پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|

امام حسین علیہ السلام کی تحریک کی ماہیت


آیت اللہ شہید مرتضی مطہری



بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام حسین علیہ السلام کی تحریک کے متعلق ایک سوال یہ ہے کہ اس تحریک کی ماہیت کیا تھی؟ کیونکہ تحریکیں بھی قدرتی مظاہر کی طرح مختلف ماہیتیں رکھتی ہیں۔ چیزوں اور قدرتی مظاہر کی، معدنیات سے لیکر نباتات اور طرح طرح کے حیوانات کی، الگ الگ قدرتی ماہیت اور خصوصی حالت ہوتی ہے۔ تحریکوں اور اجتماعی بغاوتوں کا بھی یہی حال ہے۔
اگر ہم کسی شے کو پہچاننا چاہیں تو یا تو اس کے علل فاعلی سے پہچانیں گے یا اس کے علل غائی سے (آج کل علل غائی سے پہچاننے کو نہیں مانتے) یا اس کے علل مادی یعنی اس کو تشکیل دینے والے اجزاء اور عناصر سے یا اس کی ظاہری شکل وصورت سے یعنی مجموعی طور پر اس نے جو حالت، شکل اور خصوصیت اختیار کر لی ہے۔ اگر ہم کسی تحریک کی شناخت کرنا چاہیں تو اس کی ماہیت کا پتی لگائیں۔ ان علل و وجوہات کو پہچانیں جن کے نتیجے میں یہ تحریک وجود میں ؤئی ہے۔ جب تک ہم ان کو نہیں پہچانیں گے اس تحریک کی ماہیت نہیں پہچان سکیں گے (علل فاعلی کی پہچان) پھر اس کے آخری علل فاعلی کو پہچانین یعنی اس تحریک کا ہدف کیا ہے؟ پہلے تو یہ کہ اس کا کوئی ہدف بھی ہے یا نہیں اور اگر ہدف ہے تو کیا ہے؟ تیسرے ہم اس تحریک کے عناصر اور مشمولات کو پہچانیں کہ اس تحریک میں کون کون سے کام اور کون کون سے عمل انجام پذیر ہوئے ہیں۔ چوتھے ہم یہ دیکھیں کہ ان عملیات نے جو انجام پذیر ہوئے ہیں مجموعی طور پر کون سی شکل اختیار کی ہے ؟ امام حسین علیہ السلام کی تحریک کے متعلق ایک مسئلہ در پیش ہے کہ کیا قیام اور تحریک ایک قسم کا انفجار تھی ؟ ایک قسم کا اچانک اور غیر متوقع عمل جیسے کسی دیگ کو گرمی پہنچاتے ہیں تو اس کت اندر کا پانی بھاپ بن جاتا ہے اور نکاس بند ہوتے ہیں تو آخر مین وہ دیگ پھٹ جاتی ہے جیسے وہ انفجار جو بعض انسانوں کے لئے ہوتے ہیں۔ جب انسان کچھ ایسے حالات میں پھنس جاتا ہے (اب یا تو اس سبب سے جو اسی وقت پیدا ہو جاتا ہے یا پچھلے علل سے دل میں گھٹن اور بیزاری پیدا ہو جاتی ہے) کہ وہ باوجودیکہ ایک بات کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن اچانک یہ دیکھتا ہے کہ وہ آگ بگولہ ہو گیا ہے اور جس بات کو اس کا دل بھی نہیں چاہتا کہ اس کے منہ سے نکلے بے تحاشہ منہ سے نکل جاتی ہے۔ اسے کہتے ہیں انفجار یعنی پھٹ پڑنا۔ بہت سی بغاوتیں انفجار ہوتی ہیں۔
ایک وہ مقام جہاں مکتب اسلام کی راہ آج کل کے مکاتب مادّی کی راہ سے مختلف ہو جاتی ہے یہ ہے کہ آج کل کے مادّی مکاتب مخصوص جدلیاتی اصول کے مطابق یہ کہتے ہیں کہ اختلافات پر اصرار کرو، تکلیفون میں اضافہ کرو، جس طرح ہو سکے شگافوں کو گہرا کرو بلکہ صحیح اصطلاھات کی بھی مخالفت کرو تاکہ سماج کو (سمجھے بوجھے انقلاب نہیں) انفجار والے اچانک انقلاب کی طرف دھکیل سکو۔ اسلام انفجار کے انقلاب کا بالکل قائل نہین ہے۔ اسلام کا انقلاب سو فیصدی جانا بوجھا ہوتا ہے اور مصمم ارادے، پوری پوری واقفیت اور انتخاب سے عمل میں آتا ہے۔
کیا امام حسین علیہ السلام کا واقعہ انفجاری انقلاب اور ایک انفجار تھا؟ کیا یہ کوئی کام تھا جس کا علم نہیں تھا؟ کیا اس کی یہ صورت تھی کہ اس بہت زیادہ فشار کے باعث جو معاویہ کے زمانے سے بلکہ اس سے پہلے سے عوام پر اور امام علیہ السلام کے خاندان پر ڈالا جا رہا تھا کہ یزید کا زمانہ آیا تو پھر امام حسین علیہ السلام کی برداشت جواب دے گئی اور انھوں نے فرمایا کہ ہر چہ بادا باد، جو کچھ وہ چاہتا ہے ہو جائے؟ نعوذ باللہ۔ خود امام حسین علیہ السلام کی وہ باتیں جو نہ صرف اس تھریک کی ابتدا سے بلکہ معاویہ کی موت کے بعد سے شروع ہو جاتی ہے، وہ خط و کتابت جو آپ کے اور معاویہ کے درمیان ہوئی ہے، وہ تقریریں جو آپ نے مختلف موقعوں پر کی ہیں، ان میں سے وہ مشہور خطاب جو منی میں صحابہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمع کر کے کیا جس کا بیان تحف العقول میں ہے اور بہت مفصل ہے اور نہایت فصیح وبلیغ خطبے ہیں۔ یہ سب چیزیں بتاتی ہیں کہ یہ تحریک جو پورے پورے علم کے ساتھ شروع ہوئی تھی انقلاب ہے انفجار نہین ہے۔ انقلاب ہے لیکن اسلامی انقلاب ہے، انفجار نہین ہے۔
جملہ خصوصیات میں سے امام حسین علیہ السلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ آپ اپنے اصحاب میں سے ہر فرد کے سلسلے میں اپنے قیام کو انفجار والی شکل اختیار کرنے نہیں دیتے۔ امام حسین علیہ السلام ہر موقع پر اپنے اصحاب کو کسی نہ کسی بہانے سے رخصت کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ ان سے کہتے ہیں۔ جان لو کہ یہاں کوئی ضیافت نہیں ہے۔ معاملہ خطرناک ہے۔ عاشور کی رات آتی ہے تب بھی آپ ایک خاص انداز میں ان سے گفتگو کرتے ہیں:
میں اپنے اصحاب سے بہتر اصحاب اور اپنے اہل بیت سے بہتر اہل بیت نہیں پاتا۔ تم سب کا شکر گزار ہوں۔ تم سب کا ممنون ہوں۔ ان لوگوں کو میرے علاوہ تم میں سے کسی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ تم جانا چاہو تو چلے جاؤ۔ وہ لوگ جب جان لیں گے کہ تم اپنے آپ کو اس معرکے سے الگ کر رہے ہو تو وہ تم میں سے کسی سے بھی تعرض نہیں کریں گے۔ میرے اہل بیت اس بیابان میں کسی سے واقف نہیں ہیں۔ اس علاقے سے بھی نا واقف ہیں۔ تم میں سے ہر شخص میرے اہل بیت میں سے ایک ایک فرد کو لے کر دور نکل جائے۔ میں خود اس جگہ اکیلا رہوں گا۔ کیوں؟ لوگوں کی تکلیف اور ناخوشی سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں رہبر ایسی باتیں نہیں کرتا۔ وہ تو شرعی فریضہ کی بات ہے۔ بے شک شرعی فریضہ بھی تھا اور امام حسین علیہ السلامنے اس کے بیان کرنے میں بھی کوئی غفلت نہیں کی، لیکن وہ یہ چاہتے تھے کہ وہ لوگ اس شرعی فریجہ کو نہایت آزادی اور مکمل آگاہی کے ساتھ انجام دیں۔ وہ ان سے یہ کہنا چاہتے تھے کہ دشمن نے تمہیں محصور نہیں کیا ہے۔ تم پر دشمن کی طرف سے کوئی جبر یا دباؤ نہیں ہے۔ اگر تم رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھانا چاہو اور چلے جاؤ تو کوئی مزاحم نہیں ہوگا۔ دوست بھی تم کو مجبور نہیں کر رہا ۔ میں نے تم سے اپنی بیعت اٹھالی۔ اگر تم کو یہ خیال ہے کہ تمہارے لئے بیعت کے مسئلے نے عہد اور جبر پیدا کر دیا ہے تو میں نے وہ بیعت بھی اٹھالی یعنی اب تم اپنی راہ منتخب کرنے کے لئے بالکل آزاد ہو۔
تم کو پوری پوری واقفیت اور آزادی کے ساتھ اور دشمن یا دوست کی طرف سے ذرا سا بھی دباؤ کے احساس کے بغیر میرا انتخاب کرنا چاہئیے۔
یہ ہے وہ بات جو شہدائے کربلا کو قدر ومنزلت بخشتی ہے ورنہ طارق بن زیاد نے اسپین کی لڑائی میں جس وقت اسپین فتح کیا اور اپنی کشتیان اس آبنائے سے پار کر لیں اور جیسے ہی پار کیں حکم دے دیا کہ چوبیس گھنٹے کے لائق رسد رکھ لو اور اس سے زیادہ جو کچھ ہے اسے پھونک دو اور کشتیوں کو بھی جلا دو۔ اس کے بعد سپاہیوں اور افسروں کو جمع کیا۔ اس سمندر کی طرف اشارہ کیا جس سے گزر کر آئے تھے اور کہا: اے لوگو! دشمن تمہارے سامنے اور سمندر تمہارے پیچھے ہے اگر بھاگنا بھی چاہو گے تو سمندر میں ڈوبنے کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہے۔کوئی اور کشتی بھی نہیں ہے۔ اگر تم کاہلی کرو گے تو غذا بھی ۲۴ گھنٹے سے زیادہ کی نہیں ہے اس کے بعد مر جاؤ گے۔ اس لئے تمہاری نجات اسی میں ہے کہ دشمن کو مار دو اور ہلاک کردو۔ تمہاری غذا دشمن کی چنگل میں ہے۔ اس کے سوا کوئی تدبیر نہیں ہے یعنی لوگوں پر دباؤ ڈالو۔ یہ سپاہی اپنے خون کے آخری قطرے تک نہیں لڑیں گے تو کیا کریں گے؟ لیکن امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کے ساتھ طارق بن زیاد کے برعکس عمل کیا۔ یہ نہیں کہا کہ یہاں دشمن موجود ہے اگر اس طرف سے جاؤ جے تو وہ تمہیں فنا کر دےا گا۔ اس طرف سے جاؤ گے تو تمہیں نابود کر دے گا۔ اس طرف سے تمہیں لولو کھا جائے گا۔ اس لئے اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہے کہ چراغ سے گرے ہوئے تیل کو امام زادے کی نذر کر دو۔ تمہیں بہر حال مارا جانا ہے۔ اب جو تم مارے ہی جاؤ گے تو آؤ میرے ہی ساتھ مارے جاؤ۔ اس قسم کی شہادت کی کوئی اہمیت نہ ہوتی۔ سیاست دان اسی قسم کا عمل کرتا ہے۔ انھوں نے کہا۔ نہ سمندر تمہارے پیچھے ہے نہ دشمن تمہارے سامنے۔ نہ دوست نے تمہیں مجبور کیا ہے نہ دشمن نے۔ جس کسی کو چاہو پوری پوری آزادی سے منتخب کر لو۔
