پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

آخرت میں اعمال کا محاسبہ کیونکر ہے؟


عالم ”حساب“ مومن انسان کے گناہوں، پلیدگیوں، اور خواہشات سے چھٹکارا پانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے اس بات کو واضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ۔
آیات و روایات پر غور کیا جائے اور ان سے مدد لیا جائے ۔
مجموعی طور پر سالک الی اللہ (جو ضرورپاک کئے جائیں گے) دو طرح کے ہیں ۔
۱) وہ لغزش و گناہ جو مخالفت حق کی روح ہیں ۔
۲) خدا کو چھوڑ کر دوسرے سے امید، اور لولگانا جو مختلف طرح کی ہیں ۔ ممکن ہے کہ ایک شخص گناہوں اور خواہشات میں گرفتار ہو ان میں سے کسی ایک میں ہو۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ آیات و روایات اور صاحبان نظر کے ارشادات سے مدد لی جائے ۔
تاکہ معلوم ہو کہ ان دونوں کی تطہیر اور خلاصی کیسے ہوگی ۔
پہلے گروہ میں وہ لوگ وہیں جو خدا اور اس کی راہ کے مطیع ہیں اور ان کا نامہ اعمال بھی اچھا ہے نیز خدا پر ایمان اور اسی سے لو لگاتے ہیں مگر لغزشوں اور گناہوں میں گھرے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا دل ہر وقت اضطراب میں رہتا ہے اور چونکہ وہ لوگ خدا اور قیامت پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ نیکی اور برائی دونوں کا انجام ثواب و عقاب ہے اگر تو بہ نہیں کی تو ساری ندامت، اور کف افسوس ملنے کے باوجود منزل میزان سے نکلنے کے بعد مقام حساب میں روک دیا جائے گا ۔ یہی نافرمانیاں عالم حساب میں معذب ہونے کی باعث ہوں گی کہ بالتدریج اس (انسان) کو ایسا پاک و پاکیزہ بنادیا جائے گا کہ پورے وجود میں خدا کے سوا کسی کا جلوہ نہیں دیکھے گا ۔ بعبارت دیگر جو شخص گناہ کرنے کے بعد نادم ہوجائے وہ مقام حساب میں عذاب کا مستحق ہوگا جو بہت خفیف عذاب رہے گا اور اس کو جہنم کے اس طبقے میں رکھا جائے گا جو اس کا حصہ نہ ہوگا ۔
ایک روایت میں مذکور ہے کہ ۔
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
خداوند عالم ان ہی لوگوں کو جہنم میں ہمیشہ رکھے گا جو کافر، مشرک اور باغی ہیں اور مومن کہ جنھوں نے گناہ کبیرہ کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہے اگر ان سے گناہ صغیرہ سرزد ہوگیا ہے تو ان سے بازخواست نہیں ہوگی ۔ اور ان کو معذب نہیں کیا جائے گا کیونکہ خداوند عالم کا قرآن کریم میں ارشاد ہے ۔
اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمہیں روکا گیا ہے پرہیز کرلو گے تو ہم دوسرے گناہوں کی پردہ پوشی کریں گے اور تہمیں باعزت منزل تک پہونچادیں گے ۔ 1
اس روایت کے راوی محمد بن عمیر کہتے ہیں ۔
میں نے امام موسی کاظم علیہ السلام سے عرض کیا کہ یابن رسول اللہ ۔ پس شفاعت کن گناہ، اور کن لوگوں کے لئے ہے ۔
امام علیہ السلام نے جواب دیا ۔
میرے باپ (امام جعفر صادق علیہ السلام) نے دادا (محمد باقر علیہ السلام) اور انھوں نے حضرت علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ۔
میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ بے شک میری شفاعت امت کے ان ہی لوگوں کے لئے جو نیک ہیں اور انھوں نے گناہ کبیرہ نہ کیا ہو پس میری شفاعت گناہکاروں کے لئے نہیں ہے ۔
یہی ابن عمر نے حضرت اما م موسی کاظم علیہ السلام سے عرض کیا ۔
اے فرزند رسول ۔ گناہ کبیرہ کرنے والوں کے لئے شفاعت کیسی ہے جبکہ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ وہ کسی کی شفاعت نہیں کرسکتے مگر یہ کہ خدا پسند کرے اور وہ اس کے خوف سے برابر لرزتے رہتے ہیں اور جو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا مرضی خدا شامل حال نہیں ہے ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا ۔
