پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|

جناب حجۃ الاسلام والمسلمین علی اکبر مہدی پور سے گفتگو


محمد علی مهتدی


غیبت کے شبستان میں چراغ انتظار رکھنے والوں کی محفل میں قبلہ علی اکبر مہدی پور تعارف کے محتاج نہیں ہیں، گزرے ہوئے تیس سالوں میں انہوں نے اپنے قلم مبارک سے امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر بہت سے آثار تخلیق کئے ، بہت سی کتابیں لکھیں اور ترجمہ کیا

براے مہربانی قارئین کے لئے اپنے بارے میں کچھ فرمائیے؟

میں ۱۳رجب ۱۳۶۴ہجری کو تبریز میں پیدا ہوا میرے والد اہل علم نہیں تھے لیکن متدین خاندان سے تھے، میں نے سات سال کی عمر میں عصری اور دینی تعلیم کا آغاز کیا، ۱۷ربیع الاول ۱۳۸۱ہجری میں حوزہ علمیہ قم میں حاضر ہوا، مختلف اساتذہ سے فیض یاب ہوا اسی زمانہ میں وہاں دارالتبلیغ قائم ہوا میں نے وہاں داخلہ لیا اور اس کا کورس بھی ختم کیا، پھر ترکی میں ۵ سال رہا وہاں سے واپس قم آکر اپنی تحقیقات میں مشغول ہوا، ساتھ ہی مختلف شہروں میں ماہ رمضان اور ماہ محرم کی مناسبت سے متعدد دفعہ تبلیغی سفر بھی کئے۔

امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے آپ نے کب اور کہاں سے کام شروع کیا؟

اس کام کی تاریخ اس سال سے شروع ہوتی ہے جب آیت اللہ العظمیٰ حکیم نے وفات پائی تو تبریز میں ان کی مجلس ترحیم میں تقریر کرتے ہوئے امام زمانہ (عج) کے حوالے سے بحث شروع کی، تو اس بحث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ ، امام سجاد، امام صادق، اور امام مہدی(عج) سے نقل معروف حدیث بیان کی کہ جس میں آیا ہے کہ حضرت کی زمانہ غیبت میں مثال اس سورج کی مانند ہے جو بادلوں کی اوٹ میں ہے، اس حدیث کی میں نے سٹیج پر خوب وضاحت کی تو اس وقت میرے ذہن میں آیا کہ سورج کا ایک اہم ترین فائدہ نظام جہان کی بقاء ہے ،یعنی اس نظام شمسی میں سورج کا یہ کردار ہے کہ اس کی قوت جاذبہ کا قوت دافعہ سے تعادل یعنی دوسرے شمسی کروں کے مرکز سے دوری کی بنا پر یہ نظام شمسی اسی طرح جدید وضعیت میں محفوظ اور جاری و ساری ہے۔
میں نے بات سٹیج پر کہی بعد میں اس موضوع کو ایک مقالہ کی شکل میں لے آیا چونکہ یہ ایک نئی تشریح تھی اور کسی جگہ پر میں نے نہیں دیکھی تھی ، میں نے اسے آیت اللہ مکارم شیرازی حفظہ اللہ تعالی کو اپنا موضوع دیکھنے کے لئے دیا تو انہوں نے اسے بہت پسند کیا اور فرمایا اسے چھپوائیں اگرچہ مرحوم مجلسی نے بحار الانوار میں اس تشبیہ کی آٹھ وجہیں ذکر فرمائی تھیں اور یہ حقیقت میں ایک نویں وجہ شمار ہوتی تھی، چونکہ کسی اور جگہ ذکر نہ تھی میں نے بھی اس موضوع کو ایک کتابچہ کی شکل میں جہان وجود میں امام زمان(عج) کا کردار کے عنوان سے چھپوایا، تو یہ ایک پہلا قدم تھا جو اس راہ میں تقریبا ۳۲سال پہلے میں نے اٹھایا اس کے بعد تو خیر دروازہ کھل گیا اور ہم بھی امام مہدی (عج) کے موضوع سے زیادہ سے زیادہ مانوس ہوتے گئے اور کام شروع کردیا۔

