پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

پیغمبر اسلام (ص) نے متعدد شادیاں خواہشات نفسانی کی وجہ سے کی تھیں یا اس میں کچھ اور راز ہے ؟


شادی صرف خواہشات کی پیاس بجھانے کے لۓ نہیں کی جاتی ہے بلکہ اس کے ذریعہ انسان کے بہت سارے جو ہر کھل کر سامنے آتے ہیں ۔
قرآنی نقطہ نظر سے کائنات کا نظام ازدواج پر ہے 1 اسی زوجیت سے انسان کی بقا بھی وابستہ ہے ۔ 2
لہذا جو بھی اپنی نسل کو باقی رکھنا چاہتا ہے اس کو چاہیۓ کہ شادی کرے ۔
تاریخ بشریت اس بات کی شاہد ہے کہ انسان کی زندگی میں طرح طرح کے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔
کوئی جلدی بوڑھا ہوجاتا ہے تو کوئی آخر عمر تک جو ان ہی رہتا ہے ۔ کسی کی کوکھ جل جاتی ہے تو کوئی جلدی ماں بن جاتی ہے تو کسی عورت کا جلد سہاگ اجڑ جاتا ہے ۔
اسی لۓ انسان کئی شادیاں کۓ رہتا تھا ۔
جب عربوں نے عورتوں کے اوپر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تب اسلام نے شادی کو چار میں محدود کردیا لیکن اس میں بھی اگر عدالت نہ ہونے کا خطرہ ہے تو پھر ایک ہی پر اکتفاء کردیا ۔ 3
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول اکرم (ص) اس قانون سے الگ تھلگ کیوں رکھے گۓ ؟
اور کیا آپ نے شادیاں حقیقی معنوں میں خواہشات کو بجھانے کے لۓ کی تھیں ؟
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے حضور (ص) کی شادیوں پر طائرانہ نظر دوڑالی جاۓ ۔

(1) پیغمبر (ص) کی عمر جب پچیس سال کی ہوگئ تو سب سے پہلے آپ کی شادی بعثت سے پندرہ سال پہلے خدیجہ بنت خویلد سے ہوئی تھی ان کی عمر اس وقت چالیس سال کی تھی ۔ آپ کے پہلے شوہر ابی ہالہ تھے جن سے دو بیٹے ہالہ اور ہند ہوۓ ۔
دوسری شادی عتیق بن عائذ مخزومی سے ہوئی اور کچھ دنوں بعد دونوں میں جدائی ہوگئ 4
بعض کتابوں میں مذکور ہے کہ ۔ان سے بھی بیٹی دنیا میں آئی جس کا نام جاریہ تھا ۔ 5
حضرت خدیجہ پیغمبر (ص) کی زوجیت میں بلا شرکت 25 سال رہیں اور طیب، طاہر، (زینب) اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا آپ ہی کی اولاد یں تھیں ۔
حضرت خدیجہ بعثت کے دسویں سال اور ہجرت سے تین سال قبل 65 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں، اس وقت حضور اکرم (ص) کی عمر پچاس سال کی تھی ۔

(2) پیغمبر اکرم (ص) نے دوسری شادی جناب خدیجہ کے دنیا سے جانے کے ایک سال بعد اس وقت کی جب خولہ زوجہ عثمان بن مظعون نے سودہ زمعہ سے رشتہ پیش کیا یہ پہلے سکران بن عمر کے چچا زاد بھائی کی زوجیت میں تھیں جس سے ایک فرزند بنام عبد الرحمن ہوا تھا یہ دونوںحبشہ ہجرت کۓ تھے اور ان کے شوہر کا حبشہ میں یاو ہاں سے واپسی پر انتقال ہوگیا لہذا رسول (ص) نے ان کو اپنے عقد میں لے لیاپیغمبر (ص) کا ان جیسی مسن عورت سے عقد کرنے پر مکہ والوں کو تعجب ہوا، وہ اتنی مسن تھیں کہ عائشہ سے پیغمبر (ص) کے عقد کے وقت اپنے حق ہم خوابی کو چند سال کے لۓ عائشہ کو دیدیا تھا حضرت (ص) نے سودہ سے اکیاون سال کی عمر میں شادی کی تھی، یہ دو سال تک اکیلی آپ کی بیوی تھیں ۔

