پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

جب قرآن میں ذکر ہوا ہے کہ اپنی جان کو ہلاکت میں مت ڈالو تو پھر حضرت علی اور امام حسین علیھما السلام اپنی شہادت کے متعلق علم رکھنے کے باوجود ان مواقع پر کیوں گئےیا کم از کم اس سے بچنے کی کوشش کیوں نہیں کی تا کہ یہ واقعہ رونما ہوتا ؟


اس سلسلے میں کئی جواب پائے جاتے ہیں ـ

۱) اگر آئمہ اطہار علیھم السلام علم غیب کے مالک اور گذشتہ، موجود اور آئندہ کے حوادث سے باخبر تھے ـ لیکن ان کی تکلیف بقید انسانوں کی طرح علم معمولی پر تھی اور یہ لوگ علم غیب سے سہارا نہیں لیا کرتے تھے ـ اسی لئے انھوں نے اپنی شہادت میں بھی اس سے کام نہیں لیا ـ اور اپنے علم معمولی کی بنیاد پر سامنے رکھے ہوئے پھل کو کھالیا جو صحیح ہے در انحالیکہ علم غیب سے اس کے مسموم ہونے کا علم تھا ـ
اسی علم کی بنیاد پر حضرت علی علیہ السلام انیسویں رمضان المبارک سنہ ۴۰ ھ میں مسجد کوفہ گئے جب کہ آپ کو علم غیب کے ذریعے اپنی شہادت کا علم تھا مگر تکلیف آور نہیں تھا ـ
اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے کہ آئمہ علیھم السلام اپنے علم عادی پر عمل کرنے کے مکلف تھے اس پر دو دلیلیں ذکر کرتے ہیں ـ
الف) علم غیب کے اعتبار سے عمل کرنا٬ بعثت انبیاء اور نصب آئمہ کی حکمت سے منافی کیونکہ ایسی صورت میں ان کا عمل اسوہ اور نمونہ عمل قرار نہیں پائے گا اورہر انسان وظائف فردی اور معاشرتی میں ان کے علم غیب پر عمل کرنے کی وجہ سے بہانہ تلاش کرے گا ـ
ب) علم غیر معمولی کی بنیاد پر عمل، نظام ہستی میں اختلال کا باعث ہے کیونکہ خدا کا ارادہ و مشیت نظام اسباب و مسبب طبیعی اور علم معمولی بشری کے لحاظ سے امور واقع ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پیغمبر(ص) و آئمہ معصومین علیھم السلام نے اپنی شفا یابی، یا اپنے چاہنے والوں کے لئے علم غیب سے کبھی بھی سہارا نہیں لیا ہے شاید علم نجوم، تسخیر جن وغیرہ سے ممانعت کی ایک حکمت یہی ہو کہ غیب اور آئندہ کی خبروں سے کہیں نظام عالم میں اختلال پیدا نہ ہو جائے 1

۲) اگر چہ بہت ساری روایتوں کے مطابق آئمہ معصومین علیھم السلام ماضی، حال٬ اور مستقبل کے حوادث سے آگاہ تھے 2
لیکن اس علم غیب کے متعلق روایات میں مذکور ہوا ہے کہ یہ علم بالفعل نہیں ہے بلکہ شانی ہے یعنی جب کسی چیز کے بارے میں معلومات کرنا چاہتے تھے خدا وند ان کو مطلع کردیتا تھا ـ
" اذاراد الامام ان یعلم شیئیاً اعلمہ اللہ ذالک " جب بھی امام کسی چیز کو جاننے کا ارادہ کرتا ہے تو خدا اس کے متعلق آگاہ کرادیتا ہے ) 3
خلاصہ یہ کہ امام (ع) کا علم غیب شانی ہے نہ فعلی ـ پس ممکن ہے کہ انھوں نے اپنی شہادت کے بارے میں نہ جاننے کا ارادہ کیا ہو 4

۳) بنیادی طور پر پیامبر اکرم (ص) وائمہ اطہار علیھم السلام خاص تکالیف و وظائف کے حامل ہیں اسی لئے کسی جنگ میں دشمن سے شکست کھانے کے علم کے باجود اس سے لڑنے گئے یا جانتے تھے کہ اس کام میں (جیسے زہر میں بجھاہوا پھل کھانا یا حضرت کا رمضان کی نیسویں شب کومسجد کوفہ میں جانے سے ) شہادت در پیش ہے اس کے باوجود انجام دیا ان کے یہ افعال ہماری نظر سے خود کشی اور حرام ہے لیکن ان ذوات مقدسہ کے لئے وظیفہ خاص اسی طرح ہے کہ نماز شب پیغمبر اکرم (ص) پر واجب تھی مگر سارے مسلمانوں کے لئے مستحب ہے 5

