پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|


ادریس حام تیجانی


گروہ ترجمہ سایٹ صادقین


ادریس حام تیجانی نیجریہ ۱ کے صوبہ کوغی " اوکنی " علاقہ میں پیدا ھوئے، مالکی مذھب گھرانہ میں پرورش ھوئی، اس علاقہ سے M . A پاس کیا ۔ پھر وھیں پر کسی دینی مدرسہ میں داخلہ لے لیا، کچھ مالکی مذھب کی فقہی کتابیں اور علوم قرآن کی تعلیم حاصل کی، اور اس علاقہ میں دینی خدمات میں مصروف ھوگئے، اور ۱۹۸۰ع میں مذھب اھل بیت کو اختیار کرلیا ۔

شیعہ مذھب تک ان کی رسائی

مولوی ادریس کھتے ھیں کہ میری زیادہ تر خواھش و دلچسپی مذھبی کتابوں کے مطالعہ میں تھی، جو بھی میرے ھاتھ لگتی میں نھیں دیکھتا تھا کہ مولف، مصنف کا مذھب کیا ھے ۔ اس کتاب کا مطالعہ شروع کردیتا اور کھلی ھوئی عقل کے ساتھ اور سوچ سمجھ کر آخر تک پڑھتا، جس سے میری ذھنیت کائنات و زندگی کے حوالہ سے روشن ھوگئی اور دیگر اقوام و مذاھب کی افکار و انداز وغیرہ سے آگاھی ھوگئی، ایک دن جب میں کچھ دوستوں کے ساتھ کالج جارھا تھا، کسی ایک دوست نے کھا کہ میں نے ایک عجیب چیز سنی ھے جو اس کے پھلے کبھی نھیں سنی تھی، ھم لوگوں نے کھا وہ کیا ھے بتاؤ ! اس دوست نے کھا: میں نے اپنے کسی دوست سے سنا ھے کہ خلافت اسلام رسول کے بعد علی کا حق تھا، ابوبکر کا حق نھیں تھا، اور اس امر کی قوی دلیلیں ھیں، ھر مسلمان پر واجب ھے کہ اس سلسلہ میں خود معلوم کرے تاکہ اندھا پیرو نہ رھے، اس کی نئی بات کو سن کر بھت متاثر ھوا، میں خود کو کثیر المطالعہ سمجھتا تھا ۔ دیکھا کہ مجھے کچھ نھیں آتا، اس حیرت آور مسئلہ پر کچھ بھی نھیں جانتا، جب کہ اس کا تعلق میرے اصل عقائد سے ھے ۔
میں اس کے ساتھ اس کے گھر گیا تاکہ مزید معلومات حاصل کرسکوں اس نے میرا پرپتاک استقبال کیا، بھت خوشی سے مجھے خوش آمدید کھا، جب آرام سے بیٹھ گیا، تاریخی حقائق کو بیان کرنے لگا، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ھونے والے حوادث پر روشنی ڈالی، جب میں واپس آنے لگا، اس نے نھج البلاغہ نامی ایک کتاب انگلش ترجمہ کے ساتھ اور کتاب الامامہ اور مراجعات علامہ عاملی ھدیہ میں دی ۔
میں نے اس کا شکریہ ادا کرتے ھوئے کتابیں لیں اور گھر واپس آگیا اور پھر مطالعہ میں منھمک ھوگیا، دیکھا کہ یہ کتابیں ان تمام کتابوں سے الگ ھیں جو اب تک میں پڑھتا چلا آیا تھا، بالکل الگ تھی ۔ اس کتاب میں وہ خبر جو سب سے زیادہ میرے لئے توجہ کا باعث بنی، حدیث ثقلین تھی جو متواتر طریقہ سے نقل ھوئی ھے جس میں رسول اسلام امت کے حوالہ کتاب خدا اور اپنا گھرانہ دے رھے ھیں اور لوگوں کو ان دونوں سے متمسک رھنے کا حکم دے رھے ھیں، اس حدیث میں کلمہ عترت آیا تھا جو کبھی بھی میں نے نھیں سنا تھا میرے لئے ایک نیا لفظ، نئی اصطلاح تھی، اب میں نے تحقیق و جستجو شروع کردی کہ اس کے مصداق کون لوگ ھیں تاکہ سمجھ سکوں کہ وہ کون ھیں جو آسمانی عزیز کتاب قرآن مجید کے برابر ھیں ۔

