پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

وھابیوں کے عقائد (1)


علی اصغر فقیهی

اقبال حیدر حیدری

یھاں پر ھمارا مقصد وھابیوں کے تمام عقائد کو بیان کرنا نھیں ھے بلکہ ھم صرف ان عقائدوں کو بیان کریں گے جن کی وجہ سے یہ لوگ مشهور هوئے اور جن کی بناپر دوسروں سے جدا هوئے ھیں اور جن کی وجہ سے دوسرے فرقوں کے علماء نے ان کے جوابات لکھنے شروع کئے ھیں۔

۱۔ توحید کے معنی اور کلمہٴ ”لا الہ الا اللّٰہ“ کا مفهوم

شیخ محمد بن عبد الوھاب اور اس کے پیرو کاروں نے توحید اور کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ “ کے معنی اس طرح بیان کئے ھیں جن کی روشنی میں کوئی دوسرا شخص موحّد (خدا کو ایک ماننے والا) موجود ھی نھیں ھے، چنانچہ محمد بن عبد الوھاب اس طرح کھتا ھے:
”لا الہ الا اللّٰہ “ میں ایک نفی ھے اور ایک اثبات، اس کا پھلا حصہ (لا الہ) تمام معبود کی نفی کرتا ھے 1 اور اس کا دوسرا حصہ (الا اللہ) خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کو ثابت کرتا ھے۔ 2
اسی طرح محمد بن عبد الوھاب کا کہنا ھے کہ توحید وہ مسئلہ ھے جس پر خداوند عالم نے بھت زیادہ تاکید کی ھے،اور اس کا مقصد، عبادت کو صرف خداوندکریم سے مخصوص کرنا ھے۔ سب سے بڑی چیز جس سے خداوندعالم نے نھی کی ھے وہ شرک ھے جس کا مقصد غیر خدا کو خدا کا شریک قرار دینا ھے۔ 3
اسی طرح وہ خداوندعالم کے صفات کی شرح کرتے هوئے کھتا ھے کہ خداوندعالم کسی بھی ایسے شخص کا محتاج نھیں ھے جو بندوں کی حاجتوں کو اس سے بتائے یا اس کی مدد کرے یا بندوں کی نسبت خدا کے لطف و مھربانی کو تحریک کرے۔ 4
اس بناپر وھابیوں نے قبور کی زیارتوں اور غیر خداکو پکارنے کو ممنوع قرار دیا مثلاً کوئی کھے ”یا محمد“ 5 اسی طرح غیر خدا کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دینا یا قبور کے پاس نمازیں پڑھنایا اس طرح کی دوسری چیزیں جن کو ھم بعد میں بیان کریں گے، ان سب کو شرک قرار دیدیاھے، اس سلسلہ میں وہ سنی اور شیعہ کے درمیان کسی فرق کے قائل نھیں ھیں۔
محمد بن عبد الوھاب کا نظریہ یہ تھا کہ جو لوگ عبد القادر،عروف کَرخی، زید بن الخطاب اور زُبیر کی قبروں سے متوسل هوتے ھیں وہ مشرک ھیں 6 اسی طرح جواھل سنت شیخ عبد القادر کو شفیع قرار دیتے ھیں ان پر بھی بھت سے اعتراضات کئے ھیں۔ 7
آلوسی کاکہنا ھے کہ جوشخص حضرات علی، حسین، موسیٰ کاظم، اور محمد جواد(علیهم السلام)کے روضوں پر اور اھل سنت عبدالقادر ،حسنِ بصری اور زبیر وغیرہ کی قبروں پر زیارت کرتے هوئے اور قبور کے نزدیک نماز پڑھتے هوئے اور ان سے حاجت طلب کرتے هوئے دیکھے تو اس کو یہ بات معلوم هوجائے گی کہ یہ لوگ سب سے زیادہ گمراہ ھیں اور کفر وشرک کے سب سے بلند درجے پر ھیں۔ 8
اس بات کا مطلب یہ ھے کہ چونکہ شیعہ اور سنی قبروں کی زیارت کے لئے جاتے ھیں اور وھاں پر نمازیں پڑھتے ھیں اور صاحب قبر کو وسیلہ قرار دیتے ھیں لہٰذا کافر ھیں، اسی عقیدہ کے تحت دوسرے وھابی تمام ممالک کو دار الکفر (کافر کے ممالک)کھتے ھیں اور اس ملک کے رہنے والوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتے تھے۔
۱۲۱۸ھ میں سعود بن عبد العزیز امیر نجد اھل مکہ کے لئے ایک امان نامہ لکھتا ھے جس کے آخر میں لوگوں کے خطاب کرتے هوئے اس آیت کو لکھتا ھے:
<قُلْ یَا اَہْلَ الْکِتَابِ، تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَةٍ سَوَاء بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلاّٰ نَعْبُدَ اِلاّٰ اللّٰہ وَلاٰ نُشْرِکَ بِہِ شَیْئاً وَلاٰ یَتَّخِذ بَعْضُنَا بَعْضاً اَرْبَاباً مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْااشْہِدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۔ > 9
”اے پیغمبرآپ کہہ دیں کہ اے اھل کتاب آوٴ اور ایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کرلیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں، کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں، آپس میں ایک دوسرے کو خدا کا درجہ نہ دیں، او راگر اس کے بعد بھی یہ لوگ منھ موڑیں تو کہہ دیجئے کہ تم لوگ بھی گواہ رہنا کہ ھم لوگ حقیقی مسلمان اور اطاعت گذار ھیں“
اسی طرح وھابی علماء میں سے شیخ حَمَد بن عتیق نے اھل مکہ کے کافر هونے یا نہ هونہ کے بارے میں ایک رسالہ لکھا جس میں بعض استدلال کے بناپر ان کو کافر شمار کیا، 10 البتہ یہ اس زمانہ کی بات ھے جب وھابیوں نے مکہ شھر کو فتح نھیں کیا تھا۔
جن شھروں یاعلاقوں کے لوگوں میں جو نجدی حاکموں کے سامنے تسلیم هوجاتے تھے ،ان سے ”قبول توحید “ کے عنوان سے بیعت لی جاتی تھی۔ 11
کلّی طور پر وھابیوں نے اکثر مسلمانوں کے عقائد اور ان کے درمیان رائج معاملات کو دین اسلام کے مطابق نھیں جانتے تھے۔ گویا اسی طرح کے امور باعث بنے کہ بعض مستشرقین منجملہ ”نیبھر اھل ڈانمارک“نے گمان کیا کہ شیخ محمد بن عبد الوھاب پیغمبر تھا۔ 12
توحید سے متعلق وھابیوں کے نظریات کے بارے میں شیخ عبد الرحمن آل شیخ کی گفتگو کو بیان کرنامناسب ھے، موصوف کھتے ھیں کہ ”لا الہ الا اللّٰہ“ کے معنی خدا کی یگانیت کے ھیں یعنی انسان کو چاہئے کہ فقط اور فقط خدا کی عبادت کرے اور عبادت کو خدا کے لئے منحصر مانے اور غیر خدا سے بیزاری اختیار کرے۔ 13
اس سلسلہ میں حافظ وھبہ بھی کھتے ھیں کہ ”لا الہ الا اللّٰہ“کے معنی : خدا کے علاوہ تمام معبودوں کو ترک کرنا ھے، لہٰذا انسان کی توجہ صرف خدا پر هونا چاہئے اور اگر کسی غیر خدا کی عبادت کی جائے تو گویا اس نے غیر خدا کو خدا کے ساتھ شریک قرار دیا،چاھے اس کام کا کرنے والا اس طرح کا کوئی ارادہ بھی نہ رکھتا هو، تو ایسا شخص مشرک ھے خواہ وہ اپنے شرک کو شرک مانے یا اس کو توسل کانام دے۔
اس کے بعد حافظ وھبہ اپنی گفتگو کوجاری رکھتے هوئے کھتے ھیں کہ وھابیوں کو اس بات میں کوئی شک نھیں ھے کہ اگر کوئی کھے”یا رسول اللہ“،”یا ابن عباس“ ،”یا عبد القادر“وغیرہ اور ان کلمات کے کہنے سے اس کا قصدان کا فائدہ پهونچانایانقصان کو دور کرنا هو یا اس کے مدّ نظر ایسے امور هوں جن کو صرف خدا ھی انجام دے سکتا ھے، تو ایسا شخص مشرک ھے اور اس کا خون بھانا واجب ھے اور اس کا مال مباح ھے۔ 14
قارئین کرام ! ھماری گفتگو کا خلاصہ یہ ھے کہ محمد بن عبد الوھاب توحید کی طرف دعوت دیتا تھا اورجو (اس کی بتائی هوئی توحید کو)قبول کرلیتا تھا اس کی جان اور مال محفوظ هوجاتی تھی اور اگر کوئی اس کی بتائی هوئی توحید کو قبول نھیں کرتا تھا اس کی جان ومال مباح هوجاتے تھے، وھابیوں کی مختلف جنگیں، چاھے وہ حجاز کی هوں یا حجاز کے باھر مثلاً یمن، سوریہ اور عراق کی جنگیں،اسی بنیاد پر هوتی تھیں اور جنگ میں جس شھر پر غلبہ هوجاتا تھا وہ پورا شھر ان کے لئے حلال هوجاتا تھا ،ان کو اگر اپنے املاک اور تصرف شدہ چیزوں میں قرار دینا ممکن هوتا تو ان کو اپنی ملکیت میں لے لیتے تھے ورنہ جو مال ودولت اور غنائم جنگی ان کے ھاتھ آتاا سی پر اکتفا کرلیتے تھے۔ 15
اور جو لوگ اس کی اطاعت کو قبول کرلیتے تھے ان کے لئے ضروری تھا کہ دین خدا ورسول کو (جس طرح محمد بن عبد الوھاب کھتا تھا)قبول کرنے میں اس کی بیعت کریں، اور اگر کچھ لوگ اس کے مقابلے میں کھڑے هوتے تھے تو ان کو قتل کردیا جاتا تھا، اور ان کا تمام مال تقسیم کرلیا جاتا تھا، اسی پروگرام کے تحت مشرقی احساء کے علاقہ میں ایک دیھات بنام ”فَصول“ کے تین سو لوگوں کوقتل کردیا گیا او ران کے مال کو غنیمت میں لے لیاگیا، اسی طرح احساء کے قریب ”غُرَیْمِیْل“ میں بھی یھیکارنامے انجام دئے۔ 16
اس سلسلہ میں شوکانی صاحب کھتے ھیں کہ محمد بن عبد الوھاب کے پیروکار ھراس شخص کو کافر جانتے تھے جو حکومت نجد میں نہ هو یا اس حکومت کے حکام کی اطاعت نہ کرتا هو، اس کے بعد شوکانی صاحب کھتے ھیں کہ سید محمد بن حسین المُراجل(جو کہ یمن کے امیر حجاج ھیں) نے مجھ سے کھا کہ وھابیوں کے کچھ گروہمجھے اور یمن کے حجاج کو کافر کھتے ھیں اور یہ بھی کھتے ھیں کہ تمھارا کوئی عذر قابل قبول نھیں ھے مگر یہ کہ امیر نجد کی خدمت میں حاضر هو تاکہ وہ دیکھے کہ تم کس طرح کے مسلمان هو۔ 17

وھابیوں کی نظر میں وہ دوسرے امور جن کی وجہ سے مسلمان مشرک یا کافر هوجاتا ھے

وھابی لوگ توحید کے معنی اس طرح بیان کرتے ھیں کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا مسلمان باقی نھیں بچتا، وہ بھت سی چیزوں کو توحید کے خلاف تصور کرتے ھیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان دین سے خارج او رمشرک یا کافر هوجاتا ھے،یھاں پر ان میں سے چند چیزوں کو بیان کیا جاتا ھے:
۱۔ اگر کوئی شخص اپنے سے بلا دور هونے یا اپنے فائدہ کے لئے تعویذ باندھے یا بخار کے لئے اپنے گلے میں دھاگا باندھے، تو اس طرح کے کام شرک کا سبب بنتے ھیں اور توحید کے بر خلاف ھیں۔ 18
۲۔ محمد بن عبد الوھاب نے عمر سے ایک حدیث نقل کی ھے جو اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ اگر کوئی غیر خدا کی قسم کھائے تو اس نے شرک کیا، او رایک دوسری حدیث کے مطابق خدا کی جھوٹی قسم غیر خدا کی سچّی قسم سے بھتر ھے، لیکن صاحب فتح المجید اس بات کی تاویل کرتے هوئے کھتے ھیںکہ خدا کی جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ھے، جبکہ غیر خدا کی سچی قسم شرک ھے جو گناہ کبیرہ سے زیادہ سنگین ھے۔ 19
۳۔ اگر کسی شخص کو کوئی خیر یا شر پهونچا ھے، وہ اگر اسے زمانہ کانتیجہ جانے اور اس کو گالی وغیرہ دے تو گویا ا اس نے خدا کو گالی دی ھے کیونکہ خدا ھی تمام چیزوں کا حقیقی فاعل ھے۔ 20
۴۔ ابو ھریرہ کی ایک حدیث کے مطابق یہ کہنا جائز نھیں ھے کہ اے خدا اگر تو چا ھے تو مجھے معاف کردے یا تو چاھے تو مجھ پر رحم کردے، کیونکہ خدا وندعالم اس بندے کی حاجت کو پورا کرنےکے سلسلہ میں کوئی مجبوری نھیں رکھتا۔ 21
۵۔ کسی کے لئے یہ جائز نھیں ھے کہ وہ اپنے غلام او رکنیز کو ”عبد“ اور ”امہ“ کھے اور یہ کھے ”عبدی“ یا ”اَ مَتی“کیونکہ خداوندعالم تمام لوگوں کا پروردگار ھے اور سب اسی کے بندے ھیں اور اگر کوئی اپنے کو غلام یا کنیز کا مالک جانے، اگرچہ اس کا ارادہ خدا کے ساتھ شرکت نہ بھی هو، لیکن یھی ظاھری اور اسمی شراکت ایک قسم کا شرک ھے، بلکہ اسے چاہئے کہ عبد اور امہ کے بدلے” فتیٰ“ اور ”فتاة“یا غلام کھے۔ 22
۶۔ جب انسان کو کوئی مشکل پیش آجائے تو اسے یہ نھیں کہنا چاہئے کہ اگر میں نے فلاں کام کیا هوتا تو ایسا نہ هوتا، کیونکہ ”لفظ اگر“ کے کہنے میں ایک قسم کا افسوس ھے اور ”لفظ اگر “ میں شیطان کے لئے ایک راستہ کُھل جاتا ھے اور یہ افسوس وحسرت اس صبر کے مخالف ھے جس کو خدا چاھتا ھے، جبکہ صبر کرنا واجب ھے اور قضا وقدر پر ایمان رکھنا بھی واجب ھے۔ 23
کسی پر کفر کا فتویٰ لگانے کے بارے میں چند صفحے بعد وضاحت کی جائے گی۔

