پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|

آیت اللہ العظمی شیخ جعفر سبحانی تبریزی



آپ قم کے مشھور فقھاء میں سے ھیں جو فقہ و اصول کے دورۂ عالی کی تدریس فرماتے ھیں ۔ آپ نے بھت ساری کتابیں فقہ، کلام اور تاریخ سے مربوط لکھی ھیں آپ مؤسس اور مدیر مؤسسہ آموزشی و تحقیقاتی امام صادق (ع) ھیں ۔

تحصيلات علمی

آپ نے ۲۸ شوال المکرم ۱۳۴۷ ھ ق میں تبریز شھر کے ایک علمی اور متقی گھرانے میں آنکہ کھولی ۔
آپ کے والد مرحوم آیة اللہ شیخ محمد حسین سبحانی خیابانی تبریز کے پرھیزگار و زاھد علماء و فقھاء میں سے تھے ۔
ابتدائی تعلیم سے فارغ ھونے کے بعد آپ نے مرحوم مرزا محمود فاضل (فرزند فاضل مراغی جو شیخ انصاری (رہ) کے شاگردوں میں سے تھے) کی خدمت میں ادبیات فارسی کا درس حاصل کرنا شروع کیا اور گلستان، بوستان، تاریخ عجم، نصاب الصبیان، ابواب الجنان وغیرہ کتابوں کو پڑھا ۔ اسکے بعد چودہ سال کی عمر میں یعنی ۱۳۶۱ ھ ق کو مدرسہ علمیہ طالبیہ گئے جھاں مقدماتی دروس و سطح کو طے کیا ادبی علوم کو جناب شیخ حسن نحوی اور جناب شیخ علی اکبر نحوی کی خدمت میں رھ کر حاصل کیا ۔ اور مطول، منطق، منظومہ اور شرح لمعہ علامہ مرزا محمد علی مدرس خیابانی صاحب ریحانة الادب سے پانچ سال کی مدت میں تمام کی ۔
آپ کی اس زمانہ کی یادگار کتابیں (حالانکہ اس وقت آپ کی عمر صرف ۱۷ سال تھی) ھیں جو ابھی بھی موجود ھیں ۔

۱) معیار الفکر (منطق)
۲) مھذب البلاغہ (علم معانی، بیان و بدیع کے سلسلہ میں)

آپ قم ۱۳۲۵ھ ش کو داخل ھوئے اور تکمیل سطوح کے لئے کمرھمت باندھی ۔ فرائد الاصول کے باقی ماندہ دروس کو مرحوم آیة اللہ حاج میرزا محمد مجاھدی تبریزی (۱۳۲۷-۱۳۷۹ھ) اور آیة اللہ مرزا احمد کافی (۱۳۱۸ھ ق ۱۴۱۲ھ ق) اور کفایة الاصول کو مرحوم آیة اللہ العظمیٰ گلپایگانی (م۱۴۱۴ ھ ق) سے پڑھا ۔
سطح عالی کی تکمیل کے بعد ۱۳۶۹ ھ ق میں آپ نے فقہ و اصول کے درس خارج میں شرکت کرنا شروع کیا اور مختلف علماء کے دروس سے مستفیض ھوئے ۔
۱) مرحوم آیة اللہ العظمیٰ بروجردی (۱۲۹۲ھ ق - ۱۳۸۰ ھ ق) کہ ان دنوں کتاب الصلاة کی تدریس فرما رھے تھے ۔
۲) مرحوم آیة اللہ العظمی سید محمد حجت کوہ کمری کہ ان دنوں آپ نے درس خارج میں بیع کی بحث شروع کی تھی ۔
۳) مرحوم آیة اللہ العظمیٰ امام خمینی (رہ) (۱۳۲۰ ھ ق - ۱۴۰۹ ھ ق) کہ آپ ان دنوں استصحاب کی بحث کر رھے تھے ۔
آپ نے امام خمینی (رہ) کے اصول کے درس میں آخر تک شرکت فرمائی اور ارادہ کیا کہ دروس کو دقت کے ساتھ ضبط کریں اور تحریر فرمائیں ۔ یہ کام سات سال میں (۱۳۳۰ء ۔ ۱۳۳۷ء ھ ش) انجام پایا اور اسی وقت چھپ بھی گئے ۔ُ آپ نے فلسہ و کلام تبریز میں مرحوم آیة اللہ سید محمد بادکوبہ ای کی خدمت میں رھکر قواعد العقائد کا درس حاصل کیا اور حوزہ علمیہ قم میں آیةاللہ علامہ سید محمد حسین طباطبائی کے منطق و فلسفہ کے درس سے فیضیاب ھوئے ۔ اور ۱۳۲۸ھ ش ۱۳۳۰ھ ش تک شرح منظومہ اور اس کے بعد اسفار کا درس پڑھا ۔
اسی طرح آپ طالب علمی کے زمانے سے مقدمات کی تدریس فرماتے تھے اور حوزہ علمیہ قم میں آنے کے بعد بھی پڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اور چند سال بعد سطوح کی تدریس شروع کردی ۔
آپ نے تقریباً سات سال مطول، معالم، لمعتین کے چند دورے، سات دورہ شیخ انصاری کی فرائد (۲۱ سال میں) مکاسب و کفایہ کے چند دورے اور پانچ مرتبہ شرح منظومہ کی تدریس کی ھے ۔۱۳۹۴ھ ق سے اصول و فقہ کا درس خارج بھی شروع کیا جو ابھی تک قائم و برقرارھے ۔
آپ نے فقہ، اصول و فلسفہ کی تدریس کے علاوہ سالوں سے آموزش عقائد، رجال، درایہ، تاریخ اسلام و تشیع، ملل و نحل، تفسیر و ادبیات پر بھی کام کیا اور ھر موضوع سے مربوط گرانبھا کتابیں تحریر فرمائی ھیں ۔ اس کے علاوہ مکتب اسلام نام کے رسالہ کی بنیاد رکھی ۔ اس رسالے میں جوانوں اور نوجوانوں کی طرف سے کئے گئے سوالات کے جوابات بھی دیتے تھے ۔
آپ نے مؤسسہ تعلیماتی و تحقیقاتی امام صادق (ع) کی بنیاد، تحقیق اور تالیف کے لئے ایک کتاب خانہ کی ضرورت کا احساس کرتے ھوئے ۱۳۶۰ھ ش میں اس کی بنیاد ڈالی، بعد میں اس میں اضافہ ھوتا گیا ۔ جس میں من جملہ کلام اسلامی کے تخصصی رشتہ کی تاسیس ھے جو ریاست عالیہ کے ذمہ ھے ۔
نیز آپ کے وسیلہ سے مجلہ کلام اسلامی چھپنا شروع ھوا ۔ جس کا شمار ایران کے نمایاں مجلوں میں ھوتا ھے ۔

