پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|

آيت الله العظمى سید شهاب الدین مرعشى نجفى


محمد رضا سماك امانى


موصوف کی ولادت

موصوف سن 1315 هجری قمری میں شهر نجف میں پیدا هوئے، آپ کا نام شهاب الدین رکھا گیا، موصوف کے والد گرامی آیت الله سید شمس الدین محمود مرعشی (متولد 1279 و متوفی 1338 هجری قمری) نجف اشرف میں علوم اسلامی کے مدرس اور فقیه تھے۔ آیت الله مرعشی نجفی نے پچپن کو اپنے اهل خانه کی محبت بهری آغوش میں گزارا اور اسلامی تربیت میں پروان چڑھے، موصوف کی والده اتنی باایمان اور پاکدامن خاتون تھیں که انھوں نے موصوف کو کبھی بهی بغیر وضو کے دودھ نهیں پلایا۔

موصوف کی تعلیمات

موصوف نے لکھنا پڑھنا سیکھنے کے بعد نوجوانی کے عالم میں روحانیت کا لباس پهنا اور اسلامی علوم حاصل کرنے میں مشغول هوگئے، ادبیات عرب، فقه، اصول، حدیث، درایه، رجال اور شرح حال وغیره کو حوزه علمیه نجف کے جید علماء سے سیکھا، اُس کے بعد آیت الله آقا ضیاء عراقی (متوفی 1373 هجری قمری)٬ آیت الله شیخ احمد کاشف الغطاء (متوفی 1373) اور حوزه علمیه نجف کے دیگر برجسته اور جید مدرسین کے فقه و اصول کے درس خارج میں شرکت کی۔
آیت الله مرعشی تعلیم سے اِس قدر عشق رکھتے تھے که همه وقت غور و فکر کے ساتھ مشغول رهتے تھے، دسیوں سال تک حوزه علمیه نجف اشرف میں مشهور و معروف اساتید کے دروس میں شرکت کی اور اُن کے خرمن علم سے فیض علم حاصل کیا۔ ایک مدت تک زیدیه اور اهل سنت کے علماء سے علم حدیث حاصل کیا اور ان سے نقل احادیث کا اجازه لیا۔
موصوف کی شب و روز کی محنت آخرکار 27 سال کی عمرمیں نتیجه بخش هوئی اور موصوف درجه اجتهاد پر فائز هوگئے، موصوف کی علم دین کے سلسله میں انتهک کوشش واقعا قابل داد هے٬ جیسا که موصوف خود اِس سلسله میں فرماتے هیں:
«هم نے جوانی کے عالم میں کبهی بهی نفسانی خواهشوں کی پیروی نهیں کی اور همیشه علم دین حاصل کرنے میں مشغول رهے،هم شب و روز میں چند گھنٹوں کے علاوه نهیں سوتے تھے، همیں جهان بهی استاد یا عالم یا مفید درس کا پته چلتا تھا، اُس استادعالم اور اُس کے جلسه درس میں جانے میں دیر نهیں کیا کرتے تھے»۔
آیت الله مرعشی نجفی نے نجف، کربلا، کاظمین، سامرا، تهران اور قم میں سو سے زیاده اساتید کے سامنے زانوئے ادب ته کئے اور اُن کے علم و تقوی سے فیض حاصل کیا۔ موصوف تعلیم کے ابتدائی مرحله سے هی بلند همت، ذوق و شوق، تقوی، ذکاوت اور هوشیاری نیز دیگر اخلاقی فضائل میں مشهور تھے۔
موصوف نے متعدد شیعه مراجع تقلید سے «اجازه اجتهاد» حاصل کیا، جن میں سے بعض کے اسمائے گرامی اِس طرح هیں:
1 .آيه الله العظمى آقا ضياء عراقى ( متوفى 1361 هجری قمری)
2 .آيه الله العظمى سيد ابوالحسن اصفهانى ( متوفى 1365 هجری قمری )
3 .آيه الله العظمى شيخ عبدالكريم حايرى يزدى ( متوفى 1355 هجری قمری)
آیت الله مرعشی نے سن 1388 هجری قمری میں اپنے والد گرامی کی وفات کے بعد علوم دینی حاصل کرنے کے لئے کاظمین، سامرا اور کربلا کا سفر کیا اور برسوں تک وهاں کے حوزات علمیه میں برجسته اور جید اساتید سے فیض حاصل کیا اور آخرکار سن 1342 هجری قمری میں حضرت امام رضا علیه السلام کے روضه مقدس کی زیارت کے لئے ایران آئے۔
حضرت اما م رضا علیه السلام کے مرقد مطهر کی زیارت کے بعد تهران گئے اور حوزه علمیه تهران میں آیت الله شیخ عبد النبی نوری (متوفی 1344 هجری قمری)، آیت الله آقا حسین نجم آبادی (متوفی 1347 هجری قمری)، آیت الله مرزا طاهر تنکابنی (متوفی 1360هجری قمری)، آیت الله مراز مهدی آشتیانی (1372هجری قمری) وغیره سے علم فقه و اصول اور فلسفه و کلام کی تعلیم حاصل کی۔
دوسرے سال حضرت معصومه قم (سلام الله علیها) کے مرقد مطهر کی زیارت کے لئے آئے۔ لیکن حضرت آیت الله العظمی شیخ عبد الکریم حائری کے حکم کی بنا پر اسی شهر میں سکونت اختیار کرلی۔ موصوف نے یهاں بهی آیت الله حائری اور حوزه علمیه قم کے دیگر اساتید کے دروس میں شرکت کی اور ان کے علم سے فیض حاصل کیا۔

