پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

خدا کی معرفت کیوں ضروری ھے؟


جب یہ بات اپنی جگہ مسلم ھے کہ کوئی بھی فعل بغیر علت کے نھیں ھوتا تو پھر اس دنیا کے خالق کی معرفت اور اس کو پہچاننے کے لئے بھی کوئی نہ کوئی علت اور سبب ھونا چاہئے، چنانچہ فلاسفہ اور دانشوروں نے خدا شناسی کے لئے تین بنیادی وجھیں اور علتیں بیان کی ھیں،جن پر قرآن کریم نے واضح طور پر روشنی ڈالی ھے:
۱۔ عقلی علت ۔
۲۔ فطری علت ۔
۳۔ عاطفی علت ۔

عقلی علت

انسان کمال کا عاشق ھوتا ھے، اور یہ عشق تمام انسانوں میں ھمیشہ پایا جاتا ھے، انسان جس چیز میں اپنا کمال دیکھتا ھے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ھے،البتہ یہ بات علیحدہ ھے کہ بعض لوگ خیالی اور بےھودہ چیزوں ھی کو کمال اور حقیقت تصور کربیٹھتے ھیں۔
کبھی اس چیز کو ”منافع حاصل کرنے اور نقصان سے روکنے والی طاقت“ کے نام سے یاد کیا جاتا ھے کیونکہ انسان اسی طاقت کی بنا پر اپنی ذمہ داری سمجھتا ھے کہ جس چیز میں اس کا فائدہ یا نقصان ھو اس پر خاص توجہ دے۔
انسان کی اس طاقت کو ”غریزہ“ کا نام دینا بہت مشکل ھے کیونکہ معمولاً غریزہ اس اندرونی رجحان کو کھا جاتا ھے جو انسان اور دیگر جانداروں کی زندگی میں بغیر غور و فکر کے اثر انداز ھوتا ھے اسی وجہ سے حیوانات کے یھاں بھی غریزہ پایا جاتا ھے۔
لہٰذا بہتر ھے کہ اس طاقت کو ”عالی رجحانات“کے نام سے یاد کیا جائے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس کا تذکرہ بھی کیاھے۔
بھر حال انسان کمال دوست ھوتا ھے اور ھر مادی و معنوی نفع کو حاصل کرنا چاہتا ھے اور ھر طرح کے ضررو نقصان سے پرھیز کرتا ھے چنانچہ اگر انسان کو نفع یا نقصان کا احتمال بھی ھو تو اس چیز پر توجہ دیتا ھے اور جس قدر یہ احتمال قوی تر ھوجاتا ھے اسی اعتبار سے اس کی توجہ بھی بڑھتی جاتی ھے، لہٰذایہ ناممکن ھے کہ انسان اپنی زندگی میں کسی چیز کو اھم و موثر مانے لیکن اس سلسلہ میں تحقیق و کوشش نہ کرے۔
خدا پر ایمان اور مذھب کا مسئلہ بھی انھیں مسائل میں سے ھے کیونکہ مذھب کا تعلق انسان کی زندگی سے ھوتا ھے اور اسی سے انسان کی سعادت اور خوشبختی یا شقاوت اور بدبختی کا تعلق ھوتا ھے، اور اسی کے ذریعہ انسان سعادت مند ھوتا ھے یا بدبخت ھوجاتا ھے،اور ان دونوں میں ایک گھرا ربط پایا جاتا ھے۔
اس بات کو واضح کرنے کے لئے بعض علمامثال بیان کرتے ھیں: فرض کیجئے ھم کسی کو ایک ایسی جگہ دیکھيں جھاں سے دوراستے نکلتے ھوں ، اور وہ کھے کہ یھاں پر رکنا بہت خطرناک ھے اور (ایک راستہ کی طرف اشارہ کرکے )کھے کہ یہ راستہ بھی یقینی طور پر خطرناک ھے لیکن دوسرا راستہ ”راہ نجات“ ھے اور پھر اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے کچھ شواھد و قرائن بیان کرے، تو ایسے موقع پر گزرنے والا مسافر اپنی یہ ذمہ داری سمجھتا ھے کہ اس سلسلہ میںتحقیق و جستجو کرے ،ایسے موقع پر بے توجھی کرنا عقل کے برخلاف ھے۔1
جیسا کہ ”دفعِ ضررِمحتمل “(احتمالی نقصان سے بچنا) ایک مشھور و معروف قاعدہ ھے جس کی بنیاد عقل ھے، قرآن کریم نے پیغمبر اکرم (ص)سے خطاب کرتے ھوئے فرمایا:
< قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللهِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہِ مَنْ اٴَضَلُّ مِمَّنْ ہُوَ فِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ > 2
”آپ کہہ دیجئے کہ کیا تمھیں یہ خیال ھے اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ھے اور تم نے اس کا انکار کردیا تو اس سے زیادہ کون گمراہ ھوگا“۔
البتہ یہ بات ان لوگوں کے سلسلہ میں ھے جن کے یھاں کوئی دلیل و منطق قبول نھیں کی جاتی ، در حقیقت وہ آخری بات جو متعصب، مغرور اور ہٹ دھرم لوگوں کے جواب میں کھی جاتی ھے، وہ یہ ھے : اگر تم لوگ قرآن، توحید اور وجود خدا کی حقانیت کو سوفی صد نھیں مانتے تو یہ بات بھی مسلم ھے کہ اس کے بر خلاف بھی تمھارے پاس کوئی دلیل نھیں ھے، لہٰذا یہ احتمال باقی رہ جاتا ھے کہ قرآنی دعوت اور قیامت واقعیت رکھتے ھوں تو اس موقع پر تم لوگ سوچ سکتے ھو کہ دین خدا سے گمراھی اور شدید مخالفت کی وجہ سے تمھاری زندگی کس قدر تاریکی اور اندھیرے میں ھوگی۔
اس بات کو ائمہ علیھم السلام نے ہٹ دھرم لوگوں کے سامنے آخری بات کے عنوان سے کی ھے،جیسا کہ اصول کافی میں ایک حدیث نقل ھوئی ھے جس میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے ملحد و منکر خدا ”ابن ابی العوجاء“ سے متعدد مرتبہ بحث و گفتگو فرمائی ھے،اور اس گفتگو کاآخری سلسلہ حج کے موسم میں ھوئی ملاقات پر تمام ھواجب امام علیہ السلام کے بعض اصحاب نے آپ سے کھا: کیا ”ابن ابی العوجاء“ مسلمان ھوگیا ھے؟!تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کا دل کھیں زیادہ اندھا ھے یہ ھرگز مسلمان نھیں ھوگا، لیکن جس وقت اس کی نظر امام علیہ السلام پر پڑی تو اس نے کھا: اے میرے مولا و آقا!
امام علیہ السلام نے فرمایا: ”ماجاءَ بِکَ إلیٰ ہذَا المَوضِع“ (تو یھاں کیا کررھا ھے؟)
تو اس نے عرض کی: ”عادة الجسد، و سنة البلد، و لننظر ما الناس فیہ من الجنون و الحلق و رمی الحجارة!“ (کیونکہ بدن کو عادت ھوگئی ھے اور ماحول اس طرح کا بن گیا ھے ، اس کے علاوہ لوگوں کا دیوانہ پن، ان کا سرمنڈانا اور رمی ِجمرہ دیکھنے کے لئے آگیا ھوں!!)
امام علیہ السلام نے فرمایا: اٴَنْتَ بعدُ علیٰ عتوک و ضلالک یا عبدَ الکریم! (اے عبد الکریم!تو ابھی بھی اپنے ضلالت و گمراھی پر باقی ھے ) 3
اس نے امام علیہ السلام سے گفتگو کا آغاز کرنے کے لئے کھا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”لا جدال فی الحج“(حج، جنگ و جدال کی جگہ نھیں ھے) اورامام علیہ السلام نے اس کے ھاتھ سے اپنی عبا کو کھینچتے ھوئے یہ جملہ ارشاد فرمایا: ”ان یکن الامر کما تقول۔ ولیس کما تقول۔ نجونا ونجوت ۔ وان یکن الامر کما نقول ۔وھو کمانقول۔نجونا وھلکت“!:
”اگر حقیقت ایسے ھی ھے جیسے تو کہتا ھے کہ (خدا اورقیامت کا کوئی وجود نھیں ھے) جب کہ ھرگز ایسا نھیں ھے، تو ھم بھی اھل نجات ھیں اور تو بھی، لیکن اگر ھمارا عقیدہ ھے ،جب کہ حق بھی یھی ھے تو ھم اھل نجات ھیں اور تو ھلاک ھوجائے گا“۔
”ابن ابی العوجاء“ نے اپنے ساتھی کی طرف رخ کیا اور کھا: ”وجدت فی قلبی حزازة فردونی،فردوہ فمات“ (میں اپنے دل میں درد کا احساس کررھا ھوں، مجھے واپس لے چلو، چنانچہ جیسے ھی اس کو لے کر چلے تو تھوڑی ھی دیر بعدوہ اس دنیا سے رخصت ھوگیا۔ 4 5

