پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|

علامہ سید عارف حسین حسینی کی شهادت کی انیسویں برسی



5 اگست ملت جعفریہ پاکستان کے شہید قائد اور وحدت مسلمین کے علمبردار علامہ سید عارف حسین حسینی کی برسی ہے ۔ان کو استعماری ایجنٹوں نے 5 اگست 1988 ء کی صبح پشاور میں واقع اپنی درسگاہ مدرسۂ جامعۃ المعارف الاسلامیہ میں نماز فجر کے بعد شہید کیا۔ قائد کی شهادت کی خبر سن کر نه صرف شیعیان اهل بیت (ع) بلکه دیگر فروقون کی درمیان غم و غصی کی لهر دور گئی اور دنیا کی گوشے گوشے میں اس بھیانک قتل پر غم و اندوہ کا اظہار کیا گیا ۔ شہید عارف سے بچھڑنے کا غم انقلاب اسلامی کی رهبر کبیر اور اسلامی جمهوریه ایران کی بانی حضرت امام خمینی (رح) پر بھی گراں گذرا چنانچہ آپ نے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا :
" میں اپنے عزیز فرزند سے محروم ہوگیاہوں"
شہید ملّت اسلامیہ علامہ سید عارف حسین حسینی پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار سے چند کلومیٹر دور پاک افغان سرحد پر واقع تاریخی گاؤں پیواڑ میں 25 نومبر 1946 کو پیدا ہوئے ۔ آپ کا تعلق پارا چنار کے معزّز سادات گھرانے سے تھا.
شہید عارف حسینی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسه جعفریه پاراچنار مین دینی تعلیم کی حصول میں مصروف ہوئے – مذکوره مدرسه علاقے کے ایک بزرگ شیخ غلام جعفر نے رکہی تھی – اور علمی پیاس بجھانے کے لئے 1967 میں نجف اشرف روانہ ہوئے ۔ نجف اشرف میں شہید محراب آیت اللہ مدنی جیسے اساتذه کے ذریعے آپ حضرت امام خمینی (رح) سے متعارف ہوئے ۔ آپ باقاعدگی سے امام خمینی (رح) کے دروس ، نماز اور دیگر پروگراموں میں شرکت کرتے تھے ۔
1974 میں شہید عارف حسین حسینی پاکستان واپس آئے اور کچھ عرصے تک تبلیغ کے بعد واپس نجف جانے کا اراده کیا مگر عراق کی بعثی حکومت نے آپ کو عراق مین داخلی سی روک لیا۔ چنانچه عراقی سرحد سے واپس آکر اجتهاد و فقاہت کے عالمی مرکز، حوزه علمیہ قم میں حصول علم کا سلسلہ شروع کیا.
قم میں آپ نے شہید آیت اللہ مطہری ، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اور آیت اللہ وحید خراسانی جیسے علمائے اعلام سے کسب فیض کیا ۔ آپ علم و تقوی کے زیور سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ قم میں امام خمینی (رح) کی اسلامی تحریک سے وابستہ شخصیات سے بھی رابطے میں رہے چنانچہ قا‏ئد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای اور شہید ہاشمی نژاد کے خطبات و دروس میں بھی شامل ہوتے رہے ۔
شہید عارف حسینی کی انقلابی سرگرمیوں کی وجہ سے آپ کو ایک دفعہ شاہی خفیہ پولیس ساواک نے گرفتار بهی کیا ۔
شہید عارف حسین حسینی 1977 ء میں پاکستان واپس گئے اور مدرسۂ جعفریہ پاراچنار میں بحیثیت استاد اپنی خدمات انجام دیں، پاکستان کی ملّت تشیّع کو متحد و منظم کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کیں اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا.اس کے علاوہ آپ نے کرم ایجنسی کے حالات بدلنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔
جب 1979 ء میں انقلاب اسلامی ایران کامیاب ہوا تو آپ نے پاکستان میں اسلامی انقلاب کے ثمرات سے عوام کو آگاہ کرنے اور امام خمینی (رح) کے انقلابی مشن کو عام کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔
اگست 1983ء میں اس وقت کے قائد ملت جعفریہ مرحوم علامه مفتی جعفر حسین کا انتقال ہؤا اور 1984 میں پاکستان کے جیّد شیعہ علما و اکابرین نے علامہ شہید عارف حسینی کو ان کی قائدانہ صلاحیتوں ، انقلابی جذبوں اور اعلی انسانی صفات کی بناپر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا نیا قائد منتخب کیا ۔
علامہ شہید عارف حسینی کا دور قیادت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت کا دور تها۔ اور سیاسی جماعتیں جنرل آمریت کے خلاف سیاسی جدوجهد مین مصروف تهیں چنانچه آپ نے جماعتوں سی ملے بغیر ملکی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے طویل جد و جہد کی۔ اور شیعه سنی اتحاد کی لئے مؤثر اقدامات کئے. آپ نے اپنے ملک گیر دوروں لانگ مارچ کے پروگراموں ، کانفرنسوں اور دیگر پروگراموں سمیت سنی علما سے متعدد ملاقاتیں کرکے ملک مین تبدیلیاں لانے کی کوششیں کیں۔ شیعیان اهل بیت (ع) کو اپنی اقدامات کے ذریعے خود اعتمادی کا درس دیا اور انهیں باور کرایا که اگر متحد اور ہوشیار ہوں تو ملکی سیاست میں فیصله کن کردار ادا کرسکتی ہیں.
