پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

رجعت کیا ہے ؟


شیعوں کے اعتقاد ات میں سے ایک رجعت ہے جس پر مخالفین نے ہر دور میں اعتراض کیا لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ بجاۓ اس پر غور و فکر کرنے کے شیعوں کا مزاق اڑایا گیا ۔

رجعت کے لغوی و اصطلاحی معنی

لغت کی کتابوں میں اس کے کئ معنی بیان کۓ گۓ ہیں جن میں ایک یہ ہے: اس جگہ پلٹایا جانا جہاں سے آغاز ہوا تھا 1 اسی لۓ فارسی میں اس کو باز گشت کہتے ہیں ۔
اگر رجعت کی ساری تعریفوں کا خلاصہ کیا جاۓ تو سب سے اچھی تعریف یہ ہوگی کہ ۔
قیامت سے پہلے حکومت امام زمانہ (عج) میں مومن محض اور کا فر محض کے ایک گروہ کو ان کے مرنے کے بعد اس دنیا کی طرف پلٹایا جانا ۔ 2
اس سے یہ بات واضح ہے کہ سارے انبیاء اور آئمہ اطہار علیھم السلام اشرف مومن ہونے کی وجہ سے رجعت کرینگے ۔
اس سلسلے میں شیعہ عالم علامہ مظفر کہتے ہیں ۔
شیعوں کا یہ عقیدہ آئمہ اطہار علیہم السلام کی تاسی میں یہ ہے:
رجعت کے دن خدا کچھ لوگوں کو اسی شکل و صورت میں زندہ کرے گا جیسی اس دنیا میں تھی ان میں سے بعض کو عزت دے گا اور بعض کو ذلیل کرے گا اور حق پرستوں کے حقوق کو باطل پرستوں سے لے گا یہ اسی وقت وجود میں آۓ گی جب آخری امام (ع) کا ظہور ہوگا اور جو لوگ ایمان کے بلند مرتبے پر فائز یا برائیوں میں بری طرح گھرے ہوں گے دوبارااٹھاۓ جائینگے 3

رجعت کیا ہے ؟

اس سلسلے میں علماء شیعہ نے جو کچھ آیات و روایات کی روشنی میں بتایا ہے وہ یہ ہے کہ رجعت اس عالم کو کہتے ہیں جو نہ اس دنیا جیسا ہے نہ ہی آخرت جیسا اور وہ عالم برزخ بھی نہیں ہے ۔
علامہ طباطبائی (رح) لکھتے ہیں ۔
رجعت قیامت صغری ہے اسی میں تمام برائیوں کا قلع قمع کیا جاۓ گا یہ زمانہ امام مہدی (ع) کے ظہور کے وقت وقوع پذیر ہوگا تا کہ آپ دنیا کی ساری برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھنکیں اسی لۓ اس کو قیامت کا مقدمہ کہا گیا ہے 4

عقیدہ رجعت

کچھ شیعہ علماء نے اس کو دین کا جز ء سمجھا ہے 5 تو کچھ نے اس سے انکار کیا ہے 6 درانحالیکہ پہلے والے نظریہ کے اوپر ڈھیر ساری روایتیں موجود ہیں ۔

عقیدہ رجعت کا فائدہ

اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے جس طرح شیعہ حضرات ظہور امام(ع) کی دعا کرتے ہیں جو کہ ایک افضل عبادت ہے اس سے کہیں زیادہ حکومت امام زمان (ع) کے اسباب کی فراہمی ہوگی ۔
اس کے متعلق روایتوں میں آیا بھی ہے کہ جو لوگ امام زمانہ(عج) کی حکومت کے خواہاں یا ان کے دیدار کی زندگی میں دعا کرتے تھے وہ لوگ بھی ظہور امام(ع) کے وقت زندہ کۓ جائینگے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ ظہور امام(ع) کی دعا کرنا رجعت سے کم نہیں ہے ۔

رجعت کا ثبوت

شیعہ کے بزرگ علماء نے رجعت کو دلیل عقلی و نقلی دونوں سے ثابت کیا ہے جس کو مختصر طور پر پیش کررہا ہوں ۔