مصداق عترت کون لوگ ھیں ؟

اھل سنت کی کتابوں میں اھل بیت سے مربوط مسائل کو تلاش کرنے میں مصروف ھوگیا، بعض کتابوں میں تھا کہ عترت و اھل بیت یعنی: آل عباس، بعض کتابوں میں تھا آل عقیل، دوسری کتابوں میں اھل بیت کے مصداق، ازواج پیامبر، تحریر تھا ۔ شیعہ مذھب کی کتابوں کا مطالعہ کیا اس میں اھل بیت کے معنی و مصداق، فقط اصحاب کساء پنجتن پاک اور فرزندان حسین بن علی تھے ان کی دلیل، آیات قرآن تھی جس میں آیت مباھلہ و آیہ تطھیر ھے ۔ آیہ مباھلہ میں انفسنا رسول کی ذات اور حضرت علی کی ذات ھے چونکہ وھی نفس رسول تھے جیسا کہ اھل سنت وغیرہ مفسرین نے لکھا ھے ۔ اور نساءنا سے مراد فاطمہ زھراء فرزند رسول ھیں اور ابناءنا کے مصداق حسن و حسین ھیں ۔ آیت تطھیر میں اھل بیت کا تذکرہ ھے جن سے خداوند عالم نے رجس و معصیت کو دور رکھنے کا اعلان کیا ھے، اور اس کا طرز بیان، خطاب ازواج سے مختلف ھے ۔
ان تمام قرائن اور مفسرین کے اقوال کو جمع کرنے کے بعد نتیجہ نکلتا ھے کہ عترت رسول یعنی اھل بیت رسول یعنی اھل رسول، جن کو نصاری نجران سے مقابلہ کے لئے ساتھ لائے تھے، اتنے خطرناک معاملہ میں آپ کے ساتھ کوئی اور نھیں تھا جو سبب بنا کہ نصاری اپنی بات و مباھلہ سے ان انوار طاھرہ کو دیکھ کر پیچھے ھٹ جائیں ۔

حدیث ثقلین اور اس کی دلالت

شیعہ سنی دونوں فرقہ کے نزدیک یہ حدیث متواتر ھے، دونوں گروہ اس کو تسلیم کرتے ھیں، تیس سے زائد صحابی نے نقل کیا ھے، رسول نے ایک مقام سے زیادہ تکرار فرمایا ھے، حجۃ الوداع کے عرفہ میں، یوم غدیر کے خطبہ میں اپنی مریضی کے دوران، رحلت کے وقت، روایت مختلف لفظوں میں وارد ھوئی، ھم یھاں پر تین نص تحریر کرتے ھیں :
۱ ۔ رسول اسلام نے فرمایا: انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و أھل بیتی، و انھما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض ۔ ۲ میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارھا ھوں کتاب خدا، اپنے اھل بیت، دونوں کبھی بھی جدا نھیں ھونگے میرے پاس ایک ساتھ کوثر پر آئیں گے ۔
۲ ۔ رسول اسلام فرماتے ھیں: انی اوشک ان ادعی فاجیب و انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اللہ عز و جل و عترتی، کتاب اللہ حبل ممدود من السماء الی الأرض، و عترتی اھل بیتی، و ان اللطیف الخبیر أخبرنی انھما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض فانظروا کیف تخلفونی فیھما ۔ ۳ قریب ھے کہ مجھے بلایا جائے اور میں چلا جاؤں، اس لئے میں تمھارے درمیان اپنی دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارھا ھوں، باعزت و عظمت خدا کی کتاب اور اپنی عترت، اللہ کی کتاب آسمان اور زمین کے درمیان کھینچی ھوئی رسی ھے، اور میرے عترت یعنی میرے اھل بیت ۔ باخبر و بالطف رب نے خبر دی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھونگے یھاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آجائیں میرے حق میں ان دونوں کے ساتھ کیا رویہ اپناتے ھو ۔
۳ ۔ رسول خدا فرماتے ھیں: یا ایھا الناس انی ترکت فیکم ما ان أخذتم بہ لن تضلوا کتاب اللہ و عترتی أھل بیتی ۔ ۴ اے لوگو ! میں تمھارے پاس ایک شی چھوڑے جارھا ھوں کہ اگر تم ان کو ساتھ رکھو گے کبھی گمراہ نھیں ھوگے، اللہ کی کتاب اور اپنی عترت، اپنا گھرانہ ۔
ثقل ھر نفیس اور محفوظ چیز کو کھا جاتا ھے ۵ نووی کھتے ھیں: قرآن اور عترت کو ثقلین، ان کی عظمت اور بڑی شان کی وجہ سے کھا گیا ھے اور دوسرا قول ھے کہ ثقلین، ان کے فرامین پر عمل کی سختی کے باعث کھا گیا ھے ۔ ۶

