پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|

کربلا کے حادثے کی معنوی تحریفیں


آیت اللہ شہید مرتضی مطہری


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
فَبِمَا نَقضِھِم مِیثَاقَھُم لعنّٰھم وَ جَعَلنَا قُلُوبَھُم قٰسِیَۃ ًیُحَرِّفُونَ الکَلِمَ عَن مَوَاضِعِہ وَ نَسُوا حَظّاً مِمَّا ذُکِّرُوا بِہِ (سورہٴ مائدہ آیت۱۳)

پس ہم نے ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ان پرلعنت کی اور ان کے دلوں کو (گویا) ہم نے خود سخت بنا دیا کہ(ہمارے) کلمات کو ان کے اصلی معنوں سے بدل کردوسرے معانی میں استعمال کرتے ہیں اور جن جنباتوں کی انہیں نصیحت کی گئی تھی ان میں سے ایک بڑا حصّہ بھلا بیٹھے ۔
ہم کہہ چکے ہیں کہ کربلا کی جو با عظمت تاریخ ہمیں ملی ہے اس مین لفظی تحریف بھی ہوئی ہے اور معنوی بھی۔ تحریف لفظی سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اس تاریخ کے جسم کو اپنی طرف سے ایسا لباس پہنا دیا ہے کہ اس کا عظیم اور روشن چہرہ دھندلا گیا ہے۔ اور اس کا حسن ماند پڑ گیا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے کچھ مثالین بھی عرض کر دی ہیں۔

معنوی تحریف

بدقسمتی سے ہم نے اس تاریخی حادثے میں معنوی تحریف بھی کی ہے۔ اور معنوی تحریف لفظی تحریف سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ اس بڑے حادثے کی جو تاثیر جاتی رہی ہے اس کا سبب تحریفات لفظی نہیں تحریفات معنوی ہیں یعنی تحریفات لفظی سے تحریفات معنوی کے برے اثرات زیادہ رہے ہیں۔
تحریف معنوی کیا ہے؟ کسی ایک جملے میں تو ہم کوئی لفظ نہ گھٹائین نہ بڑھائیں۔ لیکن جب ہم اس کے معنی مطلب بیان کریں کہ جملے کے حقیقی اور اصلی معنی کے بالکل خلاف یعنی الٹے معنی ہو جائیں۔ اس بات کی وضاحت کے لئے میں ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں۔
جس زمانے میں مدینہ کی مسجد بنائی جا رہی تھی عمار یاسر غیر معمولی طور پر خلوص سے محنت کیا کرتے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے (یہ بیانات مسلّم ہیں) کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: یا عمّار! تقتلک الفئۃ الباغیۃ (سیرہ حلبی جلد۲ صفحہ ۷۷ ) (اے عمار! تمہیں باغی اور سرکش جماعت قتل کریگی) اس کا اشارہ اس قرؤنی ؤیت کی طرف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مسلمان کے دو دھڑے ایک دوسرے سے لڑین اور ان میں سے ایک سرکشی پر آمادہ ہو تو تمہیں چاہئیے کہ تم دوسرے دھڑے کی مدد کے لئے سرکش اور باغی دھڑے کو دباؤ اور اس کی اصلاح کرو۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس جملے سے جو آپ نے عمار یاسر کے بارے مین فرمایا تھا ان کی منزلت برح گئی تھی۔ اسی لئے جنگ صفین میں جو عمار یاسر حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے لشکر میں موجود تھے تو اس لشکر کو بھی بزرگ اور حق پر سمجھا جانے لگا تھا لیکن جن کے ایمان کمزور تھے ان کو جب تک عمّار قتل نہیں ہو گئے یہ اطمینان نہیں ہو پایا تھا کہ وہ علی علیہ السلام کے لشکر میں جو کام کر رہے ہیں وہ حقق ہے یعنی معاویہ اور اس کے سپاہیوں کا قتل کر دینا جائز ہے۔ جس دن عمّار معاویہ کے آدمیوں کے ہاتھوں علی علیہ السلام کی لشکر میں قتل ہو گئے تو چاروں طرف شور مچ گیا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث پوری ہوئی۔ اس بات کا بہترین ثبوت کہ معاویہ اور اس کے ساتھی باطل پر ہیں یہ ہے کہ یہ عمّار کے قاتل ہیں اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے ہی خبر دے چکے تھے۔کہ: یا عمّار! تقتلک الفئۃ الباغیۃ (سیرہ حلبی جلد۲ صفحہ ۷۷، و مسند احمد بن حنبل جلد۲ صفحہ ۱۹۹) اے عمّار تمہیں ایک باغی گروہ قتل کریگا اور اس کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے: "وان طآئفتین من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما فان (م) بغت احدھما علی الاخری فقاتلوا الّتی تبغی حتّی تفیٓء الی امر اللہ" (سورہ حجرات آیت ۹)
آج یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر اور صاف ہو گئی کہ معاویہ کا لشکر باغی یعنی سرکش، ظالم اور ستمگر ہے اور حق علی علیہ السلام کے لشکر کے ساتھ ہے اس لئے قرآنی الفاظ کے مطابق علی علیہ السلام کے لشکر کے ساتھ مل کر معاویہ کے لشکر سے لڑنا چاہئیے۔ اس بات نے معاویہ کی فوج میں ہلچل ڈال دی۔ معاویہ نے جو ہمیشہ ہر حیلے بہانے اور چالاکی اور مکاری سے اپنا کام نکالنے کا عادی تھا اس موقع پر ایک معنوی تحریف کر ڈالی۔ کیونکہ وہ یہ تو کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمار یاسر کے بارے میں ایسی بات نہیں کہی ہے اس لیے کہ وہاں کم سے کم تقریباً پانچ سو آدمی ایسے موجود تھے جو یہ گواہی دے رے تھے کہ ہم نے پیغمبر سے یہ جملہ سنا ہے یا ہم نے ایسے شخص سے سنا ہے جس نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ۔عمار کے بارے میں یہ جملہ ناقابل انکار تھا ۔شامیوں نے معاویہ پر اعتراض کیا کہ عمار کو ہم نے مارا ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "تقتلک الفئتہ الباغیتہ " اس نے ان لوگوں کو جواب دیا کہ تم غلط سمجھ رہے ہو۔ یہ صحیح ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ عمار کو ایک باغی گروہ، ایک سرکش دستہ قتل کریگا۔ لیکن عمار کو علی علیہ السلام نے نہیں مارا۔ شامی بولے کہ ہمارے فوجیوں نے مارا ہے۔ اس نے کہا نہیں۔ عمّار کو تو علی علیہ السلام نے قتل کیا ہے جو انہیں یہاں لائے اور ان کے قتل ہونے کے اسباب پیدا کئے۔