1۔ دلیل عقلی

جب عقل قیامت کو مانتی ہے تو اس سے بدرجہ اولی رجعت کو ماننا چاہیۓ کیونکہ جب عقلی لحاظ سے قیامت کے دن دوبارا زندہ ہونا محال نہیں ہے تو پھر یہ کیوں خلاف عقل ہوسکتی ورنہ ماننا پڑے گا کہ خدا کسی چیز پر قادر نہیں ہے ۔

2۔ قرآن

قرآن نے مختلف مقامات پر گذشتہ امتوں کو دوبارہ حیات دیۓ جانے کا تذکرہ کیا ہے جس سے صاف رجعت ثابت ہوتی ہے جن میں چند کو ذکر کررہا ہوں ۔

الف) قرآن مجید میں تین طریقوں سے دوبارا حیات پانے کا ذکر ہوا ہے ۔

1۔حضرت موسی علیہ السلام کے ستر اصحاب دوبارا زندہ ہوۓ جن کی داستان قرآن میں یوں آئی ہے کہ ۔جب بنی اسرائیل نے حضرت موسی سے یہ کہا کہ ہم لوگ اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لائینگے جب تک آپ کے خدا کو دیکھ نہ لینگے حضرت موسی ان لوگوں کو لیکر پہاڑ پر گۓ ایک بجلی کڑ کی اور یہ سارے کے سارے وہیں پر ڈھیر ہوگۓ ۔
خدا نے ان لوگوں کو دوبارا زندہ کیا اس کا تذکرہ قرآن میں یوں آیا ہے ۔
"وہ وقت بھی یاد کرو جب تم (بنی اسرائیل) نے موسی سے کہا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائینگے جب تک خدا کو علانیہ دیکھ نہ لیں جس کے بعد بجلی نے تم کو لے ڈالا اور تم دیکھتے ہی رہ گۓ پھر ہم نے تمہیں موت کےبعدزندہ کردیا کہ شاید اب شکر گذار بن جاؤ" 7
اس واقعہ کے بعد کسی کو رجعت کے سلسلے میں شک و شبہ ہوسکتا ہے ۔

2۔ بنی اسرائیل کے ایک مقتول کا دوبارا زندہ ہونا ۔
قرآن کریم نے اس کی داستان یوں بیان فرمائی ہے ۔
جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا اور اس کے قاتل کے بارے میں جھگڑا کرنے لگے جب کہ خدا اس راز کا وااضح کرنے والا ہے جسے تم چھپا رہے تھے تو ہم نےکہا کہ مقتول کو گاۓ کے ٹکڑے سے مس کردو خدا اسی طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے کہ شاید تمہیں عقل آجاۓ ۔ 8
بہت بعید ہے کہ کوئی اس واقعہ کے بعد رجعت کا منکر رہے ۔

3۔ ہزاروں کا زندہ ہونا ۔
اگر چہ خدا کے لۓ ایک آدمی کو یا ہزاروں کو زندہ کرنا بہت مشکل کام نہیں ہے لیکن اس نے اس آیت میں اس لۓ تعداد بتائی تا کہ لوگوں کو اس بات کا کامل یقین ہوجاۓ کہ وہ ایک ایک کو اچھی طرح جانتا تھا فرماتا ہے ۔
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکل پڑے موت کے خوف سےاو رخدا نے انھیں موت کا حکم دیدیا اور پھر زندہ کردیا کہ خدا لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکریہ نہیں اداکرتے ہیں ۔ 9
پیغمبر اسلام(ص) کی حدیث ہے ۔
جو کچھ گذشتہ امتوں میں گذرا ہے وہ ضرور ہماری امت میں ہوکررہے گا 10
اس حدیث سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ رجعت آخری زمانے میں ہو کر رہے گی ۔