دلالت حدیث

یھاں تک بعض روایت کو نقل کیا گیا اب دلالت کے سلسلہ میں توجہ کیجئے :
۱ ۔ عصمت عترت: اھل بیت رسول معصوم ھیں چونکہ رسول نے خبر دی ھے کہ یہ لوگ قرآن کے ساتھ ھیں اور جو بھی قرآن کے ساتھ ھے یعنی ھمیشہ حق کے ساتھ ھے اور ھمراہ حق معصوم ھے، پس اھل بیت معصوم ھیں اور اگر ان سے خطا کا امکان ھوتا تو اس کے معنی یہ نکلتے کہ انھوں نے خطا کرنے کا حکم دیا ھے جب کہ کسی بھی خطا کو انجام دینا جائز نھیں ھے، پھر ان سے متمسک رھنے کا حکم غلط ھوجاتا، پس چونکہ ان سے تمسک کرنے کا حکم قرآن کی طرح ھے پس وہ معصوم ھیں ۔
۲ ۔ عترت یعنی سرچشمہ علم قرآن جس میں تبیان ھر شی ھے پس قرآنی علم و معرفت کے لئے واجب ھے کہ صرف ان سے رجوع کیا جائے ان سے معارف، احکام، علوم اخذ کئے جائین، رسول خدا نے ان کے اعلم ھونے کو صاف لفظوں میں بیان فرمایا ھے، لا تعلموھم انھم اعلم منکم ۔ ۷ ان کو مت سکھاؤ یہ تم سب لوگوں سے زیادہ جانتے ھیں ۔
۳ ۔ قرآن و اھل بیت میں کسی ایک سے تمسک ضلالت ھے رسول خدا نے کسی ایک کو اخذ کرنے کسی ایک کو ترک کرنے پر ضلالت کے آثار مرتب فرمائے ھیں دونوں سے متمسک رھنے کا حکم دیا ھے اس کے معنی یہ ھیں کہ جو صرف قرآن کو اخذ کرے گا اور اھل بیت کو ترک کرے گا گمراہ ھے بلکہ قرآن سے تمسک بغیر اھل بیت کے ممکن نھیں ھے چونکہ رسول اللہ فرماتے ھیں: لن یفترقا، یہ دونوں جدا نھیں ھوسکتے ۔
۴ ۔ گھرانہ نبی سے ایک امام کا ھونا ۔ ھر زمانہ میں قرآن کی طرح اس گھر کا ایک فرد ھوگا جس سے متمسک رھنے کا رسول نے امت کو حکم دیا، یہ خود دلیل ھے بارھویں امام کے وجود پر ۔ خلاصہ یہ ھے کہ صرف ان کی امامت امت پر واجب ھے، ان سے دین و معالم دین لینا واجب ھے، ان کی پیروی کرنا واجب ھے، یہ لوگ اعلم اور معصوم ھیں ۔