تو پھر موحّد کون ھے؟

جناب آقائے مغنیہ، محمد بن عبد الوھاب کی کتابوں اور دوسرے وھابیوں کی کتابوں سے یہ نتیجہ حاصل کرتے ھیں کہ وھابیوں کے لحاظ سے کوئی بھی انسان نہ موحد ھے او رنہ مسلمان ! مگر یہ کہ چند چیزوں کو ترک کرے، ان میں سے چند چیزیں یہ ھیں:24
۱۔ انبیاء اور اولیا ء اللہ کے ذریعہ خدا سے توسل نہ کرے او رجب ایسا کام کرے مثلاً یہ کھے کہ اے خدا تجھ سے تیرے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وسیلہ سے توسل کرتا هوں مجھ پر رحمت نازل فرما، تو ایسے شخص نے مشرکوں کا راستہ اپنایاھے، او راس کا عقیدہ مشرکوں کے عقیدہ کی طرح ھے۔ 25
۲۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کی غرض سے سفر نہ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر پر ھاتھ نہ رکھے اور آپ کی قبر کے پاس دعانہ مانگے نمازنہ پڑھے، اسی طرح آنحضرت کی قبر کے اوپر عمارت وغیرہ نہ بنائے، اور اس کے لئے کچھ نذر وغیرہ نہ کرے۔ 26
۳۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شفاعت طلب نہ کرے، اگرچہ خدا وندعالم نے آنحضرتاور دوسرے انبیاءعلیهم السلامکو شفاعت کا حق عطا کیا ھے لیکن ھمیں ا ن سے شفاعت طلب کرنے کا کوئی حق نھیں ھے۔
چنانچہ ایک مسلمان کے لئے یہ کہنا جائز ھے :”یَا اَللّٰہُ، شَفِّعْ لی مُحَمَّداً“ (اے خدامحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میرا شفیع قرار دے، لیکن یہ کہنا جائز نھیں ھے ”یَا مُحَمَّد اِشْفَعْ لی عِنْدَ اللّٰہ“ (اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خدا کے نزدیک ھماری شفاعت کریں۔ 27
اور اگر کوئی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شفاعت طلب کرتا ھے تو ایسا شخص بالکل ان بت پرستوں کی طرح ھے جو بتوں سے شفاعت طلب کرتے تھے۔ 28
۴۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قسم نہ کھائے اور آپ کو نہ پکارے،آپ کو لفظ ”سیدنا“کہہ کر نہ پکارے، اپنی زبان پر اس طرح کے کلمات جاری نہ کرے کہ ”یا محمد وسیدنا محمد“ کیونکہ آنحضرت اور دیگر مخلوق کی قسم کھانا شرک اکبر اور ھمیشہ جہنم میں رہنے کا باعث ھے۔ 29
اسی طرح شیخ محمد بن عبد الوھاب کاکہنا ھے کہ غیر خدا کے لئے نذر کرنا اورغیر خدا سے پناہ مانگنا یااستغاثہ کرنا شرک ھے۔ 30

۲۔ صرف شھادتین کا اقرار کرنا مسلمان بننے کا سبب نھیں

شیخ عبد الرحمن آل شیخ (محمد بن عبد الوھاب کا پوتا) اس طرح کھتا ھے کہ” عُبّاد قبور“(اس سے مراد قبور کی زیارت کرنے والے ھیں) در حالیکہ کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ“ کو زبان پر جاری کرتے ھیں نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ھیں لیکن چونکہ محبت اور عبادت میں دوسروں کو خدا کا شریک قرار دیتے ھیں،لہٰذا یہ لوگ کوئی بھی عمل انجام دیں اور کوئی بھی گفتگو کریں باطل ھے اور چونکہ یہ مشرک ھیںلہٰذا ان کا کوئی بھی کام قبول اور صحیح نھیں ھے۔ 31
اس سلسلہ میں حافظ وھبہ کھتے ھیں :وھابیوں کے علاوہ دوسرے فرقے معتقد ھیں کہ جس شخص نے بھی کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ “کا اقرار کرلیا اس کی جان ومال محفوظ اور محترم ھے، لیکن ھمارا عقیدہ یہ ھے کہ عمل کے بغیراس اقرار کا کوئی فائدہ نھیں اور نہ اس کا کوئی اعتبار ھے، لہٰذا اگر کوئی شھادتین کا اقرار کرے لیکن مردوں کو پکارے یا ان سے استغاثہ کرے یا ان سے حاجت طلب کرے یا ان سے یہ تقاضا کرے کہ ان سے مشکلات کو برطرف کرے توایسا شخص کافر اور مشرک ھے اور اس کی جان ومال حلال او رمباح ھے۔ 32
اس سلسلہ میں آلوسی بھی اپنا نظریہ پیش کرتے ھیں کہ اگر کوئی شخص کلمہ لا الہ الا اللّٰہ کی شھادت دے لیکن غیر خدا کی عبادت کرے (یعنی زیارت قبور کرے) اگرچہ وہ نماز پڑھتا هو روزہ رکھتا هو اور اسلام کے دوسرے اعمال بجالاتا هو، لیکن ایسے شخص کی شھادت قبول نھیں ھے۔
اس کے بعد آلوسی کابیان ھے : کفر کی دو قسمیں ھیں اول کفر مطلق، یعنی ان تمام چیزوں کا انکار کرنا جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے کر آئے ھیں، دوسرے کفر مقید یعنی ان میں سے بعض چیزوں کا انکار کرنا۔ وہ کفر مقیّد کے اثبات کے لئے اصحاب کے عمل کو دلیل کے عنوان سے پیش کرتا ھے، کہ جو لوگ زکوٰة ادا نھیں کرتے تھے جبکہ کلمہ شھادتین کا اقرار کرتے تھے او رنماز و روزہ اور حج بجالاتے تھے پھر بھی اصحاب ان کو کافر سمجھتے تھے۔ 33
آلو سی اپنی باتوں سے اس طرح نتیجہ نکالتے ھیں کہ قبور کی عبادت کرنے والوں(یعنی زائرین قبور) کو صرف اس وجہ سے کہ وہ نماز پڑھتے ھیں روزہ رکھتے ھیں اور بعث وقیامت پر ایمان رکھتے ھیں، مسلمان نھیں کھا جاسکتابلکہ وہ مشرک ھیں۔
یہ بات طے ھے کہ یہ باتیں محمد بن عبد الوھاب کی کتابوں سے اخذ شدہ ھیں اور محمد بن عبد الوھاب کی کتابوں اور رسالوں میں تفصیل کے ساتھ بیان هوئی ھیں۔ 34

اس سلسلہ میں وضاحت

غیر وھابیوں کا اس بات پر عقیدہ ھے کہ جو شخص زبان پر شھادتین جاری کرے اور نماز روزہ بجالائے زکوٰة ادا کرے اور دین اسلام کے ضروریات کا معتقد هو تو اس کا شمار مسلمانوں کی فھرست میں هوگا، اور اس کی جان ومال محفوظ ھے، اور ان کا یہ عقیدہ سیرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عین مطابق اور اسلام کے مسلمات میں سے ھے،اس سلسلہ میں صحیح بخاری، مسند احمد ابن حنبل او ردوسری معتبر کتابوں میں متعدد احادیث بیان هوئی ھیں، گذشتہ زمانہ سے آج تک تمام مسلمانوں کے فرقوں کی سیرت بھی یھی رھی ھے، اور مختلف مذاھب کے علمائے اسلام کا اس سلسلہ میں اتفاق اور اجماع ھے:
احمد ابن حنبل عمر اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ھیں:
”اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتلَ النَّاْسَ حَتّٰی یَقُوْلُوا : لاٰ اِٰلہَ اِلاّٰ اللّٰہ ۔ فَمَنْ قاَلَ لاٰ اِلٰہَ اِلاّٰ اللّٰہ فَقَدْ عَصُُمَ مِنِّی مَالُہُ وَنَفْسُہُ اِلاّٰ بِحَقِّہِ وَحِسَابُہُ عَلٰی اللّٰہِ تَعَالیٰ“35
”خدا وندعالم نے مجھے حکم فرمایا ھے کہ لوگوں سے جنگ کروں یھاں تک کہ کلمہ” لا الہ الا اللّٰہ“ زبان پر جاری کریں اور جس شخص نے بھی کلمہ لا الہ الا اللّٰہکا اقرار کرلیا اس کی جان ومال محفوظ ھے مگر یہ کہ کوئی دوسرا حق درمیان میں هو، اور اس کا حساب خدا کے ھاتھ میں ھے۔
شیخ محمود شَلتُوت (جامع الازھر کے سابق سربراہ) کھتے ھیں کہ خدائے وحدہ لاشریک اورپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کا اقرار (اَشْہَدُ اَنْ لاٰ اِلَہَ اِلاّٰ اللّٰہَ وَاَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللّٰہِ) انسان کے لئے ایک کلید ھے وہ جس سے اسلام میںداخل هوسکتا ھے اور اس پر اسلامی احکام جاری هونگے۔ 36

کسی کے بارے میں کفر کا فتویٰ لگانا

وھابیوں اور ابن تیمیہ کے عقائد کی بحث میں یہ بات بیان هوچکی کہ یہ لوگ اپنے علاوہ سبھی دوسرے مسلمانوں کو کافر اورمشرک کھتے ھیں، اور دوسروں پر بھت جلد کفر کا فتویٰ لگا دیتے ھیں، جبکہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اصحاب اور مختلف فرقوں کے بڑے بڑے علماء کا طریقہ یہ نھیں تھا، جن چیزوں کو یہ لوگ کفر وشرک کا باعث سمجھتے ھیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے اصحاب اور دینی رھبروں کی نظر میں وہ امور موجب کفر وشرک نھیں تھے۔
اگر مسلمان هونے کے لئے شھادتین کا اقرار کرنا کافی نہ هواورتوحید کا مفهوم ابن تیمیہ اور اس کے ھمنواوٴں نے ھی صحیح سمجھا ھے، تو پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ کے زمانہٴ جاھلیت کے اکثرعرب تھے جن میں سے بعض لوگ موٴلفة القلوب تھے، ان کے اسلام کو کس طرح قبول کیا جاسکتا ھے، جبکہ صحاح ستہ اور اھل سنت کی دوسری معتبر کتابوں اور دوسرے فرقوں کی کتابوں کے لحاظ سے وہ لوگ جو صرف زبان سے شھادتین کا اقرار کرتے تھے، ان کومسلمان تصور کیا جاتا تھا، جبکہ صدر اسلام میں اکثر لوگ یھاں تک کہ خود اصحاب کرام اسلام کے صحیح معنی سے آگاہ نھیں تھے اور صرف زبان سے کلمہ شھادتین کہنے پر ان کی جان ومال محفوظ هوجاتا تھا اور ان کو مسلمان حساب کیا جاتا تھا، لیکن وھابیوں کا کہنا یہ ھے کہ جو شخص کلمہ شھادتین کا اقرار کرے اور نماز پڑھے، روزہ رکھے، حج بجالائے اور اسلام کی دوسری ضروریات کو قبول کرتے هوئے ان پربھی عمل کرے لیکن اگردینی بزرگوں کی قبور کی زیارت کے لئے جائے تو ایسا شخص مشرک ھے کیونکہ اس نے غیر خدا کو خدا کی عبادت میں شریک قرار دیا ھے، جبکہ اگر کسی بھی زائر سے چاھے وہ شیعہ هو یا سنی ،یہ سوال کریں کہ تم کس لئے زیارت کے لئے جاتے هو؟ تو اس کا جواب یہ هوگا : وہ خدا کا خاص بندہ ھے اور اس نے خدا کے وظائف دوسروں سے بھتر انجام دئے ھیں اور ھم خدا کی خوشنوی کے لئے اس کی قبر کی زیارت کے لئے جاتے ھیں۔ اس کے لئے دعا کرتے ھیں اور اس کی تعظیم کی کوشش کرتے ھیں۔
یہ بات واضح ھے کہ کسی ایسے شخص کے بارے میں کفر و شرک کا فتویٰ لگانا حقیقت اسلام کے مخالف اور سیرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیز سلف صالح اور دینی رھبروں کی سیرت کے خلاف ھے۔
اس موقع پر مناسب ھے کہ کسی کے بارے میں کفر و شرک کے فتوے لگانے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اصحاب اوردینی رھبروں کی سیرت کی روشنی میں کتاب”الاسلام بین السنة والشیعہ“ سے کچھ چیزیں بیان کردی جائیں تاکہ معلوم هوجائے کہ کسی موحد اور مسلمان کے کفر کا فتویٰ اتنی آسانی سے نھیں لگایا جاسکتا، اور کروڑوں مسلمانوں کو ایسی چیزوں کی وجہ سے جو کبھی بھی توحید اور عبادت خدا کے منافی نھیں ھیں، بڑی آسانی سے کافر نھیں کھا جا سکتا ۔