عمرو عاص کے دو بیٹے تھے ایک تو اسی کی طرح دنیا دار اور دنیا پرست تھا اور دوسرا اس کے مقابلے میں مومن اور ایمان دار جوان تھا اور باپ سے متفق نہیں تھا۔ اس کا نام عبد اللہ تھا۔ ایک صحبت میں جہاں عبد اللہ بھی موجود تھا لوگوں نے یہی معنوی مغالطہ پیش کیا۔ عبد اللہ نے کہا کیا بکتے ہو۔ کیسی غلط سلط باتیں کرتے ہو؟ چونکہ عمّار علی علیہ السلام کے لشکر میں تھے اس لئے علی علیہ السلام نے انہیں قتل کیا؟ وہ بولے ہاں اس نے کہا تو پھر اس مطنق سے سید الشہداء حمزہ کو بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہید کیا کیونکہ حمزہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر میں تھے اور قتل ہوئے؟ معاویہ سخت ناراض ہو کر عمرو عاص سے کہنے لگا اپنے اس بے ادب لڑکے کو کیوں نہیں روکتے؟ اسے کہتے ہیں معنوی تحریف۔
جب ہم واقعات اور حادثات مین معنوی تحریف کرتے ہیں تو کس طرح کرتے ہیں؟
ایک طرف واقعات وحادثات کے اسباب وعلل ہوتے ہیں اور دوسری طرف اہداف ومقاصد۔ چنانچہ کسی تاریخی حادثے کی معنوی تحریف یوں ہوتی ہے کہ یا تو ہم جیسے اس کے اسباب و علل ہیں اس سے مختلف بیان کریں۔ یا اس سے جو ہدف و مقصد پورا ہوا ہے اس کی دوسرے رنگ میں تشریح اور تفسیر کریں۔
مثال کے طور پر ایک شخص مکّہ سے آیا ہے اور آپ اس کے گھر جاتے ہیں۔ آپ کا خیال یہ ہے کہ حاجی سے ملاقات کرنا مستحب ہے اس لئے آپ اس کے پاس جاتے ہیں۔ اب ایک شخص دوسرے ستے کہتا ہے ارے جانتے ہو، فلاں شخص فلاں شخص کے یہاں کیوں گیا تھا؟ دوسرا پوچھتا ہے کیوں گیا تھا؟ وہ کہتا ہے وہ شخص اس کے یہاں اس کی لڑکی کے لئے اپنے لڑکے کا پیام دینے گیا تھا۔ حجّ کی بات کا تو اس نے بہانہ بنایا تھا۔ لوگ اصل مقصد کو اس طرح بدل ڈالتے ہیں۔ اسے معنوی تحریف کہتے ہیں۔
عاشور کے تاریخی حادثے کے بھی ایک طرف تو وجوہ اور اسباب ہیں اور دوسری طرف بلند اہداف و مقاصد۔ مسلمانوں اور حسین ابن علی علیہ السلام کے شیعوں نے بھی اس حادثے میں اسی طرح تحریف کر ڈالی ہے جس طرح معاویہ ابن ابو سفیان نے عمّار کے بارے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جملے (تقتلک الفئۃ الباغیۃ) کی تحریف کی تھی۔ حسین ابن علی علیہ السلام کا اپنی تحریک کے متعلق ایک خیال تھا ہم نے اس کے لئے ایک اور ہی بات تراش لی۔ حسین علیہ السلام کا ایک خاص مقصد اور منشا تھا ہم نے دوسرا ہی مقصد اور منشا گھڑ ڈالا۔
حسین علیہ السلام نے ایک غیر معمولی طور پر عظیم اور پاک تحریک شروع کی تھی۔ کسی تحریک کے تقدس کی تمام شرائط حسین علیہ السلام کی اس تحریک میں موجود ہیں جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی۔ وہ شرطیں کون کون سی ہیں؟ اس پاک تحریک کی پہلے شرط یہ ہے کہ اس کا مقصود ایک انسان اور ایک فرد نہ ہو بلکہ پوری کی پوری نوع انسانی ہو۔ کسی وقت کوئی شخص صرف اپنی ذات کی خاطر کوئی تحریک چلاتا ہے اور کسی وقت کوئی شخص اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ سماج کی خاطر، انسانیت کی خاطر، حقیقت کی خاطر، حق کی خاطر، توحید کی خاطر، عدالت کی خاطر، مساوات کی خاطر تحریک چلاتا ہے۔ حقیقت میں جس وقت وہ اجتماعی تحریک چلاتا ہے اس وقت وہ ایک فرد کی حیثیت نہیں بلکہ جماعت کی حیثیت رکھتا ہے وہ تمام انسانوں کے ساتھ ان کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اسی لئے جن لوگوں کی کوششیں، تدبیریں، اعمال وافعال اور تحریکیں اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ بشریت کے لئے، انسانیت وشرافت کے لئے، حق عدالت اور مساوات کے لئے، توحید، خدا شناسی اور ایمان کی خاطر ہوتی ہین انہیں تمام انسان پسند کرتے اور دوست رکھتے ہیں۔ جس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: " حسین منّی وان من الحسین" (ارشاد شیخ مفید صفحہ۲۴۹، اعلام الوری صفحہ۲۱۶، مناقب ابن شہر آشوب جلد۴ صفحہ۷۱، حلیۃ الابرار جلد۱ صفحہ ۵۶۰، کشف الغمہ جلد۲ صفحہ۱۰و۶۱، ملحقات احقاق الحق جلد۱۱ صفھہ۲۵۶ تا ۲۷۹) ہم بھی کہتے ہیں۔ حسین منّا وان من الحسن۔ ہم یہ کیوں کہتے ہیں؟ اس لئے کہتے ہیں کہ حسین علیہ السلام نے ہم سے ۱۳۲۸ سال (یہ تقریر ۱۳۸۹ قمری مطابق فروردین ۱۳۴۸ مین کی گئی تھی) پہلے ہماری خاطر بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کی خاطر قیام کیا۔ ان کا قیام مقدس تھا، پاک تھا اور ذاتی مقاصد سے ماوراء تھا۔
قیام کے مقدس ہونے کے لئے دوسری شرط یہ ہے کہ اس میں اعلی درجے کہ فہم و بصیرت شامل ہو۔ اس سے کیا مراد ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جس وقت انسانوں کا پورے کا پورا معاشرہ غافل ہوتا ہے، بے خبر ہوتا ہے، نہیں سمجھ پاتا، جاہل محض ہوتا ہے اس وقت ایک سوجھ بوجھ والا، عقل اور سمجھ رکھنے والا انسان پیدا ہوتا ہے جو ان لوگوں کا دکھ ان سے سو گنا بہتر سمجھتا ہے۔ ان لوگوں کا علاج خود ان لوگون سے بہتر جانتا ہے۔ اس وقت جبکہ دوسرے کچھ نہیں سمجھتے اور ظاہر میں بھی کچھ نہیں دیکھ پاتے ایک ایسا با ہوش اور سمجھ دار انسان پیدا ہوتا ہے اور تحریک شروع کر دیتا ہے جو بقول شخصے کچّی اینٹ مین وہ باتیں دیکھ لیتا ہے جسے عام لوگ آئینے میں بھی نہین دیکھ پاتے۔ بیس سال، تیس سال، پچاس سال گزر جاتے ہیں قوم جاگ اٹھتی ہے کہ فلاں شخص جو اٹھا تھا، جس نے کوشش کی تھی، تحریک چلائی تھی کیسے کیسے پاک مقاصد پیش نظر رکھتے تھے لیکن ہمارے باپ دادا بیس سال، تیس سال، چالیس سال، پچاس سال پہلے اس کی قدر وقیمت کا اندازہ نہیں کر سکے تھے۔