آپ نے کس طرح اس سلسلہ میں اپنا کام آگے بڑھایا؟

اس واقعہ کے ایک سال بعد مجلہ نجات نسل جوان کی طرف ایک تحریری مقابلہ رکھا گیا، تو میں نے بھی اسی مناسبت سے ایک مقالہ لکھا جس کا عنوان تھا، وہ آئیں گے،اور اس میں واضح کیا مسلمان ، مسیحی، یہودی، ذرتشتی اور کئی مذاہب کا اعتقاد ہے کہ وہ آئیں گےتو مجلہ کی طرف سے اس مقالہ کو پسند کیا گیا اور انہوں نے اسے مجلہ میں چھپوایا بعد میں اسے پچھلے مقالے سے ملا کر اور ساتھ جناب الھادی کے دو مقالوں کو ملا کر ایک کتاب بھی " وہ آئیں گے" کے عنوان سے چھپوائی اور یہ کتاب تقریبا دس بار چھپ چکی ہے۔
اسکے بعد ہمارا پیش نظر کام جزیرہ خضراء تھا،یہ علی بن فاضل کا واقعہ ہے اور یہ ۶۹ہجری کا ہے اور جزیرہ مثلث مودا کے جو حادثات ہیں یہ بیس سال پرانے ہیں، اس زمانہ میں اخبار ، ٹیلی ویژن پر یہ باتیں سامنے آئیں میرے ذہن میں یہ نکتہ آیا کہ شاید ان دونوں میں کوئی رابطہ ہو کچھ تحقیق کی تو معلوم ہوا واقعا ان دونوں واقعات میں رابطہ ہے، پھر ہمارے پاس ایک کتابچہ بھی آیا کہ ایک ناجی النجار نامی شخص نے ان دونوں واقعات کو آپس میں مطابقت دی ہے اس کا میں نے ترجمہ کیا تو وہ تقریبا ۷۰ صفحات مطالب تھے تقریبا تین برابر مطالب اضافہ کیا تو ۲۷۰ صفحات کی شکل میں یہ کتاب شائع ہوئی پوری دنیا میں اس کتاب کا استقبال ہوا ،کچھ عرصہ بعد ہی انگلش زبان میں ترجمہ ہوکر لندن میں شائع ہوئی اور یہ چار دفعہ اردو میں ترجمہ ہو کر شائع ہوئی اور یہ فارسی میں تو تقریبا دس بار شائع ہوئی، اس کے بعد امام زمان(عج) کے حوالے سے معروف کتاب "یوم الخلاص" کے ترجمے کا آغاز کیا اس کو دو جلدوں میں ۱۳۰۰ صفحات سے زائد صفحات پر مشتمل ۱۸۵۰۰ احادیث کے ساتھ جن پر اعراب لگے ہوئے تھے بہت اچھی کیفیت میں کافی کوشش کے بعد شائع کیا ،یہ اب تک تین دفعہ چھپ چکی ہے اور اس کے آخر میں ۱۸قسم کی فہرستیں ذکر کی ہیں ابھی تک کسی فارسی کتاب میں ایسا کام نہ دیکھا گیا تھا ان فہرستوں کی بنا پر یہ کتاب بہت مفید ہوگی اس کتاب میں ۶۰۰ علامات ظہور موجود ہیں چونکہ کتاب میں فہرست موضوعی بھی ہے جو بھی کوئی مطلب لینا چاہے تو ایک یا دو منٹ میں آسانی سے وہ مطلب ڈھونڈ سکتا ہے، لھذا اس کا بھی خوب استقبال ہوا اور یہ اردو زبان میں کراچی میں بھی چھپ چکی ہے اس کے بعد ہم نے امام زمان کی مختلف علوم اور ادیان کی نظر سے طولانی عمر کے موضوع پر کام شروع کیا اور اس پر سیر حاصل بحث کی، طبی طور پر انسان کی عمر محدود نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ اپنی عمر کو ہزار سال تک بڑھائے اور اس چیز کو ہم نے آیات قرآن اور مختلف احادیث سے ثابت کیا اور ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا یہ بھی علامہ سید جارودی کے واسطہ سے لاہور میں اردو زبان میں بھی چھپ چکی ہے اس کا عنوان عمر الامام المھدی رکھا گیا ہے یہ بیروت میں شائع ہوئی۔
اس کے بعد ہم نے چالیس حدیثوں کے موضوع پر کام شروع کیا جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