اے احمد کے باپ ۔ کوئی مومن ایسا نہیں ہے جو گناہ کا مرتکب نہ ہوا ہو مگر یہ کہ برائی کو برا اور اس سے پشیمان ہو (کیونکہ اپنے وجود میں اسی وقت جلوہ الہی اور قیامت میں سرفراز ہوسکتا ہے جب گناہ کے عذاب سے خوف اور اس سے نادم و پشیمان ہو) اور رسول خدا کا ارشاد ہے کہ ۔
تو یہ ندامت ہی تو ہے ۔
پھر امام علیہ السلام نے عرض کیا۔
مومن انسان وہی ہے جو اپنے نیک امور پر خوش و مسرور، اور برے اعمال پر نادم و پشیمان ہو پس جو شخص اپنے گناہ پر شرمندہ نہیں ہے وہ مومن نہیں ہے اور شفاعت اس کے شامل حال نہ ہوگی اور ایسا شخص ظالم ہے اور اس کے متعلق خدا کا فرمان بھی ہے کہ ۔
ظالمین کے لئے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ ہی شفارش کرنے والا تاکہ بات سن لی جائے ۔ 2 اس روایت کے مطالب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض انسان ایسے ہیں جو خدا کی بندگی کے باوجود گناہ میں ملوث ہیں اور اپنے کئے پر نادم و شرمندہ ہوں گے کیونکہ خوب جانتے ہیں کہ گناہ کی سزا ضرورہے ۔
اس قسم کے لوگ مقام (حساب) میں حتمی پاک کئے جائیں گے جو مصائب آلام کے ساتھ قرار پائے گی یہی گناہوں کے عذاب کا باعث ٹھرے گی اور یہ عذاب رفتہ رفتہ ختم ہوجائے گا لیکن شفاعت ہوجائے تو عذاب سے جلدی چھٹکارا مل جائے گا ۔
دوسرے گروہ میں وہ لوگ آتے ہیں جنھوں نے خدائے متعال کی مخالفت اور گناہ بھی نہیں کیا ہے اگر کیا تھا تو توبہ واقعی کرلی تھی لیکن ہوا وہوس اور خواہشات کے پیرو تھے ۔ جس طرح ایک گروہ عالم حشر میں گناہوں سے پاک کیا جائے گا اور اس کے بعد مقرب بارگاہ بن جائے گا ۔ یہ گروہ بھی پاک ہوگا ۔ تاکہ دل میں خدا کی محبت مامور ہوجائے اور اس کی بارگاہ میں جانے کے قابل بن جائے کیونکہ اس کی بارگاہ میں شرفیاب ہونے کے لئے غیر خدا کی نفی کرنا ضروری و لازم ہے ۔
{لاالہ الا اللہ}
لیکن ہوا وہوس اور خواہشات کا تزکیہ کیسے ہوگا ؟ اس کو سمجھنے کے لئے درج ذیل باتوں پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔

الف) قرآن کی بعض آیات سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ ۔
انسان زندگانی دنیا میں ظلمت کا شکار ہے وہ جان بوجھ کر ہو یا سہل انگاری سے، یعنی ظلمتیں بعض پر احاطہ کئے ہوئی ہیں جن کا نتیجہ ہمیشہ خطرناک اور بھیانک ہے۔
{اللہ ولی الذین آمنوا یخرجھم من الظلمات الی النور } 3
ترجمہ : اللہ صاحبان ایمان کا ولی ہے وہ انھیں تاریکیوں سے نکال کرروشنی میں لے آتا ہے ۔ یہ آیت حقیقت کو بیان کررہی ہے نہ کہ ایک اعتباری بات کو ۔ اور وہ یہ کہ اگر انسان ظلمت سے نکل کر ہدایت یافتہ بن جاتا ہے تو اس صورت میں اس کا سرپرست اور ولی خدا قرار پائے گا ۔

ب) بہت ساری آیات ور وایات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ظلمتیں دنیا کی خواہشات، اور آرزوٴں کی بناء پر معرض وجود میں آتی ہیں اور در حقیقت ہوا ہوس، اور خدا کو بھول بیٹھنا ہی ظلمت ہے شہرت، عہدہ، بیوی، اور اولاد، مال اور …متعدد نامعلوم آرزوئیں ہیں جنھوں نے انسان کو گھیررکھا ہے ۔
