پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|

امر بالمعروف اور عن المنکر کے شرائط


آیت اللہ شہید مرتضی مطہری


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم<التائبون العابدون الحامدون السائحون الراکعون الساجدون الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر و بشر الموٴمنین>
پچھلی دونوں راتوں میں جو باتیں عرض کی گئیں ان سے معلوم ہوا کہ تحریک حسینی میں کل تین عوامل کار فرما رہے ہیں۔ایک بیعت سے انکار، دوسرے اہل کوفہ کی دعوت قبول کرنا اور تیسرے جو دونوں سے زیادہ مستحکم ہے امر بالمعروف اور نھی عن المنکراوریہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان تینوں میں سے ہر ایک نے از خود امام علیہ السلام کے لئے ایک خصوصی فرض قبول کرلیا۔ایک خاص رد عمل پیدا کردیا۔ہم نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ اس تحریک کی قدر و منزلت ان تینوں عوامل کے مطا بق جدا جدا ہو جاتی ہے۔ اگر ہم صرف اہل کو فہ کی دعوت کے عامل کو نظر میں رکھیں تو اس تحریک کی ایک مقررہ حد تک اہمیت ہوگی۔اگر بیعت سے انکار کے عامل کو نظر میں رکھیں تو اس کی اہمیت او رقدرو منزلت بہت زیادہ اور عظیم ہوگی۔اگر امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے عامل کو نظر میں رکھیں تو اس کی اہمیت سو فیصدی بڑھ جائے گی۔وجہ یہ ہے کہ دعوت کے عامل سے کامیابی کا امکان تقریباً پچاس فیصدی یا اس سے بھی کمتر ہے لیکن بیعت سے انکار کے عامل سے اتنا بھی امکان نھیں ہے بلکہ وہ تو سو فیصد خطرناک مقابلہ ہے۔
امر بالمعروف و نھی عن المنکر اور بیعت کے عامل میں بھی اتنا ہی عظیم فرق ملتا ہے۔بیعت کے عامل میں مطالبہ دشمن کی طرف سے ہے یعنی ایک غیر شرعی اور ناجائز مطالبہ ہے اس لئے امام علیہ السلام اس مطالبہ کے جواب میں” نہ “ کہتے ہیں، منع کر دیتے ہیں، قبول نھیں کرتے۔اگر ہم صرف اسی عامل کو نظر میں رکھیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ لوگ امام علیہ السلام سے یہ مطالبہ نہ کرتے تو امام علیہ السلام ان کے مقابلے میں نہ کھڑے ہوتے۔چونکہ انھوں نے یہ مطالبہ کردیا اس لئے امام ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جو یہ مطالبہ قبول نھیں کرتا ان لوگوں کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔لیکن جب ہم تیسرے عامل امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کو نظر میں رکھتے ہیں تو نہ کوفہ کی دعوت اور نہ بیعت کا تقاضا بلکہ خود امام علیہ السلام ان کے مقابلے میں قیام کرتے ہیں اور یہاں بیعت کا مطالبہ بھی پیچھے جا پڑتا ہے بلکہ غور کریں تو امام علیہ السلام از خود ان لوگوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔در اصل حالات کا بگاڑ، برائیوں کا پھیلاؤ، منکرات و ممنوعات کا عام ہونا، خودامام علیہ السلام کے الفاظ میں حرام کا حلال ہونا اور آخر میں معاشرے کو بگاڑنے والے ناگفتہ بہ حالات امام علیہ السلام کو ان کے مد مقابل کھڑا کردیتے ہیں اور آپ کو قیام تک مجبور کرتے ہیں۔امام علیہ السلام کے قیام کی اہمیت اس تیسرے عامل سے بڑھ جاتی ہے یہ عامل ایک دوسری ہی شکل اختیار کرلیتا ہے، دوسرا ہی حساب کھول دیتا ہے اور اس بات کا نہایت اچھا اور اعلیٰ عامل حالات کا یہی پہلو ہے جس نے اس تحریک کو ایسی شائستگی عطا کردی ہے کہ ہمیشہ تا ریخ کی پیشانی پر چمکتی رہے ”ابد الاباد“ تک زندہ رہے اور دنیا میں ایک دائمی عامل اور بے مثال تحریک بن جائے۔البتہ میں اس عامل میں ایک خصوصیت ا ضافہ کروں گا۔
یہ عامل اس تحریک کی اہمیت بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے اور اس دلیل کی رو سے ہمیں چاہئے کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کو اسلام کے نقطہٴ نظر سے پہچاننے کی کوشش کریں کہ یہ کیا اصول ہے؟ یہ کیاچیز ہے جو اس قدر بنیادی اور طاقتور ہے اور اسلامی نقطہٴ نظر سے اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام جیسے بہادر شخص کو مجبور کردیتا ہے کہ وہ اسلام کی خاطر اپنی جان کی بازی لگادیں، اپنا خون بہائیں، اپنے رشتہ داروں کا خون بہائیں اور اپنی جان ایسی ہلاکت اور مصیبت میں ڈال دیں جس کی مثال دنیا میں نھیں ملتی۔تب ہم تقریباً تیرہ سوسال بعد امام علیہ السلام کے سامنے کھڑے ہو کر یوں گواہی دیتے ہیں:
”<اشہد انک قد اقمت الصلوٰۃ وآتیت الزکاۃ وامرت بالمعروف ونھیت عن المنکر وجاھدت فی اللہ حق جھادہ حتی اتاک الیقین>“ اس گواہی کے مفہوم پرٹھیک ٹھیک غور کیجئے۔ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ اس کے تمام شرائط کے ساتھ ادا کی۔
” وامرت بالمعروف ونھیت عن المنکر“ آپ نے نیکی کی ہدایت کی اور بدی سے روکا یعنی آپ کی پوری تحریک نیکی کا حکم اور بدی کی ممانعت ہے۔”وجاھدت فی اللھحق جھادہ“ آپ نے خدا کی راہ میں جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔اب ایک نکتہ یہ ہے کہ ہم زیارت وارثہ میں کہتے ہیں۔ہم گواہی دیتے ہیں۔ہم کس شخص کے لئے گواہی دیتے ہیں؟ ہم عام طور پر قاضی کے یہاں جاکر گواہی دیا کرتے ہیں۔جب قاضی کے سامنے کوئی بات ثابت نھیں ہوتی اور ہم اس بات کو ثابت کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں:قاضی صاحب! میں گواہی دیتا ہوں کہ فلاں شخص نے فلاں وقت فلاں عنوان کے تحت ان صاحب سے اتنی مقدار کی واپسی کا تقاضا کیا تھا۔ہم اس وقت گواہی دیتے ہیں۔ہم کس شخص کے سامنے گواہی دیتے ہیں؟ کیا خدا کے سامنے گواہی دیتے ہیں؟ کس کے حق میں ؟امام حسین علیہ السلام کے حق میں؟
