پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|

شہید محمد باقر صدر؛ ستارہ آسمان امت



شہید آیت اللہ محمد باقر الصدر پانچ ذی القعدہ تیرہ سو انسٹھ ہجری قمری میں عراق کے شہر کاظمین میں پیدا ہوۓ ۔
انہوں نے کاظمین میں منتدی النشر نامی اسکول میں پرائمری کی تعلیم حاصل کی اس اسکول کے معلمین ہمیشہ انہیں بہترین اور محنتی و مودب طالب علم کے طور پر دوسروں سے متعارف کرایا کرتے تھے ۔
شہید صدر بچپن میں ہی کاظمین کے صحن میں رکھے ہوے منبر پر جاکر تقریریں کیا کرتے تھے ۔

حوزہ علمیہ نجف اشرف میں شہید صدر کی تعلیم

شہید صدر نے پرائمری کی تعلیم مکمل کرکے اپنی والدہ کی فرمائش پر نجف اشرف کے عظیم حوزہ علمیہ میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی، سن تیرہ سو پینسٹھ ہجری قمری میں مرحوم شیخ محمد آل رضا آل یاسین اور مرحوم آيت اللہ خوئي کے سامنے زانوے ادب تھ کیا انہوں نے اصول کی تعلیم تیرہ سو اٹہتر اور فقہ کی تعلیم تیرہ سو اناسی میں مکمل کی اور تیرہ سو اٹہترہجری قمری میں خارج اصول کا درس دینا شروع کیا آپ کا یہ حلقہ درس تیرہ سو اکیانوے تک برقراررہا، شہید صدر نے تیرہ سو اکیاسی میں خارج فقہ کی تدریس شروع کی آپ عروۃ الوثقی کی روش پر خارج فقہ کادرس دیاکرتے تھے یہ درس بھی مدتوں جاری رہا۔

شہید صدر کے شاگرد

شہید صدر نے اپنی بابرکت علمی حیات کے دوران عظیم شاگردوں کی تربیت کی ہے، آپ کے شاگردوں میں شہید محمد باقرالحکیم، سید نورالدین اشکوری، سید محمود ھاشمی، شیخ محمد رضا نعمانی، سید کاظم حسینی حائری، سید عبدالغنی اردبیلی، سید عبدالعزیزحکیم، شہید سید عزالدین قبانچی، سید حسین صدر، سید محمد صدر، سید صدرالدین قبانچی، محمد علی تسخیری، شیخ غلام رضا عرفانیان شیخ محمد باقرایروانی اوربہت سی دیگر معروف علمی شخصیتوں کے نام لۓ جاسکتے ہیں ۔

شہید صدر کی تالیفات وتصنیفات

شہید آیت اللہ صدر نے گرانقدر کتابیں چھوڑی ہیں بعض کتابوں میں آپنے اسلامی معاشرے کی بنیادی ضرورتوں کا جواب دینے کی کوشش کی ہے یہ کتابیں حسب ذیل ہیں ۔
1. اقتصادنا
2. الاسس المنطقیہ للاستقراء
3. الاسلام یقودالحیاۃ
4. البنک اللا ربوی فی الاسلام
5. بحوث فی شرح العروۃ الوثقی
6. بحوث حول المھدی علیہ السلام
7. بحوث حول الولایۃ
8. فلسفتنا
9. المعالم الجدیدہ

علمی امتیازات

منطق، فلسفہ، اقتصاد، اخلاق، تفسیر و تاریخ میں شہید صدر کے نظریات قابل توجہ ہیں، علم اصول میں انہوں نے باب سیرہ عقلانیہ و سیرہ متشرعہ میں اور اس کے کشف کی راہوں اور اس کے قواعد کے سلسلے میں نۓ نظریات پیش کۓ ہیں فقہ میں ان کے نۓ نظریات علم اصول سے کم نہیں ہیں ان کی فقہی بحوث کا ایک مجموعہ "بحوث فی العروۃ الوثقی" کے نام سے معروف ہے جوچار جلدوں پر مشتمل ہے ۔
شہید صدرنے فلسفتنا اور اقتصادنا لکھ کرفلسفی مادی و اقتصادی مکاتب فکر جیسے مارکسیزم و کیپیٹالیزم کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور اس کام کو نئي روش اور متقن دلائل سے انجام دیا ہے ۔

