے زیادہ راسخ اور مضبوط کررھے تھے اور ان کو واقعات سے متعلق زیادہ ھوشیا ر بنا رھے تھے ۔ اس طرح روز بروز یہ لوگ اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کررھے تھے۔ حضرت علی علیہ السلام بھی جو تمام لوگوں کی تربیت کرنے سے قاصر تھے صرف اپنے خاص لوگوں کی تربیت پر توجہ دے رھے تھے ۔
ان پچیس بر سوں میں حضرت علی (ع) کے چار خاص اصحاب اور دوستوں میں سے تین وفات پاگئے تھے جوھر حال میں آپ کی پیروی میں ثابت قدم رھے تھے یعنی سلمان فارسی، ابوذر غفاری اور مقداد لیکن اس مدت میں اصحاب اور تابعین کی ایک خاصی بڑی جماعت حجاز، یمن، عراق اور دوسرے ممالک میں حضرت علی (ع) کے پیروکاروں میں شامل ھوگئی تھی اورآخر کار خلیفہ ٴسوم کے قتل کے بعد ھرطرف سے عوام نے آپ کی طرف رجوع کرنا شروع کردیا تھا یھاں تک کہ آپ کے ھاتہ پر بیعت کرکے آپ کو خلافت کے لئے انتخاب کرلیا ۔

حضر ت علی (ع) کی خلافت اور آپ کا طریقہٴ کار

حضرت علی (ع) کی خلافت ۳۵ ھ کے آخر میں شروع ھوئی اور تقریباً چار سال نو مھینے جاری رھی ۔ حضرت علی (ع) نے اپنی خلافت کے دوران پیغمبر اکرم (ص) کی سنت کو رائج کیا اور خود بھی اسی طریقہ پر کار بندرھے 21 ۔ اسلام میں ان اکثر تبدیلیوں کو جو پھلے خلفائے راشدین کے زمانہ میں پیدا ھوگئی تھیں، اپنی اصلی حالت میں واپس لائے اور اس کے ساتھ ھی ظالم اور نالائق حاکموں کو جو ایک مدت سے عنان حکومت اپنے ھاتھوں میں لئے ھوئے تھے معزول کردیا 22 یعنی حقیقت میں آپ کی حکومت ایک انقلابی تحریک تھی مگر آپ کے سامنے مشکلات ومسائل کا ایک ڈھیر موجود تھا ۔
حضرت علی (ع) نے اپنی خلافت کے پھلے ھی دن تقریر کرتے ھوئے یوں خطاب فرمایا تھا :
”خبر دار !تم لوگ جن مشکلات و مصائب میں پیغمبر اکرم کی بعثت کے موقع پر گرفتار تھے آج دوبارہ وھی مشکلات تمھیں در پیش ھیں اور انھی مشکلات نے پھر تمھیںگھیرلیا ھے ۔تمھیں چاھئے کہ اپنے آپ کو ٹھیک کرلو صاحبان علم و فضیلت کو سامنے آنا چاھئے جو پیچھے ڈھکیل دئیے گئے ھیں اور وہ لوگ جو ناجائز اور بےجا طور پر سامنے آگئے ھیں ان کو پیچھے ھٹا دینا چاھئے آج حق وباطل کا مقابلہ ھے، جو شخص اھلیت و صلاحیت رکھتاھے اسے حق کی پیروی کرنی چاھئے اگر آج ھر جگہ باطل کا زور ھے تو یہ کوئی نئی چیز نھیں ھے اور اگر حق کم ھوچکا ھے تو کبھی کبھی ھوتا ھے کہ جو چیز ایک دفعہ ھاتہ سے نکل جائے وہ پھر دوبارہ واپس آجائے ۔،، (نھج البلاغہ خطبہ ۱۵)
حضرت علی (ع) نے اپنی انقلابی حکومت جاری رکھی او رجیسا کہ ھر انقلابی تحریک کا خاصہ ھے کہ مخالف عناصر جن کے مفادات خطرے میں پڑ جاتے ھیں، ھر طرف سے اس تحریک کے خلاف اٹھ کھڑے ھوتے ھیں، بالکل ایسے ھی مخالفین نے خلیفہ ٴسوم کے قصاص کے نام پر داخلی انتشار اور خونی جنگوں کا ایک طویل سلسلہ شروع کردیا اور حضرت علی (ع) کے تقریبا ً تمام عھد خلافت کے دوران یہ سلسلہ جار ی رھا۔ شیعوں کے مطابق ان جنگوں کے شروع کرنے والوں کے سامنے ذاتی فوائد اور مفادات کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا اورخلیفہٴسوم کا قصاص صرف ایک عوام فریب حربہ تھا اور اس میں حتی کہ کسی قسم کی غلط فہمی بھی موجود نہ تھی ۔
