پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|

امام روح الله موسوی خمینی



تنظیم و پیشکش گروہ ترجمہ سایٹ صادقین


زعیم عصر امام خمینی کی بلند ترین شخصیت فضائل و کمالات کا روشن آئینہ تھی جس میں آفتاب رسالت کے اسوہ ھائے نورانی کا عکس ضیا بار تو سیرت اھل بیت کے رنگا رنگ صدا بہار پھولوں کی بوباس، جس نے آخریں انقلاب اسلامی کے معصوم رھبر اعظم حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی نیابت کے فرائض نہایت کامیابی اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دے کر عالم کے ذرے ذرے کو اسلام کے حقائق سے روشناس کیا اس کے حال و مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے ایک ھوش مند و کامگار قائد انقلاب بن کر اسلامی جمہوریہ کی بنیاد ڈالی تا حیات اسی جد و جہد میں منہمک رہے کہ اس کی سرحد کو اس عظیم ترین آخری انقلاب اسلامی کی سرحد سے ملا دیا جائے جس کے بعد پھر کوئی دوسرا انقلاب آنے والا نہیں ھے ۔ جس کا پرچم وارثِ خون کربلا، تسکینِ دل زھرا، قائد معصوم حضرت قائم آل عبا (عج) کے عقدہ کشا ہاتھوں میں ھوگا ۔ اس وقت غلامی کی زنجیریں ٹوٹ کر بکھر جائیں گی، حریت کا رواج ھوگا ۔ اور " جاء الحق و زھق الباطل " کا پر کیف نغمہ ساز شریعت سے عدل و انصاف کی دھن میں پھوٹ پھوٹ کر سرور و نشاط کی لہریں لیے ھوئے، فضائے عالم میں اس طرح چھایا ھوگا کہ ظلم و جور کی انسانیت دشمن آوازیں صفحۂ ھستی سے معدوم ھوں گی، فقر و افلاس کا نام و نشان تک نہ ھوگا، عدل و انصاف کا سکہ ھر طرف چل رھا ھوگا، بہیمیت کے اصنام دم توڑ چکے ھوں گے ۔ اسلام کی راجدھانی سے انسانیت کا حق مل چکا ھوگا ۔
پھر اس دور غیبت میں قائد معصوم حضرت امام عصر (عج) کا وہ عظیم ترین نائب جس نے مقصد خلقت سمجھ کر اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کی قدر کرتے ھوئے حق کی سر بلندی کے لئے تا حیات کوششیں جاری رکھی ھوں، جو حسن عمل کا یکتائی، فضیلت و تقویٰ کا صاف و شفاف آئینہ، محرومین و مستضعفین کی امید گاہ، شریعت اسلام کی پناہ رھا ھو، جس کی یہ آرزو رھی ھو کہ اسلامی جمہوریہ، انقلاب اسلامی کا دیباچہ بنے، کیوں نہ مظہر جہاد و اجتہاد، محور ھدایت و ارشاد، مشرق علم و فقاھت مرکز تقلید جہانِ تشیع کہے جانے کا حقدار ھو اور کیوں نہ اسے دنیا کا عظیم ترین انسان کہا جائے، کیوں نہ اسے عالم رفعت کی بلند ترین شخصیت سمجھا جائے، یقیناً ایسی ھی پاکیزہ صفت، با کمال خوش مآل باطن جمال ھستی مستحق ھے کہ اسے سر چشمۂ سیادت اھلبیتِ عصمت و طہارت کا چشم و چراغ، عبد صالحِ خدا جان بقیۃ اللہ کہا جائے ۔ حیرت نہ ھو ! علماء اخیار حضرت بقیۃ اللہ کے معتمد رھے ھیں اور خدمتِ امام معصوم میں تقرب کا شرف حاصل کرچکے ھیں، جناب شیخ مفید کو حضرت نے معتمد کا لقب دیا ھے، جناب سید مرتضیٰ کو علم الھدیٰ کا اور جناب کلینی کو ثقۃ الاسلام کا لقب حضرت امامِ عصر عجل اللہ فرجہ کی معصوم بارگاہ سے عطا ھوا ھے ۔ جناب سید رضی اور جناب سید مرتضیٰ کی عظمت کے لیے یہی کافی ھے کہ ان حضرات کی تعلیم کے لئے جناب خاتون جنت، جناب شیخ مفید (رح) کے خواب میں تشریف لائیں ۔ جناب مقدس اردبیلی کے مقربِ خدا ھونے کا یہ حال تھا کہ ایک مرتبہ وضو کے لئے پانی کی طلب میں کنویں میں ڈول ڈالی تو پانی کے عوض ڈول میں زر و جواھر نکلے ۔ آپ نے اسے کنویں میں الٹ دیا ۔ اسی طرح متعدد بار ھوا ۔ آخری بار آپ نے کہا " احمد پانی چاھتا ھے زر کا خواھش مند نہیں ھے " ۔ اس کے بعد ڈول میں پانی آیا اور آپ نے نماز ادا کی ۔ ایک جلیل القدر عالم دین کی ھی کاوشوں کا نتیجہ ھے کہ آتش پرستی کا مرکز کشور ایران آج اسلام و ایمان کی جلوہ گاہ نظر آرھا ھے، جسے امام خمینی کی پر خلوص ایمانی کوششوں اور انھیں کے ایثار و قربانی نے عفریت ھوس و ضلالت کے خونخوار پنجوں سے چھڑا کر انقلاب اسلامی کے دامن میں پناہ دی ۔ اپنی بے لوث عرفانی کاوشوں سے سسکتے ھوئے اسلام کے پیکر میں پھر سے روح تازہ پھونک کر اس کی ڈوبتی ھوئی نبضوں کو از سر نو قوت بخشی اور اسے احکام شریعت کے لعل و جواھر کا خزانہ بنا دیا ۔
ولادت سے دم واپسیں تک کے حالات بتاتے ھیں کہ مقرب خدا اور موید رھبر اسلام تھے جس کی ذات معمّہ صفات میں نہ جانے کتنے رموز و اسرار پنہاں اور قابلِ رشک حد تک اوصاف و کمالات نمایاں تھے، جس نے اب تک کی تاریخ اسلام میں ایک منفرد، روشن اور بلند ترین جگہ حاصل کرلی ھے ۔ جس کے ذریں کار ناموں کو زمانے کی گردشیں کبھی دھندلا نہ سکیں گی بلکہ فضل خدا سے امید ھے کہ آخری انقلاب اسلامی تک نشانِ راہ بن کر آفتاب نصف النہار کی طرح ضو فشاں رھیں گے ۔ پھر کیوں نہ ایسے عبد صالح کا نام نامی "روح اللہ " ھوتا اور ھم کیوں نہ اسے "جان بقیۃ اللہ" کے باوقار لقب سے یاد کریں ۔

ولادت با سعادت

آپ ایک مجموعۂ صفات نو رس پھول کی صورت میں جبین ھدایت کا درخشندہ ستارہ بنکر، شبِ غیبت کے لئے نیابت امام معصوم کی شمع روشن کیے، سرچشمہ سیادت حضرت خاتون جنت کی ولادت با سعادت کے دن 20 / جمادی الثانی 1320 ھجری کو شہر خمین میں اپنی خوش نصیب و با عفت ماں کی آغوش میں آئے ۔ مگر ولادت کے چار ماہ بیس یوم بعد آپ کے پدرِ نامدار خمین کے دو مشہور بدمعاشوں جعفر قلی خاں اور رضا قلی سلطان کے ظالمانہ ہاتھوں سے 47 / سال کی عمر میں درجہ شہادت پر فائز ھوگئے ۔ اپنے والد ماجد کی شہادت کے بعد اپنی سوگوار مادر گرامی اور چاھنے والی پھوپھی محترمہ بانو خانم کی شفقتوں کے سائے اور بڑے بھائی علامہ سید مرتضیٰ ( آقائے پسندیدہ ) کی سرپرستی میں تعلیم و تربیت کی کٹھن منزلیں نہایت کامیابی کے ساتھ طے کرنے لگے ۔ مگر سولھویں سال کا آغاز ھی تھا کہ چاھنے والی پھوپھی کا سکون بخش سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا اور اس کے کچھ ھی دنوں بعد ماں کی انمول شفقتوں سے بھی محروم ھوگئے ۔

تعلیمی دور

آپ نے ابتدائی و بنیادی تعلیم کا دور اپنے وطن شہر خمین ھی میں گزارا لیکن اپنی غیر معمولی ذھانت اور کاوشوں کی وجہ سے لکھنے پڑھنے میں بہت جلد کمال کی منزل پر پہنچ گئے ۔ میرزا محمود سب سے پہلے استاد ھیں ۔ پھر ملا ابو القاسم اور شیخ جعفر کے مدرسے میں فارسی ادب کی تعلیم حاصل کی ۔ اور خوش نویسی نو بنیاد مدرسۂ احمدیہ میں آقائے حمزہ محلاتی سے سیکھی ۔ مروجہ تعلیم سے پندرہ سال کی عمر میں فارغ ھوکر موفقیت الٰہی کے سایہ میں علوم الٰہی کی تحصیل میں منہمک ھوگئے ۔ سب سے پہلے اپنی والدہ کے چچا زاد بھائی آقائے شیخ جعفر سے صرف و نحو پڑھی اس کے بعد آقائے محمد افتخار العلماء نیز اپنے ماموں حاج میرزا محمد مہدی اور اپنے بہنوئی میرزا رضا نجفی سے مختلف علوم و فنون میں کمالات حاصل کیے ۔ اس کے بعد منطق سیوطی اور مطول اپنے بڑے بھائی آیۃ اللہ سید مرتضیٰ آقائے پسندیدہ سے پڑھی ۔ مقدماتی تعلیم تمام کرکے 1338ھجری میں اعلیٰ تعلیم کے لئے اصفہان جانا چاھا ۔ مگر حسن اتفاق سے اسی زمانے میں اراک کا نو تعمیر حوزۂ علمیہ آیۃ اللہ العظمیٰ حاج شیخ عبد الکریم حائری یزدی کی قیادت میں بڑی تیزی سے ترقی کرتا جارھا تھا ۔ اس کی بڑھتی ھوئی شہرت اور نیک نامی کو دیکھتے ھوئے 1339 ھجری میں اصفہان کے بجائے اراک ھی گئے ۔ وھاں پہنچ کر آقائے محمد گل پالگائی سے منطق و حدیث اور آقائے شیخ عباس اراکی سے شرح لمعہ پڑھی ۔ آیۃ اللہ حائری اس دور کے جلیل القدر مجتہدین میں تھے ۔ علمائے اعلام کی خواھش پر اراک آئے تھے لیکن 1340 ھ میں علماء قم کے اصرار بلیغ کی بنا پر اراک سے قم چلے آئے اور وھاں جناب معصومۂ قم کے جوار میں قیام فرما کر حوزہ علمیہ قم کی بنا ڈالی ۔ اسی وقت سے آپ کا لقب آیۃ اللہ موسس مشہور ھوگیا ۔ اس کے چار ماہ بعد آیۃ اللہ خمینی اراک سے قم آگئے اور مدرسہ " دار الشفاء " میں مقیم ھوکر روحانی اساتذہ کے زیر سایہ اعلیٰ علوم اسلامی کی تحصیل اور تزکیہ نفس میں منہمک ھوگئے ۔ وھاں آکر آپ نے آقائے میرزا علی ادیب تہرانی سے مطول دوبارہ پڑھی اور سطحی درسیات کی تعلیم کو آیۃ اللہ سید محمد تقی خوانساری کی خدمت میں پایۂ تکمیل کو پہنچا کر 1345 ھجری سے 1355 ھجری تک آیۃ اللہ العظمیٰ آقائے حائری کی خدمت میں رہ کر علوم و کمالات کی تحصیل میں منہمک رھے ۔ اس کے ساتھ ھی آیۃ اللہ میر سید علی یثربی کاشانی، آیۃ اللہ شیخ محمد رضا نجفی اور آیۃ اللہ ابو القاسم کبیر جیسے باکمال مجتہدین سے بھی فیض یاب ھوتے گئے ۔ آپ نے صرف فقہ و اصول کی تعلیم پر اکتفاء نہ کیا بلکہ ساتھ ھی ساتھ فلسفہ و حکمت کا فن بھی آیۃ اللہ رفیعی اور آقائی حاج شیخ علی اکبر یزدی (معروف بہ حکیم متوفی 1354 ھجری) سے حاصل کرتے گئے جس میں علمی و عملی عرفان کے ساتھ کمال و مہارت آیۃ اللہ شیخ محمد علی شاہ آبادی کی خدمت میں حاصل کیا ۔ علم اخلاق کو میرزا جواد آقائے ملکی تبریزی صاحب المراقبات سے حاصل کیا، موسس حوزۂ علمیہ آیۃ اللہ حائری کے انتقال کے بعد جب آیۃ اللہ بروجردی قم تشریف لائے تو آپ ان کے درس اجتہاد سے بھی فیض یاب ھوئے ۔ تھوڑی ھی مدت میں قابلِ رشک حد تک استفادہ کرکے درجۂ اجتہاد پر فائز ھوگئے اور غیر معمولی صلاحیتوں کی بنا پر آپ کا نام بہت جلد حوزۂ علمیہ کے مایۂ ناز و ماھر اساتذہ کی فہرست میں شامل ھوگیا ۔

ملکہ تدریس

جب علمی و عملی کمالات، روحانی بلند مراتب، تزکیہ نفس سے آراستہ ھوگئے اور بظاھر کوئی چیز ایسی نہ رہ گئی جسے اساتذہ سے ھی حاصل کرنا ضروری ھو بلکہ خود اپنی نظر و رائے میں ایک بلند مقام پر پہنچ گئے تو 1347ھ میں بعمر ستائیس سال حوزہ علمیہ قم میں فلسفہ کا درس دینے لگے، مگر بغیر سمجھے بوجھے ھر ایک کو فلسفے کی تعلیم نہیں دیتے تھے، کیونکہ اپنی فطری صلاحیت اور صفائے باطن سے فلسفہ کی پیچیدگی کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ اور یہ بھی سمجھتے تھے کہ فلسفہ کی ھر کتاب اور اس کے پڑھنے کے لئے ھر ذھن موزوں نہیں ھے ۔ یہی وجہ تھی کہ درس کے لئے مناسب کتاب کا بھی انتخاب کرتے تھے اور موزوں ذھن و دماغ والے باصلاحیت شاگردوں کا بھی ۔ ان کی صلاحیت و استعداد کا تقریری و تحریری اختیار لے کر شرکت درس کی اجازت دیتے تھے ۔ ان کے نفس کی اصلاح اور اخلاقی قوتوں کے تحفظ کا ھی نہیں بلکہ ان کے اضافہ کا بھی اھتمام کے ساتھ پورا پورا خیال رکھتے تھے تاکہ فلسفے کے پیچیدہ مسائل میں بھی الجھ کر راہ ھدایت سے بھٹک نہ جائیں ۔ اسی لئے فلسفے کے ساتھ ساتھ ھفتہ میں ایک مرتبہ درس اخلاق بھی دیا کرتے تھے ۔ دلکش انداز بیان سے درسِ اخلاق کے شائقین کی تعداد روز بروز بڑھتی ھی جاتی تھی ۔ درس کی مقبولیت اور ضرورت وقت کے پیش نظر آپ نے ھفتہ میں دو دن پنجشنبہ اور جمعہ کو درس دینا شروع کردیا افادیت و مقبولیت کا چرچہ سن کر تشنگان اخلاق دور دور سے آکر اس سر چشمۂ علم و کمال سے اپنی اپنی پیاس بجھانے لگے ۔
اس درس کی عظمت و اھمیت اور تاثیر کا اندازہ اسی سے لگانا چاھیئے کہ چند ھی دنوں بعد دلوں کی سر زمین سے اخلاق کے پودے سر ابھارنے لگے اور انقلاب اسلامی کی داغ بیل پڑنے لگی ۔ اس جادو بیانی اور دلوں پر تاثیر کا حال شاھی حکومت کو معلوم ھوا تو اسے اپنی بنیادیں ھلتی نظر آئیں ۔ چنانچہ درس بند کرنے کا پیغام آپ کی خدمت میں بھیجا ۔ مگر آپ نے عزم محکم کے ساتھ جواب دیا " میں یہ بند نہیں کرسکتا ۔ اس کو جاری رکھنا میرا فریضہ ھے ۔ اگر حکومت چاھتی ھے تو پولیس کے ذریعے روک دے "۔ اس جواب سے ظاھر ھوتا ھے کہ آپ کو اپنی شرعی ذمہ داری کا کس قدر احساس تھا ۔
اس درس کی تاثیر نے ایسے گراں قدر شاگرد پیدا کردئے تھے جو ھر مصیبت، ھر طوفان، نیز ظلم و ستم کے مقابلے کے لئے ھمہ وقت تیار رھتے تھے ۔ قید کی مشقتوں، جلا وطنی کی تکلیفوں اور شہادت سے ڈرنا جانتے ھی نہ تھے ۔ اس کی تاثیر کے سلسلے میں آپ کے شاگرد رشید آیۃ اللہ شہید مطہری نے اپنی کتاب " علل گرائش بہ مادی گری " کے ص 10 پر جو کچھ تحریر کیا ھے اس کا مفہوم درج ذیل ھے یہ وہ وقت تھا جب کہ امام خمینی کا نام لینا بھی جرم تھا :
" اگرچہ میں آغاز ھجرت میں مقدمات کی تعلیم سے فارغ نہ ھوا تھا اور معقولات کے درس میں شرکت کے لائق نہ تھا لیکن وہ درس اخلاق جو میری محبوب شخصیت کے ذریعے سے مجھے ھر پنجشنبہ اور جمعہ کے دن ملا کرتا تھا، وہ خشک علمی اصطلاحات پر مشتمل درس ھونے کے بجائے میرے لئے سیر و سلوک اور معارف کا خزانہ تھا جس کا وجد و سرور مجھے ھفتہ بھر سرمست و مسحور رکھتا تھا ۔ میری فکر و روحی شخصیت اسی درس اور ان دیگر تعلیمات سے تشکیل پائی ھے جن میں میں نے اس الٰہی استاد سے بارہ سال کے عرصے میں حاصل کیا ھے میں نے خود کو ان کا رھین منت سمجھا ھے اور سمجھتا رھوں گا وہ صحیح معنوں میں روح قدس الٰہی تھے "