ب) رجعت قرآن کے تناظر میں ۔

اس سلسلے میں قرآن مجید میں بہت ساری آیتیں ہیں لیکن ہم صرف ایک مورد کو ذکر کررہے ہیں خدا وند متعال سورہ نمل کی 83 آیت میں فرماتا ہے، اس دن ہم ہر امت میں سے فوج اکٹھا کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے اور پھر الگ الگ تقسیم کردیۓ جائیں گے۔
علامہ طباطبائی اس آیت کے ذیل میں کہتےہیں ۔
آیت کے ظاہر سے معلوم ہورہا ہے کہ اس دن کا حشر قیامت کے علاوہ ایک اور حشر ہے کیونکہ قیامت کے دن حشر ہر امت کے ایک گروہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس دن ساری امتیں محشور ہوں گی ۔
اور قرآن کے اس حکم"وحشرنا فلم نغادر منھم احد ا"کے مطابق ایک آدمی بھی اس سے مستثنی نہیں ہوگا ۔
درانحالیکہ سورہ نمل کی آیت میں یہ فرمایا کہ ہم ہر گروہ سے کچھ لوگوں کو اکٹھا کریں گے ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے علاوہ ایک اور حشر ہے ۔
دوسرے یہ کہ قیامت کے حشر میں ساری مخلوقات کا ذکر کیا ہے اس میں کہا ہے"نفخ فی ا لصور"جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ قیامت کا حشر ہے ۔ 11
آیئہ نمل کے ذیل میں بہت ساری اہلبیت علیھم السلام کی حدیثیں ہیں جن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ رجعت کا زمانہ امام مہدی (عج) کے حکومت ہی کا زمانہ ہے ۔ 12

رجعت حدیث کی روشنی میں

اس سلسلے میں دو طرح کی روایتیں کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ایک وہ ہیں جن میں گذشتہ امتوں سے متعلق رجعت کی نشاندہی ہوئی ہے اور وہ رجعت سے متعلق آیات کے ذیل میں بیان ہوئی ہیں، دوسری وہ حدیثیں ہیں جن میں رجعت کے آخری زمانے میں اور قیامت سے پہلے ہونے کی طرف اشارہ ہے اس طرح کی روایتیں ان روایتوں کے علاوہ ہیں جو رجعت سے متعلق آیات کے ذیل میں بیان ہوئی ہیں مثلا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
"ایام اللہ عزوجل ثلاثۃ یوم یقوم قائم ویوم الکرۃ ویوم القیامۃ " 13
ایام خدا تین ہیں ۔
1۔جس دن آخری امام(ع) ظہور فرمائینگے ۔
2۔رجعت کا دن ۔
3۔قیامت کا دن ۔
اس کے علاوہ رجعت کے متعلق زیارتوں اور دعاؤں میں بھی تذکرہ ہوا ہے ۔

رجعت کے بارے میں علماء شیعہ کا نظریہ

علمائ اس بات پر متفق ہیں کہ رجعت ضرور واقع ہوگی عقلی اور نقلی دلیلوں کے علاوہ شیعہ عالم امین الاسلام طبرسی (رح)کتاب مجمع البیان میں سورہ نمل کی آیت 83 کے ذیل میں لکھتے ہیں ۔
رجعت (صرف) روایات سے ثابت نہیں ہوئی ہے کہ جن کی تاویل کی جاسکے بلکہ اس پر علماء شیعہ کا اتفاق بھی ہے ۔ 14
زندہ کۓ جانے والے لوگ
اکثر روایتیں یہ کہتی ہیں کہ مومن و کافر دونوں دوبارہ اٹھاۓ جائیں گے لیکن بعض روایتوں نے صرف خاص افراد کو زندہ کۓ جانے کی تصدیق کی ہے جن میں یہ ذوات مقدسہ ہیں ۔
1۔ امام حسین علیہ السلام ۔ 15
2۔ حضرت علی علیہ السلام کئ مرتبہ زندہ ہونگے ۔ 16
3۔ ائمہ اطہار علیھم السلام کے ہمراہ ان کے اصحاب ۔ 17
4۔ بعض روایت کے مطابق سارے انبیاء ۔ 18
5۔ پیغمبر اسلام (ص) اور اہلبیت علیھم السلام ۔ 19
6۔ بعض روایت کے مطابق بعض منافق و کافر بھی زندہ ہونگے ۔ 20