پھلی جنگ کی وجہ جو جنگ جمل کے نام سے یاد کی جاتی ھے، طبقاتی امتیازات کے بارے میں مظاھرے تھے جو خلیفہ ٴاول کے زمانے میں بیت المال کی تقسیم میں اختلاف اور فرق کی وجہ سے پیداھوئے تھے ۔ حضرت علی (ع) نے خلیفہ بننے کے بعد بیت المال کو برابر اور مساوی طور پر لوگوں میں تقسیم کیا 23 جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت اور روش بھی یھی تھی ۔اس طریقے سے زبیر اور طلحہ بھت برھم ھوئے اور نافرمانی کی بنیاد ڈالی اور خانۂ کعبہ کی زیارت کے بھانے مدینہ سے مکے چلے گئے ۔ انھوں نے حضر ت عائشہ کو جواس وقت مکہ میں تھیں اور حضرت علی (ع) کے ساتھ ان کے اختلافات موجود تھے، اپنے ساتھ ملا لیا اوراس طرح خلیفہ سوم کے قصاص کے نام پر خونی تحریک اورجنگ کا آغاز کیا جو جنگ جمل کے نام سے مشھور ھے ۔ 24
حالانکہ یھی طلحہ اور زبیر خلیفہ ٴسوم کے مکان کے محاصرے اور قتل کے وقت مدینہ میں موجود تھے ۔ اس وقت انھوں نے خلیفہ کا ھرگز دفاع نھیں کیا تھا ۔ 25 خلیفہ ٴسوم کے قتل کے فوراً بعد یھی لوگ تھے جنھوں نے سب سے پھلے اپنی اور مھاجرین کی طرف سے حضرت علی (ع) کی بیعت کی تھی 26 اسی طرح عائشہ بھی خود ان لوگوں میں سے تھیں جنھوں نے خلیفۂ سوم کے قتل پرلوگوں کو ابھارا تھا 27 اورجونھی انھوں نے خلیفۂ سوم کے قتل کی خبر سنی تو ان کو گالیاں دی تھیں او ر خوشی کا اظھار کیا تھا ۔ بنیادی طور پر خلیفہٴ سوم کے قتل کا اصلی سبب وہ صحابہ تھے جنھوں نے مدینہ سے دوسرے شھروں میں خطوط لکھ کر لوگوں کو خلیفہ کے خلاف ابھارا تھا ۔
دوسری جنگ کی وجہ جس کا نام جنگ صفین تھا او رتقریبا ًڈیڑھ سال تک جاری رھی، وہ خواھش اور آرزو تھی جو معاویہ اپنی خلافت کے لئے رکھتا تھا ۔ خلیفۂ سوم کے قصاص کے عنوان سے اس نے اس جنگ کو شروع کیا تھا۔ اس جنگ میں ایک لاکہ سے زیادہ افراد ناحق ھلاک ھوگئے تھے۔ البتہ اس جنگ میں معاویہ نے حملہ کیاتھا نہ کہ دفاع کیونکہ قصاص ھرگز دفاع کی صورت میں نھیں ھوسکتا ۔
اس جنگ کا عنوان اور سبب خلیفۂ سوم کا قصاص تھا ۔ حالانکہ خود خلیفۂ سوم نے اپنی زندگی کے آخری ایام اور شورش و بغاوت کے زمانے میں معاویہ سے مدد کی درخواست کی تھی اور اس نے بھی ایک جرار لشکر کے ساتھ مدینہ کی طرف حرکت کی تھی لیکن راستے میں جان بوجہ کر اس قدر دیر کی کہ ادھر خلیفہ کو قتل کردیا گیا ۔ پھر اس واقعہ کے بعد وہ راستے سے ھی شام کی طرف لوٹ گیا اوروھاں جاکر خلیفہ کے قصاص کا دعوی شروع کردیا 28
افسوس تویہ ھے کہ جب حضرت علی (ع) شھید ھوگئے اورمعاویہ نے خلافت پرقبضہ کرلیا تو اس وقت اس نے خلیفہ کے قصاص کو فراموش کردیا تھا اور خلیفہ کے قاتلوں کو سزا نھیں دی تھی اور نہ ھی ان پر مقدمہ چلایا تھا ۔
جنگ صفین کے بعدجنگ نھروان شروع ھوگئی۔اس جنگ میںلوگوں کی ایک بھت بڑی تعداد جن میں بعض اصحاب رسول بھی تھے، معاویہ کی تحریص وترغیب کی وجہ سے حضرت علی (ع) کے خلاف اٹھ کھڑے ھوئے تھے ۔ انھوں نے اسلامی ممالک میں ھنگامے اور آشوب برپا کردیئے تھے لھذا جھاں کھیں حضرت علی (ع) کے پیروکاروں یا جانبداروں کو دیکھتے فورا ً ان کو قتل کردیتے تھے حتیٰ کہ حاملہ عورتوں کے پیٹ پھاڑ کر بچوں کونکال کران کا سر قلم کردیتے تھے ۔ حضرت علی (ع) نے اس آشوب کا بھی خاتمہ کردیا تھا لیکن تھوڑے ھی عرصے کے بعد کوفہ کی مسجد میں نماز پڑھتے ھوئے ایک خارجی کے ھاتھوں شھید ھوگئے ۔



1. تاریخ طبری ج۲ ص ۶۳، تاریخ ابو الفداء ج ۱ ص ۱۱۶، البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۳۹، غایة المرام ص ۳۲۰
2. مختلف تواریخ اور جامع کتب احادیث
3. حدیث غدیر خم شیعہ اور اہلسنت کے درمیان مسلمہ احادیث میں سے ہے اور ایک سو سے زیادہ اصحاب نے اسنا د اور مختلف عبارات کے ساتھ اس کو نقل کیا ہے اور عام و خاص کتابوں میں لکھی ہوئی ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب غایة المرام ص ۷۹، اور طبقات جلد غدیر اور کتاب الغدیر
