پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

یہ حدیث جس میں پیغمبر (ص) نے فرمایا ہے کہ نیک سادات کو ان کے اعمال اور برے کو میری اولاد ہونے کی خاطر معاف کردو کسی معتبر کتاب میں ہے ؟


یہ حدیث شریف " احبوا اولادی الصالحون و الطالحون لی " نیک سادات کو عمل کی وجہ سے اور برے کو میری وجہ سے محبوب رکھو ـ 1
جامع الاخبار کے حوالے نقل ہوئی ہے اور اسی باب میں دیگر متعدد روایتیں بھی سادات کے متعلق رسول اکرم (ص) سے نقل ہوئی ہیں ـ چونکہ یہ کام مستحب ہے اس لئے علماء نے ان روایتوں پر زیادہ تحقیق نہیں کی اور ایک نیک فعل سمجھ کر اس کو قبول کرلیا پھر کتابوں میں لکھ دیا ـ
اگر یہ چیز نہ ہوتی تو ضرور یہ لوگ چھان بین کرتے کیونکہ اس حدیث کا راوی ایسا شخص ہے جو مجہول اور کوئی خاص معروف نہیں ہے بلکہ ایک معمولی انسان ہے ـ
اگر اس جیسی روایت کی چھان بین اسی طرح کی جائے جس طرح احکام واجب و حرام کے احکام کی جاتی ہے تو اکثر حدیث ردی میں چلی جائے گی ـ جب کہ خود معصوم کا ارشاد ہے کہ ـ
جو بھی ہمارے قول کے اوپر عمل کرے گا اس کو اس سلسلے میں ضرور پاداش ملے گا 2
لہذا ان روایتوں کی سند اور چھان بین کرنے کی ضرورت نہیں ہے ـ
اس کے علاوہ جب اسلام معاشرتی امور میں دوسروں کے ساتھ صلہ رحم یا چشم پوشی کرنے کا حکم دے رہا ہے تو سادات جو مسلمان کے ساتھ ساتھ رسول (ص) کا احترام ہے بدرجہ اولی ہونا چاہیئے ـ
یہی مطلب حدیث مذکور و دیگر احادیث کا ہے ـ
اس حدیث کے متعلق جو غور طلب بات ہے وہ ہے اعراب حدیث ـ
بظاہر " اولادی " کی صفت "الصالحون " اور " الطالحون" ہوں گے لہذا ہونا تو یہ چاہیئے کہ " اولادی " کی تابعیت کے لحاظ سے منصوب ہوں درانحالیکہ اسم فاعل (یاء) منصوب ہورہا ہے یعنی "اولادی الصالحین للہ ولطالحین لی"
اس حدیث کی اعرابی حیثیت سے توجیہ ممکن ہے مگر اہلبیت علیھم السلام کے کلام فصیح کے اعتبار سے غیر ممکن ہے ـ لہذا یہ حدیث معتبر نہیں ہے اگر چہ اس کے مطالب دیگر روایات ست ملتے جلتے اور معقول ہیں ـ



1. مستدرک الوسائل ج۱۲ ٬ ص ۳۷۶
2. وسائل الشیعہ ج۱ ٬ باب ۹ ص ۸۳



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
1+3 =