کسی پر کفر کا حکم لگانا خدا کا کام ھے

اسلام قول اور فعل کے ذریعہ ظاھر هوتا ھے اور انھیں اقوال اور افعال کی وجہ سے میراث کا مسئلہ بھی جاری هوتا ھے، اور لوگوں کا نماز پڑھنا زکوٰة دینا حج بجالانا وغیرہ ایسے امور ھیں جن کے ذریعہ انسان کفر سے نکل کر ایمان کی منزل میں آجاتا ھے۔ 37
یھاں پر چند دینی رھبروں کے اقوال آپ کی خدمت میں پیش کرتے ھیں:
”میں کسی اھل قبلہ کو کافر نھیں جانتا“38
”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد لوگوں میں بھت سے مسائل میں اختلاف پیدا هوگیا اور مختلف فرقے پیدا هوگئے، اسلام ان سب کو ایک جگہ جمع کردیتا ھے اور سب پر مسلمان کا اطلاقهوتا ھے“39
”میں کسی اھل قبلہ کے کفر کا فتویٰ نھیں دیتا“ 40
”میں کسی بھی عنوان شھادتین کہنے والوں کو کافر نھیں کھتا“ 41
”اگر میرے بدن کا گوشت درندے کھالےں، میں اس کو اس چیز سے بھتر سمجھتا هوں کہ خدا سے اس حال میں ملاقات کروں کہ کسی ایسے شخص سے دشمنی رکھوں جو خدائے وحدہ لاشریک اور نبوت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اعتقاد رکھتا هو“ 42
”میں کسی بھی اسلامی مذھب سے تعلق رکھنے والوں کو کافر نھیں کہہ سکتا“ 43
”کسی بھی موحد انسان سے دشمنی جائز نھیں ھے اگرچہ اس کو هوا وهوس نے حق سے منحرف ھی کیوں نہ کر دیا هو“ 44
آخر کلام میں ھم حضرت امام صادق ںکے کلام کو پیش کرتے ھیں، چنانچہ آپ نے فرمایا: ”مسلمان،مسلمان کا بھائی ھے اور ھر مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آنکھ، آئینہ ،اور راہنما ھے جس سے وہ خیانت نھیں کرتا اور نہ ھی اس کو دھوکہ دیتا، اور نہ ھی اس کی غیبت کے لئے اپنا منھ کھولتا ھے۔
اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت اور آنحضرت کا فرمان کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ خدا کے علاوہ کسی کو خدا نہ جانے تو ایسا شخص بہشت میں داخل هوگا۔ 45
ھم دیکھتے ھیں کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مُعاذ بن جَبَل کو یمن میں تبلیغ کے لئے بھیجا تاکہ لوگوں کو خدا کی طرف بلائےں تو آپ نے ان سے تاکید کی کہ خدا پر ایمان کی حقیقت اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کے اعتراف پر اکتفاء کرنا، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کھا: تم اس قوم کے پاس جارھے هو جو اھل کتاب ھیں، ان کو یہ بتانا کہ تم پر خداوندعالم نے روزانہ پانچ وقت کی نمازیں واجب کی ھیں اور اگر وہ لوگ قبول کرتے ھیں تو پھر ان کے مالداروں سے کہنا کہ تم پر زکوٰة واجب ھے تاکہ وہ فقیروں میں تقسیم کی جائے۔
جو شخص اپنے دل میں اس بات کا معتقد هو کہ جنت ودوزخ خدا کے حکم اور اس کے فرمان کے تحت ھے اور کسی پر کفر اور ایمان کا حکم لگانا اور انسان کے دل کی گھرائیوں کا حال جانناخدا سے مخصوصھے، ایسے شخص نے چاھے وہ کتنا بڑا هو،عالم هو یامعجز نما هو اس نے ان اعتقادات کے باوجود خدا کے سامنے بزرگی وبڑائی کی جراٴت کی ھے ۔
اسی طرح جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سنا کہ ان کے ربیب اُسامہ بن زید نے میدان جنگ میں اس شخص کو قتل کردیا جس نے زبان پرکلمہ توحید جاری کیا تھا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھت ناراض هوئے اور جب اُسامہ بن زید نے یہ عذر پیش کیا کہ اس نے جان کے خوف سے یہ کلمہ زبان پر جاری کیا تھا (یعنی صرف اپنی جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا تھا) تو آپ نے اُسامہ کے عذر کو قبول نھیں کیا اور فرمایا کہ کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ اس کا یہ شھادتین کا اقرار اعتقاد سے تھا یا خوف سے؟ اور یہ بات معلوم ھے کہ ایمان کی جگہ انسان کا دل هوتا ھے اور دل کے اسرار سے صرف خدا ھی واقف هوتا ھے کوئی دوسرا ان سے واقف نھیں هوسکتا۔
اسی طرح جب عمر نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عبد اللہ ابن اُبیّ (جو منافقوں کا سردار تھا) کے قتل کی اجازت مانگی، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم یہ کام کروگے تو لوگ یہ کھیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ھی اصحاب کو قتل کررھے ھیں، گویا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی اس بات سے عمر اور دوسرے لوگوں کو یہ سمجھانا چاھتے تھے کہ اسلام فقط ظاھر پر حکم کرتا ھے چاھے شک اور تردید کے ساتھ هو۔ 46
شیخ سلیمان جو محمد بن عبد الوھاب کے بھائی تھے اور محمد بن عبد الوھاب کے سخت مخالفین میں شمار هوتے تھے، انھوں نے اپنے بھائی محمد بن عبد الوھاب جو تمام مسلمانوں کو کافر و مرتد کھتا تھا کی ردّ میںایک کتاب ”الصواعق الالٰھیہ“لکھی جس میں ۵۲ حدیثیں ایسی لکھی ھیں جس میں ھر اس شخص کو مسلمان کھا گیا ھے جس نے زبان پرکلمہ لا الہ اللہ کو جاری کیا اور بھت سی ایسی حدیثیں لکھیں جس میں ھر اس شخص کو کافر کھا گیا ھے جو کسی مسلمان کو کافر کھے۔ 47

۳۔ خداوند عالم کے لئے جھت کا ثابت کرنا

وھابی، ابن تیمیہ کی پیروی کرتے هوئے کیونکہ وہ قرآن اور احادیث کے ظاھر پر عمل کرتے ھیں اور تاویل و تفسیر کے قائل نھیں ھیں بعض آیات اور احادیث کے ظاھر سے تمسک کرتے هوئے خداوندعالم کے لئے جھت کو ثابت کرتے ھیں اور اس کو اعضاء وجوارح والا مانتے ھیں۔
اس سلسلہ میں آلوسی کاکہنا ھے : وھابی ان احادیث کی تصدیق کرتے ھیںجن میں خداوند عالم کے آسمانِ دنیا (آسمان اول) پر نازل هونے کا تذکرہ ھے، وہ کھتے ھیں کہ خداوندعالم عرش سے آسمان دنیا پر نازل هوتا ھے اور یہ کھتا ھے: ہَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ؟کیا کوئی استغفار کرنے والا ھے کہ میں اس کے استغفار کو قبول کروں۔
اسی طرح وہ یہ بھی اقرار کرتے ھیں کہ خداوندعالم روز قیامت عالم محشر میں آئے گا کیونکہ خود اس نے فرمایا ھے:
<وَجَاءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفّاً صَفّاً>48
”اور تمھارا پرور دگار اور فرشتے صف در صف آجائیں گے“۔
خدا اپنی مخلوق سے جس طرح بھی چاھے قریب هوسکتا ھے جیسا کہ ارشاد هوتا ھے:
<وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ>49
”اور ھم اس کی رگ گردن سے زیادہ قریب ھیں۔ “
آلوسی ایک دوسری جگہ کھتے ھیں کہ اگرچہ وھابی خداوندعالم کے لئے جھت کوثابت کرتے ھیں لیکن مُجسِمّہ نھیں ھیں 50 (یعنی خدا کو جسم والانھیں مانتے) اور کھتے ھیں کہ روز قیامت مومنین بغیر کسی کیفیت اور احاطہ کے خداوندعالم کا دیدار کریں گے ۔ 51
اسی طرح وھابی لوگ بعض آیات کے ظاھر کو دیکھتے هوئے خداوند عالم کے لئے اعضاء وجوارح ثابت کرتے ھیں مثلاً اس آیہ شریفہ
<بَلْ یَدَاہُ مَبْسُوْطَتَاْنِ> 52
(خدا کے دونوں ھاتھ تو کھلے ھیں)سے خداوندعالم کے لئے دو ھاتھ ثابت کرتے ھیں اور اسی طرح اس آیہ شریفہ <وَاْصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا> 53 کے ظاھر سے خدا کے لئے دو آنکھیں اور اس آیہ کریمہ <فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ> 54
کے ذریعہ خدا کے لئے چھرہ اور صورت ثابت کرتے ھیں۔
اور خدا کے لئے انگلیوں کو ثابت کرنے کے لئے ان کے پاس ایک روایت ھے جس کو محمد بن عبد الوھاب نے کتاب توحید کے آخر میں بیان کیا ھے:
”اِنَّ اللّٰہَ جَعَلَ السَّمَوٰاتِ عَلٰی اِصْبَعٍ مِنْ اَصَابِعِہ وَالاَرْضَ عَلٰی اِصْبَعٍ وَالشَّجَرَ عَلٰی اِصْبِعٍ… اِلٰی آخِرِہ“55
خداوندعالم نے آسمانوں کو اپنی ایک انگلی پر اور زمین کو ایک انگلی پر اسی طرح درختوں کو ایک انگلی پر اٹھا رکھا ھے۔

خداوند عالم کی صفات کے بارے میں

صاحب فتح المجید کھتے ھیں: تمام اھل سنت والجماعت چاھے متقدمین هوں یا متاخرین، ان کا عقیدہ یہ ھے کہ خدا کے وہ صفات جن کو خود خدانے قرآن مجید میں بیان کیا ھے یا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدا کو ان صفات سے متصف کیا ھے،وہ خداوندعالم کے لئے ثابت اور مسلّم ھیں لیکن خداوندعالم کو ان صفات میں کسی مخلوق کے مانند قرار نھیں دیا جاسکتا۔
کیونکہ خداوندعالم اپنے صفات میں مانند اورشبیہ رکھنے سے پاک ومنزہ ھے، جیسا کہ ارشاد هوتا ھے:
<لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَئْيٌ وَهو السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ> 56
”اس کا جیسا کوئی نھیں وہ سب کی سننے والا اور ھر چیز کا دیکھنے والا ھے“۔
جس طرح خداوندعالم ایک حقیقی ذات ھے جس کی کوئی شبیہ نھیں، اسی طرح خداوندعالم کے حقیقی صفات بھی ھیں جن سے مخلوق کی کوئی صفت شباھت نھیں رکھتی، اگر کوئی شخص ان چیزوں کا منکر هوجائے جن کو خداوندعالم نے خود سے متصف کیا ھے یا اس کے ظاھری معنی کی تاویل اور تفسیر کرے (مثلاً یہ کھے کہ اس آیت میں<’یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْهم۔ >میں ھاتھ سے مراد خدا کی قدرت ھے) ایسے شخص کا مذھب جھمی 57 ھے، اور اس کا راستہ مومنین کے راستہ سے الگ ھے۔ 58

۴۔ گذشتہ انبیاء کے بارے میں

شیخ محمد بن عبد الوھاب اپنی کتابوں اور رسالوں میں نبوت کی گفتگو کرتے هوئے جناب نوح کو پھلا نبی کھتا ھے:
”اَوَّلُهم (اَوَّلُ الاَنْبِیَاءْ) نُوْحٌ وَآخِرُهم مُحَمَّد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم “
”انبیاء میں سب سے پھلے جناب نوحںاور آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ھیں“
اور اس سلسلہ میں قرآن مجید کی آیت کو دلیل کے طورپر بیان کیا ھے مثلاً یہ آیہ کریمہ:
<اِنَّا اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ کَمَا اَوْحَیْنَا اِلٰی نُوْحٍ وَالنَّبِیِّیّْنَ مِنْ َبعْدِہ>59
”ھم نے آپ پر وحی نازل کی جس طرح نوح اور ان کے بعد کے انبیاء کی طرف وحی کی تھی“۔

۵۔ شفاعت اور استغاثہ

شیخ محمد بن عبد الوھاب کھتا ھے:خداوندعالم نے جن عبادتوں کا حکم کیا ھے وہ یہ ھیں: اسلام، ایمان، احسان، دعا، خوف ورجا، توکل، رغبت، زہد،استقامت، استغاثہ، قربانی اور نذر، یہ تمام چیزیں صرف خدا وندعالم کے لئے ھیں۔ 60
شفاعت کے بارے میں حافظ وھبہ کھتے ھیں کہ وھابی روز قیامت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت کے منکر نھیں ھیں اور جیسا کہ بھت سی روایات میں وارد هوا ھے ،وہ شفاعت کو دوسرے انبیاء،
فرشتوں، اولیاء اللہ اور(معصوم) بچوںکے لئے بھی مانتے ھیں، لیکن شفاعت کو اس طرح طلب کیا جائے کہ بندہ خدا سے درخواست کرے کہ پیغمبر کو اس کا شفیع قرار دے مثلا ًیوںکھے:
”اَللّٰهم شَفِّعْ نَبِیِّنَا مُحَمَّداً فِیْنَا یَوْمَ الْقِیَامَة، اَللّٰهم شَفِّعْ فِیْنَا عِبَادَکَ الصَّاْلِحِیْنَ“
”خداوندا ! ھمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روز قیامت ھمارا شفیع قرار دے، خداوندا ! اپنے صالح بندوں کو ھمارا شفیع قرار دے“۔
لیکن ” یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، یَا وَلِیّ اللّٰہِ اَسْاٴَلُکَ الشَّفَاعَةَ“ یا اسی طرح کے دوسرے الفاظ مثلاً ”یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَدْرِکْنِی، یَا اَغِثْنِی“زبان پر جاری کرنا خدا کے ساتھ شرکھے۔ 61
ابن قیم کھتا ھے کہ شرک کے اقسام میں سے ایک قسم مُردوں سے استغاثہ کرنا یا ان کی طرف توجہ کرنا بھی ھے، مُردے کسی کام پر قادر نھیں ھیں، وہ خود تو اپنے لئے نفع ونقصان کے مالک ھیں نھیں، پھرکس طرح استغاثہ کرنے والوں کی فریاد کو پهونچ سکتے ھیں، یا خدا کی بارگاہ میں شفاعت کرسکتے ھیں؟۔
شیخ صُنعُ اللہ حنفی کھتا ھے کہ آج کل مسلمانوں کے درمیان ایسے گروہ پیدا هوگئے ھیں جو اس بات کا دعویٰ کرتے ھیں کہ اولیاء اللہ کی کرامتوں میں سے ایک کرامت یہ بھی ھے کہ وہ اپنی زندگی یا موت کے بعد بھی بعض تصرفات کرسکتے ھیں مثلاً جو لوگ مشکلات اور پریشانیوں کے وقت ان سے استغاثہ کرتے ھیں وہ ان کی مشکلات کو دور کردیتے ھیں، یہ لوگ قبور کی زیارتوں کے لئے جاتے ھیں، اور وھاںطلب حاجت کرتے ھیں، اور ثواب کی غرض سے وھاں پر قربانی و نذر وغیرہ کرتے ھیں۔
شیخ صنع اللہ یھاں پر اس طرح اپنا عقیدہ بیان کرتا ھے کہ ان باتوں میں افراط وتفریط بلکہ ھمیشگی عذاب ھے اور ان سے شرک کی بو آتی ھے۔ 62
ابن سعود ذی الحجہ ۱۳۶۲ھ میں مکہ معظمہ میں کی جانے والی اپنی تقریر میںکھتا ھے کہ ”عظمت اور کبریائی خداوندعالم سے مخصوص ھے اور اس کے علاوہ کوئی معبود نھیں، اور یہ باتیں ان لوگوں کی ردّ میں ھیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پکارتے ھیں اور ان سے حاجت طلب کرتے ھیں۔
جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کچھ بھی اختیار اور قدرت نھیں ھے اور توحید خداوندعالم سے مخصوص ھے، اور اسی کی عبادت هونا چاہئے اور امید اور خوف اور تمنا خدا وندعالم سے هونی چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت اسی طرح دیگر انبیاءعلیهم السلامکی نبوت، صرف لوگوں کو توحید کا سبق پڑھانے کے لئے تھی۔ 63
شیخ صنع اللہ کھتے ھیں کہ ظاھری اور معمولی کاموں میں استغاثہ جائز ھے،مثلاً جنگ، یا دشمن اور درندہ کے سامنے کسی سے مدد طلب کی جاسکتی ھے، لیکن معنوی امور میں کسی سے استغاثہ کرنا مثلاً انسان پر یشانیوں کے عالم میں، بیماری کے، یا غرق هونے کے خوف سے یا روزی طلب کرنے میں کسی دوسرے سے استغاثہ نھیں کرسکتا بلکہ ان چیزوں میں صرف خدا سے استغاثہ کرنا چاہئے اور کسی غیرخدا سے استغاثہ جائز نھیں ھے۔ 64
زینی دحلان محمد بن عبد الوھاب کا قول نقل کرتے ھیں کہ اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا دوسرے انبیاءعلیهم السلامسے استغاثہ کرے یا ان میں سے کسی ایک کو پکارے، یا ان سے شفاعت طلب کرے تو ایسا شخص مشرکوں کی طرح ھے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دیگر انبیاء کی قبروںکی زیارت بھی خدا کے ساتھ شرک ھے، اور زیارت کرنے والے مشرکوں کی طرح ھیں جو بتوں کے بارے میں کھتے تھے:
<مَانَعْبُدُهم اِلاّٰ لِیُقَرِّبُونَا اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی >65
”ھم ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ھیں کہ یہ ھمیں اللہ سے قریب کردیں گے“۔
محمد بن عبد الوھاب اس بارے میں مزید کھتے ھیں کہ جو لوگ اھل قبور سے شفاعت طلب کرتے ھیں ان کا شرک زمان جاھلیت کے بت پرستوں کے شرک سے بھی زیادہ ھے۔ 66