حدیث کتاب اللہ و سنتی

بعض نے متواتر (۸) حدیث ثقلین کے مدمقابل ایک روایت " سنتی " میں بدل کر نقل کی ھے ۔ مثلا یہ روایت :
۱ ۔ مالک بن انس متوفی ۱۷۹ھ جو اس حدیث کے پھلے راوی ھیں کتاب الموطا میں نقل کرتے ھیں کہ رسول خدا نے فرمایا: میں تمھارے درمیان دو چیز چھوڑے جارھا ھوں اگر تم ان دونوں سے متمسک رھو گے تو گمراہ نھیں ھوگے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ۸ ۔
۲ ۔ حاکم نیشاپوری متوفی ۴۰۵ھ کتاب مستدرک میں نقل کرتے ھیں: ابوبکر احمد بن اسحاق فقیہ نے (باذکر وسائط) ابن عباس نے رسول خدا سے نقل فرمایا کہ: رسول نے حجۃ الوداع میں تقریر کے دوران فرمایا اے لوگو ! شیطان تمھاری زمین پر اپنی عبادت سے مایوس ھوگیا ھے اور اب اس کے علاوہ جن کو تم ناچیز سمجھتے ھو اس میں امید لگا کے بیٹھا ھے ۔ لھذا سنبھل کر رھو، اے لوگو میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارھا ھوں کہ اگر تم متمسک رھو گے کبھی گمراہ نھیں ھوگے ۔ اللہ کی کتاب، اس کے نبی کی سنت ۔ ھر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ھے اور سارے مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ھیں ۔ کسی کا مال کسی کے لئے اس کی مرضی کے بغیر استعمال جائز نھیں ھے ۔ ایک دوسرے پر ظلم مت کرو، میرے بعد کافر مت ھوجانا ایک دوسرے کو قتل کرنے کچلنے کے درپے مت ھوجانا ۔ سنت سے متمسک رھنا ۔ اس خطبہ میں ایک عجیب امر ھے، نیز ابوھریرہ کی ایک روایت بھی شاھد ھے ۔ ابوبکر بن اسحاق فقیہ، محمد بن عیسی بن مسکن واسطی، ابوھریرہ کے حوالہ سے نقل کرتے ھیں کہ رسول اسلام نے فرمایا: میں نے تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ھیں تم لوگ ھرگز گمراہ نھیں ھوگے، اللہ کی کتاب، اور اپنی سنت یہ دونوں ھرگز جدا نھیں ھونگے، میرے پاس حوض پر ساتھ آئیں گے ۔ ۹
۳ ۔ ابن عبد البر متوفی ۴۶۳ھ جن کے ذریعہ خبر موطا موصول ھوئی ھے ان کی ایک روایت ھے جسے عبد الرحمن بن یحیی نے نقل کیا ھے کہ کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف، اپنے باپ سے، انھوں نے ان کے دادا اور پھر رسول سے نقل کیا ھے آپ فرماتے ھیں ۔ میں دو امر تمھارے حوالہ کر رھا ھوں ۔ اگر تم ان دونوں سے متمسک رھو گے کبھی گمراہ نھیں ھوگے، اللہ کی کتاب، اور اس کے نبی کی سنت ۱۰

کیا حدیث سنتی، حدیث ثقلین کے مدمقابل ھے ؟

حقیقت یہ ھے کہ حدیث سنتی، حدیث ثقلین کے مقابل واقع نھیں ھوسکتی اس کے کچھ اسباب یہ ھیں ۔
۱ ۔ اس حدیث کو بخاری، مسلم نے اپنی کتاب میں نقل نھیں کیا ھے اور بھت سارے علماء اھل سنت اس حدیث کو جسے ان دو راویوں نے نقل نہ کیا ھو ۔ خواہ اس کی سند صحیح ھو پھر بھی اس حدیث کو تسلیم نھیں کرتے ۔
۲ ۔ کتاب اھل سنت کی صحاح ستہ میں بھی یہ حدیث ذکر نھیں ھے ۔
۳ ۔ کتاب مسند احمد بن حنبل میں بھی یہ روایت نھیں ھے اور احمد بن حنبل نے کھا ھے کہ جو روایت اس کتاب میں نہ ھو وہ صحیح نھیں ھے ۔
۴ ۔ کئی لوگوں نے اس حدیث کو ایک عجوبہ قرار دیا ھے جیسے حاکم جس کا قول ھم نے ذکر کیا انھوں نے کھا: سنت سے متمسک رھنے کا اس خطبہ میں ذکر ایک عجوبہ ھے ابو نصر سنجری کھتے ھیں بھت ھی عجیب ھے ۔ ۱۱

