پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|

امر بالمعروف اور عن المنکر کے سلسلے میں ہمارا کارنامہ


آیت اللہ شہید مرتضی مطہری


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
<التائبون العابدون الحامدون السائحون الراکعون الساجدون الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر والحافظون لحدود اللہ و بشر الموٴمنین> (توبہ /۱۱۲)
”حسینی تحریک میں امر بالمعروف اور نھی عن المنکرکا عنصر“ کے متعلق میں گذشتہ پانچ مجالس میں جو باتیں عرض کرچکاہوں آج انکا نتیجہ بیان کررہا ہوں۔ بطور خلاصہ عرض ہے کہ میں نے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے بارے میں سب سے پہلے یہ کہا تھا کہ اسلامی نقطہٴ نظر سے معروف اور منکر کی کوئی حد بندی نھیں ہوسکتی۔ اسلام کے تمام مثبت مقاصد معروف اور اسلام کے تمام منفی ہدف منکر میں داخل ہیں اور اگرچہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر سے حکم اور ممانعت مراد ہے لیکن خود قرآن مجید سے جو قرائن ملتے ہیں اور اسلام کی قطعی احادیث کی رو سے اور اس دلیل سے کہ یہ ہماری اسلامی فقہ کے مسلمات میں سے ہے اور ہماری اسلامی تاریخ بھی گواہی دیتی ہے اوراس سے صرف لفظی امر اور نھی مراد نھیں ہے بلکہ اس سے اسلامی مقاصد کے حصول کی خاطر ہر شرعی وسیلے سے کام لینا مراد ہے۔ چنانچہ ہم امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی روح کو اپنی زبان میں بیان کرنا چاہیں تو ہمیں کہنا چاہئے کہ اسلامی مقاصد کے حصول کی خاطر ہر شرعی وسیلے کا استعمال لازمی ہے۔
میں جو بات بطور خلاصہ کہنا چاہتا ہوں وہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے بارے میں ہمارا کارنامہ ہے جیسا کہ میں نے پچھلی مجلسوں میں عرض کیا ہے یہ اصول اسلامی تعلیمات کا ایک رکن ہے۔ یہ ایک ایسا رکن ہے جو اسلامی کتب اور پیغمبر اکرم کے قول کا نص صریح ہے، اگر ختم ہو جائے تو تمام اسلامی تعلیمات ہی ختم ہو جائیں ۔اگر یہ اصول منسوخ ہو جائے تو اسلامی جامعہ کی وہ صورت نھیں رہ سکے گی جو ہونی چاہئے۔
اس بارے میں ہمارا کارنامہ کیا ہے؟ بد قسمتی سے ہم مسلمانوں کا کارنامہ اس سلسلے میں کچھ روشن نھیں ہے! اول اسلام نے اس موضوع کو جتنی اہمیت دی ہے ہمیں اس کا اندازہ ہی نھیں ہے۔ دوسرے جہاں تک ہم نے اپنے حساب اور خیال کے مطابق اس موضوع کی اہمیت کا سراغ لگا بھی لیا ہے تو ہم میں اس کی شرائط موجود نھیں ہیں۔ مطلب کیا ہے؟ مطلب یہ ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے موضوع کو دوسرے الفاظ میں بیان فرمایا ہے جب آپ نے یہ کہا: <کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ>
”تم مسلمان سب کے سب دوسروں کے نگہبان اور چرواہے بھی ہو اور سبھی اپنی جگہ پر ایک دوسرے کے مسئول اورذمہ دار ہو۔ اس سے بہتر تشریح نھیں ہوسکتی“۔
یعنی اسلامی تعلیمات سے متعلق اسلامی معاشرے کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لئے تمام مسلمانوں کی ایک قسم کی مشترک ذمہ داری اور ضمانت۔ یہ بھاری فریضہ اول تو کافی آگاہی اور اطلاعات کا تقاضہ کرتا ہے یعنی ناواقف فرد یا جماعت یہ فریضہ اچھی طرح انجام نھیں دے سکتی دوسرے ا سکے لئے طاقت بھی درکار ہے۔اتنی بڑی ذمہ داری اور اتنے بڑے فریضے کے لئے قوت اورتوانائی کی ضرورت ہے اور ہم اس موضوع کے لئے ضروری توانائی اور قوت حاصل نھیں کرپاتے ہیں قوت تو موجود ہے لیکن ہم اس قوت کو اکٹھا نھیں کرتے۔ صحیح اور قطعی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد تقریباً سات سو ملین ہے یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ سات سو ملین افراد قدرت نھیں رکھتے ۔ یہ دنیا میں ایک عظیم قدرت بن کر نھیں رہ سکتے؟ اگر یہ جماعت اپنی تشکیل کی فکر کرے، اسلامی مقاصد کے حصول کی کوشش کرے، اسلامی اتحاد مستحکم کرے، اسلامی ہمدردی کو تقویت بخشے، اسلامی تعلیمات قائم کرے تو ممکن نھیں کہ دنیا اس کو اہمیت نہ دے جس طرح اسے آج کل کسی شمار میں نھیں لا رہی ہے۔ ناممکن ہے کہ امریکا ایسی قوت کو گنتی ہی میں نہ لائے اور بار بار اس کی سرزمینوں پر بمباری کرتا رہے لیکن شرط یہ ہے کہ ایک منظم قوت کی شکل اختیار کرلے منتشر اکائیوں کی صورت میں نہ رہیں، یہی قوموں کی شکل میں نہ رہیں جن میں ہمیشہ اختلافات اور تفریق کے اسباب پھیلائے جائیں۔ ایسی قوموں کی شکل میں نہ رہیں جو یہ نھیں سوچتیں کہ ان کی ایک حقیقی اورروحانی شخصیت ہے۔

اسلامی ارتباط، اتحاد، ہمدردی اورتعاون، اسلامی تعارف (قرآن کے مطابق) یعنی ایک دوسرے کو جانیں پہچانیں، ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہوں اور ایک دوسرے کی تقدیروں سے تعلق رکھیں انتہائی افسوسناک ہے بلکہ باعث شرم اور نہایت تاریک ہے؟

چونکہ میں اس موضوع پر اجمالی طور پر اور اشاروں میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں اس لئے اتنا ہی عرض کرتا ہوں کہ اگر یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہماری کیا کوشش رہی ہے تو امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے بارے میں اپنے کارناموں کی پڑتال کریں یعنی اپنے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے مظاہرے کی جانچ کیجئے اور دیکھئے کہ کیسا ہے؟ ہم اسلام کی خدمت کے عنوان سے تبلیغ کرتے ہیں، تبلیغی مجالس منعقد کرتے ہیں۔ ان تبلیغی مجالس کی بھی جانچ کیجئے اور دیکھئے کہ وہ تمام تبلیغات جو ان مجالس میں ہوتی ہیں کن حدود میں، کس سطح پر اور کن مسائل کے متعلق ہوتی ہیں۔ ہمارے اسلامی اتحاد، ہماری ہمدردی او رہمارے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا ایک اور مظاہرہ اسلامی کتابیں ہیں جو ہم نشرکرتے ہیں۔