مثلاً جمال الدین اسد آبادی مرحوم تقریباً ساٹھ ستر سال پہلے (متوفی ۱۳۱۰ قمری) اٹھے تھے اور انھوں نے اسلامی ممالک میں ایک اسلامی تحریک شروع کی تھی۔ آج آپ ان کے حالات پڑھیں تو ؤپ کو معلوم ہوگا کہ یہ شخص نہایت غریب اور اکیلا تھا۔ مسلمان قوم کی بیماری اور اس کی دوا جانتا تھا لیکن خود قوم نہیں سمجھتی تھی۔ خود اس کی قوم ہی اس پر منہ بناتی تھی، اس کا مذاق اڑاتی تھی، اس کی حمایت نہیں کرتی تھی۔ اب جو ساٹھ ستر سال گزر چکے ہیں تو تاریخ کے زاویے واضح ہو گئےہیں اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس مرد بزرگ نے اس وقت ایسی ایسی باتیں سمجھ لی تھیں جو بنیادی طور پر ننانوے فیصدی ایرانی قوم نہیں سمجھ پائی تھی۔
کم سے کم وہ دو خطوط ضرور دیکھ لیجئیے جو اس بزرگ نے لکھے ہیں۔ ایک خط جو مرحوم آیت اللہ میرزا شیرازی اعلی اللہ مقامہ کو لکھا ہے اور دوسرا جو تمام علمائے ایران کو ہم مقصدیت کے عنوان سے لکھا ہے۔ یا وہ خطوط پڑھ لیجئیے جو اس بزرگ نے مشہد میں مرحوم حاجی شیخ محمد نقی بجنوردی کو اصفہان میں فلاں بزرگ عالم کو اور شیراز مین فلاں بزرگ عالم کو بھیجے ہیں تاکہ ؤپ کو معلوم ہو جائے کہ اس شخص نے کتنی اچھی طرح سمجھا ہے، کتنی اچھی طرح جان لیا ہے، کتنی اچھی طرح استعمار (سامراء) کو پہثانا اور اس قوم کو جھنجھوڑا ہے (اس بکواس کو نظر انداز کر دیجئیے جو سامراجی اجینٹ آج بھی کر رہے ہیں۔ اب ان باتوں مین کوئی وزن نہیں رہا) یہ تحریک مقدس ہوتی ہے کیونکہ یہ آدمی ایسے زمانے میں پیدا ہوتا ہے جب وہ ظاہری باتوں کے پیچھے ایسے ایسے حقائق دیکھ لیتا ہے جنہیں اس کے معاصرین نہ دیکھ پاتے اور نہ سمج پاتے ہیں۔
حسینی تحریک ایسی ہی تحریک ہے۔ آج ہم ٹھیک ٹھیک سمجھ رہے ہیں کہ یزید کیا ہے؟ ھکومت یزید کیا ہے؟ معاویہ نے کیا کیا؟ امویوں کی سکیم کیا تھی؟ لیکن اس زمانے کی مسلم قوم کے ننانوے فیصدی آدمی نہیں سمجھتے تھے خصوصاً اطلاعات کے وسائل نہ ہونے کے سبب جو آج ہیں مگر کل نہیں تھے۔ مدینہ کے لوگ نہیں سمجھ پاتے تھے۔ جس دن حسین ابن علی علیہ السلام شہید کئے گئے اس دن سمجھے کہ یزید کون شخص ہے اور یزید کی خلافت کیا چیز ہے؟ انہیں بعد میں جھٹکا لگا کہ حسین ابن علی علیہ السلام کیوں مارے گئے؟ مدینہ کے بڑے بڑے لوگون کی ایک جماعت عبد اللہ ابن حنظلہ غسیل الملائکہنامی شخص کی سر کردگی میں شام بھیجی گئی۔ جب وہ مدینہ سے شام تک کا فاصلہ طے کر چکے، دربار یزید میں پہنچ گئے اور وہاں کافی عرصے تک رہے تب جاکر سمجھے کہ صورت حال کیا ہے؟ جب وہ مدینہ واپس آئے تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ کیا دیکھ آئے؟ انہوں نے کہا ہم تم سے بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ جب تک ہم شام میں رہے یہی کہتے رہے کہ خدا نہ کرے ہمارے سروں پر آسمان سے پتھر برسمنے لگیں۔ لوگوں نے پوچھا: کیا بات تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ہم ایک ایسے خلیفہ کے سامنے پہنچے جو کھلم کھلا شراب پیتا تھا، جوا کھیلتا تھا، کتے، چیتے اور بندر پالتا تھا یہاں تک کہ نامحرم عورتوں سے زنا بھی کرتا تھا۔
عبد اللہ بن حنظہ غسیل الملائکہ کے آٹھ بیٹے تھے۔ انہوں نے اہل مدینہ سے کہہ دیا کہ چاہے تم قیام کرو یا نہ کرو میں تو قیام کرتا ہوں چاہے اپنے آؤٹھ بیٹوں سمیت قتل ہی کیوں نہ ہو جاؤں چنانچہ اس نے قیام حرہ (مروج الذہب جلد۳ صفحہ۲۹) میں یزید کے خلاف اپنے آٹھوں بیٹے اپنے آپ سے پہلے بھیج دئیے اور وہ شہید ہو گئے اور وہ بعد میں وہ بہادر بھی شہید ہو گیا۔
اس سے دو تین سال پہلے جب امام حسین علیہ السلام مدینہ سے نکلے ہیں اور انہوں نے نکلتے وقت فرمایا ہے: وعلی الاسلام السلام اذ قد بلیت الامۃ براع مثل یزید" (اللہوف صفحہ۱1، فی رحاب ائمۃ اہل بیتے جلد۳ صفحہ۶۹)
اگر یزید کو اسلامی خلافت ملی تو میں اسے اسلام کی ذلت سمجھوں گا۔ اگر ایسا ہوا تو اسلام پر کیا بیتے گی۔ عبد اللہ ابن حنظلہ غسیل الملائکہ کہاں تھا؟ اس دن واقف نہیں تھا۔ حسین علیہ السلام کو قتل ہونا تھا تاکہ اسلامی دنیا ہل جائے پھر عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ اور اس جیسے دوسرے سینکڑوں افراد کی مدینہ میں، کوفہ میں اور دوسرے مقامات پر آنکھیں کھل جائیں اور وہ کہہ اٹھیں کہ حسین علیہ السلام کو یہ بات کہنے کا حق پہنچتا تھا۔
تحریک کے مقدس ہونے کے تیسری شرط یہ ہے کہ تن تنہا ہو، یگانہ ہو یعنی ایک بجلی ہو جو گھپ اندھیرے میں چمک اٹھے۔ خاموشیوں مین ایک آواز ہو، مکمل جمود میں ایک حرکت ہو یعنی ایسے حالات میں جب جھٹن کا مکمل راج ہو۔ لوگوں کو گلے سے آواز نکالنے کی ہمت نہ ہو، بالکل ایدھیرا، قطعی مایوسی، مطلق ناامیدی اور گہرا سناٹا ہو اچانک ایک شخص اٹھ کھڑا ہو اور خاموشی توڑ دے، جمود کو ختم کر دے تحرک پیدا کر دے، بجلی بن جائے اور اندھیرے میں چمک اٹھے۔ دوسرے اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگتے ہیں۔ کیا حسینی تحریک ایسی ہی تھی یا نہیں تھی؟ بے شک ایسی ہی تھی۔
