پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

کیا واقعی شیعہ ہی قاتلان عثمان ہیں؟


الواقدی (محمد بن عمر الواقدی) پر ناصبی اعتراضات

ناصبی حضرات نے سب سے بڑھ کر جس پر اعتراضات کیے ہیں اور جسے شیعہ ظاہر کیا ہے وہ محمد بن عمر الواقدی ہے۔ اس لیے بہتر ثابت ہوتا ہے کہ اس ناصبی ڈھول کا پول بھی کھول دیا جائے تاکہ تحقیق میں مصروف حضرات شچ تک پہنچ سکیں۔ انشاء اللہ۔
اس سلسلے میں ہم ایک اہلسنت برادر کا جواب پیش کر رہے ہیں، جس نے ناصبی حضرات کی طرف سے الواقدی پر ہونے والے حملوں کا بہت اچھی طرح جواب دیا ہے۔

سوال:
اس پر روشنی ڈالئے کہ محمد بن عمر الواقدی تاریخ میں کس قدر ثقہ ہے جبکہ بعض شیعہ علماء نے محمد بن عمر الواقدی پر شیعہ ہونے کا شبہ بھی ظاہر کیا ہے۔

جواب:
اس سلسلے میں شیعہ مصادر خارج از بحث ہیں کیونکہ اُن میں سے بعض تو امام غزالی اور امام سیوطی کو بھی تقیہ میں شیعہ کہتے ہیں۔
جہاں تک تاریخ کی بات ہے تو الواقدی کو علماء الرجال نے انتہائی ثقہ قرار دیا ہے۔ اہل الحدیث اس سلسلے میں الواقدی کو انتہائی سچا جانتے ہیں، خاص طور پر اُس توثیق کی روشنی میں جو ابن سعد نے الواقدی پر کی ہے۔ مگر اہل الحدیث متفقہ طور پر الواقدی کو حدیث کے معاملے میں ضعیف کہا ہے خصوصاً وہ احادیث جو کہ احکام کے سلسلے میں ہیں۔ اور اگر کسی نے الواقدی کو ضعیف بھی کہا ہے تو وہ اُس کی روایتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وہ سلسلہ اسناد میں گڑبڑ کر جاتا تھا۔ اسی لیے علامہ الذھبی فرماتے ہیں کہ مجھے الواقدی کے "صدق" پر کوئی شبہ نہیں ہے۔
مثلاً الواقدی پر سب سے بڑا اعتراض امام احمد بن حنبل نے کیا ہے اور اُسے جھوٹا تک کہا ہے، مگر اس کی وضاحت بھی کر دی ہے کہ الواقدی صرف احادیث میں (اور احادیث میں بھی صرف احکام سے متعلق احادیث میں) جھوٹا ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ ان کی اسناد میں ردوبدل کرتا ہے اور الزہری کے بھتیجے کی روایات کو معمر اور دوسروں کے نام سے بیان کر دیتا ہے۔"
یعنی صرف اسناد میں گڑبڑ کرتا ہے۔ اس کی توثیق اس سے صاف ہو جاتی ہے کہ امام احمد بن حنبل ہی الواقدی کو مغازی اور سیر (تاریخ) میں ماہر تسلیم کرتے ہیں اور اُن کا اعتراض صرف احادیث اور سلسلہ اسناد کے حوالے سے ہے۔
اسی وجہ سے امام ابن الحجر العسقلانی نے اپنی کتاب الاصابہ میں صحابہ کی زندگیوں کے متعلق لکھتے ہوئے 600 دفعہ کے قریب الواقدی کا حوالہ دیا ہے۔ اور ابن حجر العسقلانی کا شمار خلف کے چوٹی کے حفاظِ حدیث میں ہوتا ہے اور اس میں اہلسنت کے تمام فرقے متفق ہیں۔