معانی و بیان کے علماء ایک نکتے کا ذکر کرتے ہیں جو بہت اعلیٰ ہے اور یہ ہے کہ: بعض او قات انسان کسی موقع پر کوئی بات اس لئے نھیں کہتا کہ سننے والاسمجھ جائے، اسے وہ بات سمجھائے بلکہ سننے والے کویہ سمجھانے کے لئے کہتا ہے کہ میں اسے یوں سمجھ رہا ہوں۔یہ بات بہت عام سی ہے۔کبھی کبھی آپ کسی کے سامنے کسی بات کی گواہی دیتے ہیں اس لئے نھیں کہ وہ سمجھ جائے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ وہ خود یہ بات سمجھتا ہے بلکہ آپ اپنی گواہی سے اسے یہ سمجھانا چاہتے ہیں اس کے سامنے اقرار کرتے ہیں تاکہ وہ جان لے کہ آپ یہ بات جانتے اورسمجھتے ہیں۔
اس مقام پر گواہی کے معنی اقرار کے ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں یعنی میں بھی ہر سمجھدار اور حقیقت جاننے والے آدمی کی طرح اس بات کا اعتراف کرتا ہوں اور یہ بات مانتا ہوں اے اباعبد اللہ! کہ آپ کی تحریک امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی تحریک تھی یعنی میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے صرف اہل کوفہ کی دعوت پر قیام نھیں کیا۔آپ تو ان کی دعوت سے پہلے ہی قیام کر چکے تھے۔ کوفیوں نے آپ کو بعد میں دعوت دی۔میں گواہی دیتا ہوں مانتاہوں کہ آپ کی تحریک صرف یہ نھیں تھی کہ میں بیعت نھیں کرتا یعنی آپ کی تحریک صرف بیعت سے انکار کی تحریک نھیں تھی۔آپ کی تحریک میں تو دوسری ہی بات شامل تھی۔آپ نے اسلام میں ایک اور ہی اصول جاری کردیا اور وہ اصول امر بالمعروف اور نھی عن المنکرکا اصول ہے۔
میں عرض کرچکا ہوں کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر نے حسینی علیہ السلام تحریک کے مقام اور قدر کو بہت بلند کردیا ہے۔اس ایک خصوصیت بلکہ اور بھی دوسری خصوصیات کے علاوہ میں ایک ایسی خصوصیت بیان کرتا ہوں جو پیغمبروں، اللہ کے ولیوں اور مومنوں کی تمام تحریکوں کو دوسرے انسانی رہبروں اور غیر رہبروں کی تحریک سے ممتاز کرتی ہے، امتیاز بخشتی ہے۔ وہ کیا ہے؟ انسان کے عمل کا ایک جسم ہوتا ہے اور ایک روح ہوتی ہے ۔ممکن ہے کہ میں اور آپ کوئی کام یکساں طور پر انجام دیں لیکن کس نقطہٴ نظر سے یکساں؟ س نقطہٴ نظر سے کہ میرے کام کا جسم آپ کے کام کے جسم جیسا ہے۔فرض کیجئے ہم دونوں آدمی نماز پڑھتے ہیں۔ہم دونوں فلاں نیک کام میں پیسہ خرچ کرتے ہیں۔میں سوروپیہ دیتا ہوں آپ بھی سوروپیہ دیتے ہیں۔میں چار رکعت نماز پڑھتا ہوں آپ بھی چار کعت نماز پڑھتے ہیں۔ان کاموں کی ادائیگی میں ایک دوسرے کے مابین کوئی فرق نھیں ہے۔البتہ یہ ممکن ہے کہ آپ جس خلوص نیت، خضوع اور خشوع، جس اخلاص و محبت، جس عشق اورجس روحانی جذبے سے سرشار ہوں اس سے میں نہ ہوں۔یہ بات آپ کے کام کی قدر و قیمت کو میرے کام سے ہزار گنا بڑھادیتی ہے۔خدا کی راہ میں تو بہت سے لوگوں نے جہاد کیا ہے لیکن”<ضربۃ علی یوم الخندق افضل من عبادۃ الثقلین>“ کس لئے ہے؟ علی کا ایک وار اتنی اہمیت حاصل کرجاتا ہے کیوں؟اس لئے کہ علی وہاں پہنچ گئے تھے جہاں اہل عرفان کے قول کے مطابق”فانی فی اللہ“ ہوگئے تھے یعنی ان کے وجود میں انائیت اورخودی جیسی کوئی چیز باقی نھیں رہی تھی۔ اس حال میں جب دشمن آپ کے منہ پر تھوک دیتا ہے تو آپ اس کا سر کاٹنے سے رک جاتے ہیں کہ کہیں اس کے فعل سے پیدا ہونے والا غصہ آپ کے عمل پر اثر انداز نہ ہو جائے، آپ کے عمل کی روح کو متاثر نہ کردے۔وہ چاہتے ہیں کہ اس مقام پر اس کا وجود باقی نہ رہے۔ان کی روح میں صرف خدا کا وجود ہو۔آپ یہ پہلو صرف انبیاء اور اولیاء کے مکتب میں دیکھیں گے۔انبیاء کے مکتب کے علاوہ کسی اور مکتب میں ایسی بات نھیں پائیں گے۔
اس آیت میں جو ابتدا میں تلاوت کی گئی:<التائبوں العابدون الحامدون السائحون الراکعون الساجدون الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر> (سورہٴ توبہ آیت/۱۱۲) دوسرے چند لفظوں کے بعد <التائبون> کا لفظ آتا ہے۔ یعنی خدا کی طرف پلٹنے والے۔عرفاء کہتے ہیں کہ سلوک کی پہلی منزل توبہ ہے کیسی توبہ یعنی واپسی۔جو شخص کسی دوسری راہ پر چلتا ہے وہ ایک بار حق کی راہ پر واپس آتا ہے، خدا کی طرف پلٹتا ہے <التائبون العابدون> توبہ کے بعد یہ لوگ خدا کے عبادت گزار ہوجاتے ہیں۔خدا کی عبادت کرتے ہیں، غیر خدا کو نھیں پوجتے۔خدا ان کے وجود پر حکومت کرتا ہے۔خدا کے علاوہ ان کاکوئی حاکم نھیں ہوتا۔یہ صرف خدا کا حکم مانتے ہیں۔غیر خدا کا حکم نھیں مانتے۔خدا کی اطاعت کرتے ہیں غیر خدا کی پیروی نھیں کرتے ۔الحامدون، یہ حمد کرتے ہیں لیکن خدا کے سوا کسی دوسری ہستی کی تعریف نھیں کرتے۔دوسری ہستی کو مطلق اس لائق نھیں سمجھتے کہ اس کی مدح کریں، اسے سراہیں، اس کے گن گائیں۔یہ صرف خدا کی تعریف کرنے اور اسی کے گن گانے والے ہیں۔”السائحون“ سیاحت کرنے والے ہیں۔سیاحت کے بارے میں تفسیروں میں مختلف بیانات ملتے ہیں۔ بعضوں نے کہا کہ اس سے مراد روزہ رکھنا ہے یعنی روحانی سیاحت جو روزے میں ہوتی ہے لیکن بہت سے محققین کی طرح علامہ طباطبائی بھی المیزان میں اسے نھیں مانتے۔ایک گمان یہ ہے کہ وہ لوگ جو زمین کی سیر کرتے ہیں کیونکہ قرآن میں انسان کو زمین کی سیر کی دعوت دی گئی ہے، زمیں کی کیسی سیر؟ دنیا کا مطالعہ، وہ سیر وسیاحت نھیں جس کا مقصد تفریح اور من بہلاوا ہو! اسلام انسان کی زندگی کو اس سے زیادہ قیمتی سمجھتا ہے کہ وہ صرف تماشائی کی حیثیت سے دنیا کی سیر کرتا پھرے ، البتہ اسلام ایسی سیاحت کی سفارش کرتا ہے جس میں انسان سوچے، غور کرے، سبق حاصل کرے: <قل سیروا فی الارض> یہ سبق اور سوچ بچار ہے ”السائحون“ وہ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے، وہ انسانی معاشروں کے حالات کا مطالعہ کرنے والے، وہ آفرینش کائنات کے قوانین کا مطالعہ کرنے والے، وہ جو اپنے ذہنوں میں کثیر تعداد میں روشن خیالات رکھتے ہیں۔