امام حسین علیہ السلام نے ایسی ہی تحریک شروع کی۔ ان کی اس تحریک کا کیا مقصد تھا؟ ائمہ اطہار علیھم السلام کا اس بات پر اصرار کیوں تھا کہ حسین علیہ السلام کا سوگ جاری رہے؟ امام حسین علیہ السلام نے تحریک کیوں شروع کی؟ ہمیں کیا ضرورت ہے جو ہم اپنی طرف سے اس کی وجہ بین کریں؟ حسین ابن علی علیہ السلام نے خود اس کی وجہ بیان کی ہے: "انّی لم اخرج اشراً ولا بطراً ولا مفسداً ولا ظالماً انّما خرجت لطلب الاصلاح فہ امّۃ جدّی (مقتل الحسین صفحہ۱۵۶، مقتل العواصم صفحہ۵۴، مناقب ابن شہر آشوب جلد۴ صفحہ۸۹، مقتل الحسین خوارزمی جلد۱ صفحہ ۱۸۸، لمعۃ من بلاغۃ الحسین صفحہ۶۴، نفس المہموم صفحہ ۴۵)
وہ نہایت صاف الفاظ مین فرماتے ہیں ۔ ہماری دنیا بگڑ چکی ہے۔ میرے جد کی قوم خراب ہو چکی ہے۔ میں نے اصلاح کے لئے قیام کیا ہے۔ میں اصلاح طلب انسان ہوں۔ " ارید ان امر بالمعروف وانھی عن المنکر واسیر بسیرۃ جدی وابی" مقتل الحسین صفحہ ۱۵۶ میرا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنی تحریک کا مقصد واضح کر دیا ہے۔ "الا ترون انّ الحق لا یعمل بہ وانّ الباطل لا یتناھی عنہ لیرغب المؤمن فی لقاء اللہ محقاً" (بحار الانوار جلد۴۴ صفحہ۳۸۱، تحف العقول صفحہ۱۷۶، اللہوف صفحہ۳۳، مقتل الحسین خوارزمی جلد۲ صفحہ۵ ) امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے امر بالمعروف کے لئے تحریک اٹھائی ہے تاکہ دین کو زندہ کروں اور خرابیوں سے لڑوں۔ میری تحریک ایک اسلامی تحریک ہے۔ ہم نے ایک اور ہی بات کہی۔ ہم نے عجیب وغریب اور ماہرانہ قسم کی دو معنوی تحریفیں کر ڈالیں۔ (میں نہیں جانتا کہ انہیں ماہرانہ کہوں یا جاہلانہ) ۔ ہم نے ایک طرف یہ کہا کہ حسین ابن علی علیہ السلام نے اس لئے قیام کیا کہ مارے جائیں تاکہ قوم کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔ اب اگر پوچھا جائے کہ یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی؟ کیا خود امام علیہ السلام نے ایسا کہا ہے؟ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ہے؟ ہم کہتے ہیں ان باتوں سے کیا سروکار ہے؟ امام حسین علیہ السلام اس لئے قتل ہوئے کہ ہمارے گناہ بخشے جائیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ہم نے یہ بات عیسائیوں کے یہاں سے لی ہے یا نہیں؟ مسلمان قوم نہیں سمجھتی کہ اس نے خلاف اسلام بہت سی باتیں عیسائیوں کے یہاں سے لے لی ہیں۔
عیسائیوں کے عقائد کا ایک اصول حضرت عیسی علیہ السلام کا سولی پانا ہے تاکہ توڑ بن جائے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا لقب انقادی (توڑ) ہے۔ عیسائیت کی رو سے یہ عیسائی عقیدے کا ایک جزو ہے کہ عیسی علیہ السلام نے اس لئے سولی پائی کہ وہ قوم کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں۔ یعنی عیسائی اپنے گناہ حضرت عیسی علیہ السلام کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ ہم نے مطلق یہ نہیں سوچا کہ یہ بات تو عیسائی دنیا کی ہے۔ اسلام کی روح سے مطابقت نہیں رکھتی، حضرت امام حسین علیہ السلام کی بات سے میل نہیں کھاتی۔ خدا کی قسم یہ حضرت امام حسین علیہ السلام پر تہمت اور بہتان ہے۔ واللہ اگر کوئی رمضان کے مہینے میں روزہ دار ہو اور حسین ابن علی علیہ السلام سے یہ بات منسوب کرے اور کہے کہ حسین علیہ السلام ایسے ہی کام کے لئے تھے اور (یہ بات) ان سے نقل کرے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے۔ یہ حسین علیہ السلام پر جھوٹ ہے۔ حسین علیہ السلام نے گناہ سے لڑنے کے لئے قیام کیا تھا۔ اس کے برعکس ہم نے کہہ دیا کہ انہوں نے اس لئے قیام کہ گنہگاروں کی محافظت کریں۔ ہم نے کہہ دیا کہ حسین علیہ السلام نے ضمانت دی، گویا ایک بیمہ کمپنی کی بنیاد رکھ دی۔ بیمہ کیسا؟ گناہوں کا بیمہ آپ نے گویا فرمایا کہ میں نے تمہارے گناہ کا بیمہ کر دیا۔ اس کے بدلے میں میں کیا لونگا۔؟ آنسو! تم میرے لئے ؤنسو بہاؤ میں اس کے عوض تمہارے گناہوں کی تلافی کردوں گا۔ تم چاہے کوئی ہو، ابن زیاد ہو، عمر سعد ہو۔ دنیا میں ایک ابن زیاد کم تھا۔ دنیا میں ایک عمر سعد کم تھا۔ دنیا میں ایک سنان بن انس کم تھا۔ دنیا میں ایک خولی کم تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے چاہا کہ دنیا میں خولی زیادہ ہو جائیں، دنیا میں عمر سعد زیادہ ہو جائیں۔ ؤپ نے فرمایا اے لوگو! تم سے جتنا برا بنا جا سکے بن جاؤ میں تمہارا ضامن ہوں۔
حادثہ کربلا کی تشریح اور توجیہ سے دوسری معنوی تحریف یہ ہوئی کہ لوگ کہتے ہیں: تم جانتے ہو امام حسین علیہ السلام نے تحریک کیوں اٹھائی اور کیوں قتل ہوئے؟ ہم پوچھتے ہیں کیوں؟ کہتے ہیں: یہ صرف انہیں کے لئے ایک خصوصی حکم تھا۔ ان سے کہا گیا تھا کہ جاؤ اور قتل ہو جاؤ۔ ہم سے تم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے یعنی ان کا یہ عمل ہمارے لئے قابل پیروی نہیں ہے۔ یہ اسلام کے احکامات سے جو مجموعی اور عمومی احکامات ہیں، تعلق نہیں رکھتا۔ ہماری اور امام علیہ السلام کی بات میں کتنا فرق ہے؟ امام حسین علیہ السلام نے بلند آواز سے فرمایا تھا کہ میرے قیام کے اسباب و وجوہ ایسے مسائل ہیں جو اسلام کے مجموعی اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