(3) عائشہ بنت ابی بکر:
یہ پہلی باکرہ بیوی تھیں جن سے خولہ نے مکہ میں عقد کرایا اور ہجرت کے پہلے سال (مدینہ) رخصتی ہوئی ۔
عائشہ کا عقد کس عمر میں ہوا اس میں اختلاف ہے بعض نے 7 سال 6 اور کسی نے 17 سال (7) لکھا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ 9 یا 19 سال کے درمیان میں شادی ہوئی (سنہ57 ھ ) میں اس دار فانی کو وداع کہا ۔

(4) حفصہ بنت عمر بن خطاب:
کی شادی پہلے رسول (ص) کے صحابی خنیس بن حذافہ سے ہوئی تھی ۔
انھوں نے حبثہ کے بعد جنگ بدر و احد میں شرکت کی، احد میں زیادہ زخم کھانے کی وجہ سے اس دنیا سے چلے گۓ ۔
حفصہ جو ان تھیں اس لۓ عمر بن خطاب ان کی طرف سے کافی فکرمند رہا کرتے تھے آخر کار انھوں نے رشتہ ابو بکر، عثمان، اور حضور اکرم (ص) کو بھیجا آپ نے شعبان (سنہ 3 ھ) میں چھپن (56 ) سال کی عمر میں حفصہ سے شادی کی جبکہ پہلے ہی سے سودہ اور عائشہ جیسی بیویاں موجود تھیں ۔

(5) زینب بنت خزیمہ:
کی شادی پہلے طفیل بن حارث سے ہوئی تھی، جب دونوں میں طلاق ہوگیا تو اسی کے بھائی عبیدہبن حارث نے ان کو اپنی زوجیت میں لے لیا، جب یہ بھی مار دیۓ گۓ تو بعض کے بقول عبداللہ بن جحش نے اپنے رشتہ حیات سے منسلک کر لیا ۔
پیغمبر اکرم (ص) نے (سنہ3 ھ) میں چھپن (56) سال کی عمر میں زینب بنت خزیمہ کو اپنا شریک بنایا بعض روایت کے مطابق صرف تین یا آٹھ مہینے کے بعد اس دنیا سے چلی گئیں 8

(6) ام سلمی دختر ابی امیہ:
کے پہلے شوہر عبد اللہ بن اسد تھے جو رسول خدا (ص) کے پھوپھی زاد بھائی تھے یہ دونوں ہجرت کر کے حبشہ چلے گۓ تھے ۔
یہیں پر سلمی پیدا ہو ئیں بیعت عقبہ کے بعد مدینہ آگۓ اور یہاں پر تین فرزند دنیا میں آۓ عبداللہ نے جنگ بدر اور احد دونوں میں شرکت کی ۔احد کے زخم سے جان بحق ہوۓ ۔
پیغمبر اسلام (ص) نے ام سلمی سے شادی (سنہ 4 ھ) میں 57 سال کی عمر میں کی یہ اس حجرے میں رہا کرتی تھیں جس میں زینب بنت خزیمہ رہتی تھیں ۔

(7) زینب بنت حجش:
رسول خدا (ص) کی پھوپھی زاد بہن تھیں آپ نے ان کی پہلی شادی منھ بولے بیٹے زید بن حادثہ سے کرادی تھی مگرچونکہ زید آزادہ کردہ تھے لہذا زینب بہت ناراض رہا کرتی تھیں ۔
رسول اکرم (ص) نے اس شادی کے ذریعہ دور جاہلیت کی رسم کو قلع قمع کرنا چاہا تھا اس کی تائید قرآن نے سورہ احزاب کی 37 اور 38 آیتوں میں کی ہے ۔
حضور اکرم (ص) نے (سنہ5 ھ) میں اٹھاون سال کی عمر میں زینب بنت حجش سے شادی کی 9

(8) صفیہ بنت حی بن اخطب رئیس قبیلہ بنی نضیر:
یہ پہلے سلام بن ابی الحقیق کی بیوی، پھر کنانہ بن ابی الحقیق کی زوجیت میں رہیں یہ دونوں یہودی شاعر تھے ۔
جنگ خیبر میں کنانہ کے مارے جانے کے بعد صفیہ کو اسیر بنالیا گیا جب انھوں نے قیدیوں کے ساتھ رسول (ص) کا اچھا برتاؤ دیکھا تو بہت متاثر ہوئیں ۔ 10
جب قیدیوں کو آزاد کیا جانے لگا تو رسول خدا (ص) نے صفیہ سے ازدواج کے متعلق پوچھا انھوں نے جواب دیا ۔
"قد کنت اتمنی ذالک فی الشرک فکیف اذا امکنی اللہ عنہ فی الاسلام"
جب میں یہودی تھی اس وقت یہ آرزو رکھتی تھی اب جب کہ مسلمان ہوگئ ہوں تو کیسے ایسی آرزو نہ رکھوں ؟
ان کی شادی رسول خدا (ص) سے (سنہ 7ھ) میں ساٹھ سال کی عمر میں ہوئی صفیہ (سنہ 50 ھ) میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں ۔