پس انقلاب حسین علیہ السلام درجہ اول کا ہے۔ ہمیں یہ جان لینا چاہئیے کہ انقلاب حسین کی طرف سے بھی اور اپنے اصحاب کی طرف سے بھی آگاہانہ ہے، پوری واقفیت اور جانکاری سے آیا ہے۔ یہ انفجار نہیں ہے۔
آگاہانہ انقلاب کی مختلف ماہیتیں ہو سکتی ہیں۔ اتفاق سے امام حسین علیہ السلام کی تحریک ایک ماہیت والی نہیں بلکہ کئی ماہیت کی تحریک ہو گئی ہے۔ سماجی اور قدرتی مظاہر میں ایک فرق یہ ہے کہ قدرتی مظاہر صرف ایک ماہیت کے ہوتے ہیں، کئی ماہیتوں کے نہیں ہو سکتے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک دھات میں بیک وقت سونے کی بھی ماہیت ہو اور تانبے کی بھی البتہ سماجی مظاہر کی بیک وقت کئی کئی ماہیتیں ہو سکتی ہیں۔
انسان خود ایک ایسا عجوبہ ہے جس کی بیک وقت کئی ماہیتیں ہو سکتی ہیں۔ سارٹر اور دوسروں نے کہا ہے کہ انسان کا وجود اس کی ماہیت پر تقدم رکھتا ہے لیکن اس طرح نہیں یعنی ان معنوں میں نہیں جن میں یہ کہتے ہیں کہ درست ہے۔ یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ انسان کی ایک وقت میں کئی کئی ماہتیں ہو سکتی ہیں۔ فرشتے کی ماہیت ہو سکتی ہے اور اسی وقت سور کی بھی ماہیت ہو سکتی ہے۔ اسی وقت چیتے کی ماہیت بھی ہو سکتی ہے اور یہ اسلامی تعلیم وتربیت کی ایک بڑی داستان ہے۔
سماجی مظاہر میں کئی ماہیتیں ہو سکتی ہیں۔ اتفاق سے امام حسین علیہ السلام کا قیام کئی ماہیتوں والا ایسا ہی مظہر ہے کیوں کہ اس میں مختلف عوامل اثر انداز ہیں۔ مثلاً کسی تحریک میں رد عمل کی ماہیت ہو سکتی ہے یعنی صرف رد عمل ہو۔ ابتدا کی ماہیت ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی تحریک رد عمل کی ماہیت رکھتی ہو تو ہو سکتا ہے کسی واقعے کے مقابلے میں اس کا یہ رد عمل منفی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرے واقعے کے مقابلے میں یہ رد عمل مثبت ہو۔ یہ سب باتین امام حسین علیہ السلام کی تحریک میں ملتی ہیں۔ یہ وجہ ہے کہ ایک ہی تحریک کی کئی ماہیتیں ہیں۔ کس طرح؟
ایک عامل جو وقت کے لحاظ سے پہلا عامل ہے بیعت کا مطالبہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام مدینہ میں ہیں۔ معاویہ جس نے اپنے مرنے سے پہلے یزید کی جانشینی اپنے لئے واجب کر لی ہے اور جسے وہ پکا کرنا چاہتا ہے مدینہ آتا ہے۔ امام علیہ السلام سے بیعت لینا چاہتا ہے۔ اس وقت کامیاب نہیں ہوتا۔ اس کے مرنے کے بعد یزید بیعت لینا چاہتا ہے۔ بیعت کرنا یعنی مہر لگانا اور تصدیق وتوثیق کرنا نہ صرف خلافت پر یزید کی ذات کو بلکہ اس رواج کی رو سے جس کی بنیاد معاویہ نے ڈال دی ہے کہ جانے والا خلیفہ مقرر کریں یا اگر شیعہ ہوں تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نص کے مطابق عمل کریں۔ نہیں! ایک ایسی بات جو نہ شیعہ کہتے ہیں نہ سنے؛ ایک خلیفہ دوسرے خلیفہ کو اپنے بیٹے کو مسلمانوں کے لئے ولی عہد مقرر کرے۔
اس لئے یہ تنہا یزید جیسے قبیح اور رسوا انسان کی خلافت پر مہر تصدیق لگانا ہی نہین ہے بلکہ ایک ایسی سنت رائج کرکے مہر ثبت کرنا تھا جس کی پہلی بار معاویہ کے ذریعے بنیاد ڈالی جانی ہے۔
وہ لوگ امام حسین علیہ السلام سے اس لئے بیعت چاہتے ہیں یعنی ان کی طرف سے ایک مطالبہ پیدا ہوا ہے۔ امام حسین علیہ السلام رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ منفی رد عمل۔ تم بیعت چاہتے ہو ؟ میں نہین کرتا۔ یہاں امام حسین علیہ السلام کا عمل منفی عمل ہے۔ یہ تقوی کا تقاضا ہے۔ ایسا تقاضا ہے جس کا ہر انسان کو اپنے معاشرے میں ایسے مطالبوں کے ساتھ سامنا ہو جاتا ہے جو اسسے مختلف شکلوں، شہوت کی صورت میں، مقام کی صورت میں، خوف اور رعب کی صورت میں کئے جاتے ہین اور اسے ان کے مقابلے میں کہنا پڑتا ہے نہیں ! یعنی تقوی۔
وہ لوگ کہتے ہین بیعت، امام حسین علیہ السلام کہتے ہیں: نہیں! وہ ڈراتے دھمکاتے ہیں، آپ کہتے ہیں: " میں قتل ہونے کو تیار ہوں لیکن بیعت کرنے کو تیار نہیں ہوں۔"
یہاں تک کہ یہ تحریک ایک غیر شرعی مطالبے کے جواب میں رد عمل کی ماہیت بلکہ منفی رد عمل کی ماہیت ہے۔ لا الہ الا اللہ کے پہلے ٹکڑے یعنی لا الہ کی ماہیت ہے۔ غیر شرعی مطالبے کے جواب میں "نہ" کہنا ہے (تقوی)۔
لیکن تحریک حسینی میں جس عامل (سبب) کا دخل تھا وہ صرف یہی تھا جھگڑا نہیں تھا۔ یہاں ایک اور عامل بھی موجود تھا جس کی رو سے تحریک حسینی کی ماہیت پھر رد عمل کی ماہیت ہے لیکن یہ رد عمل نہ مثبت ہے نہ منفی۔
معاویہ دنیا سے چلا جاتا ہے۔ کوفہ والوں نے اس حادثہ سے بیس سال پہلے کم سے کم پانچ سال تک حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ اس شہر میں زندگی بسر کی ہے۔ اور ابھی تک حضرت علی علیہ السلام کی تعلیم و تربیت کے آثار پورے طور پر نہیں مٹ پائے ہیں۔ (البتہ بہت کچھ چھن کر صاف ہو چکے ہیں ان کے بہت سے بزرگ اور مرد حجر بن عدی، عمرو بن حمق خزاعی، رشید حجری، میثم تمار جیسے مارے جا چکے ہیں تاکہ اس شہر کو حضرت علی علیہ السلام کے خیالات سے اور حضرت علی علیہ السلام کے طرفدار جذبات سے خالی سکیں پھر بھی ابھی تک ان تعلیمات کا اثر باقی ہے) یہاں تک کہ معاویہ مر جاتا ہے، چونکتے ہیں، ایک دوسرے کے گرد جمع ہوتے ہیں، اکٹھے ہوتے ہیں کہ اس وقت موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئیے، ایسا نہ ہو کہ موقع اس کے بیٹے یزید کو مل جائے، ہمارے ساتھ امام حسین علیہ السلام ہیں، ہمارے سچے امام حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام ہیں، ہم اس وقت تیار ہو جائیں اور ان کو بلائیں کہ کوفہ آئیے۔ ان کی مدد کریں اور کم سے کم ابتداء میں اس جگہ ایک قطب قائم کر دیں بعد میں خلافت کو بھی اسلامی خلافت بنا لیں گے۔ یہاں ان لوگون کی طرف سے بلاوا ہے جو دعوے دار ہیں کہ ہم دل و جان سے تیار ہیں۔ ہمارے درختوں میں پھل آگئے ہیں۔ اس جملے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بہار کا موسم ہے۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ درخت سرسبز ہو گئے ہیں اور ان میں پھل لگے آئے ہیں یعنی آقا! اس وقت یہاں پھلوں کا موسم ہے۔ یہان آئے اور پیٹ بھر کر پھل کھائیے ! نہیں یہ مچل ہے۔ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انسانوں کے درخت ہرے بھرے ہیں اور یہ اجتماعی باغ اس بات کے لئے تیار ہے کہ آپ اس مین قدم رکھیں۔
کوفہ اصل میں فوجی چھاونی رہا ہے۔ شروع ہی سے اس کی بنیاد چھاونی کے طور پر رکھی گئی تھی۔ یہ شہر خلیفہ حجرت عمر بن خطاب کے زمانے میں بسایا گیا تھا۔ اس سے پہلے اس کا نام "حیرہ" تھا۔ یہ شہر سعد ابن وقاص نے آباد کیا تھا۔ جو مسلمان سپاہی تھے انھوں نے اسی چھاونی میں اپنے لئے گھر بنائے تھے اس لئے ایک لحاظ سے یہ دنیا کا نہایت قوی ترین شہر تھا۔
