پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

کیا قرآن مجید میں سارے علوم بشری پائے جاتے ہیں ؟


اس سلسلے میں تین اہم نظریے پائے جاتے ہیں جن کو اختصار کے ساتھ پیش کررہاہوں اور ان کی دلیلوں کی بھی چھان بین کروں گا ـ

۱) پہلا نظریہ

قرآن میں تمام علوم بشری ذکر ہوئے ہیں، سب سے پہلے اس نظریہ کو ابو حامد غزالی متوفی سنہ ھ ۵۰۵ نے کتاب " احیاء العلوم " اور " جواہر القرآن " میں پیش کیا ہے
انھوں نے حتی الامکان ان علوم کو قرآن سے استخراج بھی کیا ہے وہ لکھتے ہیں ـ
(پس سارے علوم بشری خدا کے افعال و صفات میں داخل ہیں اور خدانے قرآن مین ان صفات و افعال کو بیان کیا ہے چونکہ یہ علوم بحر بیکراں ہیں لہذا قرآن نے ان کے اصول و کلیات کی طرف اشارہ کردیا ہے 1
پھر ابوالفضل مرسی (سنہ ۶۵۵ ـ۵۷۰ ) نے کہ جو صاحب تفسیر بھی ہیں اس نظر یہ کو شدت کے ساتھ قبول کیاہے اور وہ لکھتے ہیں ـ
قرآن میں علم اول سے لیکر آخر تک سب کچھ موجود ہے 2
ان کے بعد جلال الدین سیوطی (متوفی سنہ ۷۶۴ ھ )نے کتاب "البرہان" میں اس نظریہ کو قبول کیا ہے 3
ان کے بعد جلال الدین سیوطی (متوفی سنہ ھ۹۱۱ )نے کتاب " الاتقان فی علوم القرآن " اور ( اکالیل فی استنباط التنزیل ) میں غزالی اور مرسی کے نظریے کو قبول کرکے اس کو مضبوط بنایا ہے 4
اور مرحوم فیض کاشانی (متوفی سنہ ۱۰۹۱)نے تفسیر "صافی " کے مقدمہ مین اس نظریہ کو کچھ خاص علوم کے ساتھ قبول کیا ہے 5
دور حاضر کی علمی ترقیوں کی وجہ سے یہ نظریہ مستحکم ہوا اور طنطاوی جوہری (متوفی سنہ ۱۸۶۸ ھ)جیسے نے اپنی تفسیر " الجوہر القرآن فی تفسیر القرآن " میں بہت سارے علوم جدید کو قرآن کی طرف نسبت دی ہے ـ
اس نظریہ کا نیارخ سال گذشتہ ( ۱۳۷۵ شمسی)میں ایک رضا نیاز مند نامی شخص نے دیا ہے، وہ مضمون میں لکھتا ہے ـ
" اگر کوئی شخص قرآن پر ایمان رکھتا ہے تو اس کو ماننا پڑے گا کہ اس کے مطالب سارے علوم کلیات پر منطبق ہورہے ہیں اور اس میں کی ہر چیز کی تفصیل علم " دانش پر رکھی گئی ہے 6
پہلے نظریے کی دلیلیں:
(۱) بظاہر قرآن کی بعض آیات اس بات پر دلالت کررہی ہیں کہ قرآن میں ساری چیز پائی جاتی ہیں جیسے ـ
" نزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شئی" 7
ہم نے تمہارے (رسول) کے اوپر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کو بیان کردیا ہے ـ
(۲) آیات نے مختلف علوم کی طرف اشارہ کیا ہے جیسے یہی آیت جس میں علم ریاضی کو بیان کیا ہے " کفی بنا حاسبین " 8
اور حروف ابجد کے اعتبار سے ہندسہ کا دائرہ ۳۶۰ ڈگری کا اس آیت سے معلوم پڑتا ہے ـ
" رفیع الدرجات " 9
اور ڈاکٹری کا علم اس آیت "و ذا مرضت فھو یشفین "10 معلوم ہوتا ہے
(۳) رو ایتیں دلالت کررہی ہیں کہ سارے علوم قرآن مجید میں موجود ہیں جیسے یہی روایت جس میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ـ
" ان اللہ تبارک و تعالی لم یدع شیئا تحتاح الیہ امة الا نزلہ فی کتابہ و بینہ لرسولہ 11
بے شک خدا وند عالم نے اپنے رسول اور قرآن مجید میں انہی چیزوں کو بیان کیا ہے جس کی ضرورت مسلمانوں کو پڑنی ہے ـ
(۴) دوسری دلیل قرآن میں سارے علوم کے پائے جانے کی اس کا بطن ہے کہ متعدد رو ایتوں میں مذکور ہے کہ قرآن مختلف بطون کا مالک ہے 12
غزالی کتاب " احیاء العلوم " میں اسی مطلب کو پیش کرتے ہیں اور قرآن کے علوم کی تعداد ۷۷ ہزار دو سو ذکر کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں یہ تعداد چار گنی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ ہر لفظ ظاہر وباطن کے ساتھ ساتھ حدو مطلع بھی رکھتے ہیں 13
ہم ان دلیلوں کی چھان پٹک اس وقت کریں گے جب دوسرے اور تیسرے نظرئیے کی دلیلوں کو بیان کر لینگے ـ