1) یوسف زھراء (ع)کے عنوان سے چالیس حدیث پر مشتمل کتاب لکھی کہ جس میں چالیس حدیثوں کے ساتھ چالیس کتابوں اور چالیس مصنفین کا تعارف بھی کروایا گیا۔

2) نور یزدان کے عنوان سے ایک کتاب لکھی کہ جس میں امام زمانہ (عج) کے حوالے سے چالیس احادیث اہل سنت کے ان چالیس علماء سے نقل کیں جنہوں نے اپنی کتاب کا کچھ حصہ امام زمان (عج) کے بارے میں خاص کیا ہوا تھا ،اس میں بھی چالیس کتابوں کے ساتھ ساتھ چالیس مصنفین کا تعارف بھی کروایا گیا ۔
یوسف زہراء (ع)کے عنوان سے جو کتاب لکھی گئی تھی اس کی تمہید میں کلمہ چالیس کی حدیثوں سے تشریح کی کہ جن میں کلمہ چالیس ذکر ہوا تھا اور یہ معروف حدیث من حفظ علی امتی اربعین حدیثا کو بھی چالیس حدیثوں سے نقل کیا، اسی تمہید میں دوسری بحث حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیھا کے بارے میں کی کیونکہ ہم نے دیکھا بعض کتابوں میں مومنین کے ذہنوں میں شک و شبہ پیدا کرنے کے لئے دیکھا گیا تھا، کہ لکھا ہے : مگر کیا اس زمانے میں مسلمانوں اور رومیوں میں کوئی جنگ ہوئی تھی؟
ہم نے تین جنگوں کو معتبر ماخذات سے نقل کیا کہ جو ۲۳۱، ۲۴۱، اور ۲۵۱ میں ہوئیں اور واضح کیا کہ کیسے مسلمانوں اور بادشاہت روم کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا، کتنے قیدی تھے کتنے واپس گئے اور سب سے آخر میں کب قیدیوں کا تبادلہ ہوا بالخصوص آخری جنگ کو واضح کیا کہ جو ۲۵۱ میں ہوئی اور یہ تقریبا امام زمان کی ولادت سے چار سال پہلے ہوئی اور یہ تاریخی اعتبار سے آپ کی ولادت کے زیادہ قریب ہے اور روایت میں بھی وضاحت ہوئی ہے کہ امام نقی علیہ السلام کے زمانہ میں یہ جنگ ہوئی تھی۔
اور آپ ۲۵۴ میں شہید ہوئے یعنی آپ کی شہادت سے تین سال قبل جنگ ہوئی اور قیدیوں کی وضیعت بھی ہم نے روشن اور ثابت کی، یہ ایسے نکات اور مطالب ہیں کہ جو اس موضوع اور واقعات کو ہمارے لئے روشن اور ثابت کرتے ہیں اور جب یہ کتاب چھپ گئی تو مرحوم آیت اللہ سید رضا صدر نے دس یا بیس دفعہ ملاقات میں اس کتاب کی ستائش فرمائی کہ آپ نے شبہ کی اساس ختم کردی بہت بنیادی اور اساسی جواب دیا ہے، اس کے بعد اس میں حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیھا کے والد اور ان کے خاندان کے حوالے سے بحث ہوئی کہ جسے ایک جدا کتاب کی صورت میں بھی چھپایا گیا ۔