واقدی کے متعلق اہلسنت علماء کی مزید آراء

علامہ الذھبی:
«الواقدی علم کا بحر ہے اگرچہ کہ احادیث (احکام شریعہ کے متعلق) کے سلسلے میں اس میں ضعف ہے۔ اس نے محمد بن اجلان، ابن جریج، معمر، مالک، ابن سلمان اور دیگر بہت سے لوگوں سے روایات سنی ہیں۔ اس نے یہ روایات جمع کیں، پھر قوی روایات کو ضعیف سے ملا دیا اور موتیوں کو پتھروں سے اور اسی لیے اسے لوگوں نے نظر انداز کر دیا۔ مگر اس کے باوجود بھی اسے المغازی اور صحابہ کے حالات کے معاملے میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ » 1

ابن کثیر الدمشقی:
«الواقدی تاریخ کے سلسلے میں کبیر ائمہ میں سے ہے۔ وہ اپنی ذات میں ثقہ ہے اور سخی بھی۔ » 2

ابراہیم الحربی:
«وقال إبراهيم الحربي الواقدي أمين الناس على أهل الإسلام كان أعلم الناس بأمر الإسلام
ترجمہ: الواقدی اہلِ اسلام میں سب سے بڑھ کر امین ہے اور اسلام کے معاملے میں وہ سب سے بڑھ کر عالم ہے۔»

الدراوردی:
«وعن الدراوردي وذكر الواقدي فقال ذاك أمير المؤمنين في الحديث
ترجمہ: الواقدی حدیث میں امیر المومنین ہے۔»

خطیب البغدادی:
«وقال الخطيب هو ممن طبق ذكره شرق الأرض وغربها وسارت بكتبه الركبان في فنونالعلم من المغازي والسير والطبقات والفقه وكان جوادا كريما مشهورا بالسخاء
ترجمہ: اس کی شہرت زمین کے مشرق اور مغرب تک پھیلی ہوئی تھی اور لوگ اس کی کتب کو پھیلاتے تھے جن میں فنون علم جیسے المغازی، سیر، طبقات، فقہ وغیرہ شامل ہیں۔ اور الواقدی سخی، اور شریف تھا اور اپنی سخاوت کی وجہ سے مشہورتھا»

ابا عامر العقدی:
«إن أبا عامر العقدي قال نحن نسأل عن الواقدي ما كان يفيدنا الشيوخ والحديث إلا الواقدي
ترجمہ: اگر الواقدی کے متعلق پوچھا جائے تو اُس سے زیادہ شیوخ میں سے حدیث کے معاملے میں کوئی اور مفید نہیں تھا»

موسیٰ بن ہارون:
«وقال موسى بن هارون سمعت مصعبا الزبيري يذكر الواقدي فقال والله ما رأينا مثله قط
ترجمہ: میں نے معصب الزبیر سے الواقدی کا تذکرہ کیا جس پر اُس نے کہا: واللہ ہم نے اُس جیسا کسی اور کو نہیں دیکھا ہے۔»

مصعب الزبیری:
«وقال مصعب الزبيري حدثني من سمع عبد الله بن المبارك يقول كنت أقدم المدينة فما يفيدني ويدلني على الشيوخ إلا الواقدي
ترجمہ: عبداللہ ابن مبارک کہتے تھے: جب میں مدینہ آیا تو میں نے کسی اور شیخ سے استفادہ نہیں حاصل کیا کہ جتنا کہ الواقدی سے»

ابی حذافہ السھمی:
«وعن أبي حذافة السهمي قال كان للواقدي ....قال أبو بكر الخطيب كان الواقدي مع ما ذكرناه من سعة علمه وكثره حفظه
ترجمہ:ابو بکر خطیب البغدادی کہتے ہیں ہم الواقدی کو اُس کے علم اور حافظہ کی وجہ سے جانتے ہیں۔»