اس دوران آپ نے فقہ و تعلیمات محمد و آل محمد (ص) کی ترویج و تبلیغ کی غرض سے پشاور شهر میں پهلی عظیم دینی درسگاه " دارالمعارف الاسلامیه" کی بنیاد بهی رکهی جو آخر کار آپ کی شهادت گاه بنی اور آپ کی شهادت کے بعد مدرسے کا نام تبدیل کرکے "مدرسہ شهید عارف حسین الحسینی" رکها گیا.
جولائی 1986 میں شهید علامه نے اسی سلسلے میں لاہور میں عظیم الشان قرآن و سنت کانفرنس کا اہتمام کیا اور اس کانفرنس کی ذریعے مسلمان مکاتب کے درمیان اتحاد و یگانگت پر زور دیتے ہوئے فرقہ واریت کی شدید مذمت کی اور عوام کو پاکستان میں امریکی ریشہ دوانیوں سے آگاہ کیا ۔
علامہ شہید عارف حسین حسینی اتحاد بین المسلمین کے عظیم علمبردار اور فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے شدید مخالف تھے، اور علمائے اہل سنت کے ساتھ مل کر امت مسلمہ کی صفوں میں وحدت و یکجہتی کے لئے گرانقدر کوششیں کیں.
شهید علامه سید عارف حسین حسینی مورخه 5 اگست 1988 – مدرسے دارالمعارف الاسلامیه میں – استعماری ایجنٹوں کی جانب سے بهیجے ہوئے ایک دہشت گرد کی فائرنگ سے شہید ہوئے اور اسلام کے تناور درخت کو اپنے خون سے سیراب کرکے اپنے اجداد طیبین سے جا ملے.
آقائے آیت الله احمد جنتی، نے حضرت امام خمینی (ره) کے نمائندے کی حیثیت سے آپ کی میت پر نماز جنازه ادا کی اور تشییع جنازه میں شریک ہوئے اور آپ اپنے آبائی گاؤں پیواڑ میں سپرد خاک کردئے گئے.
شهید علامه حسینی نے اپنی ذمه داریاں بطور احسن نبها دیں اور وحدت مسلمین و وحدت مؤمنین کی اوپر اپنی جان نچهاور کردی اور آج قطعی طور پر انهیں خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مؤمنین و مسلمین ایک ہوجائیں اور متحد ہوکر دشمنان اسلام کی ریشه دوانیوں کو نقش بر آب کردیں.
آپ کی زندگی پر ایک نظر دال کر بآسانی اندازه لگایا جاسکتا ہے کہ آپ اپنی عقیدتمندون سی اتحاد کی توقع رکھتے ہیں اور اتحاد کے بغیر اگر مؤمنین گروہوں میں بٹ کر برسیاں بهی منائیں تو یہ ان کی روح کے لئے باعث مسرت نہیں ہوں گی. ان کی روح مؤمنین کا اتحاد چاہتی ہے اور یہ اتحاد وه کیمیا‎ئے نایاب ہے جس کی انتظار میں آنسو خشک ہوچکے اور آنکهوں کی سیاهیاں سفید ہوئی ہیں.
