پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|

محدث نامدار، محمد بن حسن صفّار


محمد مھدی حرّ زادہ

اقبال حیدر حیدری
(گروه ترجمه سائٹ دارالحدیث)


جس دن سے اسلام قم میں پھنچا ھے وھاں کے لوگوں نے شیعہ مذھب کے علاوہ کوئی مذھب اختیار نھیں کیا ھے چنانچہ تاریخ میں ”قمی“ اور ”شیعہ“ کا لفظ ھمیشہ ساتھ ساتھ رھا ھے۔ دوسری طرف سے سر زمین قم پر طولانی زمانہ تک متعدد راوی زندگی بسر کرتے رھے ھیں، انھوں نے حضرات ائمہ علیھم السلام کے گھربار کلام کو سخت زحمتوں اور مشقتوں کے ذریعہ آئندہ نسل کے لئے چھوڑا ھے، اسی لحاظ سے راویان نور کی زندگی کا مطالعہ ان کی زندگی کے پُرتلاش مختلف پھلوؤں کو آشکار کرتا ھے، اس کے علاوہ ان بزرگوں اور ان کے آثار کی یاد پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیھم السلام اور آئندہ آنے والی نسل کے د رمیان رابطہ برقرارکرنے والی ھے۔

ولادت

کتاب ”معجم رجال الحدیث“ میں رجال شیخ طوسی سے نقل کرتے ھوئے محمد بن حسن صفار کو حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا گیا ھے، اور چونکہ امام علیہ السلام سن ۲۶۰ ہجری میں شھید ھوئے اور دوسری طرف سے صفار نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے تحریری صورت میں سوالات کئے ھیں، اس وجہ سے معلوم ھوتا ھے کہ اس وقت ان کی عمر ۲۰ یا ۳۰ سال تھی، لہٰذا گمان یہ کیا جاسکتا ھے کہ موصوف تقریباً سن۲۲۰ ہجری میں پیدا ھوئے ھیں۔

صفّار کا زمانہ

تیسری صدی ہجری میں کہ جس میں صفار زندگی بسر کرتے تھے ؛ آسمان امامت چار اماموں کے نور سے منور تھا، اور محمد بن حسن صفّار کی تاریخ پیدائش کے مطابق انھوں نے حضرت امام ھادی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام اور حضرت امام زمانہ (عج) کا زمانہ پایا ھے۔
ان تینوں اماموں سے موصوف کی ملاقات کے سلسلہ میں کوئی دستاویز تو موجود نھیں ھے،لیکن قرائن و شواھد کے مطابق یہ کھا جاسکتا ھے کہ ان کی ملاقات ھی نھیں ھوئی ھے، چونکہ پھلی بات تو یہ ھے کہ صفّار نے بہت سے روایاتیں نقل کی ھیں لیکن ان کی کوئی بھی روایت امام علیہ السلام سے بلا واسطہ نقل نھیں ھوئی ھے مگر امام حسن عسکری علیہ السلام نے جو جوابات تحریر کئے ھیں۔
دوسرے یہ کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام فوجی چھاؤنی میں نظر بند تھے اور شیعوں سے آسانی کے ساتھ رابطہ نھیں ھوسکتا تھا، لہٰذا یہ احتمال مستحکم دکھائی دیتا ھے کہ ان کی ملاقات امام حسن عسکری سے نھیں ھوئی ھے۔
اس سوال کے جواب میں کہ ان کی ملاقات حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے ثابت نھیں ھے لہٰذا کس طرح ان کو امام علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا جاسکتا ھے؟ یہ کھا جائے : چونکہ موصوف نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے بہت سے سوالات کئے ھیں یعنی درحقیقت ان کے درمیان تحریری مصاحبت اور معاشرت برقرار تھی۔