ابراھیم بن جعفر الفقیہ:
«قال إبراهيم بن جابر الفقيه سمعت أبا بكر الصاغاني وذكر الواقدي فقال والله لولا أنه عندي ثقة ما حدثت عنه قد حدث عنه أبو بكر بن أبي شيبة وأبو عبيد وسمى غيرهما وقال إبراهيم الحربي سمعت مصعب بن عبد الله يقول الواقدي ثقة مأمون
ترجمہ: میں نے ابو بکر الصاغانی کو الواقدی کا تذکرہ یوں کرتے سنا ہے: واللہ اگر وہ نہ ہوتا۔ بے شک وہ میرے نزدیک ثقہ ہے۔ اور جو کچھ میں اُس کے متعلق کہہ رہا ہوں یہ وہی ہے جو ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو عبید اور دوسروں نے کہا ہے اور ابراہیم الحربی کہتے ہیں کہ انہوں نے معصب بن عبداللہ کو کہتے سنا ہے کہ الواقدی ثقہ اور مامون ہے»

جلال الدین السیوطی:
«فهو من أئمة السِّير
ترجمہ: الواقدی سیر (تاریخ) میں امام ہے»

امام نسائی اور ابو داؤد کی طرف سے الواقدی پر اعتراضات

جب ناصبی حضرات کو محمد بن عمر الواقدی کے متعلق تفصیل سے اہلسنت علماء کی آراء بیان کی جاتی ہے تب بھی ڈوبتے ہوئے امام نسائی اور امام ابو داؤد کے بیانات سے سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً:

امام نسائی کہتے ہیں:
« رسول ﷺ کے متعلق جھوٹ بولنے والے چار افراد ہیں، ابن ابی یحیی مدینہ میں، الواقدی بغداد میں۔۔۔۔»

اور امام ابو داؤد کہتے ہیں:
«محمد بن عمر الواقدی بے شک احادیث بنایا کرتا تھا۔ »

ہم پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں کہ وہ اہلسنت علماء جنہوں نے گہرائی میں جا کر الواقدی پر تنقید کی ہے انہوں نے اُسے زیادہ سے زیادہ سلسلہ اسناد کے حوالے غیر محتاط کہا ہے۔
النسائی اور ابو داؤد کے اعتراضات کا رد کرنے کے لیے ہم ذیل میں الذھبی اور ابن کثیر کے بیانات مزید نقل کر رہے ہیں، جس میں انہوں نے نسائی اور ابو داؤد جیسے علماء پر تنقید کی ہے جنہوں نے الواقدی پر غیر ضروری اعتراضات کیے ہیں۔

امام الذھبی:
«اگرچہ کہ لوگوں نے یہ طے کیا کہ الواقدی کو ضعیف قرار دیا جائے، مگر پھر بھی تاریخ اور غزوات میں اسے متروک نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔۔
الفرائض (فقہ) میں اس کو استعمال نہیں کیا گیا، حالانکہ صحاح ستہ کی چھ کتب اور مسند احمد بن حنبل اور وہ تمام لوگ جنہوں نے شرعی احکامات (فقہ) اکھٹے کیے، ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے الواقدی سے کہیں زیادہ ضعیف لوگوں کی روایات کو قبول کر لیا، حتیٰ کہ وہ بھی جو کہ مکمل طور پر متروک تھے، مگر اس کے باوجود انہوں نے محمد بن عمر (الواقدی) سے احادیث نہیں روایت کیں۔[نوٹ: یہ ہے نسائی اور ابو داؤد جیسے محدثین کا دوہرا معیار] جبکہ میرے نزدیک احادیث میں کچھ ضعف کے باوجود محمد بن عمر کی روایات اور احادیث کو جمع کرنا اور لکھنا چاہیئے تھا کیونکہ میں الواقدی کو احادیث گھڑنے کا الزام نہیں دے سکتا۔ اور اُن لوگوں نے زیادتی سے کام لیا ہے جنہوں نے اسے ترک کر دیا ہے۔"» 3

الحافظ ابن کثیر:
«الواقدی بہت بڑا امام ہے اور وہ اپنے آپ میں ثقہ ہے اور سخی ہے»