درس اجتہاد کا ملکہ

امام خمینی مجموعی حیثیت سے فطری صلاحیتوں کے ساتھ علمی کمالات کی اس بلندی پر پہنچ چکے تھے کہ ھر علم و فن کے اتھاہ دریا میں غواصی کرکے مفہوم و معنی کے آبدار موتی برآمد کرلیتے تھے ۔ اب فقہ و اصول کی تدریس سے بھی مستفید کرنے کا وقت آپہنچا تھا ۔ اس میدان میں بھی آپ نے اپنی انفرادیت نمایاں کی ۔ رجب 1364 ھجری آیۃ اللہ آقائے بروجردی نے قم کو اپنا مرکز بنا لیا تھا ۔ اسی زمانے میں آپ نے درس اجتہاد کا سلسلہ شروع کیا جو اپنی محبوبیت و مقبولیت کے اعتبار سے بہت جلد اعلیٰ منزلوں پر پہنچ گیا ۔ آپ نے بھرپور کمالات کے جوھر دکھائے اور شائقین پورے طور پر سیراب ھونے لگے ۔ علمی جامعیت، صلاحیت اور نکتہ رس نگاہ کا چرچا پہلے سے تھا ھی اب میدان عمل میں فقہ و اصول کے دقیق اشکالات کے حل باریک اور پیچیدہ مسائل کی موشگافیوں کے ساتھ تسکین بخش حسنِ بیان نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا، علم کے شائق جید افاضل کثیر تعداد میں آپ کے گرد جمع ھوکر استدلالی و اجتہادی بیان سے استفادہ کرنے لگے ۔ علماء افاضل کی ھر بزم میں آپ کا ذکر خیر پھیل گیا ۔ آپ کی غیر معمولی عالمانہ صلاحیت و استعداد اور قدرت کلام کا چرچا ھر نشست میں ھونے لگا ۔ شائقین کی تعداد میں اضافہ ھونے لگا ۔ آپ کا حلقۂ درس بھی ھر جہت سے درس کے بلند ترین حلقوں میں شمار ھونے لگا ۔ مگر آپ کی باریک بینی نکتہ رسی اور دقت نظر نے درس کی سطح کو اس قدر بلند کردیا تھا کہ عام طور سے ھر شخص استفادہ نہیں کرسکتا تھا ۔ بس وھی افراد شرکت کی صلاحیت رکھتے تھے جو کئی برس تک دوسرے علماء کے درس اجتہاد سے فیض یاب ھوکر آتے تھے ۔ آپ کسی بھی بحث کو ایسے انداز سے شروع کرتے اور اسے رفتہ رفتہ نتیجہ کی منزل تک اس خوش اسلوبی سے پہنچاتے تھے کہ کوئی پیچیدگی یا شک و شبہ یا کسی بھی اشکال کی گنجائش باقی نہ رھتی تھی بلکہ سب مطمئن ھوکر اٹھتے تھے ۔
اگر چہ آپ فلسفہ کے مسلم الثبوت ممتاز و ماھر استاد تھے جس کا اس وقت کوئی مثل و نظیر نہ تھا، پھر بھی آپ اس قدر محتاط تھے کہ فقہ و اصول کے درس کے وقت فلسفیانہ مضامین و موضوعات کو زیر بحث لانے سے احتراز کرتے تھے ۔ شاید یہی وجہ رھی ھو کہ فقہ و اصول کے دقیق مسائل کے ساتھ فلسفیانہ بحثوں کے پیچ و خم کہیں طلباء کے ذھنوں کو الجھا نہ دیں اور روحانی تعلیم کے قیمتی لمحات برباد ھوجائیں اور اصل مقصد فوت ھوجائے ۔
آپ فقہ و اصول کے درس میں بھی اسی طرح ممتاز و منفرد استاد تھے جس طرح فلسفہ اور دیگر علوم و فنون میں تھے ۔ ایسے موقع پر دوسری بحثوں کو نہ چھیڑ کر فقہی و اصولی درس کی انفرادیت، افادیت اور عظمت کو باقی رکھتے تھے ۔ آپ فقہ و اصول کے مخصوص دائرے سے ھرگز باھر نہ جاتے تھے ۔ تمام مسائل و مباحث میں آزادانہ تبصرہ ایسا فرماتے تھے کہ متقدمین و متاخرین و معاصرین میں سے نہ تو کسی کی تقلید ھوتی تھی نہ ان کے نظریات و مسلک سے کوئی تصادم ھوتا تھا بلکہ وہ آپ کی اپنی جداگانہ تحقیق و تنقیح ھوتی تھی ۔ آپ کے زیر سایہ رہ کر شاگردوں میں بھی عمیق نظر اور آزاد تحقیق و تبصرے کی صفت پیدا ھوگئی ۔ وہ سابق کے نظریات پر گہری نظر ڈال کر اس کے کمزور اور مضبوط گوشوں کی اچھے اور مقبول انداز میں وضاحت کرکے ھمیشہ صحیح نظریے پر پہنچے جدید علمی بنیادیں فراھم کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔ امام خمینی دیگر بزرگ و علماء افاضل کے نظریات اور ان کی علمی بنیادوں کا خود بھی احترام کرتے تھے، اور شاگردوں کو بھی اس کی ھدایت فرماتے تھے ۔ چنانچہ آقائے جعفر سبحانی نے ایک دن اثنائے درس میں بتایا کہ میں نے امام خمینی کے اسباق کو ایک کتاب کی شکل میں " تہذیب الاصول " کے نام سے جمع کیا تھا، ایک بزرگ عالم کا قول نقل کرتے ھوئے میں نے لکھا تھا کہ یہ قول " فاسد " ھے ۔ جب میں نے یہ کتاب امام کی خدمت میں بغرض اصلاح پیش کی تو آپ نے فرمایا ۔ " بزرگوں کا احترام ھمیشہ ملحوظ رکھنا چاھیے، فاسد کے بجائے لکھو " نامکمل " ھے ۔ "
آقائے سبحانی کہتے ھیں کہ امام خمینی ایک طرف تو آیۃ اللہ شیخ عبد الکریم حائری کے شاگرد تھے جو سامرہ کے دبستان کی تاسی میں روایات و آیات پر کم اور عقل و استدلال پر زیادہ زور دیتے تھے اور دوسرے آیۃ اللہ بروجردی کے بھی شاگرد تھے جو فقہاء کے اقوال پر غور و فکر اسناد روایات اور ان کے متون کی چھان بین کرتے تھے ۔ سنی فقہاء کے نظریات لیتے تھے اور مسئلہ کی تاریخی تحقیق پر زور دیتے تھے ۔ امام خمینی ان دونوں دبستانوں کی خوبیوں سے ماھرانہ انداز میں استفادہ کرتے تھے ۔

تلامذہ

آپ نے حوزۂ علمیہ قم و نجف میں تقریباً چالیس سال تک معقولات و منقولات کا درس نہایت کامیابی کے ساتھ دیا ھے ۔ آپ کا شمار اسلامی علوم کے بےمثل اساتدہ میں ھوتا تھا ۔ تقریر و بیان کا بھی غیر معمولی ملکہ رکھتے تھے ۔ علمی مسائل کی تحقیق میں آپ کا کوئی جواب نہ تھا ۔ اسی لیے آپ کے درس سے عظیم شخصیتوں نے استفادہ کیا ھے اور آپ کے حلقۂ درس نے بڑے بڑے محقق پیدا کئے ھیں جو ملک کے گوشے گوشے میں تدریس، تحقیق، تصنیف، تالیف میں مشغول ھیں ۔ سیاست کے میدان میں اھم کارنامے انجام دے رھے ھیں اور کچھ نے خود کو اسلام پر قربان بھی کردیا ھے ۔ امام خمینی کے تلامذہ کی فہرست " بررسی و تحلیل از نہفت امام خمینی " میں تفصیل کے ساتھ موجود ھے ۔ یہاں بعض ان شاگردوں کا نام پیش کیا جارھا ھے ۔ جو انقلاب کی مقدس راہ میں درجۂ شہادت پر فائز ھو چکے ھیں :
1۔ آیۃ اللہ سید مصطفیٰ خمینی
2۔ آیۃ اللہ شیخ مرتضیٰ مطہری
3۔ آیۃ اللہ شہید سید علی قاضی طباطبائی
4۔ شہید محراب آیۃ اللہ عطاء اللہ اشرفی
5۔ آیۃ اللہ شہید سید محمد سعیدی
6۔ آیۃ اللہ شہید ڈاکٹر محمد مفتح
7۔ آیۃ اللہ شہید ڈاکٹر سید محمد حسین بہشتی
8۔ آیۃ اللہ شیخ علی قدوسی
9۔ آیۃ اللہ شہید ڈاکٹر محمد جواد باھنر
10۔ شہید محراب آیۃ اللہ سید اسد اللہ مدنی
11۔ شہید محراب آیۃ اللہ محمد صدوقی
12۔ آیۃ اللہ شہید مہدی ربانی املشی
13۔ حجۃ الاسلام شہید سید عبد الکریم ھاشمی نژاد
14۔ حجۃ الاسلام شیخ حسین حقانی
15۔ حجۃ الاسلام شہید فضل اللہ محلاتی ۔

استعداد مرجعیت

آپ نے روحانی علوم کو نمائش و آرائش یا حصول زر و پرورش شکم کے لیے نہیں حاصل کیا تھا ۔ بلکہ مقصدِ حیات کو پیش نظر رکھتے ھوئے خلق خدا کی ھدایت اور اپنی آخرت کو نورانی بنانے کے لئے حاصل کیا تھا ۔ آپ کی نگاھیں زمانے کے حالات کا مشاھدہ کر رھی تھیں، اپنی ذمہ داری کا احساس بھی تھا اسی لیے تحصیل علم کے ساتھ ساتھ وہ صلاحیت و استعداد بھی فراھم کرتے جاتے تھے جو دینی مرجع کے لیے ضروری ھے کیونکہ آپ عرفان و آگہی کی منزل میں ابتدا سے ھی اس حقیقت پر نظر رکھتے تھے جن و انس کی خلقت بیکار نہیں ھے ۔ زندگی جیسی عظیم نعمت انسان کو اس لیے نہیں ملی ھے کہ دنیا میں کھائے پئے عیش و عشرت اٹھائے پھر فنا ھوکر خاک میں مل جائے ۔ آخرت کی ھولناک راھوں کے بھیانک مناظر آپ کی چشم تصور کے سامنے تھے، اسی لیے اپنی زندگی کے تمام لمحات علم، عمل، اور اسلام کے لئے وقف کردیا تھا ۔ قابلِ رشک نورانی کارنامے بتاتے ھیں کہ آپ اس کوشش میں کامیاب ھوکر مقرب خدا ھوئے ۔
مرجعیت کے لیے صلاحیت و استعداد ضروری ھے اور صلاحیت و استعداد اتنی آسان اور ارزاں نہیں ھے کہ ھرکس و ناکس حاصل کرے بلکہ یہ بھی قدرت کے گراں قدر عطیوں میں سے ایک بیش قیمت عطیہ ھے ۔ اس کی سعادتوں میں سے ایک ایسی سعادت ھے جس کے دامن میں کونین کی دولت ھے جو اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ کسی کو مشکل سے ھی ملتی ھے ۔
این سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
جس کی روح مادی کثافتوں سے پاک ھو، جس کے دل کی زمین فیضانِ سعادت کے لیے ھموار ھو، جس کے ضمیر کا آئینہ تائیدات الٰہی و توفیقات زبانی کا عکس لینے کے لیے صاف شفاف ھو، جسے دنیا کی آلودگیوں نے دھندلا نہ کیا ھو بس وھی نگاہِ قدرت میں صلاحیت کا حق دار ھے ۔ امام خمینی کے دینی کارنامے اور ولادت سے وفات تک کے نورانی حقائق بتاتے ھیں کہ آپ ایسی ھی عظیم ترین شخصیت کے مالک تھے جنہیں خدا نے تمام صلاحیتوں سے نوازا تھا اور انقلاب اسلامی کا عظیم کار نامہ انجام دینے کے لئے منتخب کر لیا تھا ۔
یہ تائید الٰہی نہیں تو اور کیا ھے کہ آپ کی نورانی زندگی ابتدا سے انتہا تک تمام دنیا والوں کے لیے نمونہ عمل بنی، آپ نے اپنے ھدایت بخش اقوال، روحانیت پر مشتمل اعمال سے یہ ثابت بھی کردیا کہ آپ زندگی کو خدا کی امانت سمجھتے تھے ۔ جسے اسی کے کام میں اسی کے منشاء کے مطابق صرف کرنے کی جد و جہد میں تا حیات مصروف رھے ۔ وجہ اس کی صرف یہی ھے کہ زندگی کی سرور افزا کہانی، موت کی درد انگیز داستان کا مطالعہ معرفت کی آنکھوں سے کیا تھا ۔ اسی لئے اپنی زندگی کے ھر لمحے کو قیمتی جانتے ھوئے کبھی برباد نہ ھونے دیا ۔ مقصد حیات کی تکمیل اور رضائے خدا کے حاصل کرنے میں لگے رھے ۔ خود کو ھر آلودگی سے محفوظ رکھتے ھوئے تزکیۂ نفس سے دل کی زمین کو فیضان قدرت کے قابل بنائے جاتے تھے، عرفان و روشن ضمیری کے اضافے کے لئے اخلاقی و روحانی استادوں کے مواعظ و مجالس میں نہایت ذوق و شوق کے ساتھ شریک ھوتے تھے ۔ اور ان کے کمالات کو روحانیت کے مقناطیسی طاقت سے اپنے اندر جذب کر لیتے تھے ۔ جب یہی صلاحیتیں علوم و فنون کے ساتھ کمال کو پہنچ گئیں تو مرجعیت کی استعداد فراھم ھوگئی ۔ پھر تو مبداء فیاض نے اپنی توفیقات تائیدات اور ھر قسم کے اعزاز و اکرام کے جاودانی پھولوں سے عبدیت کے دامن کو بھر دیا ۔

استعداد اعلمیت

علمی اعتبار سے افراد کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ھے یعنی عالم اور غیر عالم ۔ عالموں میں کوئی مخصوص معیار کے مطابق اعلم ھوگا کوئی غیر اعلم ۔ عالم افراد ھوں یا اعلم، ان سب میں مراتب و مدارج نظر آئیں گے ۔ جو مرتبہ میں جتنا بلند ھوگا اس کی دینی ذمہ داری بھی اتنی ھی عظیم ھوگی اور اس ذمہ داری کو کامیابی کے ساتھ نباھنے پر اس کو ثواب بھی اتنا ھی عظیم ملے گا ۔
اعلم ایسے مرد عالم کو کہتے ھیں جو شرعی مسائل کو مخصوص و معین طریقوں سے حاصل کرنے کا ملکہ رکھتا ھو جس کو جتنا ھی بڑا ملکہ ھوگا وہ اتنے ھی عظیم مرتبے کا اعلم ھوگا ۔
امام خمینی کے لیے علوم و فنون اور قوتِ نظریہ و قوت علمیہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ اعلمیت کی استعداد کا بھی ذخیرہ ھوتا جارھا تھا ۔ جسے آخر میں، عمیق مطالعے کی وسعت، فکر کی گہرائی، ٹھوس رائے کی اصابت، نفس کی پاکیزگی فیصلے کی قوت و صلاحیت، مواقع فتویٰ کی شناخت، تدبر، عزم استقلال، جرأت و شجاعت کے ساتھ تائید الٰہی نے معراج کمال کو پہنچا دیا تھا ۔ جس کی بنا پر آپ کو تمام متقدمین و متاخرین کے درمیان انفرادیت اور نمایاں فوقیت حاصل ھوگئی ۔ در اصل ایسی ھی عظیم و بے مثال ھستی پر متبنی کا یہ شعر صادق آتا ھے ۔

مضت الدھور فما اتین بمثلہ
و لقد اتیٰ فعجزن عن نظرائہ

ترجمہ : زمانے گزرتے گئے مگر ممدوح جیسا کوئی دوسرا نہ پیدا کرسکے، لیکن جب ممدوح عالم وجود میں آیا تو یہ زمانے اس کا مثل و نظیر پیدا کرنے سے قاصر رھے ۔

نجف کے علماء و افاضل کا اعتراف

امام خمینی کو جب ترکی سے عراق منتقل کیا گیا تو علماء و افاضل نجف آپ کو قابلیت و تدریس وغیرہ میں اپنا ھم پلہ نہ سمجھتے تھے کیونکہ وہ آپ کی عظمت و شخصیت سے نابلد تھے ۔ طلبہ کا گمان تھا کہ قم کا تعلیم یافتہ ایک عالم و مجتہد نجف کے اساتذہ علماء و مجتہدین کی ٹکر میں کیونکر آسکتا ھے ۔ چنانچہ حجۃ الاسلام آقائے راستی کا بیان ھے کہ جب آپ کے درس کا پہلا دن آیا تو تمام افاضل طلبہ سخت ترین اعتراضات کے ساتھ تیار ھوکر امتحاناً درس میں شرکت کے لیے گئے لیکن درس کا اس انداز سے آغاز ھوا کہ سب بچشم حیرت دیکھتے رہ گئے اور پہلے ھی دن آپ نے زور بیاں، نکتہ رسی شرح و استدلال، معانی و مطالب کے دریا میں غواصی کا وہ کمال پیش کیا کہ سب انگشت بدنداں رہ گئے ۔ اعتراضات کی کوئی گنجائش باقی نہیں تھی پھر بھی بقول حجۃ الاسلام آقائے راستی، لوگوں نے اپنی تسکین کے لئے کچھ بےمعنیٰ و بےمقصد اعتراضات کیے مگر امام خمینی نے ھر اعتراض کا جواب نہایت خندہ پیشانی سے دیا، اور مسائل کو اس طرح سے حل کیا کہ سبھی کو آپ کی انفرادیت و عظمت کا اقرار کرنا پڑا ۔ چار پانچ روز کے بعد تو تمام اھل نجف آپ کی بلندی و برتری، علمی صلاحیت و لیاقت اور وسعت نظر کے قائل ھوگئے اور آپ کے درس میں طلبہ کی کثرت تعداد بہت ذوق و شوق سے شریک ھونے لگی ۔
شاہ کا گمان تھا کہ آپ کی شخصیت نجف کے عظیم علماء کے درمیان گم ھوجائے گی مگر امام خمینی کا نام وھاں بھی بلند ھوکے رھا ۔ حجۃ الاسلام آقائے راستی کو امام خمینی اس طرح جچے کہ انھوں نے خود کو امام خمینی کے مزاج میں ڈھال دیا حکومتِ اسلامی قائم ھونے کے بعد کی مجلس استفتاء کے صدر ھوئے امام کے فتووں کی تشریح آقائے راستی سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا تھا ۔

احساس ذمہ داری

امام خمینی کا وجود خدا کی عظیم نعمت تھا ۔ علمی و عملی کمالات کے حاصل کرنے کی سچی لگن قدرت کا عطیہ تھی ۔ آپ جو کچھ دینی علوم کے خزانے میں سے غیر معمولی اھتمام کے ساتھ سمیٹ رھے تھے ۔ اس میں فقط یہی جذبہ کار فرما تھا کہ دین حق پر باطل نے جو پردے ڈال دیے ھیں انھیں اپنی کاوشوں سے ھٹا کر جلا بخشیں، اس کا حق اسے دلائیں نیز ملت کے مستضعفین کی ھر ممکن مدد کرکے زبوں حالی و گمنامی کے غار سے نکال کر سکون اور روشنائی کے بام پر بپنچائیں، کیوں کہ احساس ذمہ داری کے لیے آپ کے پہلو میں درد مندی و ھمدردی سے بھرا ھوا مضطرب دل تھا، دین و ملت کو کشمکش کی حالات اور شکنجے میں دیکھ کر مصلحت آمیز خاموشی اختیار کرنا آپ کی فطرت کے خلاف تھا ۔ دین الٰہی کی تنزلی و گمنامی امت مسلمہ کی ذلت و رسوائی، دردناک مناظر، ابتداء سے ھی آپ کے پیش نظر تھے ۔ جب کسی کے دل میں سچا جذبہ ھوتا ھے تو خدا بھی اس کی مدد اپنی توفیقات سے کرتا ھے ۔ خداوند کریم نے امام خمینی کو اپنی تائید کے سائے میں اوصاف کے ان اسلحوں سے آراستہ کردیا جو مرجعیت و قیادت کے لئے ضروری ھیں تا کہ وقت آنے پر دین و ملت کو مفاد پرستوں کے خونخوار چنگل سے چھڑا سکیں ۔ غیبت کے تاریک دور میں امام معصوم عجل اللہ فرجہ کی نیابت کا فرض صحیح ڈھنگ سے ادا کرسکیں ۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا قول امام خمینی کے سامنے تھا دنیا کے آخری انجام پر بھی نظر تھی ۔ آپ جیسے بندۂ صالح کے لئے ناممکن تھا کہ مرجعیت کی ظاھری شان و شوکت کے خواھشمند ھوتے ۔ یا خوش نما آداب و القاب سے دل کو خوش کرلیتے ۔ آپ کی فطرت میں درد مندی کے ساتھ عملی اقدامات کا بھی جوھر کار فرما تھا ۔ رھبر و قائد کی صحیح تعریف کے لئے قول علی (ع) کو دیکھئے اور امام خمینی کے اوصاف اور ان کی عملی قوتوں کا گہرا مطالعہ کیجئے تو آپ کو ان کی عظمتوں کا کچھ اندازہ ھوسکتا ھے ۔ حضرت فرماتے ھیں : " رھبر عادل وھی ھے جو تمام افراد رعیت کے ساتھ ان کے غم، خوشی، فقر، تونگری تمام حالات میں برابر کا شریک رھے … منصف مزاج پیشوا جماعت کی پریشانی سے ھمیشہ مضطرب و بےقرار رھتا ھے، لیکن جو خود اپنے ھی میں مشغول رھتا ھے، اپنے مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دیتا ھے اور پسند کرتا ھے کہ قوم اس کی ذلیل خواھش پر گندگی ھوا و ھوس پر قربان ھوجائے رھبر نہیں ھے بلکہ وہ ایک ناپاک درندہ جانور ھے اور انسان نما شیطان ھے "۔
امام خمینی کے اقوال و افعال گواھی دیتے ھیں کہ حضرت علی (ع) کے قول مذکور پر انھوں نے خاص اھتمام کے ساتھ عمل کیا ۔ دین و ملت کی بقا و ترقی اس کو عالم میں متعارف کرنے، اس کی برتری منوانے، اس کے وزن و وقار کو بڑھانے کے لیے اس حد تک جد و جہد کرتے گئے کہ خود آپ کو اپنے بری الذمہ ھوجانے کا یقین ھوگیا ۔ ایسے کارناموں کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ھے اور آئندہ بھی قاصر رھے گی ۔ وصیت نامہ گواہ ھے کہ دنیا سے وہ کس قدر خوش و مطمئن گئے ھیں ۔ یہ سکون و اطمینان اسی کو حاصل ھوسکتا ھے جس سے عمر کے کسی حصے میں اپنے فرائض کو ادا کرنے میں کوتاھی نہ ھوئی ھو ۔