جو اس کو قعر مذلت کی طرف لے جارہی ہیں اور چونکہ اس کا اس پر بس نہیں چل رہا ہے لہذا اندھا، اور فریفتہ بنا ہوا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ حالت نماز میں ایک لمحہ بھی دل حاضر نہیں رہتا ہے، ان خواہشات نے انسان کو کچھ اس طرح جکڑرکھا ہے کہ اگر وہ نماز، اور دعا و مناجات میں گریہ و زاری طاری بھی کرنا چاہتا ہے تو وہ ہونے نہیں دیتی کیونکہ انسان نے خواہشات نفسانی کا گندہ پانی پی رکھا ہے ۔ اور اپنے کو تاریکیوں کا دلدادہ، اندھا اور اسیر بنا لیا ہے، اہل بصیرت (کہ جنھوں نے اسی دنیا میں ساری خواہشات سے منھ موڑ لیا ہے) کے سامنے تاریکیوں کے عواقب نظر آتے ہیں اور خلوت میں اپنے نفس اور خامیوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور اس پر نالہ وشیون کیا کرتے ہیں ۔ {انی کنت من الظلمات} 4 جب منزل کمال پر فائز ہوجاتے ہیں تو کبھی خداوند عالم کے اسماء حسنی یا اہلبیت علیھم السلام سے امید لگا کر ایک لمحہ کے لئے ٹمٹماتے ستارے کی مانند جگمگاتے تو کبھی چاند و سورج کی طرح روشن ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح عوالم کے مصائب و آلام کو دیکھتے ہیں اور جب عالم نور میں پہونچتے ہیں تو نورانی بن جاتے ہیں یہاں پہونچ کر دل میں (خدا کے سوا) کسی دوسری چیز کی آرزو نہیں کرتے ہیں ۔
لیکن جن لوگوں نے اس دنیا میں خدا کو چھوڑ رکھا ہے اور ہواہوس کے شکار ہوگئے ہیں اسی مقدار میں مقام (حساب) میں سوا خندہ، اور جتنی ظلمتوں میں زندگی گذاری ہے ان کو مصائب وآلام کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ایک طرف چونکہ انھوں نے اپنی توجہ کا مرکز خدا کو قرار دے رکھا تھا اس لئے عوالم قرب وجود نوری، موجودات نوری اور عوالم بہجت و سرور کو دیکھیں ۔ تا کہ دل ان چیزوں سے دور ہوجائے اور اس کا تزکیہ ہوجائے اور عوالم نور میں جانے کے لائق بن جائے ۔ کیونکہ انسان خدا سے اسی وقت قریب ہوسکتا ہے جب آرزوٴں، اور خواہشات سے رشتہ ناطہ توڑلیا ہو ۔
یاد رہے کہ بعض ضروریات زندگانی کا دنیاوی امور سے دلبستگی، اور آرزو کرنے پر باز پرس نہیں کی جائے گی حتی ان کا حساب و کتاب بھی نہیں لیا جائے گا ۔ جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث بھی ہے کہ ۔
لیکن اگر ان چیزوں کے علاوہ خواہشات کی ہے تو معلوم ہونا چاہیئے کہ ان امور میں حساب و کتاب دینا پڑے گا ۔
مقام (حساب) میں کیسے تزکیہ کیا جائے گا اس کو واضح کرنے کے لئے امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت پیش کرتے ہیں ۔
قیامت کے دن منزل حساب میں دو مومن ایک دنیا میں غریب تھا اور دوسرا ثروتمند دونوں کو لایا جائے گا پس غریب عرض کرے گا ۔ پروردگار تو خوب جانتا ہے کہ دنیا میں نہ میرے پاس حکومت و ریاست تھی اور نہ ہی ہم نے کسی پرظلم کیا ہے اور نہ کسی مجبور کی اعانت کی ہے جتنا ہمارے پاس تھا اسی پر قناعت کی تھی پھر کس بات پر ہمیں روک رکھا ہے ؟
خداوند عالم جواب میں فرمائے گا ۔ میرا بندہ سچ کہہ رہا ہے اس کو چھوڑ دو تا کہ بہشت میں داخل ہوجائے (کیونکہ وہ جب دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں رکھتا تھا جس پر دل دے بیٹھا ہو) اس کو دیکھ کر ثروتمند انسان پسینہ میں اتنا شرابور ہوجائے گا کہ اگر چالیس اونٹ اس کو پی لیں تو سیراب ہوجائیں گے (شاید یہ پسینہ خدائے سبحان کے سامنے شرمندگی کی بناء پر ہو کہ مقام حساب کے فشاروں میں سے ایک ہے) پھر اس کے بعد داخل بہشت کردیا جائے گا ۔
غریب (جو پہلے جنت میں پہونچ گیا ہے) ثروتمند سے کہے گا کہ تم کو کس چیز نے روک رکھا تھا وہ عرض کرے گا ۔ طویل حساب نے جو پئے درپئے پیش آرہے تھے اور میں استغفار کررہا تھا یہاں تک کہ ایک ایک چیز پوچھی گئی اور رحمت خداوندی میرے شامل حا ل قرار پائی اور ہم کو توبہ کرنے والوں میں قرار دیا ۔ 5