۲۔ جذبہٴ محبت:
اشارہ:
ایک مشھور و معروف ضرب المثل ھے کہ ”انسان احسان کا غلام ھوتا ھے“ (الانسان عبید الاحسان)
یھی مطلب تھوڑے سے فرق کے ساتھ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی حدیث میں بھی نقل ھوا ھے کہ آپ نے فرمایا:
”الإنسان عبد الإحسان“ 6
”انسان، احسان کا غلام ھے“۔
نیزامام علیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا:
”بالإحسان تملک القلوب“ 7
”احسان کے ذریعہ انسان کے قلوب کو مسخر کیا جاتا ھے “۔
نیز ایک دوسری حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے مروی ھے:
”وافضِلْ علیٰ من شئت تکن اٴمیرہ“ 8
”ھر شخص کے ساتھ احسان کرو تاکہ اس کے حاکم بن جاوٴ“
ان تمام مطالب کا سرچشمہ حدیث ِپیغمبر اکرم (ص)ھے کہ آپ نے فرمایا:
”إنَّ اللهَ جَعَلَ قُلُوب عبادِہِ علیٰ حُبَّ مَنْ اٴحسَنَ إلیھا ،و بغض من اٴساء إلیھا“ 9
”خداوندعالم نے اپنے بندوں کے دلوں کو اس شخص کی محبت کےلئے جھکادیا ھے جو ان پر احسان کرتا ھے اور ان کے دلوں میں اس شخص کی طرف سے عداوت ڈال دی ھے جو ان سے بدسلوکی کرتا ھے“۔
مختصر یہ کہ یہ ایک حقیقت ھے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ احسان کرے یا اس کی کوئی خدمت کرے یا اس کو کوئی تحفہ دے تو وہ شخص بھی اس سے محبت کرتا ھے، اور نعمت عطا کرنے والے اور احسان کرنے والے سے مانوس ھوجاتا ھے، اور چاہتا ھے کہ اس کو مکمل طریقہ سے پہچانے، اور اس کا شکریہ ادا کرے، اور یہ بات بھی طے ھے کہ نعمت اور احسان جتنے اھم ھوتے ھیں ”منعم“ (یعنی نعمت دینے والے) کی نسبت اس کی محبت اور اس کی پہچان بھی زیادہ ھوتی ھے۔
اسی وجہ سے علمائے علم کلام (عقائد) قدیم الایام سے مذھب کی تحقیق کے سلسلہ میں ”شکرِ منعم“ (نعمت عطا کرنے والے کا شکریہ ادا کرنے کو ) معرفت خدا کی علتوں میں سے ایک علت شمار کرتے ھیں۔
لیکن اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ ”شکر منعم“کا مسئلہ عقلی حکم سے پھلے ایک عاطفی مسئلہ ھے، اس مختصر سے اشارہ کو عرب کے مشھور و معروف شاعر ”ابو الفتح بستی“ کے شعر پر ختم کرتے ھیں:
احسن إلی النَّاس تَستعبد قلوبَھُم
فطالما استعبد الإنسان إحسان
”لوگوں کے ساتھ نیکی کرو تاکہ ان کے دل پر حکومت کرسکو ، بے شک انسان احسان کا غلام ھوتا ھے“۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ھے کہ آپ نے فرمایا: ” ایک روز رسول اکرم عائشہ کے حجرے میں تھے تو عائشہ نے سوال کیا کہ آپ اس قدر کیوں خود کو (عبادت کے لئے) زحمت میں ڈالتے ھیں؟ جبکہ خداوندعالم نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ کے الزاموں کو معاف کردیا ھے“ 10
آنحضرت (ص)نے فرمایا: ”إلاّٰ اکون عبداً شکوراً“11 (کیا مجھے اس کا شکر گزار بندہ نھیں ھونا چاہئے؟)

