پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

تمام چیزوں کو اللہ نے پیدا کیا ھے ، خود اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟


یہ سوال مادّہ پرستوں کی جانب سے بار بار اٹھایا جا تارھا ھے ۔ وہ یہ پوچھتے ھیں اگر تمھارے بیان کے مطابق اس بات کو مان لیا جائے کہ دنیا کی ھر چیز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ھے تو بتاؤ خود اللہ تعالیٰ کو کس نے تخلیق کیا ھے ؟
ان کا خیال یہ ھے کہ خدا پرستوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نھیں ھے اور وہ یہ بھی سمجھتے ھیں کہ اس سوال کا جواب دینا صرف خدا پرستوں ھی کی ذمہ داری ھے ۔ اس سوال کا قطعی جواب دینے سے پھلے ھم یہ کھیں گے کہ اس طرح کے سوال کا جواب دینا صرف خدا پرستوں کے ذمّے نھیں ھے بلکہ خود مادہ پرستوں پر بھی یھی اعتراض وارد ھوتا ھے۔ کیونکہ جب وہ یہ کھتے ھیں کہ ھر چیز بالآخر مادّہ کی طرف لوٹتی ھے تو اس کے ساتھ ھی یہ سوال پیدا ھو جاتا ھے کہ اگر تمھارے خیال میں یہ دنیا اور اس کے اندر جو کچھ ھے اس کا سر چشمہ مادّہ ھے تو خود مادہ کھاں سے وجود میں آگیا ؟ اسے کس نے پیدا کیا ؟
اس بنا پر ھمارے نزدیک یہ خیال غلط ھے کہ اس سوال کے مخاطب صرف خدا پرست ھی ھو سکتے ھیں اور اس کا جواب ان ھی کے ذمّے ھے ۔
اب ھم اصل مسئلے کو لیتے ھیں ۔ ھمارا جواب سننے سے پھلے مندرجہ ذیل چند مثالوں پر غور کیجئے تاکہ اصل جواب کے سمجھنے کے لئے آپ کا ذھن تیار ھو جائے ۔
ھر چیز کی نمی و رطوبت پانی کی وجہ سے ھے ( یا کلی طور پر مائعار یہ کھاں سے آئی ؟ت کی وجہ سے ھے ) پانی کی یہ رطوبت کس چیز کی وجہ سے ھے او
تمام غذاؤں میں چکنائی روغن کی وجہ سے ھے ، لیکن روغن کی چکنائی کس چیز کے سبب ھے اور یہ اس میں کھاں سے آئی ؟
ھر چیز کا کھارا پن نمک کی وجہ سے ھے لیکن خود نمک میں یہ کھارا پن کھاں سے آیا ؟
یہ بات ظاھر ھے کہ پانی میں رطوبت ، روغن میں چکنائی اور نمک میں کھارا پن کسی دوسری چیز کی وجہ سے نھیں ھے ۔ یہ در اصل ان چیزوں کی ذاتی اور طبعی خاصیت ھے ۔
پانی بذاتہ مرطوب ھے ۔
روغن بذاتہ چکنا ھوتا ھے ۔
نمک بذاتہ کھارا ھوتا ھے ۔ ( پانی کی رطوبت کے ذاتی ھونے اور نمک کے کھارے پن کے ذاتی ھونے کا مطلب ھرگز یہ نھیں ھے کہ پانی میں رطوبت چونکہ اس کی اپنی ذاتی ھے اس لئے اس کا کوئی خالق نھیں ۔ ھماری مراد یہ ھے کہ خالق کائنات نے پانی کو طبعی اور ذاتی طور پر مرطوب بنایا ھے اور اس طرح کہ رطوبت کو پانی سے جدا نھیں کیا جا سکتا ۔!)
اس سے یہ بات واضح ھو گئی کہ ھر چیز بالآخر اپنے منبع اور سر چشمہ کی طرف لوٹتی ھے ۔ اس کے بعد یہ سوال کرنے کی حاجت نھیں رھتی کہ کسی چیز میں کوئی تاثیر کھاں سے آئی اور کس کی طرف لوٹتی ھے ۔