اس شہر کے لوگ امام ھسین علیہ السلام کو بلاتے ہیں۔ ایک شخص نہیں، دو نہیں، ہزار نہیں، پانچ ہزار نہیں، دس ہزار آدمی نہیں بلکہ تقریباً اٹھارہ ہزار خطوط پہنچتے ہیں، جن میں سے بعض خطوط پر چند لوگوں نے اور کچھ اور خطوط پر سو سو آدمیوں نے بھی دستخط کئے تھے۔ اگر ہم اوسط بھی نکالیں تو شاید ایک لاکھ آدمیوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھے تھے۔
یہاں امام حسین علیہ السلام کا رد عمل کیا ہونا چاہئیے ؟ ان پر حجت تمام ہو چکی ہے۔ یہاں رد عمل مثبت ہے۔ اور آپ کے عمل کی ماہیت تعاون کی ماہیت ہے ۔ یعنی مسلمانوں نے قیام کیا ہے۔ امام کو چاہئیے کہ ان کی مدد کو دوڑیں ۔ یہاں منفی اور تقوی کی ماہیت نہیں ہے، مثبت ماہیت ہے، جو کام دوسروں سے شروع ہوا ہے امام حسین علیہ السلام کو چاہئیے کہ ان کی دعوت پر مچبت جواب دیں۔ یہاں ذمہ داری کیا ہے ؟ اس مقام پر ذمہ داری انکار کرنا تھا ؟ "نہ" کہنا تھا؟ بیعت کے لحاظ سے امام حسین علیہ السلام کو صرف یہ کہنا چاہئیے: نہیں! اپنے آپ کو پاک رکھیں اور گناہ سے آلودہ نہ کریں۔ لہذا اگر امام حسین علیہ السلام ابن عباس کی تجویز پر عمل کرتے اور چلے جاتے، کوہستان یمن میں رہتے جہاں یزید کے لشکری ان تک نہ پہنچ پاتے تو وہ اپنے پہلے فریضے سے ضرور عہدہ برآ ہو جاتے۔ وہ چونکہ بیعت چاہتے تھے اور یہ بہعت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ بیعت کیجئیے اور یہ کہتے تھے نہیں! بیعت کے مطالبے کے لحاظ سے اور امام حسین علیہ السلام تقوی کے احساس کے لحاظ سے اور اس لحاظ سے کہ منفی جواب دینا چاہئیے یمن کے پہاڑوں میں جاکر جیسا کہ ابن عباس اور دوسروں نے تجویز کیا تھا وہ (امام حسین علیہ السلام) اپنا فرض ادا کر چکے ہوتے لیکن یہاں مسئلہ دعوت کا ہے۔ یہ نیا فرضہ ہے۔ مسلمانوں نے تقریباً ایک لاکھ دستخطوں سے بھیجے ہیں۔ یہ اتمام حجت ہے۔
امام حسین علیہ السلام کی پہلی حرکت سے ظاہر تھا کہ وہ اہل کوفہ کو آمادہ نہیں سمجھتے۔ وہ ان کو سست اور مرعوب شدہ سمجھتے ہیں۔ عین اس حال میں تاریخ کو کیا جواب دیں؟ اگر امام حسین علیہ السلام کوفیوں کی طرف بالکل توجہ نہ کرتے تو ہم ہی لوگ جو ؤج یہاں بیٹھے ہیں یہ کہتے کہ امام حسین علیہ السلام نے مثبت جواب کیوں نہیں دیا ؟
ابو سلمہ خلال ایک شخص تھا جسے بنی عباس کے دور میں وزیر آل محمد کہتے تھے۔ جس وقت اس کے تعلقات خلیفہ عباس سے خراب ہو گئے تو زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ وہ مارا گیا۔ اس نے فوراً دو خط لکھے۔ ایک امام جعفر صادق علیہ السلام کو اور ایک عبد اللہ محض کو اور دونون کو بیک وقت دعوت دی اور کہا کہ میں اور ابو مسلم ابھی تک ان لوگوں کے لئے کام کرتے تھے اب اس گھڑی سے ہم آپ کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں۔ آئیے اور ہمارا ساتھ دیجئیے۔ ہم انہیں نابود کر دیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جس وقت دو دو شخصوں کے لئے خط لکھتا ہے تو علامت یہ ہے کہ اس میں خلوص نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب خلیفہ عباسی سے اس کے تعلقات بگڑ گئے اس کے بعد اس نے یہ خط لکھا ہے۔ جب امام صادق علیہ السلام کے پاس خط پہنچا تو آپ نے پڑھا۔ پھر خط لانے والے کی آنکھوں کے سامنے خط آگ مین جلا دیا۔ اس شخص نے پوچھا خط کا کیا جواب ہے؟ ؤپ نے فرمایا۔ خط کا جواب یہی ہے۔ ابھی وہ واپس بھی نہیں پہنچا تھا کہ ابو سملہ قتل ہو گیا اور اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابو سل؛مہ خلال کو جس نے انہیں دعوت دی تھی مثبت جواب کیوں نہیں دیا؟ منفی جواب کیوں دیا۔ حالانکہ ابو سلمہ خلال صرف ایک شخص تھا دوسرے اس کی نیت خالص نہیں تھی اور تیسرے جب اس نے خط لکھا تھا اس وقت پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا۔ خلیفہ عباسی بھی سمجھ گیا تھا کہ یہ شخص اس کے ساتھ سچا نہیں ہے اس لئے چند دن بعد اسے مروا ڈالا۔
اگر کوفیوں کے اٹھارہ ہزار خطوط مکہ اور مدینہ (خصوصاً مکہ) امام حسین علیہ السلام کے پاس جاتے اور امام حسین علیہ السلام مثبت جواب نہ دیتے تو تاریخ امام حسین علیہ السلام کو برا بھلا کہتی کہ اگر وہ کوفہ چلے جاتے تو یزید اور یزیدیت کی جڑ قلم ہو جاتی، کوفہ مسلمانوں کی فوجی چھاونی تھی۔ کوفہ میں حضرت علی علیہ السلام نے پانچ سال تک زندگی بسر کی تھی اور وہاں ابھی تک حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کے آثار باقی تھے۔ وہ یتیم جنہیں حضرت علی علیہ السلام نے بڑا کیا تھا اور وہ بیوائیں جن کی حضرت علی علیہ السلام نے سرپرستی کی تھی ابھی زندہ ہیں اور حضرت علی علیہ السلام کی آواز اس شہر کے لوگوں کے کانوں میں گونج رہی ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے بزدلی دکھائی اور ڈر گئے جو اس جگہ نہیں گئے۔ اگر چلے گئے ہوتے تو دنیائے اسلام میں انقلاب آجاتا۔
یہ وجہ ہے جو اس مقام پر فرض اس قسم کا جواب دیتا ہے کہ وہ کہتے ہیں تو ہم آمادہ ہیں۔ امام فرماتے ہیں میں آمادہ ہوں۔ اس اعتبار سے امام حسین علیہ السلام کا فرض کیا ہے؟
کوفہ کے لوگوں نے مجھے بلایا ہے۔ میں کوفہ جا رہا ہوں۔ کوفہ والوں نے مسلم سے اپنی بیعت توڑ دی ہے۔ میں واپس جاتا ہوں۔ میں اپنے مقام کو جاتا ہوں۔ مدینہ یا کسی اور جگہ چلا جاتا ہون تاکہ وہان وہ لوگ جو چاہیں کریں یعنی اس سبب کے پیش نظر کہ ایک دعوت کے جواب میں ایک مثبت رد عمل ہے امام حسین علیہ السلام کا فریضہ مثبت جواب دینا ہے جب تک کہ دعوت دینے والے اپنی جگہ ثابت قدم رہیں۔ جس وقت وہ بدل گئے پھر اس لحاظ سے امام حسین علیہ السلام کا کوئی فریضہ نہین ہے اور نہ تھا۔
ان دونوں عامل میں سے کون سا دوسرے پر تقدم رکھتا تھا؟ کیا یہ پہلا عامل کہ امام حسین علیہ السلام نے بیعت سے انکار کر دیا اور چونکہ بیعت سے انکار کر دیا اس لئے اہل کوفہ نے انہیں بلایا یا کم سے کم وقت کے لحاظ سے ایسا ہوا یعنی بیعت سے انکار کئے ایک مہینے سے زیادہ گزر جانے کے بعد اہل کوفہ کا دعوت نامہ پہنچا؟ یا معاملہ اس کے برعکس تھا؟ پہلے اہل کوفہ نے آپ کو بلایا تو امام حسین علیہ السلام نے دیکھا کہ اچھا انھوں نے اس وقت دعوت دی ہے تو مجھے بھی مثبت جواب دینا چاہئیے۔ معلوم ہے کہ جو شخص اتنے بڑے کام کے لئے امید وار ہوتا ہے پھر اس کے لئے بیعت کرنے کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔ انہوں نے اس لئے بیعت نہیں کی کہ اہل کوفہ کے مطالبے پر مثبت جواب دے چکے تھے۔ تاریخ کے مطابق ان دونوں عوامل میں سے کون سا پہلا ہے اور کیوں؟ اس لئے کہ پہلے ہی دن جب معاویہ مرا ہے امام حسین علیہ السلام سے بیعت کا مطالبہ ہو چکا تھا۔ بلکہ معاویہ مرنے سے پہلے مدینہ آچکا تھا اور اس نے چاہا تھا کہ جس حیلے اور مکاری سے ہو اپنی زندگی میں ہی امام حسین علیہ السلام اور دو تین اور لوگوں سے بیعت لے لے لیکن ان لوگوں نے یہ بات نہیں مانی۔ بیعت کے مطالبے کا مسئلہ اور اس سے انکار وقت کے اعتبار سے پہلا واقعہ ہے۔ خود یزید نے بھی جس وقت معاویہ مر گیا ہے اس خبر کے ساتھ ایک خط بھیجا تھا جو ایک تیز رفتار ہر کارے کی معرفت چند دن کے اندر اندر اونٹوں پر مدینہ پہنچ گیا تھا اور جس شخص نے والی مدینہ کو معاویہ کے مرنے کی خبر پہنچائی اسی نے وہ خط بھی اسے دیا تھا کہ : "خذ بالبیعتہ اخذا شدیداً۔" امام حسین علیہ السلام اور ان دو تین دوسرے آدمیوں سے سختی سے جس طرح سے بھی ہو بیعت لے لے۔ ابھی تک شاید کوفہ میں خبر نہیں پہنچی تھی کہ معاویہ مر گیا ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ امام حسین سے بیعت کا تقاضہ کیا تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے منع کر دیا تھا۔ وہ رضا مند نہیں ہوئے۔ دو تین دن بعد پھر یہی گفتگو ہوئی۔ وہ لوگ آتے تھے کبھی نرم لہجے میں اور کبھی درشتی سے بات کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت نے مدینہ ہی چھوڑ دیا۔ امام حسین علیہ السلام ۲۷ رجب کو مدینہ سے روانہ ہوئے اور تین شعبان کو مکہ پہنچ گئے۔ اہل کوفہ کا دعوت نامہ ۱۵ رمضان کو امام حسین علیہ السلام کو ملا۔ یعنی بیعت کے مطالبے اور امام کے انکار کو دیڑھ مہینہ گزر چکا تھا اور مکہ میں امام کے قیام کو چالیس دن سے زیادہ گزر چکے تھے۔