تدریس کے فرائض

آیت الله مرعشی نجفی، حضرت آیت الله حائری کے حکم سے تدریس میں مشغول هوئے، اور جوان طلاب کے لئے ادبیات عرب، منطق اور اصول و فقه کی تدریس فرمائی، آیت الله مرعشی نجفی٬ حضرت آیت الله حائری کی (سن 1355هجری قمری میں) رحلت کے بعد خارج فقه و اصول کی تدریس میں مشغول هوئے۔
موصوف نے حوزه علمیه قم میں 70 سال سے زیاده کی تدریس میں بهت سے علماء اور دانشوروں کی تربیت، جن میں سے بعض افراد نے «اجازه اجتهاد» حاصل کیا، هم یهاں پر ان کے بعض شاگردوں کے اسماء گرامی تحریر کرتے هیں:
حضرت آیت الله شهید حسین غفاری، حضرت آیت الله شهید مصطفی خمینی، حضرت آیت الله شهید مرتضی مطهری، حضرت آیت الله شهید ڈاکٹر محمد مفتح، حضرت آیت الله شهید ڈاکٹر سید محمد بهشتی، حضرت آیت الله شهید محمد صدوقی، حضرت آیت الله سید محمد علی قاضی طباطبائی، حضرت آیت الله سید محمود طالقانی، حضرت آیت الله شیخ شهاب الدین اشراقی، حضرت آیت الله شیخ مرتضی حائری، حضرت آیت الله حاج مرزا جواد آقا تهرانی، حضرت آیت الله شيخ حسن نورى همدانى، حضرت آیت الله آقا موسى صدر، حضرت آیت الله قدرت الله وجدانى فخر، حضرت آیت الله سيد مرتضى عسکرى، حضرت آیت الله مصطفى اعتمادى، حضرت آیت الله محمد امامى كاشانى، حضرت آیت الله مرزا جواد تبريزى، حضرت آیت الله شيخ حسين نورى، حضرت آیت الله سيد عبدالكريم موسوى اردبيلى، حضرت آیت الله شيخ على پناه اشتهاردى، حضرت آیت الله محمد تقى ستوده، حضرت آیت الله شيخ محمد رضا مهدوى كنى.
خستگی ناپذیر فقیه نامور برسوں تک شیعوں کے مرجع تقلید رهے اورعالم اسلام کی شایان شان خدمت کی، حضرت معصومه قم کے صحن حرم میں عظیم الشان نماز جماعت تمام زائرین کو یاد هے، موصوف کی خوش اخلاقی اور خنده پیشانی کی تصویر سبهی کے دل و دماغ میں موجود هے، موصوف بهت هی شوخ مزاج شخص تھے، نیازمندوں اورغریبوں پر خاص توجه رکھتے تھے اور ان کی مشکلات کی رسیدگی کیا کرتے تھے۔
آیت الله مرعشی نجفی مرحوم٬ اهل بیت علیهم السلام اور حضرت معصومه علیها السلام سےخاص محبت رکھتے تھے، موصوف انقلاب اسلامی سے پهلے بهی هر روز صبح کی اذان سے پهلے حرم حضرت معصومه علیها السلام میں مشرف هوتے تھے، همیشه دروازه کهلنے سے کچھ پهلے هی دروازه پر آکر کھڑے هوجاتے تھے اس کے بعد حرم میں وارد هوتے تھے اور زیارت کے بعد نماز جماعت پڑھایا کرتے تھے۔
چنانچه موصوف اپنی ایک تحریر میں اس طرح رقمطراز هیں:
«جب سے هم قم میں ساکن هیں، حضرت معصومه قم کے حرم میں صبح میں نماز جماعت نهیں هوتی تھی،هم نے اِس کو سنت وهاں قائم کیا، اور تقریبا 60 سال سے اِس وقت تک صبح سویرے حرم مطهر کے دروازه کهلنے سے پهلے، نیز دوسروں سے پهلے پهنچ جایا کرتے تھے اور دروازه پر کھڑے هوجاتے تھے، کبھی کبھی تو طلوع فجر سے پهلے ایک ایک گھنٹه تک حرم کے خادموں کے آنے کا انتظار کیا کرتے تھے، سردی اور گرمی کی کوئی بات نهیں تهی، سردیوں کے زمانه میں جب هر جگه برف گرتا تها هم اپنے ساته ایک چھوٹا بیلچه لے جاتے تھے تاکه صحن حرم کی طرف اپنا راسته بناتے بتاتے حرم میں پهنچ جائیں، شروع میں هم اکیلے نماز پڑھتے تھے، یهاں تک که کچھ دنوں بعد ایک شخص نے هماری اقتدا کی اور اُس کے بعد آهسته آهسته دیگر افراد شریک جماعت هونے لگے اور اِس طرح حرم طهر میں نماز جماعت قائم هوگئی، آج 60 سال کا عرصه گزر چکا هے نماز جماعت کا سلسله جاری هے اور پھرآهسته آهسته نماز ظهرین اور نماز مغرب و عشاء بھی جماعت سے هونے لگی، چنانچه اُس کے بعد سے حرم حضرت معصومه سلام الله علیها کی مسجد بالاسر اور صحن شریف میں تینوں وقت نماز جماعت قائم هوگئی»۔