استغاثہ کے بارے میں وضاحت

سید احمد زینی دحلان (مکہ معظمہ کے مفتی) گذشتہ مطلب کے بعد اس طرح کھتے ھیں:ان عقائد کی ردّ میں لکھی گئی کتابوں میں مذکورہ استدلال کو باطل اور غیر صحیح قرار دیاگیا، کیونکہ جو مومنین پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم او ردیگر اولیاء اللہ سے استغاثہ کرتے ھیں وہ نہ ان کو خدا سمجھتے ھیں او رنہ ھی خدا کا شریک، بلکہ ان کا تو اعتقاد یہ هوتا ھے کہ یہ سب خدا کی مخلوق ھیں اور ان کو کسی بھی صورت میں مستحق عبادت نھیں مانتے، برخلاف مشرکین کے جن کے بارے میں مذکورہ اور دیگر آیات نازل هوئیں ھیں کہ وہ خود بتوں کو مستحق عبادت سمجھتے تھے، اور ان بتوں کے لئے ایسی عظمت کے قائل تھے جس طرح خدا کی عظمت کے قائل هوتے ھیں، لیکن مومنین کرام انبیاءعلیهم السلامکو مستحق عبادت نھیں جانتے اور ان کے لئے خدا سے مخصوص عظمت کے بھی قائل نھیں ھیں، بلکہ ان کا عقیدہ تو صرف یہ ھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام خدا کے ولی اور اس کے منتخب بندے ھیں، اور خود خداوندعالم ان کے وجود سے اپنے دیگر بندوں پر رحم کرتا ھے، لہٰذا ابنیاءعلیهم السلام اور اولیاء اللہ کی قبروں کی زیارت صرف ان حضرات سے تبرک حاصل کرنے کے لئے هوتی ھے۔ 67
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پکارنے اور آنحضرت سے استغاثہ کرنے کے بارے میں مرحوم علامہ الحاج سید محسن امین صاحب کتاب ”خلاصة الکلام“ سے نقل کرتے ھیں کہ مسیلمہ کذاب سے جنگ کے دوران اصحاب رسول کا نعرہ ”وامحمداہ، وامحمداہ“ تھا اور جس وقت عبد اللہ ابن عمر کے پیر میں درد هوا تو اس سے کھا گیا کہ جس کو تم سب سے زیادہ چاھتے هو اس کو یاد کرو، تو اس نے ”وامحمداہ“ کھا اور اس کے پیر کا درد ختم هوگیا، اسی طرح دوسرے واقعات ھیں جن میں آنحضرت سے استغاثہ کو بیان کیا گیا ھے، 68
شفاعت کے سلسلہ میں انس بن مالک اس طرح روایت کرتے ھیں:
”لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِها فَاسْتُجِیْبَ، فَجَعَلْتُ دَعْوَتِی شَفَاعَةً لِاُمَّتِی یَوْمَ الْقِیَامَةِ“
”ھر نبی کے لئے خداوندعالم نے کچھ مستجاب دعائیں معین کی تھیں اور ان کی وہ دعائیں قبول هوگئیں لیکن میں نے اپنی دعا کو روز قیامت میں اپنی امت کی شفاعت کے لئے باقی رکھا ھے“
اسی طرح ابوھریرہ سے ایک دوسری روایت ھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ھیں:
”لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَةٌ یَدْعُوْ بِها وَاُرِیْدُ اَنْ اَخْتَبِیَ دَعْوَتِی شَفَاعَةً لِاُمَّتِی فِیْ الآخِرَةِ“69
”ھر پیغمبر نے خداوندعالم سے کچھ نہ کچھ دعائیں کی ھیں اور میں نے اپنی دعا کو روز قیامت میں اپنی امت کی شفاعت کے لئے باقی رکھا ھے“۔
شیخ عبد الرحمن آل شیخ کی تحریر کے مطابق قیامت کے دن مخلوق خدا، انبیاءعلیهم السلام کے پاس جمع هوکر عرض کریں گی کہ آپ خدا کے نزدیک ھماری شفاعت کریں، تاکہ روز محشر کی مشکلات سے نجات حاصل هوجائے۔ 70

6۔ غیر خدا کو ”سید“ یا ”مولا “ کہہ کر خطاب کرنا شرک ھے

مرحوم علامہ امین ۺ، ہدیة السنیہ رسالہ سے نقل کرتے ھیں کہ صاحب رسالہ نے زیارت قبور کی حرمت بیان کرنے کے بعد اس طرح کھا ھے کہ قبروں میں دفن شدہ لوگوں کو پکارنا اور ان سے استغاثہ کرنا یا ”یَا سَیّدی وَمَولای اِفْعَل کَذَا وَکذَا“ (اے میرے سید ومولا میری فلاں حاجت روا کریں) جیسےالفاظ سے پکارنا، اور اس طرح کی چیزوں کو زبان پر جاری کرنا گویا ”لات وعزّیٰ“ کی پرستش ھے۔ 71
اس سلسلہ میں محمد بن عبد الوھاب کھتا ھے کہ مشرکین کا لفظ ”الہ“ سے وھی مطلب هوتا تھا جو ھمارے زمانہ کے مشرکین لفظ ”سید “ سے مرادلیتے ھیں۔ 72
خلاصة الکلام میں اس طرح وارد هوا ھے کہ محمد بن عبد الوھاب کے گمان کے مطابق اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو ”مولانا“ یا ”سیدنا“ کھے تو ان الفاظ کا کہنے والا کافر ھے۔ 73

مذکورہ مطلب کی وضاحت

مرحوم علامہ امین ۺ مذکورہ گفتگو کو آگے بڑھاتے هوئے فرماتے ھیں کہ کسی غیر خدا کو ”سید“ کہہ کر خطاب کرنا صحیح ھے اور اس میں کوئی ممانعت بھی نھیں ھے کیونکہ اس طرح کی گفتگو میں کوئی شخص بھی اس شخص کے لئے مالکیت حقیقی کا ارادہ نھیں کرتا، اس کے علاوہ قرآن مجید میں چند مقامات پر غیر خدا کے لئے لفظ سید استعمال هوا ھے، مثلاً جناب یحییٰ ابن زکریاں کے بارے میں ارشاد هوتا ھے:
<وَسَیّداً وَحَصُوْرا۔ >74
(سردار اور پاکیزہ کرداروالے جناب یحییٰ تھے) اسی طرح دوسری آیت میں <وَاَلْفِیَا سَیِّدَها لَدیَ الْبَابِ۔ >75
(اور ان دونوں نے اس کے سردار کو دروازے پر ھی دیکھ لیا)
احادیث رسول(ص) میں بھی غیر خدا کے لئے لفظ ”سید“بھت زیادہ استعمال هوا،یھاں تک کہ تواتر کی حدتک بیان هوا ھے۔
ان احادیث کے چند نمونے یھاںذکر کئے جاتے ھیں:
اس روایت کو بخاری نے جناب جابر سے نقل کیا ھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”مَنْ سَیّدُکُمْ یَا بَنِی سَلْمَة؟“
اے بنی سلمہ تمھارا سید وسردار کون ھے؟
اسی طرح ابوھریرہ سے ایک روایت میں وارد هوا ھے:
”اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَم یَومَ القِیَامَةِ“
میں تمام اولاد آدم کا سید وسردار هوں۔
اسی طرح ایک دوسری روایت میں حضرت نے فرمایا:
”اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ وَعَلِیّ سَیِّدُ الْعَرَبْ“
میں تمام اولاد آدم کا سید وسردار هوں اور علی ںتمام عرب کے سید وسردار ھیں۔
ابو سعید خدری پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ھے جس میں آپ نے فرمایا:
”اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ اَہْلِ الْجَنَّةِ“
حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ھیں۔ اور اسی طرح دوسری روایتیں۔
اس کے بعد علامہ امین صاحب فرماتے ھیں کہ وہ روایات جن سے اس چیز کا وھم وگمان هوتا ھے کہ لفظ سید کو کسی غیر خدا پر اطلاق کرنا صحیح نھیں ھے ان روایات کا مقصد ”سید حقیقی“ ھے جیسا کہ ھم نے پھلے بھی بیان کیا ھے۔ 76
اس بات پر توجہ رکھنا ضروری ھے کہ اس حدیث”اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ اَہْلِ الْجَنَّةِ“ کو ابن تیمیہ نے نقل کیا ھے اور اس حدیث کے ذےل میں یہ بھی کھا کہ صحیح احادیث پیغمبر اکرممیں وارد هوا ھے کہ آپ نے امام حسن ں کے بارے میں فرمایا: ”اِنَّ ابْنِی ہَذَا سَیِّدٌ“77 (بے شک یہ میرا بیٹا سید و سردار ھے) اسی طرح شرح مناوی بر جامع صغیر سیوطی میں چند روایتیں نقل هوئیں ھیں جن میں غیر خدا پر سید کا لفظ استعمال هوا ھے، منجملہ یہ جملہ:
”سَیِّدُ الشُّہْدَاءِ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ القِیَامَةِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبْ“
”جناب حمزہ بن عبد المطلب قیامت کے دن خدا کے نزدیک سید الشہداء ھیں“
اسی طرح یہ حدیث بھی بیان هوئی ھے:
”سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهم، وَسَیِّدُ النَّاسِ آدَمُ وَسَیِّدُ الْعَرَبِ مُحَمَّدٌ وَسَیِّدُ الرُّوْمِصُہَیْبٌ وَسَیِّدُ الْفُرْسِ سَلْمَانٌ وَسَیِّدُ الْحَبَشَةِ بَلاٰلٌ، وَسَیِّدُ الْجِبَالِ طُوْرِ سِیْنَا… وَسَیِّدَاتُ نِسَاءِ اَہْلِ الْجَنَّةِ اَرْبَع مَرْیَمْ وَفاَطِمَةُ وَخَدِیْجَةُ وَآسِیّة“78
(کسی قوم کا سردار اس کا خادم ھے، انسانوں کے سردار جناب آدم ںعربوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اھل روم کے سردار صھیب، اھل فارس کے سردار جناب سلمان، افریقہ کے سردار جناب بلال، اور پھاڑوں کا سردار طور سینا، اور جنت میں عورتوں کی سردار چارھیں جناب مریم، جناب فاطمہ زھرا، جناب خدیجہ اور جناب آسیہ ھیں۔ )
اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ھے کہ سعودی بادشاهوں کے لئے متعدد بار لفظ” مولای “ نثر ونظم دونوں میں استعمال هوا ھے منجملہ ”ام القریٰ“ نامی اخبار مطبوعہ مکہ 79 میں عبد العزیز کو کئی بار”مولای“ کھا گیا ھے اس قصیدہ کے ضمن میں جو عید قربان کے موقع پر تبریک وتہنیت پیش کرنے کے لئے کھا گیا جس میں دو مقام پر ”اَمولای“ (اے میرے مولا) کھا گیا ھے، اور وھاں کے اخباروں اور مجلوں میں یہ بات عام ھے۔
لیکن انبیاءعلیهم السلام، اولیاء اور صالحین کو اس طرح خطاب کرنا در حقیقت ان سے حاجت طلب کرنا نھیں ھے بلکہ ان سے یہ چاھتے ھیں کہ ان کی درخواست کو وہ حضرات خدا وندکریم سے طلب کریں، مثلاً جس وقت ان سے یہ کھا جاتا ھے کہ میری مدد کریں یعنی آپ خدا سے یہ چاھیں کہ وہ میری مدد کرے، اس طرح کی تفسیروں کو خود وھابی تسلیم کرتے ھیں، مثلاً ان آیات کے بارے میں جن میں خداوندعالم نے بھت سی مخلوقات کی قسم کھائی ھے کھتے ھیں ان مخلوق سے مراد ” مخلوقات کا خدا“ ھے نہ کہ خود وہ مخلوقات۔