اس لئے مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پہلے انھوں نے دعوت دی بعد میں امام علیہ السلام نے انہیں سازگار جواب دیا اور چونکہ مثبت جواب دے دیا تھا اور ان کی طرف امیدوار بن چکے تھے پھر بیعت کرنا بے معنی تھا یعنی آپ نے اس لئے بیعت نہیں کی کہ اہل کوفہ کو مثبت جواب دے چکے تھے۔ نہیں! اہل کوفہ کی دعوت درمیان میں آنے سے پہلے آپ بیعت سے انکار کر چکے تھے: میں بیعت نہیں کروں گا چاہے روئے زمیں پر میرے لئے کوئی ٹھکانہ باقی نہ رہے۔
یعنی اگر زمین کی تمام وسعتیں میرے لئے اس طرح تنگ کر دی جائیں کہ میرے رہنے کے لئے ایک نقطہ بھی موجود نہ رہے پھر بھی میں بیعت نہیں کروں گا۔
تیسرا عامل جسے دوسرے دو اسباب کی طرح تاریخ بیان کرتی ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھا جس کے نعرے کے ساتھ امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے سفر شروع کیا تھا اس لحاظ سے مسئلہ یہ نہیں تھا کہ چونکہ وہ مجھ سے بیعت چاہتے ہیں اور میں اس کے لئے تیار نہیں ہوں اس لئے قیام کرتا ہوں بلکہ یہ تھا کہ وہ بیعت نہ بھی چاہئیں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کے مطابق قیام کرتا ہوں اور یہ بھی مسئلہ نہیں تھا کہ چونکہ اہل کوفہ نے مجھے دعوت دی ہے اس لئے میں قیام کرتا ہوں۔ابھی اہل کوفی کی دعوت کو تقریباً دو مہینے باقی تھے۔ یہ ابتدائی دن تھے جن کا اہل کوفہ کی دعوت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دنیائے اسلام کو منکرات نے گھیر رکھا ہے اس لئے میں دینی فریضے کے مطابق، شرعی اور خدا ذمہ داری کے مطابق خود قیام کرتا ہوں۔
پہلے عامل میں امام حسین علیہ السلام مدافعت کرتے ہیں۔ لوگ ان سے کہتے ہیں کہ بیعت کیجئیے آپ فرماتے ہیں مین نہیں کرتا۔ وہ اپنا دفاع کرتے ہیں۔ دوسرے عامل میں امام حسین علیہ السلام سے تعاون کیا جاتا ہے ان کو مل کر کام کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ آپ نے مثبت جواب دے دیا ہے۔ تیسرے سبب میں امام حسین علیہ السلام حملہ آور ہیں۔ یہاں انہوں نے حکومت وقت پر حملہ کر دیا ہے۔ اس سبب کے مطابق امام حسین علیہ السلام ایک انقلابی انسان ہیں۔ وہ انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں۔
ان عوامل میں سے ہر عامل امام حسین علیہ السلام کے لئے ایک قسم کا فرض واجب قرار دیتا ہے۔ یہ جو میں کہتا ہوں کہ اس تحریک کی کئی ماہیتیں ہیں وہ اسی لئے کہتا ہوں۔ بیعت کے عامل کے لحاظ سے امام حسین علیہ السلام کا سوائے بیعت نہ کرنے کے اور کوئی فریضہ نہیں ہے۔ اگر ابن عباس کی تجویز پر بھی عمل کرتے اور پہڑوں میں چلے جاتے تو وہ اس فریضہ پر عمل کر چکے ہوتے۔ اس فریضے کے انجام کے لحاظ سے امام حسین علیہ السلام کا یہ فرض نہیں تھا کہ کہ کسی اور آدمی کو بھی اپنے ساتھ کام کرنے کی دعوت دیں۔ انہوں نے مجھ سے بیعت چاہی میں بیعت نہیں کرتا۔ انہوں نے میری شرافت کا دامن آلود کرنا چاہا میں نہیں کرتا۔ اہل کوفہ کی دعوت کے عامل کے لحاظ سے ؤپ کا فرض یہ ہے کہ انہیں مثبت جواب دیں اس لئے حجت تمام ہوئی ہے۔ ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ یہ اتمام حجت کس شکل میں ہوتی ہے۔ پھر مسئلہ امامت کیا ہوتا ہے؟نہیں! مسئلہ امامت اس معنی میں نہیں ہے کہ امام کا کوئی شرعی فریضہ ہی نہ ہو۔ اتمام حجت اس بارے میں کوئی معنی نہیں رکھتا۔ حضرت علی علیہ السلام خطبہ شقشقیہ میں فرماتے ہیں: " لولا حضور الحاضر وقیام الحجۃ بوجود الناصر وما اخذ اللہ علی العلما ان لا یقاروا علی کظۃ ظالم ولا سغب مظلوم لا لقیت جھلھا علی غار بھا ولسقیت آخرھا بکاس اولھا۔"
اپنے زمانہ خلافت کے بارے میں کہتے ہیں: اگر لوگ حاضر نہ ہوتے اور لوگوں کے سامے مجھ پر حجت تمام نہ ہوتی اور اگر خدا نے علماء اور داناؤن سے یہ عہد نہ لیا ہوتا کہ جب لوگ اس طرح تقسیم ہو جائیں کہ پیٹ بھروں نے زیادہ سیر ہو کر کھا لیا ہو اور بھوکے بھوکے ہی رہ گئے ہوں تو اس قابل اعتراض حالت کے خلاف بھوکوں کی حمایت میں اور زیادہ کھانے والوں کے خلاف قیام کرو، میں عہدہ خلافت قبول نہیں کرتا۔ میں ذاتی لحاظ سے اس کام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا لیکن یہ فریضے اور ذمہ داریاں میرے عہدے کی ذمے لگادی گئی تھیں۔
امام حسین علیہ السلام کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اصولاً امام چونکہ امام ہوتا ہے، قابل تقلید ہوتا ہے، نمونہ ہوتا ہے، پیشوا ہوتا ہے، ہم امام کے عمل سے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ فرائض کی تشخیص کس طرح کرنا چاہئیے اور کس طرح عمل کرنا چاہئیے۔ اہل کوفہ کی دعوت کے عامل کے لحاظ سے امام حسین علیہ السلام کا فرض یہ ہے کہ وہ کوفہ آئیں جب تک کہ وہ اپنے قول پر قائم ہیں۔ جس گھڑی سے انہوں نے اپنی پوزیشن بدل لی، اپنے قول سے پھر گئے، ہار گئے اور چلے گئے۔ پھر امام حسین علیہ السلام کا اس لحاظ سے کوئی فرض نہیں رہ جاتا۔ جس وقت زمام حکومت ہاتھ میں لینے کا مسئلہ ان کی طرف سے ختم ہو جاتا ہے تو پھر امام حسین علیہ السلام کا کوئی فرض نہیں رہتا۔ لیکن امام حسین علیہ السلام کا وہ کام جو اس پر منحصر نہیں تھا یعنی اہل کوفہ کی دعوت ایک وقتی عامل تھا۔ یعنی ایک ایسا عامل تھا جو ۱۵رمضان سے شروع ہوا، بار بار خطوط آتے جاتے رہے، اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ امام حسین علیہ السلام کوفہ کے نزدیک یعنی عراق اور سعودی عرب کی سرحد تک نہیں پہنچ گئے۔ حر بن یزید ریاحی نے ملاقات کی۔ دوسروں خبروں کے ساتھ قتل مسلم کی خبر بھی پہنچی پھر اہل کوفہ کی دعوت کا وجود ختم ہو گیا۔ اس نقطہ نظر سے امام کا کوئی فریضہ نہیں رہتا۔ اس لئے جب آپ اہل کوفہ سے بات کرتے ہیں آپ کے مخاطب اہل کوفہ ہیں۔ یزید اور حکومت وقت نہیں ہے۔ ان ست شیعوں سے کہتے ہیں: تم نے مجھے بلایا میں آگیا، تم نہیںچاہتے میں پلٹا جاتا ہوں، تم نے مجھے دعوت دی تھی۔ تمہارے بلاوے نے میرے لئے ایک فریضہ واجب کر دیا، لیکن اب جو تم پشیمان ہو گئے ہو تو میں واپس جاتا ہوں۔ کیا میں بیعت بھی کروں گا۔ ہرگز نہیں ! وہ عامل اور مسئلہ ہی دوسرا ہے۔ جیسا کہ آپ نے خود فرمایا ہے: چاہے تمام روی زمیں پر مجھے ایک نقطے کی بھی جگہ نہ ملے جہاں میں پناہ لے سکوں ( نہ تنہا تم مجھے جگہ نہ دیتے) میں پھر بھی بیعت نہیں کروں گا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عامل کے لحاظ سے کہ امام حسین علیہ السلام کی نظر میں کوئی اور مدافع نہیں، نہ انہیں کسی کا تعاون حاصل ہوتا ہے بلکہ وہ ایک ہجوم ہے، ایک انقلاب ہے۔ کس طرح؟ نہیں ! ان کے حساب سے یہ انہی کے سر ہے۔
