پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|


اسعد بن علی


گروہ ترجمہ سایٹ صادقین


۱۹۶۴ع میں تونس کے صفاقس علاقہ میں پیدا ھوئے، مالکی مذھب کے معتقد گھرانہ میں پروان چڑھے، تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور M . A پاس کرنے کے بعد فیزیک سبجکٹ کو لیکر یونیورسٹی میں داخلہ لیا، سن رشد کو پھنچنے کے بعد سائنس اور عصر جدید کے افکار کا مطالعہ شروع کیا، تاریخ اور اس کے قوانین و جزئیات کی تلاش میں منھمک ھوگئے تاریخ سے شروع کیا تا کہ تاریخ سے متعلق کوئی جامع نظریہ اپناسکیں جس میں یہ انسان دوبارہ اپنے اللہ کے ساتھ اس کائنات میں ضم ھوسکے ۔

اسلامی بصیرت کی تلاش

اسلامی بصیرت جو رھنمائی زندگی ھے اور بھتر مستقبل کی طرف لے جاتی ھے، اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی اور کوشش کی کہ اپنا معیار علم بھی بلند کریں تاکہ موجودہ نظام فکر و ثقافت و تمدن اسلام کو اچھی طرح سمجھ سکیں، یھی وہ فکر و بصیرت ھے جو انسان اور سماج کو نجات دے سکتی ھے باسعادت و منظم حیات عطا کرسکتی ھے ۔
جناب اسعد نے پوری کوشش کی کہ ایسے لوگوں سے آشنا ھوں جو اس علم میں زبردست مھارت رکھتے ھوں، اس دوران سید محمد باقر الصدر کی کتابوں کا علم ھوا ۔ جس کے بعد محسوس ھوا کہ اب مقصد نظر آنے لگا ھے، سید محمد باقر الصدر کو ایک ایسی شخصیت پائی جو مختلف جھت سے منظم و متکامل اسلامی درسگاہ تھے اس شخصیت سے بے انتھا متاثر ھوئے اور ان کی فکر میں غرق ھوگئے ۔
سید محمد باقر الصدر کے جس علمی بیان نے اسعد بن علی کو حیرت میں ڈال دیا وہ کلام جدید اور ابتکاری طرز پر ان کے مطالب و مضامین تھے، یہ وہ شخصیت تھی جن کی کتابوں کے ذریعہ اسعد بن علی کو شیعہ میراث کے متعلق علم ھوا اور پھر آھستہ آھستہ اس مذھب کے ارکان و عقائد، فکری اصول کے متعلق علم ھونے لگا ۔