حوزہ علمیہ قم اور مرجعیت کی ذمہ داری

آپ علم و عمل ھر اعتبار سے کمال کی منزل پر فائز ھوچکے تھے ۔ زھد و تقویٰ کی ضوفشانی، ریاضتِ نفس کی تابانی سرعت فہم کی خوبی، نکتہ رسی کی صفت، قوتِ فیصلہ کی پاکیزگی کیساتھ آپ کی فیض رساں ذات تمام عالم کو آفتاب نصف النہار کی طرح اپنی افادیت کی کرنوں سے جگمگا رھی تھی ۔ انھیں اوصاف کی تابشوں نے آپ کے علمی کمال میں چار چاند لگا دیا تھا ۔ ساتھ ھی ساتھ فلسفے کی مہارت نے قوت مشاھدہ کو وسعت، فکر و نظر کو گہرائی دے دی تھی ۔ شخصیت کی دلکش انگوٹھی پر دیگر فضیلتوں کے جگمگاتے نگینوں نے " نورٌ علیٰ نورٌ " کا خیرہ کن سماں پیدا کردیا تھا ۔ مولائے کائنات کی سیرت پر عمل نے حدّ انسانیت کی معراج پر پہنچا دیا تھا ۔ ھر اعتبار سے آپ میں زعامت، مرجعیت قیادت کے سبھی اسباب موجود تھے ۔ طلباء کی کثیر تعداد بڑے ذوق و شوق کے ساتھ آپ کے گرد استفادہ میں مصروف تھی ۔ خاص کر درس فلسفہ میں پانچ سو طلبہ کا سب سے بڑا اجتماع ھوتا تھا ۔ آپ کی یکتائی کا کلمہ ھر خاص و عام پڑھتا ھی تھا ۔ اگر چاھتے تو خود اپنا ایک الگ مرکز بنا کر اپنی مرجعیت کو منوانے کی راھیں آسانی سے پیدا کر لیتے، مگر نمائش، اقتدار پرستی، حصول شہرت، حکومت طلبی، سے آپ کی صالح فطرت کو دور کا بھی لگاؤ نہ تھا ۔ اسی لئے اپنے پروپیگنڈے کے لیے کبھی کوئی اقدام نہ کیا ۔ بلکہ ایسے ھر موقع ھر جلسے سے خود کو دور رکھا جس سے آپ کی شہرت ھوسکتی تھی اور مقبولیت میں اضافہ ھوسکتا تھا ۔
آیۃ اللہ العظمیٰ آقائے بروجردی کے بعد لوگوں نے افاضل و طلاب نے حاضر ھوکر بہت اصرار کیے ساتھ یہ عرض کیا کہ ھم لوگوں کی نظر میں آپ کی اعلمیت مسلم ھے ھم آپ کی تقلید کو واجب جانتے ھیں یہ وہ الفاظ تھے جن کی بنا پر اپنی تکلیف شرعی کا احساس ھونے لگا ۔ مجبوراً خاموش ھوکر اپنا عملیہ اس شرط پر ان کے حوالے کیا کہ خمس یا دوسروں کی رقم سے شائع نہ کیا جائے ۔ آپ کا عملیہ علماء و طلاب کے مصارف سے پہلی بار آیۃ اللہ العظمیٰ مرحوم آقائے ابو الحسن اصفہانی کی کتاب وسیلۃ النجاۃ پر حاشیہ کی صورت میں منظر عام پر آیا ۔ اس وقت سے حوزہ علمیہ کے زعیم اور اھل اسلام کے لئے مرجع تقلید بنے، پھر کچھ دنوں بعد کتاب " العروۃ الوثقیٰ " پر آپ کا دوسرا حاشیہ شائع ھوا، اس کے بعد آپ کا مستقل عملیہ قوم کے سامنے آیا ۔
مرجعیت سے امام خمینی کی بےنیازی کے سلسلے میں ایک بزرگ بیان کرتے ھیں : آیۃ اللہ حکیم کے انتقال کی خبر نشر ھوئی تو امام خمینی نجفِ اشرف میں ھی تھے ۔ یکایک ان کی قیام گاہ سے رونے کی آواز آئی ۔ میں نے جاکر دیکھا تو آپ رو رھے تھے ۔ دوسرے دن اپنے گھر کے افراد کو حکم دیا کہ وہ سب کو منع کردیں کہ کسی موقعے پر مرجعیت کے لئے میرا نام ھرگز نہ پیش کریں گے ۔ اگر مصطفےٰ (شہید فرزند) کو طمانچہ مارا جائے یا مجھے گالی دی جائے تو بھی کوئی نہ بولے ۔ " موصل " اور " کرکوک " کے افراد برابر امام خمینی سے تقلید کے بارے میں سوال کرتے تھے تو آپ فرماتے تھے آقائے حکیم کی تقلید پر باقی رھو ۔ 1 یہ بڑے دل گردے کی بات ھے کہ لوگ ایک مرجع کے پاس آئیں اور وہ اس طرح کا جواب دے ۔ البتہ حوزہ علمیہ قم کے جید فقہاء و علماء نے آپ کی مرجعیت کا اعلان کردیا ۔ جب یہ خبر امام خمینی کو نجف میں آیۃ اللہ محمد مومن قمی کے ذریعے پہنچی تو آپ نے فرمایا " ان لوگوں کو یہ نہیں کرنا چاھئے تھا ۔ 2
اگرچہ فقہ و اصول کا درس بھی درس فلسفہ کی طرح اجتماع کے اعتبار سے کامیاب ترین تھا اور آیۃ اللہ بروجردی کی زندگی ھی میں تمام اخلاقی و روحانی معلمین کے درمیان آپ کا چہرہ روشن تر شمار ھوتا تھا مگر نفس کی پاکیزگی نے آپ کو بےنیاز بنا دیا تھا ۔ علم کو آپ نے دنیا کے لیے حاصل نہیں کیا تھا بلکہ دین و آخرت کے لئے ذخیرہ کیا تھا ۔ پھر کیونکر ممکن تھا کہ ظاھری جاہ و جلال کی رعنائیاں عام افراد کی طرح آپ کو بھی مسحور کرتیں، مولائے کائنات حضرت علی (ع) کی تعلیمات کا عکس آپ کے آئینہ دل میں پہلے سے ھی موجود تھا ۔ آپ فرماتے ھیں :
" اس خدائے قوی و توانا کی قسم جس نے ستم رسیدہ مسلمانوں کا غم مجھے بخشا اور خلافت کی عظیم ذمہ داری کا بار میری گردن پر رکھا ھے ۔ اگر خوفِ خدا نہ ھوتا تو جس قدر جلد ممکن ھوتا اور سرکش سواری کی لگام اس کی پشت پر رکھ دیتا، دنیا کی طرح اسے بھی طلاق دے دیتا اس وقت تمہیں یقین ھوتا کہ تمہاری دنیا میری نگاہ میں مردار سے بھی زیادہ حقیر ھے"۔ 3
علم و معرفت کی رفعتوں نے آپ کے ایمان، زھد و تقویٰ، جرأت شجاعت اور تمام اخلاق حسنہ کو عظمتوں کی اعلیٰ منزل پر پہنچا دیا تھا ۔ تائید الٰہی نے چاروں طرف سے اپنے حصار میں لے لیا تھا ۔ یہی سبب تھا کہ آپ نے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا، امریکہ اور روس دنیا کی عظیم ترین دو طاقتیں ھیں ۔ کسی کی جرأت نہیں ھے کہ ان میں سے کسی ایک سے سرتابی یا بےنیازی کرے ۔ مگر آپ کے عرفان و ایمان کی بلندی دیکھئے کہ جب آپ سے ان دونوں بڑی طاقتوں میں سے کسی ایک سے وابستگی پر زور دیا گیا تو آپ نے بےنیازی کے انداز میں فرمایا " لا شرقیہ و لا غریبہ " خدا سے بڑی کوئی طاقت نہیں ھے، جو ھمارے ساتھ ھے، آپ نے اپنے اقوال و افعال سے یہ ثابت کر دکھایا کہ دنیا کی تمام طاقتیں ھمارے سامنے بےحقیقت ھیں ۔ خدا کے سوا نہ ھم کسی سے ڈرتے ھیں نہ کسی پر اعتماد اور بھروسہ کرتے ھیں ۔ بلکہ دنیا کی بڑی بڑی استعماری طاقتیں خود آپ کے سامنے جھکی ھیں اور انھیں آپ کی مجموعہ صفات، صفات سے حیرت ھوئی ھے ۔ عرفان الٰہی اور مولائے کائنات کی پیروی نے آپ کو دنیا کی ھر طاقت سے بےنیاز بنا دیا تھا ۔ چہرے پر تقدس کا وہ نور، وہ رعب، وہ دبدبہ تھا کہ کسی میں جرأت نہ تھی کہ آپ سے آنکھیں ملا لیتا ۔ متعدد واقعات اس کے شاھد ھیں ۔
نکتہ رسی اور حقیقت بینی کی قوت نے آپ کی صائب رائے کو وہ وزن دے دیا تھا جس کے سامنے دنیا کے بڑے سے بڑے مفکر و سیاست داں سر نگوں نظر آتے ھیں ۔ آپ کسی معاملے کی بھی تہ تک بہت جلد پہنچ جاتے تھے ۔ حق و باطل، منفعت و مضرت تک ایک نظر میں رسائی ھوجاتی تھی ۔ آپ کا کوئی فیصلہ بھی قابل ردّ و بدل نہ ھوتا تھا یہی بات تھی کہ دنیا کی کوئی طاقت یا بڑی سے بڑی شخصیت آپ کی " ھاں " یا " نہیں " میں کبھی کوئی تبدیلی نہ کرسکی ۔ آپ نے جو کچھ کہہ دیا وہ حرف آخر بن گیا اور سچ ھوکر آپ کے کمالات کی تصدیق کی ۔ یہی وہ کمالات قدسیہ تھے جنھوں نے آپ کو مرجعیت و قیادت کی مسند کا یکتا تاجدار بنا دیا تھا اور تاریخ عالم میں کوئی بھی آپ کا ھم پلہ نظر نہیں آتا تھا ۔ ایسے عبد صالح، عارف کامل، پیرو علی کے (ع) لیے صلاحیت مرجعیت رکھتے ھوئے، نصرت حق کی ضرورت محسوس کرتے ھوئے مرجعیت کی پیشکش کا رد کرنا کیونکر ممکن تھا ۔

قیادت محکم

قیادت، پابندِ شرائط و اوصاف رھنمائی کا نام ھے، جس پر قومی و ملی اصلاح و ترقی کی ذمہ داری ھے ۔ کامیاب ترین قائد وہ ھے جو اوصافِ قیادت میں کمال کی وجہ سے محبوب بن کر دلوں پر حکمرانی کرے ۔
امام خمینی کی محکم قیادت کے شائق پہلے ماضی کے آئینے میں ایران کی ایمان خیر و عرفان بخشش صلاحیتوں پر نظر کریں ۔ اپنی صلاحیتوں کی بنا پر جو شرف و عظمت اسے حاصل ھے وہ کسی زمین کو نہیں ھے ۔ یہیں تو کسی زمانے میں آتش پرستی کا راج تھا ۔ دھکتے انگاروں کی خدائی تھی ۔ مجوسیت کے لہکتے شعلے نسیم بہار کا راستہ روکے تھے مگر توفیقات الٰہی نے ایک دن اپنا رنگ جمایا، معجز نما ھوائیں چلیں، باطل کے دیے بجھے، معرفت کے پھول کھلے، حقانیت کی اذانیں فضاؤں میں گونجیں " لا الٰہ الا اللہ " کا پرچم لہرایا " محمد رسول اللہ " کا نقش جما، ناقوسوں نے دم توڑا، علم و حکمت کے وجد آفریں ترانے ھر طرف چھائے، کشور ایران مقدس علماء کے زیر سایہ روز افزوں ترقی کرنے لگا ۔ اچانک ایران کا ستارہ گردش میں آگیا ۔ شاھی بےوفائی، خود سری، سرکشی، بغاوت، کے ذریعے رضا خاں تک پہنچی ۔ پھر تو کچھ اور ھی نقشہ نظر آنے لگا ۔ ظلم و تشدد کے طوفان ابلنے لگے بےدینی و بےپردگی پھیلنے لگی ۔ مستورات کی عزت و حرمت خاک میں ملنے لگی ۔ خلقِ خدا بےپناہ ھوگئی ۔ آخرکار انگریزوں نے اسے معزول کرکے 1328ش مطابق 1949ع میں اس کے بیٹے رضا شاہ کو تخت نشین کیا ۔ جلد ھی یہ دور بھی پہلے سے زیادہ ظلم و تشدد، طغیانی و ضلالت، بےدینی و بداخلاقی کا بدترین دور بن گیا، نبض اسلام ڈوبنے لگی، اخلاقی قدریں تباہ ھونے لگیں، جاھلانہ اعمال، مجرمانہ افعال کھلم کھلا سامنے آنے لگے ۔ ھر طرف اداسی، مایوسی، گھٹن کا عالم نظروں کے سامنے آگیا ۔ جب ھدایت و اصلاح کی کوئی صورت باقی نہ رہ گئی تو امام خمینی اپنی محکم قیادت کی طاقت و صلاحیت کے ساتھ علم و حکمت کی شمشیر اور زھد و تقویٰ کی ڈھال لیے ھوئے دین و ملت کو خونخوار چنگل سے چھڑانے کے لیے میدانِ عمل میں آگئے ۔ تائید الٰہی کے سائے میں شہنشاہیت کے ڈھائی ھزار سالہ شجرۂ خبیثہ کو سر زمین، ایران سے نیست و نابود کرکے، انقلاب اسلامی کی داغ بیل ڈالی اور آغاز کار سے انتہا تک ایسی حکیمانہ، تدبرانہ قیادت کی جس نے دنیا کے بڑے بڑے تجربے کار سیاسی ماھرین کی قوت فکر و عمل کو ناکام بنا دیا ۔
امام خمینی کی قیادت کتاب خدا پر عمل اور معصومین علیہم السلام کی اتباع کا ثمرہ ھے ۔ جس میں انبیاء کے کردار کا عکس ھے ۔ باطل کے مقابلے کے لیے خدا کے بھیجے ھوئے رھنماؤں نے جم کر قیام کیا ھے ۔ جب تباھی و بربادی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تو آپ نے بھی اپنی کامیاب قیادت سے افراد ملت کو یہ احساس دلانا شروع کیا کہ اگر وہ اب بھی بیدار نہ ھوں گے تو رضا خان کے دور سے بھی بدتر اس دور میں انھیں غلامی کی زندگی بسر کرنی پڑے گی ۔ دین و مذھب سے ھاتھ دھونا پڑے گا، ملک طغیانیوں کی نذر ھوجائے گا ۔
دینی قائد اگر علم و عمل میں کمال کی منزل پر فائز ھو، اس کا ھر قول و فعل خدا کے لیے ھو، وہ خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرتا ھو، عقل و شعور، قوتِ مشاھدہ و مطالعہ اور نکتہ رسی میں کامل ھو، تحریر و تقریر میں تاثیر رکھتا ھو، دین کے تقاضوں سے واقف ھو، محل و موقع پہچانتا ھو، قوم و ملت کی فطرت و صلاحیت سے آشنا ھو، اس کے ساتھ ھی دلوں کی زمیں بھی قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ھو تو وہ دلوں پر حکومت کرتا ھے اور اس کی ھر کوشش نتیجہ خیز ھوتی ھے اور اس کا ھر برمحل اقدام کامیابی سے ھمکنار ھوتا ھے ۔ خواب غفلت میں پڑی ھوئی ملت سر کی بازی لگا کر اٹھ کھڑی ھوتی ھے ۔
آپ قیادت کی تمام خوبیوں سے آراستہ تھے جس کی بنا پر انقلاب اسلامی کو کامیابی ملی اور آج ملت ھدایت کے نور میں سکون کی زندگی گزار رھی ھے ۔ آپ کی سیاسی بصیرت کا اندازہ اسی سے ھوتا ھے کہ آیۃ اللہ العظمیٰ آقائے بروجردی جیسی عظیم شخصیت بھی آپ کے مشورے کے بعد ھی کوئی سیاسی اقدام کرتی تھی ۔ آپ کے معین کردہ سیاسی خطوط پر ھر بافہم عمل کرتا تھا ۔ چنانچہ شاھی حکومت کے مجرمانہ افعال کا سلسلہ برابر جاری تھا، اصلاح کی کوئی تدبیر موثر نہ ثابت ھوئی تو آخر کار آیۃ اللہ حسین قمی بغرض احتجاج مشہد مقدس سے تشریف لائے ۔ صلح و آشتی پر مبنی قابل عمل تجویزیں پیش کیں لیکن حکومت نے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ یقیناً یہ بےپروائی ایک عظیم مرجع وقت کی توھین تھی جو دراصل تمام مراجعِ وقت اور دین اسلام کی اھانت تھی جسے نظر انداز کرنا مناسب نہ تھا بلکہ مرجع وقت کی عظمت اور اسلام کی حاکمیت کا تحفظ ضروری تھا ۔ چنانچہ کچھ مجاھد علماء نے امام خمینی کی قیادت میں ایک تحریک چلائی تاکہ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے مجبور ھو ۔ اسی سلسلے میں امام خمینی ایک عالمِ دین کو ھمراہ لے کر آیۃ اللہ بروجردی کی خدمت میں گئے اور حقیقت حال سے آگاہ کیا ۔ جناب مغفور آیۃ اللہ بروجردی نے امام خمینی کے مشورے سے حکومت کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ اگر وہ آیۃ اللہ حسین قمی کی تجویز پر غور نہیں کرتی ھے تو میں رستانی قبائل کے ھمراہ تہران آرھا ھوں ۔ اس دھمکی نے حکومت کو اس کے اٹل عزائم میں وقتی طور سے تبدیلی پر مجبور کردیا ۔ شاہ کی سرکشی و طغیانی آیۃ اللہ بروجردی کے دور مرجعیت سے چلی آرھی تھی ۔ ایک مرتبہ شاہ نے آیۃ اللہ بروجردی سے بھی بےاعتنائی کی تھی اس کی اطلاع امام خمینی کو آیۃ اللہ آذری قمی سے ملی تو فرمایا اگر مجھے آیۃ اللہ بروجردی اجازت دیں تو شاہ کے مقابلے میں پورے ایران کو کھڑا کرسکتا ھوں ۔
آپ کے شاگردوں اور ساتھیوں کے اھم کارنامے، آپ کے پیغامات، آپ کی جرأت، شجاعت، صلاحیت، شہامت اور قیادت کی کامل بصیرت پر روشنی ڈالتے ھیں ۔ اسی کی بدولت آج ایران اصول و فروع، حق و انسانیت کا بارونق چمن نظر آرھا ھے ۔ جو اس قابل ھے کہ دوسرے بھی اس کی تاسی کرکے خدا کے نیک بندے بنیں ۔