جماعت العلماء کی تاسیس اور شہید صدر کا کردار

نجف اشرف کے بعض علماء نے عبدالکریم قاسم کے زمانے میں اس جماعت کے تحت تحریک شروع کی تھی گرچہ شہید صدر کم سنی کی بناپر اس جماعت کے باضابطہ رکن نہیں تھے لیکن اس جماعت کی تاسیس اور اسےفعال بنانے نیز اس کی ھدایت کرنے میں آپ کے کردارکو ہرگزنظر اندازنہیں کیا جاسکتا ۔
علماء کی اس عظیم تحریک کے سبب علماءنجف اشرف صحیح اسلامی پروگرام پیش کرنے میں کامیاب ہوسکے تھے اور ایک طاقتوراور خود مختار سیاسی تحریک چلانے میں انہیں کامیابی ملی تھی ۔

حزب الدعوۃ الاسلامیۃ کی تاسیس

شہید صدر نے جوانی کے ایام میں حزب الدعوۃ کی بنیاد رکھی یہ تیرہ سو ستہتر ق کی بات ہے حزب الدعوۃ چار مرحلوں پر مشتمل ہے

الف: حزب الدعوۃ کی تاسیس اور امت میں فکری تبدیلیوں کا مرحلہ

ب: سیاسی اقدامات کا مرحلہ

ج: حصول اقتدارکا مرحلہ

د: امت اسلامی کے مسائل کا جائزہ لینے کا مرحلہ

شہید صدر نے کچھ مدت بعد حزب الدعوۃ سے کنارہ کشی اختیار کرلی آپکا نظریہ تھاکہ مرجع تقلید کو صحیح طرح سے امت اسلامی کی رہبری کرنا چاہیے اور اس کو سیاسی پارٹی کی قیادت زیبانہیں دیتی ۔

منظم اور محترم مرجعیت

شہید صدر نے اپنی عمر کے آخری دس بابرکت برسوں میں اپنے گھر میں ہفتہ وار اجلاس کا اہتمام کیاتھا ان جلسوں میں آپ نے امام خمینی اور انقلاب اسلامی سے متاثرہوکر منظم اور محترم مرجعیت کا نظریہ پیش کیا ان کا کہنا تھاکہ مرجع کومنظم طرح سے اپنے اھداف و مقا صد پیش کرنے چاہیں اور ان اھداف کومنظم منصوبہ بندی نیزحکمت عملی کے تحت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
شہید صدر کی اس تحریک کے بنیادی اصول اس طرح ہیں ۔
مسلمانوں کو وسیع سطح پر دینی تعلیمات سے آگاہ کرنا
اسلامی تعلیمات کے حوالے سے فکری تحریک شروع کرنا ۔
اسلامی اور سیاسی تحریکوں پر نگرانی کرنا ۔
ساری دنیا میں اپنے مراکزقائم کرنا ۔

گرفتاری اور شہادت

صدامی کافر بعثی حکومت نے آپ کو چار مرتبہ گرفتارکیاتھاپہلی مرتبہ تیرہ سوبیانوے ہجری قمری میں آپکو بعثی درندوں نے اس وقت گرفتار کیا جب آپ نجف اشرف کے اسپتال میں زیرعلاج تھے، دوسری مرتبہ آپکو تیرہ سو ستانوے ہجری قمری میں اربعین سیدالشہداء علیہ السلام کے بعد جوکہ کسی قیام سے کم نہیں تھی گرفتارکیا گيا، تیسری مرتبہ تیرہ سوننانوے ہجری قمری میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد بعثی کافر حکومت نے آپ کو گرفتار کرلیا کیونکہ وہ آپ کی شخصیت اور سرگرمیوں سے بری طرح گھبراگئي تھی، چوتھی اور آخری مرتبہ آپکو چودہ سو ہجری قمری میں گرفتارکیا گیا اسی دوران بعثی درندوں نے آپ کو آپکی ہمشیرہ کے ہمراہ شہید کردیا بعثی درندوں نے آپکی لاش واپس نہیں کی بلکہ مزید بہمیت کا ثبوت پیش کرتے ہوۓ آپ کوسپرد خاک کردیا ۔
آيت اللہ سید محمد باقرالصدر کی شہادت کے بعد پوراعالم اسلام رنج و غم میں ڈوب گیا اور اسلامی ملکوں میں احتجاجی مظاہرے ہونے لگے امام خمینی اورديگر مراجع کرام و علماعظام نے تعزیت کے پیغامات جاری کۓ اور مجالس ترحیم کرائيں یہی نہیں آپ کی شان میں شعراء نے قصیدے اور مرثیے بھی کہے ۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
4+5 =