امامت کی شناخت

سید محمد باقر الصدر کی کتابوں کا مطالعہ اور دیگر شیعہ علماء کی کتابوں کے ذریعہ مسئلہ امامت اور اس کی عظمت و جایگاہ سے آگاھی ھوئی، ان کے لئے کشف ھوا کہ امامت کی ضرورت، ضرورت نبی کی طرح ھے جو معاشرہ اور تاریخ کے تمدن و ترقی کے لئے لازمی ھے ۔ امام، نبی کی طرح زمین پر اللہ کا نمایندہ اور گواہ و ناظر ھوتا ھے تاکہ اسلامی انقلاب جسے رسول خدا نے ایجاد کیا ھے، اسے جاھلیت و انحراف سے بچا سکے، وہ اسلام کو اصولی، فکری، نفسیاتی لحاظ سے استبداد، استحصال سے محفوظ رکھ سکے، رسول خدا کی کچھ ذمہ داریاں رسول کی زندگی میں تمام ھوگئیں جو پیام پھنچانا تھا، پھنچا چکے اور وہ دور آغاز انقلاب کا تھا لیکن وصی، صاحب رسالت و پیام نھیں ھوتا، نیا دین پیش نھیں کرتا، بلکہ رسالت رسول اور انقلاب رسول کا امانت دار محافظ ھوتا ھے ۔
امامت کے سلسلہ میں اپنا مطالعہ جاری رکھا اور پھر جاننا چاھا کہ رسول خدا کا اس سلسلہ میں کیا موقف، کیا رویہ تھا، معلوم ھوا کہ تین حال سے خارج نھیں :
1 ۔ رسول خدا نے امامت و خلافت سے متعلق کچھ بھی اظھار نھیں فرمایا ۔
2 ۔ رسول خدا نے امامت و خلافت سے متعلق امور کو امت کے مشورہ ان کی صوابدید اور رائے پر موکول فرمادیا ۔
3 ۔ رسول خدا نے امامت و خلافت کے لئے کسی ایک شخص کو معین فرمایا اور اس کا اعلان و اظھار بھی کردیا ۔
ان تین احتمال میں پھلے احتمال کو تسلیم نھیں کیا جاسکتا چونکہ دو حال سے خارج نھیں ۔
الف) رسول خدا علم رکھتے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ امامت، ان کی رسالت کے حق میں کوئی اثر و ثمر نھیں رکھتی ۔
ب) رسول خدا مصلحت مزاج تھے، جب تک زندہ تھے رسالت کی حفاظت کی وفات کے بعد آپ کو کوئی پرواہ نھیں کہ وہ باقی رھے یا فنا ھوجائے ۔
جب کہ یہ دونوں احتمال باطل ھیں امامت، رسالت نبی کے حق میں اثر و ثمر نھیں رکھتی باطل ھے چونکہ امامت، محافظ رسالت ھے ھر رسالت کا نامہ بر امین ھونا ضروری ھے جس کے سایہ میں محفوظ رھتا ھے، رسول کا مصلحت مزاج ھونا حضور کی توھین ھے اور ھدف اسلام کے منافی چونکہ اسلام ھر دور ھر شخص کے لئے ھے ۔
دوسرا احتمال کہ اس مسئلہ کو امت کے حوالہ کردیا ھو، یہ بھی باطل ھے اسعد بن علی کو تاریخ کا مطالعہ اور اوائل کے حالات اور رسول کی کار کردگی کا جائزہ لینے پر معلوم ھوا کہ رسول نے ایسا نھیں کیا اور مسئلہ امامت و خلافت کو قوم کے حوالہ نھیں کیا، بلکہ صاف لفظوں میں حضرت علی علیہ السلام کو معین فرمایا ھے ۔
تیسرا احتمال کہ رسول نے اپنے بعد کے لئے اپنی زندگی میں کسی ایک شخص کو معین فرمایا ھے اور اعلان و اظھار بھی کیا ھے، اس احتمال کا ثبوت تاریخی مطالعہ سے ثابت ھے اسعد بن علی کھتے ھیں کہ میں نے مطالعہ کیا تو معلوم ھوا کہ یھی طریقہ، انبیاء کی عادت سے تناسب رکھتا ھے اور جس کو نبی معین کردیتا ھے وہ سیاسی و فکری نظام اسلام کا زمامدار ھوتا ھے ۔ تاریخی شواھد اور روایات جن تک دسترسی ھوئی ھے اس امر کو ثابت کرتی ھیں ۔ جیسے حدیث دار، حدیث ثقلین، حدیث منزلت، واقعہ غدیر خم ۔
شیخ اسعد کے لئے سخت تھا کہ اتنی ساری معتبر حدیث، معتبر واقعات اور قطعی علم حاصل ھونے کے بعد اپنے پرانے باطل خیالات پر قائم رھیں اور حق کے واضح ھونے کا اعلان نہ کریں، انھوں نے اللہ سے مدد مانگی اور ارادہ کیا اب ھر طرح کی مشکلات پر فائق آسکتا ھوں اور تاریکی سے نکل کر روشنائی میں آسکتا ھوں، آخر الامر انھوں نے شیعہ مذھب اختیار کرنے کا اعلان کردیا ۔

تالیفات

1۔ کلام جدید شہید صدر کی نگاہ میں
یہ کتاب عربی زبان میں ھے جسے ادارہ مرکز ابحاث عقائدیہ قم نے ۔ سلسلہ " الرحلۃ الی الثقلین" کے ضمن میں شایع کیا ھے ۔
یہ ایک تحلیلی کتاب ھے جس میں شھید محمد باقر الصدر کے کلامی مباحث اور کلام جدید کا تذکرہ ھے، کتاب تین فصلوں اور ایک خاتمہ پر مشتمل ھے ۔
الف) مراحل علم کلام
ب) معالم کلام جدید
ج) مضامین کلام جدید ۔

2 ۔ درس عقائد کا نیا طریقہ ۔

3 ۔ انتظار (عربی زبان میں " فصول فی ثقافۃ الانتظار" کے نام سے یہ کتاب ھے) اس کے علاوہ الثقافۃ الاسلامیۃ دمشق، رسالۂ المنھاج بیروت رسالۂ النور لندن جیسے رسالوں میں آپ کے متعدد مضامین شایع ھوئے ھیں ۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
7+3 =