(9) جویریہ بنی مصطلق:
کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں ۔یہ جنگ بدر میں اسیر بنالی گئیں ۔اور ثابت بن قیس بن شماس کے حصے میں آئیں اور اپنی آزادی کے لۓ فورا ان سے قرار داد کر لی اور پیغمبر (ص) کی خدمت میں آکر اپنی آزادی کے سلسلے میں کمک مانگی ۔
پیغمبر (ص) نے ثابت بن قیس کو قیمت دیکر اپنی زوجیت میں لے لیا ۔
جب اس کی خبر لوگوں تک پہونچی تو وہ یہودی اسیروں کو حضرت کا رشتہ دار سمجھ کر بنی مصطلق کے سوسے زیادہ اسراء کو آزاد کر دیا ۔ 11
ایک روایت کے مطابق جو یریہ کا باپ پیغمبر اسلام (ص) کے پاس آیا اور کہا کہ میری بیٹی جیسی لڑکیوں کو اسیر و کنیز نہیں بنانا چاہیۓ ۔
چنانچہ پیغمبر (ص) نے جویریہ کے کہنے پر ان سے ازدواج کرلیا جس کی وجہ سے جویریہ کے باپ ان کے دو بھائی اور کچھ رشتہ دار مسلمان ہوگۓ ۔ 12

(10) میمونہ بنت حارث:
عباس کی زوجہ ام الفضل کی بہن تھیں دور جاہلیت میں آپ کی شادی مسعود بن عمرو ثقفی سے ہوئی جو مشرک تھا ۔لیکن عباس کے گھر سے رفت و آمد رکھنے کی وجہ سے خود ان میں اسلام کی طرف رجحان پیدا ہوگیا تھا ۔
ان دونوں کی جدائی کا سبب یہ بنا کہ جب جنگ خیبر میں مسلمانوں کو فتح ملی تو یہ بہت خوش ہوئیں جب گھر آئیں تو شوہر کو مخزون پایا وہ آپ کی خوشی کو نہ دیکھ پایا اور آپ سے کڑھ گیا ۔
لہذا آپ کو چھوڑ دیا پھر حویطب بن عبدالعزی سے شادی ہوئی، جب اس شوہر کا انتقال ہوگیا تو وہ اپنی بہن کے گھر میں رہنے لگیں ۔
(سنہ 7ھ) میں صلح حدیبیہ کے بعد جب آنحضرت (ص) حج کرنے آۓ تو انھوں نے اپنی بہن کے ذریعہ عباس سے رسول (ص) کے پا س پیغام بھیجوایا آپ نے اس کو قبول کر لیا جس کا تذکرہ قرآن مجید نے یوں کیا ہے ۔
"و امراتہ مومنہ ان وھبت نفسھا للنبی" 13
اسی وجہ سے اس رشتہ کو فورا قبول کر لیا شادی کے بعدپیغمبر اسلام (ص) مکہ میں زیادہ رہنے کے لۓ موقع کی تلاش میں تھے تا کہ مشرکین کو جذب کرسکیں آپ نے مکہ میں شادی کا ولیمہ کرایا لیکن مشرکین میں سے کوئی بھی نہیں آیا مجبورا پیغمبر اسلام (ص) نے مکہ کو ترک کردیا ۔ 14