امام خمینی سیاسی اقدامات کا اجمالی خاکہ

گزشتہ اوراق میں امام خمینی کی سیاسی بصیرت، عمق نگاہ اور قوت فیصلہ کی چند جھلکیاں پیش کی گئی ھیں ۔ لھٰذا یہ ضروری ھے کہ اس سلسلے میں ان کے سیاسی اقدامات کا ایک ایسا اجمالی خاکہ پیش کردیا جائے جس سے اندازہ ھو کہ ان کے سیاسی فیصلے کس قدر بروقت و برمحل ھوتے تھے اور اس کے پس منظر میں مطالعہ مشاھدہ کے توازن اور شریعت کا کتنا واضح اور جرائت مندانہ عمل ھوتا تھا ۔
جب خاندان قاچاری کے آخری فرمانروا احمد شاہ کی بےدینی، بےبصیرتی کے نتیجے میں رضا خاں پہلوی شاھی فوج کے سپہ سالار نے قہر و غلبہ سے سلطنت پر قبضہ کرکے اور اس کے بیٹے رضا شاہ نے ایران کی پاکیزہ فضاؤں میں اپنی طغیانیوں اور ضلالتوں کا زھر پھیلا دیا تو امام خمینی کی قیادت ھی تریاق بن کر سامنے آئی اور ایران پھر سے اپنا شباب پاگیا ۔ یہ وہ وقت تھا کہ سامراجیت و صہیونیت کا عروج تھا، اسلام کسمپرسی کے عالم میں تھا ۔ آئین کی تین اھم دفعات میں ترمیم کردی گئی تھی، نئے قانون سے ووٹروں کا مسلمان ھونا ضروری نہ تھا ۔ قرآن مجید کے بجائے کتاب آسمانی کی قسم کردی گئی تھی ۔ عورتوں کو بھی رائے دھندگی کا حق دے دیا گیا تھا ۔ علماء اور ملک و ملت کے مٹ جانے کا وقت آگیا تھا ۔ حوزہ علمیہ جو ھدایت کا سرچشمہ ھے فنا کے گھاٹ اترنے والا تھا امام خمینی ایسے حالات میں اپنے عزم و استقلال کی تلوار لیے میدان مقابلہ میں آگئے اور حسبِ ذیل اقدامات کیے گئے ۔
سب سے پہلے 1962ع میں بذریعہ ٹیلی گرام شاہ سے بل کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ھوئے اس کے برے نتائج پر متنبہ کیا گیا ۔ شاہ نے مسئلے کو وزیر اعظم علم کے سپرد کردیا تھا ۔ اس لیے ان کو بھی ٹیلی گرام دیا گیا ۔ وزیر اعظم نے کوئی توجہ نہ کی تو دو ٹیلی گرام مزید دیے گئے، ایک شاہ کو اور دوسرا خود وزیر اعظم علم کو جس میں سختی سے بل کی منسوخ کا تفصیلی مطالبہ کیا گیا تھا اور اس میں حکومت کا پول کھولا گیا تھا، شاہ اور وزیر اعظم کی خاموشی، اور خلاف اسلام طرز عمل پر احتجاج کیا گیا تھا ۔
شاھی پارلیمنٹ میں خلاف اسلام بل پاس ھونے پر ایک اعلان جاری کیا گیا موثر بیانات کے ذریعے اولاً شاہ کو غلط اقدامات کی اصلاح کی طرف متوجہ کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ھی ملت کو حقائق سے آگاہ کرکے بیدار مغزی، گرم جوشی اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے پیغامات دیے گئے ۔

پہلا اقدام

جب شاھی فوج نے مدرسۂ فیضیہ پر شدید ترین مہلک حملہ کیا اور سیکڑوں طلبأ شہید ھوگئے تو امام خمینی نے اس بہیمانہ اقدام کے بعد ملک گیر پیمانے پر انقلابی مہم چلانے کا منصوبہ بنایا اس سلسلے میں سب سے پہلے آپ نے آیۃ اللہ خامنہ ای کو اپنا پیغام لے کر آیۃ اللہ میلانی کے پاس مشہد مقدس روانہ کیا ۔ آیۃ اللہ خامنہ ای نے آیۃ اللہ میلانی کے ساتھ ساتھ تمام علمائے خراسان کو اس خصوصی پیغام سے آگاہ کیا ۔ ایک ھی وقت میں احتجاجی جلوس اور تقریروں کا پروگرام طے پایا اور افراد ملت کو بھی خاص خاص باتوں سے واقفیت دی گئی اور ایک اھم خفیہ سیاسی جماعت بھی تشکیل پائی جس نے آپ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں پوری طاقت صرف کردی اور ھر طرح کے تشدد، مصائب، اور گرفتاری کو گوارہ کیا۔
اس سلسلے میں 11 / جمادی الاولیٰ 1363ھ کو امام خمینی نے ایک اھم بیان خود اپنے قلم سے جاری فرمایا جس سے آپ کی کامیاب قیادت، سیاسی بصیرت اور شجاعت کا بھرپور اندازہ ھوتا ھے ۔

امام خمینی کا بصیرت افروز بیان

یہ عرفانی بیان صاحبان ایمان و ارباب بصیرت کے لیے پیغام عمل ھے ھم اس کا ماحصل پیش کر رھے ھیں:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قال اللہ تعالیٰ : قل انما اعظکم بواحدۃ ان تقوموا للہ مثنیٰ و فرادیٰ ۔
خداوند عالم نے اس کلام میں طبیعت کی ابتدائی تاریک منزل سے انسانیت کی سیر آخری منزلوں کو بتایا ھے یہ بہترین موعظہ ھے جسے خدا نے تمام مواعظ کے درمیان سے منتخب کرکے اس ایک کلمے کو انسان کے سامنے پیش کیا ھے یہ دونوں جہان کی آراستگی کا بہترین وسیلہ ھے ۔ یہ خدا کے لئے کیا جانے والا وہ قیام ھے جس نے ابراھیم خلیل الرحمٰن کو خلت کی منزل تک پہنچایا اور عالم طبیعت کے پرفریب رنگ برنگ جلووں سے رھائی دلائی ھے:

خلیل آسا درعلم الیقین زن
ندائے لا احب الآفلین زن

یہ خدا کے لیے قیام ھی ھے جس نے جناب موسیٰ کو عصا کے سہارے فرعونیوں پر غلبہ دیا اور کلیم اللہ کو میقات محبوب تک پہنچا کر " صعق و صحو " کے مرتبہ پر فائز کیا ۔ اسی قیام نے پیغمبر اسلام کو جاھلیت کے عقائد و عادات پر غالب کرکے بتوں کو خانۂ خدا سے نکال کر اس کے بجائے توحید و تقویٰ کو جگہ دی ۔ اور آپ کو " قاب قوسین او ادنیٰ " کی منزل تک پہنچایا ۔ لیکن ھماری نفس پرستی نے ھمیں اس تاریک دور میں داخل کرکے تمام دنیا کو ھمارے اوپر مسلط کردیا ھے ۔ ھمارے اسلامی ملکوں کو اغیار کا غلام بنا دیا ھے ۔ مفاد پرستی نے اسلامی قوم میں اخوت و وحدت کے جذبے کا گلا گھونٹ دیا ھے ۔ یہ نفس کا اقدام ھی ھے جس نے ایک کروڑ سے زائد شیعہ آبادی کو ایک دوسرے سے جدا کردیا ھے کہ وہ مٹھی بھر نفس پرست کرسی نشینوں کا لقمہ بنی ھوئی ھے ۔ یہ نفس کا اقدام ھی ھے کہ جس نے ایک جاھل مازندرانی کو چند ملین عوام پر تسلط دے دیا ھے کہ وہ انہیں اپنی خواھشوں کا کھلونا بنائے ۔ یہ اسی اقدام نفس کی بدولت آج چند اوباش، مسلمانوں کی جان، مال، عزت و آبرو سے کھیل رھے ھیں ۔ یہ نفس کا اقدام ھی ھے علم و دانش کے مدرسوں کو کچھ بےوقوف چھوکروں کے قبضے میں دے دیا اور علم قرآن کے مراکز کو فسق و فجور کے اڈوں میں بدل دیا ھے … اور کسی میں اس کے خلاف زبان ھلانے کی جرأت نہیں باقی ھے ۔ اسی نفس کے اقدام نے عورتوں کے سروں سے چادریں چھنوا دیں ۔ اور دین و قانون کے خلاف سب کچھ ھو رھا ھے … اخبارات فسق و فجور اور بےحیا رضا خاں کے خشک ذھن کے منصوبوں کو پھیلانے میں آگے آگے ھیں یہ اپنی ذات کے لئے اندھی حرکت ھی ھے کہ بعض غیر قانونی ممبروں کو علمائے دین کے خلاف بکواس کا موقع ملا ھے اور کسی میں انگلی اٹھانے کی جرأت نہیں ھے ۔
اے اسلامی روحانیو ! اے ربانی عالمو ! اے دین دار دانشورو ! اے مذھب دوست مقررو ! اے خدا خواہ دین دارو ! اے حق پرست خدا خواھو ! اے شریف حق پرستو ! اے وطن خواہ شریفو ! اے غیرت مند نجیب وطن خواھو ! خدائے دو جہاں کے موعظہ کو پڑھو اس کی پیش کردہ واحد اسلامی فکر قبول کرو اپنے ذاتی مفادوں سے منھ موڑ لو تاکہ سعادت دارین حاصل ھو اور دونوں عالم کی شریفانہ زندگی حاصل ھو …
آج وہ وقت ھے جب الٰہی و روحانی نسیم چلنے لگی ھے ۔ قیام و انقلاب کا بہترین موقع ھے ۔ اگر یہ فوت ھوگیا تو وہ نفس پرست مٹھی بھر آوارہ عناصر دوبارہ مسلط ھوجائیں گے ۔ تمہاری عزت و آبرو دین و مذھب کو اپنے باطل اغراض و مقاصد کے لئے کھلونا بنا لیں گے ۔ اس وقت بارگاہِ خدا میں تم کیا عذر پیش کرو گے ۔ تم لوگوں نے احمد کسروی کی کتابوں کو دیکھا جس میں تمہارے دین و مذھب کے بارے میں نیز تمہارے مرکز شیعیت میں امام ششم اور امام غائب کی شان میں گستاخیاں کی ھیں مگر تم نے اس کے خلاف کچھ نہ کہا ۔ آج خدا کی عدالت میں تمہارے پاس کیا عذر ھے یہ کیسی کمزوری اور بےچارگی ھے جس نے تمہیں گھیر رکھا ھے ؟
اے جناب محترم ! آپ نے جو یہ اوراق اکٹھا کرکے علماء کے سامنے پیش کیے ھیں، بہتر یہ ھے کہ کوئی ایسی کتاب پیش کرتے جو تفرقہ کو دور کرکے سب کو ایک جگہ جمع کرتی اور سب سے دستخط لیتے ۔ اگر ملک کے کسی گوشے میں اس قسم کی گستاخی کی جاتی تو سب مل جل کر قیام کرتے بہتر ھے کہ آپ لوگ کم از کم دینداری بھائیوں سے سیکھیے ۔ اگر ان کے ساتھ ذرا سی زیادتی ھے تو اھم مراکز اس سے رابطہ رکھتے ھیں اور ھر جگہ سے ان کی حمایت میں اقدام کرتے ھیں آپ لوگوں نے شروع ھی میں اپنے حق کے لئے کوئی اقدام نہ کیا، نتیجہ یہ ھوا کہ بے دینوں نے سر اٹھایا اور گوشہ گوشہ میں بےدینی کو عام کردیا ۔ اور اب جلد ھی وہ آپ لوگوں پر اس طرح مسلط ھوجائیں گے کہ رضا خان کے دور سے بھی زیادہ برے دور کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ من یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ و رسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ ۔
سید روح اللہ خمینی
11 / جمادی الاولیٰ 1363ھجری

حق گوئی

مذکورہ بالا ھنگامی بیان سے ثابت ھو رھا ھے کہ امام خمینی کس قدر عارف، خدا شناس، حق گو، شجاع اور جری تھے، اور قیادت کی کتنی بلند صلاحیت رکھتے تھے ۔ حق بات کہنے میں ھمیشہ جرأت و دلیری سے کام لیا ھے ۔ خدا اور اسلام کے سلسلے میں کسی کی کوئی رعایت نہیں تھی ۔ چنانچہ حجۃ الاسلام شیخ صادق خلخالی کہتے ھیں کہ شاہ نے سید جلال الدین تہرانی کو ایک شخص کے ھمراہ سلام عرض کرنے کے لئے امام خمینی کی خدمت میں بھیجا ۔ سید جلال نے تنہائی میں خصوصی ملاقات کی خواھش کی مگر امام نے فرمایا یہاں کوئی غیر نہیں ھے جو کہنا ھے یہیں کہو ۔ انھوں نے شاہ کا سلام پیش کرنے کے بعد عرض کیا کہ شاہ کا کہنا ھے " ھم شیعہ ھیں ملک کے لیے نظم و قانون ضروری ھے اور آپ کو بھی اعتراف ھے کہ دستور اساسی محترم ھے … امام نے فرمایا : شاہ سے پوچھو یہ مدرسۂ فیضیہ کا حادثہ کیسا تھا ۔ ساوہ کے کسانوں کے بھیس میں ساواکیوں نے جو حملہ کیا تھا وہ کیسا تھا اور … سید جلال کے ساتھی نے کہا آقا شاہ اور قانون کو تسلیم کرتے ھیں لیکن ان کو کچھ اعتراضات ھیں ۔ امام نے فرمایا نہیں یہ بات نہیں ھے ۔ " مجھے شاہ سے شکایت ھے " پھر تین مرتبہ فرمایا "مجھے اس شاہ سے نفرت ھے " ۔

سال سیاہ !

ملت ایران عید نوروز کا جشن نہایت اھتمام کے ساتھ مناتی ھے ۔ لھٰذا شاہ نے 1963ع، 1342ش یہ عیارانہ پالیسی اختیار کی کہ ملت کو غفلت میں مبتلا رکھنے کے لئے جشن کا شاندار انتظام کیا مگر امام خمینی کی چشم بصیرت اس نکتے کو دیکھ رھی تھی ۔ آپ نے اس چال کو کامیاب نہ ھونے دیا ۔ بلکہ اسی خوشی کے دن کو روز غم قرار دے کر عام غم منانے کا اعلان کردیا اور اس کو سال سیاہ عام سوگ کا دن قرار دیا ۔
سی سال آیۃ اللہ العظمیٰ آقائی خوئی دام ظلہ، کو بھی ایک ٹیلی گرام کے ذریعے ایران کے تاریک حالات سے آگاہ کرتے ھوئے بتایا گیا کہ شاھی غلاموں نے اپنے ظلم و تشدد کی انتہا سے چنگیز و ھلاکو کے انسانیت سوز، مجرمانہ و ظالمانہ حرکات کو بھی مات دے دی ھے ۔