باقی رهنے والا خزانه

آیت الله مرعشی نجفی نے عالم اسلام کی ایک طولانی زمانه تک شایان شان خدمت کی هے، موصوف کی ایک بهترین کارکردگی دینی مدارس کی بنیاد ڈالنا تھا، سن 1376هجری قمری میں مرحوم حاج مهدی ایرانی کے ذریعه مدرسه مهدیه کی داغ بیل ڈالی گئی لیکن اُس کی ناظر اور مسئول آیت الله مرعشی نجفی قرار پائے، خستگی ناپذیر فقیه نے مدرسه کی تکمیل میں انتهک کوششیں کی اور مدرسه کے کتابخانه کی بنیاد ڈالی جس میں دو هزار جلد کتابیں موجود تھیں، سن 1389 هجری قمری میں دو منزله عمارت پر مشتمل مدرسه مومنیه بنایا، اور اُس کے لئے بهی کتابخانه بنایا جس میں 3500 کتابیں موجود تهیں، سن 1400هجری قمری میں میں تین منزله عمارت پر مشتمل مدرسه شهابیه بنا اسی طرح سن 1383هجری قمری میں تین منزله عمارت پر مشتمل مدرسه مرعشیه بنایا گیا اور ان کی نظارت اور مسئولیت بهی موصوف کے ذمه رهی۔
آیت الله العظمی مرعشی نجفی کا کتابخانه ملک کے عظیم الشان کتابخانوں میں اور کتابخانه مجلس شورای اسلامی وکتابخانه آستانه قدس رضوی (مشهد) کی ردیف میں هے، اِس کتابخانه میں عالم اسلام کے بهت سے (نایاب) قلمی نسخے موجود هیں، جن میں سے متعدد کتابوں کے نسخے صدیوں پرانے تاریخ کے عظیم الشان اور بهت قیمتی نسخے هیں۔
آیت الله مرعشی نجفی نے اپنی جوانی کے عالم میں جب وه حوزه علمیه نجف میں مشغول تعلیم تھے، کتابوں کے قلمی نسخے جمع کرنے شروع کئے، کیونکه موصوف بهت سے اسلامی منابع اور قلمی نسخوں کو نابود اور غارت هوتے دیکھ رهے تھے، چنانچه وه بے چین هوگئے اور طلبگی کے بهت هی کم شهریه کے باوجود قلمی کتابوں کی خریداری شروع کردی، تاکه اسلامی ثقافت کے اِس عظیم سرمایه کو اغیار کے هاتھوں غارت هونے سے بچائیں، بعض اوقات موصوف راتوں کو ایک چاولوں کے کارخانه میں کام کرتے تھے، دن میں استیجاری روزه رکھتے تھے اور رات میں نماز استیجاری پڑھتے تھے تاکه قلمی کتابوں کو خرید سکیں، جیسا که موصوف اپنی ایک تحریر میں فرماتے هیں:
«هم ایک دن مدرسه سے (صحن علوی کے سامنے) بازار کی طرف چلے اور جیسے هی بازار میں قدم رکھا تو ایک انڈے فروخت کرنے والے خاتون پر نظر پڑی جو دیوار کے پاس پاس بیٹھی هوئی تھی اوراُس کی چادر کے نیچے سے کتاب کا ایک حصه دکھائی دے رها تھا، هماری دل کو اتنا جھٹکا لگا که کچھ دیر تک کتاب پر نظریں جمائے دیکھتے رهے اور پهر صبر نه کرسکے، سوال کیا: یه کیا هے؟ اُس خاتون نے جواب دیا: بکنے والی کتاب هے، فورا هی میں نے کتاب لی اور تعجب کے ساتھ اُسے دیکھا تو معلوم هوا که وه علامه عبدالله افندی کی کتاب «ریاض العلماء» کا نایاب نسخه هے که جو کسی کے پاس نهیں تھا، یعقوب کو یوسف مل جانے کی طرح بهت هی تعجب اور حیرت سے سوال کیا: اِسے کتنے میں فروخت کرو گی؟ اُس نے کها: پانچ روپیه میں، هم چونکه خوشی سے پهولے نهیں سما رهے تھے فورا هی اُس سے کها: میری ساری پونجی سو روپیه هے کیا تم اِس کتاب کو سو روپیه میں مجھے دے سکتی هو؟ چنانچه اُس عورت نے خوشی سے قبول کرلیا، اُسی موقع کاظم دجیلی آپهنچا جو کتاب خریدنے میں برطانویوں کا دلال تھا، وه قدیمی کمیاب اور نادر کتابوں کو هر طریقه سے حاصل کرتا تھا اور نجف اشرف میں برطانوی حاکم «میجر» کے پاس لے جاتا تھا اور وه اِس طرح کی کتابوں کو لندن کتابخانه میں بھیج دیتا تھا، چنانچه کاظم نے زبردستی میرے هاتھ سے کتاب لے لی اور اُس خاتون سے کها: میں اِس سے زیاده میں یه کتاب خرید لوں گا اورپهر اُس نے هم سے زیاده قیمت لگائی، اُس موقع پر میں نے غم و اندوه کے عالم میں حضرت امیرالمومنین علیه السلام کے حرم کی طرف رخ کیا اور آهسته سے عرض کی:
«اے میرے مولا و آقا! میں اِس کتاب کو خرید کر آپ کی خدمت کرنا چاهتا هوں، لهذا آپ اِس بات پر راضی نه هوں که یه کتاب میرے هاتھ سےنکل جائے»۔
ابهی میری گفتگو تمام نه هوئی تھی که اُس خاتون نے اُس دلال کی طرف رخ کرکے کها: یه کتاب میں نے انھیں فروخت کردی هے، اب تمهیں فروخت نهیں کرسکتی۔ یه سن کر کاظم دلال هار مان کر غصه میں وهاں سے چلا گیا۔۔۔ همارے پاس 20 روپیه سے زیاده نهیں تھے، هم نے اپنے پرانے کپڑے اور گھڑی کو فروخت کر ڈالا تاکه کتاب کے پیسه جمع کریں، لیکن کچھ هی دیر کے بعد کاظم دلال چند پولیس والوں کے ساتھ آیا اور انھوں نے مدرسه پر حمله بول دیا، اور همیں پکڑ کر اُس برطانوی «میجر» کے پاس لے گئے، اُس نے پهلے هم پر کتاب کی چوری کا الزام لگایا اوراُس نے بهت زیاده چیخ پکار سے کام لیا ۔۔۔ اُس کے بعد اُس نے حکم دیا که همیں قیدخانه میں بهیج دیا جائے، چنانچه اُس رات قیدخانه میں خداوندعالم سے راز و نیاز کیا تاکه وه کتاب جهاں چھپائی هے محفوظ رهے، دوسرے روز شیخ الشریعه کے نام سے مشهور مرجع عظیم الشان مرزا فتح الله نمازی اصفهانی نے هماری آزادی کے لئے مرحوم آخوند خراسانی کے بیٹے مرزا مهدی کو چند لوگوں کے ساتھ حاکم شهر کے پاس بھیجا، آخرکار نتیجه یه هوا که همیں زندان سے آزاد کردیا گیا البته اِس شرط کے ساتھ که ایک ماه بعد کتاب برطانوی حاکم کو دیدیں۔
آزاد هونے کے بعد تیزی سے مدرسه کی طرف روانه هوئے اور اپنے طلباء احباب کو جمع کیا اور ان سے کها: ایک اهم کار انجام دینا هے جو اسلام اور شریعت کی خدمت هے! طلباء نے کها: کام کیا هے؟ هم نے کها: اِس کتاب کی نسخه برداری، چنانچه سب اِس کام میں مشغول هوگئے اور هم نے مهلت تمام هونے سے پهلے اِس کتاب کے چند نسخه تیار کرلئے۔۔۔»
آیت الله مرعشی نجفی نے جب قم کی طرف هجرت کی تو اپنے ساتھ وه قلمی نسخے بھی ایران لے آئے اور قم میں بھی نایاب اور قدیمی کتابوں کے نسخوں کی خریدار میں لگ گئے، ایک مدت بعد مکان میں جگه کم هونے کی وجه سے کتابوں کو مدرسه مرعشیه میں پهنچادیا، کچھ مدت بعد اِس مدرسه کی تیسری منزل پر کتابخانه بنایا گیا، جو 15 شعبان سن 1386هجری قمری میں 10000 قلمی کتابوں کے ساتھ افتتاح هوئی۔
طلاب کرام اور علمائے عظام کی طرف سے کتابوں کے مطالعه کا شوق و ذوق، نیز کتابخانه میں جگه کی کمی نیز جدید کتابوں کی خریداری اِس بات کا سبب بنی که موصوف نے (موجوده کتابخانه) کی بنیاد ڈالی جو 15 شعبان سن 1394 هجری قمری میں 16000 مطبوعه اور قلمی کتابوں کے ساتھ افتتاح هوئی۔
آیت الله مرعشی نجفی کا کتابخانه اِس وقت250,000 مطبوعه اور 25,000 قلمی کتابوں 1 کی صورت میں موصوف کے فررزند حجة الاسلام ڈاکٹر محمود مرعشی نجفی کی مسئولیت میں طلاب، علماء ٬ اسٹوڈینٹ، محققین اور مولفین کی خدمت کررها هے۔
آیت الله العظمی مرعشی کا کتابخانه قلمی اور نفیس کتابوں پر مشتمل هونے کی وجه سےاپنی صنف میں منحصر کتابخانه هے اُس میں بهت سی قدیمی، اهم اور نایاب کتاب هونے کی وجه سے پوری دنیا کے مولفین اور علماءو دانشوران نیز علمی اور تحقیقاتی اداروں کا مورد توجه هے، اِس وقت یه کتابخانه عالمی شهرت رکھتا هے اور دنیا بهر میں 400 علمی اداروں اور کتابخانوں سے رابطه برقرار کئے هوئے هے۔