اس کے بعد عبادت کے دو مظاہر بیان کرتی ہے: <الراکعون الساجدون> وہ لوگ جو رکوع اور سجدے کی حالت میں اپنے خدا کی تسبیح پڑھتے ہیں۔ رکوع میں کہتے ہیں: ”سبحان ربی العظیم وبحمدہ“ سجدوں میں کہتے ہیں: ”سبحان ربی الاعلیٰ وبحمدہ وہ سبحان ربی العظیم وبحمدہ“ کہنے والے، وہ” سبحان ربی الاعلی وبحمدہ“ کہنے والے ہیں۔وہ <الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر>ایسی روح ، ایسے خیالات، ایسے روحانی سامان، ایسی روحانی پونجی اس لئے رکھتے ہیں کہ معاشرے کی اصلاح کریں۔وہ لوگ جو پہلے خود نیک بن چکے ہیں بعد میں چاہتے ہیں کہ دوسروں کی اصلاح کریں دوسروں کو نیک بنائیں۔آمر معروف اور ناہی منکر یعنی مصلح، اصلاح کرنے والے، سدھارنے والے۔کیا غیر صالح صالح ہو سکتا ہے؟وہ لوگ جنھوں نے پہلے اپنی اصلاح کی ہے اپنے آپ کو ادب سکھایا اور تربیت دی ہے مصلح یعنی سدھارنے والے ، اصلاح کرنے والے ہو سکتے ہیں۔
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں:” <ومن نصب نفسہ للناس اماما فعلیہ ان یبداٴ بتعلیم نفسہ قبل تعلیم غیرہ، ومعلم نفسہ و مؤدبہا احق بالاجلال من معلم الناس و مؤدبہم >“ (نہج البلاغہ ، کلمات قصار/ ۷۱) یعنی جو شخص اپنے آپ کو لوگوں کی رہنمائی کے لئے پیش کرتا ہے، لوگوں کا معلم اورمربی بناکر پیش کرتا ہے۔واعظ اور خطیب بنا کر پیش کرتا ہے، لوگوں کا ہادی اور رہبر بناکر پیش کرتا ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اپنے آپ سے شروع کرے، پہلے اپنے آپ کو تعلیم دے۔یہ سمجھ لے کہ خود اس کے اندر ایک جاہل موجود ہے۔پہلے اس جاہل کی تلقین کرے جو خود اس کے اندر موجود ہے اور جس کا نام نفس امارہ ہے، یاد رکھے کہ خود ا س کے اندر ایک غیر تربیت یافتہ ہستی ہے پہلے اس کی تربیت اور تادیب کرے، پہلے اپنے نفس کو نصیحت کرے، ملامت کرے، انے نفس سے حساب لے۔جب وہ اپنی درستی او رتہذیب کرکے نیک بن جائے تب اس بات کا دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کرسکتا ہوں، لوگوں کو وعظ دے سکتا ہوں، لوگوں کو تعلیم دے سکتا ہوں، لوگوں کی تربیت اور تادیب کرسکتا ہوں، معاشرے کا مصلح بن سکتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ کو تعلیم دیتا اورسدھارتا ہے وہ اس شخص سے زیادہ احترام کے لائق ہے جو لوگوں کو تعلیم اور تربیت دیتا ہے کیونکہ یہ کام زیادہ مشکل اور زیادہ اہم ہے۔ پھر حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا: ”الحق اوسع الاشیاء فی التواصف و۔۔۔“ کیا جملے ہیں! لوگ انھیں دل پر نقش کرلیں۔فرمایا ہے حق اور عدالت کا میدان بات کہتے، گفتگو کرتے، تقریر کرتے اور زبان سے کام لیتے وقت بہت وسیع اور کشادہ ہوتا ہے یعنی باتیں کرنے کے لئے حق کے میدان سے زیادہ وسیع کوئی میدان نھیں ہے اگر انسان چاہے کہ حق کے متعلق ہر موضوع سے زیادہ لچھے دار تقریر کرے، لسانی سے کام لے، گفتگو کرے تو نہایت آزادی اور سہولت سے کرسکتا ہے، لیکن جب عمل کا موقع آتا ہے تو پھر حق کے میدان سے زیادہ تنگ اور کوئی میدان نھیں ہوتا، اس وقت انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا دشوارہے، حق کے بارے میں باتیں بتانا جتنا آسان تھا عمل کا موقع آنے پرایک قدم اٹھانا بھی اتنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہاں قرآن بھی< التائبون العابدون الحامدون السائحون الراکعون الساجدون> کہنے کے بعد<الامرون بالعروف والناھون عن المنکر> کہتا ہے۔یہ لوگ ہیں جو نیکی پھیلانے کی راہ پر چلتے ہیں، بدی اور بگاڑ کے خلاف جدو جہدکرتے ہیں اور صرف یہی لوگ ہیں جو یہ صلاحیت رکھتے ہیں< وبشر المؤمنین> یہاں مومنون کو خوش خبری سنادو کہ اگر وہ تائب(توبہ کرنے والے)، عابد (عبادت کرنے والے) ، سائح (سیاحت کرنے والے) ، راکع (رکوع کرنے والے) اور ساجد (سجدہ کرنے والے) ہو گئے اور اس کے بعد نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے والے بن گئے تو وہ کامیاب ہوجائیں گے اور اگر سب کچھ ہونے کے بعد بھی وہ نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے والے نھیں بن سکے تو انھیں کچھ بھی نھیں ملے گا۔اگر وہ نیکی کا حکم دیتے اور بدی سے روکتے بھی تھے لیکن خود ان کا دامن صاف نھیں تھا، اگر دوسروں سے توبہ کرانے والوں نے خود توبہ کم کی تب بھی وہ کچھ حاصل نھیں کرسکیں گے۔امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا:” <لعن اللہ الامرین بالمعروف التارکین لہ، والناھین عن المنکر العاملین>“ خدا ان لوگوں پر لعنت کرے جو دوسروں کو نیکی کی تلقین تو کرتے ہیں لیکن خود اس نیک کام کے خلاف کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جو دوسروں کو برائیوں سے روکتے ہیں لیکن خود انھیں برائیوں پر عمل کرتے ہیں یعنی جو نیکی کا حکم دینے والے اور بدی سے روکنے والے خود”التائبون“ نھیں ہیں ”العابدون“ نھیں ہیں”السائحون“ نھیں ہیں”الراکعون“ نھیں ہیں”الساجدون “ نھیں ہیں، جنھوں نے ابھی یہ مراحل اور منزلیں طے نھیں کی ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ آمر معروف اورناہی منکر بن جائیں خدا ایسے لوگوں پر لعنت کرے۔
عارفوں کی اپنی ایک اصطلاح ہے: وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سالک چار مختلف سیریں کرتے ہیں:
۱۔ سیر من الخلق الی الحق ……یعنی دنیا اور فطرت کی طرف سے خدا کی طرف سیر۔
۲۔ سیر بالحق فی الحق…… خود خدا کی ذات کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں۔
۳۔ سیر من الحق الیٰ الخلق…… خدا کی طرف سے خلق کی طرف سیر یعنی لوگوں کی ہدایت و رہبری کے لئے آنا۔
۴۔ سیر بالحق فی الخلق…… در اصل وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو شخص ایسی لیاقت رکھتا ہے کہ دوسروں کی مدد کرسکے، دوسروں کا ہادی اور رہنما ہوسکے، نیکی کا حکم دے سکے اور بدی سے روک سکے کیونکہ وہ خود اس منزل تک پہونچا ہے اور بعد میں اسے یہ حکم ملا ہے کہ وہ لوگوں کو اس مقام تک لےجائے جہاں وہ خود فائز ہوا ہے۔
معلوم ہوا کہ حسینی تحریک کو امر بالمعروف اورنھی عن المنکرسے یہ عظمت اور یہ قدر و قمیت حاصل ہوئی ہے۔تو اس اصول کو پہچان لینا چاہئے کہ یہ اصول کتنی اہمیت رکھتا ہے جو امام حسین علیہ السلام اپنے آپ کو اس کی خاطر شہید کردیتے ہیں اور وہ کتنا شائستہ ہے جو اس کی خاطر امام حسین علیہ السلام کی طرح قربان ہو جائے۔
امر بالمعروف اورنھی عن المنکر وہ بے مثال اصول ہے جو اسلام کی بقا کا ضامن ہے۔اصطلا ح فلسفہ میں ” علت مبقیہ“ ہے یعنی باقی رکھنے والا عامل ہے، واقعی اگر یہ اصول نہ ہو تو اسلام بھی نہ رہے۔یہ مسلمانوں کی حالت کی برابر جانچ پڑتال کرتا رہتا ہے۔آیا کوئی کارخانہ ماہر انجینئر وں کی مسلسل جانچ پڑتال کے بغیر، جو یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ اس کی کیا حالت ہے باقی رہ سکتا ہے؟ کیایہ اصولی طور پر ممکن ہے کہ کوئی کارخانہ بدستور اپنے حال پر قائم رہے، ہم اس کے متعلق بالکل ہی نہ سوچیں اور پھر بھی وہ اپنی وضع پرچلتا رہے؟ ہرگز نھیں! یہی حال جامعہ کا ہے۔ایک اسلامی جامعہ کا یہی طور ہے کہ بلکہ سو درجہ بلند و بالا ۔آپ کون سا انسان ایسا پیش کرسکتے ہیں جو معالج کا محتاج نہ ہو؟! یا تو انسان خود ہی اپنے جسم کا معالج ہو یا دوسرے معالج ہوں جو اس کا علاج کریں۔ آنکھ کا ماہر، حلق ، ناک کا ماہر، مزاج کا ماہر، اعصاب کا ماہر، انسان ہمیشہ طرح طرح کے معالجوں پرنظر ڈالتا رہتا ہے تاکہ وہ اس کے جسم کا معائنہ کریں اوریہ دیکھیں کہ اس کی کیا حالت ہے۔توکیا پھر معاشرہ غور وفکر اور دیکھ بھال کا محتاج نھیں ہوتا؟ کیا جامعہ جانچ پڑتال نھیں چاہتا؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ ہرگز نھیں! امام حسین علیہ السلام امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کی خاطر یعنی اس بنیادی اصول کی خاطر جو اسلامی جامعہ کی بقا کا ضامن ہے، شہید ہوئے۔ یہ اصول اگر نہ ہو تو انجام معاشرہ کا پارہ پارہ ہوجانا، بکھر جانا، اس کا انجام جماعت کے ڈھانچے کا ٹوٹ جانا، نابودی اور بربادی ہے، ہاں! یہ اصول اتنی اہمیت رکھتا ہے۔اس ضمن میں قرآن کی بہت سی آ یتیں موجود ہیں۔قرآن کریم کچھ قدیم معاشروں کا ذکر کرتا اور کہتا ہے کہ یہ بکھر گئے، ہلاک ہوگئے، تباہ و برباد ہوگئے۔وہ کہتا ہے کہ اس کاموجب یہ تھا کہ ان معاشروں میں اصلاح کی توانائی اور قوت نھیں رہ گئی تھی۔ امر بالمعروف اورنھی عن المنکرکی قوت نہ تھی بلکہ ان لوگوں میں امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کا احساس بھی مردہ ہو چکا تھا۔

امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کے شرائط

اب ہم دیکھتے ہیں کہ امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کی کون کون سی شرائط ہیں اور ہم کس طرح امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کر سکتے ہیں سب سے پہلے تو یہ بات ہے کہ معروف اور منکر کے کیا معنی ہیں؟ امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کسے کہتے ہیں؟ اسلام نے یہ نھیں چاہا کہ امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کے موضوع کو مقررہ اشیاء جیسے عبادات، معاملات، اخلاقیات، گھریلو احاطے وغیرہ میں محدود کرے اس لئے ایک عام لفظ استعمال کیا ہے” معروف“ یعنی ہر موقع پر (نیکی اور بھلائی کے ہر کام میں) امر بالمعروف لازم ہے۔اس کی ضد ہر برا کام ہے۔اس نے شرک یا فسق یا غیبت یا جھوٹ یا عیب جوئی یا تفرقہ اندازی یا سود یا ریا اور منافقت نھیں کہا بلکہ منکر کہا یعنی ہر چیز جو بری اور خراب ہے۔”امر“ یعنی حکم” نھی“ یعنی ممانعت، روک ٹوک۔ لیکن یہ حکم کیا ہے؟ کیا اس حکم سے لفظی حکم مراد ہے؟ کیا امر بالمعروف اورنھی عن المنکر صرف زبانی معاملہ ہے؟ کیا صرف زبان سے ہی نیکی کا حکم دینا چاہئے اور زبان سے ہی بدی کی ممانعت کرنا چاہئے؟ نھیں! امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کا تعلق دل اور ضمیر سے ہے، زبان سے ہے، ہاتھ اور عمل سے بھی ہے۔آپ کو چاہئے کہ اپنے پورے وجود کے ساتھ آمر معروف اور ناہی منکر ہوں۔حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے لوگوں نے پوچھا کہ قرآن نے روئے زمین کے بعض جانداروں کے لئے کہا کہ وہ مردہ ہیں۔اس کا کیا مطلب ہے؟ میت الاحیاء زندوں میں مردہ کون ہے اور کیسے ہے؟ آپ نے جواب دیا:
انسانوں کے کئی طبقے ہیں۔بعض لوگ جب منکرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دل پراثر ہوتا ہے، ان کی ہڈیوں کا گودا تک جلنے لگتا ہے، ان کی زبان کھل جاتی ہے، وہ تنقید کرنے لگتے ہیں، کہہ اٹھتے ہیں، ہدایت کرتے ہیں۔اس پر بھی قناعت نھیں کرتے او رعمل پر اتر آتے ہیں۔جس قسم کے عمل سے ممکن ہوتا ہے، نرمی سے، سختی سے، مار پیٹ سے یا ڈنڈے سے ہو غرض جس عمل سے بھی وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اس منکر سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے، اسے انجام دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا یہ تمام زندوں کا ایک زندہ ہے۔بعض دوسرے ایسے ہوتے ہیں کہ جس وقت منکرات کودیکھتے ہیں ان کے دل سلگ اٹھتے ہیں، زبان سے کہنے لگتے ہیں، چیخنے چلانے لگتے ہیں، فریاد اور احتجاج کرتے ہیں، نصیحت کرتے ہیں، وعظ و پند دیتے ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو وہ میداں میں نھیں آتے۔آپ نے فرمایا: اس میں بھی زندگی کی دو تین خصلتیں ملتی ہیں لیکن زندگی کی ایک خصلت نھیں ملتی۔
تیسری قسم :اس شخص کے دل میں آگ لگ جاتی ہے لیکن صرف جوش میں آتا ہے، صرف ناخوش ہوتا ہے۔مثلاً اخبار پڑھتا ہے۔دیکھتا ہے لوگ خوشی کے دنوں میں امام حسین علیہ السلام کا احترام قائم نھیں رکھتے۔اخبارات پروپیگنڈا کرتے ہیں، ریڈیو چیختا ہے کہ اس وقت کو تفریح میں صرف کرو! کیا بیٹھے ہوئے ہو۔تہران کے آدھے لوگ چلے گئے۔ مختلف جگہوں پر پہنچ چکے ہیں۔تمھاری دس دن کی تعطیل ہے۔ یہ سب پڑھتا ہے۔دل میں کہتا ہے، یہ کیسے لوگ ہیں؟ یہ امام حسین علیہ السلام سے کیوں لڑتے ہیں؟ کس لئے ایک شخص بھی ایک لفظ کسی اخبار میں یا دوسری جگہ نھیں لکھتا کہ بابا تفریح کا وقت او ربھی ہے۔
ہمارا دعویٰ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا ہماری روح سے تعلق ہے ۔ہم اس مکتب سے فائدہ اٹھار ہے ہیں۔یہ ملک امام حسین علیہ السلام کا ملک ہے، شیعہ ملک ہے، امام حسین علیہ السلام اس قوم کا نعرہ ہیں، ملک کا نعرہ ہیں، یہ امام حسین علیہ السلام کی توہین ہے کہ آپ ان دنوں میں سیرو تفریح کے لئے چلے جائیں! وہ اخبار میں پڑھتا ہے، جوش میں بھی آتا ہے لیکن اس کے لئے تیار نھیں ہے کہ اپنے دوست سے بھی یہ کہے کہ امام حسین علیہ السلام کا احترام قائم رکھ! امام حسین علیہ السلام کے سوئم تک ٹھہرا رہا ۔کم سے کم ابا عبد اللہ کے احترام کی اتنی سی قدر محفوظ رکھ۔ ہم نے امام حسین علیہ السلام کی حفاظت نھیں کی ہے۔امام حسین علیہ السلام ہیں کہ جنھوں نے اب تک ہماری حفاظت کی ہے۔
علامہ اقبال رحمۃ اللہ کے قول کے مطابق: ” مسلمانوں نے کسی وقت بھی اسلام کی حفاظت نھیں کی ہے۔ یہ ہمیشہ اسلام ہی رہا ہے کہ جس نے مسلمانوں کی نگہداری کی ہے“ ملک کو جس وقت کوئی سنگین خطرہ لاحق ہوتا ہے تب آپ دیکھیں گے کہ لوگوں کو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور نہج البلاغہ یاد آتے ہیں۔امام حسین علیہ السلام یاد آتے ہیں۔
ہم ان لوگوں میں سے ہیں کہ : <اذا رکبوا الفلک دعواللہ مخلصین لہ الدین فلما نجٰھم الی البر اذا ھم یشرکون>(عنکبوت/۶۵) کچھ لوگ جو کشتی میں سوار ہوتے ہیں جس وقت طوفان آتا ہے تو نہایت خلوص سے یا اللہ یااللہ، یاخدا یاخداکی آوازیں بلند کرنے لگتے ہیں۔وہ اس وقت خدا کے سواء اورکسی چیز کے بارے میں نھیں سوچتے لیکن جس وقت خدا انھیں بچا لیتا ہے اور ساحل نجات تک پہونچا دیتا ہے ، جس وقت وہ خطرے سے دور ہو جاتے ہیں تو بالکل بھول جاتے ہیں، خدا کے منکر ہوجاتے ہیں، خدا کا شریک ٹھہرا لیتے ہیں۔کیا ہم نے اپنے ملک میں نھیں دیکھا کہ جو لوگ امام حسین علیہ السلام اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا نام بھی نھیں لیتے تھے۔آج سے پچیس سال پہلے لے رہے تھے، جیسے ہی مصیبت سے نجات ملی تو کہنے لگے ہمارے یہاں رستم تھا، اسفندیار تھا، نوشیروان تھا! جس وقت اس قوم کو کوئی خطرہ درپیش ہوتا تو پھر رستم کون سے جہنم میں ہوتا ہے؟ امام حسین علیہ السلام سے لڑتے ہیں۔ ان کامقابل کا قہرمان سجاتے ہیں! بالکل نھیں شرماتے ! بجائے اس کے کہ اپنے بیٹے کا نام” حسین“ رکھ کر فخر کریں”رستم، فریدو اور جمشید“ رکھتے ہیں۔
خدا کی قسم یہ سب کچھ اسلام کے خلاف جنگ ہے۔اسلام کو مار ڈالنا ہے۔دین کے شعار کو زندہ رکھئے۔ دین کے شعار میں سے ایک بچوں کے”نام“ ہیں۔ میری سمجھ میں لوگوں کی ایک بات نھیں آتی کہ فلاں نام رواج سے اتر گیا، پراناہوگیا۔ کیا مطلب؟ کیا نام میں بھی نیاپن اور پرانا پن ہوتا ہے؟ چونکہ فلاں خادمہ کا نام فاطمہ ہے اس لئے فاطمہ خادمہ کا نام ہے۔نہایت عجیب بات ہے۔اب ہم اپنی بیٹیوں کا نام فاطمہ نہ رکھیں! یہ بھی امر بالمعروف اورنھی عن المنکر ہے۔ امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کی ایک منزل یہ بھی ہے کہ آپ اپنے بیٹیوں کے اسلامی نام رکھئے۔(یہ امر بالمعروف ہے) اور غیر اسلامی ناموں کی مخالفت کیجئے (یہ نھی عن المنکر ہے) اپنے اداروں کے نام اسلامی رکھئے۔آپ مدرسے کی بنیاد رکھتے ہیں، شفاخانہ بناتے ہیں۔ ان میں یہ بات مشترک رکھئے۔اسلامی نام زندہ رکھئے۔ اسلام کی زبان زندہ رکھئے۔عربی زبان ایک قوم کی زبان نھیں ہے۔اسلام کی زبان ہے۔عربی زبان عرب کی زبان نھیں ہے اسلامی کی زبان ہے۔اگر قرآن نہ ہوتا تو دنیا میں اس زبان کا بھی مطلق وجود نہ ہوتا۔ہمار ا اہم فرض یہ ہے کہ ہم اس زبان کی حفاظت کریں۔جو ثقافت اور جوتہذیب زندہ رہنا چاہتی ہے اس کی زبان کو زندہ رہنا چاہئے۔اگر اس کی زبان مرگئی توسمجھئے کہ وہ خود بھی مردہ ہوگئی۔ اس کھلم کھلا لڑائی پر جو آپ عربی زبان کے خلاف دیکھتے ہیں آپ کو چونکنا اورسمجھنا چاہئے، شعور رکھئے، عقل رکھئے، خدا کی قسم یہ اسلام سے جنگ ہے۔یہ حروف تہجی (الف ، ب) سے لڑائی نھیں ہے۔ خدا کی قسم ہم پر عربی زبان کی طرف سے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اسلام کی اس زبان کی حفاظت کریں، اسے بچائیں۔آپ کی کسی نے مزاحمت کی ہے؟ کلاسیں بنائیں اور جو عربی جانتے ہیں انھیں بلائیے، آپ خود، آپکی بیویاں، آپ کے بچے یہ زبان سیکھیں۔اگر آپ سیکھ لیں گے تونہ صرف یہ کہ اس سے کوئی نقصان نھیں ہوگا بلکہ آپ کو بہت فائد ہوگا کیونکہ یہ بھی ایک دنیا کی زندہ زبان ہے۔یہ جو انگریزی زبان والوں نے اپنی زبان کی اشاعت کی اور اسے اس حد تک ہم پر تھوپا اور مسلط کیا کہ وہ ہمارے گھروں کے اندر بھی نفوذ کر گئی ہے آخر کس لئے؟ کیاان کے دل ہمارے حال پر کڑھتے تھے؟ یہ صرف اس لئے ہوا کہ وہ اپنی عادات ہم پر تھوپیں تاکہ ہماری روح کو حقیر و ناچیز بنا دیں۔