4. تاریخ یعقوبی طبع نجف ج ۲ ص ۱۳۷ ۔۱۴۰، تاریخ ابو الفداء ج ۱ ص ۱۵۶، صحیح بخاری ج ۴ ص ۱۰۷، مروج الذہب ج ۲ ص ۴۳۷، تاریخ ابی الحدید ج ۱ ص ۱۲۷ ۔۱۶۱
5. صحیح مسلم ج ۱۵ ص ۱۷۶، صحیح بخاری ج ۴ ص ۲۰۷، مروج الذہب ج ۲ ص ۲۳ ۔۴۳۷، تاریخ ابو الفداء ج ۱ ص ۱۲۷ ۔۱۸۱
6. آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مرض الموت کی حالت میں اسامہ بن زید کی سر کردگی میں ایک لشکر تیار کیا اور تاکید کی کہ سب لوگ اس جنگ میں شرکت کریں اور مدینے سے باہر نکل جائیں ۔ ایک جماعت نے آپ کے حکم کی خلاف ورزی کی اس میں ابو بکر اور عمر بھی تھے ۔ اس واقعہ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت زیادہ صدمہ پہنچایا ۔ (شرح ابن ابی الحدید طبع مصر ج ۱ ص ۵۳)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رحلت کے وقت فرمایا کہ قلم اور دوات لاؤ تاکہ میں تمہارے لئے ایک چٹھی لکھوں کہ تمہاری ہدایت اور راہنمائی کا باعث بنے اور تم گمراہ ہونے سے بچ جاؤ ۔ حضرت عمر نے اس کام سے منع کر دیا اور کہا کہ آپ کا مرض بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور شدید بخار کی حالت میں آپ کو ہذیان ہے ۔ ( تاریخ طبری ج ۲ ص ۴۳۶، صحیح بخاری ج ۳، صحیح مسلم ج ۵، البدایہ و النہایہ ج ۵ ص ۲۲۷، تاریخ ابن ابی الحدید ج ۱ ص ۱۳۳)
7. شرح ابن ابی الحدید ج ۱ ص ۵۸ ۔۱۲۳ تا ۱۳۵، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۰۲، تاریخ طبری ج ۲ ص ۴۴۵ تا ۴۶۰
8. البدایہ و النہایہ ج ۷ ص ۳۶۰
9. تاریخ یعقوبی ص ۱۱۱ ۔ ۱۲۶ ۔ ۱۲۹
10. تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۱۰، تاریخ ابی الفداء ج ۱ ص ۱۵۸
11. کنز العمال ج ۵ ص ۲۳۷، طبقات ابن سعد ج ۵ ص ۱۴۰
12. تاریخ ابی الفداء ج ۱ ص ۱۵۱
13. تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۳۱، تاریخ ابی الفداء ج ۱ ص ۱۶۰
14. اسد الغابہ ج ۴ ص ۳۸۶، الاصابہ ج ۳
15. تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۵۰، تاریخ ابی الفداء ج ۱ ص ۱۶۸، تاریخ طبری ج ۳ ص ۳۷۷
16. تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۵۰، تاریخ طبری ج ۳ ص ۳۹۷
17. تاریخ طبری ج ۳ ص ۳۷۷
18. صحیح بخاری ج ۶ ص ۹۸، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۱۳
19. تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۱۱، تاریخ طبری ج ۳ ص ۱۲۹ ۔۱۳۲
20. تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۳، تاریخ ابن ابی الحدید ج ۱ ص ۹
21. تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۵۴
22. تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۵۵، مروج الذہب ج ۲ ص ۳۶
23. نہج البلاغہ خطبہ ۱۵
24. مروج الذہب ج ۲ ص ۳۹۲، نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۲، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۶۰، تاریخ ابن ابی الحدید ج ۱ ص ۱۸۰
25. تاریخ یعقوبی ج ۲، تاریخ ابی الفداء ج ۱ ص ۱۷۲، مروج الذہب ج ۲ ص ۳۶۶
26. تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۵۲
27. تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۵۲، تاریخ ابی الفداء ج ۱ ص ۱۷۱، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۵۲
28. تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۱۵۲، مروج الذہب ج ۳ ص ۲۵، تاریخ طبری ص ۴۰۲، مروج الذہب ج ۲ ص ۴۱۵



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
1+7 =