ذاتی خصوصیات

ان کا نام محمد اور ان کے والد کا اسم گرامی حسن تھا، ان کا اصلی لقب ”صفّار“ تھا لیکن لقب ”ممولة“ بھی معروف تھا۔
وہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے اور انھوں نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے سوالات کئے ھیں، چنانچہ موٴلف کو اپنی تحقیقات میں وسائل الشیعہ اور کتب اربعہ میں ۳۴”مکاتبہ“ ملے ھیں اور اگر صفّار کا ھر خط ایک سوال پر مشتمل ھو تو انھوں نے امام علیہ السلام سے کم سے کم ۳۴ بار جواب حاصل کئے ھیں۔
شیخ صدوق علیہ الرحمہ اپنی عظیم الشان کتاب ”من لا یحضرہ الفقیہ“ میں اس بات کی وضاحت کرتے ھیں: صفّار کے خط کا جواب خود امام حسن عسکری علیہ السلام کے دست مبارک کا لکھا ھوا ھمارے پاس موجود ھے، اور ان خطوط کے موضوعات درج ذیل ھے:
دین، خیار حیوان (اگر معاملہ حیوان کا ھو تو معاملہ ختم کرنا)، کرایہ، وقف، وصیت، عورت کا عدّہ، قسم توڑنا، ارث، ضمانتِ امانت، غسل میت، مس میت اور میت کے قضا روزے۔

صفّار، بزرگ علماء کی نظر میں

ابو العباس نجاشی نے موصوف کے سلسلہ میں ایسے الفاظ استعمال کئے ھیں جو ان کی بلند عظمت و منزلت پر دلالت کرتے ھیں، نجاشی نے موصوف کو شیعیان قم کی مشھور و معروف شخصیت، قابل اطمینان، بلند مرتبہ، صاحب برتری اور روایت نقل کرنے میں کم خطا کے عنوان سے یاد کیا ھے۔
علامہ مجلسی نے بھی اپنی کتاب بحار الانوار کے آغاز میں ان کو قابل اطمینان اور عظیم الشان استاد کے عنوان سے یاد کیا ھے۔
دیگر بعض موٴلفین نے ان کی روشن فکری اور فضیلت کو اس سے کھیں زیادہ قرار دیا ھے کہ ان کی شخصیت کے سلسلہ میں بحث و گفتگو کی جائے۔

علمی مرتبہ

علمائے علم رجال موصوف کو فقیہ جامع، قابل اطمینان اور موثق محدث مانتے ھیں، موصو ف نے آنے والی نسلوں کے لئے حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایات یادگار چھوڑی ھیں، اس طرح کہ روایتوں کی سند میں صرف ”محمدبن الحسن الصفاّر“ ۵۷۲ بار آیا ھے، اور یہ احتمالاً ”۱۸۸۱“ حدیث کے علاوہ ھے کہ جو بصائر الدرجات میں ان کی احادیث موجود ھیں، لہٰذا ۲۴۵۳ حدیث ان سے منقول ھیں۔
اس کے علاوہ موصوف ایک صاحب نظر فقیہ بھی تھے جیسا کہ کتب حدیث میں کھیں کھیں ان کے فقھی نظریات بھی دکھائی دیتے ھیں، مثلاً شیخ صدوق نے فرمایا: ایک فقیہ کا یہ نظریہ ھے کہ نماز کی قنوت میں فارسی میں دعا کرنا جائز نھیں ھے لیکن محمد بن الحسن الصفّار کے نزدیک جائز ھے اور ھمارا فتویٰ بھی یھی ھے۔
صفّار کی مشھور و معروف کتاب ”بصائر الدرجات فی مقامات و فضائل اھل البیت علیھم السلام“ ھے اور صاحب وسائل الشیعہ کی تصحیح کے مطابق اس کتاب کے دو نسخے ھیں ایک بصائر الدرجات صغریٰ ھے اور دوسری بصائر الدرجات کبریٰ ھے۔ اور اس وقت جو نسخہ ھمارے پاس ھے وھی نسخہ کبریٰ ھے، گویا بصائر الدرجات پھلے ایک جھوٹی کتاب تھی لیکن بعد میں مصنف نے اس میں کچھ مطالب کا اضافہ کیا ھے اور موجودہ صورت میں ترتیب دی۔
یہ کتاب ۱۰ حصوں پر مشتمل ھے اور ھر حصہ میں متعدد باب ھیں اور ھر باب میں اتنی حدیثیں موجود ھیں جو ”مکتب ائمہ (ع) میں امام شناسی “ کا ایک مجموعہ ھو، اس کے علاوہ کتاب کے آغاز میں علم و اھمیت علم کے بارے میں مطالب بیان کئے گئے ھیں اور ائمہ (ع) کے سلسلہ میں مطالب بیان ھوئے ھیں۔