کتاب شہید جاوید کے مصنف نے اس مقام پر جو ایک غلطی کی ہے وہ میرے خیال سے یہ ہے کہ اس نے اہل کوفہ کی دعوت کے عامل کو حد سے زایدہ اہمیت دے دی ہے، جیسے اس نے سمجھ لیا ہو کہ اصلی اور بنیادی سبب یہی ہے۔ بے شک یہ اجتہادی اور استنباط کے نتائج ہیں، ٹھیک جو نتیجہ نکلتا ہے وہ غلطی بھی کرتا ہے۔ اس نے غلطی کی ہے۔ میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہنا چاہتا، یہ اجتہادی غلطی بری ہے۔ ان اسباب میں سب سے چھوٹا سبب اثر کے اعتبار سے اہل کوفہ کی دعوت ہے۔ ورنہ اگر یہ بنیادی عامل ہوتا تو جس وقت امام علیہ السلام کو خبر پہنچی کہ کوفہ کی فضا بدل گئی ہے تو امام علیہ السلام کو دوسری باتوں سے ہاتھ اٹھا لینا چاہے تھا اور یہ کہنا چاہئیے تھا بہت اچھا۔ اب جو ایسا ہو گیا ہے تو ہم بیعت کئے لیتے ہیں۔ اب ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بات نہیں کریں گے۔ اتفاق کی بات ہے کہ معاملہ بالکل الٹا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا سب سے زیادہ شور انگیز اور پر ہیجان خطبہ، کوفہ کی شکست کے بعد ہے۔
یہ مقام ہے جو نشاندہی کرتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کس قدر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عامل پر زور دیتے ہیں اور کس حد تک اس فاسد حکومت پر حملہ کرتے ہیں۔ اس عامل کے لحاظ سے امام حسین علیہ السلام اس وقت کی فاسد حکومت پر ہجوم آور ہیں، انقلابی ہیں، راستے میں آپ کی نظر دو آدمیوں پر پڑتی ہے جو کوفہ سے آرہے ہیں، آپ ٹھر جاتے ہیں، تاکہ ان سے بات چیت کریں۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام ہیں، اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام بھی سمجھ جاتے ہیں کہ وہ بات کرنا نہیں چاہتے، اس لئے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ بعد میں آپ کے ایک صحابی نے جو پیچھے پیچھے آرہا تھا ان لوگوں کو دیکھ لیا، ان سے گفتگو کی، ان لوگون نے مسلم اور ہانی کی شہادت سے متعلق کوفہ کے تکلیف دہ واقعات اسے سنائے اور بولے خدا کی قسم ہمیں امام حسین علیہ السلام کو یہ خبر سنانے سے شرم آرہی تھی۔ وہ شخص جب بعد میں امام حسین علیہ السلام سے آکر ملا اور جس مقام پر امام بیٹھے ہوئے تھے پہنچا تو بولا۔ میرے پاس ایک خبر ہے۔ آپ جس طرح اجازیت دیں گے عرض کردوں گا۔ اگر آپ اجازت دیتے ہیں تو یہیں عرض کئے دیتا ہوں ورنہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں تخلیہ میں عرج کروں تو بطور خصوصی عرض کئے دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہو! میں اپنے اصحاب سے کوئی بات نہیں چھپاتا۔ ہم اسی طرح آپس میں یک رنگ ہیں، اس نے واقعہ سنایا کہ آپ جن دو لوگوں سے کل ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن جنہوں نے اپنی راہ بدل لی تھی میں نے ان سے بات چیت کی ہے۔ انہون نے بتایا ہے کہ کوفہ سقوط کر گیا، مسلم اور ہانی قتل ہو گئے۔ آپ نے اس جملے تک سنا، پہلے آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اب دیکھئیے کیا جملہ فرماتے ہیں: "من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضی نھبہ ومنھم من ینتظر وما بدلوا تبدیلا" )سورہ احزاب ؤیت ۲۳)۔ سبحان اللہ! در اصل قرآن میں اس موقع کے لئے زیادہ مناسب آیت آپ مپیش نہیں کر سکتے۔ بعض مؤمنون نے خدا سے جو عہد کیا وہ پورا کیا۔ انہیں میں سے جو اپنا وعدہ وفا کرنے والے ہیں بعض گزر گئے اور چلے گئے، شہید ہو گئے اور کچھ انتظار کر رہے ہیں کہ ان کی باری آئے یعنی ہم صرف کوفہ کے لئے نہیں آئے ہیں۔ کوفہ سقوط کر چکا تو کر چکا۔ ہمارا سفر اہل کوفی کی دعوت کی وجہ سے نہی ں ہوا ہے۔ یہ بھی ایک عامل تھا جس نے ہمارے لئے یہ فریضہ لازم کر دیا کہ ہم جلدی جلدی مکہ سے کوفہ کی جانب آئیں۔ ہمارا فرض اس سے بھی بڑا اور ہم ہے۔ مسلم نے اپنا عہد نبھایا اور ان کا کام ختم ہو گیا۔ انجام کو پہنچ گئے۔ وہ شہید ہو گئے۔ مسلم کا وہ مقدر ہم بھی اپنائیں۔
اس لحاظ سے کہ امام علیہ السلام ہجوم کرنے والے اور انقلابی تھے آپ کی منطق میں اور دفاع و تعاون کی منطق میں فرق ہے۔ دفاع کی منطق ایک ایسے آدمی کی منطق ہے جو پیش قیمت چیز رکھتا ہے۔ چور اسے چرانا چاہتا ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ڈھینگا مشتی کرے اور چور کو زمین پر دے مارے لیکن اس بات کی فکر نہیں کرتا کہ اسے مضبوطی سے پکڑ کر اندر چلا جائے تاکہ چور اسے نہ چھینے۔ اسے اس سے غرضنہین کہ اس وقت اس کی طاقت کم ہے یا زیادہ۔ بات یہ ہے کہ وہ اسے چور سے بچانا چاہتا ہے۔ لیکن ایک حملہ آور شخص یہ نہیں چاہتا کہ وہ فقط اپنی ہی حفاظت کرے۔ وہ اسے اچک لے جاناچاہتا ہے اگر چہ اپنی شہادت کی قیمت پر ہی ہو۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی منطق نے امام حسین علیہ السلام کی منطق کو شہید کی منطق بنا دیا۔ شہید کی منطق ان منطقوں سی الگ تھلگ ہوتی ہے۔
شہید کی منطق یعنی ایسے شخص کی منطق جو اپنے جامعہ کے لئے ایک پیغام رکھتا ہے اور یہ پیغام وہ اپنے خون کے سوا اور کسی چیز سے نہیں لکھنا چاہتا۔ دنیا میں بہت سے لوگون کے پاس کہنے کی باتیں تھیں، پیام تھا، ان کھدائیوں مین جو دنیا میں چاروں طرف برابر جاری رہتی ہیں یہ دیکھتے ہیں کہ فلان بادشاہ یا عوامی صدر کا سنگی کتبہ اس مضمون کا ملتا ہے: میں فلان ابن فلاں ہوں۔ مین وہ ہوں جس نے فلاں مقام کو فتح کیا تھا۔ مین نے دنیا مین کتنی عمر پائی، کتنی شادیاں کیں، کتنا عیش کیا، کتنا کھایا پیا، کتنا ظلم وستم کیا، لوگ بھول جاتے ہیں، زمین میں دفن ہو جاتا ہے ہزاروں سال کے بعد زمین میں سے نکلتا ہے اور نیا نیا عجائب گھرون میں رکھ دیا جاتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے اپنا خونی پیغام لرزتی ہوا کے صفۃ پر لکھ دیا لیکن چونکہ خون اور سرخ رنگ سے ملا ہوا تھا دلون پر کندہ ہو گیا۔ آج آپ عرب اور عجم کے لاکھوں کروڑوں افراد دیکھتے ہیں جو امام حسین کے پیغام سے واقف ہیں: " انی لا اری الموت الا سعادۃ ولا الحیوۃ مع الظالمین الا برما۔"
جب آدمی شرمناک زندگی بسر کرنا چاہتا ہے، جب آدمی ظالم اور ستمگر کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتا ہے جب آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی صرف روٹی کھانے، پانی پینے، سونے اور ذلت اٹھانے کے لئے ہو تو ایسی زندگی سے ہزار بار موت بہتر ہے۔ یہ شہید کا پیغام ہے۔
امام حسین علیہ السلام جو حملہ آور ہیں اور جن کی منطق شہید کی منطق ہے جس دن اپنا پیغام کربلا کی زمین پر ثبت کر رہے تھے نہ وہاں کاغذ تھا نہ قلم تھا۔ ہوا کا یہی لرزتا ہوا صفحہ تھا لیکن ان کا یہ پیغام ہوا کے لرزاں صفحے پر کیوں باقی رہ گیا؟ اس لئے کہ دلوں کے صفحے پر فوراً منتقل ہو گیا۔ دلوں کے صفحے پر ایسا کندہ ہوا کہ پھر مٹنے والا نہین ہے۔
ہر سال جب محرم آتا ہے تو ہم دیکتے ہیں کہ امام حسین پھر سے ابھرتے ہیں، از سر نو زندہ ہوتے ہیں، پھر کہتے ہیں: "خط الموت علی ولد آدم مخط القلادۃ علی جید الفتاۃ وما اولھنی الی اسلافی کاشتیاق یعقوب الی یوسف۔" ہم پھر دیکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کا یہ پیغام ہے: " الاوان الدعی ابن الدعی قدرکز بین اثنتین بین السلۃ والذلۃ وھیھات منا الذلۃ یابی اللی ذالک لنا ورسولہ والمؤمنون وحجور طابت وطھرت۔"