کسی خاص حکم کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خصوصی حکم وہاں دیا جاتا ہے جہاں عمومی احکامات کافی نہ ہوں، کام نہ دیتے ہوں۔ امام حسین علیہ السلام نے بالکل صاف الفاظ میں فرمایا تھا: اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو کسی مومن کو (امام حسین علیہ السلام کے لئے بھی نہیں فرمایا) یہ اجازت نہیں دیتا کہ ظلم، ستم، فتنے اور گناہ سے بے پرواہ رہے۔ امام حسین علیہ السلام نے ایک مکتب قائم کیا یعنی اسلام کا عملی مکتب۔ ان کا مکتب یہی اسلام کا مکتب ہے۔ اسلام کے مکتب نے بیان کیا۔ حسین علیہ السلام نی عمل کیا۔ ہم نے اس حادثے کو مکتب ہونے سے خارج کر دیا۔ جب یہ حادثہ مکتب ہونے سے خارج ہو گیا تو پھر قابل پیروی نہیں رہا۔ جب قابل پیروی نہیں رہا تو پھر حسین علیہ السلام سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا یعنی کربلا کے حادثے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس طرح ہم نے حادثہ کربلا کو اسکی افادیت سے محروم کر دیا۔ کیا دنیا میں اس سے بڑھ کر بھی کوئی اور خیانت ہو سکتی ہے؟ یہ ہے تحریف معنوی جو حادثہ عاشور میں ہوئی ہے اور جو لفظی تحریف سے سو گنا خطرناک ہے۔
ائمہ اطہار علیہ السلام نے کیوں کہا (بلکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی روایت ہے) کہ یہ تحریک زندہ رہنا چاہئیے۔ لوگ اسے بھول نہ جائیں۔ لاگ امام حسین علیہ السلام کے لئے روتے ہیں۔ اس حکم سے انکا کیا مقصد تھا؟ ہم نے اس اصلی مقصد کو مسخ کر ڈالا۔ ہم نے کہہ دیا کہ یہ بات صرف حضرت زہراء علیہا السلام کی تسلی کی خاطر کہی گئی ہے۔ اگر چہ وہ بہشت میں اپنے فرزند ارجمند کے ساتھ ہیں اس بات کے لئے برابر بیتاب رہتی ہیں کہ ہم کمینے لوگ کچھ روتے ہیں تاکہ ان کے دل کو تسلی ہوتی رہے۔ کیا حضرت خاتون جنت کی اس سے بھی بڑھ کر آپ کوئی توہین کر سکتے ہیں؟ کچھ دوسروں نے یہ کہہ دیا کہ امام ھسین علیہ السلام کربلا میں ظالموں کے ہاتھوں بے قصور قتل ہوئے۔ یہ بڑی اندوہناک بات ہے۔ میں بھی جانتا ہوں کہ حسین علیہ السلام بے قصور مارے گئے۔ لیکن بس اسی قدر؟ صرف یہی؟ ایک شخص کچھ ظالموں کے ہاتھ بے تقصیر مارا گیا؟ کسی دنیا میں ہزاروں بے قصور واروں کے ہاتھوں قتل ہو جاتے ہیں کسی دن ہزاروں آدمی دنیا میں ضائع ہو جاتے ہین اور یہ بات المناک بھی ہے لیکن کیا اس ضائع اور قتل ہونے کی کوئی ایسی قدر وقیمت ہے جو سالہا سال اور دس بیس تیس صدیاں گزرتی رہیں اور ہم بیٹھے بیٹھے غم مناتے رہیں کہ افسوس حسین ابن علی علیہ السلام قتل ہوئے۔ ان کا خون ضائع ہو گیا۔ حسین ابن علی علیہ السلام بے قصور مارے گئے۔ ظالموں کے ہاتھوں مارے گئے۔ لیکن یہ کس نے کہہ دیا کہ حسین ابن علی علیہ السلام ضائع ہو گئے۔ حیسن ابن علی علیہ السلام کا خون رائیگان گیا؟ اگر دنیا میں تم کوئی ایسا آدمی پاؤ گے جس نے اپنے خون کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں جانے دیا تو وہ حسین ابن علی علیہ السلام ہیں۔ اگر دنیا تمہیں کوئی ایسا آدمی ملے گا جس نے اپنی شخصیت کا ایک ذرہ بھی رائیگاں نہیں ہونے دیا تو وہ حسین ابن علی علیہ السلام ہیں۔ انہوں نے اپنے خون کے ایک ایک قطرے کی اس قدر قیمت لگائی تھی کہ بیان میں نہیں آسکتی۔
اگر دنیا کی اس دولت کا جو ان کی خاطر صرف ہوتی ہے ہم قیامت تک کا حساب لگائیں تو انسان ان کے خون کے ہر قطرے کی خاطر اربوں کھربوں روپے خرچ کر دے گا۔ جس شخص کے قتل ہونے کا یہ نتیجہ نکلا ہو کہ اس کا نام ظالموں کے محل کی بنیاد ہمیشہ کے لئے متزلزل کر دے، کیا وہ شخص ضائع ہو گیا ؟ کیا اس کا خون رائیگاں بہہ گیا؟ کیا ہم اس بات پر افسوس کریں کہ حسین ابن علی علیہ السلام ضائع ہا گئے؟ اے نادان! تو ضائع ہو گیا۔ میں اور تو دونوں بے مصرف ہیں۔ ہماری عمریں بے مصرف ہیں۔ اپنا غم منا۔ اپنے اوپر افسوس کر۔ تو حسین ابن علی علیہ السلام کی توہین کرتا ہے۔ جو یہ کہتا ہے کہ وہ ضائع ہو گئے۔ حسین ابن علی علیہ السلام وہ شخص ہیں کہ " انّ لک درجۃ عند اللہ لن تنالھا الآ بالشھادۃ" (نفایس الابرار ۲۱ ) از ابن شہر آشوب کیا حسین ابن علی علیہ السلام جو شہادت کی آؤرزو کرتے تھے اپنے ضائع ہونے کی آؤرزو کرتے تھے؟ جن بزرگواروں نے یہ سفارش کی ہے کہ حسین ابن علی علیہ السلام کا سوگ قائم رکھا جائے انہوں نے اس لئے سفارش کی ہے کہ حسین ابن علی علیہ السلام کا مقدس مقصد تھا، حسین ابن علی علیہ السلام نے ایک مکتب قائم کیا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا مکتب قائم اور جاری رہے۔ دنیا میں آپ اور کسی مکتب کی ایسی مثال پیش نہیں کر سکتے جو حسینی مکتب کی نظیر نہ ہو۔ جب آپ حسین ابن علی علیہ السلام کا نمونہ ڈھونڈ لیں تب کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہر سال ان کی ہی یاد کیوں تازہ کریں؟ جب آپ دنیا میں انسانوں کی فکر اور انکی خدمت کی خاطر اس توحید، ایمانی جلوے، خدا شناسی کے جلوے، دوسری دنیا پر کامل ایمان، رضا وتسلیم، صبر، مردانگی، قلبی اطمینان، ثبات واستقلال، عزت نفس اور شخصی عظمت آزادی کی خواہش اور آزادی طلب کی (جس کا کوئی بدل نہیں کوئی نظیر نہیں) کوئی مثال پیش کر سکیں۔ جو حسین ابن علی علیہ السلام کے دل میں عاشور کے حادثے میں اس آفت اور عظیم مصیبت میں پیدا ہوئی اس وقت کہہ سکتے ہیں کہ حسین ابن علی علیہ السلام ہی کا نام کیوں زندہ رکھیں؟ ان کے نام اور تحریک کو زندہ رکھنا صرف اس لئے ہے کہ حسین ابن علی علیہ السلام کی روح ہماری تمہاری روح پر بھی اپنا عکس ڈالتی رہے۔ وہ آنسو جو ہم ان کے لئے بہاتے ہیں اگر ہماری روح کی مطابقت کے باعث بہتا ہے تو گویا وہ ایک چھوٹی سی پرواز ہے جو ہماری روح حسینی روح کے ساتھ کرتی ہے۔ اگر ان کی ہمت، غیرت، حریت، ایمان، پرہیزگاری اور توحید کا حقیر سا جزو بھی ہم میں جھلک اٹھے اور پھر ایسا آنسو ہماری آنکھ سے بہنے لگے تو وہ آنسو بہت پیش قیمت ہوگا۔ اگر کہیں کہ مکھی کے پر کے برابر ایسے آنسو کا بھی مول پوری دنیا کے برابر ہوگا تو آپ کو یقین کر لینا چاہئیے۔ البتہ وہ آنسو نہ ہو جو حسین علیہ السلام کا مقصد ضائع جانے کے لئے بہایا جائے بلکہ وہ آنسو جو حسین علیہ السلام کی عظمت کے لئے ہو، حسین / کی شخصیت کے لئے ہو۔ وہ آنسو حسین ابن علی علیہ السلام کے ساتھ مطابقت اور ان کی پیروی کرنے کی خاطر بہایا جائے اگر چہ مکھی کے پر کے برابر بھی ہو تو مول میں ایک دنیا کے برابر ہوگا۔