موصوف کی تالیفات

سن 1366 هجری قمری میں موصوف کے سب سے پهلے « نخبه الاحكام » و « سبيل النجاه » نامی رسالے شائع هوئے هیں اور اُسی زمانه سے موصوف مرجع تقلید بن گئے، آیت الله مرعشی نجفی، مرحوم آیت الله العظمی بروجردی کی سن 1340هجری قمری میں وفات کے بعد عالم شیعت میں عظیم الشان مرجع تقلید قرار پائے۔
آیت الله مرعشی نجفی نے اپنی بابرکت عمر میں برسوں تک قرآن، ادبیات عرب، حدیث، دعا، فقه، اصول، منطق، لغت، تاریخ، رجال و تراجم اور انساب وغیره جیسے مختلف موضوعات میں بهت سی کتابیں اور مقالے لکھے جن میں سے اکثر شائع نهیں هوئی هیں۔ لیکن موصوف کے آثار کی تعداد 148 کتابیں، رسالے اور مقالے هیں۔
موصوف کی دو کتابیں درج ذیل هیں، جو پچاس سال کی زحمتوں کا نتیجه هے لیکن وه ابھی تک شائع نهیں هوئی هے:
1- مشجرات آل رسول الله الاکرام یا مشجرات الهاشمین، یه کتاب پوری دنیا میں علویوں اور سادات کے نسب کے بارے میں هے۔
2۔ ملحقات الاحقاق الحق،کتاب احقاق الحق، قاضی نور الله شوشتری (متوفی 1019 هجری قمری) کی تالیف هے جسے آیت الله العظمی مرعشی نجفی نے تکمیل کیا هے اور اُس عظیم الشان کتاب کے منابع و مدارک کو جمع کیا هے۔ موصوف نے اِس عظیم الشان کتاب کی تحقیق کی تکمیل کے لئے علمائے کرام پر مشتمل ایک بڑا تحقیقی گروه تشکیل دیا ، چنانچه موصوف کے بیٹے حجة الاسلام ڈاکٹر سید محمود مرعشی کے زیر نظر یه گروه اب بهی مشغول هے اور اب تک اِس کتاب کی 27 جلدیں منظر عام پر آچکی هیں اور باقی جلدیں تیار هورهی هیں۔

فرهنگ و ثقافت کو نئی زندگی دینا

آیت الله مرعشی نجفی کے حکم سے اصفهان میں علامه مجلسی کے مرقد کی مرمت کی گئی، شیعه فقهاء کی کتابوں کو شیعه، سنی اور عیسائی علماء نیز دنیا کی یونیورسٹیوں کو هدیه دینا٬ موصوف کی ایک ثقافتی کارکردگی هے۔
موصوف نے کتابوں کے لکھنے کے لئے بهت سے اسلامی ملکوں کا سفر کیا اور شیعه، سنی اور عیسائی دانشوروں سے ملاقاتیں کی، چنانچه موصوف نے علامه سيد محمود شكرى آلوسى بغدادى، شيخ طنطاوى جوهرى مصرى، انسٹنس كرملى بغدادى، شيخ عبدالسلام شافعى كردستانى، علامه مير حامد حسين هندى کے بیٹے سيد ناصر حسين هندى ، ٹائیگر (هندوستانی مشهور و معروف مولف اور فلسفی)، مرزا احمد تبريزى (فرقه ذهبيه کا پیشوا )، مرزا عنايت الله اخبارى، پروفیسر هانرى كربين، ڈاکٹر فواڈ سرگين جرمنى، سيد ابراهيم رفاعى راوى بغدادى، رشيد بيضوى لبنانی، سيد محمد رشيدى رضا (مولف تفسير المنار) نیز دیگر دانشوروں سے ملاقات کی۔
اس کے علاوه آیت الله موصوف، علماء، سادات اور امامزادوں کے زندگی ناموں کی تالیف کے لئے پرانے قبرستانوں میں جاکروهاں علماء، ادباء، شعراء، سادات اور امامزادوں کی قبروں کے نوشتوں کو پڑھتے اور لکھتے تھے، چنانچه موصوف سن 1350 هجری قمری میں اصفهان گئے ایک هفته تک «تخت فولات» نامی قبرستان میں دفن علماء کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات لکھی، اسی طرح اصفهان کے دیگر قبرستانوں میں بھی تحقیق کی جن سے مفید معلومات حاصل هوئی۔

