پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار


سید ذیشان حیدر رضوی


میں نے جس موضوع پر قلم اٹھایاہے وہ کوئی ماضی قریب کی بات نہیں ہے بلکہ یہ تقسیم ہند سے پہلے کی بات ہے اور ہمیں اس کے لئے ماضی کی گہرائیوں میں اترنا پڑے گا، ہزاروں ان مسلم جانبازوں و سر فروشوں کو جنھوں نے گلشن آزادی کی لہلہاہٹ کے لئے سر زمین ہند پر اپنے پاکیزہ خون سے آبیاری کی تھی، فراموشی کی کھائیوں میں گرادینے کے باوجود آج بھی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار روز روشن کی طرح تابناک اور جمہوریہ ہند پر سایہ افگن ہے اور کچھ متعصب نگاہوں کو آج بھی ان سے مقابلے کی تاب نہیں، اور جب تک ہندوستان رہےگا اس کے متعبر نام تاریخ ہند کے افق پر مثل سورج اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ روشن رہیں گے ـ

جنگ آزادی میں علمی کردار کے چند نمونے

جنگ آزادی میں انقلابی نعروں کی ضرورت ہوئی ہو یا پر جوش نغموں کی، اسلحوں کی ضرورت پڑی ہو چاہے خون کی ہر ہر قدم پر مسلمانوں کی سردستی اور پہل نظر آتی ہے اسی طرح میڈیائی اور مواسلاتی دوڑ میں بھی کوتاہ قد نظر نہیں آتے ـ
صحافت
اس سلسلے میں چند ہفتہ وار اخبارات کا ذکر کر کرتے ہوئے دوسرے مراحل میں قدم رکھنا ہے ان میں ـ البلاغ، اور الہلال، جس کے مدیر مولانا ابو الکلام آزاد تھے ـ ہمدرد، اس کے مدیر مولانا محمد علی جوہر اور ـ زمیندار، کے مولانا ظفر علی خان اڈیٹر تھے اسی طرح لکھنو سے سنہ ۱۹۲۵ ء میں ہفتہ وار ـ سچ، کا اجراء ہو جس کے اڈیٹر مولانا عبدالماجد دریا آبادی تھے یہ تمام اخبارات اس وقت سب سے بڑے فتنے فرنگیت کے بڑھتے ہوئے سیلان کا مقابلہ کررہے تھے اور اسی طرح تحریک آزادی ـ کھدر، چرخہ، اور گاندھی جی کے آہنا اور سچائی کے حق میں مستقبل مضامین شائع کرکے جنگ آزادی میں اپنا اہم رول ادا کررہے تھے ہفتہ وار سچ کے لئے جناب قدوائی اپنے مضمو ن (ہفتہ وار سچ ایک تعارف ) میں تحریر فرماتے ہیں سچ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے تعلیم یافتہ طبقہ کے دلوں میں فرنگیت اور تہذیب مغرب کی پوری بے وقعتی بٹھادی تھی اور مغربی ذہنیت کی خیرہ کن مگر جھوٹی صناعی کی نقاب کشی اس طرح کی کہ ان سے مرغوبیت جاتی رہی ـ

ایک سیاسی شخصیت

جب جب ہندوستان کی تاریخ پڑھی جائی گی تو اس میں سرفہرست نام قومی یکجہتی کے علمبردار مولانا ابوالکلام آزاد کا آئیگا ( مولانانا صر زیدی فخرالافاضل ) اپنے ایک مضمون میں یوں تحریر کرتے ہیں ـ وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے جس عہد میں جیسے افراد کی ضرورت پڑتی ہے نظام فطرت ایسے ہی افراد کو وجود بخشا ہے اور ہر مقتدی ہستی اپنے عہد کا پرتو ہے جیسے رام اور راون کو ہم عصر ہونا ہی تھا سنہ ۱۸۵۷ ء کی ہاری ہوئی سپاہانہ جنگ کے بعد سر سید احمد کو ابھرنا ہی تھااور انڈین نیشنل کانگریس کے لئے ابو الکلام ازاد جیسی مدبر شخصیت کو علامتی فرد بننا ہی تھا، وقت کے تقاضوں نے آزاد کے وجود کو بخش کر کانگریس کے مقصد کی تکمیل کی اور ہندوستان کی غلامی کی طویل مدت کو صرف ایک صدی کے اندر سمیٹ دیا مولانا آزاد، تحریر اور تقریر میں اپنی نظیر آپ بنے ابتدا میں شاعری کے شغف پر تخلص آزاد رکھا تھا مگر یہ تخلص شاعری کے سے منتقل ہوکر سیاسی خصوصیات کاحامل بن گیاشاعری تو ہمیشہ کے لئے چھوٹ گئی مگر تخلص نے ہندوستان کی آزادی حاصل کر کے ہی دم لیا٬ مولانا آزاد کے لئے ڈاکٹر رام چندر پرشاد لکھتے ہیں کہ وہ ہند و مسلم اتحاد کے بہت بڑے حامی تھی اور اس بات پر عمر بھر ایک چٹان کی طرح کھڑے رہے مہاتماگاندھی فرماتے ہیں کہ مجھے مولانا ابوالکلام آزاد کے ساتھ ۱۹۲۰ سے ملکی اور قومی خدمت کرنے کا فخر حاصل ہے