3) احادیث کتاب غیبت فضل بن شاذان نے ۱۸۰ جلد کتابیں لکھی تھیں ان میں سے تین جلدیں امام زمانہ (عج) کے بارے میں تھیں اور یہ کتابیں دسویں صدی تک لوگوں کے پاس تھیں، پھر قابل افسوس بات یہ ہے کہ ان کا نام و نشان تک نہیں رہا لہذا ہم نے سوچا اس کتاب کو دوبارہ تیار کیا جائے اس سلسلہ میں ان کتابوں کی طرف رجوع کیا کہ جنہیں میں ان سے احادیث نقل ہوئی تھیں ان احادیث کو دوبارہ جمع کیا اور اسی عنوان سے کتاب دوبارہ تیار کی الحمد للہ یہ کام بھی مکمل ہوا ۔
جناب فضل بن شاذان ۲۶۰ ہجری کو انتقال ہوا یعنی امام حسن عسکری علیہ السلام کے شہادت کے سال ان کا انتقال ہوا اور انہوں نے چار اماموں کا زمانہ دیکھا تھا اور امام رضا علیہ السلام ، ا مام تقی علیہ السلام امام نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام سے بغیر کسی واسطہ کے احادیث نقل کیا کرتے تھے، اس حوالے سے ان سے نقل شدہ احادیث کا ذخیرہ ہمارے لئے بہت اہم اور قیمتی ہے اور اس کے بعد ہمارا سب سے اہم کام حضرت امام مہدی علیہ السلام کا کتابخانہ تھا اس کو دو جلدوں کی شکل میں تیار کیا، اس میں امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر اہل سنت شیعہ اور دوسرے اسلامی فرقوں سے لکھی گئی ۲۰۶۶ سے زیادہ کتابوں کا تعارف کروایا گیا کہ ان میں سے سات سو سے زیادہ کتابیں خود ہماری لابئریری میں موجود ہیں، تو وہ کتابیں جو چھپ گئی تھیں اس کی تصویر بھی دی گئی ہے جو خطی نسخہ کی شکل میں ہیں ان کا ویسے تعارف لکھا ہے خطی نسخوں کی صورت میں وہ کتابیں جو بہت اہم تھیں ان میں سے پوری دنیا سے لکھی گئی کتابوں میں سے ۲۰۰خطی نسخوں کو کتاب کی شکل میں ہم نے شائع کیا اس حوالے سے یورپ اور ترکی کا دورہ بھی کیا، سب سے اہم کتابخانہ وہ ترکی کے شہر استنبول کا کتابخانہ سلمانیہ ہے کہ جس میں ۴۰۰۰۰۰خطی نسخے موجود ہیں ہم نے بھی ایک خاص فرصت میں انہیں چیک کیا یہ جو خطی نسخے ہم نے شائع کئے یہ سارا کام بیس سال میں مکمل ہوا اس کے علاوہ اس مدت میں اور کام بھی کئے۔
اس کے بعد ہم نے ایک چھوٹی سے کتاب تیار کی جس کا نام تھا میلاد نور کہ جس میں بیس اہل سنت کے علماء سے نقل کیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت ۱۵شعبان ۲۵۵ہجری کو واقع ہوئی ، بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے حوالے سے یہ محض شیعوں کا خیال ہے، حالانکہ ہمارے پاس سو سے زائد ایسے علماء اہل سنت کی وضاحت موجود ہے کہ جنہوں نے لکھا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام جو کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں، ان میں سے ۲۰ علماء اھل سنت کی کتابوں سے نقل کیا ہے کہ آپ کی ولادت مبارک ۱۵شعبان ۲۵۵ہجری کو واقع ہوئی ہے ان کی کتابوں کی تمام تفصیلات بھی دیں کہ کہاں سے شائع ہوئیں اور انہیں شائع کرنے والے کون سے ادارے تھے اور ۱۲۰ اہل سنت کے دوسرے بزرگ علما سے نقل کیا کہ امام مہدی علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام کے بلاواسطہ فرزند ہیں ۔
ہم نے اس کتاب میں جو اہم کام کیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک تحریف شدہ کتاب کو اصل حالت میں لائے ہیں وہ کتاب فتوحات مکیہ ابن عربی ہے، ابن عربی کا اھل سنت میں ایک خاص مقام ہے اس نے اپنی کتاب میں ایک فصل امام زمانہ (عج) کے ساتھ خاص کی ہے اور بہت جامع اور جاذب مطالب پیش کئے ہیں لیکن اس چھپی ہوئی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام حضرت حسن مجتبی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ہم نے اس بات کو چیک کیا اور اصلی خطی نسخہ کو دیکھا کہ جو ترکیہ میں انقرہ کے نزدیک قونیہ میں مولانا جلال الدین رومی کے مقبرہ کے ساتھ پروفیسر گلپنارسی کی لائبریری میں موجود تھا، اس خطی نسخہ میں یہ لکھا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں اور امام علی الھادی کے فرزند ہیں اور وہ امام تقی الجواد کے امام حسین بن علی علیھما السلام تک شجرہ مبارکہ ذکر تھا، اب چپھی ہوئی جدید کتاب میں یہ ہوا ہے کہ امام حسن عسکری کے لقب اور امام حسین تک تمام ائمہ کے نام مٹا دئے گئے تو یوں لکھا گیا کہ امام مہدی امام حسن بن علی علیہ السلام کے فرزند ہیں، یہ بہت بڑی خیانت ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ قاھرہ (مصر) میں تو یہ رواج ہوگیا ہے کہ بزرگان اور محقیقن علماء کی لکھی ہوئی اصیل اور ماخذ کتابوں میں بعض جملات یا لائنیں حذف کردی جاتی ہیں کہ اصلی نسخوں میں کچھ اور ہوتا ہے جبکہ چپھی ہوئی کتابوں میں کچھ اور۔۔۔
مثلا کتاب مروج الذھب میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے گھر کو آگ لگانے والی لائن مٹا دی گئی اور بعض مطالب تبدیل کئے گئے، لیکن سو سال پرانے خطی نسخے جو کہ قاھرہ میں لکھے گئے ہیں اس میں یہ لائن موجود ہے اور وہ ہمارے پاس بھی ہیں یہی کام فتوحات مکیہ میں ہوا، شاید سب کے لئے اصلی نسخہ دیکھنا ممکن نہ ہو ہم آپ کی ان دو کتابوں تک راہنمائی کرتے ہیں کہ جنہوں اصل فتوحات مکیہ سےیہ عبارت نقل کی ان میں سے ایک کتاب الیواقیت والجواھر ہے کہ جسے عالم اھل سنت عبدالوھاب شعرانی نے لکھا، اس میں فتوحات مکیہ سے مکمل عبارت لکھی ہے کہ ابن عربی نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں یہ لکھا اور یہ بالکل اصلی عبارت لکھی ہے۔اس زمانہ میں چونکہ چھاپنے والی مشینیں نہ تھیں کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں لہذا عبارت بالکل اسی طرح نقل کی گئی کہ جس طرح اصل فتوحات مکیہ میں تھی، جناب شعرانی کے چار سو سال بعد شیخ حسن عدوی حمزاوی نے بھی اپنی کتاب مشارق الانوار میں اسی طرح فتوحات مکیہ سے وہ عبارت بالکل اسی طرح نقل کی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام بن امام حسن عسکری علیہ السلام بن امام علی الھادی علیہ السلام امام حسین بن علی بن ابی طالب ہیں، گویا چار سو سال میں فتوحات مکیہ میں تحریف نہ ہوئی تھی کتاب اصل حالت میں باقی تھی دیکھے کیسے کیسے راہزن ہیں کہ جو حقائق کو بدلنے کے لئے کتابوں سے مطالب حذف کرتے ہیں
اس کے بعد ہم نے استنبول (ترکی) میں ایک کتاب شائع کی کہ جس کا نام حضرت مہدی و رابطۃ العالم الاسلامی ہے، اس میں کینیا کے اس مسلمان کے جواب میں کہ جس نے امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے اھل سنت کی رائے پوچھی تھی تو ادارۃ رابطۃ الاسلامی کی طرف سے بہت ہی خوبصورت جامع اور جاذب انداز سے جواب بہت سے سرکردہ لوگوں کے دستخطوں اور ادارہ کے سربراہ کی مہر کے ساتھ چھپایا گیا، یہ کتاب ایران میں بھی شائع ہوئی ہم نے یہ کتاب اسی طرح کہ جس طرح ان سے لی تھی عربی میں حروف چینی کرنے کے بعد ترکی زبان میں ترجمہ کے ساتھ شائع کی، بہرحال یہ وہ چیزیں تھیں کہ جنہیں ہم نے اب تک شائع کیا دوکتابیں ابھی زیر طباعت ہیں ایک کتاب روز جمعہ کی صبح دعائے ندبہ کے عنوان سے ہے اس میں دعائے ندبہ کے بارے میں وارد کئے گئے تمام شبہات کا جواب دیا گیا ہے، یہ مطالب البتہ مقالات کی شکل میں مجلہ موعود میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں دوسری کتاب امام سے ملاقات نفی یا اثبات کے عنوان سے ہے کہ اس میں امام زمانہ سے زمانہ غیبت میں ملاقات کے امکان پر گفتگو کی گئی ہے۔