نوٹ: حافظ الذھبی اور ابن کثیر، دونوں بعد میں آنے والے خلف علماء ہیں جن کی اہلسنت کے تمام مکتبائے فکر (بشمول اہل حدیث / ناصبی) بہت تعظیم کرتے ہیں۔ اور انہوں نے کھل کر الواقدی کے ناقدین کے اعتراضات کا رد کر دیا ہے۔ اس کے بعد ناصبین کے پاس بھاگنے کی کوئی راہ باقی نہیں رہتی۔

اور اگر ناصبی حضرات اب بھی ہٹ دھرمی پر جمے رہتے ہیں تو وہ امام نسائی کا قول امام ابو حنیفہ کے متعلق بھی سن لیں کہ امام نسائی نے ان کی شان میں فرمایا:
«وقال لنا أبو عبد الرحمن بن أحمد بن شعيب وأبو حنيفة ليس بالقوي في الحديث وهو
كثير الغلط والخطأ على قلة روايته والضعفاء من أصحابه » 4

تو ناصبی حضرات جس ہتھیار کو الواقدی پر چلانا چاہ رہے ہیں، وہ اُن کے امام ِ اعظم پر بھی چل چکا ہے اور انہیں فروع دین میں تہس نہس کر چکا ہے۔

اسی طرح امامِ اہلسنت کے بہت بڑے عالمِ رجال یحیی ابن معین کی تنقید امام بخاری پر یہ تھی:
«محمد بن اسمعیل بخاری بدعتی اور مرجعی تھا۔» 5

جیسا ہم نے اوپر بیان کیا کہ الذھبی، ابن کثیر، علامہ ابن حجر العسقلانی وغیرہ سب امام نسائی سے متاخر ہیں اور ان سب نے الواقدی کو تاریخ کی تمام شاخوں سیر، المغازی، طبقات وغیرہ کا امام تسلیم کیا ہے۔

تاریخ کے حوالے سے مولانا مودودی کا ناصبی حضرات کو جواب

تاریخ کے اس مسئلے پر جو ناصبی اعتراضات ہیں، اس کا جواب ہم ذیل میں مولانا مودودی کی زبانی دے رہے ہیں۔
مولانا مودودی نے خلافت عثمان کی برائیوں اور تباہیوں کے اوپر ایک کتاب لکھی تھی خلافت و ملوکیت کے نام سے۔ اس پر ناصبی حضرات کی طرف سے بہت شور و غوغا اٹھا اور بہت سے دیگر اعتراضات اٹھائے گئے۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت کے نئے ایڈیشن میں ایک ضمیمہ شائع کیا، جس میں ان اعتراضات کے جوابات دیے گئے۔ ذیل میں ہم اسی ضمیمہ سے اس ضمن میں چند اقتباسات پیش کر رہے ہیں۔
قارئین سے گذارش ہے کہ وہ غور سے ان اقتباسات کو پڑھیں تاکہ آپ کو اچھی طرح اندازہ ہو جائے کہ علمائے اہلسنت کے نزدیک تاریخ کو جانچنے کا کیا معیار ہے، اور ناصبی حضرات بحث کے دوران جو یکطرفہ دوہرے معیار Double Standards کی منافقت دکھاتے ہیں، وہ آپ پر واضح ہو جائے۔
یاد رکھئیے، ہم کسی صورت میں بھی ناصبی حضرات کے اس منافقت بھرے دوہرے معیار کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے اور نہ ہی ہر اُس شخص کو قبول کرنے چاہیے ہیں جو سچے دل کے ساتھ اللہ کے دین میں تحقیق کرنا چاہتا ہے۔

www.Ansar.org


1. سیر اعلام النبلاء، جلد ۹، صفحہ ۴۵۴
2. البدایہ و النہایہ، جلد ۲، صفحہ ۳۲۴
3. سیر اعلام النبلاء، جلد ۹، صفحہ ۴۶۹
4. کتاب تسمیۃ من لم یرو عنہ غیر واحد، امام نسائی
5. فتح الباری، ابن حجر عسقلانی، جلد ۱۳، صفحہ ۴۹۰





تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
7+3 =