ہمارے ملک میں اب بھی زیادہ تر جو کتابیں چھپتی ہیں وہ اسلامی اور مذہبی ہیں لیکن ان کتابوں کو جانچ کر دیکھئے کہ ان کتابوں کی معنوی قدر و قیمت کس قدر ہے؟ ان کے مصنفین کا معیار دریافت کیجئے او رپتہ لگائیے کہ ان کتابوں کے مضامین اور اہداف کیا ہیں؟ یہ مسلمانوں کی کس سطح کے لئے چھپ رہی ہیں؟ یعنی یہ سمجھئے کہ ہمارا امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کس سطح پر ہے، کس مرتبہ و مقام پرہے؟ دیکھئے کہ اسلام کے اجتماعی مسائل کے اندر دوسرے درجے کے مسائل زیادہ ہمارے خیالات پر چھائے رہتے ہیں اور ہم ثانوی مسائل کی خاطر ان کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔زیاد تر ہم کن مسائل کی خاطر بے چین ہوتے ہیں او ر کن مسائل سے غفلت برتتے ہیں ، الگ رہتے ہیں، ان کی پرواہ نھیں کرتے۔ ان باتوں کی ذرا چھان بین کیجئے تب ہم سماجی بلوغیت، امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی پائیداری اور امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے سلسلے میں اپنی کوششوں کا پتہ لگاسکیں گے۔
چودہ صدیوں میں سے پانچ چھ صدیاں تو ہمارے دور کی روشن ترین صدیاں رہی ہیں بہت عظیم تمدن کے مالک رہے ہیں کہ ہمارے بعض ماہر معاشرہ شناس مقررین نے اسی جلسے میں تقریر کی ہیں اسلامی تمدن کی اہمیت اور اصلیت کے بارے میں بحث کی ہے۔
کتاب خاتم پیامبران، کی دوسری جلد کے مقالے ”کارنامہ اسلام“ میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اسلامی تمدن کی اصلیت اور یہ کہ اس تمدن کو صرف اسلام نے پروان چڑھایا ہے او ریہ دنیا کے اہم ترین تمدنوں میں شامل ہے یعنی ان لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اگر پانچ یا تین تمدن درجہ اول کے تمدن ہوں تو ان میں سے ایک اسلامی تمدن ضرور ہے۔ ہم اس سلسلے میں کس قدر حساس ہیں؟ ہم اپنے تمدن اور گذشتہ کارناموں کی تبلیغ کے لئے کتنی کوشش کرتے ہیں؟ جو ہمارے جوان بنیادی طور پر یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام جب سے آیا ہے اس نے آج تک کوئی کام نھیں کیاہے۔ جب سے اسلام آیا ہے آج تک لوگ باربار اس پر عمل کررہے ہیں اور اس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ ہم آج موجود ہیں! ہمیں اپنی کتابوں کی بھی خبر نھیں ہے، اگر لوگ ہم سے پوچھیں کہ مسلمانوں کا ریاضیات میں کس قدر ابتکار ہے تو ہم نھیں جانتے، آخر بعض فرنگیوں نے بھی تو اس سلسلے میں اپنے فائدے کی کچھ باتیں کی ہیں، خوش قسمتی سے مجھے اپنے چند ایرانی دانشوروں کا پتہ ہے جنھوں نے اس سلسلے میں بہت خوب مطالعہ کیا ہے اور بہت اعلیٰ انکشافات کئے ہیں اور تحقیق سے ثابت کرتے ہیں کہ ایسے بہت سے نظریات جن کے پیش کرنے اور جن کے اختراع کا اہل یورپ دعویٰ کرتے ہیں ان کا اختراع دنیائے اسلام میں ہو چکا ہے ہم دوسرے شعبوں جیسے ہنر، فنون لطیفہ، فلسفہ، طبیعیات، کیمیا اور تاریخ میں بھی اپنے پچھلے رکارڈ سے ناواقف ہیں۔بے خبر ہیں اور نھیں جانتے کہ ہم کیا تھے اور کیا ہیں۔ کل رات کو میں نے ایک اخبار میں یہ خبر پڑھی جو ہماری ترقی کاثبوت ہے۔ جولوگ مشہد مقدس کی زیارت کو تشریف لے گئے ہیں اگر انھیں اس قسم کے کاموں سے ذرا سی بھی دلچسپی رہی ہوگی امام رضا علیہ السلام کے آستانے میں گنجینہ قرآن ملاحظہ کیا ہوگا وہ جانتے ہوں گے کہ آستانے کے عجائب گھر کے ایک حصے میں گنجینہ قرآن کے نام سے دس گیارہ صدیوں سے لیکر آج تک کے بہت نفیس خطوں کے قرآن موجود ہیں۔ ان قرآنوں میں سے بعض ہنر مندی اور فنون لطیفہ کے نقطہٴ نظر سے اس قدر غیر معمولی ہیں کہ وہاں اس کام کے انچارج نے ان میں سے ایک کے بارے میں یہ بتایا کہ اس کی قیمت پانچ ملین تومان لگ چکی ہے ۔
یہ کن لوگوں کے لکھے ہوئے ہیں؟ ان کے لکھنے والوں میں یا ان لوگوں میں جنھوں نے ان میں کاریگری دکھائی ہے مثلاً ان کی سجاوٹ کی ہے ایرانی معلوم ہوتے ہیں، ترک نظر آتے ہیں، مغل نظر آتے ہیں، عرب نظر آتے ہیں، ہندوستانی نظر آتے ہیں لیکن اصلیت میں انھیں وجود میں لانے والا اسلام ہے یا مسلمانی، یعنی یہ اسلامی روح کی بدولت وجود میں آئے ہیں۔
کل رات کو میں نے اخبار میں پڑھا کہ ایک قرآن کی آج تقریباً تین ملین تومان قیمت لگا تے ہیں، یہ کہاں سے آگیا؟ ردی کا غذوں کے صندوق میں سے، یعنی آخری دو تین صدیوں کے خطی قرآن اس لئے لے آتے تھے کہ لوگ ان کی تلاوت کریں یہ بیچارے ان قرآنوں کی قیمت سے بے پرواہ تھے اس لئے لائے تھے کہ لوگ ثواب کی خاطر قرآن پڑھیں۔ انھیں بچوں کے ہاتھ میں دے دیتے تھے۔ لوگوں کو بے روک ٹوک دے دیتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دھیرے دھیرے پرانے ہو جاتے تھے، بعد میں انھیں لے جا کر دروازے کے باہر زمین میں گاڑ دیتے تھے ۔خوش قسمتی سے ایسے بہت سے قرآن جو ان کے خیال میں دفن کرنے کے قابل تھے انھوں نے بوری یا صندوق میں بند کردیئے تھے اور ایک طرف رکھے ہوئے تھے اور شاید انھوں نے یہ چاہا بھی ہو کہ ایک دن انھیں زمین میں دفن کر دیں۔ بہرحال ایک شخص نے جسے کم سے کم دلچسپی ضرور رہی ہے جاکر انھیں الٹا پلٹا اور ان میں سے تقریباً گیارہ سو نفیس نسخے نکالے۔ انھیں میں سے ایک ایسا قرآن بھی ہے جس کی قیمت تقریباً تین ملین ریال ہے۔ ہم اپنے کلچر اور تمدن کے ورثے سے اس قدر واقفیت اور دلچسپی رکھتے ہیں! خدا کی قسم اگر انسان خون کے آنسو روئے تو بھی کم ہے اور بے شک کم ہے۔ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر میں ہماری قوم کی کوشش اس قدر گھٹیا اور کم کیوں ہے؟ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کسے کہتے ہیں؟ یعنی ہمدردی، اتحاد، شرکت، ساتھ تعارف شناسائی) آگاہی، قدرت جس نے پہلے دن یہ اصول بنایا تھا اس لئے کہ وہ جانتا تھا کہ اس کا دین اجتماعی دین ہے انفرادی دین نھیں ہے۔ صومعہ اور دیر کا دین نھیں ہے۔ جو لوگ عمر بھر دیروں اور صومعوں میں ر ہے آج بے نظم او رمنتشر ہو رہے ہیں، اتحاد اور ہمدردی دکھا رہے ہیں۔ اور ہمارا دین جو اجتماع، زندگی، وحدت اور اتحاد کادین ہے تو ہم فرد، تنہائی، جدائی اور تفرقہ کی طرف مائل ہوگئے۔ ہمارا دین ایسا دستور دیتا ہے جس سے کہ ہم ایک آگاہ قوم بن جائیں بلکہ جو حوادث ابھی زمانے کے بطن میں چھپے ہوئے ہیں ہم اپنے آئندہ کے لئے پہلے سے ان کو بھانپ لیں۔ ہم نہ صرف آئندہ کی پیش بینی نھیں کرتے بلکہ اپنے زمانے کی حالت کو بھی نھیں سمجھ پاتے! امام صادق علیہ السلام نے تیرہ سوسال پہلے فرمایا تھا: ”<العالم بزمانہ لا تہجم علیہ اللوابس>“
”جو شخص اپنے زمانہ کو سمجھتا ہے وہ اپنے زمانے کے لباس بھی پہچانتا ہے“۔ جو واقعات زمانے کی سطح پر اور اس کے اندر جاری ہیں ان کو سمجھتا ہے۔ اپنے کام میں غلطی نھیں کرتا یعنی جو آدمی اپنے زمانے سے بے خبر ہیں، ان حالات سے بے خبر ہیں جو زمانے میں گزر رہے ہیں ہمیشہ غلطی کرتے ہیں۔ یعنی ہمیشہ دوسرا ہی کام کرتے ہیں۔ دشمن کو کچلنے کی جگہ اپنے آپ کو کچلتے ہیں دشمن کا سینہ سیاہ کرنے کی جگہ اپنا ہی نقصان کر لیتے ہیں۔ برسوں جنگل میں رہیں، یہ ہے ہمارا کارنامہ۔
ہم نے پچھلی مجالس میں اسلام میں امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی قدر وقیمت سمجھ لی اور یہ بات بھی سمجھ لی کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر نے حسینی تحریک کی قدر وقیمت بہت بلند کردی اور اس طرح حسینی تحریک نے بھی امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کو قدر وقیمت، اعتبار اور آبرو بخشی۔
اب ہم کیا کام کریں جس سے ہماری قدرو قیمت ہو، ہم ایک قوم کی حیثیت سے منزلت پائیں۔ ایک معتبر اور باآبرو قوم کی حیثیت اختیار کریں؟ اس سوال کا قرآن مجید نے جواب دیا ہے۔
<کنتم خیر امۃ اخرجت للناس> تم بہترین امت ہو سکتے ہو، تم قابل قدر قوم بن سکتے ہو لیکن ایک شرط کے ساتھ: <تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر> کو اپناؤ اس پر عمل کرو،
اگر تم اپنی قدر و منزلت چاہتے ہو، اگر تم پیغمبر خداصلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نزدیک وقار چاہتے ہو تو اس اصول پر عمل کرکے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نزدیک مقام پیدا کرو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ دنیا کی قوموں میں عزت پاؤ جس سے مشرقی بلاک بھی تمھیں اہمیت دے اور مغربی بلاک بھی تمھاری تقدیر کا مالک نہ بن سکے اور تمھارے بارے میں فیصلہ نہ کرسکے تو امر بالمعروف اور نھی عن المنکرکرو۔ اتحاد اور ہمدردی رکھو، اسلامی اخوت اور برادری کو زندہ کرو۔ بے خبری سے بچو، صنعت سے پرہیز کرو، لا ابالی پن دور کرو۔ اس بے خبری اور لابالی پن کا کیا مطلب ہے؟ بے خبری کا پروگرام اس لئے ہے کہ تم واقف نہ ہو جاؤ، نہ سمجھ سکو، نہ جان سکو، بے پروائی کس لئے ہے؟ اس لئے کہ تم کمزور رہو، قوت حاصل نہ کرسکو۔
ہم یہیں بیٹھے رہیں اور یہ کہتے رہیں کہ حسینی تحریک میں امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا عنصر ایک بہت بڑا سبب ہے جس نے امام حسین علیہ السلام کو سفر پر مجبور کردیا۔ ان کو اپنی جگہ سے ہلا دیا امر بالمعروف تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کو اہمیت دی۔ اسلام امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کو پہلے درجے کی اہمیت دیتا ہے یعنی اسے اپنی تعلیمات کا ایک رکن سمجھتا ہے۔ اگر یہ رکن نہ ہو تو باقی تعلیمات کار گر نھیں ہوسکتیں۔ یہ صحیح ہے لیکن ہم کیا کام کریں؟ کیا ہم ہمیشہ ماضی ہی کی بات کرتے رہیں؟ ماضی مستقبل کے لئے ہو تا ہے؟ ماضی اور مستقبل کو باہم مربوط اور متصل کردینا چاہئے۔ اس سلسلے میں تحریک حسینی سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے۔ لوگوں کو آگاہ کرنا چاہئے۔ دیکھئے کیا کرتے ہیں؟ کس طرح تبلیغ کرتے ہیں؟ کس طرح کتاب لکھتے ہیں اور کس طرح انھیں لکھنا چاہئے؟ کن مسائل کے بارے میں فکر کریں اور کن مسائل کے بارے میں حساس بنیں؟
ہم دیکھتے ہیں کہ امام علی بن ابی طالب اور امام حسین علیہم السلام کن مسائل کے بارے میں سنجیدہ تھے۔ ہم بھی انھیں مسائل کی حساسی کی نشاندہی کریں۔ وہ کچھ مسائل کے بارے میں کیوں حساسی ظاہر کرتے ہیں اور ہم دوسرے مسائل کے بارے میں کیوں سنجیدگی دکھاتے ہیں؟ اس سے ہم یہ نتیجہ نکالیں کہ ہم اپنی رقم کس طرح خرچ کریں۔ کیا اس سلسلے میں ہماری ترقی ہوتی ہے؟ کیا ہم سمجھتے ہیں؟ ہم اپنے نزدیک خدا کی راہ میں جو انفاق کرتے ہیں وہ کیا خیرات ہے۔ خدا کی قسم! مجھے یہ ڈر ہے کہ ہم نے جاہلانہ طور پر امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے ذریعہ اسلام کو جو نقصان پہنچایا ہے یااس طریقے سے اسلام کو جو صدمات پہنچائے ہیں وہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکرکو ترک کرنے سے کہیں زیادہ ہیں۔