وجود اور ھستی کا معاملہ بھی یھی ھے ۔ تخلیق کے اعتبار سے موجودات کی زندگی اور ان کا وجود ، خود ان ھی کی وجہ سے اور ان کا ذاتی نھیں ھے اور بلا تردید قانون ” علت “ کے مطابق موجودات کی زندگی ایک سر چشمے سے تعلق رکھتی ھے ۔ خدا پرست زندگی کا سر چشمہ اور وجود کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات کو قرار دیتے ھیں البتہ وہ یہ کھتے ھیں کہ خدا کی ھستی ذاتی ھے اور اس کی ذات خود اس کا سر چشمہ ھے ۔کیونکہ اگر خدا دنیا کی موجودات کی طرح مخلوق اور معلول ھوتا تو پھر لازماً پوری کائنات ایک ایسا معلول قرار پاتی جس کی کوئی علت نہ ھو اور یہ بات واضح ھے کہ علت کے بغیر معلول کا ھونا ممکن نھیں ۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ تمام مخلوقات کاوجود کسی علت کے بغیر نھیں ھو سکتا تو پھر ایک منبع اور سر چشمہ کا تعین کرنا پڑے گا جو معلولیت کی صفت سے متصف نہ ھو سکے ۔
اس بنا پر یہ بات واضح ھے کہ تمام موجودات کسی ایسی علت کی طرف لوٹتی ھیں جو خود معلول اور مخلوق نہ ھو۔ جس کی ھستی خود اپنے آپ سے قائم ھو اور وہ صرف خدا ئے کائنات کی ذات ھو سکتی ھے ، جو بے آغاز و بے انجام ھے خو د اول اور آخر ھے ، ازلی اور ابدی ھے ۔
یہ شبہ در اصل اس لئے پیدا ھوا کہ مادہ پرستوں کے مطابق ، خدا پرستوں کا موقف یہ ھے کہ ھر چیز کی کوئی نہ کوئی علت ھوتی ھے، اسی لئے وہ خدا پرستوں سے پوچھتے ھیں کہ بتاؤ ! خدا کی علت کون ھے ؟
حالانکہ خدا پرستوں کا موقف یہ نھیں ھے کہ ھر چیز کی کوئی علت ھوتی ھے ۔ در اصل ان کا موقف یہ ھے کہ ھر موجود جس کا پھلے کوئی وجود نھیں تھا، اسے بعد میں وجود حاصل ھوا اور ھر وہ مخلوق جس کی ھستی اس کی اپنی ذاتی نہ ھو اس کے وجود کے لئے کسی علت و سبب اور ایک خالق کا ھونا لازمی ھے ۔
یہ اصول نہ صرف یہ کہ کائنات کے اصل سر چشمے اور تمام مخلوقات کے وجود اور پیدائش کی اصل علت کی جانب ھماری رھنمائی کرتا ھے، بلکہ اس ضمن میں یہ بھی بتاتا ھے کہ اس اصل منبع اور علت کو کسی دوسرے منبع اور علت کی حاجت نہ ھو ، کیونکہ اس کی ھستی خود اس کی اپنی ذاتی ھے اور وہ مخلوق نھیں ھے ۔
بزرگ فلاسفہ نے اس مفھوم کو اس مختصر سے فقرے میں سمو دیا ھے ۔ وہ کھتے ھیں : ” کلّ ما بالعرض ینتھی الی ما بالذّات “
ھر عرضی وجود ، یعنی غیر ذاتی وجود ، بالآخر کسی وجود ذاتی کی طرف لوٹتا ھے اور اسی پر منتھیٰ ھوتا ھے ۔
ایک یھودی نے امیر المومنین (ع) سے دریافت کیا کہ خدا کب سے موجود ھے ؟
آنجناب (ع) نے جواب میں فرمایا : ” کب سے موجود ھے کا سوال تم اس کے بارے میں اٹھا سکتے ھو جو موجو د نہ رھا ھو ۔ اس طرح کا سوال ھر جگہ با معنی نھیں ھو سکتا ، صرف اس چیز کے بارے میں یہ با معنی ھو سکتا ھے جو پھلے موجود نہ رھی ھو اور بعد میں نمودار ھوئی ھو ۔ اللہ تعالیٰ کے وجود کا کوئی آغاز اور انجام نھیں ھے ۔ وہ ھرآغاز سے پھلے رھا ھے اور ھر انجام کے بعد بھی رھے گا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ سوال صحیح نھیں ھے ۔ “

www.ishraaq.net



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
2+4 =