۴) اس سلسلے میں ٹھوس جواب یہی ہے جب اس کی وضاحت ہوجائے گی تو پھر خود بخود پچھلے جوابات روشن ہوجائیں گے لیکن اس کا سمجھنا چند مقدمے پر موقوف ہے ـ

الف) قضا وقدر الہی

قدر کے معنی حدوانداز ے کے ہیں قدر الہی سے مراد یہ ہے کہ خدانے ہر مخلوق کو ایک خاص خصوصیت عطا کی ہے اور اسی کو مخلوق کا محور بنایا ہے یعنی ایک چیز کو وجود میں لانے کے لئے خاص علت و اوصاف نیز حدو اندازہ گیری کرتاہے یہ چیز خود خدا سے صادر ہوتی ہے بعبارت دیگر تقدیر الہی، یعنی اس جہان ہستی پر نظام سبب و مبب حاکم ہے، ہر چیز کی کوئی نہ کوئی خاص علت ہے قہری طور پر معلول کی خصوصیت و اوصاف اسی علت کی وجہ سے ہے ـ
قضاء کے معنی کسی کام کو حتمی اور آخری فیصلہ کے طور پر کرنا ہے ـ قضاالہی سے مراد یہ ہے کہ خدا نے ہر چیز کی علت تامہ کے محقق ہونے کے بعد اس کو خلق کیا ـ
معلول کا حتمی تحقق اس بات کی دلیل ہے کہ علت تامہ محقق ہوگئی یہی قضا الہی ہے ـ در حقیقت قضا و قدر الہی خدا کے خلق و ایجاد سے مربوط ہے اور اس کو صفت خالقیت سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے ـ

ب) علم الہی

یعنی قضا وقدر عالم ہستی کے اشیاء سے تعلق رکھتا ہے اس لحاظ سے خدا کا علم ازلی ہے اس معنی میں کہ کون سی چیز اپنے کئی اوصاف کے ساتھ علت تامہ کی وجہ سے موجود ہے یہ بات معلوم رہے کہ خدا کا یہ علم بالواسطہ یعنی شکل و صورت کا علم نہیں ہے بلکہ ہر شئی اس کے سامنے حاضر ہے لہذا خدا کا علم حقائق ہستی پر اسی طرح محیط ہے جس واقع موجود ہوتا ہے یہ علم اس کا حضوری بالواقع عینی ہے ـ
دوسری طرف چونکہ مرتبئہ وجودی میں خدا زمان و مکان سے خالی ہے لہذا اس کا علم بھی اشیاء کے متعلق بغیر زمان کے ہے بلکہ ماضی، مستقبل، اور حال سب اس کے نزدیک حاضر ہے لیکن ہمارا علم موجودات زمانی اور قید زمانی میں حوادث اشیاء کے ساتھ تحقق پذیر ہوگا ماضی میں علم سے خالی تھے اور حال (آئندہ) اس سے مالامال ہوجائیں گے ـ
لہذا خدا کا علم اپنی مخلوقات پر اس معنی میں ہے کہ ـ حقائق اور حوادث جہاں ہر زمانے (ماضی٬ حال٬ مستقبل) میں بصورت یکجا اس کے نزدیک حاضر ہیں ـ
یہی وجہ ہے کہ حوادث عالم خدا کے علم میں تغییر نہیں لاسکتے ہیں یہ در واقع علم حضوری و عینی ہے یعنی خدا اپنی مخلوقات اور اشیاء کے بارے میں مکمل علم رکھتا ہے ـ اسی طرح اس کا علم انسان کے افعال اختیاری پر بھی محیط ہے کیونکہ اس کا یہ فعل جہان ہستی سے تعلق اور ایک مخلوق کی طرح ہے چونکہ اس جہان ہستی پر نظام علت و معلول کے حاکم ہونے کی بناء پر علت تامہ کے تحت تاثیر قرار پائے گا، علت تامہ کے اجزاء میں سے ایک جزء ارادة انسانی ہے چونکہ خداکا علم قضا و قدر اور انسان کے افعال اختیاری دونوں سے مربوط ہے لہذا جبر نہیں ہے ـ
یعنی خدا ازل سے انسان کے افعال و ارادے سے باخبر تھا کہ اس سے یہ فعل صادر ہوگا ـ
جیسا کہ بیان ہوا کہ علم الہی جس طرح واقعیت پر محیط ہے اسی طرح عالم خارج پر بھی احاطئہ کامل رکھتا ہے اس لحاظ سے یہ علم (فعل اختیاری کا صادر ہونا علت کے ساتھ) واقع عینی کے تغییر کا باعث نہیں بنے گا ـ