ہم مسلمان کتنے غافل تھے اور کتنے غافل ہیں؟ نہ صرف ہم ایرانی بلکہ دنیائے اسلام میں جس جگہ انسان پہنچتا ہے یہ دیکھتا ہے کہ صدیوں سے سورہے ہیں۔خوش قسمتی سے رفتہ رفتہ مسلمان جاگنے لگے ہیں۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جس وقت دو مختلف ملکوں کے دو مسلمان مکہ یا مدینہ میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے کی زبان نھیں سمجھ پاتے مجبوراً انگریزی زبان کے وسیلے سے کام لیتے ہیں۔یہ تین سو چار سو سال کی اسکیمیں ہیں۔ کیا اب بھی وقت نھیں آیا کہ ہم اسکیموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں؟ <کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تاٴمرون بالمعروف وتنھون عن المنکر> (آل عمران/۱۱۰) یہ عظیم فریضہ (امر بالمعروف اور نھی عن المنکر) دو رکن اور دو بنیادی شرطیں رکھتا ہے۔ایک رکن اور شرط رشد، آگاہی اور بصیرت ہے۔ میں نے جو ابھی امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کہا تو لازمی طور پر ہم سب نے یہ سوچا کہ اچھا یہاں سے چلیں اور امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کریں۔میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ میں اور آپ کچھ سمجھے بھی کہ امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کیا ہے اور کس طرح کیا جاتا ہے؟ ابھی تو ہمارا امر بالمعروف اورنھی عن المنکر لوگوں کے لباس کے بٹن اور جوتے کے بندوں کے متعلق رہا ہے، لوگوں کے سر کے بالوں اور لباس کی سلائی کے آس پاس رہا ہے! ہم معروف کو کیا پہچانیں کہ کیا ہے؟ منکر کو کیا جانیں کہ کیاہے؟ ہم کبھی معروف کو منکر سمجھ بیٹھتے ہیں اور کبھی منکر کو معروف۔ بہتر یہی ہے کہ ہم جاہل لوگ امر بالمعروف اورنھی عن المنکر نہ کریں۔ امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کے نام سے کیسے کیسے منکرات نھیں ہوئے؟ آگاہی اور بصیرت چاہتی ہے، دانا و بینا، کار آزمودہ چاہتی ہے، حقائق شناس، نفسیات اور جامعہ شناسی چاہتی ہے تاکہ انسان سمجھ لے کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کس طرح کرے؟ یعنی نیکی کی راہ کو پہچانے اور جانے کہ نیکی کہاں ہے؟ منکر کو پہچانے، منکر کو جڑسے اکھاڑ دے کہ اس کا سرچشمہ کہاں ہے؟ اسی لئے تو دین کے اماموں نے فرمایا: بہتر ہے کہ جاہل امر بالمعروف اورنھی عن المنکرنہ کرے کیوں؟” لانہ ما یفسد اکثر مما یصلحہ“۔
وجہ یہ ہے کہ جس وقت جاہل امر بالمعروف اورنھی عن المنکر کو بہتر کرنا چاہتا ہے آزمودہ نہ ہونے کی وجہ سے بدتر کر بیٹھتا ہے۔اس ضمن میں بکثرت مثالیں ملتی ہیں۔شاید آپ کہیں ہم جاہل ہیں اس لئے ہم پر امر بالمعروف اورنھی عن المنکرواجب نھیں رہا! آپ کو جواب دیا جا چکا ہے۔ قرآن فرماتا ہے: <یہلک من ہلک عن بینۃ ویحی من حی عن بینۃ لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل>(نساء/۱۶۵)
ایک معصوم علیہ السلام سے لوگ پوچھتے ہیں: بعض لوگ جاہل ہوتے ہیں۔ قیامت میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ آپ فرماتے ہیں: اس دن ایک عالم کو لائیں گے جس نے عمل نھیں کیا ہے۔ اس سے پوچھیں گے تو نے عمل کیوں نھیں کیا؟ جواب نھیں بن پڑتا تو وہ اپنے شرمناک او ر خوفناک مقدر سے دوچار ہوگا۔ ایک آدمی کو لائیں گے اور پوچھیں گے تو نے عمل کیوں نھیں کیا؟ وہ کہے گا کہ میں نھیں سمجھ سکا میں نھیں جان پایا! وہ کہیں گے:” ھلا تعلمت“ میں نھیں جانتا، میں نھیں سمجھتا بھی کوئی عذر ہوا؟ خدا نے عقل کس لئے پیدا کی ہے؟ اس لئے کہ تو سمجھے، بال کی کھال نکالے، کریدے، تحقیق کرے۔ تجھے ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے کہ جو نہ صرف اپنے ہی زمانے کے حالات سمجھیں بلکہ آئندہ کے حالات بھی سمجھیں۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا:” <ولا نتخوف قارعۃ حتی تحل بنا>“(نہج البلاغہ، خطبہ ۲۳) ہمارے لوگ نادان رہے ہیں۔وہ ان بلاؤں کو جو ان پر نازل ہوتی ہیں اس وقت تک نھیں پہچان پاتے جب تک کہ وہ ان کے سامنے نہ آجائیں۔ ان میں پیش بینی نھیں ہے۔ پیش بینی کیوں نھیں ہے؟ انھیں پہلے سے دیکھ اور سمجھ لینا چاہئے۔انھیں نہ صرف اپنے زمانے کے حالات اور طور طریقہ سے آگاہ ہونا چاہئے بلکہ معاشرے کو اس حد تک پہچان لینا چاہئے کہ جو مصیبتیں مستقبل میں پیش آنے والی ہوں ان کی تشخیص کرلیں اورسمجھ لیں کہ پچاس سال بعد ایسا ہوگا، <ولقد آتینا ابراہیم رشدہ>
امام حسین علیہ السلام کی تحریک کوجو چیز زیادہ اہمیت بحشتی ہے وہ روشن بینی ہے روشن بینی کا کیا مطلب ہے؟ یعنی امام حسین علیہ السلام نے اس روز کچی اینٹ میں وہ چیزیں دیکھ لیں جو دوسرے لوگ آئینے میں بھی نھیں دیکھ سکتے تھے۔ہم آج بیٹھے ہوئے اس زمانے کے حالات کی تشریح کررہے ہیں لیکن جو لوگ اس زمانہ میں موجود تھے وہ اس طرح نھیں سمجھ پائے جس طرح امام حسین علیہ السلام سمجھ رہے تھے۔