موصوف کے اساتید اور شاگرد

محمد بن حسن صفار کے اساتید اور جن سے موصوف نے روایت نقل کی ھے ان کی تعداد ۱۵۰/ ھے اور وہ مقدمہ بصائر الدرجات میں ”سرد المقال“ کے نام سے ۱۴۶ حضرات کا نام لیتے ھیں جن میں سے احمد بن محمد بن عیسیٰ قمی، زعیم قم اور احمد بن محمد بن محمد بن خالد برقی ھیں۔
اور صفار سے روایت کرنے والوں کی تعداد ۱۰ افراد ھے کہ جن میں سے ابن بابویہ (پدر شیخ صدوق)، محمد بن یعقوب کلینی، موٴلف اصول و فروع کافی، و محمد بن حسن بن ولید ھیں۔

انحرافات کا مقابلہ

محمد صفارکے زمانہ شیعوں کے درمیان چند خطرناک بیماریاں پھیلی ھوئی تھیں، جن میں سے ایک خطرناک بیماری ”غلو“ تھی کہ جس نے شیعوں کو عقائد میں شرک جیسی بیماری میں مبتلا کردیا، چنانچہ قدیمی دشمنوں کو حملہ کرنے کا موقع مل گیا، صفار کی ایک کتاب ”الردّ علی الغلاة“ ھے اور اسی طرح بصائر الدرجات کے پھلے حصے کے شروع میں ۹ ابواب سے معلوم ھو تا ھے کہ صفار اس خطرناک بیماری کے مقابلہ میں لاپروا نھیں تھے، اور انھوں نے اپنے لحاظ سے اس منحرف فکر کا مقابلہ کیا ھے۔

صفّار دوسروں کی کتابوں میں

علامہ مجلسی علیہ الرحمہ اپنی عظیم الشان کتاب کی ابتداء میں کہ جھاں اپنی کتاب کے منابع و مآخذ کا شمار کرتے ھیں عظمت کے ساتھ محمد بن الحسن صفّار کا تذکرہ کرتے ھیں، اور صاحب وسائل الشیعہ نے بھی انھیں اپنی کتاب کے مدارک موٴلفین میں شمار کیا ھے، چنانچہ موصوف لکھتے ھیں: میں نے براہ راست صفّار کی کتاب سے فیض اٹھایا ھے اور ان کی کتاب ”دعا“ جس کو دوسروں نے نقل کیا ھے اس سے بھی فائدہ اٹھایا ھے۔
آخر میں موصوف کی ان احادیث کا ذکر کرتے ھیں جن کی سند میں وہ خود موجود ھیں:
1- قال رسول اللّه. .(ص) السكوت ذهب و الكلام فضّة؛ خاموشی سونا ھے اور گفتگو چاندی۔
2- قال الصادق. (ع) شرف المؤمن صلاة الليل؛ مومن کا شرف اور برتری نماز شب ھے۔
3- قال الصادق. (ع) اف للرجل المسلم لا يفرغ نفسه فى الاسبوع يوم الجمعه لا مرد دينه فيسأل عنه؛ اُف ھے ایسے مسلمان پر جو ہفتہ کے دنوں میں جمعہ کے دن کو اپنے دین کے لئے خالی نہ کرے، یھاں تک کہ اس کے دین کے بارے میں سوال کیا جائے۔
4- قال الصادق. (ع) تسبيح الزّهرا فاطمه فى دبر كلّ صلاة احب الىّ من صلاة الف ركعة فى كلّ يوم؛ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میرے نزدیک ھر نماز کے بعد تسبیح حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا ھر روز ہزار رکعت نماز پڑھنے سے زیادہ محبوب ھے۔
5- قال رسول اللّه. (ع) الغيرة من الايمان و البذاء من النّفاق؛ حضرت رسول اکرم (ص) نے فرمایا: غیرت ایمان (کی نشانی) اور نا زیبا الفاظ کھنا اور جھالت نفاق (کی نشانی) ھے۔