۳۔ فطری لگاؤ:
اشارہ:
جس وقت فطرت کے بارے میں گفتگو ھوتی ھے تو اس سے مراد اندرونی ادراک و احساس ھوتا ھے جس کے اوپر کسی عقلی دلیل کی کوئی ضرورت نھیں ھوتی۔
جس وقت ھم ایک دلکش منظر ، یا خوبصورت باغ اور چمن دیکھتے ھیں اور ھمارے دل میں اس خوبصورت منظر کے پیش نظر کشش محسوس ھوتی ھے تو اندر سے ھمارا احساس آواز دیتا ھے کہ اس کشش اور لگاؤ کا نام عشق یا خوبصورتی رکھ دیا جائے، جبکہ یھاں کسی بھی طرح کے استدلال کی کوئی ضرورت نھیں ھوتی۔
جی ھاں! خوبصورتی کا احساس کرنے والی یہ طاقت ،انسان کی بلند پرواز روح کے خواھشات اور رجحانات میں سے ھے، مذھب کے سلسلہ میں یہ کشش خصوصاً معرفت خدا کا مسئلہ بھی ایک اندورنی اور ذاتی احساس ھے، بلکہ انسان کے اندر سب سے بڑی طاقت کا نام ھے۔
اسی وجہ سے ھم کسی قوم و ملت کو نھیں دیکھتے (نہ آج اور نہ ماضی میں ) کہ ان کے یھاں مذھبی عقائد نہ پائے جاتے ھوں، جس سے معلوم ھوتا ھے کہ یہ عمیق احساس ھر انسان کے یھاں پایا جاتا ھے۔
قرآن مجید نے عظیم الشان انبیاء کے قیام کے واقعات کو بیان کرتے ھوئے اس نکتہ پر توجہ دی ھے کہ رسالت کی ذمہ داری شرک و بت پرستی کا خاتمہ تھا (نہ کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنا، کیونکہ یہ موضوع تو ھر انسان کی فطرت میں پوشیدہ ھے)
یا دوسرے الفاظ میں یوں کھا جائے کہ انبیاء علیھم السلام یہ نھیں چاہتے تھے کہ ”خدا پرستی کا درخت“ لوگوں کے دلوں میں لگائیں بلکہ ان کا مقصد یہ ھوتا تھا کہ ان کے دلوں میں موجود اس درخت کی آبیاری کریںاور اس کے پاس سے بے کار گھاس اور کانٹوں کو ہٹادیں جن کی وجہ سے کبھی یہ درخت بالکل خشک ھوسکتا ھے یھاں تک کہ جڑ سے اکھڑ جاتا ھے۔
”الاَّ تعبد وا إلاَّ الله“ یا ”الَّا تعبدوا إلاَّ إیاہُ“ (خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نھیں کرو) اس جملہ میں بتوں کی پوجا سے روکا جارھا ھے نہ یہ کہ وجود خدا کو ثابت کیا جارھا ھے، اور یہ جملہ بہت سے انبیاء کی گفتگو میں بیان ھوا ، منجملہ حضرت پیغمبر اکرم (ص)کی تبلیغ میں 12جناب نوح علیہ السلام کی تبلیغ میں 13 جناب یوسف علیہ السلام کی تبلیغ میں 14 اور جناب ھود علیہ السلام کی تبلیغ میں بیان ھوا ھے۔ 15

اس کے علاوہ ھمارے دل و جان میں دوسرے فطری احساسات بھی پائے جاتے ھیں جیسے علم و دانش ؛ جن کے بارے میں بہت زیادہ شوق و رغبت ھوتی ھے۔
کیا یہ ممکن ھے کہ اس وسیع و عریض دنیا کے عجیب و غریب نظام کو تو دیکھیں لیکن اس نظام کے پیدا کرنے والے کی معرفت و شناخت کے سلسلہ میں کوئی شوق ورغبت نہ ھو؟
کیا یہ ممکن ھے کہ ایک دانشور چیونٹیوں کی شناخت کے بارے میں بیس سال تک ریسرچ کرے اور دوسرا دسیوں سال پرندوں یا درختوں، یا دریائی مچھلیوں کے بارے میں تحقیق کرے ، لیکن اس کے دل میں علم کا شوق نہ پایا جاتا ھو؟ کیا یہ لوگ اس وسیع و عریض دنیا کے سرچشمہ کی تلاش نھیں کریں گے؟!
جی ھاں! یہ تمام چیزیں ھمیں ”معرفت خدا“کی دعوت دیتی ھیں، ھماری عقل کو اس بات کی طرف بلاتی ھیں، ھماری عاطفی طاقت کو اس طرف جذب کرتی ھیں اور ھماری فطرت کو اس راستہ کی طرف لگاتی ھیں۔ 16



1. تفسیر پیام قرآن ،جلد ۲، ص۲۴۔
2. سورہ فصلت آیت۵۲۔
3. ”عبد الکریم “ کا اصلی نام ”ابن ابی العوجاء“ تھا،کیونکہ وہ منکر خدا تھا لہٰذا امام نے خاص طور سے اس کواس نام سے پکارا تاکہ وہ شرمندہ ھوجائے۔
4. کافی، جلد اول، صفحہ ۶۱، (کتاب التوحید باب حدوث العالم)
5. تفسیر نمونہ ج۲۰، صفحہ ۳۲۵۔
6. غررالحکم۔
7. غررالحکم۔
8. بحار الانوار ، جلد ۷۷، صفحہ ۴۲۱ ( آخوندی)
9. تحف العقول ص۳۷ (بخش کلمات پیامبر (ص))
10. سورہٴ فتح کی پھلی آیت کی طرف اشارہ ھے اور اس کی تفسیر کی وضاحت تفسیر نمونہ کی جلد ۲۲، کے صفحہ ۱۸ پر موجود ھے۔
11. اصول کافی ،جلد ۲،باب الشکر حدیث۶۔
12. سورہٴ ھود، آیت۲۔
13. سورہٴ ھود، آیت۲۶۔
14. سورہٴ یوسف، آیت۴۰۔
15. سورہٴ احقاف ، آیت۲۱۔
16. تفسیر پیام قرآن ، جلد ۲، صفحہ ۳۴۔




تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
2+2 =