پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

جب ملائکہ زمان و مکان سے خالی ہیں تو پھر شب قدر میں کیسے نازل ہوتے ہیں ؟


الفاظ معنی خاص کے لئے وضع ہوئے ہیں نہ کہ مخصوص خصوصیات اور خاص معنی کے لئے " نزول " کے معنی کسی چیز کا بلندی سے پستی کی طرف آنا ہے چاہے یہ چیز مادی (جیسے بارش) ہو یا معنوی (جیسے فرشتے) یا طبیعی طور پر وہ شئی بلند ہو 1
قرآن مجید کے متعلق متعدد مقامات پر لفظ نزول یا اس کے مشتقات استعمال ہوا ہے ـ اس سے واضح ہے کہ یہاں پر قرآن کا بلندی سے پستی کی طرف آنا مراد نہیں ہے بلکہ معنوی نزول ہے کہ خداوند عالم نے اس کو پیغمبر اکرم (ص) کے قلب نازنین پر نازل کیا ہے ـ
لیکن فرشتے جو جسم و جسمانیت سے عاری اور زمان و مکان سے مبرہ ہیں یہ انسان کامل اور اولیاء اعظم کی عظمت و منزلت ہے جو ان کو کھنچ لیتی ہے
شب قدر کے مختلف مراتب ہیں، ہم اس عالم طبیعت و مادی میں جو کچھ شب قدر کے بارے میں جانتے ہیں یہ عالم بالا و معنوی کا پر تو ہے ـ یہ عالم طبیعت میں شہروں کے اختلاف انق کے لحاظ سے متعدد ہوئی ہے لیکن انسان کامل کے قلب پر جو شب قدر منکشف ہوتی ہے وہ ایک سے زیادہ نہیں ہے اور فرشتے جو ایک انسان کا مل کے قلب پر نازل ہوتے ہیں یہ نزول معنوی ہے نہ کہ مادی کہ کسی زمانے سے منطبق کیا جائے ـ اس کے علاوہ فرشتے مخلوق مجرد ہونے کے باوجود بحکم خدا شکل انسانی اور لباس بشریت میں آسکتے ہیں اور زمان و مکان میں سماسکتے ہیں ـ
جس طرح روح القدس فرشتہ حضرت مریم (س) کے پاس آیا تھا اسی طرح عالم طبیعت اور شب قدر میں ان کا آنا امکان پذیر ہے اس سے بڑھ کر خود قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ ـ
فرشتے ثابت قدم مومنین پر پیغام لیکر نازل ہوتے ہیں اور ان کو بشارت دیتے ہیں 2
اوریہ فرشتوں کے مجرد ہونے کے منافی نہیں ہے ـ



۱. التحقیق فی کلیات القرآن الکریم ج۱۲، ص ۸۹ ـ ۸۷، حسن مصطفوی ـ
۲. فصلت آیت ۳۰ ـ



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
1+9 =