تالیفات

۱) الشفاعة

۲) التوسل

۳) الشیعة

۴) الشیعة الامامیة

۵) دور الشیعۃ

۶) البدعة

۷) مناسک الفقھیة

۸) الزیارة

۹) صیانة آثار الاسلامیۃ

۱۰) العبادة

۱۱) رویة اللہ

۱۲) الحیاة البرزخیة

۱۳) الخاتمیة

۱۴) لب الاثر فی الجبر القدر

۱۵) منشور عقاید امامیة

۱۶) الائمة الاثنا عشر

۱۷) مفاھیم القرآن (تفسیر موضوعی عربی زبان میں ۸ جلد)

۱۸) البلوغ

19) منشور جاوید (تفسیر موضوعی فارسی ۱۲ جلد)

۲۰) بحوث فی الملل و النحل (اسلامی فرقوں کے بارے میں ۸ جلد تجزیہ اور تحلیل)

۲۱) نظام النکاح و الطلاق و الارث و القضاء و الشھادة (فقہ ۵ جلد)

۲۲) المحصول (اصول فقہ ۴ جلد)

۲۳) الالھیات (عقاید اور کلام ۴ جلد)

۲۴) فروغ ابدیت (عربی، انگریزی، روسی اور اردو میں ترجمہ ھوچکی ھے)

۲۵) آشنائی با اصول اسلام

۲۶) آگاھی سوم (علم غیب)

۲۷) آیین وھابیت (اردو میں چھپ چکی ھے)

۲۸) الاسماء الثلاثة: الالہ و الرب و العبادة

۲۹) الاعتصام بالکتاب و السنة

۳۰) احمد؛ موعود انجیل

۳۱) اصالت روح از نظر قرآن

۳۲) اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایة

۳۳) اصول عقاید اسلامی

۳۴) الھیات و معارف اسلامی

۳۵) الایمان و الکفر

۳۶) بحوث قرآنیة فی التوحید و الشرک

۳۷) بحوث فی علم الرجال

۳۸) البداء فی الکتاب و السنة

۳۹) برھان رسالت

۴۰) پیک رمضان

۴۱) پرسش ھا و پاسخ ھا

۴۲) پیشوایی از نظر اسلام

۴۳) التوحید و الشرک فی القرآن الکریم

۴۴) تھذیب الاصول (تقریرات اصول فقه حضرت امام خمینی - رہ)