ج) علم امام

امام علم بشری کے ساتھ ساتھ علم وہبی ولدنی (علم غیب) سے بھی بہرہ مند ہے یہ ہستیاں اپنے کمال سے اذن و الطاف الہی سے سرفراز ہوکر علم الہی کے سرچشمہ سے کسب فیض کرتی ہیں اور عالم کے سارے حقائق سے اچھی طرح واقعیت رکھتی ہیں، یعنی امام کا علم غیب ایک طرح سے علم الہی کا سرچشمہ ہے ـ
جیسا کہ علم الہی کے بارے میں یہ بیان گذرا کہ یہ علم عینی ہے اور معنی نہیں رکھتا ہے کہ حوادث عالم تغییر کا سبب بنے ـ علم غیب کی بنیاد پر حوادث جہان کے حقائق منجملہ خود امام کے افعال اختیاری علت معلوم اور واقع عینی واسطہ کے ہے ـ
پس امام علیہ السلام کا اپنے اختیار سے زہر آلود پھل کا کھانا یا مسجد کوفہ میں ضربت کھانا اسی طرح سے ہے جس طرح علم الہی حوادث عالم پر موثر نہیں ہوتا ہے، یہی علم امام کے پاس ہوتا ہے جس کی بنیاد پر علم بشری کے لحاظ سے افعال انجام دے ڈالتے ہیں ـ
چونکہ علم غیب تکلیف آور نہیں ہے لہذا اس سے سہارا نہیں لیتے ہیں کیونکہ وہ علم موجب تکلیف ہے جس کی بناء پر مکلف فعل انجام دے سکے ـ اس کے علاوہ جو لطف الہی اور اپنے کمال سے بلند مرتبہ پر پہونچا ہواور جس کا علم، علم الہی کا سر چشمہ ہو جس کی ذات مقام کمال میں فناء فی اللہ ہو وہ کب اپنے کو دیکھتا اور خود کو پسند کرتاہے ـ اس کی نظر میں صرف خدا رہتا ہے اور جو اس کی مشیت کو منظور ہوتا ہے وہی فعل انجام دیتا ہے جو قضا قدر الہی نظام، علت و معلول کی بنیاد پر حوادث ناگوار پیش آتے ہیں اس کو سر کرتا ہے نہ کہ مرضی الہی کے خلاف جاتا ہے وہی پسند کرتاہے جو معبود کو پسند ہے ـ
اسی لئے آئمہ نے تغییر حوادث اور اپنی شہادت کو ٹالنے کے لئے کوئی چارہ اندیشی نہیں کی کیونکہ رضاء الہی اور حب الہی کے معرکے کو سر کرنامنظور تھا ـ
جب آپ نے جواب چہارم ملاحظہ فرمالیا تو اب مذکورہ تینوں جوابات کی توجیہ یوں ہوسکتی ہے ـ

(۱) توجیہ جواب اول: آئمہ اطہار علیھم السلام علم معلولی کے مکلف تھے نہ کہ علم غیب کے، جب آپ نے علم غیب کی حقیقت معلوم کر لیا کہ امام کا علم غیب علم الہی کا حصہ ہے جو علم واقع عینی ہے اور حوادث عالم کے متغیر ہونے پر موثر نہیں ہے لہذا تکلیف آور نہیں ہے ـ

(۲) توجیہ جواب دوم: یہ جواب علم امام کی حقیقت واضح ہوجانے کے بعد میں سمجھ میں آجائے گا کیونکہ علم غیب شانی ہے نہ کہ فعلی، یعنی جب امام ارادہ کرے تب جاکر اس چیز کا علم پیدا ہوگا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آئمہ اطہار علیھم السلام علم شانی کے مالک تھے تو پھر انھوں نے اپنی شہادتوں کے سلسلے میں آگاہیاں معلوم کیون نہیں کیں، یہ بات متعدد روایات سے بھی ثابت ہے 6
اس کا مکمل جواب یہ ہے کہ امام کا اپنی شہادت کے بارے میں علم غیب علم الہی کی طرح سے تھا کہ جو حوادث عالم پر موثر نہیں ہوتا ہے اسی طرح تیسرے جواب کی بھی تاویل ہوسکتی ہے ـ