7۔ قبور کے اوپر عمارت بنانا، وھاں پر نذر اورقربانی کرنا وغیرہ

شیخ عبد الرحمن آل شیخ کاکہناھے کہ احادیث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں ھر اس شخص کے لئے لعنت کی گئی ھے جو قبروں پر چراغ جلائے یا قبروں پر کوئی چیز لکھے یا ان کے اوپر کوئی عمارت بنائے۔ 80
حافظ وھبہ کا کہنا ھے کہ قبروں کے بارے میں چار چیزوں پر توجہ کرنا ضروری ھے:
۱۔ قبروں پر عمارت وغیر ہ بنانا اوران کی زیارت کرنا۔
۲۔ وہ اعمال جو بعض لوگ قبروں کے پاس انجام دیتے ھیں مثلاً دعا کرنا نماز پڑھنا وغیرہ۔
۳۔ قبروں پر گنبد اور ان کے نزدیک مساجد بنانا۔
۴۔ قبروں کی زیارت کے لئے سفر کرنا۔
قبروں کی زیارت، ان سے عبرت حاصل کرنا یا میت کے لئے دعا کرنا اور ان کے ذریعہ آخرت کی یاد کرنا، اگر سنت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مطابق هو تو مستحب ھے، لیکن قبور کے لئے سجدہ کرنا یا ان کے لئے جانور ذبح کرنا یا ان سے استغاثہ کرنا شرک ھے، اسی طرح ان پر اور وھاں موجود عمارت پر رنگ وروغن کرنا یہ تمام چیزیں بدعت ھیں جن سے منع کیا گیاھے، اسی وجہ سے وھابیوں نے مکہ اور مدینہ میں موجود قبروں کی عمارتوں کو مسمار کردیا ھے، جیسا کہ ایک صدی پھلے (حافظ وھبہ کی کتاب لکھنے سے ایک صدی قبل جو تقریباً ۱۴۰سال پھلے کا واقعہ ھے) مکہ او رمدینہ کی قبروں پر موجود تمام گنبدوںکو مسمارکردیاگیا، اسی طرح حافظ صاحب کھتے ھیں کہ قبروں کی زیارت کے لئے سفر کرنا بھی بدعت ھے۔ 81
قبروں کے پاس اعتکاف کرنابھی شرک کے اسباب میں سے ھے بلکہ خود یہ کام شرک ھے،82 سب سے پھلے رافضی لوگ شرک اور قبور کی عبادت کے باعث هوئے ھیں، اور یھی وہ لوگ ھیں جنھوں نے سب سے پھلے قبروں کے اوپر مسجدیں بنانا شروع کی ھیں۔ 83
وھابیوں کے نزدیک نہ یہ کہ صرف قبور کی زیارتوں کے لئے سفر کرنا حرام ھے بلکہ یہ لوگصاحب قبر کے لئے فاتحہ پڑھنے کو بھی حرام جانتے ھیں، (اور جس وقت انھوں نے حجاز کو فتح کرلیا جس کی شرح بعد میں بیان هوگی)جب بھی کسی شخص کو قبروں پر فاتحہ پڑھتے دیکھتے تھے اس کو تازیانے لگاتے تھے، ۱۳۴۴ھ میں جس وقت حجاز پرتازہ تازہ غلبہ هوا تھا تو اس وقت سید احمد شریف سنوسی کو (جوکہ مشهورومعروف اسلامی شخصیت تھیں) حجاز سے باھر کردیا کیونکہ ان کو مکہ معظمہ میں جناب خدیجہ کی قبر پر کھڑے هوکرفاتحہ پڑھتے دیکھ لیا تھا۔ 84
اسی طرح وھابی حضرات ایک روایت کے مطابق قبروں پر چراغ اور شمع جلانے کو بھی جائز نھیں جانتے، اسی وجہ سے جس وقت سے انھوں نے مدینہ منورہ پر غلبہ پایا اس وقت سے روضہ نبویپر چراغ جلانے کو منع کردیا۔ 85
شیخ محمد بن عبد الوھاب کا کہنا ھے کہ جو شخص کسی غیر خدا سے مدد طلب کرے یا کسی غیر خدا کے لئے قربانی کرے یا اس طرح کے دوسرے کام انجام دے تو ایسا شخص کافر ھے۔ 86
اسی طرح اس نے قبروں پر چراغ جلانا وھاں پر نماز پڑھنا یا قربانی کرنا وغیرہ جیسے مسائل کو زمان جاھلیت کے مسائل میں شمار کیا ھے۔ 87
شیخ عبد الرحمن آل شیخ (شیخ محمد بن عبد الوھاب کا پوتا)کھتا ھے کہ مشرک لوگ جو نام بھی اپنے شرک کے اوپر رکھیں ،وہ بھر حال شرک ھے، مثلاً مُردوں کا پکارنے، یا ان کے لئے قربانی یا نذر کرنے کو محبت وتعظیم کانام دیں ،یا وہ نذر جو قبروں کے مجاروں اور خادموں کے لئے کی جاتی ھے یہ کام بھی ہندوستان کے بت خانوں کی طرح ھے، اسی طرح قبروں پر شمع جلانے کی نذر یا چراغ کے تیل کی نذر کرنا بھی باطل ھے مثلاً خلیل الرحمن ،دیگر انبیاء اوراولیاء اللہ کی قبروں پرشمع اورچراغ جلانے کی نذر کرنے کے باطل هونے میں کوئی شک وشبہ نھیں ھے، اور اس طرح کی شمع جلانا حرام ھے چاھے کوئی ان کی روشنائی سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے. 88

قبور کے اوپر عمارت بنانا، وھاں پر نذر اور قربانی کرنا وغیرہ کے بارے میں وضاحت

جیسا کہ معلوم ھے کہ صدر اسلام کے بعد سے قبروں کے اوپر عمارتیں بنانا اور قبروں پر تختی لکھ کر لگانا رائج تھا، چنانچہ علامہ امین ۺ اس سلسلہ میں کھتے ھیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسد مبارک کو ایک حجرے میں دفن کیا گیا اور اگر قبرکے اوپر عمارت کا وجود جائز نھیں تھا تو پھراصحاب رسول اور سلف صالح نے اس حجرے کو کیوں نہ گرایا ،جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر تھی،اور نہ صرف یہ کہ اس حجرے کو نھیں گرایا بلکہ چند بار اس حجرے کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ 89
اسی طرح ھارون الرشید نے حضرت امیر الموٴمنین علی ں کی قبر مبارک پر گنبد بنوایا، اور ایسی ھی دوسری عمارتیں مختلف قبروں پر بنائی گئیں، اور کسی نے بھی اعتراض نہ کیاجن کا تذکرہ تاریخی کتب میں موجود ھے ۔
مجموعی طورپر قبروں گنبد وبارگاہ بنوانا تمام اسلامی فرقوں کی سیرت رھی ھے اور ابن تیمیہ اور اس کے مریدوں کے علاوہ کسی نے بھی اس کی مخالفت نھیں کی، خود ابن تیمیہ نے بھت سی قبروں کے گنبد کی طرف اشارہ کیا ھے جو اس کے زمانہ میں لوگوں کی نظر میں محترم او رمشخص تھے، مثلاً مدینہ منورہ میں وہ گنبد جوجناب عباس (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچاکی قبر)پر تھا اس کے نیچے سات افراد یعنی، جناب عباس،امام حسن، علی ابن الحسین (امام زین العابدین)، ابو جعفر محمد ابن علی (امام باقر) اور جعفر بن محمد (امام صادق) علیهم السلام دفن ھیں، کھتے ھیں کہ فاطمہ زھرا = کی قبر بھی اسی گنبد کے نیچے ھے اور امام حسین ں کا سر بھی یھیں دفن هوا ھے۔ 90
ابن تیمیہ اور اس کے اصحاب کھتے ھیں کہ قبروں پر عمارت بنانے کی بدعت پانچویں صدی کے بعد پیدا هوئی ھے اور جس وقت بھی ان کو مسمار کرنے کا موقع آجائے اس کام میں ایک دن کی بھی تاخیر کرنا جائز نھیں ھے، کیونکہ یہ عمارتیں لات وعزّیٰ کی طرح ھیں بلکہ شرک کے لحاظ سے لات و عزّیٰ سے بھی کھیں زیادہ ھیں۔ 91
قبروں پر صاحب قبر کے نام کی تختی لگانا آج تک رائج ھے، کیونکہ ایسے شواہد موجود ھیں جن سے یہ ثابت هوتا ھے کہ سن ہجری کی ابتدائی صدیوں میں قبروں پر پتھر اور تختیاں لگائی جاتی تھیں۔
مثلاً مسعودی حضرت امام جعفر صادق ںکی وفات کا تذکرہ کرتے هوئے لکھتا ھے کہ آپ بقیع میں دفن ھیں جھاں آپ کے پدر بزرگوار اور جد امجد بھی دفن ھیں اور آپ کی قبر پر مرمر کا ایک پتھر ھے جس پر یہ عبارت لکھی ھے:
”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مِبُیْدِ الاُمَمِ وَمُحْیِ الرَّمَمِ، ہَذَاقَبْرُفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللّٰہِ (ص) سَیِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِیْنَ، وَقَبْرُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَعَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ وَقَبْرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهم السَّلاٰمُ“92
ابن جبیر (چھٹی صدی ہجری کا مشهور ومعروف سیّاح)کھتا ھے کہ بقیع میں جناب فاطمہ بنت اسد کی قبر پر اس طرح لکھا هوا ھے:
”مَاضَمّ قَبْرُ اَحَدٍ کَفَاطِمَةَ بِنْتِ اَسَد رَضِی اللّٰہُ عَنْها وَعَنْ بَنِیْها“
(فاطمہ بنت اسد کی قبر کے مانند کسی دوسرے کو ایسی قبر نصیب نھیں هوئی)
اسی طرح وہ لکھتا ھے کہ جناب بلال (حضرت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موذن) کی قبر جو کہ دمشق میں واقع ھے، ان کی قبر پر جناب بلال کے نام کی تاریخ لکھی هوئی ھے اور ایک دوسری تاریخ لکھی هوئی ھے جس کی عبارت اس طرح سے ھے:
”ہَذَا قَبْرُ اَوْسِ بْنِ اَوْسِ الثَّقَفِیّ“
اور اسی طرح شہداء دمشق کی قبور پرقدیمی تاریخ لکھی هوئی ھے (ظاھراً اس کا مقصد تاریخ کا پتھر ھے) جس میں اس طرح لکھا هوا ھے:
”فِی ہَذَا الْمَوْضِع قَبْرُ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ“
ان کے نام بھی لکھے هوئے ھیں۔ 93
اسی طرح سمهودی روایت کرتے ھیں کہ عقیل ابن ابی طالب نے گھر میں ایک کنواںکھودا، اس کے دوران اس میں سے ایک پتھر نکلا جس پر اس طرح لکھا هوا تھا: ”قَبْرُ اُمِّ حَبِیْبَةِ بِنْتِ صَخْرِ بْنِ حَرْبٍ“جب جناب عقیل نے اس پتھر کو دیکھا تو انھوں نے اس کنویں کو بند کردیا اور اس کے اوپر ایک عمارت بنادی اسی طرح ایک اور پتھر دریا فت هوا جس پر لکھا هوا تھا: ”اُمِّ سَلْمَةٍ زَوْجِ النَّبِیِّصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم “ اور ایک قول کے مطابق بقیع سے ایک پتھر نکلا جس کے اوپر اس طرح لکھا هوا تھا : ”ہَذَا قَبْرُ اُمِّ سَلْمَةٍ زَوْجِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم “94
سنن ابن ماجہ میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث ”نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اَنْ یُکْتَبَ عَلَی الْقُبُوْرِ“ ذکر کرنے کے بعد اس طرح تحریر ھے کہ سِندی نے حاکم کا قول نقل کرتے هوئے کھا کہ اس نے اپنی کتاب مستدرک میں مذکورہ حدیث بیان کرنے کے بعد کھا کہ اس حدیث کی سند صحیح ھے لیکن اس پر عمل نھیں هو ا ھے اور تمام ائمہ کی قبور پر لکھا جاتا ھے اور یہ وہ کام ھے جس کو خلف (بعد والوں) نے سلف (اصحاب وتابعین) سے لیا ھے 95 اور قبروں کے پتھروں پر لکھنے کے علاوہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ کے بعد سے قبروںپر نشانی لگائی جاتی تھی جس طرح کہ خود پیغمبر اکرمنے عثمان بن مظعون کی قبر پر ایک پتھر کے عنوا ن سے نشانی لگایا۔ 96
اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراھیم کی قبر پر پانی چھڑکا اور ایک نشانی بنائی۔ 97
اب رھی بات کسی کے لئے گوسفند ذبح کرنا تو اس سلسلہ میں بھی علامہ امین ۺفرماتے ھیں کہ کسی غیر خدا کے لئے اس نیت سے قربانی یا نحر کرنا کہ اس قربانی سے غیر خدا کا تقرب حاصل هو 98 اور قربانی کرتے وقت خدا کے نام کے بجائے غیر خدا کا نام لیا جائے اور اس غیر خدا کو خدا کی طرح قرار دیا جائے، تو یہ کام کفر اور شرک ھے، اور یہ اسی قسم کی قربانی ھے جس کو وھابیوں نے گمان کیا ھے کہ دوسرے اسلامی فرقے اسی کو انجام دےتے ھیں،جبکہ اس کا یہ گمان صحیح نھیں ھے اور حقیقت سے دور ھے، کیونکہ وہ قربانی جس کو مسلمان قبور کے نزدیک انجام دیتے ھیں وہ خدا کے لئے هوتی ھے اور اس قربانی کا قصد اس کے علاوہ کچھ اور نھیں هوتا کہ میں اس ذبح کو خدا کی خوشنودی کے لئے انجام دیتا هوں اور اس کے گوشت کو فقراء اور خدا کے بندوں پر تصدق کرونگا اور اس کا ثواب صاحب قبر کے لئے ہدیہ کروں گا، اور اس طریقہ پر کی جانے والی قربانی صحیح اور بھتر ھے اور یھی قربانی خدا کی اطاعت شمار هوگی، چاھے اس کا ثواب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا دیگر انبیاءعلیهم السلامیا اپنے ماں باپ یا کسی دوسرے کو ہدیہ کرے، کیونکہ قربانی سے کسی مسلمان کا قصد بت پرستوں کی طرح نھیں ھے کہ وہ لوگ قربانی کو تقرب کا وسیلہ جانتے ھیں۔
اور نذر کے سلسلہ میں جواب بھی بالکل اسی طرح ھے جس کا ھم نے ابھی ذکر کیا ھے۔
قبور کے پاس چراغ اور شمع جلانے کے مسئلہ میںعرض ھے کہ جن روایات کے ذریعہ وھابی یہ ثابت کرتے ھیں کہ قبور پر چراغ جلانا حرام ھے، پھلی بات تو یہ ھے کہ ان روایات کی سند ضعیف ھے، اور اگر بالفرض ان کی سند کو صحیح مان بھی لیں کہ تو اس کا جائز نہ هونا یا اس وجہ سے ھے کہ قبروں پر شمع جلانے میں کوئی فائدہ تصور نھیں کیا جاسکتا، لہٰذا گویا شمع جلانا یعنی مال کو ضایع کرنا ھے، یا ان روایات کا مقصد غیر انبیاء اور اولیاء اللہ کی قبروں پر شمع جلانے کی ممانعت ھے۔
لیکن قبروں پر قرآن یادعا پڑھنے والوں کے لئے یا زائرین کی سهولت کے لئے یا ان لوگوں کے لئے جو پوری پوری رات قبروں کے پاس رھتے ھیں تو ایسے موارد کے لئے شمع جلانا نہ مکروہ ھے اور نہ حرام، بلکہ نیک کام میں مدد کے عنوان سے ھے کیونکہ خداوندعالم نیکیوں میں مدد کرنے کا حکم دیتا ھے:” تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْویٰ“
دوسری بات یہ ھے کہ تِرمذی جناب ابن عباس سے نقل کرتے ھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک رات کسی قبر پرگئے تو آپ کے لئے وھاں چراغ روشن کیا گیا، اور عزیزی (شرح جامع صغیر) کے بقولقبروں پر چراغ جلانے کی ممانعت وھاں کے لئے ھے کہ جھاںکو ئی زندہ اس سے کوئی فائدہ اٹھانے والا نہ هو۔ 99