فصل غروب

بہت سے راویوں اور مشھور شخصیتوں کے برخلاف کہ جن کی تاریخ وفات معلوم نھیں ھے محمد بن الحسن الصفّار کی تاریخ وفات ۲۹۰ ہجری قمری ھے ، موصوف حضرت امام مھدی (عج) کی غیبت صغریٰ میں زندگی بسر کرتے تھے، ان کی وفات قم میں ھوئی ھے اور ان کے قمی ھونے اور قم میں حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیھا) کے روضہ ھونے کی بنا پر اس چیز کا احتمال زیادہ ھے کہ موصوف کی قبر حضرت معصومہ (س) کے روضہ میں ھو۔ ان پر خدا کی رحمت ھو۔

حوالے:

(1) مقدمه رجال قم؛ سيد محمد مقدس زاده، صفحه پ.
(2) رجوع كنيد به ماهنامه كوثر، شماره 6ص 9و .10
(3) معجم رجال الحديث ؛ آيةاللّه خويى، طبع نجف، ج 15ص .278
(4) منتهى الآمال؛ محدث قمى( ره) ، ص .1037
(5) رجال شيخ طوسى؛ ص .143
(6) تمدن اسلامى در قرن چهارم هجرى - آدام متز؛ ترجمه عليرضا ذكاوتى قراگزلو، ص 21
(7) اين حكومت در منطقه زرنگ يعنى زاهدان كنونى و سيستان و بلوچستان بوده است.(
(8) منتهى الآمال؛ ص .1032
(9) گذشته حواله، ص .1148
(10) رجال قم؛ سيد محمد مقدس زاده، ص 144و .92
(11) رجال شيخ طوسى ؛ ص .436
(12) معجم رجال الحديث ؛ ص .278
(13) سردالمقال؛ مقدّمه بصائرالدرجات، ميرزا محسن كوچه باغى، ص .12
(14) نقل از معجم رجال الحديث؛ ص .278
(15) بحارالانوار، ج 42ص ( 50سند روايت)
(16) رجال نجاشى؛ ابوالعباس احمد بن على النجاشى، ص .274
(17) فرهنگ عميد و منتهى الارب و ترجمه منجد الطلاب.
(18) رجال نجاشى؛ ص .274
(19) قاموس الرجال؛ ج 8ص .131
(20) قاموس الرجال؛ ج 8ص .131
(21) رجال نجاشى؛ ص .274
(22) بحارالانوار، ج 1ص .7
(23) مقدمه بحارالانوار، محمدباقر بهبودى، ص .89
(24) معجم رجال الحديث، ج 15ص .286
(25) بصائرالدرجات، ص .557
(26) تهذيب؛ محمد بن حسن طوسى، ج 1ص .459
(27) من لا يحضره الفقيه؛ محمد بن بابويه صدوق، ج 1ص .316
(28) رجال نجاشى، ص .274
(29) وسائل الشيعه، حر عاملى، چاپ مؤسسه آل البيت ( ع) ، ج 3ص .155
(30) سردالمقال، ص .4
(31) سردالمقال، ص 12و .16
(32) معجم رجال الحديث؛ ج 15ص .278
(33) بحارالانوار، ج 1ص .7
(34) وسائل الشيعه، ج 30ص .155
(35) گذشته حواله، ج 30ص .164
(36) بحارالانوار، ج 71باب 78ص .293
(37) گذشته حواله، ج 87باب 6ص .152
(38) گذشته حواله، ج 59باب 6ص .38
(39) گذشته حواله؛ ج 85باب 37ص .331
(40) گذشته حواله، ج 71باب 84ص .342
(41) رجال نجاشى، ص .274
(42) گذشته حواله، ص .274



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
5+2 =