مزید اقدامات

اسی سال محرم 1383ھجری کے آغاز سے پہلے تمام مقررین خطباء کو اپنے حکیمانہ پیغامات سے تاکید کردی کہ وہ ایسے اھم موقع سے پورا فائدہ اٹھائیں چنانچہ انھوں نے بھی ایسی موثر تقریروں کے ذریعے دستور اساسی کی خلاف ورزی، نیز حکومت کے پوشیدہ نقشوں، خطرناک منصوبوں کو خوب آشکار کیا ۔ تمام ظلم و استبداد اور غلامانہ زندگی کے انجام کو گوشے گوشے میں پھیلایا اور نویں محرم اور عاشور کے دن تو تحریک انہتائے عروج پر آگئی ۔
امام نے مدرسۂ فیضیہ میں بطور تنبیہ ایک ھنگامی تقریر کی جس میں شاہ کے انسانیت دشمن مجرمانہ افعال اور ظلم و تشدد پر کھلی تنقید کی ۔ اسلام و قرآن کی جو بےحرمتی اور اھانت کی گئی تھی اسے ملت کے سامنے پیش کیا ۔ شاہ کو خطاب کرتے ھوئے یہ بتایا کہ علما تمہارے مخالف ھیں، تمہاری ناشائستہ حرکتوں کے مخالف ھیں ۔ اگر تم اس سے باز آجاؤ تو پھر تم سے کوئی شکایت نہ باقی رھے گی ۔ 4 / محرم کے خطرناک مظاھرات بتا رھے تھے کہ ملت شاہ کے خلاف انتہائے غیض و غضب کے عالم میں بپھری ھوئی ھے ۔ یہ دیکھ کر شاہ اور استعماری طاقت کے پجاری سہمے ھوئے تھے ۔
3 / جون 1963ع بارھویں محرم کی شب میں قومی سلامتی کے خلاف اقدام کا الزام عائد کرکے آپ کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اسی روز یعنی 12/ محرم 1983ع مطابق 15 / خرداد 1343شمسی کو یہ خبر بہت تیزی کے ساتھ پورے ملک میں پھیل گئی ۔ اھم مراکز اور شاھراھوں پر لوگوں کا ھجوم اکٹھا ھوکر حکومت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگانے لگا ۔ ھر طرف یہ صدا گونج رھی تھی، خمینی ! خمینی خدا آپ کی حفاظت کرے ۔ ملت آپ کو چاھتی ھے " ۔ عظیم مظاھرے کی تاب نہ لا کر حکومت کے حکم سے بےتحاشہ فائرنگ ھوئی جس سے تقریباً پندرہ ھزار افراد شہید ھوئے ۔ مظاھروں کا سلسلہ چار روز تک اور ھڑتال کا چودہ دن تک جاری رھا ۔ امام خمینی نے اسے ھمیشہ کے لئے یوم غم قرار دے دیا ۔
آپ کی گرفتاری سے پورے ملک میں ایک ھنگامہ تھا ۔ علماء و عوام کے شدید دباؤ کی بنا پر ملک کی بگڑی ھوئی حالت کو قابو سے باھر دیکھتے ھوئے رھا کردیا ۔ دو ماہ تک جیل کی سختیوں میں اور آٹھ ماہ نظر بندی کی قید میں رھے ۔ رھائی کے بعد بھی تقریروں اور پیغامات کا سلسلہ برابر جاری رھا لیکن 20 / جمادی الثانیہ 1384ھجری مطابق 4 / آبان 1343شمسی کو آپ نے ایک زبردست اور ھنگامہ خیز تقریر فرمائی ۔ عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ھونے کی دعوت کھلے الفاظ میں دی جس نے شاھی تخت کو متزلزل کردیا ۔ جس کے نتیجے میں 4 / نومبر 1965ع کو جلا وطن کرکے آپ کر ترکیہ بھیج دیا گیا، وھاں دو سال مقیم رھے پھر 1965ع میں وھاں سے منتقل کرکے نجف اشرف بھیج دیا گیا تاکہ آپ کی شخصیت وھاں کے عظیم علماء و مراجع کے درمیان گم ھوجائے ۔ مگر آپ نے عزم و استقلال کے ساتھ وھاں بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں ۔ ملت کو انقلاب کا پیغام دیتے گئے ۔ شاھی حکومت نے عراقی حکومت سے ان سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا، پابندی لگانے کی کوشش کی گئی مگر آپ نے بےاعتنائی کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھا ۔
اسی سال 1965ع میں رستاخیز پارٹی کے خلاف بھی ایک سخت قسم کا بیان جاری کیا جس نے تہلکہ مچا دیا ۔ یہ دیکھتے ھوئے حکومتِ عراق نے شاہ کی دوستی میں اپنے یہاں سے ھٹا دیا ۔ آپ نے کویت کا ارادہ کیا مگر وھاں کی حکومت نے بھی شاہ کی دوستی میں قبول نہ کیا ۔ البتہ حکومت فرانس نے اپنے یہاں قیام کی اجازت دی لیکن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ۔ مگر اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند ھوئی ملت کی طرف سے تار گئے ۔ جس کے نتیجے میں پابندی ھٹالی گئی 1978ع میں فرانسیسی اخبار کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ھوئے صاف لفظوں میں بتا دیا کہ وہ ایران کے موجود نظام کو پسند نہیں کرتے اس کی جگہ پر حکومت اسلامی قائم کرنا چاھتے ھیں ۔ ان واقعات سے آپ کے عزم و استقلال آپ کی قیادت کے کمال پر پوری روشنی پڑتی ھے ۔
امام خمینی کی جلا وطنی نے ملت کو بےسہارا کردیا ۔ زبانیں بند تھیں قلم خاموش تھے ۔ چاروں طرف ساواک کی حکومت تھی، گھٹن کا عالم آخرکار 19 دی ماہ 1965ع کو امام خمینی کی توھین پر خاموشی کی مہر ٹوٹی غم و غصہ کی دبی ھوئی چنگاری شعلہ بن کر بھڑک اٹھی ۔ جس کو دبانے کے لئے کافی خوں ریزی ھوئی ۔ اسی طرح 29/ بہمن 1356شمسی کو چہلم شہدائے کربلا کے روز عظیم مظاھرہ ھوا جس کے نتیجے میں تبریز والوں کا قتل عام ھوا پھر 1357شمسی کے اوائل میں لوگ کھل کر سامنے آگئے ۔ قربانیاں پیش کیں ۔ آپ کے فرزند شہید آیۃ اللہ مصطفیٰ خمینی کی مشتبہ موت سے غم و غصہ کی لہریں دلوں میں پہلے ھی سے موجزن تھیں، لیکن روزنامہ اطلاعات میں ایک مقالۂ " ایران و استعمار، سرخ و سیاہ " کے عنوان سے شائع ھوا جسے دیکھ کر غیض و غضب کی لہر آگ کی طرح بہت تیزی سے ھر طرف پھیلنے لگی ۔ ایران کا ستارہ برج سعادت کے قریب آگیا ۔ انقلاب اسلامی کامیابی کے نئے مرحلے میں داخل ھوگیا ۔ آپ نے ملت ایران سے اپیل کی کہ وہ شب برات یا کسی قسم کا جشن نہ منائیں ۔ جنوری 1978ع کا واقعہ یہ ھے کہ قم کے مظاھروں میں شہید ھونے والوں کا چہلم بڑے اھتمام سے منایا جارھا تھا ۔ اس موقع پر اپنے موثر و ھنگامہ خیز بیانات سے قوم کو کھل کر میدان مقابلہ میں آنے کی دعوت دی گئی ۔ مسلح افواج کو بھی عوام کے تعاون کا حکم دیا جس کے نتیجے میں خونریزی کا بازار گرم ھوا ۔ پندرہ افراد شہید ھوئے اس کے بعد ھی آپ نے حکومت کے خلاف ایک حیرت انگیز بیان جاری فرمایا جس نے حکومت کے ڈھائی ھزار سالہ مضبوط قصر کو متزلزل کردیا ۔ شاھی حکومت بڑی تیزی کے ساتھ تنزلی و انحطاط کی طرف بڑھنے لگی ۔
ملت کے عزم و استقلال، محکم قیادت، اور قابو سے باھر نازک حالات کو دیکھتے ھوئے شاہ نے حکومت کی باگ ڈور بختیار کے حوالے کی اور خود 16/جنوری 1979ع کو ملک سے فرار اختیار کرنے میں ھی عافیت دیکھی ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اگر بختیار نے قابو حاصل کرلیا تو پھر وہ آسکتا ھے، اور اگر قابو نہ پاسکا اور شاھی تخت کو زوال نصیب ھوا تو وہ حفاظت کے ساتھ الزام سے بری رھے گا بختیار نے بھی ظلم و تشدد کا وھی شاھی رویہ جاری رکھا مگر وہ ملت جو " کانہم بنیان مرصوص " کا مصداق تھی، جس کے عزم و استقلال کے سامنے شاہ نہ ٹھہر سکا تھا تو بختیار کی کیا حیثیت تھی ۔ نتیجہ یہ ھوا کہ اسے بھی ملک چھوڑنا ھی پڑا ۔
بہیمیت کی بھیانک شب کافور ھوئی طاغوتیت کے نحس ستارے غروب ھوئے لطف الٰہی کی سحر نمودار ھوئی، مسرتوں کی سکون بخش ھوا چلی، آرزوؤں کے غنچے چٹکے، امیدوں کے پھول کھلے، ایمانی عنادل نے ساز عقیدت پر " جاء الحق و زحق الباطل " کے ترانے چھیڑے ۔ ھدایت کی بیلیں سر چڑھیں، عرفان کے پودے لہلہائے، کامیابی کی شفق پھولی، انقلاب اسلامی کا آفتاب طالع ھوا ۔ حق کو فروغ ملا باطل نے شکست کھائی، امام خمینی نورانی جاہ و جلال کے سائے میں پہلی بار یکم فروری کو سر زمینِ ایران پر وارد ھوئے ۔ ڈھائی ھزار سالہ شاھی نظام خاک میں ملا اور 11/ فروری 1979ع 22بہمن 1357شمسی کو انقلاب پورے طور پر کامیاب ھوگیا ۔ اور 3/ ربیع الاول 1389ھجری 12/ 10/ 1357 شمسی ایک عبوری حکومت کی بنیاد پڑ گئی جو آج ایک مکمل و مستحکم آئین کے ساتھ ملت ایران کی قیادت و عالم اسلامی کی حفاظت اور سربلندی کے فرائض انجام دے رھی ھے ۔ جسے اسلام دشمن سازشوں کے ذریعے ناکام بنانے نقصان پہنچانے اور کمزور کرنے کی پیہم کوششیں کی گئیں مگر امام خمینی کی مجموعہ صفات قیادت و مرجعیت نے جس طرح اسے خلعت وجود دیا تھا اسی طرح ان کی شیطانی ریشہ دوانیوں کو ھر منزل میں ناکام و بےاثر بنا کر اس بہارستان ایران کے دامن کو وقار حریت و جمال انسانیت کے لازوال پھولوں سے زینت دے کر جاوداں بنادیا ۔

مرجعیت و قیادت کا اجتماع

مرجعیت و قیادت دو عظیم مقدس مرتبے ھیں ۔ جن کا تعلق انسان کی دینی و دنیوی زندگی کی اصلاح، آراستگی اور اس کی رفعتوں سے ھے ۔ ان کے مراتب کے حاصل کرنے کی تمنا ھر کس و ناکس کو ھوتی ھے لیکن اھلیت کسی کو مخصوص شرائط کے ساتھ ھی حاصل ھوتی ھے ۔ مگر دونوں کا اجتماع شخص واحد میں ضروری نہیں ھے ۔
خدا کی معرفت راسخ عقیدہ، عمل میں پختگی، فقہی مسائل کے حاصل کرنے کا ملکہ، ھدف و مقصد کی حقانیت، جرأت، شجاعت، ثبات قدم جذبہ صادق، بلند حوصلہ، مدبرانہ شعور، نفاذ احکام کے لئے محل و موقع کی شناخت، احوال و کوائفِ عالم پر وسیع نظر، اور گہرا مطالعہ اپنی شرعی و انسانی ذمہ داری کا احساس عوام کے مسائل سے سچی محبت، ھر قربانی کے لیے آمادگی، موثر تقریر، جو دلوں میں اتر جائے، پاکیزہ عمل و جانباز شاگرد، سوائے خدا کے دنیا کی کسی طاقت سے مرعوب نہ ھوتا ھو ۔
اگر مذکورہ بالا اوصاف کسی میں ھیں تو وہ مرجعیت و قیادت دونوں کی صلاحیت رکھتا ھے ۔ ان اوصاف کے ساتھ جس کو جس قدر ریاضتِ نفس اور عبادت میں کمال کی منزل حاصل ھوگی اس کی مرجعیت و قیادت میں اتنی ھی تاثیر ھوگی ۔
امام خمینی کی مقدس ذات میں ان کمالات و اوصاف کے جوھر موجود تھے ۔ اسی لیے خدا کی تائید اور نصرت بھی حاصل تھی ۔ ریاضتِ نفس، عبادت خدا، خدمت خلق سے محبت، عشق کی حد تک پہنچی ھوئی تھی ۔ آپ کی فضیلتوں سے انقلاب اسلامی کی کامیابی وابستہ ھے اور انقلاب اسلامی کی کامیابی سے آپ کی فضیلتوں پر روشنی پڑتی ھے ۔ آپ کے قائدانہ بیانات سے ثابت ھوتا ھے کہ اس پاکیزہ مقصد کی راہ میں ھر قربانی کے لیے ھر لمحہ تیار رھتے تھے ۔ آپ کا قول تھا " میں سینے پر گولیاں کھانے کے لئے تیار ھوں لیکن تمھارے سامنے سرنگوں ھونے کے لیے ھرگز آمادہ نہیں ھوں " ۔ آپ نے قید و جلاوطنی کی زندگی قبول کرکے، اپنے فرزند کی شہادت گوارا کرکے، دنیا کو دکھا دیا کہ میری نگاہ میں مقصد خلقت کی عظمت ھے ۔ دنیا کے بڑے سے بڑے مصائب کی کوئی حقیقت نہیں ھے ۔ اھل بیت علیہم السلام کی عظیم ترین قربانیوں کے مقصد کو پیش نظر رکھتے ھوئے آپ نے خلوص و جذبۂ صادق کے ساتھ جان کی بازی لگادی ان کی بناء پر انقلاب اسلامی کامیابی سے ھمکنار ھوا ۔ آپ کی خلوت نشینی کے متعدد واقعات شاھد ھیں کہ مشکل اوقات میں خدا اور اپنے امام معصوم سے لو لگاتے تھے اور ان کی بارگاہ سے مدد اور تائید حاصل کرتے تھے ۔
آپ کے موید من اللہ ھونے کے سلسلے میں ھمارے موجودہ رھبر اعظم آیۃ اللہ خامنہ ای اپنی 8/جون 1989ع کی تقریر میں پاسداران اسلام سے خطاب کے موقع پر فرماتے ھیں:
"عید نوروز کی آمد سے پہلے میں نے اپنے دوستوں کے ھمراہ امام کی خدمت میں حاضر ھوکر اصرار کیا کہ اس موقع پر عوام سے ملاقات فرمائیں ۔ لیکن قبول نہ فرمایا دو تین روز بعد ھی آپ کو دل کا دورہ پڑ گیا ۔ سکون کے بعد جب میں دوبارہ امام کی خدمت میں حاضر ھوا عرض کیا آپ کا ھماری درخواست کا قبول نہ کرنا ھی بہتر ھوا، ورنہ بیماری کی وجہ سے ملاقات نہ فرما سکتے اس کا برا اثر پڑتا لیکن آپ نے فرمایا ابتدائے انقلاب سے ھی یہ محسوس ھو رھا ھے کہ کوئی غیبی طاقت ھمارے ساتھ ھے جو ھماری رھنمائی کرتی رھتی ھے " ۔
یہ واقعہ آپ کے لئے تائید غیبی کا ثبوت پیش کرتا ھے ۔

امام کی بعض روشن عظمتیں

آپ کی ذات مقدس صفات اپنے آپ میں علمی عملی اور روحانی فضائل و کمالات کی جلوہ سامانی کے ساتھ علمائے متاخرین و متقدمین کے درمیان اس طرح ضیا بار ھے جس طرح ستاروں کے جھرمٹ میں چودھویں کا چاند ۔ عجب نہیں کہ آپ کا مقدس نام بھی خدا کی جانب سے القا ھو، کیونکہ آپ کی روحانی ذات اس دور غیبت میں اسلام کے لئے ایک عظیم ترین نعمت تھی جس سے بظاھر ھم محروم ھوچکے ھیں مگر ان کی برکتیں ھمارے لئے ھمیشہ ھمیشہ باقی رھیں گی ۔ ان کے اجاگر کیے ھوئے اسلامی خطوط، رھتی دنیا تک مشعل راہ رھیں گے، ان کے روشن کارنامے تا حشر ھدایت دیتے رھیں گے ۔ وہ ھماری نگاھوں سے دور ھوکر بھی اپنے فیوض کے ساتھ ھمارے درمیان موجود ھیں ۔
آپ کے مقرب موید ھونے پر اس سے بڑھ کر دلیل کیا ھوسکتی ھے کہ آپ نے جب اٹھائیس سال کی مقدس عمر میں ایک چودہ سالہ بانوے عفت کے ساتھ ان کے پدر بزرگوار کے پاس عقد کا پیغام بھیجا تو وہ اس لیے قبول نہ کیا گیا کہ دونوں کی عمر میں چودہ سال کا تفاوت تھا ۔ مگر خود صاحبزادی کو خواب میں پیغمبر اسلام کا حکم ملا کہ تم اس رشتے کو قبول کرلو، والدین کو معلوم ھوا تو اپنی بیٹی کی خوش قسمتی پر ناز کرتے ھوئے شادی کردی ۔ وہ مقدس خاتون اپنے مایۂ ناز شوھر امام خمینی کی یاد لیے ھوئے آج بھی زندہ ھیں ۔
خدا کے مقرب و موید بندوں کے اوصاف میں سے دو صفات یہ بھی ھیں کہ :
1۔ وہ دین حق کے تحفظ کے لیے ھر طرح کی بڑی سے بڑی مصیبتیں جھیلتے ھیں اور ضرورت کے وقت بڑی سے بڑی قربانی پیش کرکے دین کو بچا لیتے ھیں ۔
2۔ دنیا کی عظیم ترین شخصیتوں اور شہنشاھوں کو بھی پیغام ھدایت دینے میں خوف و تردد نہیں کرتے ھیں ۔ خواہ انھیں سخت ترین مصائب کا سامنا کرنا پڑے مگر وہ ھرحال میں ثبات قدم کے ساتھ اپنے فرض کو انجام دیتے ھیں ۔

صدر روس گورباچیوف کو دعوتِ حق

انبیاء و اوصیاء بلکہ خدا کے تمام مقرب ترین خاص بندوں کے اوصاف میں سے دو اھم صفات یہ بھی ھیں :
1۔ وہ دنیا کی عظیم ترین شخصیتوں کو بھی دعوت حق دینے میں ذرا بھی تامل و تردد نہیں کرتے ھیں بلکہ راسخ عزم کامل، استقلال، بلند حوصلہ اور نہایت جرأت کے ساتھ اپنے منصبی فرض کو انجام دیتے ھیں ۔
2۔ وہ دین حق کی بقا و تحفظ کے لیے ھر قسم کی بڑی سے بڑی مصیبت جھیلتے ھیں اور ضرورتِ وقت کے پیش نظر گرانقدر اور بلندترین قربانیاں پیش کرتے ھیں ۔
امام خمینی غیر معصوم رھبر اعظم تھے مگر آپ کی زندگی کے آخری سال کے اقدامات میں سے ایک اھم اقدام یہ بھی ھے کہ آپ نے روس جیسی عظیم حکومت کے بلند مرتبہ صدر مملکت گوربا چیوف کو مطالعۂ اسلام کی دعوت دی جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ آپ کے درد مند دل میں اسلام کی کس قدر عظمت و محبت تھی اور اپنی اسلامی و دینی ذمہ داری کا کس قدر زیادہ احساس تھا ۔
چنانچہ آپ نے یکم جنوری 1989 ع کو انقلاب اسلامی کی دسویں سالگرہ کے موقع پر مفکر اسلام آیۃ اللہ جوادی آملی کو اپنے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے پیغام حق پر مشتمل ایک خط دے کر دو دوسرے دانشوروں محترم لاری اور محترم مرضیہ حدیدہ چی دباغ کی ھمراھی میں صدر روس کے پاس بھیجا جس میں کھلے لفظوں میں کمیونسٹ نظام کے نقص اور اسلام کی جامعیت و کمال کی طرف متوجہ کرتے ھوئے فرمایا تھا : میں چاھتا ھوں آپ پوری سنجیدگی کے ساتھ اسلام کے بارے میں جستجو اور تحقیق کریں ۔ یہ خواھش اس لئے نہیں ھے کہ اسلام یا مسلمین کو آپ کی احتیاج ھے بلکہ یہ خواھش اسلام کی ان آفاقی اور عظیم قدروں کی بنا پر ھے جو تمام اقوام عالم کی نجات راحت اور سکون کا باعث بن سکتی ھے اور یہ اسلام ھی بشریت کی بنیادی مشکلات کی گرھیں کھول سکتا ھے ۔
صدر روس کے نزدیک امام کی عظمت و رفعت اور ان کے پیغام کی قدر و منزلت اسی سے ظاھر ھے کہ صدر موصوف نے یہ فخر کیا ھے کہ میں دنیا کا پہلا قائد ھوں جس سے امام خمینی جیسی شخصیت نے براہ راست خطاب فرمایا اور اس سے بالاتر بات یہ ھے کہ امام کے نمائندوں سے یہ بات کہی کہ آپ لوگ حضرت امام کی خدمت میں یہ اطلاع پہنچا دیں کہ ھم روس میں بہت جلد آزادیٔ ایمان کا قانون پاس کرنے والے ھیں ۔ یہی نہیں بلکہ صدر مملکت نے اپنے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے اپنے وزیر خارجہ کو بھی امام کی خدمت میں خاص طور سے بھیجا ۔ تین گھنٹے کی طولانی ملاقات میں سوال و جواب کے دوران وزیر خارجہ کی نشست نہایت مہذب انداز میں اس طرح رھی جیسے کوئی مودب اور سعادت مند طالب علم اپنے محترم استاد کے روبرو بیٹھا ھو ۔ پورے وقفے میں وزیر خارجہ نے نہ تو کرسی پر ٹیک لگائی نہ امام کے نورانی چہرے کی طرف نظر ڈالنے کی جرأت کی۔
امام خمینی نے کمیونسٹ نظام کے ناکافی ھونے کی جو پیشین گوئی کی تھی اس کا ثبوت مغربی ممالک میں کمیونسٹ نظام کے زوال اور کمیونزم کے خلاف عوام میں لہر دوڑنے سے رفتہ رفتہ سامنے آتا جارھا ھے یقیناً ایسی عظیم ترین ھستیاں " علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل " کی مصداق ھیں ۔ جو کلمۂ توحید کو بلند کرنے اور اسلام کا پرچم تمام عالم میں لہرانے کے لئے سخت ترین مصائب کی ھولناک گھاٹیاں طے کرکے ھمت شکن حادثوں سے دوچار ھوکر بےنظیر قربانیوں کا کرشمہ دکھا کر، جاودانی کارناموں کا نقش جما کر عزم و استقلال کے تیز تیشے سے آزمائشوں کا سنگین پہاڑ کاٹ کر کامیابیوں کا جادہ بنا کر فیض عام کا دریا بہا کر دنیا سے مطمئن نفس، مسرور و شادماں ضمیر کے ساتھ گزر جاتی ھیں ۔