آپ کا آیندہ کے حوالے سے کیا پروگرام ہے

آیندہ ہمارے دو اساسی کام ہیں کہ جو پہلے سے شروع ہوچکے ہیں معجم احادیث المھدی (ع) اور معجم الآثار الواردۃ فی المھدی (ع) کے عنوان سے ہم چاہتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں تمام تر احادیث کہ جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ ھدی (ع) سے نقل ہوئی ہیں، ان کو واضح اور روشن کرکے بتایا جائے کہ یہ حدیث پہلی بار کس جگہ نقل ہوئی کن کن لوگوں نے نقل کیا اس کی سند اور اس کے متن کی بھرپور جانچ پڑتال کی جائے بعد میں اعلان ہوا کہ کچھ لوگ معجم الاحادیث الامام المھدی (ع) پر کام کررہے ہیں اور یہ لکھی جارہی ہے ہم نے اپنا کام چھوڑ دیا کہ چونکہ ایک گروہ وسیع وسائل اور سہولیات کے ساتھ یہ کام کررہا تھا لیکن جب یہ کتاب سامنے آئی تو ہم نے دیکھا کہ بہت سے عالی،بہترین مطالب اور نکات سے خالی ہے اور ان سے کہیں زیادہ ہم دو آدمیوں نے احادیث جمع کرلیں تھیں،
لہذا ہم نے دوبارہ یہ کام شروع کردیا یہ کہ ہم نے یہ کام دو عناوین سے شروع کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ اھل تشیع کی احادیث اھل سنت سے مخلوط ہوں، چونکہ شیعہ احادیث مستند تھیں اس کے مرجع و ماوی آئمہ معصومین علیھم السلام تھے جبکہ اھل سنت کی احادیث اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل ہوئی تھیں ہم نے انہیں جدا رکھا تاکہ زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے، معجم احادیث الامام المھدی (ع) جو کہ شیعہ ماخذات سے نقل شدہ احادیث پر مشتمل ہے شاید یہ دس جلدوں کی صورت میں شائع ہو جبکہ دوسری یعنی اھل سنت کے ماخذات سے نقل شدہ احادیث کی معجم ۵جلدوں پر شائع ہوئی، جب ہم نے یہ کام کرلیا تو ہم نے دیکھا کہ جن نسخوں سے یہ احادیث نقل ہوئی ہیں وہ بھی کثرت اور باہمی اختلاف کی بنا پر زیادہ مورد اعتماد نہیں تھے، لہذا ہم نے دوسری بحث خود ان ماخذات پر شروع کردی یعنی مرجع و منبی کتابیں مثلا غیبت نعمانی،شیخ طوسی،کمال الدین،شیخ صدوق وغیرہ کہ جو بہت محکم ماخذات شمار ہوتے ہیں ان پر کام کیا اس میں ہمیں بہت سے خطی نسخوں کا سامنا کرنا پڑا، کوشش کی ہے کہ اس خطی نسخہ سے یہ احادیث نقل ہوں کہ جو ہر لحاظ سے مورد اعتماد ہوں ۔