۴۵) تذکرة الاعیان

۴۶) توسل بہ ارواح مقدسہ یا نقدی بر آیین وھابیت

۴۷) تاریخ اسلام

۴۸) تحلیلی از فلسفہ مارکس

۴۹) تفسیر صحیح آیات مشکلہ قرآن

۵۰) تفسیر صحیح سورہ توبہ و منافقون

۵۱) حدیث النبوی بین الروایة و الدرایة

۵۲) حسن و قبح عقلی

۵۳) حکومت اسلامی در چشم انداز ما

۵۴) حکم الارجل فی الوضوء

۵۵) الحج موسم العبادی

۵۶) جھان بینی اسلامی

۵۷) جبر و اختیار (زبان عربی میں بھی چھپ چکی ھے)

۵۸) خدا و معاد

۵۹) خدا و امامت

۶۰) خدا و پیامبران

۶۱) خاتمیت از نظر قرآن و حدیث و عقل (زبان عربی میں بھی چھپ چکی ھے)

۶۲) داروینیسم

۶۳) دورنمایی از زندگی پیشوایان اسلام (ع)

۶۴) دوست نماھا (تفسیر سورہ منافقون)

۶۵) راہ خدا شناسی و شناخت صفات او

۶۶) راز بزرگ رسالت

۶۷) زندگانی امامان (ع)

۶۸) سجدہ بر تربت

۶۹) سرچشمہ ھستی

۷۰) سرنوشت از دیدگاہ قرآن و حدیث و عقل

۷۱) سید المرسلین

۷۲) سیری در تاریخ تشیع

۷۳) سبع مسائل فقھیة

۷۴) شخصیتھای اسلامی شیعہ (زبان عربی میں بھی چھپ چکی ھے)

۷۵) شفاعت از نظر قرآن و حدیث و عقل

۷۶) شناخت در فلسفہ اسلامی

۷۷) الشیعة و علم الکلام عبر القرون الاربعة

۷۸) شوریٰ در قرآن و نھج البلاغہ

۷۹) شناخت صفات خدا

۸۰) ضیاء الناظر فی احکام المسافر

۸۱) عصر بازگشت بہ ایمان

۸۲) العقیدة الاسلامیة

۸۳) عصمة الانبیاء فی القرآن

۸۴) عقائد الفلسفیة و القرآن

۸۵) فلسفہ تاریخ و عامل محرک آن

۸۶) فرھنگ عقاید و مذاھب اسلامی (۴ جلد)

۸۷) فروغ ولایت

۸۸) فلسفہ اسلامی و اصول دیالیکتیک

۸۹) فی ظل اصول الاسلام

۹۰) قرآن و معارف عقلی

۹۱) قدرت ھای روحی اولیای خدا

۹۲) قانونگذاری در حکومت اسلامی

۹۳) القضاء و القدر فی الفلسفة الاسلامیة

۹۴) قرآن و اسرار آفرینش (تفسیر سورہ رعد)

۹۵) کاوشھایی پیرامون ولایت

۹۶) المختار فی احکام الخیار

۹۷) مع الوھابیین و خطھم و عقائدھم

۹۸) مصدر الوجود بین العلم و الفلسفة

۹۹) مشھد من حیاة ائمة الاسلام

۱۰۰) مارکسیسم و آزادی مذھب

۱۰۱) مربی نمونہ (تفسیر سورہ لقمان)

۱۰۲) مرزھای اعجاز

۱۰۳) معاد انسان و جھل

۱۰۴) قاعدتان فقھیتان اللاضرر و الرضاع

۱۰۵) مدخل مسائل جدید در علم کلام

۱۰۶) مکتب وحی

۱۰۷) الموجز فی اصول الفقہ

۱۰۸) نیروی معنوی پیامبر

۱۰۹) نظام القضاء فی الشریعة الاسلامیة الغراء (۲ جلد)

۱۱۰) نظام المضاربة فی الشریعة الاسلامیة الغراء

۱۱۱) نظریة المعرفة

۱۱۲) نقد باز شناسی قرآن

۱۱۳) وحی و اقسام آن

۱۱۴) الوھابیة فی المیزان

۱۱۵) ھستی شناسی در مکتب صدر المتاٴلھین

۱۱۶) اللہ خالق الکون

۱۱۷) اصول فلسفه (ترجمہ اصول الفلسفة آیة اللہ علامہ طباطبائی رہ)

۱۱۸) الرسائل الاربع

۱۱۹) الشؤون الاقتصادیة

۱۲۰) الحاشیة علی عروة الوثقی

www.ishraaq.net



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
1+10 =