(۳) اگر ائمہ معصومین (ع) کی تکلیف کو سارے انسانوں سے جدامان لیا جائے تو یہ ہوگا کہ خدا نے دو طرح کی تکلیف و تشریع بھیجی ہے ایک پیغمبر و امام سے مربوط ہے دوسری بشریت سے یہ بات بالکل بے اساس اور واقعیت کے خلاف ہے کیونکہ تکالیف الہی انسان کے مصالح و مفاسد کو دیکھ کر بنائی گئی ہیں اور اس زمرے میں پیامبر و امام اور تمام افراد آتے ہیں، مگر چند حکم خاص کو چھوڑ کر جو صرف نبی اکرم (ص) سے مخصوص ہے یہ بات معتبر دلیل سے ثابت ہوئی ہے ـ
لیکن اگر آئمہ کا علم غیب شہادت کے متعلق علم الہی کا سرچشمہ فرض کرلیں تو ہمارے علم معمولی کے بنیاد پر اپنی جان کی حفاظت یا خطرے میں گرفتار ہونے سے بچانا ضروری نہیں ہے یہ بات اسی وقت سمجھ میں آئے گی جب علم الہی کی حقیقت معلوم ہوجائے جس کو چوتھے جواب میں پیش کیا جاچکا ہے کہ آئمہ علیھم السلام کا علم علوم بشری سے جدا ہوجائے گا، اعتبار سے بھی ان کی شہادت ہلاکت و خودکشی میں تبدیل نہیں ہوگی ـ
اس کے علاوہ آئمہ اطہار علیھم السلام کو کمالات اور بلند مرتبے پر پہونچنے کے لئے ان مصائب و آلام کا سامنا کرنا ضروری تھا ـ
قرآن کی آیت نے جو ہلاکت اور خودکشی سے منع کیا ہے اس کا اطلاق ان افراد پر نہیں ہے جو راہ خدا میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے یا اس کے دین کی حفاظت میں میں مارے گئے یہ اقدام نہ خوکشی ہے اور نہ ہی ہلاکت بلکہ عین وظیفہ ہے ـ
آپ کی نظر میں جو شخص اپنی جان پر کھیل کر ملک اور اس میں رہنے والوں کی حفاظت کررہا ہے آیا اس کا یہ فعل خود کشی ہے ؟
واضح ہے کہ جواب منفی ہے ـ
اگر کوئی شخص رضاء الہی اور دین خدا کی حفاظت کے خاطر اپنی جان کی بازی لگارہا ہے یہ شہادت ہے جو علامہ طباطبائی نے فرمایا ہے ـ اگر تفصیل چاہتے ہیں تو درج ذیل کی کتابوں کی طرف رجوع کریں ـ
- المیزان ج۸، ص۱۹۲، ج۱۳، ص ۷۴ ـ ۷۲، ج۱۹، ص۹۲، ج۱۲، ص ۱۴۴، ج۴، ص ۲۸ ـ
- معنویت تشیع مغمون علم امام ص ۲۱۵ ـ
- علامہ طباطبائی کے حضور میں، ص ۱۲۱، محمد حسین رشاد ـ



۱. معارف دین ج۱٬ ص ۱۲۱ ـ آیت اللہ صافی ـ
۲. اصول کافی ج۱، باب ان الائمة علیھم السلام یعلمون علم ماکان و یکون .... اور بحار الانوار ج۱۶، باب ۱۴ ـ
۳. اصول کافی ج۱، باب ان الائمة اذاشائواان یعلموا علمو ا ـ اور بحار الانوار ج۲۶، ص ۵۶، رویات ۱۱۷ ـ ۱۱۶ ـ
۴. علم امام ص ۷۳، محمد رضا مظفر، مقدمہ علی شیروانی، غور طلب بات تو یہ ہے کہ علامہ مظفر نے اس جواب کو احتمال کے طور پر ذکر تو کیا ہے مگر اس کو قبول نہیں کیا ـ
۵. علامہ طباطبائی نے المیزان ج۱۷، ص ۹۴ پر اس کو ایک قول کے عنوان سے نقل کیا ہے
۶. اصول کافی ج۱ ص۲۵۸ احادیث ۸ـ۱ ـ





تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
8+2 =