دوسرا ہمارا کام وہ کتاب ہے کہ جس میں ہم کئی سالوں سے مشغول ہیں وہ یہ کہ جب بھی کسی حدیث میں ہمیں امام کا نام یا کوئی لقب ملتا ہے تو اسے جمع کرلیتے ہیں تقریبا ہمارے پاس امام کے ہزار اسماء اور القاب جمع ہوئے ہیں کہ جو سب مستند ہیں، انشاء اللہ عنقریب ایک کتاب کی شکل میں شائع ہونے والی ہے اس کے علاوہ ہم جس کام میں مشغول ہیں وہ ان کتابوں کو دوبارہ تیار کرنا ہے جو زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ضائع ہوگئیں، مثلا غیبت ابن شاذان یا غیبت ابن عقدہ کہ اس سے نقل شدہ ۱۳۰ احادیث ہمیں ملی ہیں جبکہ اصل کتاب ہمیں نہیں مل رہی وہ ۳۳۳ہجری میں فوت ہوئے اور احادیث مستند اس سے نقل ہوئیں، یا کتاب غیبت علی بن حمزہ بطائنی کہ امام کاظم علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھا اور فرقہ واقفیہ کے سرداروں میں سے تھا اس سے بہت جاذب احادیث کتابوں میں نقل ہوئی ہیں لیکن اس کی اصل کتاب غیبت اب موجود نہیں ہے اگرچہ اس کتاب سے نقل شدہ بہت سی احادیث موجود ہیں کہ جو دوبارہ اس کتاب کی تیاری میں مدد کرسکتی ہیں۔

آپ نے اپنی زحمات اور کوششوں میں امام (عج) سے کیا برکات اور آثار کا مشاھدہ کیا؟

اگر دیکھا جائے تو ہماری زندگی ان کے وجود مقدس کی بنا پر قائم ہے یعنی اس جہان میں ہر جاندار حتی جمادات بھی اپنی بقا میں ان کے مقدس وجود کے وسیلے کا محتاج ہیں، بہرحال یہ ایک طبعی سی بات ہے کہ امام مہدی علیہ السلام جو بھی ان کے حوالے خدمت یا کوشش کرتے ہیں اور کام مخلصانہ اور صادق جذبوں کے ساتھ انجام دیتے ہیں ان پر خصوصی عنایت رکھتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے خود بھی فرمایا: انا غیر مھملین لمراعاتکم ولا ناسین لذکر کم، لہذا ہم نے ہر وقت ان کا لطف محسوس کیا اور الحمد للہ ان کے وجود کے طفیل زندہ ہیں اور انہی کے صدقہ سے زندگی باقی ہے۔

کیا وجہ ہے کہ آپ نے اپنی تمام تر کوششوں کو امام زمانہ (عج) کے موضوع پر ٹہرا لیاہے۔