(11) ام حبیبہ:
ان کا نام رملہ تھا یہ ابوسفیان کی بیٹی تھیں آپ کی پہلی شادی عبید اللہ بن حجش سے ہوئی تھی درانحالیکہ باپ اور شوہر دونوں اسلام کے سخت دشمن تھے، لیکن بعد میں دونوں (ظاہرا) مسلمان ہوگۓ ۔
انھوں نے حبثہ بھی مہاجرت کی تھی یہیں پر حبیبہ پیدا ہوئی حبشہ میں عبیداللہ مرتد ہوگیا اور ام حبیبہ کو بھی اسلام چھوڑنے کو کہا، لیکن آپ نے اس کی ایک بھی نہیں سنی ۔
شوہر کے مرنے کے بعد وہ اپنی بیٹی کے ساتھ پردیس کی زندگی گذارنے لگیں نہ اپنے گھر واپس آنے کی کوئی سبیل تھی نہ شوہر کے گھر جانے کی ۔
رسول اکرم (ص) کو آپ کی بیکسی پر رحم آیا اور نجاشی کے پاس ایک نمائندہ کو بھیجکر اپنے عقد میں لے لیا ۔
جب جنگ خیبر کے بعد لوٹ کر آئیں تو رسول (ص) کے گھر میں اتریں ۔
ایک شادی رسول اکرم (ص) نے (سنہ 6ھ) میں کی تھی جو مصر کے حاکم مقوقس نے آپ کی دعوت اسلام پر لبیک تو نہیں کہا تھا مگر ایک کنیز کو تحفہ میں بھیجا تھا، جن کا نام ماریہ تھا ان سے ایک فرزند ابراہیم ہوۓ جن کا اٹھارہ مہینے کی عمر میں انتقال ہوگیا ان کے اٹھ جانے کےبعد آنحضرت (ص) بہت غمگین ہوۓ تھے 15
مذکورہ شادیوں پر تھوڑا سا غور کیا جاۓ تو اس نتیجہ پر انسان پہونچے گا کہ آپ نے متعدد شادیاں غرائز جنسی کی بناء پر نہیں کی تھیں کیونکہ:

1۔ پیغمبر اسلام (ص) نے جوانی کے عالم میں حضرت خدیجہ سے شادی کی تھی جو پچاس سال کی عمر تک آپ کی شریک حیات رہیں آپ کے بعد ایک سال تک شادی نہیں کی ایک سال کے بعد سودہ جیسی بوڑھی عورت سے شادی کی ۔

2۔ رسول (ص) کی اکثر بیویاں (سنہ1ھ سے لیکر سنہ7ھ) کے درمیان شریک حیات بنیں اور اس وقت آپ کی عمر چون سال سے لیکر اکسٹھسال کی تھی ۔

3۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم (ص) نے اکثر شادیاں مصلحت کی بناء پر کی تھیں ورنہ عائشہ جیسی حسین و جمیل لڑکی کے بعد زینب بنت خزیمہ جیسی پیر زن سے تین چار مہینے کے لۓ ازدواج کرنا یا ام سلمی جیسی تین فرزند کی ماں سے عقد کرنا کیا معنی رکھتا ہے ۔

4۔ پیغمبر اسلام (ص) نے متعدد شادیاں اس لۓ کیں، تا کہ باکر دار بیوی کا چہرہ سب پر عیاں ہوجاۓ اس کی دلیل خودعائشہ کی گفتگو ہے کہ جب رسول (ص) خدیجہ کی سہیلیوں کو گوشت بھیجا کرتے تھےتو میں جل بھن جاتی تھی اور جب ان کا تذکرہ فرماتے تھے تو میں خدیجہ سے اس حد تک بعض و حسد کرنے لگتی تھی 16
کہ میں رسول (ص) سے کہہ بیٹھتی کہ آپ اس بڑھیا کو یاد کیوں کرتے ہیں جب کہ خدا وند عالم نے مجھ جیسی حسین و جمیل بیوی دے رکھی ہے ۔
پیغمبر (ص) نے جواب دیا، خدا کی قسم، خدیجہ سے بہتر کوئی نہیں ہے اس نےاس وقت میری تصدیق کی جب سب مجھے جھٹلارہے تھے جس وقت کفار قریش نے ہم سب کو شعب ابی طالب میں محصور کردیا تو اس نے میری مدد کی، میری نسل خدا نے اسی سے قائم کی 17 اگر پیغمبر (ص) جنسی خواہشات کی بناء پر شادیاں کۓ ہوتے تو آپ ضرور عائشہ کی خوبصورتی، کنواراپن اور کمسنی کو یاد فرماتے نہ کہ خدیجہ طاہرہ کےایمان، ایثار، اور نسل کا ذکر کرتے ۔

5۔ سورہ احزاب کی آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ مصلحت کو دیکھتے ہوۓ رسول خدا (ص) نے متعدد شادیاں کیں ورنہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے رشتہ آۓ تھے لیکن آپ نے حکم خداوندی سے ان سب کو ٹھکرا دیا ۔