نویں محرم کی رات ہے۔ہم خدا کی راہ کے اس مجاہد، اس امر بالمعروف اور ناہی عن المنکر اور اس ہستی یعنی حضرت عباس علیہ السلام کا ذکر خیر کرتے ہیں جن سے امام حسین علیہ السلام کمال راضی تھے۔اس زمانے میں آج کے جیسے رابطے نھیں تھے۔شام میں جوحادثات وواقعات گزر جاتے تھے ان کی کوفہ یا مدینہ کے رہنے والوں کو بہت دیر میں خبر ہوتی تھی اور کبھی کبھی خبر ہوتی بھی نھیں تھی ۔اس کا بہترین ثبوت مدینہ والوں کا قصہ ہے۔امام حسین علیہ السلام مدینہ میں قیام کرتے ہیں۔بیعت نھیں کرتے۔مکہ چلے جاتے ہیں۔اس کے بعد بہت سے واقعات پیش آتے ہیں یہاں تک کہ وہ شہید ہو جاتے ہیں۔مدینہ کے عوام بیدا ر ہو کر اپنی آنکھیں مل مل کے چونکتے ہیں۔ ارے! امام حسین علیہ السلام شہید ہوگئے؟ کیوں؟ دارالخلافت شام کو چل کر دیکھیں تو یہ قصہ کیا ہوا؟
اس کام کے لئے ساتھ آٹھ آدمیوں کی ایک جماعت تیار کرتے ہیں۔وہ شام جاتے ہیں۔وہاں کافی دن تک رہتے ہیں۔تحقیق کرتے ہیں یہاں تک کہ خلیفہ سے بھی ملتے ہیں۔وہاں کے حالات اور طور طریقے اچھی طرح دیکھتے ہیں۔واپس آجاتے ہیں۔جس وقت لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ قصہ کیا ہوا؟ تو کہتے ہیں یہ نہ پوچھو! ہم جتنے دن تک شام میں رہے ڈرتے ہی رہے کہ اب آسمان سے پتھر برستے ہیں اور اب برستے ہیں اور ہم اب فنا ہوجاتے ہیں۔ وہ بات بھی جو اباعبد اللہ علیہ السلام نے کہی: ”<وعلی الاسلام السلام اذ قد بلیت الامۃ براع مثل یزید>“ سمجھتے ہیں اور مانتے ہیں کہ سچ کہا امام حسین علیہ السلام نے، لوگوں نے پوچھا آخر کیا قصہ ہوا؟ وہ بولے بس ہم تم سے اتناہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس شخص کے پاس سے آرہے ہیں جو اعلانیہ شراب پیتا ہے، کھلم کھلا کتے پالتا ہے، ہر گناہ کرتا ہے یہاں تک کہ انھوں نے اپنی زبان میں کہا، اپنی ماں سے بھی زنا کرتا، اپنی محرم عورتوں سے زنا کرتاہے۔ وہ لوگ امام حسین علیہ السلام کی آخری پیش بینی کو سمجھ گئے کہ امام حسین علیہ السلام ان باتوں کو پہلے دن سے جانتے تھے، عاشور کے دن بھی آپ نے فرمایا تھا کہ یہ مجھے مار ڈالیں گے لیکن میں آج تم سے کہے دیتا ہوں کہ میرے قتل کے بعد یہ ہرگز اپنی حکومت جاری نھیں رکھ سکیں گے۔آل ابوسفیان چلی گئی۔ آل ابوسفیان توبہت ہی جلدی چلی گئی بلکہ آل امیہ بھی اپنی حکومت قائم نہ رکھ سکی کیونکہ بعد میں بنی عباس نے اسی بنیاد پر آکرتو ان سے خلافت چھینی اور پانچ سو سال تک حکومت کی، ایسی صورت میں جبکہ کربلا کے حادثے کے بعد بنی امیہ کی حکومت برابر ڈگمگاتی رہی اس واقعے کا اس سے اچھا اور زیادہ کیا اثر ہو سکتا ہے کہ خود بنی امیہ میں اس نے مخالفت پیدا کردی اور روحانی قوت کو افزائش بخشی۔
اس ظالم ابن زیاد کا عثمان بن زیاد نامی ایک بھائی تھا۔عثمان نے آکر اپنے بھائی سے کہا:” اے بھائی میرا جی چاہتا تھا کہ زیاد کی تمام اولاد مفلس، ذلت، نحوست اور بدقسمتی میں مبتلا ہو جاتی ہے لیکن ایسا گناہ ہمارے خاندان میں ہوتا“ اس کی ماں مرجانہ ایک فاحشہ عورت ہے لیکن جب اس کے بیٹے نے یہ کام کیا تو اس نے بیٹے سے کہا:اے بیٹے! تو نے یہ کام تو کرلیا لیکن یاد رکھ کہ تو بہشت کی خوشبو نھیں سونگھ سکے گا۔مروان بن حکم کا جو ازلی اور ابدی شقی ہے ایک بھائی ہے جس کا نام یحییٰ بن حکم ہے۔یزید کی محفل میں یحییٰ معترض ہو کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ” سبحا ن اللہ! اولاد سمیہ!“ یعنی زیاد کی ماں کی اولاد، سمیہ کی بیٹیاں تو قابل احترام ہوں لیکن تو نے آل پیغمبر (ص) کو اس حالت میں اس مجلس میں حاضر کردیاہے؟ دیکھئے! حسینی علیہ السلام آوازا نھیں کے گھروں سے اٹھی۔
آپ نے یزید کی بیوی ہند کا قصہ بھی سنا ہوگا کہ یزید کے گھر میں سے نکلی اور ایک معترضہ کی حیثیت سے اس حالت میں آئی کہ یزید انکار کرنے اور یہ کہنے پرمجبور ہو گیا کہ میں اس کام کے لئے مطلق رضامند نھیں تھا۔یہ کام میں نے نھیں کیا ہے۔عبید اللہ ابن زیاد نے اپنی مرضی سے کیا ہے۔امام حسین علیہ السلام کی آخری پیش بینی یہ تھی، یزید اس کے بعد دو تین سال تک پر ادبار حکومت کرتا ہے اور مرجاتا ہے۔اس کا بیٹا معاویہ بن یزید جو اس کا ولی عہد اور خلیفہ ہے اور معاویہ نے جس کی خاطر اس رنگ ڈھنگ کی بنیاد رکھی تھی چالیس دن گزرنے کے بعدمنبر پر جا کر بولا: اے لوگو! میرے دادا معاویہ نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے جنگ کی اور حق میرے داد کی طرف نھیں تھا حضرت علی علیہ السلام کی طرف تھا، میرے باپ یزید نے امام حسین علیہ السلام سے جنگ کی جبکہ حق میرے باپ کے طرف نھیں امام حسین علیہ السلام کی طرف تھا میں ایسے باپ سے بیزار ی چاہتا ہوں اور اپنے آپ کو خلافت کا سزاوار نھیں سمجھتا۔ میں اس غرض سے کہ اپنے باپ اور دادا کے گناہوں کا مرتکب نہ ہوں اعلان کرتا ہوں کہ خلافت سے کنارہ کش ہوتا ہوں۔ یہ امام حسین علیہ السلام کی قوت تھی۔حقیقت کی قوت تھی جس نے دوست اور دشمن سب پر اثر ڈالا۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ” <رحم اللہ عمی عباس لقد آثروابلی بلاء حسنا> “ خدا ہمارے چچا حضرت عباس علیہ السلام پر رحمت نازل کرے۔انھوں نے کیسا اچھا امتحان دیا، ایثار کیا اور بہت بڑی آزمائش جھیلی۔ چچا حضرت عباس علیہ السلام کا مقام خدا کے نزدیک ایسا ہے جس پر تمام شہداء رشک کرتے ہیں۔اتنی شرافت، نیت کی اتنی پاکیزگی اور اس قدر جاں نثاری! ہم صرف پیکر عمل کو دیکھتے ہیں عمل کی روح پرنظر نھیں ڈالتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ یہ بھی کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ عاشور کی رات ہے، حضرت عباس علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھے ہوتے ہیں۔