میں نھیں جانتا کہ اگر ہم ان تمام شائع کردہ اسلامی کتابوں کے نفع نقصان کاحساب کریں تو ان کا فائدہ زیادہ ہے یا نقصان۔ اسی طرح اس وقت میں تحقیق سے یہ بھی نھیں بتا سکتا کہ اگر ہم اس رقم کا بھی حساب کریں جو اسلام کی راہ میں حتی کہ قربت کی نیت سے بھی خرچ کرتے ہیں تو اسلام کے لئے اس کا نفع زیادہ ہے یا نقصان؟ چونکہ قرآن صاف صاف کہتا ہے کہ انفاق دو طرح کا ہوتاہے اور اس کی ایک قسم کے بارے میں کہتا ہے: <مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ ماٴتہ حبہ> (بقرہ/۲۶۱)
خیرات کی ایک قسم کے لئے کہتا ہے کہ اس کی مثال گیہوں کی سی ہے جو مناسب زمین میں بودیا جاتاہے تو اس میں سات بالیاں نکلتی ہیں اورہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ :< واللہ یضاعف لمن یشاء> یعنی خدا کی راہ میں خیرات اس قدر خیر وبرکت رکھتی ہے لیکن ایک اور خیرات کی بھی مثال دیتا ہے: <کمثل ریح فیہا صراصابت حرث قوم ظلموا انفسھم> (آل عمران/۱۱۷) اس خیرات کی مثال خطرناک تند ہوا کی سی ہے جو تیار فصل کی طرف چلتی ہے تو اسے اجاڑ دیتی ہے یعنی جو کچھ پیدا ہوتا ہے اسے بھی نیست ونابود کر دیتی ہے۔ اگر ہم اپنا مقام پیدا کرنا چاہیں اگر ہم اپنی قدر بڑھانا چاہیں اگر ہم چاہیں کہ ہم خدا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نزدیک عزت پائیں، دنیا کی قوموں میں محترم بن جائیں تو ہمیں چاہئے کہ اس اصول کو زندہ کریں ۔ اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم آج زندہ ہوتے تو وہ کیا کرتے؟ وہ کس مسئلے کے بارے میں سوچتے؟
واللہ وباللہ میں قسم کھاتا ہوں کہ پیغمبر اکرم آج اپنی قبر مطہر میں یہودیوں سے لرز رہے ہیں یہ دو اور دو چار کا مسئلہ ہے۔ جو کوئی نھیں بولتا وہ گناہ کرتا ہے۔ اگر میں نہ کہوں تو خدا کی قسم میں گناہ کا ارتکاب کروں گا اور جو خطیب اور واعظ نھیں بولتا وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔
اسلامی پہلو سے قطع نظر آخر اس کی کیاتاریخ ہے؟ فلسطین کاجھگڑا جو کسی اسلامی حکومت سے بھی تعلق نھیں رکھتا ایک قوم سے مربوط ہے ایک ایسی قوم سے جسے زبردستی اس کے گھر سے نکال دیا ہے۔

فلسطین کی تاریخ کیا ہے؟

ان کا دعویٰ ہے کہ تین ہزار سال پہلے ہمارے دو آدمیوں حضرت داؤدعلیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے کچھ وقت تک وہاں سلطنت کی ہے۔ تاریخ پڑھئے اس پوری تین ہزار سال کی مدت میں کون کہتاہے کہ سرزمین فلسطین کا یہودیوں سے تعلق رہا ہے؟ کون کہتاہے کہ فلسطین کی زیادہ سرزمین یہودی قوم کی ملکیت ہے۔ کیا فلسطین کی زیادہ سرزمین یہودی قوم کی ملکیت ہے؟ اسلام سے پہلے بھی ان کی ملکیت نھیں تھی اسلام کے بعد بھی ان کی ملکیت نھیں تھی۔ جس روز مسلمانوں نے فتح کیا تھا فلسطین پر عیسائیوں کا قبضہ تھا، یہودیوں کا نھیں تھا اور اتفاق سے عیسائیوں نے مسلمانوں سے جو صلح کی تھی اس صلحنامہ میں ایک شق یہ بھی رکھی تھی کہ تم یہودیوں کو یہاں جگہ نھیں دو گے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہم تمھارے ساتھ رہیں گے لیکن یہودیوں کے ساتھ نھیں رہیں گے۔ پھر یہ کیسے ہوگیا کہ یکایک یہودی کے وطن کا نام پڑگیا؟ ایک جھگڑا جو ہماری صدی سے کارنامے کو دھندلا رہا ہے (یہ صدی جس کا جھوٹا انسانی حقوق کانام، آزادی کانام، انسانیت کا نام رکھا ہے) یہی جھگڑا ہے۔ دنیا کے یہودی جب غیر مسلم قوموں کے ہاتھوں اذیت اور عقوبت سے دوچار رہے (روس، جرمنی، اور دنیا کے بہت سے مقامات میں) تو ان کے بڑے بڑے لوگ مل بیٹھے اور کہا کہ ہم جب تک دنیا کے اطراف میں متفرق رہیں گے ہر جگہ اقلیت میں رہیں گے۔ ہمارا مقدر یہی ہے۔ ہم کو چاہئے کہ ایک مرکز کا انتخاب کریں اور وہاں ہم سب جمع ہو جائیں، یہودی مذہب کے ماننے والے وہاں جمع ہوجائیں۔ پہلے پہل جس جگہ کے بارے میں فکر بھی نھیں کرتے، وہ فلسطین ہے۔ دوسری جگہوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ پھر پہلی عالمگیر جنگ ہوجاتی ہے (میں صرف خلاصہ عرض کرتا ہوں، آپ اس بارے میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں وہ پڑھ سکتے ہیں) اتحادی لوگ عثمانیوں سے لڑتے ہیں۔ میں عثمانیوں کا دفاع نھیں کرنا چاہتا، لیکن جو کچھ بھی تھا ایک حکومت تھی۔ اگر ظالم بھی تھی تو ایک تو تھی۔ سادہ لوح عرب عثمانیوں سے لڑ گئے۔ اتحادیوں کی سازش میں آگئے۔ اندر سے حکومت عثمانیہ کے خلاف اس وعدے پر لڑ ے کہ عثمانیوں کے مقابلے میں خود ان کو آزادی دے دیں گے۔
انگریزوں نے ان سے پکا وعدہ کرلیا کہ ہم تمھیں آزادی بخش دیں گے بشرطیکہ ہماری طرف سے عثمانیوں کے خلاف جنگ کرو۔ یہ بیچارے جنگ میں کود پڑے۔ اس بیچ میں کہ یہ بدبخت نادان ناواقف حکومت سے اپنی اسلامی حدود تک لڑتے رہتے تھے۔ انگلستان نے صیہونی گروہ سے جس کی نئی نئی تشکیل ہوئی تھی اپنا یہ قول و قرار پکا کرلیا کہ ہم اسلامی ملکوں کے عین قلب میں تمھیں فلسطین دے دیتے ہیں ۔ انجمن اقوام وجود میں آئی ہے
(ذار انصاف سے دیکھئے) اور تصدیق اور توثیق کر دی ہے کہ دنیا میں بہت سی قومیں ہیں( خصوصاً وہ قومیں جو سلطنت عثمانیہ سے الگ ہوئی تھیں)جن میں ترقی نھیں ہوئی ہے ہم کو ان کے سرپرست مقرر کرنا چاہئے تاکہ ان کا انتظام کر سکیں۔ یعنی حقیقت میں وہ یہ چاہتے تھے کہ باقی ماندہ سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کر دیں اور ان میں سے ایک حصہ فرانس کو دے دیا گیا۔ ایک حصہ انگلستان کو دیا گیا اور اسی طرح انگلستان کو جو جگہیں ملیں ان میں سے ایک فلسطین بھی تھا۔ اس نے کہا کہ میں تمھارا سرپرست ہوں۔ رسمی طور پر کفیل بن گیا۔ پھر صیہونیوں سے وعدہ کیا (بالفور کا مشہور وعدہ) کہ ہم یہ جگہ تمھارے سپرد کرتے ہیں۔ صیہونی یعنی وہ یہودی جو دسیوں صدیوں سے دنیا کے مختلف گوشوں میں زندگی بسر کر رہے تھے اور کتنی ہی مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے تھے۔ میں بھی سوچتا تھا کہ یہ یہودی کیا سب کے سب اسرائیل کی نسل سے ہیں۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ تاریخ کے نزدیک یہ بات مشکوک ہے بلکہ غلط ہے۔ وہ کہتی ہے کہ یہ جھوٹ بات ہے، ان میں سے بہت سے یہودی اسرائیل کی نسل سے نھیں ہیں۔ ان کی قدر مشترک صرف مذہب ہے اور بس! بلکہ ان کی تو نسل بھی خالص نھیں رہی ہے۔ جو یہودی دنیا کے اطراف میں رہتے تھے صرف اس وجہ سے کہ انگریزوں نے انھیں ستایا ہے اور یہ ایک مقام پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ وہاں جمع ہو جائیں اور چونکہ یہ بے ایمان لوگ ہیں اور ان کی مقدس کتاب نے انھیں اجازت دے دی ہے کہ جب تم وطن میں چلے جاؤ تو مطلق رحم نہ کرنا تم اپنے مقصد کے حصول کا کوئی وسیلہ نہ چھوڑنا۔ پھر جب انگلستان نے ان کے سفر کا وسیلہ فراہم کر دیا تو یہ لوگ اس سرزمین کو ہجرت کر گئے اور وہاں انھوں نے زمینیں خرید لیں حالانکہ فلسطین میں مقامی یہودی پچاس ہزار سے زیادہ نھیں ہیں اوروہ بیچارے بھی آج کل غیر معمولی مصیبت میں رہ رہے ہیں۔ یعنی یورپی اور امریکی یہودی آگئے۔ ایک بڑی بدبختی یہ ہے کہ جو اصلی یہودی ہیں انھیں وہاں رہنے کا حق ہے عربوں میں کچھ روشن خیال تھے انھوں نے قیام کیا، انقلاب برپا کردیا، ان لوگوں کو قتل کیا ختم کردیا، پھانسی دے دی، باربار یہودی بھیجے گئے، جب تعداد زیادہ ہوگئی تو ان میں زیادہ ہتھیار بھی تقسیم کردئے گئے بعد میں یہ مقامی مسلمانوں کے پیچھے پڑگئے۔ انھیں مارا پیٹا پھر نکال باہر کردیا۔ یورپی ملکوں سے یکے بعد دیگرے ہجرتیں ہوتی رہیں۔ یہودی آتے رہے ، آتے رہے یہ یہودی جن کے آج آپ نام سن رہے ہیں موشے دایان، زلی اشکول، گولڈ امایر، زہر مار، وغیرہ۔ آخر دیکھئے تو یہ کس دنیا سے آئے ہیں۔ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ سرزمین ہماری سرزمین ہے، یہ ہمارا وطن ہے، آج تقریباً تیس لاکھ مسلمان آوارہٴ وطن اور بے گھر ہیں۔ کیا ان یہودیوں کا نصب العین صرف اتنا ہی ہے کہ وہاں ایک چھوٹی سی حکومت بن جائے؟ آپ کو بہت دھوکا ہوا ہے ہم بہت غلط سمجھ رہے ہیں۔ یہودی جانتاہے کہ وہ آخر کار ایک چھوٹے سے ملک میں نھیں رہ سکتے، ان کے لئے ایک اتنا بڑا ملک اسرائیل چاہئے جس کی حد ہمارے ایران تک آپہنچے۔
عبد الرحمٰن فرامرزی کے قول کے بموجب یہ اسرائیل جسے میں جانتا ہوں کل شیراز پر بھی دعویٰ کرنے والاہے۔ وہ کہے گا کہ خود تمھارے شاعروں نے اپنے اشعار میں شیراز کا نام ملک سلیمان رکھا ہے۔ آپ چاہے جتنا کہتے رہئے گا کہ جناب یہ تشبیہ ہے، وہ پوچھے گا: کیا اس سے بھی اچھی سند آپ چاہتے ہیں؟ کیا وہ اس خیبر پر دعویٰ نھیں کرتے جو مدینہ کے نزدیک ہے؟ کیا روز ولٹ نے سعودی عر ب کے بادشاہ کو یہ تجویز پیش نھیں کی کہ تم اسے ان لوگوں کے ہاتھ بیچ ڈالو؟ کیا یہ لوگ عراق اور آپ کے مقدس مقامات پر دعویٰ نھیں رکھتے؟
واللہ وباللہ ہم اس جھگڑے کے ذمہ دار ہیں۔ خدا کی قسم! ہم اس کے ذمہ دار ہیں، خدا کی قسم ہم لوگ غافل ہیں، واللہ جس جھگڑے نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دل کو خون کیا ہوا ہے وہ یہی جھگڑا ہے ۔ اگر کسی داستان نے حسین علیہ السلام کے دل کا خون کیا ہے تو یہی قضیہ ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو اہمیت دینا چاہتے ہیں اگر ہم امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی قدر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ اگر آج امام حسین علیہ السلام ہوتے اور خود کہتے کہ میری عزاداری کرو! کہتے کیا شعار دے رہے ہو؟ کیا وہ یہ کہتے کہ کہو میرا نوجوان اکبر، یا کہتے کہو زینب مضطر الوداع، اگر امام حسین علیہ السلام ہوتے تو کہتے اگر تم میری عزاداری کرنا چاہتے ہو میری خاطر سینہ زنی اور زنجیر کا ماتم کرنا چاہتے ہو تو تمھارا آج کا شعار فلسطین ہونا چاہئے۔ آج کا شمر موشے دامان ہے۔ شمرتو تیرہ سوسال پہلے مر چکا، آج کے شمر کو پہچانو! آج اس شہر کے در و دیوار کو فلسطین کے نعرے سے ہلادینا چاہئے۔ہمارے دماغ میں یہ جھوٹ بٹھادیا گیا ہے کہ صاحب یہ داخلی مسئلہ ہے جس کا تعلق عرب اور اسرائیل سے ہے۔ پھر عبد الرحمٰن فرامرز ی کے قول کے مطابق اگریہ بات انھی کی ہے اور مذہبی نھیں ہے تو دنیا کے دوسرے یہودی ان کے لئے بار بار رقم کیوں بھیجتے رہتے ہیں؟
اسلام اور پیغمبر خداصلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ہم کیا جواب دیں گے؟ کیا کچھ دن پہلے آپ نے اخبار میں نھیں پڑھا تھا کہ پچھلے سال دنیا بھر کے یہودیوں نے، ان یہودیوں نے نھیں جن کے پاسپورٹ اسرائیلی ہیں، ان لوگوں کے لئے پانچ سو ملین ڈالر بھیجے تھے تا کہ ان سے فینٹم طیارے خریدیں اور مسلمانوں پر بم برسائیں۔
میں نے سنا ہے کہ ہمارے ایران کے یہودیوں نے گزشتہ سال دو فینٹم طیاروں کی قیمت کی رقم بھیجی تھی۔ ہمارے ایران کے یہودیوں کی طرف سے ان کے لئے بطور امداد ۳۶ ملین ڈالر بھیجے گئے تھے اور ہم ان یہودیوں کو اس وجہ سے کہ یہ یہودی ہیں برا نھیں کہتے۔ ہم کوچاہئے کہ ہم اپنے آپ کو ملامت کریں۔ انھوں نے تو اپنے ہم مذہبوں کی مدد کی ہے وہ نہایت فخر سے رقم بھیجتے ہیں، موشے دایان کی رسید بھی آجاتی ہے او راسے بازار میں دکھاتے بھی ہیں کہ آؤ دیکھو! یہ رسید ہے، کیا دو تین رات پہلے یہ بات نھیں لکھی گئی (میرے پاس اس خبر کا تراشہ موجود ہے) کہ اب صرف امریکہ میں رہنے والے یہودی اسرائیل کو ایک دن میں ایک ملین ڈالر کی امداد بھیجتے ہیں۔ پھر اس سلسلے میں ہم مسلمانوں کی کیا کوشش رہی ہے!
خدا کی قسم! ہمیں شرم آجاتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، ہم اپنے آپ کو علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے شیعہ کہتے ہیں، ہمیں ہرگز نھیں کہنا چاہئے، اس کے بعد ہم علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے جو داستان نقل کرتے ہیں، حرام ہے جو پھر تقریر میں نقل کریں۔ ایک دن حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے سنا دشمن نے اسلامی ملک پر حملہ کردیا ہے: <وھذا اخو غامد وقد وردت خیلہ الانبار> (نہج البلاغہ/خطبہ۲۷) بعد میں فرمایا:
”میں نے سنا ہے کہ انھوں نے کسی مسلمان عورت کی یا کسی ایسی عورت کی جو مسلمانوں کی حمایت میں ہے آبرو لوٹی ہے؟ میں نے سنا ہے کہ دشمن نے مسلمانوں کا ملک لوٹ لیا ہے، ان کے مردوں کو قتل کر دیاہے، گرفتار کرلیا ہے، ان کی عورتوں کو چھیڑا ہے، عورتوں کے ہاتھوں کانوں کے زیور چھین لئے ہیں،“ پھر انھی علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے ہم جن کی شیعیت کا اظہار کرتے ہیں اور جن سے جھوٹی اور بے معنی محبت جتاتے ہیں فرمایا:
< فلو ان امراً مسلما مات من بعد ھذا اسفاً ماکان بہ ملوما، بل کان بہ عندی جدیراً>
اگرکوئی ایک مسلمان بھی یہ خبر سن کر شدت غم سے مرجائے تو صحیح ہے اور قابل ملامت نھیں ہے، بلکہ میرے نزدیک یہی سزوار ہے۔
کیا ہمارا یہ فرض نھیں ہے کہ ہم ان کی مالی مدد کریں؟ کیایہ لوگ مسلمان نھیں ہیں؟ ان کے رشتہ دار نھیں ہیں؟ کیا یہ لوگ انسان کے شرعی حق کے لئے نھیں لڑ رہے ہیں؟ آج اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ آوارہٴ وطن فلسطینی اپنے وطن کی واپسی کا حق نھیں رکھتے؟ میں نے مکہ کے سفر میں کچھ فلسطینی دیکھے ہیں،ک یاجوان ہیں! بس یہ کہتے تھے: ”دماء الشہداء“ ہماری امید صرف ہمارے شہیدوں کا خون ہے۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو واللہ کپڑوں کے محتاج ہیں اور ننگے لڑتے ہیں۔ اگر دنیا کی ستر کروڑ مسلم آبادی میں سے ہر شخص روزانہ ایک ریال بھی دے تو سال بھر میں تقریباً تیس سو ملیارد (تین نیل) ڈالر ہوجائیں۔ اگر صرف ہم ایرانی لوگوں میں سے جو ڈھائی کروڑ ہیں اور ہم میں سے ۹۸ فیصد مسلمان ہیں ہر شخص روزانہ ایک ریال سے فلسطینیوں کی مدد کرے تو ایک سال میں تقریباً نوے ملین (۹ کروڑ) تومان ہوجائیں گے۔ اگر مسلمانوں کا دسواں حصہ بھی روزانہ فی کس ایک ریال سے مدد کرے تو سال بھر میں ۹ ملین (نوے لاکھ) تومان ہوجائیں۔
< فضل اللہ المجاھدین باموالھم وانفسھم (نساء /۹۵)،
<الذین آمنوا وھاجروا وجٰھدوا فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم> (توبہ/۲۰)
ہم مال سے بھی مدد کر سکتے ہیں، واللہ یہ انفاق واجب ہے، نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کی طرح واجب ہے، پہلا سوال جو مرنے کے بعد ہم سے کیا جائے گا یہی ہوگا کہ اسلامی اتحاد کے لئے تم نے کیا کیا؟ پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
<من سمع مسلما ینادی یا للمسلمین ولم یجبہ فلیس بمسلم>
جو کوئی کسی ایسے مسلمان کی آواز سنتا ہے جو فریاد کرتا ہے کہ اے مسلمانو! میری فریاد سنو! میری فریاد کو پہنچو! اور وہ اس کی مدد نھیں کرتا تو وہ مسلمان نھیں ہے، میں اسے مسلمان نھیں سمجھتا۔ہمیں ان کا حساب کھولنے کے لئے کیا چیز روکتی ہے؟ اپنی آمدنی کی تھوڑی سی رقم ان کے لئے مخصوص کردینے سے کون سی بات ہمیں باز رکھتی ہے؟
آخر دنیا کے یہودی یہاں تک کہ ایران کے یہودی بھی یہودیوں کی مدد کرتے ہیں اور دوسری قومیں ان کی تعریف کرتی ہیں، سبحان اللہ کہتی ہیں، انھیں زندہ قوم کہتی ہے پھر ہم فلسطینیوں کی مدد کیوں نہ کریں؟ ان کے زندہ لوگ ایسے انسان ہیں جو وقت کو پہنچانتے ہیں، دکھ درد سمجھتے ہیں، حقائق سمجھتے ہیں، میں نے اپنا فرض ادا کر دیا میرا فرض صرف کہنا تھا اور خدا جانتا ہے ضمیر کی آواز اور فرض شناسی کے سوا اور کچھ نھیں تھا۔ میں اس مالی مدد کو آپ کا فرض سمجھتا ہوں اور اپنا اور ہر خطیب اور واعظ کا فرض یہ سمجھتا ہوں کہ وہ یہ کہے، میں ہر خطیب اور واعظ پر واجب سمجھتا ہوں کہ وہ یہ بات کہے۔ آیت اللہ حکیم اوردوسرے مرجع تقلید بزرگوں نے رسمی طور پر بھی فتویٰ دے دیا ہے کہ جو وہاں قتل ہوجائے گا چاہے اس نے نماز بھی نہ پڑھی ہو وہ خدا کی راہ میں شہید ہوگا۔ تو آئیے ہم خود اپنے آپ کو قدر بخشیں، اپنے قول اور فعل کو وقار (منزلت بخشیں) اپنی کتابوں کو قدر بخشیں، اپنی رقم کی قدر و قیمت پہچانیں۔ دنیا کی قوموں میں اپنے آپ کو آبرو مند بنائیں۔ دنیا کی بڑی بڑی قومیں جو ہمارے مقدر کے بارے میں زیادہ نھیں سوچتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں یہ یقین ہے کہ مسلمانوں میں غیرت نھیں رہی، امریکہ کو صرف اسی بات نے جراٴت دلائی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت میں غیرت نھیں ہے، اتحاد اور ہمدردی نھیں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہودی پیسے کے لئے مرتا ہے ۔ پیسے کے سوا اور کچھ نھیں پہچانتا، پیسہ اس کا خدا ہے، اس کی زندگی ہے، اس کی حیات اور ممات ہے لیکن جب ایسا جذباتی مسئلہ آجاتا ہے تو روزانہ دس لاکھ ڈالر سے اپنے ہم مذہبوں کی مدد بھی کردیتا ہے لیکن دنیا کے ستر کروڑ مسلمان اپنے ہم مذہبیوں کی مددکم سے کم مدد بھی نھیں کرتے۔
عاشور کا دن ہے، امام حسین علیہ السلام کی معراج کا دن ہے، وہ دن ہے کہ ہم حسین علیہ السلام کی روح، حسین علیہ السلام کی غیرت، حسین علیہ السلام کے مقابلے، حسین علیہ السلام کی شجاعت اور دلیری، حسین علیہ السلام کی روشن بینی کی ایک جھلک حاصل کرلیں بلکہ ہم بھی ذرا آدمی بن جائیں، جاگ جائیں۔ ایک بہت مشہور مصنف عباس محمود عقاد کا اباعبد اللہ کے بارے میں ایک جملہ ہے، وہ کہتا ہے کہ عاشور کے دن ایسا لگتا تھا کہ حسین علیہ السلام کی صفات میں باہمی مقابلہ ہو رہا ہے یعنی حسین علیہ السلام کی خوبیاں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ حسین علیہ السلام کا صبر چاہتا تھا کہ دوسری صفات سے آگے بڑھ جائے۔ حسین علیہ السلام کی رضا جو خدا کی رضا تھی صبر سے بڑھ جانا چاہتی تھی۔ حسین علیہ السلام کا اخلاص ان سب سے آگے نکل جانا چاہتا تھا۔ حسین علیہ السلام کی شجاعت دوسری صفات سے سبقت لے جانا چاہتی تھی۔