اس کی وضاحت کہ رافضیوں نے ھی قبور کی عبادت اور شرک کی ابتداء کی ھے اور قبروں پر مسجد کے بانی بھی یھی ھیں

افسوس کی بات تو یہ ھے کہ کبھی کبھی عقیدہ ،سلیقہ یا احادیث کے سمجھنے میں اختلاف ،تفرقہ، دشمنی اور تعصب کا سبب بن جاتا ھے اور اس صورت میںچا ھے مخالف کی دلیل کتنی ھی منطقی کیوں نہ هو، اس کو قبول نھیں کیا جاتا، اور جو کچھ بھی وہ کھے اس کو غلط تصور کیا جاتا ھے، جس وقت سے شیعہ مذھب بعض وجوھات کی بناپر بھت سے اسلامی فرقوں کی نظر اعتراض کا نشانہ قرار پایا ھے، (جیسا کہ ھم نے اس کتاب میں چند مرتبہ بیان بھی کیا ھے) شیعوں کے معمولی سے کام کو بھی الٹا پیش کیا جا تاھے، اور اس کے علاوہ مختلف تھمتیں لگانے میں بھی کوئی کمی نھیں کی جا تی۔
منجملہ زیارت کا مسئلہ جس پر ابن تیمیہ اور وھابیوں نے نامعلوم کتنے اعتراضات کر ڈالے، جبکہ قبور کی زیارت مختلف اسلامی فرقے انجام دیتے آئے ھیں اور انجام دے رھے ھیں، اور مذاھب اربعہ کے بزرگوں کی بھت سی قبروں کا دوسری صدی کے بعد سے عام وخاص کی طرف سے احترام کیا جارھاھے اور ان کی زیارت هوتی آئی ھے۔
یھاں تک کہ آج بھی مسجد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آنحضرت کے روضہ مطھر اور ضریح کے سامنے بھت سے لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر وعمر کی زیارت پڑھتے ھیں اور ان زیارتوں کے وھی جملے ھیں جن کو شیعہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ کی ضریحوں کے پاس پڑھتے ھیں، عجیب بات ھے کہ یھی کام اگر دوسرے اسلامی فرقے انجام دیں تو ان پر اعتراض نھیں هوتا لیکن اگر یھی کام ھم انجام دیں تو کیونکہ شیعہ ھیں اس وجہ سے زیارت کو عبادت کہہ دیا جاتا ھے، اور اس زیارت کا کرنے والا مشرک کھلاتا ھے، معلوم نھیںشیعہ زیارتوں میں کیا کھتے ھیں جو دوسرے نھیں کھتے، یا کیا نھیں کھتے جو دوسرے کھتے ھیں۔ 100 اب رھی یہ بات کہ شیعہ حضرات نے ھی قبروں کی عبادت اور شرک کی بنیاد ڈالی ھے، اور قبروں پر مساجد بنانا شروع کی ھیں، جیسا کہ یہ بات شیخ عبد الرحمن محمد بن عبد الوھاب کے پوتے سے نقل هوئی ھے، موصوف فتح المجید کے حاشیے میں اس طرح کھتے ھیں کہ عبیدیوں (جو خود کو جھوٹ موٹ فاطمی کھتے ھیں) نے ھی سب سے پھلے قبروں کے پاس مسجدیں بنانا شروع کی، جیسا کہ قاھرہ شھر میں امام حسینںکے لئے ایک عظیم گنبد، عمارت اور اس کے برابر میں ایک عظیم الشان مسجد بنائی۔
مذکورہ مطلب کے بارے میں اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ھے کہ قبور کی زیارت، اسی طرح قبروں پر عمارت یا گنبد بنانا، یہ کام شیعوں سے مخصوص نھیں ھے بلکہ شروع ھی سے اسلامی فرقے اپنے بزرگوں کی قبروں پر بھترین عمارتیں بنایا کرتے تھے ان کے لئے بھت سی چیزیں وقف بھی کیا کرتے تھے اور ان کی زیارت کے لئے بھی جایا کرتے تھے اب بھی یہ سلسلہ جاری وساری ھے۔
بغداد میں ابوحنیفہ کی قبر پر ایک قدیمی بڑا اور سفید گنبد اب بھی موجود ھے، جس کی ابن جُبیر نے توصیف بھی کی ھے،101 اور آج بھی ابو حنیفہ کی قبر کا گنبدبھت خوبصورت ھے جس کی دور اور نزدیک سے ہزاروں لوگ زیارت کے لئے جاتے ھیں، اسی طرح احمد ابن حنبل کی قبر 102 اوربغداد میں شیخ عبد القادر جیلانی کی قبر، اسی طرح مصر کے قرافہ شھر میں امام شافعی کی قبرمذاھب اربعہ کے بزرگوں کی بھت سی قبریں مختلف اسلامی ملکوں میں زیارتگاھیں بنی هوئی ھیں۔
نجد اور حجاز میں وھابیوں کے غلبہ سے پھلے بھی بھت سے گنبداور عمارتیں موجود تھیں جن کی زیارت کے لئے لوگ جایا کرتے تھے اور ان کے اوپر بھت زیادہ عقیدہ رکھتے تھے، لہٰذا یہ دعویٰ کرنا کہ قبروں کی زیارت کی ابتداء کرنے والے شیعہ ھیں باطل اور بے بنیاد ھے۔
اسی طرح قبروں پر اور ان کے اطراف میں عمارتیں بنانا بھی شیعوں سے مخصوص نھیں ھے، بلکہ شروع ھی سے یہ کام مختلف اسلامی فرقوں سے چلا آرھا ھے، اور قبروں پر عمارتوں کا رواج تھا:
ابن خلکان کھتا ھے:۴۵۹ھ میں شرف الملک ابو سعد خوارزمی ،ملک شاہ سلجوقی کے مستوفی (حساب دار) نے ابو حنیفہ کی قبر پر ایک گنبد بنوایا، اور اس کے برابر میں حنفیوں کے لئے ایک مدرسہ بھی بنوایا، ظاھراً ابو سعد نے مذکورہ عمارت ”آلُپ ارسلان سلجوقی“ کی طرف سے بنوائی ھے 103
اسی طرح ”ابن عبد البِرّ“ (متوفی۴۶۳ھ)کی تحریر کے مطابق، جناب ابو ایوب انصاری کی قبر قسطنطیہ (اسلامبول) کی دیوار کے باھر ظا ھرھے اور لوگوں کی تعظیم کا مر کزھے اور جب بارش نھیں هوتی تو وھاں کے مسلمان ان سے متوسل هوتے ھیں۔ 104
ابن الجوزی۳۸۹ھ کے واقعات کو قلمبند کرتے هوئے کھتا ھے کہ اھل سنت مُصعب بن الزبیر کی قبر کی زیارت کے لئے جاتے ھیں جس طرح شیعہ حضرات امام حسین ں کی قبر کی زیارت کے لئے جاتے ھیں۔ 105
ابن جُبیر، چھٹی صدی کا مشهور ومعروف سیاح اس طرح کھتا ھے کہ مالکی فرقہ کے امام، امام مالک کی قبر قبرستان بقیع میں ھے، جس کی مختصر سی عمارت اور چھوٹا ساگنبد ھے اور اس کے سامنے جناب ابراھیم فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر ھے جس پر سفید رنگ کا گنبد ھے۔ 106
مذاھب اربعہ کے بزرگوں کی قبروں پر گنبدهونا، ان پر عمارتیں بنانا،ان کے لئے نذر کرنا، وھاں پر اعتکاف کرنا ،ان سے توسل کرنا ،صاحب قبر کی تعظیم وتکریم کرنا او روھاں دعا کے قبول هونے کا اعتقاد رکھنا بھت سی تاریخی کتابوں میں موجود ھے اور اس وقت بھی قاھرہ، دمشق اور بغداد اور دوسرے اسلامی علاقوں میں ان کے بھت سے نمونے اور قبروں پر مراسم هوتے ھیں جنھیںآج بھی دیکھاجاسکتا ھے۔
لیکن یہ کہنا کہ شیعوں نے سب سے پھلے قبروں پرمسجدیں بنائی ھیں، یعنی قبروں کو مسجد قرار دیا ھے تو اس سلسلہ میں چند چیزوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری ھے:
۱۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق قبرستان میں نماز پڑھنا مکروہ ھے لہٰذا مقبروں کو مسجد کے حکم میں جاننا ان کے عقیدوں کے مطابق نھیں ھے، (جبکہ ھم نے ابن تیمیہ کے عقائد میں اس بات کو بیان کیا ھے کہ امام مالک مقبروں میں نماز کو جائز جانتے تھے اور ابوحنیفہ اور دوسرے لوگ قبرستان میں نماز پڑھنے کو مکروہ جانتے تھے)
۲۔ شیعہ حضرات جو مسجدیں قبروں کے پاس بناتے ھیں وہ مقبروں سے کچھ فاصلہ پر اور مقبروں سے جدا هوتی ھیں، وہ مسجد راٴس الحسینںجس پر بعض حضرات خصوصاً صاحب فتح المجید، شدت سے اعتراضات کرتے ھیں مقبرہ سے بالکل جدا ھے اور صرف مقبرہ کے ایک در سے مسجد میں وارد هوا جاسکتا ھے، یعنی نماز پڑھنے کی جگہ جدا ھے اور زیارت گاہ جدا ھے، خلاصہ یہ کہ جو مسجدیں شیعوں نے مقبروں کے پاس بنائی ھیں ان کا فاصلہ مسجد النبوی اور قبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فاصلے سے زیادہ ھے۔
۳۔ قبروں کے پاس مسجدیں بنانا شیعوں سے مخصوص نھیں ھے بلکہ مختلف فرقے قدیم زمانہ سے قبروں کے پاس مسجدیں بناتے آئے ھیں، منجملہ ابن جوزی کی تحریر کے مطابق (محرم۳۸۶ھ کے واقعات کے ضمن میں) اھل بصرہ نے یہ دعویٰ کیا کہ ایک تازہ مردہ (ان کے عقیدے کے مطابق زُبیر بن العَوّام) کو قبر سے نکالا اور اس کے بعد اس کو کفن پہنایا اور زمین میں دفن کردیا، اور ابوالمِسک نے اس کی قبر پر ایک عمارت بنائی اور اس کو مسجد قرار دیدیا۔ 107 اسی طرح بصرہ میں بھی طلحہ (جو کہ جنگ جمل میں قتل هوئے) کی قبر پر ایک گنبد بنایااور اس کے پاس ایک مسجد اورعبادتگاہ بھی بنائی گئی۔ 108
لیکن یہ کہنا کہ سب سے پھلے فا طمیوں نے قبر کے پاس (راٴس الحسینں) مسجد بنائی اس سلسلہ میں بھی دو چیزوں کی طرف توجہ کرنا ضروری ھے:
۱۔ مَقریزی کی تحریر کے مطابق، حضرت امام حسینںکا سر عسقلان سے شام لانا ۸جمادی الآخر۵۴۸ھ بروز یکشنبہ ھے اور وھاں پر عمارت کا بننا۵۴۹ھ میں تھا۔ 109
اور یہ بات طے ھے کہ اس زمانہ میں فاطمی ختم هوتے جارھے تھے اور اس وقت کی باگ ڈور ان کے وزیروں کے ھاتھوں میں تھی اور اس زمانہ کا صاحب اقتداروزیر ”طلایع بن رُزّیک “ معروف تھا کہ خلیفہ وقت اس کی قید میں اسیر تھا، اور ان دونوں کے درمیان اس قدر جنگ وجدال تھی کہ خلیفہ طلایع کو قتل کرنے کے مختلف پروگرام بناتا رھا یھاں تک کہ ایک پروگرام کے تحت اس کو قتل کردیا۔ 110
اور یہ طلایع وھی ھے جو حضرت امام حسین ںکا سر قاھر ہ لے کر آیا اور موجودہ جگہ لاکر دفن کیا۔ 111
۲۔ لیکن جومسجد ”راس الحسین ںسے متصل ھے وہ کسی بھی وقت فا طمیوں سے مربوط نھیں رھی بلکہ سلسلہ فاطمی کے خا تمہ کے بر سوں بعد اور صلاح الدین ایوبی جو سادات کو نیست و نابود کرنے والا تھا اسی کے زمانہ میں اس کے وزیر قاضی فاضل عبد الرحیم (متوفی۵۹۶ھ) کے ھا تھوں بنائی گئی اورمسجد کے برابر میں ایک وضو خانہ بنایا اور ایک سقاخانہ بھی بنوایا، اور بھت سی چیزوں کو وقف کیا۔ 112