آزادی کی جنگ میں ایک خاتون کا حصہ

یہ سچ ہے کہ نجانے کتنی عام خواتین رہی ہونگی جنھوں نے جنگ آزادی میں سرکت کی ہوگی اور آزادی ہند کی خاطر اپنے بیٹے شوہر اور باپ سے جدا ہوئی ہونگی مگر تاریخ میں کہاں اتنی وسعت ہوتی ہے کہ وہ ہر ایک مظلوم کی داستان کو سمیٹ سکے لیکن کچھ ایسی شخصیتیں ہوتی ہیں جن کو مورخ کا قلم فراموش کرنے سے قاصر ہوتا ہے، یہ الگ بات ہےکہ قلم فروش مورخ ان کی وطن پرستی کو بغاوت اور ان کے جہاد کو سازش سے تعبیر کریں مگر حق بین نگاہیں ان میں بھی حقیقت تلاش کر لیتی ہیں، ہند کی جنگ میں بھی ایسا ہی ایک نام بیگم حضرت محل کا ہے جن کو انگریزوں کے درباری تاریخ نویسوں نے ایسے ہی الفاظ سے یاد کیا ہے مگر جب حضرت محل کی تاریخ پڑھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ جناب واجد علی شاہ کی دوسری بگیمات سے بالکل مختلف تھیں یہی وجہ ہے کہ جب سنہ ۱۸۵۶ ء میں نواب واجد علی شاہ سے گفتگو کرکے لکھنو میں رکیں اور انگریزوں کے خلاف جنگ کا منصوبہ تیار کرتی رہیں کانپور تک جب انگریزوں کے خلاف بغاوت کا اعلان ہوگیا تو اب آپ نے عوام کی شعلہ بدامیاں اورجس وقت کی منتظر تھیں اسے پاکر اپنے فرزند بر جیس قدر کی قیادت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے فرزند کو عوام کے درمیان بہادرانہ تقریر کرنے کا حکم دیا اور ان کی تقریر کے بعد لکھنو انگریزوں کی قتل گاہ بن گیا اور جس وقت ریجیڈینسی انگریزوں کے قبضہ سے نکل گیا تو شہروالوں نے اطمینان کی سانس لی اور بیگم حضرت محل نے مجاہدوں کو دعائیں دیں، جب انگریزوں نے دوبارہ لکھنو پر حملہ کیا تو حالات اتنے بگڑگئے کہ حضرت محل کو قیصر باغ چھوڑنا پڑا بیگم حضرت محل نے بادل نخواستہ اپنے وطن عزیز لکھنو کو خیرآباد کہا اور بہرائچ کی طرف روانہ ہوگئیں بیگم حضرت محل ایک مجاہدہ ہیں بغیر اپنی کسی غرض کے صرف ملک ہندوستان کی خاطر جنگ آزادی میں حصہ لیا (ملاحظہ ہو، حضرت محل کچھ یادیں)