۲) دوسرا نظریہ

قرآن صرف ایک کتاب ہدایت و دین ہے اور یہ کتاب سائنس کے مسائل کو بیان کرنے کے لئے نہیں آئی ہے ـ
یہ نظریہ بعض مفسریں اور دانشوروں کی آراء سے معلوم ہوتا ہے ـ
مثال کے طور پر ابو اسحاق شاطبی (متوفی سنہ ۷۹۰ ھ)نے سب سے پہلے مخالفت غزالی اور مرسی کے نظرئیے کی ہے وہ کہتے ہیں :
"قرآن آخرت اس کے متعلق مسائل کے بیان کرنے کےلئے آیا ہے 14
صاحبان مفسرین " مجمع البیان " اور " کشاف" بھی لکھتے ہیں کہ ـ
" قرآن میں جو ساری چیزیں بیان ہوئی ہیں وہ صرف ہدایت اور دین کے مسائل سے مربوط ہیں 15
تنبیہ
(۱) اس نظرئیے کی دلیلیں تیسرے نظریے کے ساتھ بیان ہوں گی ـ
(۲) ان علماء کے آراء کی توجیہ وتاویل ہوسکتی ہے اور ان کے نظریات ہوں سکتے ہیںکہ تیسرے والے سے ٹکڑا جائیں ورنہ ان کی باتیں قرآنی آیات کے ظواہر کے خلاف ہیں کیونکہ قران میں حدود، قوانین میراث، جنگی دستور، حکومتی قانوں، اقتصاد اور ـــــــــ کے احکام بیان ہوئے ہیں کہ جو لوگوں کے دنیاوی امور سے مربوط ہیں 16

۳) تیسرا نظریہ

نظریئہ تفصیل: یعنی بظاہر قرآن میں تمام علوم بشری نہیں پائے جاتے ہیں اور اس کا ہدف اصلی لوگوں کو ہدایت کرکے خدا کی بارگاہ میں سر خرو کرانا ہے دوسری طرف قرآن مجید تفکر، اور علم کی طرف دعوت دے رہا ہے اور بعض مثالیں، علمی مطالب، اور حقیقت کی صحیح نشاندہی کررہی ہیں کہ جو قرآن کے علمی اعجاز کی دلیل ہے ـ
اس نظرئیے کی دلیلوں کو پہلے والے نظریہ کے کے دلائل کے ساتھ یوں خلاصہ کیا جاسکتا ہے ـ
(۱) قرآن ہداہت، اخلاق، تربیت، اور دین کی کتاب ہے اور یہ اس لئے آئی ہے تا کہ انسانوں کو منزل معراج اور خدا کی معرفت کرائے ـ
لہذا اس کتاب میں عقلی و نقلی دونوں اعتبار سے اس بات کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے کہ قرآن میں سارے علوم کی تفصیل اور ان کے فارمولے بیان کئے جائیں درانحالیکہ بسا اوقات اس کے اشارے حق و حقیقت سے نزدیک تر ہیں ـ
اس مطلب کی تائید قدیم مفسرین 17 اور دور حاضر کے مفکروں نے کی ہے 18
(۲) آیت نے جو یہ کہا ہے کہ (ہر چیز قرآن میں ہے) اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ہے ـ کیونکہ؛
(۱) یہ ظاہر کے خلاف ہے کیونکہ قرآن میں بہت سارے کمیسٹری اور فیزیک کے فارمولے نہیں آئے ہیں ـ
(۲) بعض مفسرین نے اس آیت کے ظاہر سے صریحی طور پر انکار کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ساری چیز سے مطلب یہ ہے کہ ـ
انسان کی ہدایت کے سلسلے میں جتنی چیزیں ضروری ہیں وہ سب کی سب قرآن میں پائی جاتی ہیں 19
(۳) اس آیت " نزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شئی " 20 میں جو لفظ کتاب ہے ممکن ہے چند معنی قرآن کریم، لوح محفوظ، موت، علم خدا، امام بنیں ہو 21
پس نہیں کہا جاسکتا ہے کہ مراد قرآن ہی ہو اور ہر چیز اس میں ہو ـ
اور یہی اعتراض ان روایات کے اوپر بھی وارد ہوتا ہے جو بیان کی گئیں ـ
(۴) یہ آیتیں دلیل عقلی سے مخصوص اور محدود ہورہی ہیں کیونکہ عقل انسانی اقتضاء کر رہی ہے کہ قرآن جس مقصد ( ہدایت انسان ) کے تحت نازل ہوا ہے اسی کو بیان کرے نہ کہ دوسری چیزوں کو ـ
(۳) قرآن کی ایک آیت سے جو علوم طبیعی کی طرف اشارہ کررہی ہے اس سے کمیسٹری اور ریاضی کے فارمولے بتانا منظور نہیں ہے بلکہ یہ اشارہ ضمنی طور پر پیش ہوا ہے یعنی صرف مثال کے طور پر ( البتہ واقعیت و حقیقت) ہے اور اس کا ہدف علوم کو سیکھانا نہیں ہے اس کے علاوہ بعض آیات جو پہلے نظریے کے لوگوں نے مقام استدلال میں پیش کیا ہے تفسیری موازین کے لحاظ سے تنقید کے قابل ہے جیسے یہی آیت " رفیع الدرجات " دارئرہ ہندسہ سے ربط نہیں رکھتی ہے اور آیات کا بغیر قرینہ عقلی و نقلی کے کسی ایک مطلب پر حمل کرنا تفسیر بالرای کے مترادف ہے ـ
(۴) بطون قرآن اور آئمہ معصومین علیھم السلام کے علم کا مسئلہ ہماری بحث سے خارج ہے کیونکہ اس بحث کا محور یہ ہے کہ آیا سارے علوم بشری کو قرآن کے ظواہر سے استخراج کرسکتے ہیں یا نہیں ؟