تیس ہزار آدمیوں کے مقابلے میں جو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار رہے ہیں جن میں سے ہر ایک کندھے پر تلوار رکھے اور ہاتھ میں نیزہ لئے ہے، باوجودیکہ آپ کے تمام اصحاب قتل ہو چکے ہیں اور آپ اکیلے رہ گئے ہیں آپ چلا چلا کر کہہ رہے ہیں: یہ نالائق کا بیٹا نالائق، یہ حرام زادے کا بیٹا حرام زادہ یعنی یہ تمہرا امیر اور حاکم نے، اس عبید اللہ ابن زیاد نے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ حسین علیہ السلام دو کاموں میں سے ایک اکم کا اختیار رکھتے ہیں یا تلوار یا ذلت۔ حسین علیہ السلام اور زلت اٹھانا ! "ھیھات منا الذلۃ " ہم کہاں اور ذلت کہاں!" میرا خدا میرے لئے ذلت پسند نہیں کرتا۔ یہ شہید کا پیغام ہے۔ میرا خدا میرے لئے ذلت پسند نہیں کرتا۔ دنیا کے مومن، پاک نسلیں اور ذاتیں (لوگ قیامت کے دن تک آتے رہیں گے اور اس موضوع پر بات کرتے رہیں گے) اور جو مومن بعد میں آنے والے ہیں کوئی ایک بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ ان کا حسین علیہ السلام ذلت اختیار کرے۔ میں اور ذلت اختیار کروں ؟ میں حضرت علی علیہ السلام کی گود میں پل کر بڑا ہوا ہوں۔ میں جناب زہرا علیہا السلام کی گود میں بڑا ہوا ہوں۔ میں نے جناب زہرا کا دودھ پیا ہے۔ میں اور ذلت اختیار کروں؟
آپ نے جس دن مدینہ سے سفر شروع کیا آپ مہاجم (حملہ آور) تھے۔ آپ اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو جو وصیت نامہ لکھتے ہیں اس میں کہتے ہیں: " انی لم اخرج اشراً ولا بطراً ولا مفسداً ولا ظالماً، انما خرجت لطلب الاصلاح فی امۃ جدی ارید ان امر بالمعروف وانھی عن المنکر واسیر بسیرۃ جدی وابی۔" دنیا والے جان لین کہ میں کسی چاہ و منصب کا خواہاں، تخریب کار، مفسد اور ظالم نہیں ہوں۔ میرے اہداف یہ نہیں ہیں۔ میرا قیام اصلاح کرنے والا قیام ہے۔ میں نے قیام کیا ہے۔ میں نے خروج کیا ہے اس لئے کہ میں اپنے جد کی امت کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں۔ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں۔ محمد بن حنفیہ کے نام خط میں نہ بیعت مانگنے کا نام ہے، نہ اہل کوفہ کی دعوت کا تذکرہ ہے کیوں کہ اصل میں ابھی تک اہل کوفہ کا مسئلہ ہی سامنے نہیں آیا تھا۔اس منطق میں یعنی ہجوم (حملے) کی منطق، شہید کی منطق، امام حسین علیہ السلام کے انقلاب کو وسعت دینے اور پھیلانے کی منطق نے ایسے کام کئے ہیں جن کی توجیہ اس منطق کے سوا کسی اور منطق سے نہیں ہو سکتی۔ کس طرح؟ اگر امام حسین علیہ السلام کی منطق صرف دفاع (بچاؤ) کی منطق ہوتی، تو عاشور کی رات کو جب اپنے اصحاب کو رخصت کرتے ہیں (اس دلیل سے جو میں عرض کر چکا ہوں)، بیعت اٹھا لیتے تاکہ وہ لوگ آگاہی کے ساتھ اپنا کام منتخب کر لیں۔ پھر جب وہ اپنے کام کا انتخاب کر لیتے ہیں تو انہیں اپنے ساتھ رہنے کی اجازت نہ دیتے اور کہہ دیتے کہ شرعاً یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم یہاں قتل کئے جاؤ۔ یہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں، مجھ سے بیعت چاہتے ہیں میرا فرض یہ ہے کہ میں بیعت نہ کروں مارا گیا تو مارا گیا یہ لوگ تمہیں نہیں مارنا چاہتے تو تم کیوں یہاں ٹہرو؟ نہیں شرعاً یہ بات جائز نہیں ہے تم لوگ چلے جاؤ۔نہیں! ایسا نہیں ہے، تاثر اور انقلابی منطق میں جو مہاجم (قیام) کر رہا ہے اور اپنا پیغام اپنے خون سے لکھنا چاہتا ہے اس موج (انقلاب) میں جتنی وسعت اور پھیلاو پیدا ہو بہتر ہے۔ چنانچہ جب آپ کے دوست اور خاندان والے اپنی آمادگی کا اعلان کرتے ہیں تو آپ ان کے لئے دعا کرتے ہیں کہ خدا تمہیں خیر دے، خدا تم سب کو اجر عطا فرمائے۔
عاشور کی رات میں حبیب ابن مظاہر اسدی کو کیوں بھیجتے ہیں کہ بنی اسد کے پاس جاؤ اور ہو سکے تو کچھ آدمی میرے پاس لے آؤ؟ مگر بنی اسد کل کتنے تھے ؟ اب مین فرض کرتا ہوں کہ حبیب ابن مظاہر گئے اور بنی اسد کے سو آدمی لے آئے تو یہ لوگ ان تیس ہزار کے مقابلی میں کیا کار نمایاں کر سکتے تھے؟ کیا حالات کو پلٹ سکتے تھے ہر گز نہیں! امام حسین علیہ السلام چاہتے تھے کہ اس منطق میں جو ہجوم (حملے) کی منطق، شہید کی منطق اور انقلاب کی منطق ہے اس کے دامن میں وسعت پیدا ہو۔ اپنے خاندان کو جو ساتھ لائے تھے تو اسی لئے لائے تھے کہ ان کے پیام کا ایک حصہ ان کا خاندان بھی لوگوں تک پہنچائے۔ خود امام حسین علیہ السلام نے کوشش کی کہ جب یہ قضیہ یہاں تک بڑھ گیا ہے تو جتنا زیادہ پر سوز ہو سکے ہو جائے۔ بیچ اس لئے بوئے کہ دنیا میں ہمیشہ پھل اور میوہ تیار رہے۔ کربلا میں کیسے کیسے مناظر اور کیسے کیسے واقعات دیکھنے میں آئے جو وقعی نہایت حیرت انگیز ہیں! اب ہم دیکھیں کہ ان تینوں عامل میں یعنی اہل کوفہ کی دعوت کا عامل جو اس تحریک کو تعاون کی ماہیت دیتا تھا، تقاضائے بیعت کا عامل جو اس تحریک کو دفاعی ماہیت دیتا تھا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عامل جو اس تحریک کو ہجوم (حملے) کی ماہیت دیتا تھا۔ کون سے عامل کی اہمیت دوسروں سے بڑھ کر ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ان اسباب کی اہمیت ایک ہی درجہ کی نہیں۔ ہر عامل ایک مقررہ درجے کی اہمیت رکھتا ہے اور اس تحریک کو اسی درجے کی اہمیت بخشتا ہے۔ اہل کوفہ کی دعوت کا عامل اس لئے کہ لوگوں نے اس شخص کے لئے آمادگی ظاہر کر دیجو اس کام کے لئے نامزد ہو چکا ہے اور اس نے بھی بلا کسی تاخیر اپنی آمادگی کا اعلان کر دیا، بہت اہمیت کا حامل ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ تقاضائے بیعت اور امام حسین علیہ السلام کا انکار، قتل ہو جانے پر آمادہ مگر بیعت سے انکار کا عامل اہمیت رکھتا ہے۔ تیسرا عامل جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس بنا پر تیسرے عامل نے تحریک حسینی کو سب سے زیادہ اہمیت بخشی ہے۔ اس اہمیت کے متعلق جو کوئی عامل کسی تحریک کو عطا کرتا ہے اور اس اہمیت کے متعلق جو اس تحریک کا بانی اس عامل کو بخشتا ہے میں ایک بات آپ کی خدمت میں عرج کرتا ہوں:
بہت سی چیزیں چاہے وہ روحانیت کی ہوں چاہے مادّی امور میں سے ہوں انسان کے لئے اہم ہوتی ہیں، افتخار ہوتی ہیں، زینت ہوتی ہیں، زیور ہوتی ہیں، علم بے شبہ انسان کے لئے زینت ہے۔ عہدے اور مقامات خصوصاً خدائی عہدے اور مقامات انسان کے لئے فخر کا موجب ہوتے ہیں، اہمیت رکھتے ہیں، انسان کو وقار ومنزلت بخشتے ہیں۔ وہ ظاہری چیز جو ان اہمیتوں کی نمائیندہ ہے انسان کو اہمیت عطا کرتی ہے مثلاً کوئی شخص روحانیت کا لباس پہنتا ہے۔ بے شک روحانیت کا لباس صرف روحانی ہونے یعنی اسلامی معارف کا علم اور اسلامی تقوی رکھنے کی دلیل نہیں ہے۔ روحانی یعنی معارف اسلامی کا عالم اور اسلامی احکام پر عامل۔ یہ لباس اس کی علامت ہے کہ میں روحانی ہوں۔ اب اگر کوئی شخص حقیقت کے مطابق پہنے ہوئے ہے تو علامت صحیح ہے ورن صحیح نہین ہے۔ بہر حال یہ لباس اس وجہ سے کہ اسے ایسے لوگوں نے زیادہ پہنا ہے جن میں روحانیت کی معنویت اور حقیقت رہی ہے اس شخص کے لئے بھی جو اسے پہن لیتا ہے لازمی طور پر وجہ افتخار بن جاتا ہے۔ میں بھی جو اس لباس کے پہننے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور تم جو مجھے نہیں پہچانتے کسی جلسے میں جب میرے سامنے آؤ گے تو اسی لباس کی بدولت جو تم مجھے پہنے دیکھو گے تو اسی ناواقفیت کے عالم میں بڑا احترام کرنے لگو گے۔ تو یہ لباس اس کے لئے افتخار ہے جو اسے پہن لیتا ہے۔ یونیورسٹی کے استاد کا لباس یونیوسٹی کے استاد کے لئے افتخار ہے۔ وی جس وقت یہ لناس پہن لیتا ہے تو اس پر فخر کرتا ہے۔ عورت کے لئے زیور سجاوٹ کا ذریعہ ہیں۔