اساتذہ کے نزدیک آپ کا احترام

یہ روشن عظمتیں امام خمینی کے موید من اللہ، مقرب خدا اور دورِ غیبت کے سچے رھبر ھونے کی دلیلیں ھیں جس کا اعتراف آپ کے اساتذہ بھی کرتے تھے ۔ چنانچہ آپ کے محترم استاد موجود مرجع تقلید افقہ الفقہاء آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد علی اراکی بھی آپ کا دل سے احترام کرتے تھے ۔ آپ کو نہ معلوم کس قدر عظیم سمجھتے تھے کہ ہاتھ کا بوسہ دینے کی کوشش کرتے تھے لیکن امام نے اپنے واجب الاحترام استاد کو کبھی اس کا موقع نہ دیا ۔ بلکہ آپ کو "بقیۃ السلف" کے موقر لقب سے یاد کرتے تھے ۔ کیونکہ قم میں کوئی ایسا نہ تھا جو آپ کی علمی جلالت زھد اور تقویٰ کا کلمہ نہ پڑھتا ھو ۔ اپنی عظمتوں کے باوجود آپ اپنے مایہ ناز شاگرد رشید امام خمینی کو جانشین رسول مانتے تھے اور جب ملاقات کے لئے تشریف لاتے تھے تو پہلے احتراماً زیارت پڑھتے تھے پھر اندر داخل ھوتے تھے ۔
آپ بعض افراد کو حکومت میں لانے پر دل سے راضی نہ تھے ۔ جیسا کہ وصیت نامہ سے ظاھر ھے ۔ لیکن انتخاب کا استحقاق رکھنے والے افراد انھیں حکومت میں لائے اس لئے آپ نے کوئی اختلاف نہ کیا ۔ وجہ یہ معلوم ھوتی ھے کہ ملک ایک قانون رکھتا ھے، افراد کے نقائص بھی منظر عام پر نہ تھے، مداخلت قانون کے خلاف ھوتی، ڈکٹیڑی کا الزام بھی لگایا جاتا ۔ لیکن زمانے نے ان افراد کی نااھلی کو خود ھی دیکھ لیا ۔ کیا یہ بھی آپ کے موید من اللہ ھونے کا ثبوت نہیں ھے ؟
رحلت سے ایک سال قبل ھی اسلامی جمہوریہ کے انتظام میں مصروف ھونا، بعض اھم تبدیلیاں کرنا اور یہ فرمانا کہ تم میرے بعد نہ کرسکو گے ۔ بعد کی رھبری کے لئے فکر مند ارباب حل و عقد کو متعدد بار موجودہ رھبر اعظم آیۃ اللہ خامنہ ای کی مقدس ذات کی طرف رھنمائی کرنا اور انھیں اس پر مطمئن کرنا، صحت کی بحالی کی مبارک بادی کے موقع پر فرمانا : نہیں نہیں میں سفر آخرت کرنے والا ھوں، لوگوں سے پیغام دینے کی خواھش پر یہ کہنا کہ ان سے کہہ دو کہ خدا ھمیں قبول فرمائے ۔ شریک حیات سے رخصت ھوتے ھوئے کہا کہ خانم اب تمہاری زحمتیں تمام ھوچکی ھیں ۔ خدا حافظ ۔ یہ تمام باتیں آپ کے نفس کی پاکیزگی اور مقرب خدا ھونے کا ثبوت ھیں ۔
آیۃ اللہ العظمیٰ آقائی محسن حکیم کی رحلت کے بعد مرجعیت کا مسئلہ زیر بحث تھا ۔ ایں جانب نے بعض علماء کی سیرت پر عمل کرتے ھوئے قرآن مجید سے تفاؤل کیا تو " و اشرقت الارض بنور ربھا " کی آیت جواب میں آئی " (یعنی زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھی) یہ آیت امام معصوم حضرت بقیۃ اللہ کی شان میں ھے جو آپ کی نیابت کے عظیم کارناموں کی طرف رھنمائی کر رھی ھے ۔ اس وقت صرف آپ کی عظمتوں کا اندازہ ھوا ۔ مگر انقلاب اسلامی کے کارناموں نے مکمکل تفسیر پیش کردی، عالم کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ۔ جہاں اسلام کا نام حق کا پیغام نہ پہنچا ھو ۔ یہ وہ اھم کار حق تھا جسے قدرت کو آپ کے ہاتھوں انجام دلوانا تھا ۔

مالِ دنیا سے بے نیازی

آپ کی نگاہ میں مال دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی ۔ اسی لیے زر و زمین کا کوئی ذخیرہ نہ کیا ۔ صرف بقدر ضرورت استعمال کیا ۔ میراث میں صرف تھوڑی سی زمین ملی تھی اس کو بھی باقی نہ رکھا ۔ بلکہ اپنی فیاض طبیعت اور مال دنیا سے بے نیازی کی بنا پر حجت الاسلام حیدر علی جلالی کو لکھا " میں آپ کو وکیل بناتا ھوں کہ میری زمینوں کو غریبوں میں تقسیم کرکے انھیں ان زمینوں کا مالک بنا دیں چاھے وہ زمینیں خالی ھوں یا ان پر کوئی تعمیر ھو "
حکومت اسلامی کا قانون ھے کہ عہدہ سنبھالتے وقت عہدیداروں کی ملکیت کا جائزہ لیا جائے گا ۔ اسی طرح جب وہ اپنی جگہ چھوڑیں گے تو بھی جانچا جائے گا ۔ اس کے پیش نظر امام خمینی نے ذمہ دار کو اپنی ملکیت کا جائزہ لینے کے لکھا ۔ " مختصر سی زمین کے علاوہ مالِ دنیا سے کچھ نہ پایا ۔ اسی پر عمل کرتے ھوئے امام کی وفات کے بعد آپ کے فرزند حجۃ الاسلام احمد خمینی نے ذمہ دار کو متروک ملکیت کا جائز لینے کو لکھا ۔ اسی وقت وہ مکان بھی جس میں آپ کا قیام تھا ملکیت میں نہ نکلا ۔

حسن سلوک

غریبوں اور دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک میں بھی آپ اھلبیت علیہم السلام کی تاسی کرتے تھے ۔ آقائے شیخ عبد العلی قرھی خود امام خمینی کی زبانی نقل کرتے ھیں کہ " ایک شخص نجف میں میرے پاس آیا اور جس قدر ممکن تھا برائی کی لیکن جب تک وہ نجف میں رھا ۔ میں اس کے مصارف کے لئے پیسے بھیجا کرتا تھا ۔ "
غریبوں کی دل آزادی سے بھی نفرت تھی مجلس استفتاء کے رکن حجت الاسلام کریمی کا بیان ھے کہ ایک شب کوئی فقیر آپ کے دروازے پر آیا، دربان نے اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا ۔ امام خمینی دور سے ھی برابر نگرانی کرتے رھتے تھے چنانچہ مجلس برخواست ھونے کے بعد جب بغرض زیارت دروازے پر آئے تو دربان کو تنبیہ فرمائی کہ تمہارا یہ برتاؤ مناسب نہ تھا ۔ اس نے عرض کیا یہ شخص کل بھی آکر اپنی ضرورت حاصل کرچکا تھا ۔ آپ نے فرمایا وہ محتاج ھے اس کی ضرورت ھی اسے یہاں تک لائی ھے ۔ ضرورت مند اپنی حاجت کے سوا کچھ نہیں جانتا ۔ یا تو اس کی ضرورت پوری کرو یا اچھے الفاظ سے اسے خوش کرکے رخصت کرو ۔ اور دیکھو عوام کو ناراض نہ کیا کرو ۔
موجودہ مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ حضرت آقائی اراکی کا بیان ھے کہ آپ کا حسن سلوک اس درجہ پر تھا کہ صاحبان ضرورت کی احتیاج رفع کرنے کے لیے تقرض بھی کر لیا کرتے تھے ۔ چنانچہ ایک مرتبہ میرے پاس پیسے نہ تھے ۔ یہ بات حرم جناب معصومہ میں امام خمینی کو معلوم ھوئی ۔ آپ نے کسی سے قرض لے کر میری ضرورت پوری کردی اس طرح کا دوسرا واقعہ یہ ھے کہ ایک عالم دین اپنے والد کے انتقال کے بعد بڑی تکلیف و پریشانی میں تھے ۔ امام خمینی کو معلوم ھوا تو آپ نے ایک دوسرے شخص کے ذریعے تین ھزار تومان بھیج دیے تاکہ ان کو یہ احساس نہ ھو کہ آقائی خمینی نے انھیں بھیجا ھے ۔ غم زدہ افراد کی دل جوئی کرنا ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا آپ کا شعار تھا ۔ آپ نے اھل بیت علیہم السلام کی سیرت کو پورے طور پر اپنا لیا تھا ۔ چنانچہ حجۃ الاسلام فحام بیان کرتے ھیں کہ مجھ سے آیۃ اللہ شیخ مرتضیٰ حائری نے بیان کیا کہ جب میرے والد (آیۃ اللہ العظمیٰ عبد الکریم حائری) کا انتقال ھوگیا تو امام خمینی مجھے اور میرے بھائی کو اپنے ھمراہ خمین لے گئے تا کہ ھم لوگوں کا غم ھلکا ھوجائے اور واپسی کے بعد ھم لوگوں کو پچاس پچاس تومان بھی دیے ۔

معاصر علماء کا احترام

کردار کی پاکیزگی کا یہ حال تھا کہ معاصر علماء و اساتذہ کی قدر اور احترام کرتے تھے ۔ اگر ان کی طرف سے کسی کو کوئی بدگمانی تھی تو اسے دور کرنے کی کوشش فرماتے تھے ۔ حجۃ الاسلام امامی کاشامی کہتے ھیں کہ قم کا ایک طالب علم آیۃ اللہ بروجردی کی عظمت و شخصیت کا قائل نہ تھا ۔ امام خمینی نے اسے تنہائی میں لے جاکر سمجھایا اور فرمایا کہ تم آیۃ اللہ بروجردی کی عظمت ان کے تقویٰ میں ذرا سا بھی شک نہ کرو ۔ حجۃ الاسلام کاشانی کہتے ھیں کہ اس وقت مجھے احساس ھوا کہ امام خمینی آیۃ اللہ بروجردی کا اس قدر احترام کرتے ھیں ۔
آیۃ اللہ آقائی محسن حکیم کی وفات کا گہرا اثر آپ کے دل پر تھا ان کی عظمت و شخصیت کی قدر کرتے تھے اور دوسروں کو بھی متوجہ کرتے تھے ۔
ایک دن امام خمینی کو اطلاع ملی کہ بعثی حکومت کے غلام آیۃ اللہ شاھرودی کو بغداد لے جاکر مقدمہ چلانے والے ھیں ۔ آپ نے حجۃ الاسلام شیخ عبد العلی قرھی کے ذریعے تصدیق کرائی تو بات ٹھیک نکلی ۔ آپ ایک مرجع وقت کی تحقیر و گرفتاری کیونکر گوارہ کرسکتے تھے ۔ آپ نے راتوں رات کربلا کے گورنر کے پاس آقائی قرھی کے ذریعے اپنا پیغام بھیجا ۔ اس پیغام میں آیۃ اللہ شاھرودی کی بےحد تعریف و توصیف کی تھی، اور اس قدر عظمت بیان کی تھی کہ گورنر کو پورا اطمینان ھوگیا اور دو تین روز میں مسئلہ حل ھوگیا اور پریشانی دور ھوگئی ۔

کفایت شعاری اور مساوات کا برتاؤ

امام خمینی خود اپنے نیز عیال اور مہمانوں کے بارے میں کفایت شعاری کا پورا لحاظ رکھتے تھے ۔ طلبہ کے ساتھ مساوات کا سلوک کرتے تھے اپنے شہید فرزند سید مصطفیٰ خمینی کو بھی تمام طلبہ کے برابر شہریہ دیتے تھے ۔ ان کے ساتھ کوئی رعایت نہ تھی ۔ ایک دن حجۃ الاسلام مصطفیٰ خمینی نے عرض کیا " آپ مجھے بھی سب کے برابر شہریہ دیتے ھیں ۔ حالانکہ میرے مصارف دوسرے طلبہ کے مقابلے میں صرف اس لئے زیادہ ھیں کہ میں آپ کا بیٹا ھوں ۔ مگر آپ نے کوئی رعایت نہ فرمائی ۔ (مصارف کی زیادتی کا مطلب یہ نہیں ھے کہ بےجا صرف کرتے تھے اس کا مطلب یہ ھے کہ امام خمینی کا فرزند ھونے کی حیثیت سے بعض اوقات صاحبانِ حاجت رجوع کرتے تھے اور ان کی ضرورت پوری کرنی پڑتی تھی ۔ یا یہ کہ دوسرے طلبہ ان کے ھمراہ سفر کر رھے ھیں تو وہ اپنے ساتھ ان طلبہ کا بھی کرایہ ادا کرتے تھے) بیت المال کے سلسلے میں آپ کی احتیاط تمام لوگوں کے درمیان مشہور تھی ۔ حجۃ الاسلام ناصری کہتے ھیں کہ امام کا عام حکم تھا کہ میرے دفتر کا فون نجف کے علاوہ دوسرے مقامات کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ حکم دوسروں کے لئے ھی نہیں تھا بلکہ آپ نے اپنے فرزند سے بھی فرما دیا تھا کہ تمہیں بھی دوسرے شہروں کے لیے فون کرنے کا حق نہیں ھے البتہ انقلاب کے سلسلے میں ضرورت ھو تو مضائقہ نہیں ۔ احتیاط و کفایت شعاری کا اس حد تک خیال تھا کہ ضرورت سے زائد کاغذ بھی استعمال نہ فرماتے تھے ۔ ایک مرتبہ دفتر کے کسی ذمہ دار نے لفافہ کی پشت پر کچھ لکھ کر امام کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آپ نے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر جواب دے کر نیچے لکھ دیا کہ تم ایسے ھی چھوٹے ٹکڑے پر بھی لکھ سکتے تھے ۔ اس کے بعد انھوں نے کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو تھیلی میں جمع کرلیا تھا ۔ بوقت ضرورت اسی پر لکھتے تھے ۔ امام خمینی بھی اس پر جواب لکھ دیتے تھے ۔
آپ جب کبھی رات میں بیدار ھوتے اور دفتر کا کوئی بلب روشن پاتے تو اسے خاموش کردیتے تھے ۔ اور دوسرے دن ذمہ داروں کو تنبیہ فرماتے تھے دفتر کے ایک رکن کا بیان ھے کہ آپ وضو کرتے وقت ضرورت سے زائد پانی نہیں بہنے دیتے تھے بلکہ افعال وضو کے درمیانی وقفہ میں بھی نل بند کردیا کرتے تھے ۔

غیروں کے دل میں آپ کی عظمت

دفتر امام خمینی کے ایک رکن حجۃ الاسلام حسن رحیمیان کہتے ھیں کہ ایک مرتبہ اٹلی کی ایک عیسائی عورت نے سونے کا ایک ھار جذبۂ احترام و محبت سے بھرے ھوئے ایک خط کے ساتھ بطور تحفہ امام کی خدمت میں بھیجا، لکھا تھا یہ ھار مجھے بےحد عزیز ھے کیونکہ میری شادی کی یادگار ھے، لیکن میں آپ اور آپ کے مقدس مشن سے احترام و محبت کا جذبہ رکھتی ھوں ۔ جس کے اظہار کے لیے یہ ھار روانہ کر رھی ھوں کیونکہ آپ میں حضرت عیسیٰ کی جھلک نظر آتی ھے ۔ حجۃ الاسلام آقائی رحیمیان کا بیان ھے کہ وہ ھار میں نے بہت دنوں تک اپنے پاس محفوظ رکھا ۔ کیونکہ مجھے اس تحفے کو قبول کیے جانے کے بارے میں شک تھا آخرکار میں نے خط کے ترجمہ کے ساتھ وہ ھار امام کی خدمت میں پیش کر ھی دیا ۔ آپ نے اسے اپنی میز پر رکھ دیا ۔ دو تین روز بعد ھی ایک کمسن بچی امام کی خدمت میں لائی گئی جس کا باپ محاذ جنگ پر لاپتہ ھوگیا تھا ۔ آپ اسے اپنے زانوں پر بٹھا کر شفقت فرمانے لگے ۔ اس طرح کی شفقت و محبت کا اظہار کبھی اپنے بچوں کے ساتھ بھی نہ کیا تھا ۔ آپ آھستہ آھستہ بچی سے پیار و محبت کی باتیں کرنے لگے اور پھر کوئی ایسی بات کہی جس پر بچی خوش ھوکر ھنسنے لگی، امام کے چہرے پر بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ آپ نے وھی ھار بچی کے گلے میں پنھا دیا ۔