۸۔ قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت

اس سے قبل ابن تیمیہ کے عقائد میں بیان هوچکا ھے کہ وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کے بارے میں کھتا ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کے مستحب هونے کے بارے میں کوئی حدیث وارد نھیں هوئی ھے، اور زیارت کے بارے میں جو احادیث وارد هوئی ھیں وہ سب غیر صحیح اور جعلی ھیں، اور اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وجود ان کی زندگی کی طرح ان کی وفات کے بعد بھی ھے تو گویا اس نے بھت بڑی غلطی کی ھے۔
چنانچہ وھابی حضرات بھی اسی طرح کا عقیدہ رکھتے ھیں بلکہ ابن تیمیہ سے بھی ایک قدمآگے ھیں۔
خلاصہ یہ کہ وھابیوں کے یھاں زیارت نام کا کوئی عمل نھیں ھے، چنانچہ اسی نظریہ کے تحت تمام قبریں مسمار کردی گئیں اور روضہ رسول کو بھی اس کی حالت پر چھوڑ دیا گیا، اور اس وقت اس طرح ھے کہ کوئی بھی آپ کی قبر مطھر کے نزدیک نھیں هوسکتا ھے اور آپ کی قبر مطھر ھر گز دکھا ئی نھیں دیتی ۔
روضہ منورہ کے چاروں طرف دیوار ھے اور ھر طرف ایک حصے میں جالی لگی هوئی ھے اور ان جالیوں کے پاس وھاں کے شرطے (محافظ) کھڑے رھتے ھیں او راگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضہ کی جالی کے نزدیک هونا یا ھاتھ لگانا چاھتا ھے تو وہ روک دیتے ھیں، اور اگر کوئی شرطوں کی غفلت کی وجہ سے جالیوں کے اندر سے جھانک کر دیکھتا بھی ھے تو پھلے تو وھاں تاریکی نظر آتی ھے اور جب اس کی آنکھیں کام کرنا شروع کرتی ھیں تواندر دکھائی دیتا ھے کہ ایک ضخیم پردہ ھے جو قبر کے چاروں طرف زمین سے چھت تک موجود ھے لہٰذا قبر مطھر کو بالکل دیکھا نھیں جاسکتا۔
ابن تیمیہ اور اس کے پیرو کاروں کا عقیدہ ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کرنا حرام ھے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم او ردوسروںکی قبر میں فرق کے قائل هونے کے بارے میں ابن تیمیہ کے عقائد کی بحث میں تفصیل سے بیان هوچکا ھے لہٰذا تکرار کی ضرورت نھیں ھے۔

مرقد مطھر حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے استحباب کے بارے میں وضاحت

یھاں پر ان چند حدیثوں کو بیان کرنا ضروری ھے جو قبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے مستحب هونے پر دلالت کرتی ھیں اور وہ احادیث بھی جو دلالت کرتی ھیں کہ جو لوگ حضرت کو سلام کرتے ھیںآنحضرت ان کے سلام کا جواب دیتے ھیں، تاکہ معلوم هوجائے کہ ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں کا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت سے متعلق عقیدہ ان تمام احادیث کے مخالف ھے جو خود اھل سنت کے طریقوں سے بیان هوئی ھیں۔
تقی الدین سُبکی (متوفی۷۵۶ھ) نے کتاب ”شفاء السُقام فی زیارة خیر الانام “کے باب اول میں تقریباً پندرہ حدیثیں زیارت قبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میںبیان کی ھیں، مثلاً:
۱۔ ”مَنْ زَارَنِی مُتَعَمِّداً کَانَ فِیْ جَوَارِیْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ“
(جو شخص اپنے ارادے اور قصد سے میری زیارت کرے، ایسا شخص روز قیامت میرا پڑوسی اور میری پناہ میں هوگا)
۲۔ ”مَا مِنْ اَحَدٍ مِنْ اُمَّتِی لَہُ سَعَةٌ ثُمَّ لَمْ یَزُرْنِی فَلَیْسَ لَہُ عُذْرٌ“
(جو شخص قدرت رکھتے هوئے بھی میری زیارت نہ کرے تو اس کا کوئی عذر بھی قابل قبول نھیں ھے۔ ) 113
اسی طرح جناب نور الدین سَمُهودی نے اپنی معروف کتاب ”وفاء الوفاء باخبار المصطفیٰ ‘ ‘ میں پیغمبر اکرمکی زیارت سے مربوط فصل میں تقریباً ۱۷ حدیثیں بیان کی ھیں منجملہ ان کی دار قطنی اور بیہقی سے ابن عمر کی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیث کہ آپ نے فرمایا:
۳۔ ”مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہُ شَفَاعَتِیْ“
(جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی مجھ پراس کی شفاعت واجب ھے)
سمهودی نے مذکورہ حدیث کی مختلف اسناد بیان کی ھیں۔
اسی طرح ایک دوسری حدیث جس کو بزّازنے عبد اللہ بن ابراھیم غفاری سے اور انھوں نے عبداللہ ابن عمر سے اور انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیاھے :
۴۔ ”مَنْ زَارَ قَبْرِیْ حَلَّتْ لَہُ شَفَاعَتِی“
(جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی تو اس پرمیری شفاعت جائز ھے)
اسی طرح ابن عمر سے طبرانی کی روایت کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
۵۔ ”مَنْ جَاءَ نِی زَائِراً لاٰ تَحْمِلُہُ حَاجَةٌ اِلاّٰ زِیَارَتِی کَانَ حَقّاً عَلَیَّ اَنْ اَکُوْنَ لَہُ شَفِیْعاً یَوْمَ الْقِیَامَةِ“
(جو شخص میری زیارت کے لئے آئے او رکوئی دوسری غرض نہ رکھتا هو، تو مجھ پر روز قیامت اس کی شفاعت کرنا واجب ھے)
اسی طرح دار قطنی اور طبرانی ابن عمر سے روایت کرتے ھیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
۶۔ ”مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِیْ بَعْدَ وَفَاتِیْ کَانَ کَمَنْ زَارَنِیْ فِی حَیَاتِیْ“
(جو شخص میری وفات کے بعد حج کرے اور اس کے بعد میری زیارت کرے تو گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی ھے)
اسی طرح ابن عدی ابن عمر کے ذریعہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث نقل کرتے ھیں :
۷۔ ”مَنْ حَجَّ الْبَیْتَ وَلَمْ یَزُرْنِی فَقَدْ جَفَانی “
(جو شخص حج بجالایا اور میریزیارت کے لئے نھیں آیا تو بتحقیق اس نے مجھ پر جفا کی)
اسی طرح دار قطنی نے حاطب سے روایت کی ھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
۸۔ ”مَنْ زَارَنِیْ بَعْدَ مَوْتِیْ فَکَانَّمَا زَارَنِی فِیْ حَیَاتِی“
(جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی)
اسی طرح ابو الفتوح سعید بن محمد الیعقوبی نے ابوھریرہ سے روایت کی ھے کہ آنحضرت نے فرمایا :
۹۔ ”مَنْ زَارَنِیْ بَعْدَ مَوْتِی فَکَاَنَّمَا زَارَنِی وَاَنَا حَیٌّ وَمَنْ زَارَنِی کُنْتُ لَہُ شَہِیْداً اَوْ شَفِیْعاً یَوْمَ الْقِیَامَةِ“
(جس شخص نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی، گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی، اور جس شخص نے میری زیارت کی میں روز قیامت اس کا گواہ یا اس کا شفیع بنوں گا)
اسی طرح ابن ابی الدنیا نے انس بن مالک سے روایت کی ھے کہ رسول اللہ نے فرمایا:
۱۰۔ ” مَنْ زَارَنِیْ بِالْمَدِیْنَةِ کُنْتُ لَہُ شَہِیْداً وَ شَفِیْعاً یَوْمَ الْقِیَامَة“ 114
(جو شخص مدینہ میں میری زیارت کرے، روز قیامت میں اس کا گواہ اور شفیع هونگا)
۱۱۔ ” مَنْ زَارَنِیْ بِالْمَدِیْنَةِ مُحْتَسِباً کُنْتُ لَہُ شَہِیْداً وَ شَفِیْعاً یَوْمَ الْقِیَامَة“ 115
(جو شخص ثواب کی خاطر مدینہ میں میری زیارت کرے تو روز قیامت میں اس کے نیک عمل کی شھادت او رگواھی دوں گا اور اس کی شفاعت کروں گا)
نیز اسی طرح وہ دوسری روایتیں جن کو سمهودی نے حضرت امیر المومنین اور ابن عباس اور بکر بن عبد اللہ سے نقل کیا ھے۔
صاحب کتاب” عمدة الاخبار“ وھابیوں کی معتبر کتابوں سے نقل کرتے ھیں کہ سید الاولین والآخرین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت ان نیکیوں میں سے ھے کہ اگر کوئی فطرت سلیم رکھتا هو، اس میں شک نھیں کرسکتا، وہ بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت جن کیعظمت اور بزرگیقرآن مجید میں چند مرتبہ بیان کی ھے۔
اور اس کے بعد موصوف نے قرآن مجید کی وہ آیات ذکر کی ھیں جن میں آنحضرت کی عظمت بیان کی گئی اور اسی طرح چند وہ احادیث بھی بیان کی ھیںجو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مربوط تھیں اور اس کے بعد کھتے ھیں:
وہ دلیلیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر شریف کی زیارت کے جائز هونے پر دلالت کرتی ھیں بھت زیادہ ھیں، جیساکہ ھم نے بعض کی طرف اشارہ کیا اور ابوھریرہ سے مروی ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :
” قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ قبروں کی زیارت تمھیں آخرت کی یاد دلاتی ھے“۔
فضیلت زیارت قبور کی بحث کرتے هوئے موصوف کھتے ھیں کہ صالحین کے برابر میں دفن هونا مستحب ھے ۔
اسی طرح شب میں قبروں کی زیارت مستحب ھے، کیونکہ جناب مُسلِم نے جناب عائشہ سے روایت کی ھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت قبرستان بقیع میں جایا کرتے تھے۔ 116
آنحضرت کی وفات کے بعد آپ پر سلام بھیجنے کے بارے میں ابو داؤدصحیح سند کے ساتھ ابوھریرہ سے روایت کی ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”مَا مِنْ اَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَیَّ اِلاّٰ رَدَّ اللّٰہُ رُوْحِی حَتّٰی اَرِدَ عَلَیْہِ السَّلاٰمَ“
(اگر کو ئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ھے،تو خداوندعالم میری روح پلٹا دیتا ھے تاکہ میں سلام کرنے والوں کو سلام کا جواب دوں)117
مُنذری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے علم کے بارے میں روایت کی ھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”عِلْمِیْ بَعْدَ وَفَاتِی کَعِلْمِیْ فِی حَیَاتِیْ “
(میرا علم میری وفات کے بعد بھی ایسا ھی ھے جیسا میری زندگی میں ھے)
بیہقی کھتے ھیں کہ انبیاءعلیهم السلامکی وفات کے بعد ان کی حیات کے ثبوت پر بھی بھت سی صحیح روایات موجود ھیں۔ 118