تحریکوں میں بھی بہت سے عامل ایک تحریک کو اہمیت بخشتے ہیں۔ تحریکوں میں باہم بہت فرق ہوتا ہے۔ اگر اس میں عصبیت کی روح ہو تو وہ تحریک کو ایک قسم کی اپمیت دیتی ہے اور اگر اس میں معنوی، انسانی اور خدائی روحیں ہوں تو اسے دوسری قسم کی اہمیت مل جاتی ہے۔ تحریک حسینی میں کار فرما تینوں عامل نے اس تحریک کو اہمیت عطا کی بالخصوص تیسرے عامل نے، لیکن کبھی کبھی وہ شخص جس سے اس قدر وقیمت کا تعلق ہوتا ہے ایک ایسی حالت پیدا کر دیتا ہے جو اس قدر وقیمت کو اور اہمیت بخشتی ہے۔ جس طرح وہ قدر وقیمت اس شخص کو منزلت عطا کرتی ہے اسی طرح وہ شخس بھی اس قدر وقیمت کی شان بڑھا دیتا ہے۔ جس طرح ایک روحانی شخص جب روحانیت کا لباس پہن لیتا ہے تو واقعی وہ لباس اس کے لئے باعث افتخار ہو جاتا ہے۔ اسے اس بات پر فخر کرنا چاہئیے کہ یہ لباس اس کو پہنا دیا گیا ہے اور حقیقی روحانیوں نے بھی اسے مان لیا ہے، لیکن ایک شخص اپنے کام کو روحانیت کے فرائض کی انجام دہی میں، علم، تقوی اور عمل میں ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے کہ وہ اس لباس کے لئے باعث افتخار بن جاتا ہے۔ ہم کہنے لگتے ہیں کہ روحانیت کا لباس وہ لباس ہے جو فلاں شخص بھی پہنتا ہے ایسا لباس ہے کہ اس نے بھی پہن رکھا ہے۔ اب ہم تاریخی مثالیں پیش کر سکتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ یہ کہیں کہ جناب ! یہ عبا اور عمامہ کیا چیز ہے؟ تو ہم کیا کہیں گے؟ ہم کہیں گے کہ بو علی سینا نے بھی یہی لباس پہنا ہے جس پر تمام اسلامی ممالک فخر کرتے ہیں۔ عرب کہتا ہے کہ بو علی سینا نے بھی یہی لباس پہنا ہے جس پر تمام اسلامی ممالک فخر کرتے ہیں۔ عرب کہتا ہے کہ بو علی سینا میرا ہے کیونکہ اس کی کتابیں عربی زبان میں ہیں۔ ایرانی کہتا ہے کہ وہ میرا ہے کیوں کہ وہ بلخی ہے اور بلخ قدیم سے ایرانی سرزمین چلی آرہی ہے روسی کہتے ہیں کہ وہ ہمارا ہے اس لئے بلخ اس وقت ہمارے ملک میں شامل ہے۔ ہر گروہ کہتا ہے کہ وہ ہمارا ہے اور تمام قومیں اس پر فخر کرتی ہیں۔ ابو ریحان البیرونی کا بھی یہی معاملہ ہے۔ تو بو علی اور ابو ریحان اس لباس کے لئے باعث افتخار گزرے ہیں۔ شیخ انصاری۔ خواجہ نصیر الدین طوسی نے بھی لباس روحانیت سے افتخار پایا ہے اور لباس روحانیت کو خود بھی افتخار بخشتا ہے۔ یونیوسٹی کے ایک استاد کے لئے بھی یہی بات ہے۔ کچھ لوگوں کے لئے استادی کا لباس باعث افتخار ہوتا ہے، لیکن اس بات کا بھی امکان ہے کہ کسی استاد کی شان کو استادی کے کام، علم، تخصص اور تحقیق میں اتنی بلندی مل جائے کہ وہ استادی کے لباس کے لئے باعث افتخار بن جائے۔ عورت کے لئے زیور زینت کا سبب ہوتا ہے، لیکن کسی عورت کے سلسلے مین یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ سچ مچ یہ کہیں کہ اس کا چہرہ زیورات کو زینت بخشتا ہے۔ امیر المؤمنین علیہ السلام کے ایک صحابی صعصعہ ابن سوحان عبدی کا ایک جملہ بہت موزوں اور اچھا ہے جناب صعصعہ حضرت علی علیہ السلام کے خاص صحابی ہیں۔ حضرت علی سے حساب میں تربیت پائے ہوئے خطیب بھی ہیں۔ عرب کا اول درجے کا ادیب حافظ کہتا ہے کہ صعصعہ ایک خطیب تھے اور ان کے خطیب ہونے کی بہترین دلیل یہ ہے کہ کبھی کبھی حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ان سے کہہ دیتے تھے کہ کھڑے ہوکر کچھ کلمے کہہ دو۔ یہ صعصعہ وہی ہیں جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی قبر پر بھی نہایت اعلی اور پر سوز تقریر کی ہے۔ اس شخص نے امیر المومنین علیہ السلام کو آپ کی خلافت پر تین چار دلکش جملوں میں مبارک باد دی تھی۔ جس وقت امیر المومنین علیہ السلام خلیفہ ہوئے تو لوگ مبارک باد دینے آئے تھے۔ ایک مبارک باد جناب صعصعہ نے بھی کہی تھی۔ آپ نے کھڑے ہوکر امیر المومنین کو خطاب کرتے ہوئے کہا:
" زینت الخلافۃ وما زانتک ورفعتک وما رفعتک وھی الیک احوج منک الیھا۔" ان تین چار جملوں کی قدر وقیمت دس ورق کے ایک مقالے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا اے علی علیہ السلام ! آپ خلیفہ ہو گئے تو خلافت نے آپ کو کوئی زینت نہیں بخشی بلکہ آپ نے خلافت کا چار چاند لگا دئے۔ خلافت نے تم کو اونچا نہیں کیا جو آپ خلیفہ ہوئے بلکہ آپ نے خلافت کے مقام کو بلند کر دیا۔ اے علی علیہ السلام ! آپ خلافت کے محتاج نہیں تھے بلکہ خلافت کو آپ کی ضرورت تھی یعنی اے علی علیہ السلام ! میں خلافت کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آج اس کا نام ؤپ پر رکھا گیا ہے۔ میں آپ کو مبارک باد نہیں دیتا کہ آپ خلیفہ ہو گئے۔ میں خلافت کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ خلیفہ ہو گئے آپ کو مبارک باد نہیں دیتا کہ آپ خلیفہ ہو گئے۔ اس سے بہتر نہیں کہا جا سکتا۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عنصر نے حسینی تحریک کو قدر وقیمت بخشی لیکن امام حسین علیہ السلام نے بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو منزلت بخشی۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر تحریک حسینی کو بلندی پر لے گیا لیکن امام حسین علیہ السلام نے اس اصول کو اس شکل میں اور اس طریقے سے جاری کیا کہ اس اصول کی شان بلند ہو گئی۔ آپ نے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے اصول کے سرپر فخر کا تاج رکھ دیا۔ (بہت سے کہتے ہیں کہ ہم امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرتے ہیں، امام حسین علیہ السلام نے بھی دوسروں کی طرح پہلے صرف ایک ہی جملہ کہا تھا : " ارید ان امر طالمعروف وانھی عن المنکر واسیر بسیرۃ جدی وابی" خود اسلام کی بھی یہی بات ہے۔ اسلام ہر مسلمان کے لئے افتخار کا باعث ہے لیکن ایسے مسلمان بھی ہیں جو اس لفظ کے حقیقی معنوں میں اسلام کا فخر ہیں، دین کی عزت ہیں، دین کا شرف ہیں، اسلام کا شرف ہیں۔ ہم لوگوں کا تعارف کراتے وقت اکثر ان کو یہ القاب دیتے ہیں لیکن سب لوگ تو ایسے نہیں ہیں۔ ایک بندہ کسی کے بارے میں ایسی بات کہے تو وہ محض جھوٹ ہے۔ اگر میں کہوں کہ میں فخر اسلام ہوں اسلام کے لئے میرا وجود باعث افتخار ہے تو میں کون ہوں ؟ مجھے یاد ہے کہ سات آٹھ سال پہلے مجھے شیراز دانشگاہ میں تقریر کرنے کے لئے بلایا گیا تھا (وہاں کی دینی انجمن نے بلایا تھا)۔ وہاں استاد حتی رئیس سبھی موجود تھے۔ وہاں کے ایک استاد کو میرا تعارف کرانے پر مامور کیا گیا جو پہلے وہاں طالب علم تھے، پھر انہوں نے امریکہ جاکر تعلیم حاصل کی اور ڈاکٹر ہو کر واپس آئے اور واقعی وہ ایک فاضل شخص بھی ہیں۔ وہ آئے اور منصہ خطاب (روسٹرم) کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ (وہ جلسہ بھی اس جلسے کی طرح بہت بھرا ہوا اور با عظمت تھا) کچھ تعارف کرایا: میں فلاں شخص کو جانتا ہوں، حوزہ قم ایسا ، ویسا وغیرہ۔ اپنی باتوں کے آخر میں یہ جملہ بھی کہا:
میں یہ جملہ کمال جرأت سے کہتا ہوں: اگر دوسرون کے لئے روحانیت کا لباس باعث فخر ہے تو فلاں شخص لباس روحانیت کے لئے باعث افتخار ہے۔ اس بات سے میں جل گیا۔ میں کھڑے ہو کر تقریر کر رہا تھا۔ میں نے اپنی عبا پہلے ہی لپیٹ کر منصہ خطاب (روسٹرم) پر رکھ دی تھی۔ میں نے کشھ باتیں کیں۔ ان صاحب کی طرف رخ کیا اور کہنے لگا: جناب والا ! یہ کیا بات تھی جو آپ کی زبان سے ادا ہوئی؟ آپ سمجھتے بھی ہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں کیا چیز ہوں جو آپ کہتے ہیں کہ یہ شخص اس لباس کے لئے فخر کا باعث ہے ! باوجودیکہ میں اس وقت دانشگاہ کا بھی تھا اور ایک اصطلاح سے دو زندگیوں والا تھا۔ میں نے کہا جناب! عمر بھر میں مجھے ایک ہی فخر نصیب ہوا ہے اور وہ یہی عمامہ اور عبا ہے۔ میں کیا چیز ہوں جو افتخار بن سکوں؟ یہ لغو قسم کا تعارف کیسا جو ہم آپس میں کراتے ہیں؟ جناب ابوذر گفاری کو کہنا چاہئیے کہ اسلام کا افتخار ہیں، یہ اسلام وہ ہے جسے جناب ابوذر نے پالا ہے، عمار یاسر اسلام کا افتخار ہیں، یہ اسلام وہ ہے جس کی پرورش عمار یاسر نے کی ہے، بو علی سینا اسلام کا افتخار ہیں، یہ اسلام وہ ہے جسے بوعلی سینا کی ذہانت نے شگفتہ کیا ہے، خواجہ نصیر الدین اسلام کا افتخار ہیں، صدر المتالھین شیرازی اسلام کا افتخار ہیں شیخ مرتضی انصاری اسلام کا افتخار ہیں، میر داماد اسلام کا افتخار ہیں، شیخ بہائی اسلام کا افتخار ہیں، اسلام بے شک افتخار رکھتا ہے، یعنی اس نے ایسے ایسے فرزندون کی تربیت کی ہے جنہیں دنیا شمار میں لاتی ہے اور شمار میں لانا بھی چاہئیے کیوں کہ یہ دنیا کے فرہنگ میں موثر نقش چھوڑ گئے ہیں۔ دنیا یہ نہیں کر سکتی کہ چاند کے کرہ کے ایک حصے کو خواجہ نصیر الدین کے نام سے مخصوص کرے اور چاندکے کرہ کے ایک حصے کا نام اس کے نام پر رکھے۔ کیوں؟ اس لئے کہ چاند کے کرہ کے متعلق بعض انکشافات میں اس کا بھی دخل ہے۔ اس سے کہنا چاہئیے افتخار اسلام۔ ہم کون ہوتے ہیں؟ ہماری کیا اہمیت ہے؟ اگر ہمیں اسلام قبول کرے تو اسلام ہمارا افتخار ہوگا۔ اگر اسلام یہ مان لے کہ وہ ہمارے سینے پر تمغے کی شکل میں آویزاں رہے تو ہم بہت ممنون بھی ہون گے۔ کیا ہم اسلام کے سینے پر تمغہ بن گئے ہیں! ہم عالم اسلام کے لئے باعث شرم ہیں۔ ہم مسلمانوں کی اکثریت عالم اسلام کے لئے باعث شرم ہیں، تو دوسرے تعارفوں کو چھوڑئیے اصلی تعارف یہ ہے۔
امام حسین علیہ السلام کے بارے میں حق ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اصول کو قدر وقیمت دیا، اعتبار بخشا، آبرو عطا کی، یہ اصول جو مسلمانوں کی آبرو ہے۔ یہ جو میں کہہ رہا ہوں کہ یہ اصول مسلمانوں کی آبور ہے اور مسلمانوں کو وقار ومنزلت عطا کرتا ہے یہ میں اپنی طرف سے نہین کہہ رہا ہوں یہ قرآنی آیت کی عین تفسیر ہے: " کنتم خیر امتہ اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنھون عن المنکر۔" دیکھئیے قرآن کیسی تعریف کرتا ہے ! بخدا آدمی کو قرآن کی ان تعریفون پر حیرت ہوتی ہے۔ " کنتم خیر امۃ اخرجت للناس۔" تم ایسے رہے ہو ("رہے ہو" قرآن میں ایسے موقعوں پر یعنی تم ہو) تم سب سے اہم اور با وقار قوم ہو جو انسانوں کے لئے وجود میں آئی ہے، لیکن وہ کون سی چیز ہے جس نے تمہیں اتنی منزلت بخشی ہے اور بخش رہی ہے کہ اگر وہ تمہارے پاس ہے تو تم اہم ترین قوم ہو؟ "تأمرون بالمعروف وتنھون عن المنکر۔" اگر تمہارے پاس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہو تو یہ اصول تم مسلمان قوم کو منزلت عطا کریگا۔ تم اس وجہ سے اہم ترین امت ہو کہ تمہارے پاس یہ اصول موجود ہے( ابتدائے اسلام میں بھی ایسا ہی تھا)۔ تمہیں اسی اصول نے اہمیت بخشی ہے۔ تو کیا جس دن یہ اصول ہمارے پاس نہیں رہیگا ہم بے وقار قوم بن جائیں گے؟ ہاں! یہی ہے لیکن امام حسین علیہ السلام نے اس اصول کو مقام و منزلت اور اہمیت عطا کی ۔
بعض اوقات ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں لیکن ہم اس اصول کو نہ صرف اہمیت نہیں دیتے بلکہ اس کے مقام کو سو درجہ نیثے لے آتے ہیں۔ اس وقت عوام کے خیال میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کسے کہتے ہیں؟ بہت چھوٹے چھوٹے جزوی مسائل کو جنہیں میں نادرست مسائل نہیں کہتا (اگر چہ ان میں سے بعض نادرست بھی ہوتے ہیں) لیکن یہ جس وقت اپنے کل میں واقع ہوں تو مناسب ہیں مثلاً امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اگر کسی شخص کے لئے یہی ہو کہ جناب! آپ اپنی انگلی سے یہ سونے کی انگوٹھی اتار لیجئیے۔ یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے۔ صحیح بات ہے۔ لیکن یہ نہیں ہونا چاہئیے کہ آدمی اور کوئی منکر ہی نہ دیکھے بجز اس ایک کے، بجز داڑھی کے مسئلے کے، بجز کوٹ شلوار سے متعلق مسائل کے۔ ایک صاحب کہتے تھے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو ایک اور شخص کے بارے میں بہت بڑ بڑا رہا تھا اور غصے میں اسے کافر اور فاسق تک کہہ رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیا کیا ہے جو تم اسے اس قدر برا سمجھ رہے ہو (برا آدمی کھلا جہنمی) ؟ اس نے جواب دیا؛ وہ مڑی ہوئی قمیص کا آدمی ہے یعنی اس کی قمیص کالردار ہے ( مضحکہ انگیز، نقل مجلس) اب جبکہ ہمارا نہی عن المنکر اس حد تک تنزّل کر جائے تو ہم نے گویا اس اصول کو گرا دیا ہے، حقیر اور چھوٹا بنا دیا ہے۔ جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سعودی ملک میں موجود ہیں انہون نے تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی آبرو ہی ختم کر دی ہے۔ بس ایک کوڑا ہاتھ میں لئے پھرتے ہیں کہ کوئی کسی کا بوسہ نہ لے۔ یہ اور نہی عن المنکر ہوا۔
لیکن امام حسین علیہ السلام کو دیکھئیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان کا کام تھا جڑ بنیاد سے۔ وہ اسلام کی تمام نیکیوں پر نظر رکھتے تھے اور ان کی فہرست بتاتے تھے اور دنیائے اسلام کی تمام برائیوں پر بھی ان کی نظر تھی۔ وہ فرماتے تھے کہ دنیائے اسلام کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی برائی (منکر) خود یزید ہے۔ "فلعمری الا العامل بالکتاب القائم بالقسط والدائن بدین اللہ۔" امام اور رہبر وہ شخص ہوتا ہے جو خود کتاب پر عامل ہو، خود عدالت قائم کرے اور خدا کے دین کا ماننے والا ہو۔ ان (امام حسین علیہ السلام) کے پاس جو کچھ تھا اس اصول کی خاطر اخلاص کے مطابق لگا دیا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی راہ کو موت سے سجایا۔ اس موت کو شکوہ اور جلال بخشا۔ جس دن گھر سے نکلے ہیں اسی دن سے اچھی موت کی باتیں کرتے ہیں۔ کتنی اچھی باتیں ہیں! ہر موت کو اچھا نہیں کہتے تھے۔ حق اور حقیقت کی خاطر موت کو اچھا سمجھتے تھے۔ " خط الموت علی ولد آدم مخط القلادۃ علی جید الفتاۃ۔" ایسی موت انسان کی ایسی ہی زینت ہوتی ہے جیسی زینت گلوبند کسی عورت کے لئے ہوتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ صاف وہ اشعار ہیں جو آپ کربلا کی طرف آتے ہوئے راستے میں پڑھتے تھے جا غالباً خود انہیں کے ہیں یا ہو سکتا ہے کہ امر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ہوں:
وان تکن دنیا تعد نفیسۃً
فدار ثواب اللہ اعلی وانبل

اگر چہ دنیا خوشنما، نفیس اور اچھی ہے لیکن دنیا جتنی حسین ہے وہ اتنا ہی زیادہ حسین اور نفیس اور خوشنما خدا کا قید خانہ ہے۔
وان تکن الاموال للترک جمعھا
فما بال متروک بہ المرؤ یبخل

آخر جب مال دنیا چھوڑ کر چلا ہی جاتا ہے تو آسمان کیون نہ اسے بخشش کرے، انسان کیوں نہ دوسروں کی مدد کرے، انسان کیوں نہ خیرات کرے۔
وان تکن الابدان للموت انشأت
فقتل امرء بالسیف فی اللہ افضل

آخر کار جب اس بدن کو موت آنا ہی ہے تو خواہ بستر پر مریں، جنگ میں مریں، کسی بیماری سے مریں یا کسی جرثومے سے مریں، پھر انسان کیون نہ اچھی موت مرے۔ پس انسان کا خدا کی راہ میں تلوار سے قتل ہونا بہت اچھا بلکہ سب سے اچھا ہے۔
اب میں یہی دعا کرتا ہوں اور آپ سب کو خدا کے سپرد کرتا ہون:
اے خدا ! ہم تجھے قسم دیتے ہیں بحق۔ اے پروردگار! اسلام کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ہمارے سینے کھول دے۔ اے پروردگار! ہمیں ان فریضوں اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کی توفیق دے جو تو نے ہمارے عہدوں کے لئے عائد کی ہیں۔
اے پروردگار! اسلام کے دشمنوں کو ذلیل کر۔ ہمیں دنیا اور آخرت کی نیکیاں عطا فرما۔ ہمارے اموات کی مغفرت فرما اور ان پر اپنی رحمت نازل کر۔

رحم اللہ من قرأ الفاتحۃ مع الصلواۃ




تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
10+10 =