ہم بعد میں متوجہ ہوئے کہ اس جہان میں امام زمانہ (عج) سے زیادہ کوئی مظلوم نہیں ہے اس کی مثال واضح سی ہے کہ نیپلون بونا پارٹ پر ۱۰۰۰۰۰ کتابیں لکھی جاچکی ہیں یعنی ایسا فرد جو ایک مختصر سے دور میں آیا اور بہت سی انسانی جانوں سے کھیلا اور چلا گیا، یوں ھیرو بنا صرف اپنے ملک کی وسعت کی خاطر کیا کیا گھناؤنے جرم کیے، وہ کسی بھی حوالے سے ماڈل اور نمونہ نہ تھا لیکن پھر بھی اسقدر کتابیں اس کے بارے لکھی گئیں، لیکن امام زمانہ جو کہ حجت خدا ہیں اور ہمارے عقیدہ کے مطابق یہ جہان ان کے وجود کے طفیل ہے وہ ایک ہی حجت الھی باقی ہے اور آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ تک تمام انبیاء کا تنہا جانشین ہے، اس پر حد اقل نیپلون بونا پارٹ جتنی توجہ بھی نہ دی گئی ہم ان پر چھپی ہوئی اور غیر شائع شدہ تمام کتابوں کو جمع کیا تو وہ تین ھزار سے نہ بڑھیں بعض سمجتھے ہیں سب کچھ لکھا جاچکا ہے، حالانکہ اگر تحقیق کی جائے تو دیکھا جائے گا ابھی تو بہت سے موضوع تشنہ ہیں بہت سے سوال ہیں کہ جن کا جواب نہیں ملا اور یہ موجودہ کتابیں جواب دہ نہیں ہیں، ہم نے سوچا کوئی کام تو کرنا ہے کیوں نہ اپنے ولی کے لئے کام کریں جس کے سائے تلے ہیں اور اس کے طفیل زندہ ہیں، ہمارا ایک سید دوست جو پچھلے ہفتے ایک شہر سے ہمارے پاس آئے ایک بات کہی جو بہت توجہ کی حامل ہے، میں نے ۲۰سال پہلے خواب دیکھا (اگرچہ خواب حجت نہیں ہے لیکن رہنما ہوسکتا ہے کبھی زندگی میں نور داخل کردیتا ہے) کہ ایک دلیل پر حضرت حمزہ حضرت سید الشہداء اور مالک اشتر موجود ہیں اور خطیب حضرات کو نمبر دے رہے ہیں ان سے اوپر ایک دہلیز پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام موجود ہیں، چونکہ اس وقت جوان تھا خوب مطالعہ کرتا تھا بہت مفید تقریریں کرتا تھا لہذا مطمئن تھا کہ حد اقل ۹۰ نمبر ضرور ملیں گے جب نزدیک گیا تو حضرت حمزہ نے ۶۰ نمبر دئیے، تو حضرت حمزہ سے کچھ عرض نہ کیا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں شکایت کی مجھے ۶۰ نمبر ملے ہیں تو فرمایا جاؤ ان سے پوچھو واپس آیا جناب حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں عرض کیا چچا جان مجھے کیوں کم نمبر دئیے ہیں ؟ تو فرمایا اگرچہ ھر حوالے سے اچھی تقریر کرتے ہو لیکن ایک اہم چیز کم ہے وہ یہ ہے کہ تو نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں بہت کم بات کرتے ہو، اس کے بعد تو میں نے عہد کرلیا کہ تقریر کا تیسرا حصہ ان کی ذات سے خاص کردوں گا اور ان بیس سالوں میں اسی طرح کیا لہذا اہم اصلی نکتہ سے غفلت نہیں کرنی چاہئے جیسا کہ اتنی روایات میں ہمیں حکم ہوا ہے کہ ایاک ان تنصب دون الحجۃ، بہرحال تقریر کا وہ جملہ ہمارے لئے راہ گشا ثابت ہوا اسی فضل الہی میں کھنچے چلے گئے اور جتنا آگے قدم بڑھایا حضرت کی عنایات ہمارے شامل حال ہوئیں کہ ہم نے مزید سے مزید کوشش کی ۔

www.urdu.imammahdi-s.com



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
6+3 =