انہوں نے چاہا کہ لوگ اس مکتب عملی کو برابر دیکھتے رہیں اور اس پر غور کرتے رہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاندان سچائی کی سند اور خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہ ہے۔ اگر لوگ یہ کہیں کہ فلاں مسلمان نے کسی لڑائی میں جو مثلاً روم یا ایران میں لڑی گئی اپنے پختہ ایمان اور بڑی دلیری کا ثبوت دیا تو یہ بات پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کی ایسی دلیل نہیں ہو سکتی جتنا کا اتنا یہ کہنا کہ فرزند پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیا کیونکہ ہمیشہ ایک شخص کے خاندان کے متعلق ہر غیر شخص کی بدگمانیاں زیادہ ہوتی ہیں لیکن یہ بات کہ ہم پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان میں حد درجہ صفائے قلب اور ایمان پاتے ہیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچائی پر بہترین گواہ ہے۔ کوئی شخص نہ علی علیہ السلام کی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہا ہے نہ بڑا ہوا ہے۔ کوئی شخص علی علیہ السلام کی طرح نہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے۔ نہ ان کا فدائی رہا۔ خود یہ بات پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچائی پر پہلی دلیل ہے۔ حسین علیہ السلام پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند ہیں۔ وہ جس وقت پیغمبر علیہ السلام کی تعلیمات پر اپنے ایمان کا مظاہرہ کرتے ہیں تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جھلکنے لگتے ہیں۔ وہ باتیں جنہیں انسان برابر زبان پر لاتا رہتا ہے لیکن جن پر عمل کم کرتا ہے حسین علیہ السلام میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ انسان کی روح اس قدر نا قابل شکست کیسے ہو جاتی ہے؟ سبحان اللہ! انسان کی رسائی کہاں تک ہے۔ اس انسان کی روح کتنی ناقابل شکست ہوگی جس کا بدن پارہ پارہ ہو جاتا ہے، جس کے جوان آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں، جس کی پیاس کی حد نہیں رہتی جو آسمان کو بھی دیکھتا ہے تو تاریک نظر آتا ہے، جو سمجھتا ہے کہ اس کا خاندان قیدی بننے والا ہے۔ جو کچھ پاس تھا لٹ چکا ہے لیکن جس کے پاس صرف ایک چیز باقی ہے اور وہ اس کی روح ہے۔ اس کی روح مطلق ہار نہیں مانتی۔
آپ سانحہ کربلا جیسا انسانی خوبیوں کا قابل دید منظر کوئی اور دکھا دیجئیے تاکہ ہم کربلا کے بجائے اسی کو یاد کریں اور اس حادثے کو زندہ رکھیں، ایسا حادثہ جس میں بہتر (۷۲) افراد کی جماعت نے روحانی اعتبار سے تیس ہزار کی جماعت کو شکست دے دی ہو۔ کس طرح شکست دی؟ اول اس طرح کہ وہ اقلیت میں تھے اور ان کا قتل ہو جانا یقینی تھا اس قلت کے باوجود ان کا ایک ؤدمی بھی دشمن سے جاکر نہیں ملا، لیکن یزید کے لشکر میں سے کچھ ان سے آکر مل گئے۔ جن میں ان کا سردار حر بن یزید ریاحی اور دوسرے تیس آدمی شامل تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روحانی اعتبار سے جیت گئے اور وہ ہار گئے۔ عمر سعد نے کربلا میں کچھ ایسے کام کئے ہیں جو خود اس کی روحانی شکست کا ثبوت ہیں۔ کربلا میں عمر سعد کے لشکریوں نے ایک کے مقابلے ایک کی لڑائی سے گریز کیا۔ پہلے تو تیار ہو گئے اور اس زمانے کے معمول کے مطابق جنگ مغلوب یا تیر اندازی ہونے سے پہلے (ایک کے مقابلے میں ایک کی لڑائی) ایک قسم کی زور آزمائی ہوتی رہی۔ ایک شخص اس جانب سے جاتا ہے ایک آدمی اس طرف سے آؤتا ہے۔ جن چند لوگوں نے اصحاب حسین علیہ السلام سے جنگ کی ان کی شکست نے اصحاب کو اس قدر روحانی طاقت دے دی کہ عمر سعد نے حکم جاری کر دیا کہ ایک ایک کر کے نہ لڑیں۔
اب عبد اللہ علیہ السلام کس وقت میدان میں تشریف لائے؟ (ذرا سوچئے) عاشور کے دن عصر کا وقت ہے۔ ابھی ظہر کے وقت تک کچھ اصحاب زندہ تھے جنہوں نے نماز ابھی پڑھی تھی۔ صبح سے عصر تک محنت کر چکے ہیں۔ اپنے ہر صحابی کی لاش خود اٹھا کر لائے ہیں اور شہدا کے خیمے میں رکھتے رہے ہیں۔ خود ہی اپنے اصحاب کے سرہانے پہنچے ہیں، اپنے اہل بیت علیھم السلام کو خود ہی تسلی دیتے رہے ہیں۔ ان تمام مصائب کا مقابلہ کرنے کے باوجود میدان جنگ میں جب وارد ہوئے تو حسین علیہ السلام نے کسی کو مہلت نہیں دی اور نہ کسی کی مجال ہوئی یہاں تک کہ عمر سعد کو چلانا پڑا: تمہاری مائیں تمہاری سوگ میں بیٹھیں۔ تم کس سے لڑ رہے ہو؟ " ھذا ابن قتّال العرب" (بحار الانوار جلد۴۵ صفحہ۵۰، مناقب ابن شہر آشوب جلد۴ صفحہ ۱۱۰، مقتل الحسین مقرم صفحہ ۳۴۶ ) یہ عرب کے سب سے بڑے قتل کرنے والے کا بیٹا ہے، علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا پسر ہے۔ "واللہ نفس ابیہ بین جنبیہ" (بحار الانوار جلد۴۴ صفحہ ۳۹۰، ارشاد شیخ مفید صفحہ ۲۳۰ ) خدا کی قسم اس کے جسم میں اس کے باپ علی علیہ السلام کی روح موجود ہے۔ یہ ہار کی علامت تھی یا نہیں؟ تیس ہزار آدمیوں نے ایک ایک کرکے ایک ایسے شخص سے لڑائی لڑی جو تن تنہا ہے، بھوک اور پیاس کے ساتھ رنج والم اٹھانے کے باوجود دشمن ان کے مقابلہ میں عار حزیمت اٹھاتے ہوئے پیچھے ہٹتے جاتے ہیں۔ انہوں نے صرف حسین علیہ السلام کی تلوار سے شکست کھائی بلکہ وہ آؤپ کی منطق سے بھی ہار چکے تھے۔