امام کی بعض اھم خوبیاں

اتنی عظمتوں کے باوجود آپ کے رھن سہن کا معیار بہت ھی معمولی اور فقیرانہ تھا ۔ نجف اشرف میں گھر کے بارہ افراد کے ساتھ تین کمروں پر مشتمل تنگ گلیوں میں واقع بہت ھی معمولی گھر میں رھتے تھے ۔ پیرس میں بھی آپ کا قیام جس گھر میں تھا وہ ساٹھ مربع میٹر کا تھا ۔ تہران تشریف لائے تو مدرسہ علویہ میں مقیم ھوئے، قم آئے تو پہلے چند کمروں والے ایک معمولی گھر میں ٹھہرے، پھر جماران میں فرمائش کرکے ایک چھوٹے سے معمولی مکان میں زندگی کے آخری لمحات تک رھے ۔ اور وھیں سے بغرض علاج اسپتال لے جائے گئے ۔ آپ کی یہ سادہ زندگی حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے اس قول کی یاد دلاتی ھے جس میں حضرت نے فرمایا ھے : " خدا نے عادل اماموں پر فرض کیا ھے کہ وہ فقیروں جیسی زندگی بسر کریں تا کہ غربیوں پر غربت کی حالت میں زندگی بسر کرنا آسان ھو جائے "
شجاعت کا یہ حال تھا کہ جب انقلاب کی کامیابی سے ایک دن پہلے 10/فروری کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے 4/ بجے سے کرفیو کا اعلان کردیا تو آپ نے فتویٰ دے دیا کہ معینہ وقت پر تمام لوگ سڑکوں پر نکل آئیں ۔ اور ثبات قدم کے ساتھ اپنی جگہ پر ڈٹے رھیں ۔ تمام افراد ملت نے ایسا ھی کیا ۔ ایسے خطرناک حالات میں لوگوں نے آپ کو دوسری محفوظ جگہ پر منتقل کرنا چاھا ۔ آپ نے فرمایا " میں تو نہ ھٹوں گا، تم لوگ ڈرتے ھو تو چلے جاؤ "
آپ کو اتنا اطمینان نفس اور خدا پر توکل تھا کہ سخت ترین ھولناک مواقع پر بھی آپ کے ھوش و حواس عزم و استقلال، قوت فیصلہ میں کبھی کوئی فرق نہ پیدا ھوتا تھا ۔ ھر مصیبت میں صبر و سکون قلب کے ساتھ کوہ گراں کی طرح رھے ھیں ۔ چنانچہ جب پولیس آپ کی گرفتاری کے لئے گھر میں چوروں کی طرح داخل ھوکر خادم سے سوالات کر رھی تھی تو آواز سن کر بہ نفس نفیس خود باھر آگئے اور نہایت سکون و وقار کے ساتھ جیپ پر بیٹھ گئے ۔ تمام فدائی، اضطراب و بےقراری کے عالم میں فریاد کر رھے تھے مگر آپ سب کو تلقین صبر فرماتے تھے ۔ چلتے چلتے پولیس والوں نے گاڑی کو ایک ویرانے کی طرف موڑ دیا ۔ انھوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاھا تھا ۔ لیکن آپ پرسکون رھے ۔ تھوڑی دیر بعد جیپ پھر صحیح راستے پر آگئی ۔
اسی طرح جب عراق نے اچانک ایرانی ھوائی اڈے پر بمباری کردی تو ھر طرف ایک ھلچل مچ گئی لیکن آپ نے امداد غیبی پر بھروسہ کرتے ھوئے فرمایا ڈرنے کی بات نہیں ھے یہ سمجھو کہ ایک چور آیا تھا جو چند پتھر پھینک کر چلا گیا ۔ جب عراق کو اندازہ ھوگیا کہ ایران کو ھڑپ کرنا آسان نہیں ھے تو مختلف حیلوں سے جنگ بندی کی کوشش شروع کردی ۔ آپ کو اٹھالے جانے کی کوشش کی گئی، قیام گاہ کو ڈائنامائیٹ سے اڑا دینے کا منصوبہ بنایا گیا، ایران کی تباھی کے لیے امریکہ کے مایہ ناز جنگی جہاز آئے ۔ تمام چھوٹی بڑی طاقتیں متحد ھوگئیں ۔ بائیکاٹ کیا گیا ۔ آپ کے لائق ترین ساتھی شہید کردیے گئے ۔ پوری عمارت بہتر افراد سمیت بم سے اڑا دی گئی، قتل و غارتگری کی دھشت ھر طرف پھیلا دی گئی ۔ آپ کے فرزند مصطفیٰ خمینی شہید کردیے گئے ۔ میزائل سے خطرناک ترین حملے ھوئے ۔ بین الاقوامی قانون کے خلاف خطرناک زھریلی گیس استعمال ھوئیں ۔ اسپتالوں اور مدرسوں پر بم برسائے گئے، جو قانون اور انسانیت کے خلاف تھا ۔ مگر کسی مرحلے میں آپ کے اطمینان نفس میں کمزوری نہ پیدا ھوئی ۔ آپ یہی فرماتے تھے کہ اسلام کے تحفظ اور اس کی بقا کے مقابلے میں ان قربانیوں کی کوئی اھمیت نہیں ھے ۔ ھر مرحلے میں خدا کا لطف و کرم شامل حال رھا ۔ دشمنوں کی ھر کوشش ناکام رھی ۔ شہید آیۃ اللہ سعیدی نے خیال ظاھر کیا کہیں لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ نہ دیں ۔ آپ نے فرمایا اگر تمام جن و انس مل کر ایک طرف ھوجائیں جب بھی میں فیصلے سے پیچھے نہ ھٹوں گا ۔ جب مارشل لا نافذ تھا بہشت زھرا میں تقریر کرتے ھوئے آپ نے اعلانیہ کہا تھا، میں خود حکومت مقرر کروں گا اور اس موجودہ حکومت کا منھ توڑ دوں گا ۔
ظالموں کے ساتھ آپ نے کبھی نرم رویہ اختیار نہ کیا ۔ بطور مثال دیکھئے کہ جب بعثی حکومت نے ایرانیوں کو عراق چھوڑ دینے کے لئے صرف چھ دن کا موقع دیا تو اسی وقت آپ نے بھی عراق کو ترک کردینے کا فیصلہ کرلیا ۔ حکومت نے آپ کو روکنے کی غرض سے سنگ دل علی رضا کی قیادت میں ایک وفد بھیجا ۔ مگر آپ نے ملاقات سے انکار کردیا ۔ لوگ ڈرے یہ وحشی کوئی بدسلوکی یا بدتمیزی نہ کرے ۔ چنانچہ لوگوں نے آپ کی خدمت میں آیۃ اللہ خلخالی کو ملاقات پر راضی کرنے کے لئے بھیجا آپ راضی تو ھوگئے مگر فرمایا اس کی ساری ھیبت و تمکنت کو خاک میں ملا دوں گا تاکہ وہ یہ نہ سوچے کہ جب چاھے گا بغداد سے آکر ملاقات کرسکتا ھے ۔ وفد سے فرمایا تم لوگوں نے ایرانیوں کے ساتھ یہودیوں سے بھی بدتر سلوک کیا ۔ انھیں تو عراق سے جانے کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا گیا لیکن ایرانیوں کو صرف چھ دن کا موقع دیا گیا ۔ اور پھر تم کو دینی طلباء سے کیا سروکار ھے ۔
اگرچہ آپ ھمیشہ ذکر خدا میں مشغول رھتے تھے مگر شاگردوں کے سامنے تسبیح گھمانے سے پرھیز کرتے کیونکہ ریاکاری سے نفرت تھی، شہرت اور مدح سرائی سے بھی گریز تھا ۔ جو کچھ تصویریں ھیں وہ لاعلمی میں لی گئی ھیں ۔ ایک مرتبہ فرمایا بھی تھا کہ میں جب ریڈیو یا ٹیلی ویژن پر بولتا ھوں اور ھر موقع پر سنتا ھوں اور اپنی تصویر پاتا ھوں تو مجھے یہ بات پسند نہیں آتی ھے ۔ اخبارات کو بھی ھدایت کی تھی کہ وہ خواہ مخواہ ھر موقع پر میرا نام یا میری تصویر نہ دیا کریں ۔ ایک نامور خطیب نے آپ کی مدح سرائی شروع کی تو بھرے مجمع میں آپ نے ٹوک دیا اور آئندہ اس سے باز رھنے کی تاکید فرمائی ۔
آیۃ اللہ طالقانی کے قول سے امام خمینی کی عظمت و جلالت کا اندازہ لگائیے وہ کہتے ھیں جب میں قم امام کی ملاقات کے لئے جاتا ھوں تو یہ خیال کیا جاتا ھے کہ میں سیاسی بات چیت کے لئے جاتا ھوں ۔ حالانکہ حقیقت یہ ھے کہ جب میں اپنی طبیعت میں کمزوری محسوس کرتا ھوں تو اس قاطع و مصمم شخصیت کی بارگاہ سے خلوص و ایمان و توکل کا الہام حاصل کرتا ھوں ۔
آخرت کے بلند درجات میدان عمل کی وسعت غرضِ خلقت اس میں سے ھر چیز آپ کی نگاہ میں ھر وقت رھتی تھی ۔ آپ نے اپنے تمام اوقات کو منظم کرلیا تھا بے انتہا مصروفیات کے باوجود نوافل کے پابند تھے ۔ ٹہلتے وقت بھی تسبیح و زیارت میں محو رھتے تھے ۔ نماز پنجگانہ کے بعد ھر ممکن وقت میں تلاوت قرآن مجید سے غافل نہیں ھوتے تھے ۔ نماز شب کی اھمیت اس قدر تھی کہ زندگی کے آخری لمحات تک ترک نہ کیا ۔ اسپتال میں آپریشن سے پہلے اور بعد میں بھی پڑھتے گئے ۔ اس درس عمل کو پوشیدہ کیمرے کے ذریعے محفوظ کر لیا گیا ھے جسے لوگوں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا بھی ھے ۔
عبادت کی حالت میں مومنین کے گریہ زاری کی جو کیفیت قرآن مجید میں ھے وہ آپ میں موجود تھی ۔ آپ کے فرزند صالح بیان کرتے ھیں کہ ایک رات آنکھ کھلی تو گریہ و زاری کی آواز کانوں سے ٹکرائی ۔ دیکھا تو امام خمینی نمازِ شب کی حالت میں ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیے گریہ و زاری کے ساتھ محوِ دعا ھیں ۔
اوقات نماز کی عظمت کے بارے میں حجۃ الاسلام آقائی احمد خمینی بیان کرتے ھیں ۔ جب ھم لوگ ایران سے " نوفل لوشاتو" پہنچے تو تین چار سو نامہ نگار انٹرویو کے لیے جمع ھوگئے ۔ انٹرویو شروع ھوا، کیمرے حرکت میں آئے مگر دو تین سوالوں کے بعد نماز ظہر کا وقت آگیا ۔ آپ اٹھ گئے انٹرویو ادھورا چھوڑ دینے پر لوگوں کو حیرت ھوئی ۔ کسی نے چند منٹ ٹھہر جانے کی درخواست کی مگر آپ ناراض ھوکر چلے گئے ۔
خواھر دباغ رکن پارلیمان کہتی ھیں " میں نے جمعہ کے دن امام سے عرض کیا کہ امریکی ٹیلویژن کے کچھ اھم نامہ نگار انٹرویو چاھتے ھیں، تمام دنیا میں آواز پہنچانے کا یہ بہت اچھا موقع تھا مگر آپ نے فرمایا، یہ نماز جمعہ کا وقت ھے انٹرویو کا وقت نہیں ھے ۔ نماز کے بعد فرمایا اب انٹرویو کے لئے تیار ھوں ۔
آپ کو دوسروں پر تنقید و تبصرہ سے بھی نفرت تھی ۔ آپ کی اجازت نہ تھی کہ آپ کے سامنے یا آپ کے شریعت کدہ پر دوسرے بھی تنقید کریں حجۃ الاسلام توسلی 1963ع سے پہلے کا ایک واقعہ بیان کرتے ھیں کہ کچھ طلباء امام خمینی کے مکان پر علمی بحث و مباحثے کے درمیان بعض علماؤں پر تنقید کرنے لگتے تھے ۔ امام خمینی اپنے فرزند آیۃ اللہ مصطفےٰ خمینی کے ذریعے ان طلباء کے پاس کہلوا دیا کہ میں ان کے فعل پر قطعی راضی نہیں ھوں ۔ مجھے ھرگز پسند نہیں ھے کہ یہاں علماء کی غیبت کی جائے ۔
انکساری، تواضع اور بزرگوں کے احترام میں بھی آپ فرد فرید تھے ۔ آپ کے بڑے بھائی آیۃ اللہ سید مرتضیٰ (آقائی پسندیدہ) نے بتایا کہ امام خمینی نے ھمیشہ میرا احترام کیا ۔ وہ راستہ چلنے میں بھی کبھی مجھ پر سبقت نہ کرتے ۔ وہ ھمیشہ مجھ سے پیچھے رھتے تھے ۔ کچھ اسباب کی بناء پر پوری زندگی صرف دو مرتبہ مجھ سے آگے چلے ھیں امام خود کو رھبر کہنے سے بھی منع کرتے تھے ۔ کہتے تھے ھمارا رھبر بارہ سالہ شہید بچہ فہمیدہ ھے ۔ غازیان اسلام کا ھاتھ چومنے کی تمنا رکھتے تھے ۔ جب کسی شہید کا بچہ آپ کو خط لکھتا تھا تو خود اپنے قلم سے جواب تحریر فرماتے تھے ۔ آپ کی انکساری اس حد تک تھی کہ اپنے کو ایک معمولی طالب علم اور طلبہ کا خدمت گزار کہا کرتے تھے ۔
آپ کی عبادت ریاضت آپ کے لاجواب کارنامے ھمیں پوری پوری روشنی دیتے ھیں کہ آپ نے عرفان الٰہی کے ساتھ ساتھ اھلبیت علیہم السلام کی معرفت محبت کے بیکراں سمندر میں غواصی کر کے ان کی تعلیمات کے انمول جواھر سے اپنی عملی دنیا کو نورانی بنالیا تھا بلکہ دوسروں کو بھی تاحیات مستفید کرتے گئے ۔ عزائے حسین سے تو آپ کا عشق کامل تھا ۔ کیونکہ مقصد شہادت پر آپ کی گہری نظر تھی اور یہ حقیقت آئینہ تھی کہ کربلا کی عظیم ترین قربانیاں نہ ھوتیں تو اسلام تازہ دم نہ ھوتا ۔ انسانیت کا اس کا حق واپس نہ ملتا، کردار کی اتری ھوئی آب دوبارہ نہ پلٹتی ،ضمیر کی بکی ھوئی دولت پھر نہ واپس آتی ۔ حریت کو ظلم و تشدد کی زنجیروں سے آزادی نہ ملتی ۔ اسی لئے عزائے حسین کو سرمایۂ آخرت، حاصل زندگی، آبروئے انسانیت جانتے تھے ۔ مجالس عزا میں شرکت کرنا گریہ و بکا کرنا آپ کا شعار تھا ۔ اپنے بیانات میں عزاداری کی اھمیت، مجالس کی افادیت پر روشنی ڈالتے تھے دوسروں کو ان کے برپا کرنے کی تاکید فرماتے تھے ۔ زیارت جامعہ کبیرہ کی پابندی، مشاھد مقدسہ کی زیارت آپ کے معمولات میں تھی ۔ پھر کیوں نہ ایسی بلند مرتبہ ھستی کے لئے قیادت کی عظمتیں مرجعیت کی صلاحتیں مخصوص ھوتیں اور کیوں نہ انقلاب اسلامی کامیابیوں کے ساتھ اپنے عروج کو پہنچتا ۔
در حقیقت سیرت اھل بیت علیہم السلام وہ اکسیر ھے جو غیر اخلاقی کثافتوں سے پاک و صاف رکھ کر اس کی روحانیت کے سونے کو جاودانی جلا دے کر، کمال حسنِ اخلاق کا زیور پہنا کر انسانیت کی آب و تاب بڑھا کر عبدیت کو انتہائے اوج بخش دیتی ھے ۔ ھم اس پر عمل کو دشوار جانتے ھیں ۔ منبروں سے فقط ایک پارینہ داستان کی طرح سن لیتے ھیں مگر امام خمینی کے بیان کردہ مختصر حالات بتاتے ھیں کہ دور غیبت میں سیرت اھل بیت علیہم السلام کی جیتی جاگتی تصویر تھے ۔ جو کربلا کی بےمثال قربانیوں کا نقش اجاگر کر گئے جس نے اپنی زندگی کے ھر گوشے اور ھر لمحے کو اطاعت خدا سے آباد کرکے حق کے قائم کرنے کی سعی اس حد تک کی کہ اپنے فریضے کی ادائیگی کا یقین ھوگیا ۔ جب خدمت کی منزل تمام ھوگئی تو قضا و قدر الٰہی کے حضور سر بسجدہ ھوکر مطمئن نفس، سرور قلب، شادماں ضمیر کے ساتھ ملکوت اعلیٰ کی طرف سفر کو تیار ھوگئے ۔

سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ

امام خمینی کی عظمت، شجاعت اور حوصلہ مندی کی ایک واضح مثال آپ کا وہ فتویٰ ھے جسے آپ نے سلمان رشدی کی گمراہ کن اور خباثت آموز تصنیف "شیطانی آیات" کے خلاف سلمان رشدی کو قتل کردینے کے لئے اپنی وفات سے چند ماہ قبل 14/ فروری 1989ع کو جاری کرکے تمام یوروپی اور اسلام دشمن ممالک کو لرزہ بر اندام کردیا ۔ آپ کا یہ فتویٰ آج بھی قائم ھے اور موجودہ رھبر اعظم آیۃ اللہ خامنہ ای نے اس فتوے کو اس وقت تک برقرار رکھا ھے جب تک سلمان رشدی اپنے کیفر کردار کو نہ پہنچ جائے ۔ اس طرح تمام اسلام دشمن ممالک کے وہ منصوبے خاک میں مل گئے جو انہوں نے اپنی بدطینتی سے اسلامی روح کو نقصان پہنچانے اور عالم اسلام میں انتشار پیدا کرنے کے لئے بنائے تھے ۔