اسی وقت دشمن کا ایک سردار آتا ہے اور آواز دیتا ہے، عباس بن علی علیہ السلام اور ان کے بھائیوں سے کہہ دو کہ یہاں آئیں ۔ حضرت عباس علیہ السلام سنتے ہیں لیکن سنی ان سنی کردیتے پرواہ نھیں کرتے امام حسین علیہ السلام کے سامنے ادب سے بدستور بیٹھے ہوئے ہیں کہ آقا نے ان سے فرمایا: یہ فاسق ہے تو کیا ہوا اسے جواب تو دو۔آپ باہر آتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ شمر ذی الجوشن ہے، وہ مادر حضرت عباس علیہ السلام کی طرف سے دور کا رشتہ رکھتا تھا کیونکہ وہ اور مادر حضرت عباس علیہ السلام دونوں ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جس وقت وہ کوفہ سے چلا تو حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام اور ان کے مادری بھائیوں کے لئے ایک امان نامہ لیتا آیا ہے۔ اپنے خیال سے اس نے ایک خدمت انجام دی ہے۔ جس وقت اس نے اپنی بات کہی حضرت عباس علیہ السلام نے جھڑک دیا، آپ نے فرمایا: خدا تجھ پر اور اس شخص پر لعنت کرے جس نے یہ امان نامہ تیرے ہاتھ بھیجا ہے۔تو نے مجھے کیا سمجھا ہے؟ تو نے میرے بارے میں کیا سوچا ہے؟ تو نے یہ خیال کیا ہے کہ میں ایسا شخص ہوں جو اپنی جان بچانے کی خاطر اپنے امام بھائی اور بھائی حسین ابن علی علیہ السلام کو یہاں چھوڑ کر تیرے پیچھے چلا آؤں گا؟ میں جس گود میں پلا ہوں اور مین نے جس چھاتی سے دودھ پیا ہے اس نے مجھے ایسی تربیت نھیں دی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام کے جناب ام البنین سے چار بیٹے ہیں۔مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام خاص طور پر اپنے بھائی جناب عقیل سے کہتے ہیں کہ میرے لئے ایک بیوی کا انتخاب کرو جو ” ولدتھا الفحولہ“ بہادروں کی نسل سے ہو، جس نے بہادروں سے ورثہ پایا ہو” بہ لتلدلی ولداً شجاعاً“ میں چاہتاہوں کہ اس سے میرا ایک بہادر بیٹاپیدا ہو۔ بلاشبہ اس گفتگو میں تو ایسی کوئی بات نھیں ہے جس سے معلوم ہوتا کہ اس سے حضرت علی علیہ السلام کامقصود و منشا کیا ہے لیکن جو لوگ حضرت علی علیہ السلام کی پیش بینی کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اس کام کا انجام پہلے سے دیکھ رہے تھے۔جناب عقیل جناب ام البنین کا انتخاب کرتے ہیں۔آقا سے عرض کرتے ہیں کہ یہ خاتون ویسی ہی ہیں جیسی آپ چاہتے ہیں۔ ان خاتون سے چار بیٹے پیداہوئے جن میں سب سے بڑے اباالفضل العباس علیہ السلام ہیں۔ چاروں بیٹے کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ رہتے ہیں اور شہید ہو جاتے ہیں۔جس وقت بنی ہاشم کی باری آئی حضرت ابا الفضل العباس علیہ السلام نے جو سب سے بڑے بھائی تھے اپنے بھائیوں سے کہا: اے میرے بھائیو! میرادل چاہتا ہے کہ تم مجھ سے پہلے میدان جنگ میں لڑنے کے لئے جاؤ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ بھائی کی شہادت کا اجر سمجھ لوں۔ وہ بولے جیسا آپکا حکم ہو، تینوں شہید ہوگئے، بعد میں اباالفضل العباس علیہ السلام نکلے۔ان بزرگ خاتون (جناب ام البنین) کو جو اس وقت تک زندہ تھیں لیکن کربلا میںموجود نھیں تھیں اپنے چاروں نیک بیٹوں کی شہادت کا علم ہوا تو ان کے سوگ میں بیٹھ گئیں۔انھیں مدینہ میں خبر ملی کہ تمھارے چاروں بیٹے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں شہید ہوگئے۔ وہ ان بیٹوں کے لئے فریاد و ماتم کرتی رہتی تھیں۔کبھی عراق کے راستے پر اور کبھی بقیع میں جا بیٹھتی تھیں اور دل ہلا دینے والے بین کرتی تھیں۔دوسری عورتیں بھی ان کے گرد جمع ہو جایا کرتی تھیں۔
مروان ابن حکم جو مدینہ کا حاکم تھا سخت دشمنی اور سنگدلی کے باوجود وہاں آجایا کرتا تھا، کھڑا ہو جایا کرتا تھا اور رویا کرتا تھا۔ان کا ایک نوحہ یہ ہے:

لا تدعونی ویک ام البنین
کن لی ہنون ادعی بھم
تذکرینی بلیوث العرین
والیوم اصبحت ولا من بنین

اے بی بیو! میں یہ چاہتی ہوںکہ اب تم مجھے” ام البنین“ کے لقب سے نہ پکارو کیونکہ ”ام البنین “ بیٹوں کی ماں، بہادروں کی ماںکو کہتے ہیں۔ مجھے اب اس نام سے نہ پکارو کیونکہ تم جس وقت اس نام سے پکاروگی مجھے اپنے بہادر بیٹوں کی یاد آئے گی اور میرے دل کی آگ جاگ اٹھے گی۔ میں ایک دن ”ام البنین“ تھی لیکن اب ”ام البنین“ اور بیٹوں کی ماں نھیں ہوں۔حضرت ابا الفضل العباس علیہ السلام کے لئے بھی ایک خصوصی مرثیہ ہے:

یا من راٴی العباس کر علی جماہیر النقد
ووراہ من ابناء حیدر کل لیث ذی لبد
انبئت ان ابنی اصیت براسہ مقطوع ید
ویلی علی شبلی امال براٴسہ ضرب العمد
لوکان سیفک یدیدک لمادنی منک احد

آپ فرماتی ہیں: اے وہ آنکھ جو کربلا میں موجود تھی اور وہ منظر جب میرا عباس (میر ا شیر بچہ) حملہ کرتا تھا دیکھ رہی تھی تو نے دیکھا ہے! اے لوگو جو وہاں موجود تھے! مجھ سے ایک قصہ بیان کیا ہے میںنھیں جانتی کہ یہ قصہ سچ ہے یا نھیں؟
”انبئت ان ابنی اصیب براٴسہ مقطوع ید“مجھے ایک بہت جانگداز خبر ملی ہے۔نجانے صحیح ہے یا نھیں؟ مجھ سے کہا گیا ہے کہ تمھارے فرزند کے پہلے تو ہاتھ کاٹے گئے پھر جب تیرے فرزند کے ہاتھ نھیں رہے تو ایک لعین شقی نے آکراس کے سر پر لوہے کا گرز مارا ”ویلی علی شبلی امال براٴسہ ضرب العمد“ افسوس صد افسوس! کہتے ہیں کہ میرے شیر بچے کے سر پر فولادی گرز لگا۔ پھر آپ فرماتی ہیں، اے عباس علیہ السلام میرے کلیجے کے ٹکڑے ! میرے پیارے فرزند ! میں خود جانتی ہوں کہ اگر تیرے بدن میں ہاتھ ہوتے تو کوئی شخص تیرے پاس پھٹکنے کی بھی جراٴت نھیں کرسکتا تھا۔
ولا حول وال قوۃ الا بااللہ العلی العظیم



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
3+3 =