میں عرض کرتا ہوں (البتہ میں حسین علیہ السلام کے اخلاص کے بارے میں چھوٹی سے چھوٹی بات بھی نھیں کہہ سکتا کیونکہ میں اس سے بھی کہیں زیادہ چھوٹا ہوں) لیکن میں ایک ایسی بات بتا سکتا ہوں جو عاشورہ کے دن باقی ہر بات سے زیادہ روشن اورواضح ہے۔حسین علیہ السلام کی طمانیت، حسین علیہ السلام کا اطمینان، حسین علیہ السلام کا سکون اور ثابت قدمی۔ یہ بات ایسی نھیں ہے کہ جو میں آج ہی کہہ رہا ہوں۔ یہ وہ بات ہے جو ان دنوں میں بھی سمجھ لی گئی تھی۔ ایک شخص نے جو وہاں موجود تھا ایک جملہ کہا ہے، اس کا مطلب اپنے وقت، زمانے اورسمجھ کے مطابق بہت بلند ہے ۔ وہ کہتا ہے: ”<واللہ ما راٴیت مکسوراً قط قد قتل ولدہ واھل بیتہ واصحابہ اربط جاشاً منہ>“ یہ شخص اصل میں ایک خبر نگار (رپوٹر) تھا جس نے واقعات بیان کئے ہیں۔ وہ کہتا ہے: خدا کی قسم میں نے کوئی ایسا دل شکستہ شخص، ایسا مصیبت زدہ آدمی نھیں پایا جس کی اولاد (جس کے اہل بیت) اس کی آنکھوں کے سامنے ٹکرے ٹکرے ہو چکے ہوں، جس کے اصحاب کے سر اس کے دیکھتے دیکھتے ان کے بدنوں سے جدا ہوچکے ہوں اور پھر اس کے دل میں اتنی قوت باقی ہو، یہ بہت حیرت انگیز واقعہ ہے معمولی نھیں ہے وہ واقعہ جس پر مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی رہتی ہے: عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام ایسے قدم اٹھاتے ہیں جیسے وہ روشن مستقبل کو یعنی اپنی تحریک کے نورانی آثار اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔انھیں اس میں مطلق شک نھیں تھا کہ وہ اس شہید ہونے سے فتح یاب ہو جائیں گے۔ انھیں اس میں شک نھیں تھا کہ عاشور کا دن اس بات کا اخیر ہے کہ جو کچھ پاس ہو خدا کی راہ میں لٹا دیا جائے یعنی یہ کھیتی کا اخیر ہے۔ اس تحریک سے فائدہ اٹھانے کا آغاز روز عاشور ہی سے ہوجاتاہے گویا کہ یہ اسی لئے ہوئی ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی حسین علیہ السلام شہید ہوئے ویسے ہی بنی امیہ کی حکومت کے خلاف حرکتیں، ہمدردیاں، دوستیاں اور بغاوتیں شروع ہوگئیں۔جس نے سب سے پہلے یہ کام کیا وہ ایک عورت تھی، کافروں کے لشکر کی ایک عورت، عاشور کے دن عصر کے وقت جب اس نے دیکھا کہ یزیدی لشکر حسین علیہ السلام کے حرم کے خیموں پرحملہ کرنے والا ہے دوڑ کر گئی، ایک خیمہ کا کھونٹا اٹھایا اور خیموں کے سامنے کھڑی ہوگئی بکر بن وائل کے قبیلہ کوپکارا:
اے بنی بکربن وائل! اے میرے قبیلہ والو! اے میرے عزیزو! تم کہاں ہو، آؤ حد یہ ہوگئی ہے کہ یہ لوگ پیغمبر کے اہل حرم کے جسم کا لباس بھی اتار لینا چاہتے ہیں! میرے نزدیک جو منظر بہت شکوہ اور جلال والا ہے وہ یہ ہے ہم جانتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام اپنے اہل بیت سے رخصت ہونے کے لئے جس وقت تشریف لائے تھے اس وقت ان کا کوئی آدمی زندہ نھیں بچا تھا۔ وہ رخصت بھی بہت دردناک اور دل دہلانے والی تھی لیکن امام حسین علیہ السلام ایک اور خاص وجہ سے دوبارہ رخصت کے لئے تشریف لائے تھے۔لکھا ہے وہ وجہ یہ تھی کہ آپ نے جو حملے کئے تھے ان میں ایک بار لشکر کے پیچھے سے فرات کے گھاٹ پر پہنچ جانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ دشمن فکر مند ہوگیا کہ کہیں امام حسین علیہ السلام پانی نہ پی لیں کیونکہ اگر وہ پانی پی لیں گے تو ان میں جان آجائے گی۔ اسی وقت کسی نے اس زور سے فریاد کی کہ پھر امام حسین علیہ السلام کی غیرت نے یہ گوارا نھیں کیا کہ یہ بات سنیں (چاہے یہ سچ ہو یا جھوٹ) اور پانی پیتے رہیں۔ جس وقت امام حسین علیہ السلام نے چلو بھرنے کے لئے پانی میں ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ کوئی پکارا حسین علیہ السلام ! تم پانی پینا چاہتے ہو اور لشکر حرم کے خیموں پر دھاوا بول رہا ہے۔ آپ فوراً باہر آگئے۔ میں نھیں جانتا کہ اس کا کہنا صحیح تھا یا نھیں اور وہ لوگ واقعی حملہ کرنا بھی چاہتے تھے یا نھیں لیکن اس تیز حملے اور امام حسین علیہ السلام کے باہر آنے کے درمیان کوئی وقت ہی نھیں لگا۔ جس وقت آقا باہر آئے ہیں اس وقت تک خیام حرم پرحملہ نھیں ہو پایا تھا۔ اس مہلت کو غنیمت جان کر آپ نے دوبارہ عورتوں اور بچوں کو اکٹھا کیا، اس مقام پر امام حسین علیہ السلام کی روح کا شکوہ وجلال نمایاں ہوتا ہے۔ آپ نے پہلے فرمایا:
”اے میرے اہل بیت! ”استعدوا للبلاء“ اپنے آپ کو مصیبت کے لئے تیار کرلو۔“ آپ چاہتے تھے کہ ان کی روحیں آمادہ ہو جائیں۔ اس سلسلے میں آپ نے اس سے زیادہ ایک جملہ بھی نھیں کہا البتہ فوراً یہ بات کہی: <واعلموا ان اللہ حافظکم ومنجیکم من شر الاعداء و معذب اعادیکم بانواع البلاء>
”اے میر اہل بیت ! یقین رکھو کہ تم پر اس گھڑی سخت مصیبت پڑے گی لیکن تم کو ذلت نھیں ہوگی، تم جان لو کہ خدا تمھارا حافظ ہے اور وہی تمھیں دشمنوں کے شر سے بچائے گا اور تمھیں عزت کے ساتھ تمھارے جد کے حرم کو واپس لے جائے گا۔ اس وقت کے بعد سے تمھارے دشمنوں کی بدبختی شروع ہوجائے گی۔ تم اطمینان رکھو کہ خدا تمھارے دشمنوں کو اسی دنیا میں طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کر دے گا“۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے امام حسین علیہ السلام حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام نے ایک جگہ کومرکز بنایا تھا۔ وہیں سے حملہ کرتے تھے۔ پہلے ایک ایک کی یعنی انفرادی جنگ ہوئی۔ جتھے کے جتھے آتے لیکن جیسے ہی آئے امام حسین علیہ السلام نے انھیں مہلت نھیں دی کہ بچ کر جاسکیں اس سے دشمن کے دل پر سخت رعب پڑگیا۔ پھر عمر ابن سعد پکارا: کیا کررہے ہو؟ ”<واللہ۔۔۔۔۔۔ نفس ابیہ بین جنبیہ>“ تم ڈرتے ہوکہ لڑ رہے ہو؟ یہ علی علیہ السلام کے بیٹے ہیں ” <ھذا ابن قتال العرب>“ یہ اسی شخص کا بیٹا ہے جو عرب کازبردست قتل کرنے والاتھا۔ وہ چاہتا تھا کہ حضرت کے خلاف عرب قومیت کا تعصب ابھارے، انھوں نے پوچھا کیا کریں؟ اس نے جواب دیا، یہ طریقہ مناسب نھیں ہے، اگر ایک ایک کرکے جاؤگے تو تم میں سے ایک بھی نھیں بچے گا اس لئے چاروں طرف سے حملہ کرو! امام حسین علیہ السلام جس طرف جھپٹتے تھے دشمن بھاگ کھڑے ہوتے تھے لیکن آپ کو اس بات کاخیال تھا کہ خیموں سے دور نہ جائیں۔ حسین علیہ السلام میں غیرت بھی ہے، حسین علیہ السلام شجاع بھی ہیں، صابر بھی ہیں، خدا کی رضا پر راضی بھی ہیں، مخلص بھی ہیں، لیکن غیرت الٰہی بھی ہے۔ آپ کی غیرت یہ گوارا نھیں کرتی کہ ان کے جیتے جی کوئی ان کے حرم کے خیموں کے نزدیک بھی آئے۔ ہرگز نھیں! آپ نے اہل بیت کو حکم دے رکھا تھا کہ تم ہرگز خیموں سے باہر نہ آنا۔ اگر آپ نے یہ سنا ہو کہ اہل بیت بار بار باہر آتے تھے اور پیاس پیاس کہتے تھے تو یہ بات بالکل غلط ہے، جھوٹ ہے ہرگز نھیں! اہل بیت صرف ایک بار باہر آتے ہیں اور وہ صرف وہ وقت تھا جب ذوالجناح امام حسین علیہ السلام کے بغیر آیا ہے اس وقت بھی جو باہر آئے تو پہلے تو انھیں معلوم ہی نھیں تھا کہ بات کیا ہے؟