امام حسین علیہ السلام نے عاشور کے دن لڑائی شروع ہونے سے پہلے دو تین بار تقریر کی تھی۔ واقعی وہ تقریریں بھی عجیب ہیں۔ اہل سخن جانتے ہیں کہ عام حالات میں ممکن نہیں ہے کہ انسان کوئی ایسی عمدہ بات کہیں جو نہایت ہی اونچے درجے کی ہو جس کو سن کر انسان کی روح جھوم اٹھے۔ خصوصاً اگر کوئی بات بات مرثیے کی قسم سے تعلق رکھتی ہو تو انسان کا دل بہت پگھلا ہوا ہونا چاہئیے۔ جس سے وہ عمدہ مرثیہ کہہ سکے۔ اگر غزل کہنا چاہے تو عشق کے جذبات سے لبریز ہو تاکہ اچھی غزل کہہ سکے۔ اگر رزمیہ کہنا چاہے تو اس کے دل میں شدید رزمیہ بات کہہ سکے۔ امام حسین علیہ السلام نے بہت سی تقریریں کی ہیں ان میں کلی ایک تقریر خاص طور پر وہ ہے جو آپ روز عاشور کرتے ہیں اور جو تمام تقریروں سے زیادہ مفصل ہے۔ امام علیہ السلام لشکر سے خطاب کرنے کے لئے گھوڑے سے اتر پڑے اور چونکہ کھڑے ہونے کے لئے ایک بلند جگہ چاہتے تھے تاکہ آواز دور دور تک پہنچ سکے آپ ایک اونٹ پر سوار ہو گئے۔ اور بلند آواز میں فرمانے لگے: "تبّالکم ایّتھا الجماعۃ و ترحاً حین استصر ختمونا والھین فاصر خناکم موجفین" پھر امام حسین علیہ السلام (دشمن کی طرف) بڑھے اور فرمایا "اے کوفیو! برا ہو تمہارا اور ہلاکت و مصیبت وبربادی ہو ہم تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئے تو جو تلواریں ہماری مدد کے لئے بلند ہونے والی تھیں انہیں تلواروں کو تم نے ہمارے اوپر کھینچ لیا اور دشمنوں کے ساتھ ہو کر (ہمارے خلاف) جنگ کی آگ بھڑکائی۔ حالانکہ دشمنوں نے تمھارے ساتھ کوئی انصاف کا برتاؤ نہیں کیا اور نہ ہماری طرف سے تمہارے خلاف کوئی برائی ظاہر ہوئی۔ کیوں نہ تمھارے لئے بربادی وہلاکت ہو۔ تم نے ہم کو ناپسند کیا، ہمیں چھوڑ دیا حالانکہ ہماری تلواریں ہمارے نیاموں میں تھیں۔ ہمارے دل تمہاری طرف سے مطمئن تھے اور ہماری رائےتمہارے متعلق بدلی نہ تھی۔ تم نڈیوں اور پروانوں کی طرح ہماری بیعت پر ٹوٹ پڑے پھر تم نے اس بیعت کو توڑ ڈالا اور اپنی بیوقوفی اور گھمراہی کی وجہ سے امت کے سرکش گروہ وشیاطین اور کتاب خدا کے شھوڑنے والوں کے ساتھ بن گئے۔ تم نے ہم کو چھوڑ دیا اور آج ہم سے جنگ کرنے آئے ہو، آؤگاہ ہو جاؤ، ظالمین پر خدا کی لعنت ہے۔ (مناقب جلد۴ صفحہ ۹۸ " اللہوف صفحہ ۴۱، مناقب ابن شہر آشوب جلد۴ صفحہ ۱۱۰، مقتل الحسین مقرم صفحہ ۲۸۶، تحف العقول صفحہ ۱۷۳)جو سچ مث علی علیہ السلام کے خطبات کا نمونہ ہے اور اگر ہم علی علیہ السلام کے خطبے ایک طرف رکھ دیں تو پھر دنیا میں ایسا کوئی اور پر جوش خطبہ نہیں ملے گا۔ آپ نے تین بار پڑھا۔ عمر سعد کو اپنے لشکریوں کی طرف سے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ ایسا نہ ہو حسین علیہ السلام کی تقریر ان پر کار گر ہو جائے۔ کچھ دیر بعد امام حسین علیہ السلام نے گفتگو شروع کی۔ چونکہ دشمن کی روح ہار چکی تھی عمر سعد نے حکم دیا کہ شور مچاؤ اور گال بجاؤ تاکہ حسین علیہ السلام کی آواز کوئی نہ سن سکے۔ کیا یہ ہار کی علامت نہیں ہے؟ کیا یہ امام حسین علیہ السلام کی جیت کی علامت نہیں ہے؟
اگر انسان ایمان دار ہو، خدا کو ایک مانتا ہو، خدا سے تعلق رکھتا ہو، دوسری دنیا پر ایمان رکھتا ہو تو تن تنہا بیس، تیس ہزار لوگوں کو روحانی اعتبار سے ہرا سکتا ہے۔ کیا ہم اس سے سبق حاصل نہیں کر سکتے؟ ان کی مثال کہاں سے لاؤ گے؟ دنیا میں کہاں سے ایسا شخص لاؤؤ گے جس کے حالات حسین علیہ السلام کے سے ہوں اور جو حسین علیہ السلام کی سی تقریر کے دو کلمے ہی کہہ سکے؟ کوفہ کے دروازے پر کی ہوئی زینب علیہا السلام کی تقریر کے دو کلمے سنا سکے؟ اگر یہ کہا گیا کہ اس سوگ کو زندہ رکھو! اس کی تجدید کرتے رہو! تو یہ صرف اس لئے کہا گیا ہے کہ اس نکتے کو سمجھ لیں اور پہچان لیں۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ ہم حسین علیہ السلام کی بزرگی سمجھ لیں۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ ہم جو آنسو بھی بہائیں وہ حسین علیہ السلام کی معرفت حاصل کرکے بہائیں۔ حسین علیہ السلام کی معرفت، ہمارے درجات اللہ کی درگاہ میں بلند کرتی ہے۔ ہمیں انسانیت کا ارفع مقام بخشتی ہے۔ ہمیں مرد حُر بناتی ہے۔ ہمیں اہل حق اور اہل حقیقت بناتی ہے، ایک سچا مسلمان بناتی ہے۔ حسین علیہ السلام کا مکتب انسان بناے والا مکتب ہے یہ گنہگار بنانے والا مکتب نہیں ہے۔ حسین علیہ السلام نیک عمل کے ضامن ہیں۔ گنہگاری کے ضامن نہیں ہیں۔