ملکوت اعلیٰ کی طرف سفر

آپ کو اپنی روشن ضمیری سے تقریباً سال بھر پہلے ھی یہ احساس ھوگیا تھا کہ ھماری حیات مستعار کے آخری ایام قریب آچکے ھیں اسلام کی بقا و استحکام سے محبت انقلاب اسلامی کو عمر جاوداں دینے کی پرخلوص آرزو اور مقدس قیادت کی عظیم ترین الٰہی ذمہ داری کے پیش نظر چند ضروری اقدامات و انتظامات کے ساتھ ساتھ اپنے بعد کے لئے مسئلہ رھبری کی الجھی گھتیوں کو بھی سلجھا دیا ۔ بعض حضرات کو اس میں کچھ تردد تھا ۔ مگر روحانیت بولی اب تاخیر کا وقت نہیں ھے ۔ اب میں اپنے اندر آثار زندگی زیادہ نہیں پاتا ۔ اگر یہ مسئلہ اس وقت حل نہ ھوا تو میں جانتا ھوں میرے بعد کیا ھوگا ۔ مجھ سے وہ بات نہ چاھو جس سے پیش خدا میری زبان نہ کھل سکے ۔
مرض شدید ھوتا گیا، طاقت ساتھ چھوڑتی گئی، قدم منزل جاودانی کی طرف بڑھتے گئے ۔ مخلص شیدائی امید و بیم کی حالت میں اسپتال لے جانے کو تیار ھوگئے ۔ شریک زندگی سے رخصت ھوتے ھوئے فرمایا " خانم اب تمہاری زحمتیں تمام ھوگئیں " آپریشن کامیاب ھوا، رفتہ رفتہ صحت بحال ھونے لگی ۔ فدائیوں کی آرزوؤں کے بجھتے ھوئے دیے پھر ضیا دینے لگے ۔ جاں نثاروں نے مبارک بادی کے ھدیے پیش کیے ۔ مگر الہامی قوت نے کہا : نہیں نہیں، میں سفر آخرت کرنے والا ھوں ۔ یہاں تک کہ وقت آگیا ۔ حالت لمحہ بہ لمحہ خطرناک ھوتی گئی ارباب حل و عقد کے ھوش بجا نہ تھے ۔ ڈاکٹر امیدیں دلاتے جاتے تھے مگر آپ کے فرزند آقائی احمد خمینی نے ٹمٹماتے ھوئے چراغ کی لو دیکھتے ھوئے سابق اسپیکر موجودہ صدر مملکت حجۃ الاسلام ھاشمی رفسنجانی سے قانون اساسی پر نظر ثانی کی تاکید فرمائی ۔ صدر جمہوریہ کے دفتر میں کمیٹی منعقد ھوئی ۔ دو بجے ختم ھوئی ۔ لوگ ساڑھے تین بجے دوسری نشست کے لئے اکٹھا ھو ھی رھے تھے کہ جناب ھاشمی رفسنجانی کو بہت جلد پہنچنے کا پیغام ملا ۔ وھاں آقائی موسوی وزیر اعظم، آیۃ اللہ العظمیٰ حضرت خامنہ ای موجودہ رھبر پہلے سے ھی موجود تھے ۔ شمع حیات کو بجھتے دیکھ کر سبھی سکتے کے عالم میں کھڑے تھے ۔
آہ ! وقت قریب آتا جارھا تھا کہ دلوں پر حکومت کرنے والا تاجدار انقلاب، پیغامبر حریت آئینہ سیرت انبیاء و اوصیاء مرقع قربانی کربلا، موسائے وقت، کلیم عصر، مسیحائے اسلام آفتاب علم و کمال، شبستان سیاست کا نورانی چراغ، نائب سلطان خضر انوار، جان بقیۃ اللہ، بزم امکانی سے محفل جاودانی کی طرف کوچ کر جائے ۔ بند آنکھیں ایک مرتبہ کھلیں، آسمان کی طرف اٹھیں، پھر ھمیشہ کے لئے بند ھوگئیں ۔ اور سب دم بخود تصویر غم بنے دیکھتے رہ گئے ۔
اس خبر بد کو پوشیدہ رکھا گیا کیونکہ اس کے عام ھوتے ھی تمام کام معطل ھوکر رہ جاتے ڈاکٹروں نے بیٹری کے ذریعے دل میں پھر دھڑکن پیدا کردی جس کی وجہ سے سانس کی آمد و رفت پھر جاری ھوگئی جس کی مدت چوبیس سے اٹھائیس گھنٹے تک تھی اس کے فوراً ھی بعد یہ کام کیا گیا کہ مجلس خبرگان نیز دیگر علماء ملک سے بذریعہ ٹیلی فون ھر حال میں صبح تک پہنچ جانے کی تاکید کی گئی تاکہ سب کے مشوروں سے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کرلیے جائیں ۔ کیونکہ دشمن اسی روز بد کے انتظار میں تھے ۔ ان کے عزائم خطرناک تھے جن سے ملک کو محفوظ رکھ کر امام خمینی کی مشقتوں قربانیوں حوصلوں اور تمناؤں کی حفاظت ضروری تھی ۔ ابھی مجلس خبرگان کا پروگرام مرتب نہیں ھو پایا تھا کہ اچانک اسپتال کے اندر اور اس کے اطراف و جوانب سے رونے کا زبردست شور اٹھا ۔ ذمہ داروں نے سمجھ لیا کہ اب چمن کی جان چمن میں نہیں ۔ ستونِ ھدایت منہدم ھوگیا ۔ دیوار اسلام میں رخنہ پڑ گیا ۔ انقلاب اسلامی کا لاثانی ھیرا نہیں رہ گیا ۔ ملت یتیم ھوگئی ھم بے سہارا ھوگئے ۔ علماء ڈاکٹر خدمت گزار دیگر تمام حاضرین سراپا چشم گریاں بن گئے ۔ جناب ھاشمی رفسنجانی دل پر پتھر کی سل دبائے فکر مند تھے کہ اگر تحفظ کا انتظام کیے بغیر یہ خبر بد منظر عام پر لائی گئی تو نہ معلوم کیا ناخوش گوار نتائج سامنے آئیں ۔ آپ نے نہایت صبر و حوصلہ سے کام لیتے ھوئے ارباب حل و عقد اور تمام حاضرین سے خاموش رھنے کی ھدایت کی مگر کامیابی نہ ھوئی ۔ امام کے گھر کی مستورات ایک گوشہ میں بیٹھی نالہ و فریاد میں مصروف تھیں ۔ جناب رفسنجانی نے ان سے حالات کی نزاکت بتاتے ھوئے کہا امام خمینی اس بات کو ھرگز پسند نہ کریں گے کہ ان کی آنکھ بند ھوتے ھی معاشرہ مشکلات میں پھنس جائے ۔ اس وقت صبر و تحمل سے کام لیجئے ۔ انھوں نے خاموش ھوکر اپنی عظمت اور انقلاب اسلامی سے محبت کا ثبوت پیش کیا ۔ جنہیں سب سے زیادہ گریہ و زاری کا حق تھا ۔ وھی سب سے پہلے خاموش ھوگئے ۔ پھر بقیہ تمام افراد بھی چپ ھوگئے ۔ خبر کو مخفی رکھتے ھوئے ریڈیو سے اعلان کردیا گیا کہ بعد ظہر تین بجے دن سے امام خمینی کی بیماری میں پیچیدگی پیدا ھوگئی ۔ ڈاکٹر پھر پوری کوشش میں مصروف ھیں آپ دعا میں مصروف رھیں یہ سنتے ھی تمام افراد ملت، فراطِ الم سے بےقرار ھوگئے ۔ حرم معصومۂ قم، صحن اقدس، علماء طلباء اور ان عقیدت مندوں سے چلکھنے لگا جنہوں نے جوش محبت میں خوشیاں منائی تھیں تین تین روزے رکھے تھے صدقے دیے تھے نذریں اتاری تھیں روٹیاں تقسیم کی تھیں ایک بار پھر سب مل جل کر دعائیں کرنے لگے ۔ اپنی اپنی پیشانیاں سجدے میں جھکا دیں ۔ دست دعا بلند کردئے ۔ دعائے توسل اور مناجاتوں کے الفاظ فضائے لاھوت سے ٹکرانے لگے ۔ مگر سچ بات تو یہ ھے کہ مصلحت خدا جاری ھوچکی تھی ۔ دل کا دھڑکا دینے والا وھم، حقیقت بن چکا تھا ۔ مبارک بادی کے موقع پر امام کا کہا ھوا الہامی جملہ " من می میرم " (میں سفر آخرت کرنے والا ھوں) موید من اللہ ھونے کی تصدیق کرچکا تھا ۔ مگر لوگ اس جانکاہ المیہ سے بےخبر پرخلوص دعاؤں میں محو رہ کر نہایت اضطراب و بےقراری کے عالم میں صحت کی خوش خبری کا انتظار کر رھے تھے کہ نصف شب کے وقت ریڈیو کے ھر اسٹیشن سے تلاوت کی آواز آنے لگی ۔ کچھ دیر بعد سورہ رحمٰن کی تلاوت بھی شروع ھوگئی، پھر بھی کسی کو یہ گمان نہ ھوا کہ ھمارا سر پرست ھم سے جدا ھوچکا ھے ۔ ملت یتیم ھوچکی ھے ۔ انقلاب اسلامی پاکیزہ قیادت سے محروم ھوچکا ھے ۔ خدا کا عاشق رحمت بیکراں سے ھمکنار ھوچکا ھے ۔ بس وہ خبر مسرت سننے کے لئے بے چین تھے لیکن وقت پر کوئی خبر نشر نہ ھوئی ۔ تلاوت کا سلسلہ جاری رھا یہ انتظار تھا کہ مجلس خبرگان کے ارکان آجائیں رھبر کا انتخاب ھوجائے، علماء اپنے اپنے مقامات پر واپس ھوجائیں تو اس وقت اعلان ھو مگر آخر میں فیصلہ یہی ھوا کہ چند گھنٹوں سے زیادہ اس خبر کو عوام سے نہیں چھپانا چاھئے بلکہ صبح کے وقت اعلان ھوجانا چاھئے ۔
دوسرے روز سویرے، گھڑی کی سوئیوں نے سات بجنے کا اعلان کیا، ریڈیو سے نشر ھونے والی خبر برق بےاماں بن کر دلوں کی دھڑکنوں سے ٹکرائی، شب انتظار کے مبہم و موھوم خواب کی تعبیر برعکس، وحشت خیز نظر آئی ۔ امیدوں کے خرمن آتش زدہ ھوگئے ۔ آرزووں کے چمن جھلس اٹھے طائران عقیدت کے آشیانے خاک سیاہ ھوگئے ۔ آہ صبح گاھی کی زلزلہ خیز آندھیاں اٹھیں ۔ مسرتوں کی جگمگاتی قندیلیں بجھیں لوگ پتھر کی مورت بنے، دم بخود ایک دوسرے کا منھ تک رھے تھے ۔ مگر آتش فشاں دل سے اٹھے ھوئے دھوئیں، جو غم کی گھنگھور گھٹائیں بن کر اشکوں کا سمندر لیے ضبط و تحمل کی فضا پر چھائے تھے ۔ چند ھی ساعت بعد سیلاب بلا، طوفان فغاں لے کر فلک شگاف نالوں بلند ھوتی فریادوں کے ساتھ آنکھوں کے آبشار سے ٹوٹ ٹوٹ کر برسنے لگے ۔
اسی دن یکشنبہ کو عصر کے وقت مجلس خبرگان کی میٹنگ منعقد ھوئی رھبری کے اھم مسئلے کے سلسلے میں غور و خوض شروع ھوا ۔ کیونکہ امریکی برطانوی نیز دوسرے نشریہ نے عوام میں پرپگینڈہ شروع کردیا تھا ۔ کہ اب ولایت فقیہ کا ایرانی فلسفہ تمام ھوچکا ھے ۔ یعنی ولایت فقیہ نہیں رھی ۔ اب اس کی جگہ کوئی دوسری چیز آئی ھے ۔ اس طرح انتشار و اختلاف کا بیج بونے کی کوششیں شروع ھوگئی تھیں اس لیے ضروری تھا کہ رھبر کا انتخاب جلد سے جلد منظر عام پر آجائے تاکہ ملک کا اتحاد و اتفاق اور شیرازہ بندی اپنی جگہ پر باقی رھے اور دشمن بھی مات کھا جائے ۔
جامع فضائل و کمالات امام خمینی کی جگہ پر نصب کا مسئلہ تھا اس کا جلد طے ھونا آسان نہ تھا، کیونکہ قانونِ اساسی میں رھبری کے لئے مرجعیت کی شرط تھی ۔ اگر رھبری ذات واحد کو دی جائے تو سوال یہ ھے کہ ایسی عظیم شخصیت کہاں سے پیدا کی جائے جو اس زبردست خلا کر پر کر سکنے کی پوری صلاحیت رکھتی ھو ۔ قابلِ غور بات یہ تھی کہ کیا رھبری کے لئے بالفعل مرجعیت ضروری ھے یا وہ افراد جو مرجعیت کی صلاحیت رکھتے ھیں وہ بھی مرجع ھوسکتی ھیں ۔ مسئلہ اھم تھا ۔ اس سلسلے میں کافی غور کیا گیا آخر میں قید مرجعیت کے لئے خود امام کے نظریے اور پہلی نیابت کے انتخاب کے وقت مجلس خبرگان کے عمل نے نیز بعد کی رھبری کے لئے امام کی خصوصی رھنمائی نے بروقت تعیین رھبر کے سخت مسئلہ کو حل کردیا ۔
جس وقت قائم مقام کا انتخاب ھو رھا تھا تو مجلس خبرگان نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ قید مرجعیت سے وہ ذات مراد ھے جو مرجعیت کی صلاحیت رکھتی ھو ۔ اس کا بالفعل مرجع ھونا ضروری نہیں ھے اس وقت قائم مقام رھبری مرجع نہیں تھے ۔ مگر سبھی نے ان کی مرجعیت کی تائید کی تھی ۔
خود امام بھی اپنے خصوصی مذاکرات میں چند افراد کی موجودگی میں یہ فرما چکے تھے کہ قانون اساسی میں قید مرجعیت کا باقی رھنا مصلحت کے خلاف ھے ۔ جناب ھاشمی رفسنجانی سے آخری گفتگو میں یہ بھی وضاحت فرما دی تھی کہ مرجعیت اور طویل و عریض نظام کی رھبری میں موافقت نہیں ھے ۔ بلکہ یہ دو الگ دنیا ھیں ۔ علاوہ اس کے آیۃ اللہ مشکینی کے ایک خط کے جواب میں تحریر فرمایا تھا، " میں قانونِ اساسی کے اصل کے سلسلے میں اسی نکتے کو عرض کر رھا تھا ۔ لیکن احباب نے مرجعیت کی شرط پر ھی زور دیا تو میں بھی خاموش ھوگیا، لیکن جانتا تھا کہ یہ شرط مستقبل قریب ھی میں قابلِ عمل نہ رھے گی ۔ خداوند متعال سے تمام حضرات کی توفیقات کے لئے دست بہ دعا ھوں ۔ و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔"
یہاں پر یہ بات طے پا گئی کہ رھبری شخص واحد کو ھی ملنی چاھیئے ۔ لیکن مسئلہ باقی رہ گیا کہ وہ کون ایسی شخصیت ھے جو رھبری کے عظیم خلاء کو پر کردے تو اس کے لیے امام خمینی سے متعدد مواقع پر رھبری کے سلسلے میں جو گفتگو ھوئی تھی، ادھر ارباب حل و عقد متوجہ ھوئے ۔ چنانچہ ایک جلسہ میں مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، تینوں طاقتوں کے سر براہ آیۃ اللہ اردبیلی، وزیر اعظم موسوی، جناب ھاشمی رفسنجانی، موجودہ رھبر اعظم اور وھیں پر امام کے فرزند جناب احمد خمینی بھی موجود تھے ۔ بعد میں پیدا ھونے والی دشواریوں پر اظہار تشویش کیا جارھا تھا ۔ اس وقت امام نے فرمایا تھا، "رھبری کا خلاء پیدا نہ ھوگا، کیونکہ تمہارے پاس ایک لائق فرد موجود ھے ۔ جناب ھاشمی رفسنجانی نے دریافت کیا، وہ کون ھے ؟ فرمایا "یہی آقائی خامنہ ای ! " یہ رحلت سے چند ماہ پہلے کی بات تھی ۔ لیکن یہ بات یہاں آیۃ اللہ خامنہ ای کی خواھش کے مطابق عام نہ کی گئی بلکہ ھر ایک نے اپنے سینہ راز میں محفوظ کر لیا ۔ پھر ایک دوسرے موقع پر جناب ھاشمی رفسنجانی نے دوبارہ اسی مسئلے میں گفتگو کی تھی تو اس وقت بھی امام نے صریحی الفاظ میں یہی فرمایا تھا کہ تم لوگوں کو کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی ۔ تمہارے درمیان ایک ایسا موزوں شخص موجود ھے، تم لوگ کیوں نہیں سمجھ رھے ھو، جناب احمد خمینی نے بھی بیان کیا کہ جب آیۃ اللہ خامنہ ای، کوریا کے سفر میں وھاں کے عوام کے سامنے تقریر کر رھے تھے تو امام ٹیلی ویژن پر انھیں دیکھ رھے تھے ۔ عوام کے ساتھ حسن سلوک و دلکش تقریروں اور موثر مذاکرات سے دل چسپی لیتے ھوئے فرمایا تھا : " یہ حقیقت ھے کہ یہ رھبری و قیادت کے لئے مناسب و موزوں ھیں ۔ ایک خط میں انھیں امام نے بھائی کے لفظ سے بھی خطاب کیا تھا ۔ ظاھر ھے کہ یہ بات ایک وزن رکھتی ھے ۔ ان تمام باتوں نے مجموعی طور پر امام کے منشاء کی ترجمانی اور آیۃ اللہ جناب خامنہ ای کی گراں قدر رھبری پر صریحی نص کردی ۔ جس سے یہ امر واضح ھوگیا کہ امام انھیں کو منصب رھبری کے لئے لائق و فائق جانتے ھیں اس لیے برمحل اقدام کرتے ھوئے آیۃ اللہ جناب خامنہ ای کو رھبر منتخب کر لیا گیا ۔

عارفانہ غزل

من بخال لبت اے دوست گرفتار شدم
چشم بیمار تو را دیدم و بیمار شدم
فارغ از خود شدم و کوس انا الحق بزدم
ھمچو منصور خریدار سر دار شدم
غم دلدار فگندہ است بجانم شرری
کہ بجاں آمدم و شہرۂ بازار شدم
در میخانہ کشائید برویم شب و روز
کہ من از مسجد و از مدرسہ بیزار شدم
جامۂ زھد و ریا کندم و برتن کردم
خرقہ پیر خرا باتی و ھشیار شدم
واعظ شہر کہ از پند خود آزارم داد
از دم رند می آلودہ مددگار شدم
بگذارید کہ از بتکدہ یادی بکنم
من کہ با دست بت میکدہ بیدار شدم

اردو منظوم ترجمہ از: ظفر الحسینی

خال لب کا ترے ھمدم میں گرفتار ھوا
چشم بیمار جو دیکھی ترا بیمار ھوا
خود سے بےخود ھوا اور ساز انا الحق
چھیڑا مثل منصور خریدار سر دار ھوا
غم جاناں نے کی دل میں وہ شرر افشانی
اس قدر تڑپا کہ چرچا سر بازار ھوا
روز و شب باز رکھو مجھ پہ در میخانہ
مسجد و مدرسہ دونوں سے میں بیزار ھوا
جامۂ زھد و ریا تن سے اتارا میں نے
کھو کے دنیائے خرابات میں ھشیار ھوا
مجھ پہ دل کھول کے ناصح نے مصائب توڑے
آخرش رند بلا نوش مددگار ھوا
مجھے بتخانے کی کچھ یاد تو کرلینے دو
میں باعجاز تباں خواب سے بیدار ھوا

آپ کی روحانی و معنوی حیثیت معرفت کے جن بلند ترین مراتب پر فائز تھی اس کی ھلکی سی جھلک اس قابل تشریح و تفسیر، آخری عارفانہ غزل میں موجود ھے ۔

تالیفات و تصنیفات

آپ کی علمی و تحقیقی کتابوں میں سے چند کی فہرست پیش کی جارھی ھے جس کے مطالعہ سے آپ کی علمی بلند پروازی، اچھوتے انداز بیان اور افہام و تفہیم کی قوت و قدرت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ھے ۔
1 ۔ مصباح الہدایہ : یہ کتاب ۲۷ سال کی عمر میں لکھی ھے ۔ اس میں عرفانی و عقلی مسائل سے بحث کی گئی ھے ۔
2 ۔ اربعین : اس میں سات حدیثیں عقلی مسائل سے ۳۳ حدیثیں اخلاقیات سے تعلق رکھتی ھیں، یہ کتاب معراج السالکین سے پہلے تحریر کی ھے ۔
3 ۔ اسرار الصلواة یا معراج السالکین : یہ کتاب ۲ 1 ربیع الثانی 1۳۵۸ھجری کو مکمل ھوئی ۔
4 ۔ تحریر الوسیلہ : یہ فقہی کتاب جلا وطنی کے دوران ترکیہ میں تصنیف کی گئی۔
5 ۔ البیع : نجف اشرف میں آپ کے تحقیق دروس کا خزانہ ھے جس کی ۵ جلدیں چھپ چکی ھیں، ولایت فقیہ کی بحث اسی وقت معرض بحث میں آئی تھی جو ولایت فقیہ کے عنوان سے مختلف زبانوں میں طبع ھوچکی ھے ۔
6 ۔ کتاب الطہارة : اس کی تین چلدیں چھپ چکی ھیں ۔
7 ۔ الرسائل : اس کی دو جلدیں شائع ھوچکی ھیں ۔
8 ۔ مختصر فی شرح دعاء المتعلق بالسحر
9 ۔ رسالہ فی الطلب و الارادہ
10 ۔ آداب الصلواة
11 ۔ شرح حدیث رأس الجالوت
12 ۔ شرح حدیث جنود عقل و جہل
13 ۔ کشف اسرار: یہ کتاب حکمی زادہ کی "اسرار ھزار سالہ" کے جواب میں ھے 1364 ھجری میں بمقام تہران چھپی ھے ۔
14 ۔ نیل الاوطار فی بیان قاعدہ لا ضرر و لا ضرار،
15 ۔ حکومت اسلامی یا ولایت فقیہ
16 ۔ جہاد اکبر
17 ۔ تعلیقہ علی شرح فصوص الحکم و مصباح الانس
18 ۔ حاشیہ بر مفاتیح الغیب
19 ۔ تہذیب الاصول
20 ۔ رسالہ فی الاجتہاد و التقلید
21 ۔ تفسیر سورۂ حمد
22 ۔ حاشیہ بر اسفار ۔



1. فرازھائے از ابعاد روحی، اخلاقی و عرفانی امام خمینی ص ۷۲ ۔
2. ویژہ از "زندگی امام خمینی جلد ۵ ص 1۷۸ ۔
3. شرح ابن ابی الحدید جلد ۵ ص ۶ 1 ۔




تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
8+3 =