6۔ جو لوگ شہوت پرست ہوتے ہیں وہ مال ولباس کے ذریعے اپنی عورتوں کو خوش رکھنا چاہتے ہیں اگر رسول (ص) آسایش زندگی یا خوبصورتی کو مد نظر رکھے ہوتے تو سورہ احزاب کی اٹھائیسویں آیت نازل نہ ہوتی جس میں ازواج نے اچھے کپڑے کی مانگ کی تھی مگر آپ ایک مہینے تکان کے قریب ہی نہیں گۓ چنانچہ حکم خداوندی آیا کہ ازواج پیغمبر (ص) یا آسایش و آرام کی زندگی گزاریں یا پیغمبر (ص) کے ساتھ رہیں ۔

7۔ عرب کا سماج قبیلائی تھا اور یہ لوگ ان ہی کی حمایت و نصرت کرتے تھے جو ان کے قبیلے کا ہوتا تھا شاید پیغمبر (ص) نے اتنی شادی انہی مصلحتوں کے تحت کی ہے ورنہ ہر قبیلے کی دو بیویاں ضرور ہوتیں ۔
حقیقت تو یہی ہے کہ جب عائشہ جیسی سات یا سترہ سالہ لڑکی سے عقد ہو اور ایک مدت کے بعد رخصتی کرائی جاۓ یہ سیاسی شادی نہیں تو اور کیا ہے ؟
علماۓ اہلسنت کے بقول حفصہ کی شادی عمر بن خطاب کی دلجوئی کے لۓ ہوئی تھی کیونکہ بیٹی کے بیوہ ہونے کے بعد حضرت عمر بہت افسردہ رہنے لگے تھے اگر یہ مصلحت نہ تھی تو پھر کیا تھا ؟ اس سے آپ اس قبیلے کے قلوب کو اپنی طرف جذب کرنا چاہتے تھے ۔
رسول اکرم (ص) نے صفیہ اور جویریہ سے صرف اس لۓ شادی کی تھی تا کہ قبیلہ بنی نضیر اور بنی مصطلق رام ہوجائیں اس کا صلہ رسول (ص) کو اس وقت ملا جب سو سے زیادہ افراد دین اسلام پر آگۓ ۔
ام حبیبہ بنت ابو سفیان سے ازدواج کرنے کا مطلب یہ تھا کہ ان کا سہارا بن کر ان کے ٹوٹے ہوۓ دل کو سکون، اور اس کے ساتھ ہی ان کے گھر والے اسلام کی طرف سے بد گمان نہ ہوں ....
کیا اس شادی میں کوئی اور راز پوشیدہ تھا ؟
میمونہ سے صلح حدیبیہ کے بعد نکاح اس لۓ کیا تا کہ مسلمان سے کفار قریش قریب ہو جائیں کیا اس کے علاوہ رسول (ص) کی کوئی دوسری مصلحت تھی ؟
زینب بنت حجش کو اپنی زوجیت میں صرف اس لۓ لیا تا کہ رسم جاہلیت کاقلع قمع ہوجاۓ نہ کہ خوبصورتی کو دیکھکر آپ سے شادی رچائی تھی کیا اس سے پہلے آپ کو نہیں دیکھا تھا ؟

8۔ اگر رسول خدا (ص) جنسی خواہشات کی بنیاد پر متعدد شادیاں کۓ ہوتے تو ضرور ان ازواج کے کہنے پر چلتے اس بات کی گواہ سورہ تحریم کی پہلی آیت ہے ۔



1. ذاریات آیت نمبر 49 اور آیت نمبر 5 ۔
2. روم آیت نمبر 21، اور اعراف آیت نمبر 189 ۔
3. نساء آیت نمبر 3 ۔
4. حول نساء الرسول ص45۔37 ۔
5. مجموعہ مقالات میں علامہ طباطبائی کا مضمون عورت اسلام میں کے عنوان سے ۔
6. استیعاب فی معرفتہ الاصحابج3، ص1885 ۔
7. الصحیح من السیرہ ج3، ص286 ۔
8. الصحیح من السیرہ ج3، ص286۔
9. ناسخ التواریخ ج4، ص1882 ۔
10. سیرہ بنویہ ج3، ص351، مولف ابن ہشام ۔طبقات الکبری ج2، ص81، مؤلف ابن سعد ۔
11. سیرہ بنونہ ج2، ص351، مؤلف ابن ہشام ۔تاریخ طبری ج2، ص260، اصابہ ج8، ص43۔
12. طبقات ابن سعد ج8، ص120 ۔
13. احزاب آیت نمبر 115۔
14. سیرہ ج4، ص296، تاریخ طبری ج3، ص100۔
15. طبقات الکبری ج8، ص216۔مؤلف ابن سعد۔
16. مستدرک حاکم ج1، ص16 ۔
17. صحیح بخاری ج4، ص230۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
9+7 =