ہندوستان کی آزادی میں شریک چند گمشدہ نام

" پیر علی" ایک نامانوس نام ہے ـ ظاہر ہے کہ ایک کتاب فروش کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے پھر جنگ آزادی کے خواص کی صف میں ان کا کیا تذکرہ، لیکن یہ بھی اپنے وطن کا شیدائی اور دیوانہ تھا جو لکھنو سے اپنے اوصاف حسین اور اہلیہ کے ہمراہ پٹنہ (بہار) صرف اس لئے آیا تا کہ وہاں کے عوام میں زندگی پیداکرے چنانچہ پٹنہ سٹی میں ڈاکٹر معشوق علی روڈ کے ایک مکان میں قیام کیا اور وہیں سے اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس تحریک میں پٹنہ کے مشہور نواب سید ولایت علی بھی در پردہ شریک و موید تھے پیر علی کے تمام ساتھی دن بھر کی تمام کارگزاریوں کو لکھ کر گوندھے آٹے میں لپیٹ کر روٹی بنا لیتے اور شام کو پیرعلی کی بیوی اندھی بن کر ایک بچی کا ہاتھ پکڑے سب کے گھروں سے وہ روٹی وصول کرتیں اور اس طرح مٹینگوں کا اعلان ہوجاتا اور ہر مرتبہ الگ گھر میں جلسہ ہوتا پھر ایک مرتبہ کھل کر جنگ شروع ہوئی اسی درمیان ایک مجاہد امام الدین زخموں سے اتنا چور ہوگیا تھا کہ بیہوش ہوگیا جب ہوش آیا خود کو انگریزوں کے درمیان پا یاسختی اور شکنجوں کو برداشت کرتا رہا بالآخر ایک دن عالم سکرات میں چند نام زباں پر آگئے اور اسی سختی میں دم توڑ گیا، آخر چند ابن الوقت کے ذریعہ پیر علی اور ان کے تیس ساتھی گرفتار ہو گئے مگر کسی نے آخر وقت تک کسی اور کا نام نہیں لیا ان میں آدھے تو پولیس ریمانڈ میں ہی دم توڑگئے اور باقی کو پھانسی کا آرڈر کمشنر ٹیلر نے صادر کردیا یا پیر علی کے چودہ ساتھیوں کو ان کی نگاہوں کے سامنے پھانسی دیدی گئی اس کے بعد بھی جب پیر علی نے کوئی راز فاش نہ کیا تو ٹیلر کو یہ اقرار کرنا ہی پڑا کہ واقعی یہ شخص محب وطن اور جیالاہے پھانسی پر چڑھنے والوں میں غلام عباس، جمن، رمضانی، غلام علی، حاضی جان، اصغر علی، پیر بخش، وحید علی، راحت علی، محمداختر، چھوٹو٬ شیخ گھسیٹا جو پٹنہ کے مشہور انقلابی تھے اور ہر ایک زبان پر صرف دوہی نعرہ تھے ِ
انقلاب زندہ آباد ِ
نعرہ حیدری یاعلی ـ
ان تما افراد کو ۷ جولائی سنہ ۱۸۷۵ ء کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ میں ان کا ذکر تو نہیں ملا مگر انگریزوں کے سرکاری ریکاڈسے پیر علی اور ان کے ساتھیوں کی فہرست کا پتہ چلا (عطر گل، ناصر زیدی )
آزادی کی جنگ میں ماضی قریب کا انقلابی شاعر علی سردارجعفری
سنہ ۱۹۳۱ ء میں پہلی بار جنگ آزادی کے لئے نظم لکھنے کے جرم میں قید کئے گئے، جناب کالی داس گپتا اپنے مضمون، میرے بزرگ دوست، "آجکل، اکتوبر سنہ ۲۰۰۰ ء میں ان کے خطوط تحریر کرنے سے پہلے لکھتے ہیں ـ
یہ خط ۴ جون سنہ ۱۹۳۴ ء کا لکھا ہوا ہے جعفری صاحب علی گڑھ میں پرھتے تھے خط سے ان کی دیش بھگتی اور لگاؤ کا پتہ چلتا ہے آپ کے سلسلے میں ( صدیق الرحمان قدوائی ) تحریر کرتے ہیں علی سردار جعفری ایک عہد کی علامت بن چکے ہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فضامیں جہاں میں طالب علم تھا اس کے قیام کے زمانے سے ہی بغاوتوں کا آہنگ گونج رہا تھا تقریباً سات سال کی عمر میں جب میں یہاں داخل ہوا تو پہلا سبق ہی وطن دوستی اور سامراج دشمنی کا ملا ہر روز صبح صبح کلاس میں جانے سے پہلے ہماری تعلیم کا آغاز سارے طلباء کے اجتماع میں علامہ اقبال کی نظرم اور آزادی سے متعلق دوسرے شاعروں کی رزمیہ نظموں سے ہوتا ـ جوش، مجاز٬ مخدوم، اور اس وقت کے بہت سے شاعروں کے ترانے ہم نے پہلی بار سنے جن کا ترنم آج تک ہماری یادوں میں گونج رہا ہے اقبال، وغیرہ کے بعد علی سردار جعفری وہاں کے اردو نصابات میں شامل ہوگئے آپ نے وطن کے لئے بہت سے کارنامے انجام دئیے سنہ ۱۹۳۴ ء میں پرواز، کے نام سے آپ کی کتاب آئی، پھر یہ خون کس کا ہے، ڈرامہ ـ اور خون کی لکیر، نظمیں اور ایسا جاگ اٹھا، سنہ ۱۹۵۰ ء کی طویل نظم، اسی طرح تحریک آزادی سے تا دم مرگ آپ حب الوطنی کا ثبوت دیتے رہے ـ
آخر اس دور کے ایک اور معتبر نام پر اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں یہ جنگ آزادی کا مجاہد بھی تھا اور شاعر بھی (بہادر شاہ ظفر) دہلی میں جس دن انگریزوں اور حریت پسندوں کے درمیان زبردست لڑائی ہورہی تھی وہ بقر عید کا دن تھا بہادر شاہ ظفر نے ایک قطعہ حریت پسندوں کے لیڈر جنرل بخت خان کے نام روانہ کیا جس میں انھوں نے انگریزوں کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کیا تھا ـ



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
3+10 =