امام خمینی کی تحریک کے مددگار

حضرت امام خمینی کی تحریک سن 1341 هجری شمسی (سن 1962عیسوی) میں مراجع تقلید کی حمایت میں شروع هوئی، آیت الله مرعشی نجفی همیشه حضرت امام خمینی کی تحریک کی حمایت کرتے تھے، متعدد بار موصوف نے اطلاعیه نکالے اور شاهی ظلم و ستم کو برملا کیا، موصوف نے سن 1342 هجری شمسی میں امام خمینی کی گرفتاری پر شاه پهلوی کے نام بهت هی سخت پوسٹر نکالا اور امام خمینی کی آزادی کی مانگ کی۔
موصوف نے دیگر ملک کے مراجع تقلید اور جید علمائے کرام کے ساتھ امام خمینی کی آزادی کے لئے تهران کا سفر کیا اور اِس راه میں بهت زیاده زحمتیں اٹھائیں، اور موصوف٬ اُس کے علاوه طلباء گروپ کے جواب میں (سن 1342 هجری شمسی) میں فرماتے هیں:
«جیسا که هم نے اپنا نظریه بارها بیان کیا هے، اِس سوال کے سلسله میں بهی عرض کرتے هیں که حضرت آیت الله خمینی دامت برکاته عالم تشیع کے مرجع تقلید هیں اور اسلام کے عظیم الشان عالم دین اورعالم تشیع کے لئے باعث افتخارهیں»۔
آیت الله العظمی مرعشی نے حضرت امام خمینی کی حمایت میں ایران و عراق میں مقیم مراجع تقلید کے پاس خطوط اور ٹیلیگرام بھی بھیجے هیں۔
موصوف٬ حضرت امام خمینی کو ترکیه جلا وطن کرنے پر اپنی تقریروں اور پوسٹروں میں شاه پهلوی کے اس کام کی مذمت کرتے تھے اور 15 خرداد (4 جون) کو شهدائے کرام کے لئے مجلس منعقد کیا کرتے تھے، آیت الله مرعشی نے همیشه انقلاب اسلامی کی حمایت کی اور رضا شاه کے ظلم و ستم کو برملا کیا، موصوف نے سن 1356 هجری شمسی میں آیت الله مصطفی خمینی کی شهادت پر اپنی امامبارگاه میں ایک مجلس عزا رکھی جس کے آخر میں رضا شاه کی حکومت کے خلاف دل هلا دینے والے نعره لگے جس کی بنا پر بعض لوگوں کو گرفتار بهی کرلیا گیا۔
آیت الله مرعشی نجفی نے امام خمینی کی جلا وطنی کے زمانه میں ان سے رابطه رکھا اورسن 1356 میں انقلاب اسلامی کی کامیابی سے ایک سال پهلے کے زمانه میں شیعه مراجع تقلید کے ساتھ ساتھ پوسٹروں کے ذریعه اُس نهضت اور تحریک کی هدایت فرمائی ۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بهی موصوف نے همیشه اسلامیه جمهوری کے نظام کی حمایت کی اور مختلف مناسبتوں پر پیغامات کے ذریعه اسلامی نظام کو استحکام بخشا۔

موصوف کی وفات

آخرکار شیعوں کے عظیم الشان مرجع تقلید نے 7-6-1369 هجری شمسی (یعنی 1990 عیسوی) میں 96 سال کی عمر میں اِس دنیا کو خیر آباد کردیا اوروه اپنے اجداد طاهرین سے ملحق هوگئے، موصوف کا جنازه عزاداروں کےعظیم الشان مجمع میں تشیع هوا اور موصوف کے کتابخانه میں دفن کردیا گیا 2، خداوندعالم ان پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔

مآخذ: گلشن ابرار؛ تاليف گروهي از نوبسندگان / پژوهشکده باقر العلوم


1. سن 2003 عیسوی کی رپورٹ کے مطابق۔
2. اِس مقاله کے تمام مطالب علي رفيعى (علامرودشتى) کی كتاب « شهاب شريعت، درنگى در زندگى حضرت آيه الله العظمى مرعشى نجفى » سے ماخوذ هیں۔





تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
10+6 =