رجعت کی مدت

روایتوں سے جو معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ظہور مہدی (ع) سے لیکر قیامت کے بیچ کا دور رجعت کا زمانہ ہے ۔
زندہ ہونے والوں کے وظائف
کیا جو لوگ زندہ کۓ جائیں گے وہ تکالیف شرعی کے حامل ہونگے ؟
اس سلسلے میں دو طرح کی روایتیں پائی جاتی ہیں ۔
ایک کہتی ہیں کہ صرف حکومت امام زمانہ (عج) کو دیکھنے اور عدالت سے بھری دنیا سے لذت اٹھانے کے لۓ زندہ کۓ جائیں گے
دوسری کہتی ہیں کہ امام آخر الزمان (عج) کی مدد کرنے کے لۓ زندہ کۓ جائیں گے ۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس صورت میں لوگ تکالیف شرعی کے ذمہ دار ہوں گے اور اسکا صلہ پائیں گے ۔
روایتوں میں جو فلسفہ رجعت بیان ہوا ہے ان میں یہ ہے کہ ۔۔
1۔حکومت عدل کے منتظرین کا اس کے قیام سے محفوظ ہونا ۔
2۔کافروں اور منافقوں کو اس حکومت کو دیکھا کرجلانا بھنانا ۔



1. معجم المقابیس اللغۃ مولف ابن فارس ۔مفردات الفاظ القرآن مولف راغب اصفہانی لسان العرب مولف ابن منظور، المصباح المنیر مولف فیومی - فروع اللغات مولف جزائری ۔
2. اوائل المقالات فی المذاہب و المختارات ج4، ص77، مولف شیخ مفید (رح)، جوابات المسائل التبانیات ج1، ص125، مولف سید مرتضی (رح) - الایقاظ من الرجعۃ ص ٢٩، مولف حر عاملی (رح)
3. عقائد امامیہ ص294، مولف محمد رضا٬مظفر٬ مترجم علی رضا مسجد جامعی، مطبوعہ وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی ۔
4. تفسیر المیزان ج2، ص109 ۔
5. رسالۃ العقائدیہ الجعفریہ ص250، مولف شیخ طوسی (رح) - الایقاظ ص67، مولف حرعاملی (رح) - مجمع البحرین٬ مولف فخر الدین طریحی اسدی۔
6. الہیات علی ھدی الکتاب والسنۃ والعقل ج2، ص289، مولف جعفر سبحانی ۔
7. بقرہ آیت نمبر 56۔55۔
8. بقرہ آیت نمبر 73۔72۔
9. بقرہ آیت نمبر 243۔
10. الصوارم المھرقہ ص67، مولف قاضی نوراللہ شوستری (رح) مطبوعہ نہضت سنہ 1368 شمسی
11. تفسیر المیزان ج15، ص570 ۔
12. تفسیر قمی ج2، ص36۔
13. خصائص ص108۔مولف شیخ صدوق (رح) مطبوعہ مکتبہ صدوق ۔
14. مجمع البیان ج8۔7 ص367۔
15. تفسیر عیاشی ج2، ص282، مولف محمد بن مسعود عیاشی ۔ کافی ج8، ص، مولف محمد بن یعقوب کلینی (رح)
16. بحار الانوار ج53، ص46۔47، مولف علامہ مجلسی (رح) - کافی ج1، ص197۔
17. دلائل الامامۃ ص284، مولف جریر طبرسی ۔ اختیار معرفۃ الرجال ص 217، مولف محمد بن حسن علی طوسی (رح)- مصباح الشریعہ ص63۔
18. تفسیر قمی ج 1، ص10۔6 ۔ تفسیر عیاشی ج1، ص181۔
19. بحار الانوار ج53، ص15۔
20. بحار الانوار ج53، ص39۔





تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
9+5 =