خلاصہ اور نتیجہ

جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کی ظاہری آیات سارے علوم بشری (تمام جزئیات اور فارمولے) پر دلالت نہیں کرتی ہیں ـ
ہاں: قرآن میں بعض علوم اور مطالب علمی کی طرف اشارہ ہوا ہے جو ضمنی طور پر بیان ہیں لیکن سارے علوم قرآن میں فی الحال مذکور نہیں ہیں اور اس سلسلے میں یہ آیتیں (سورہ نحل کی ۸۹ آیت اور ۳۸، سورہ انعام کی آیت ۵۹ ) دلالت کررہی ہیں کہ قرآن میں انسان کے دینی اور ہدایتی امور تفصیل یا اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں 22



۱. احیاء العلوم ج۱، ص۲۸۹، مطبوعہ، بیروت دارالمعرفةـ
۲. التفسیر والمفسرون ج۲، ص ۴۸۲ـ ۴۷۸ ـ
۳. البرہان فی علوم القرآن ج۲، ۱۸۱ مطبوعہ، بیروت دارالمعرفة
۴. اکلیل فی اسنباط التنزیل ص۲، الاتقان ج۲، ص ۲۸۲ ـ ۲۷۱ مطبوعہ بیروت ـ
۵. تفسیر صافی ج۱ ص۵۷ ـ
۶. رسالہ بینات سال سوم شمارہ ۱۰ ص۲۱ ـ ۱۳۷۵ شمسی ـ
۷. نحل آیت ۸۹ ـ
۸. انبیاء آیت ۴۷ ـ
۹. غافر آیت ۱۵ ـ
۱۰. شعراء آیت ۸۰ ـ
۱۱. تفسیر نور الثقلین ج۲ص۷۴ ـ
۱۲. بحار الانوار ج۹۲ ص۹۵ ـ
۱۳. احیاءالعلوم ج۱، ص۲۸۹ ـ
۱۴. المواقفات ج۲، ص۷۹ ـ۷۶ ـ نقل از تفسیر وا لمفسرون ج۲، ص ۴۸۵ ـ
۱۵. مجمع البیان ج۴٬ ص ۲۸۹ ـ طبرسی (رح) اور کشاف ج۲، ص ۶۲۶، زمخشری ـ
۱۶. آیات الا حکام اس کتاب میں تقریباً پانچ سو آتیں حدود کے متعلق ذکر ہوئی ہیں ـ
۱۷. مججع البیان ج۳، ص ۲۹۸ اور کشاف ج۲، ص ۶۲۸ ـ
۱۸. المیزان ج۱۴، ص ۳۲۵، اور معارف قرآن ص ۲۲۹، مصباح یزدی، اور تفسیر نمونہ ج۱۱، ص۳۶۲ ـ۳۶۱ ـ
۱۹. تفسیر القرآن حکیم (مشہور المنار) ج۷، ص ۳۹۵، اور تفسیر جواہر القرآن ج۸، ص ۱۳۰ طنطاری ـ اور تفسیر و المفسرون ج ۲، ص۴۸۹ ـ
۲۰. نحل آیت ۸۹ ـ
۲۱. مجمع البیان ج۴، ص ۲۹۸، اور ج۶، ص ۳۸۰، اور کشاف ج۲ ٬ص ۶۲۸، المیزان ج۱۴، ص ۳۲۵، نیز تفسیر تمونہ ج۱۱، ص ۳۸۱ ـ
۲۲. در امدی ہر تفسیر علمی قرآن ـ






تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
7+3 =