گو کہ استعماری طاقتوں نے اپنا کردار ادا کیہ ہے آپ کی کوششوں کو بے اثر کرنے کی غرض سے داخلی چیلوں کے ذریعے فرقہ وارانہ ٹولوں کی بنیاد رکهی اور یہ دہشت گرد ٹولے آج بهی ملک میں خون کی ہولی کهیل رہے ہیں اور دہشت گردی کا بازار گرم رکہنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے استکبار و استعمار اور غاصب صہیونیوں کو راضی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ ان دہشت گرد ٹولوں نے آج اپنے محسنوں اور تشکیل دینے والوں کی ناک میں بهی دم کر رکها ہے.
مساجد میں نہتے مسلمانوں کو گولیوں اور بم دہماکوں کا نشانه بنانے کے علاوه وه آج کل سرکاری اہلکاروں کو بهی وسیع اور بے شمار حملوں کے ذریعے اپنا ہدف بنا رہی ہیں. ایک تجریه نگار کا کہنا تها که دہشت گرد پالنے کا اس سے بہتر نتیجہ نہیں ہوسکتا.
عالمی طاقتوں کا حال یہ ہے کہ وه دہشت گردی کے خلاف عالمی جدوجهد کا دعوی تو کرتی ہیں مگر جب سے ان کی یه نام نهاد جنگ شروع ہوئی ہے دہشت گرد ٹولوں کی دہشت گردی میں کئی گنا اضافہ ہؤا ہے اور دہشت گردی کی بنیاد رکھ کر دہشت گردی کے خلاف جدوجهد کا دعوی کرنے والی طاقتیں بهی انھیں دہشت گرد سمجھ کر تنقید کا نشانہ نهیں بناتیں بلکہ اپنی خبررساں اداروں کے ذریعے دہشت گردوں کی یکطرفہ حملوں کو شیعه سنی فسادات کا نام دے کر فرقہ واریت کو ہوا دیتی ہیں اور آج جو کچھ عراق میں ہورہا ہے۔
ان طاقتوں کی ریشه دوانیون کی بنا بر ہورہا ہے اور ان طاقتوں کی کوشش ہے کہ مسلمان ہی مسلمانوں کا صفایا کردیں اور مسلمان ہی مسلمانون کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کریں کیوں کہ اگر وه خود آکر یه سب اقدامات انجام دیں تو انهیں مسلمانوں کی عالمی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اگر مسلمان قرآن و مسجد و منبر و مقدسات کی بے حرمتی کریں تو نہ صرف مسلمان اٹھ کهڑے نہیں ہوتے بلکہ وہ اٹھ کر مخالف گروہوں کے مقدسات پر حملہ کرتے ہیں اور اس طرح اپنا وجود اپنے ہاتہوں مٹانے کا سلسلہ جاری ہے اور دشمنان اسلام آرام و سکون کے ساتھ اپنے دشمنوں کے – یعنی بمارے – کرتوتوں کا تماشا کرتی ہیں اور یہ سب ان اقدامات کا نتیجہ ہے جو شهید حسینی کے مشن کو برباد کرنے کے لئے مختلف ٹولوں کی تشکیل میں ملوث تهے اور وه لوگ بهی یقینا اس سلسلے میں مجرم ہیں جنهوں نے شهید علامه حسینی کی شھادت اور ان کی کارکردگی سے مادی فائدے اٹهائے اور آپ کے مشن کو بهول گئے وہ مشن جس کی بنیاد نفس کے خلاف جہاد تھا اور جس کا ہدف حصول رضائے پروردگار تها۔
بہرحال امر مسلم یہ ہے کہ شهید علامہ سید عارف حسین حسینی (رضوان الله تعالی علیه) اوصاف و اقدار کا ایک کمیاب مجموعہ تهے جنهوں نے علم، تقوی، سیاست، دیانت اور قیادت و رہبری کی نئی مثالیں قائم کیں اور اپنی شخصیت کو ولایت عظمای فقیه کی اطاعت کی ذریعے نکهارا. آپ کے شاگرد قیادت کے میدان میں آپ کی با مقصد شجاعت و بہادری کے علاو ه راتوں کو بارگاه الهی میں آپ کی گریه و زاری کی حکایتیں اپنے سینوں میں لئے ہوئے ہیں اور وه انهیں صبر و حلم و زهد و تقوی، ایثار و فداکاری اور شجاعت و بهادری اور حسن خلق و حسن تدبیر کا بهتریں نمونه سمجهتے ہیں اور جو سوال عام طور پر پوچها جاتا ہے وه یہ ہے کہ کیا شھید قائد کی خلا پر ہوسکتی ہے؟



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
10+2 =