لکھا ہے کہ عاشور کی صبح کو جیسے ہی امام حسین علیہ السلام اپنے اصحاب کے ساتھ نماز پڑھ چکے تو پلٹ کر ان سے فرمانے لگے: اے میرے ساتھیو! تیار ہو جاؤ۔ موت ایک پل ہے جو تمہیں ایک دنیا سے دوسری دنیا تک پہنچا دیتا ہے، ایک بہت تکلیف دہ دنیا سے بہت بلند شریف اور لطیف دنیا کو لے جاتا ہے۔ یہ تو آپ کی گفتگو تھی۔ اب آؤپ کا عمل دیکھئیے۔ یہ حسین ابن علی علیہ السلام کا بیان نہیں ہے۔ یہ بات وقائع نگار نے کہی ہے۔ عمر سعد کے وقائع نگار ہلال بن نافع نے بھی یہ بات کہی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے حسین ابن علی علیہ السلام پر حیرت ہوتی ہے کہ جیسے جیسے ان کی شہادت قریب آتی جاتی ہے اور ان کی مصیبت بڑھتی جاتی ہے ان کا چہرہ روشن ہوتا جاتا ہے اس انسان کی طرح جس کے وصل کے وقت قریب آؤتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جو قاتل لعین آؤپ کے سرہانے آپ کو شہید کرنے کے لئے پہنچا اس پر آپ کے نور جمال کی ایسی ہیبت ناری ہوئی کہ حسین علیہ السلام کو قتل کرنا بھول گیا اور بول اٹھا " لقد شغلنی نور وجہ وجمال ھیبتہ عن الفکرۃ فی قتلہ" (بحار الانوار جلد۴۵ صفحہ ۵۷، اللہوف صفحہ ۵۳ ) لکھا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے معرکہ کے لئے ایسی جگہ مقرر کر لی تھی جو حرم کے خیموں کے قریب تھی اس کی دو وجہیں تھیں۔ ایک یہ کہ آپ جانتے تھے کہ دشمن بہت بزدل اور درندہ صفت ہیں اور اتنی غیرت نہیں رکھتے جو کم سے کم یہ سوچیں کہ ہماری جنگ تو حسین علیہ السلام سے ہے اس لئے خیموں کو نہ چھیڑیں۔ حسین علیہ السلام چاہتے تھے کہ جب تک جان، میں جان ہے، جب تک گردن کی رگ پھڑک رہی ہے کوئی اہل بیت علیھم السلام کے خیموں کو نہ چھیڑے۔ حملہ کرتے تھے، دشمن ان کے سامنے سے بھاگ جاتے تھے لیکن آپ ان کا زیادہ پیچھا نہیں کرتے تھے اور پلٹ آتے تھے تاکہ حرم کے خیموں پر کوئی حملہ نہ کرے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ جب تک آؤپ زندہ ہیں اہل بیت علیھم السلام کو معلوم رہے لہذا آپ نے ایک ایسی جگہ کو مرکز بنا لیا تھا جہاں سے اہلبیت علیھم السلام تک آپ کی آواز پہنچ جاتی تھی۔ جس وقت آپ حملے سے پلٹتے تھے تو اسی جگہ کھڑے ہوکر بلند آواز سے فرماتے تھے: "لا حول ولا قوۃ الّا باللہ العلی العظیم۔" جب حسین علیہ السلام کی آؤواز بلند ہوتی تھی تو اہل بیت علیھم السلام کے دل کو اطمینان ہو جاتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ آقا ابھی زندہ ہیں۔ امام علیہ السلام نے اہلبیت علیھم السلام سے فرما دیا تھا کہ جب تک میں زندہ ہوں تم خیمے سے باہر نہ آنا (آپ ان باتوں پر یقین نہ کیجئیے گا کہ اہل بیت علیھم السلام برابر باہر کی طرف دوڑتے رہتے تھے۔ ہرگز نہیں۔ آقا کا حکم تھا کہ جب تک میں زندہ ہون تم لوگ خیموں میں رہنا)۔ کمزوری کی بات تمہاری منہ سے نہ نکلنے پائے ورنہ تمہارا ثواب ضائع ہو جائے گا۔ اطمینان رکھو تمہارا انجام اچھا ہوگا۔ تمہیں نجات حاصل ہوگی۔ خدا تمہارے دشمنوں پر جلد عذاب نازل کریگا۔ ان لوگوں کو اجازت نہیں تھی کہ باہر آئیں اور وہ باہر آتے بھی نہیں تھے۔ حسین ابن علی علیہ السلام کی غیرت اس کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ خود ان کی غیرت اور عفّت بھی اس کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ باہر آئیں اس لئے جیسے ہی امام علیہ السلام کی آواز سنتے تھے: "لا حول ولا قوۃ الّا باللہ العلی العظیم " تو ان کے دل کو اطمینان ہو جاتا تھا۔چونکہ امام علیہ السلام آخری رخصت کے بعد بھی دو ایک بار آئے تھے اور خبر گیری کر گئے تھے یہی وجہ تھی کہ امام علیہ السلام کے اہل بیت علیھم السلام آپ کے آنے کا اب بھی انتظار کر رہے تھے۔ اس زمانے میں عربی گھوڑوں کو میدان جنگ کے لئے سدھایا جاتا تھا کیونکہ گھوڑا سدھایا جانے والا جانور جانور ہے، جس وقت اس کا سوار قتل ہو جاتا تھا تو وہ کچھ خاص قسم کا رد عمل ظاہر کر دیتا تھا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے اہل بیت علیھم السلام خیمے میں منتظر ہین کہ شاید امام علیہ السلام کی آواز سن پائیں اور ایک بار اور آقا علیہ السلام کی زیارت کر لیں کہ اچانک حسین علیہ السلام کے گھوڑے کی ہنہنانے کی آواز آئی۔ اہل حرم خیمے کے دروازے پر آئے۔ انھوں نے سمجھا کہ آقا آئے ہیں لیکن دیکھا کہ صرف خالی گھوڑا آیا ہے اور اس کی زین الٹی ہوئی ہے۔ اس وقت امام حسین علیہ السلام کی اولاد اور رشتہ داروں نے وا حسیناہ ! وا محمدا! کی فرید بلند کی اور گھوڑے کے گرد کھڑے ہو گئے۔ (بین کرنا انسانی فطرت ہے۔ انسان جب اپنے دل کا دکھ کہنا چاہتا ہے تو بین کی شکل میں کہتا ہے۔ آسمان سے خطاب کرتا ہے۔ حیوان کو مخاطب کرتا ہے دوسرے انسان کو سناتا ہے) حضرت امام حسین علیہ السلام کے خاندان کا ہر فرد کسی نہ کسی طرح بین کرنے لگا۔ آقا علیہ السلام ان لوگوں سے فرما گئے تھے کہ جب تک میں زندہ ہوں تمہیں رونے کی اجازت نہیں ہے البتہ جب میں مر جاؤں تو تم رو لینا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اسی حالت میں رونا شروع کر دیا۔
لکھا ہے کہ حسین ابن علی علیہ السلام کی ایک بیٹی تھی جس کا نام سکینہ خاتون تھا اور جسے آپ بہت پیار کرتے تھے۔ وہ بعد میں بہت بڑی ادیبہ اور عالمہ ہوئی ہیں جن کا تمام علماء اور ادباء ادب اور احترام کرتے تھے۔ حسین علیہ السلام ان کو بہت چاہتے تھے اور وہ بھی آؤقا سے بہت محبت کرتی تھیں۔ لکھا ہے کہ یہ بچی بین میں ایسے ایسے جملے کہتی تھی کہ سب کے دل تڑپ تڑپ جاتے تھے۔ بیان کرتے ہیں کہ اس بچی نے گھوڑے کو مظاطب کرکے کہا: "یا جواد ابی ھل سقی ابی ام قتل عطشانا؟" (اے میرے باپ کے گھوڑے! ظالموں نے میری بابا کو پانی پلایا یا پیاسا ہی قتل کر ڈالا؟) یہ کس وقت ہوا؟ یہ اس وقت ہوا جب امام حسین علیہ السلام گھوڑے کی پشت سے زمین پر گر پڑے تھے۔

و لاحول ولا قوۃ الّا باللہ العلی العظیم



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
1+5 =