پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

قرآن کی اکثر آیات منجملہ سورہ رحمن کی یہ آیت


علم قرآن کے ماہرین نے قرآن کے خطاب کو دو حصے میں تقسیم کیا ہے ـ

(۱) عورت یا مرد سے خاص خطاب جیسے ـ
"والوالدات یرضعن اولادھن" ۱ یا "وکتب علیکم القتال" ۲

(۲) مشترک خطاب جیسے ـ
"ان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ما طاب لکم من الناس مثنی و ثلاث ورباع فان خفتم الا تعدلوا فواحدة او ما ملکت ایمانکم ذالک ادنی الا تعدلوا و آتوا النساء صدقاقھن نحلة فان طبن لکم عن شئی منہ نفسا فکلوہ ھینئا مریئا" ۳
اگر یتیموں کے باے میں انصاف نہ کرسکنے کا خطرہ ہے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہیں دو، تین٬ چار ان سے نکاح کرلو اور اگر ان میں بھی انصاف نہ کرسکنے کا خطرہے تو صرف ایک .... یا جو کنیزیں تمہارے ہاتھ کی ملکیت ہیں، یہ بات انصاف سے تجاوز نہ کرنے سے قریب تر ہے عورتوں کو ان کا مہر عطا کردو پھر اگر وہ خوشی خوشی تمہیں دینا چاہیں تو شوق سے کھالو ـ
"ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض للرجال نصیب مما اکتسبوا او للنساء نصیب مما کتسبن و اسئلوا اللہ من فضلہ ان اللہ کان بکل شئی علیما" ۴
اور خبردار جو خدا نے بعض افراد بعض سے کچھ زیادہ دیا ہے اس کی تمنا اور آرزو نہ کرنا مردوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے اور عورتوں کے لئے وہ حصہ ہے جوانھوں نے حاصل کیا ہے اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو کہ وہ بے شک ہرشئی کا جاننے والا ہے ـ
قرآن میں مشترک خطاب دو طرح کے ہیں ـ
کبھی بعنوان عام ان الفاظ "ناس" "انسان " اور " من " سے انسانوں کو خطاب کیا ہے جیسے " یا ایھاالناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم والذی من قبلکم لعلکم تتقون " ۵
اور " یا ایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدة وخلق منھا زوجھا و بث منھا رجالاً کثیراً ونساء واتقوا اللہ الذی تسائلون بہ والارحام ان اللہ کان علیکم رقیباً " ۶ ہے تو کبھی لفظ مذکر استعمال کیا ہے مگر مرد عورت دونوں مخاطب ہیں جیے ـ
"یا ایھا الذین آمنوا" ۷ "یا ایھاالذین اوتوا الکتاب" ۸ اور "لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة" ۹ ہے ـ
اس خطاب میں چند باتیں قابل غور ہیں ـ

(۱) قرآن نے مرد و زن دونوں کو برابر سے خطاب کیا ہے گرچہ صیغہ مذکر کا استعمال ہواہے لیکن یہ قاعدہ ادبی " تغلیب " کے لحاظ سے ہے جو زبان عرب میں دونوں پر بولا جاتا ہے کیونکہ اس قاعدہ کا واحد ہدف مرد وعورت کو ایک جگہ جمع کرنا ہے لہذا " یا ایھا الذین آمنوا " دونوں پر شامل ہورہا ہے ـ
یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی مفسر یا ماہر ادبیات نے یہ نہیں کہا ہے کہ قرآن کا خطاب صرف مردوں سے مخصوص ہے ـ

(۲) اس طرح کے خطاب انسان کے درمیان رائج ہے اور یہ چیز قرآن سے مخصوص نہیں ہے خاص طور پر قانون بناتے وقت الفاظ وضمائر مذکر استعمال کئے جاتے ہیں مگر مراد سبھی ہوتے ہیں ـ