انھوں نے جوگھوڑے کی آواز سنی تو یہی سمجھے کہ آقا تیسری بار رخصت کے لئے آئے ہیں۔کہتے ہیں کہ یہ گھوڑا سدھا ہوا تھا، صرف امام حسین علیہ السلام کا گھوڑا ہی تربیت یافتہ نھیں تھا بلکہ دشمنوں کے گھوڑے بھی ایسے سدھے ہوئے تھے کہ جس وقت کسی گھوڑ ے کا سوار گرپڑتا تویہ جانور احساس کرلیتا تھا۔
چنانچہ ذوالجناح نے جب دیکھا کہ آقا گر پڑے ہیں اور اپنی جگہ سے اٹھ نھیں سکتے، اپنے عیال امام علیہ السلام کے خون سے رنگین کی اور خیام حرم کی طرف آیا، واقعی یہ ہر کارہ تھا جو خبر دینا چاہتا تھا۔ یہ لوگ یہ سمجھ کر کہ آقا واپس آئے ہیں خیمے سے باہر آگئے لیکن جب انھیں حالات کا پتہ چلا تو پھر اس کے سوا چارہ نھیں دیکھا کہ گھوڑے کو چاروں طرف سے گھیر لیں اور فریاد و ماتم کرنے لگیں۔ بہرحال آقا نے انھیں باہر آنے کی اجازت نھیں دی تھی بلکہ خود ایک جگہ کو مرکز بنا لیا تھا جہاں سے وہ لوگ آپ کی آواز سن لیتے تھے آقا چاہتے تھے کہ اس طرح انھیں اطمینان دلاتے رہیں۔
جس وقت واپس آتے تھے تو اسی مرکزپر پہنچ جاتے تھے اور اونچی آوازسے ( میں نھیں جانتا کہ اسے میں اونچی آواز کہوں، وہ خشک زبان منہ میں کس طرح حرکت کرتی ہوگی) جتنی بھی طاقت تھی کہتے تھے:
”<لا حول ولا وقوۃ الا باللہ العلی العظیم>“
اے خدا! اے خدا !حسین علیہ السلام میں جتنی بھی روحانی یا جسمانی طاقت ہے وہ تجھی سے ہے،اہل بیت خوش ہو جاتے تھے کہ امام حسین علیہ السلام زندہ ہیں۔ کچھ دیر کے لئے ٹھہر جاتے تھے ، ڈھارس ہو جاتی ، لشکر پھر پلٹتا تھا، گھیرا تنگ کرتا تھا، تیر برساتا تھا، پتھر مارتا تھا، پھر آقا دوبارہ حملہ کرتے تھے، یہی صورت حال جاری ہی اور یہی کرو فرباقی رہا۔
آپ نے سناہوگا کہ ابن سعد نے عاشور کے دن لڑائی کس طرح شروع کی تھی اور پھر یہ بھی سنا ہوگا کہ امام حسین علیہ السلام نے اس بات کی اجازت نھیں دی تھی کہ اپنی یا اپنے اصحاب کی طرف سے لڑائی کی ابتدا کی جائے۔ یہ ایک سنت ہے جو لڑائیوں میں بظاہر ایک فریق اس کا لحاظ رکھتا تھا۔ حضرت علی علیہ السلام بھی یہ خیال رکھتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ میں لڑائی مین ہرکز پہل نھیں کروں گا، انھیں پہلے لڑائی شروع کرنے دیں ہم بعد میں ماریں گے۔
آقا نے بھی لڑائی کی ابتدا نھیں کی، عمر بن سعد نے عبید اللہ ابن زیاد کی خوشنودی کی خاطر لڑائی اس طرح شروع کی کہ تیر اور کمان طلب کی، مشہور ہے کہ ابتدائے اسلام میں اس کا باپ بہت ماہر تیر انداز گذرا ہے اور شاید عمر ابن سعد خود بھی تیر انداز رہا ہو۔ اس نے کمان میں تیر جوڑا او ر حرم حسینی کے خیام کی طرف پھینکا۔پھر بلند آواز سے مخاطب ہوا، اے لوگو! امیر کے سامنے گواہی دینا کہ وہ پہلا شخص جس نے حسین علیہ السلام کے خیموں کی طرف تیر چھوڑا میں خود تھا۔ یہ جنگ عاشور کے دن ایک تیر سے شروع ہوئی اور چاہئے کہ عرض کرتا چلوں کہ ایک اور تیر ہی پر اس کا خاتمہ ہوگیا۔ وہ تیر زہر آلو تھا جو امام حسین علیہ السلام کے سینہٴ مبارک میں پیوست ہوا ” < فعطاہ سھم محدد سموم>“ زہر آلود بھی تھا ، اما م حسین علیہ السلام کے سینے میں اس قدر گہرا اترگیا تھا کہ آقا نے دبا کر سامنے کی طرف سے نکالنا چاہا لیکن نھیں نکلا، لکھا ہے کہ پیچھے سے باہر نکالا۔ اسکے بعد ہی حسین علیہ السلام گھوڑے سے زمین پر گر ے۔ اس واقعے کے بعد آپکی تاب و توانائی جاتی رہی اور پھر اباعبد اللہ کی قوت جواب دے گئی۔
لکھا ہے کہ امام حسن علیہ السلام کے کئی بیٹے تھے جو آپ کے ہمراہ آئے تھے۔ ان میں سے ایک جناب قاسم تھے، امام حسن علیہ السلام کا ایک آخری بیٹا تھا جو دس سال کا تھا، اس بچے کو شاید اپنے والد یاد بھی نہ ہوں گے کیونکہ جس وقت اس کے والد دنیا سے رخصت ہوئے وہ چند ماہ کا رہا ہوگا۔ امام حسین علیہ السلام کے گھر میں پلا بڑھا تھا، امام حسن علیہ السلام کے بیٹوں پر ابا عبد اللہ بہت شفقت فرماتے تھے ، شاید اس سے بھی زیادہ جتنی اپنے بیٹوں کے ساتھ کر تے تھے اس لئے کہ وہ یتیم تھے۔ اس بیٹے کا نام عبد اللہ تھا اور امام حسین علیہ السلام سے بہت مانوس ہے اور امام حسین علیہ السلام نے اسے جناب زینب علیہا السلام کے سپرد کر دیا کہ تم بچوں کا دھیان رکھنا اور جناب زینب علیہا السلام برابر ان کا دھیان رکھے ہوئے ہیں، یکایک جناب زینب علیہا السلام کو معلوم ہوا کہ عبد اللہ خیمے سے نکل گیا ہے اور اپنے عم امام حسین علیہ السلام کے پاس جانا چاہتا ہے۔ جناب زینب علیہا السلام اسے پکڑ نے کو دوڑیں تو وہ زور سے چلایا: ” <واللہ لا افارق عمی >“ خدا کی قسم میں اپنے عمو جان سے الگ نہ ہوں گا، وہ بچہ دوڑ رہا ہے اور جناب زینب علیہا السلام اس کے پیچھے دوڑ رہی ہیں۔
” <السلام علیک یا اباعبداللہ اشہد انک قد امرت بالمعروف ونھیت عن المنکر وجاھدت فی اللہ حق جھادہ> “
جناب زینب علیہا السلام دوڑتے دوڑتے امام حسین علیہ السلام کے قریب جا پہنچیں، آقا نے فرمایا:نھیں! تم واپس جاؤ! چھوڑ دو یہ بچہ میرے پاس رہے ، بچے نے اپنے آپ کو امام حسین علیہ السلام کی گود میں گرادیا، حسین ہیں ان کا اپنا ایک اور ہی عالم ہے، اتنے میں ایک دشمن امام حسین پر ایک وار کرنے آیا، جیسے ہی اس نے تلوار اٹھائی یہ بچہ چلایا: ”یابن الزانیۃ اتر ید ان تقتل عمی ‘ ‘ اے زنا زادے ! کیا تو میرے چچا کو قتل کرنا چاہتا ہے؟ جب تک وہ تلوار لگائے اس بچے نے اپنے ہاتھ آگے کردیئے اور اس کے ہاتھ کٹ گئے، وہ پکارا، یا عماہ! دیکھئے اس نے میرے ساتھ کیا کیا؟

ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
5+6 =