یہ روایت بخوبی اس حقیقت کو بیان کررہی ہے کہ ثروتمند انسان کے اوپر مسلسل جو مصائب و آلام پیش آرہے تھے یہاں تک کہ بالتدریج مغفرت الہی مشمول حال قرار پائی اور جنت میں بھیج دیا گیا صرف خواہشات، امور دنیا کی آرزوئیں اور غیر خدا سے پاک و صاف ہونا ہے ۔ البتہ گرچہ اس روایت نے غریب و امیر کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن سیاق روایت سے بخوبی اس حقیقت کا انکشاف ہورہا ہے کہ اصل مسئلہ امور دنیاوی سے دلبستگی ہے نہ کہ ثروتمند ہونا ۔ پس ممکن ہے کہ ایک انسان ثروتمند ہو لیکن دنیا اور مال سے بے غرض ہو ۔ لہذا اس حدیث سے امیر و غریب دونوں کا دنیا سے بے لوث ہونا سمجھ میں آرہا ہے ۔ 6
منبع: مرگ تا قیامت (پرسش های دانشجویی)؛ مؤلف: محمد رضا کاشفی؛ مترجم: سید کرار حسین رضوی گوپالپوری


1. نساء آیہ ۳۱ ( ترجمہ علامہ جوادی)
2. عن محمد بن ابی عمیر، قال: سمعت موسی بن جعفر علیھما السلام یقول: لایخلد اللہ فی النار الااھل الکفر والجحود واھل الضلال والشرک، ومن اجتنت الکبائر من المومنین لم یساٴل من الصغائر، قال اللہ تبارک و تعالی ” ان تجتنبوا کبائر ماتنھون عنہ نکفر عنکم سیئاتکم وندخلکم مدخلا کریما “ ”قال: فقلت لہ: یابن رسول اللہ فالشفاعة لمن تجب من المومنین ؟ قال: حدثنی ابی عن ابائہ، عن علی علیھم السلام قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول : انما شفاعتی لاھل الکبائر من امتی، فاما المحسنون منھم فما علیھم من سبیل “ قال ابن ابی عمیر، فقلت لہ: یابن رسول اللہ فکیف تکون الشفاعة لا ھل الکبائر واللہ تعالی ذکرہ یقول :” ولا یشفعون الا لمن ارتضت وھم من خشیة مشفعون “ومن یرتکب الکبائر لایکون مرتضی، فقال : یا ابا احمد ما من مومن یرتکب ذنبا الا سائہ ذلک و ندم علیہ، و قد قال النبی صلی اللہ علیہ وآلہ : ” کفی بالندم توبہ “ وقال علیہ السلام : ” من سرتہ حسنة و سائتہ سیئتة فھو مومن “ فمن لم یندم علی ذنب یرتکبہ فلیس بمومن ولم تجب لہ الشفاعة وکان ظالما واللہ تعالی ذکرہ یقول : ” ما للظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع “ فقلت لہ : یابن رسول اللہ وکیف لایکون مومنا من لم یندم علی ذنب یرتکبہ ؟ فقال یا ابا احمد ما من احد یرتکب کبیرة من المعاصی وھو یعلم انہ سیعاقب علیھا الا ندم علی ما ارتکب و متی ندم کان تائبا مستحقا للشفاعة، و متی کم یندم علیھا کان مصرا والمصر لا یغفر لہ لانہ غیر مومن بعقوبة ما ارتکب ولو کان مومومنا بالعقوبة لندم (الصدوق، ابی جعفر محمد، التوحید، صص ۴۰۷۔و ۴۰۸، روایت ۶)۔
3. بقرہ آیہ ۲۵۷۔ (ترجمه علامہ جوادی)
4. بقرہ آیہ ۲۵۷۔ (ترجمه علامہ جوادی)
5. عن ابی عبد اللہ علیہ السلام قال: ثلاثة اشیا لایحاسب العبد المومن علیھن : طعام یاکلہ و ثوب یلبسہ و زوجة صالحة تعاونہ و یحصن بھا فرجہ (بحار الانوار ج ۷، ص ۲۶۵، ح ۲۳)۔
6. عن الصادق جعفر بن محمد علیھما السلام قال: اذا کان یوم القیامة وقف عبد ان مومنان للحساب کلاھما من اھل الجنة فقیر فی الدنیا و غنی فی الدنیا فیقول الفقیر یا رب علی ما اوقف ؟ فو عزتک انک لتعلم انک لم تولنی ولایة فاعدل فیھا او اجورولم ترزقنی مالا فادی منہ حقا او امنع ولا کان رزقی یاتینی منھا الاکفافا علی ما علمت و قدرت لی، فیقول اللہ جل جلالہ : صدق عبدی خلوا منہ یدخل الجنة و یبقی الآخرحتی یسیل منہ العرق مالوشربہ اربعون بعیرا کفاھا، ثم یدخل الجنة، فیقول لہ الفقیر : طول الحساب مازال الشیء یجئنی بعد الشیء یغفرلی، ثم اسال عن شئی اخر حتی تغمدنی اللہ عزو جل منہ برحمة الحقنی بالتائبین “؛ (بحار الانوار ج۷،ص ۲۵۹، ح ۴)





تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
4+8 =