(۳) عورتوں سے قرآن کا خطاب ان کی حرمت و عزت کا پاس و لحاظ دیکھکرہوا ہے یہ چیز عام بھی کہ جو مودب اور باعفت ہوتا ہے اس سے اسی طرح سے کلام کیا جاتاہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مردوں کے لئے اس چیز کا خیال نہیں رکھا گیا ہے بلکہ سب کو حسب مراتب محترم جانا گیا ہے ـ
حور کے لغوی معنی: حالت سابق سے نکل کر جدید حالت میں آجانا ہے ۱۰
حالت جدید کے متعلق مفسرین کے درمیان دو نظریے ہیں ـ
علامہ طباطبائی (رح) جیسے ایک گروہ اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن نے جو حورکے اوصاف بیان کئے ہیں اس پر غور وفکر کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جدید حالت زنانہ اوصاف ہیں نہ کہ مردانہ لہذا واضح ہوتا ہے کہ حور سے مراد عورت کا ایک گروہ ہے نہ کہ مرد کا ۱۱
مومنہ عورتوں کو جنت میں کیا جزا ملے گی اس سلسلے میں کلامی اور روائی کتابوں میں یوں آیاہے کہ قیامت کے دن اگر زن مومنہ کا شوہر جتنی ہوگا تو وہ اپنے شوہر کی زوجیت میں رہ سکتی ہے اگر جہنمی بن گیا تو اس کو اختیار ہے کہ کسی جنتی افراد میں سے ایک کو اپناشوہر بنائے ـ
شاید اس کا فلسفہ یہ ہوکہ ـ مرد کی طبیعت میں تعدد پزیری ہے لہذا انتخاب کا حق عورت کو دیا ـ
آیہ اللہ مکارم شیرازی جیسے دوسراگروہ اس بات کے قائل ہیں کہ حور کا اطلاق مذکر "غلمان"پر ہوسکتا ہے اس نظریہ کی بنیاد پر شاید علت یہ ہو کہ قرآن نے جواوصاف حوربیان کئے ہیں یہ دلالت کررہے ہیں عورت پر نہ کہ مرد پر، چونکہ ان آیات میں گفتگو مومن مردوں سے ہورہی ہے نہ کہ مومن کی بیویون سے لہذا اس اسلوب کی بناء پر اقتضاء یہ ہے کہ ان اوصاف کو غلمان پر منطبق کیا جائے، بعض آیات و روایات کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں صرف مرد ہی جنسی خواہشات سے لطف اندوز نہیں ہوں گے بلکہ عورتیں بھی پسنددیدہ شوہر کی مالک ہوں گی ـ
اصطلاح "حور" صرف عورتوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ مذکر (غلمان ) سے بھی ہے یہ دونوں جنت میں موجود ہیں جس کی تصدیق امیرالمومنین علیہ السلام کی ایک روایت سے ہوتی ہے کہ فرمایا ـ
جنت میں ایک ایسا بازار ہے جس میں خرید و فروش کا کوئی سوال نہیں ہے بلکہ اس میں صرف مرد و عورت کی تصویریں ہیں جو جس کو پسند آجائے گی وہ اس کو لے لیگا ـ ۱۲
جنت میں کشادہ چشم حوریں بھی ہوں گی کہ بہشتی نعمتوں سے ہیں جو دنیا میں نہیں تھیں اور اسی طرح دنیا کی عورتیں (جو جنتی ہوں گی) حوروں کے درمیان اتنی خوبصورت اور کھلیں گی کہ اگر یہ چاہیں گی تو اپنے شوہر سے ملحق ہوسکتی ہیں ورنہ جس طرح سے چاہیں عمل کریں گی ـ



۱. بقرہ آیت ۲۳۲ ـ
۲. بقرہ آیت ۲۱۶ ـ
۳. نساء آیت ۴ـ ۳ ـ
۴. نساء آیت ۳۲ ـ
۵. بقرہ آیت ۲۱ ـ
۶. نساء آیت ۱ ـ
۷. نساء آیت ۱۳۶ ـ
۸. نساء آیت ۴۷ ـ
۹. احزاب آیت ۲۱ ـ
۱۰. التحقیق فی کلمات القرآن، ج۲، ص۳۳۵، حسن مصطفوی ـ
۱۱. تفسیر المیزان، ج۱۸ ص ۲۴ اور ج۱۹، ص ۲۴۷ ـ۲۲۳، علامہ طباطبائی (رح ) مترجم موسوی ہمدانی ـ
۱۲. بحار الانوار، ج۱، ص ۱۴۸ ـ علامہ مجلسی (رح) ـ





تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
10+1 =