1. رسالہ ہدیہٴ طیبہ ص ۸۲، ورسالہ عقیدة الفرقة الناجیہ ص ۱۹۔
2. اس کی یہ بات ظاھراً ابن تیمیہ کی بات سے ماخوذ ھے کہ ابن تیمیہ نے بھی اسی بات کو کتاب العبودیہ ص ۱۵۵ میں کھا ھے۔
3. ثلاث رسائل ص ۶، شیخ عبد الرحمن آل شیخ نے کھا ھے کہ اگر کوئی خدا کی محبت میں کسی دوسرے کو خدا کا شریک قرار دے، (یعنی کسی دوسرے سے بھی محبت کرے) تو گویا اس نے دوسرے کو خدا کی عبادت میں شریک قرار دیا ھے اور اس کو خدا کی طرح مانا ھے، اور یہ وہ شرک ھے جس کو خدا معاف نھیں کرے گا، اگر کوئی شخص صرف خدا کو چاھتا ھے یاکسی دوسرے کو خدا کے لئے چاھتا ھے تو ایسا شخص موحد ھے، لیکن اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو خدا کے ساتھ دوست رکھتا ھے تو ایسا شخص مشرک ھے، (فتح المجید ص ۱۱۴)
4. آلوسی ص ۴۵۔
5. اس سلسلہ میںمرحوم علامہ حاج سید محسن امین ۺفرماتے ھیں کہ اس میں کوئی شک نھیں کہ مطلق طور پرغیر خدا سے طلب حاجت کرنا یا ان کو پکارنا، ان کی عبادت نھیں ھے اور اس میں کوئی ممانعت بھی نھیں ھے، اس بناپر اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو پکارتا ھے تاکہ اس کے پاس جائے یا اس کی مدد کرے یا کوئی چیز اس کو دے یا اس کی کوئی ضرورت پوری کرے، اس طرح کے کام غیر خدا کی عبادت حساب نھیں هوتے، اور کسی طرح کا کوئی گناہ بھی نھیں ھے، اور آیہ شریفہ <فَلاٰ تَدْعُوامَعَ اللّٰہ اَحَداً ۔ > (جو وھابیوں کی دلیل ھے)کامقصد مطلق دعا نھیں ھے بلکہ جس چیز سے نھی کی گئی ھے وہ یہ ھے جس سے کوئی چیز طلب کررھے هو یا جس کو پکار رھے هو اس کو خدا کی طرح قادر اور مختار نہ مانو، (کشف الارتیاب ص ۲۸۲)
6.
7. کشف الشبھات ص ۴۰۔
8. تاریخ نجد ص ۸۰۔
9. سورہ آل عمران آیت ۷۵، امان نامہ کی عبارت تاریخ وھابیان میں بیان هوگی۔
10. حافظ وھبہ ص ۳۴۶، شوکانی کی تحریر کے مطابق اھل مکہ بھی وھابیوں کو کافر کھتے تھے، (البدر الطالع ج۲ ص۷)
11. تاریخ المملکة العربیة السعودیة جلد اول ص ۴۳۔
12. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۳۹، نجدی مورخ شیخ عثمان بن بشر اکثر مقامات پر وھابیوں کو مسلمانوں سے تعبیر کرتا ھے گویا فقط وھی لوگ مسلمان ھیں اور دوسرے مسلمان کافر یا مشرک ھیں، (عنوان المجد نامی کتاب میں رجوع فرمائیں) اسی طرح وہ کھتا ھے کہ ۱۲۶۷ھ میں قطر کے لوگوں کی فیصل بن ترکی کے ھاتھوں پر بیعت اسلام اور جماعت میں داخل هونے کی بیعت تھی، (ج۲ ص ۱۳۲)
13. فتح المجید ص ۱۱۰۔
14. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۳۹،”ابن وردی“ کھتا ھے کہ جس وقت مصر کے بادشاہ نے مغلوں کی کثرت سپاہ کو دیکھا تو اپنی زبان سے یہ جملہ کھا ”یا خالد بن ولید“، اس وقت ابن تیمیہ صاحب بھی تشریف رکھتے تھے انھوں نے اس کام سے روکا او رکھا کہ یہ نہ کہہ، بلکہ ”یامالک یوم الدین“ کہہ۔ (جلد ۲ص ۴۱۱)
15. جزیر ة العرب ص ۳۴۱۔
16. تاریخ المملکة العربیہ، جلد اول ص ۵۱۔
17. البد ر الطالع ج ۲ ص ۵،۶۔
18. کتاب التوحید ص ۱۲۱۔
19. کتاب التوحید ص ۴۲۵، غیر خدا کی قسم کے بارے میں ابن تیمیہ کے عقائد کے ذیل میں وضاحت کی گئی ھے۔
20. فتح المجید ص ۴۳۶۔
21. فتح المجید ص ۴۶۴، یہ حدیث مسند احمد، مسند ابوھریرہ جلد دوم ص ۲۴۳ میں اس طرح ھے: ”اِذَا دَعَا اَحَدُکُمْ فَلاٰیَقُلْ:اللھم اِغْفِرْ لِی اِنْ شِئْتَ وَلٰکِنْ لِیَعْزَمْ بِالْمَسْئَالَةِ فَاِنَّہُ لاٰ مُکْرِہ لَہُ“
22. فتح المجید ص ۴۶۶۔
23. فتح المجید ص ۴۷۵۔
24. ھٰذی ھی الوھابیہ ص ۷۴،مطبوعہ بیروت۔
25. کتاب تطھیر الاعتقاد تالیف شیخ محمد بن عبد الوھاب، ص ۳۶، اور اس کے نو رسائل، ص ۴۵، پر بھی یہ بات بیان کی گئی ھے۔
26. بنقل از تطھیر الاعتقاد ص ۳۰، ۴۱۔
27. نقل از منشور سلطان عبد العزیز، بتاریخ۱۳۲۳ھ، شیخ محمد بن عبد الوھاب کھتا ھے کہ مسلمان کو چاہئے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت کو خدا سے طلب کرے، مثلاً اس طرح کھے:” اَللّٰهم لاٰ تَحْرِمْنِی شَفَاعَتَہُ، اَللّٰهم شَّفِعہُ لِی“۔ (کشف الشبھات ص ۴۴)
28. نوعدد رسائل عملیہ سے منقول ص ۱۱۰،۱۱۴۔
29. نقل از فتح المجید ص ۴۱۴۔
30. کتاب التوحید ص ۱۴۱،۱۴۲۔
31. فتح المجید، شرح کتاب توحید محمد بن عبد الوھاب ص ۱۰۶۔
32. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۴۱۔
33. اصحاب کے گذشتہ عمل سے مراد ابوبکر کی عرب کے قبیلوں سے جنگ ھے کہ جب بعض لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد زکوٰة دینے سے انکار کردیا تو جناب ابوبکر نے ان کو مرتد کھا، اور ان سے جنگ کی۔
34. منجملہ ثلاث رسائل، مخصوصاً کشف الشبھات ص ۵۰اوراس کے بعد تک۔
35. مسند احمد ابن حنبل جلد اول ص ۱۹، ۳۵ مسند عمر۔
36. الاسلام عقیدة وشریعة ص ۳۰۔
37. منقول از امام باقر .
38. قول ابوحنیفہ۔
39. قول ابو الحسن اشعری۔
40. قول ابن تیمیہ۔
41. قول اوزاعی۔
42. قول ابن عینیہ۔
43. قول ابو الحسن رویانی۔
44. قول سفیان ثوری۔
45. ”مَنْ مَاتَ وَهو یَعْلَمُ اَنْ لاٰ اِلَہَ اِلاّٰ اللّٰہ، دَخَلَ الْجَنَّةَ“ نقل از مختار صحیح مسلم وشرح نووی طبع مصر، ناشر سعادت۔
46. کتاب الاسلام بین السنة والشیعہ جلد اول ص ۳۳ تا ۳۶ کا خلاصہ، بنقل از مختار صحیح مسلم اور شرح نووی ص۸۴، ۸۸، ۴۷، ۵۱، کی روایات۔
47. الصواعق الا لٰھیہ ص ۵۵، تا ۶۳۔
48. سورہ فجر آیت ۲۳۔
49. سورہ ق، آیت ۱۵، اس سلسلہ میں ابن تیمیہ کی کتابوں اور رسالوں خصوصاً رسالہ العقیدة الحمویہ کی طرف رجوع فرمائیں۔
50. تاریخ نجد ص ۹۰،۹۱۔
51. تاریخ نجد ص ۴۸، معلوم نھیں خداوندعالم کو کس طرح بغیر کیفیت اور احاطہ کے دیکھا جاسکتا ھے؟
52. سورہ مائدہ آیت ۶۴۔
53. سورہ هود آیت ۳۷۔
54. سورہ بقرہ آیت ۱۰۹۔
55. کتاب التوحید فتح المجید کے ساتھ ص ۵۲۰،۵۲۱۔
56. سورہ شوریٰ آیت ۱۱۔
57. فرقہ جھمیہ، جُهم بن صفوان (دوسری صدی کے نصف اول)کے پیروکار ھیں، جو جبر، ایمان اور صفات خدا کے بارے میں مخصوص عقائد رکھتے ھیں
58. الفتاوی الکبریٰ، ج ۲ص ۲۹۶، ۲۹۸ ۔
59. سورہ نساء آیت ۱۶۳،ثلاث رسائل ص ۲۲، مختصر سیرة الرسول ص ۶، عقیدة الفرقة الناجیہ ص ۳۳، البتہ وھابیوں کے علاوہ بعض دوسرے فرقے بھی اس طرح کا عقیدہ رکھتے ھیں۔
60. ثلاث رسائل ص ۸۔
61. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۳۹،۳۴۰۔
62. فتح المجد ص ۱۷۳۔
63.”اُمُّ القریٰ“ اخبار، مطبوعہ مکہ، بتاریخ ۱۱ ذی الحجہ۱۳۶۲ھ، شیخ محمد بن عبد الوھاب کھتا ھے کہ اصحاب پیغمبر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے وسیلہ سے دعا طلب کرتے تھے لیکن آپ کی وفات کے بعد بالکل کسی نے یہ کام نھیں کیا، مثلاً کسی نے بھی آپ کی قبر کے پاس دعا نھیں کی، یھاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے پاس خدا کو پکارنے سے بھی انکار کیا ھے۔ (کشف الشبھات ص ۵۹)
64. فتح المجید ص ۱۷۵۔
65. سورہ زمر آیت ۳۔
66. کشف الشبھات ص ۴۷،۴۸۔
67. الفتوحات الاسلامیہ ج۲ ص ۲۵۸۔
68. کشف الارتیاب ص ۳۰۰۔
69. صحیح بخاری ج۸ ص ۸۲،۸۳۔
70. فتح المجید، ص ۲۱۵۔
71. زمان جاھلیت کے عرب کے دوبتوں کا نام۔
72. کشف الشبھات ص ۳۴۔
73. کشف الارتیاب ص ۳۴۳۔
74. سورہ آل عمران آیت ۳۴۔
75. سورہ یوسف آیت ۲۵۔
76. کشف الارتیاب ص ۳۴۴۔
77. الفتاوی الکبریٰ، ج ۲ص ۲۹۶، ۲۹۸ ۔
78. شرح جامع صغیر ج ۲ ص ۵۷،۵۸۔
79. بتاریخ ۱۱ذی الحجہ ۱۳۶۲ھ، اسی طرح ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوھاب کی کتابوں میں متعدد مقامات پر سید المرسلین اور سیدة نساء العالمین استعمال هوا ھے۔
80. فتح المجید ص ۲۵۷۔
81. جزیرة العرب فی القرن العشرین، ص ۳۴۰، ھم انشاء اللہ وھابیوں کی تاریخ کے ضمن میں یہ بات بیان کریں گے کہ تقریباً ڈیڑھ صدی پھلے چونکہ وہ لوگ مکہ او رمدینہ پر قابض تھے اسی وقت انھوں نے بعض قبروں کی کی عمارتیں مسمار کردیں۔
82. فتح المجید ص ۲۲۷۔
83. کتاب التوحید ص ۲۴۶،فتح المجید کے ساتھ۔
84. کشف الارتیاب ص ۶۶۔
85. کشف الارتیاب ص ۴۲۴۔
86. ہدیہٴ طیبہ، ص ۸۳۔
87. مسائل الجاھلیہ ص ۵۰۔
88. فتح المجید شرح کتاب توحید محمد بن عبد الوھاب، ص ۱۴۵، ۱۶۳، ۱۶۴۔
89. بخاری صاحب نے اپنی صحیح (ج۲ص ۱۲۲)میں یوں تحریر کیا کہ ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں جب روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دیواریں گر گئیں تو اس نے اس کو دوبارہ بنوایا۔
90. الفتاوی الکبریٰج۴ ص۴۴۹۔
91. کشف الارتیاب، ص ۳۵۸، بقیع میں موجود قبریں جو قدیم الایام سے موجود تھیں، اور مسمار هونے پھلےائمہ علیهم السلام کی قبروںکی وضعیت ”وھابیوں کی تاریخ“ کے تحت بیان هوگی، انشاء اللہ۔
92. مروج الذھب، ج۲ ص ۲۸۵، ۲۸۷،۳۳۲ھ کی تالیف۔
93. رحلہٴ ابن جبیر ص ۱۵۴، ۲۲۸،۲۲۹۔
94. وفاء الوفاء ج ۳ ص ۹۱۲، ام حبیبہ بنت ابوسفیان، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی تھیں، اور صخر ابوسفیان کا نام ھے۔
95. سنن ابن ماجہ جلد اول ص ۴۹۸۔
96. سنن ابن ماجہ جلد اول ص ۴۹۸۔
97. استیعاب ،ابن عبد البر، جلد اول ص ۲۶۔
98. صاحب فتح المجید (محمد بن عبد الوھاب کی کتاب توحید کی شرح میں) اس طرح کھتا ھے: ”لَوْذُبِحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ مُتَقَرِّباًاِلَیْہِ یَحْرُمُ“ (اگر کسی غیر خدا کے لئے قربانی کیا جائے اور اس قربانی سے اس غیر خدا کا تقرب مقصود هو تو وہ قربانی حرام هوجائے گی)اور اس کتاب کے حاشیے میں کھتا ھے کہ یہ شرک بھی شرک اکبر ھے، جبکہ یہ بات معلوم ھے کہ وہ قربانی جو مسلمان قبور کے نزدیک کرتے ھیں اس سے ان کا قصد صرف خوشنودی خدا هوتی ھے، صاحب قبر کا تقرب مقصود نھیں هوتا۔
99. کشف الارتیاب ص ۳۴۶، ۴۲۴۔
100. ائمہعلیهم السلام کی قبروں کی زیارت شیعوں کے نزدیک کیا ھے، ابن تیمیہ کے عقائد کے عنوان کے تحت بیان هوچکی ھے۔
101. رحلہ ابن جبیر ص ۱۸۰۔
102. ابن خلکان کھتے ھیںامام احمد ابن حنبل کی قبر مشهور ھے اور زائرین ان کی زیارت کے لئے جاتے ھیں۔ (جلد اول ص ۴۸)
103. وفیات الاعیان ج۵ ص ۴۶، ۴۷۔
104. استیعاب جلد اول ص ۴۰۴، عجیب بات تو یہ ھے کہ علمائے اھل سنت نے قبور کے لئے کرامات بھی ذکر کی ھیں، جیسا کہ ذھبی نے۷۲۵ھ کے واقعات میں بیان کیا ھے کہ قبر احمد ابن حنبل کو سیلاب نے چاروں طرف سے گھیر لیا لیکن جس حجرے میں ضریح تھی اس کے اندر داخل نھیں هوا، جبکہ پانی حجرے کے دورازے سے ایک ھاتھ اونچا تھا۔ (دول الاسلام ج ۴ ص ۱۷۸)
105. المنتظم ج۷ ص ۲۰۶۔
106. رحلہٴ ابن جبیر ص ۱۵۳، ابن بطوطہ نے بقیع کی قبروں کا ذکرکرتے هوئے عثمان کی قبر کے گنبد کی بزر گی کی بھی توصیف کی ھے، (جلد اول ص۷۶)
107. المنتظم ج۷ ص ۱۸۷۔
108. رحلہٴ ابن بطوطہ جلد اول ص ۱۱۶۔
109. خطط ج ۲ ص ۲۸۴۔
110. ابن خلکان ج۲ ص ۲۰۹۔
111. خطط، ج ۲ ص ۲۸۴۔ لیکن ابوبکر دواداری نے کنز الدّرر ج۶، ص۵۴۹، میںحضرت امام حسینںکا سر دفن هونے کی تاریخ۵۴۴ھ بیان کی ھے اور اس سلسلہ میں اس طرح لکھتا ھے: حضرت امام حسین (ع) کا سر یزید کے زمانہ میں مختلف شھروں میں گھمایا گیا، اور پھر عسقلان میں دفن کردیا گیا، اور جب عسقلان پر (صلیبی جنگ میں) غیروں کا قبضہ هوا، عباس وزیر ظافر فاطمی اس بات سے آگاہ هوا، اور جب اس کے لئے یہ ثابت هوگیا کہ امام حسینںکا سر عسقلان میں دفن هوا ھے تو اس نے انگریزوں سے خط وکتابت کی کہ امام حسینںکا سر ان کے حوالے کردیں، اور عسقلان شھر ان ھی کے قبضے میں رھے، چنانچہ انھوں نے سر لے لا کر قاھرہ میں دفن کردیا۔
112. خطط ج ۲ ص۲۸۵۔
113. شفاء السقام ص ۳، ۳۴۔
114. وفاء الوفاء ج۲ ص ۱۳۳۶ ۔
115. شرح جامع صغیر ص ۲۹۷، باب سوم کتاب شِفاء الِسقام تالیف سُبکی سے اصحاب ا ور دوسرے ان افراد کا ذکر کیا ھے جو لوگ صرف آنحضرت کی زیارت کے لئے مدینہ منورہ مشرف هوئے اور زیارت کے علاوہ ان کاکوئی دوسرا قصدنہ تھا ان میں سے جناب بلال (رسول خدا کے موذن) جو شام سے مدینہ زیارت رسول کے لئے تشریف لائے، (شفاء السقام ص ۱۴۳)
116. عمدة الاخبار شیخ احمد عباسی دسویں صدی کے علماء میں سے ھیں ۔ انھوںنے ص ۲۲، ۲۶، زیارت قبور سے متعلق حدیث کو احمد ابن حنبل سے چند طریقوں سے نقل کیا ھے، (مسند احمد ج۳، ص ۲۳۷اور ۲۵۰،وج۵ ص ۳۵۰، ۳۵۵، ۳۵۶، ۳۵۷، ۳۵۹) وسنن ابی داود، ج۳ ص ۲۱۲، بخاری ج۲ ص ۱۲۲، وجامع الصغیر سیوطی جلد اول ص ۱۶۲۔
117. سمهودی ج ۴ ص ۱۳۴۹، وکتاب مجموعة التوحید ص ۵۲۲۔
118. سمهودی ج۴ص ۱۳۵۲، موصوف نے اس سلسلہ میں تفصیل سے بیان کیا ھے اور اس بات کو ثابت کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے احادیث نقل کی ھیں۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
2+3 =