پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

توسل سے کیا مراد ہے؟ کیا شیعہ اور سنی توسل کے صحیح ہونے پر معتبر دلیل رکھتے ہیں؟


لغت میں توسل کے معنی، مقصد تک پہنچنے کے لئے کسی وسیلہ سے مدد حاصل کرنا ہے۔
مراد کو پانے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اسباب اور واسطہٴ فیض سے متوسل ہو، مثال کے طور پر کھیتی کا آباد ہونا بغیرزمین جوتے، داناوپانی اور کھادڈالے اور ایک معین وقت و مقدار کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
اسی بنیا د پر توسل (اسباب سے استفادہ کرنے کے معنی میں) دنیا میں انسان کی زندگی کا لازمہ ہے۔ اور اس کے اوپر اسباب و مسببات کا قانون حاکم ہے۔
مسلمانوں کی اصطلاح میں توسل سے مراد، بارگاہ خداوندی میں اپنی حاجت کو پانے کے لئے اولیاء الہی سے متمسک ہونا ہے۔
خداوند عالم نے اپنی بارگاہ سے قربت اور نزدیکی حاصل کرنے کے لئے بعض چیزوں کو سبب اور وسیلہ قرار دیا ہے اور ان چیزوں سے متوسل ہونے کا حکم دیا ہے۔
یا ایّھا الذین آمنوا اتّقوا اللّہ و ابتغوا الیہ الوسیلة 1
ترجمہ: اے ایمان لانے والوں اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو ۔
اس توجہ کے ساتھ کہ اس آیت میں لفظ وسیلہ بغیر کسی قید کے ذکر ہوا ہے۔ اس کا مطلق ہونا ہر اس چیز کو شامل ہوگا جو انسان کو خدا سے نزدیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو گی۔



۱. سورہ مائدہ۔ آیہ ۳۵۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
3+3 =