سندی بحث

خبر موطا جو اس حدیث کے نقل میں اصل و اساس ھے، اس کی کوئی سند ھی نھیں ھے سیوطی اس حدیث کی شرح میں کھتے ھیں: ابن عبد البر نے اس کو کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف کی حدیث سے جو اس کے باپ اور دادا سے نقل ھوئی ھے ۱۲ اس سے وصل کرکے ذکر کیا ھے، اس کا تذکرہ ھم ابن عبد البر کی روایت میں کریں گے ۔
خبر مستدرک، ابن عباس کے حوالہ سے ھے جس کا دار و مدار اسماعیل بن اویس ھے جو مالک کا بھانجہ اور اس کا قریبی رشتہ دار ھے، ان کے متعلق علماء رجال و اھل جرح و تعدیل نے جو کچھ بھی لکھا ھے، ھم نمونہ کے طور پر ابن حجر عسقلانی کے قول کو نقل کر رھے ھیں ۔ معاویہ بن صالح، ابن معین کے حوالہ سے کھتے ھیں: خود معاویہ اور اس کا باپ دونوں ضعیف ھیں ۔ ابن ابی اویس: اس کا باپ حدیث چور ھے ۔ یہ دونوں جھوٹے، مشتبہ کار ھیں ۔ ان کا اعتبار نھیں ذرا بھی نھیں ھے ۔ نسائی کھتے ھیں: یہ شخص ضعیف ھے ۔ ایک دوسری جگہ فرماتے ھیں: قابل اعتماد نھیں ھے ۔ ابن عدی کھتے ھیں ۔ ان کے ماموں سے عجیب عجیب روایت نقل ھوئی ھیں کوئی بھی اس کی پیروی نھیں کرتا ۔ دولابی کتاب الضعفاء بھی کھتے ھیں: میں نے نصر بن سلمہ مروزی سے سنا ھے کہ کھہ رھے تھے ابن ابی اویس جھوٹا ھے، مالک کے حوالہ سے: ابن وھب کے مسائل ذکر کرتا ھے ۔ دار قطنی کھتے ھیں: اس کی روایت کو صحیح میں شمار نھیں کرتا ۔ سلمہ بن شبیب کھتے ھیں: میں نے سنا ھے کہ اسماعیل بن اویس کھہ رھا تھا: جب بھی کسی امر میں ان کا اختلاف نظر آتا ھے تو میں حدیث گڑھتا ھوں ۔ ۱۳
اسی طرح ابوھریرہ کی بھی روایت ھے جس کو حاکم نے نقل کیا ھے اس روایت کی سند میں، صالح بن موسی طلحی کوفی ھے، جس کے بارے میں علماء رجال نے کچھ اس طرح ذکر کیا ھے ۔ ابن حجر عسقلانی کھتے ھیں: ابن معین نے اس کے بارے میں کیا ھے کہ وہ کچھ بھی نھیں ھے ۔ مزید کھتے ھیں کہ صالح و اسحاق ولد موسی کچھ بھی نھیں ھیں، ان کی حدیثیں قابل ضبط نھیں ھیں ۔ ھاشم بن مرشد ابن معین سے نقل کرتے ھیں کہ انھوں نے کھا: وہ شخص معتبر نھیں ھے ۔ ابن ابی حاتم اپنے باپ کے حوالہ سے نقل کرتے ھیں کہ وہ شخص ضعیف ھے ۔ معتبر لوگوں نے اس کی بھت زیادہ برائیاں نقل کی ھیں ۔ میں نے ان سے پوچھا: اس کی حدیث ضبط کی جاتی ھیں ؟ انھوں نے جواب دیا، اس کی حدیث مجھے پسند نھیں آتی ۔ بخاری نے کھا ھے کہ اس کی حدیث، اس کے نقل کو تسلیم نھیں کیا جاتا ۔ نسائی کھتے ھیں اس کی حدیث ضبط نھیں کی جاتی، ضعیف ھے ۔ دوسری جگہ کھتے ھیں اس کی حدیثیں اخذ نھیں کی جاتیں ۔ابن عدی کھتے ھیں یہ وہ شخص ھے جو نقل کرتا ھے، اس کو کوئی تسلیم نھیں کرتا ۔ ترمذی کھتے ھیں بعض اھل علم نے اس شخص کی تائید نھیں کی ھے عقیلی کھتے ھیں: اس کی کوئی بھی حدیث قابل نقل و جستجو نھیں ھے ۔ ابن حبان کھتے ھیں: معتبر لوگوں سے روایت نقل کرتا ھے لیکن صحیح و ثابت روایت نقل کرنے والوں سے کسی طرح کی شباھت نھیں رکھتا کہ کوئی فیصلہ کرسکے یا نظر دے کہ اس کی روایت گڑھی ھوئی ھے یا الٹی کی ھوئی ھے ۔ ۱۴
ابن عبد البر کی روایت جو کتاب تمھید میں وارد ھوئی ھے، اس کی سند میں بھت سے راوی مجروح ھیں، مثلا کثیر بن عبد اللہ بن عمر جن کے ذریعہ ابن عبد البر کی روایت نقل ھوئی ھے ۔یہ تھے علماء رجال اھل سنت کے اظھارات جسے ابن حجر عسقلانی نے بیان کیا ھے ۔ ابوطالب، احمد کے حوالہ سے: اس کی نقل تسلیم نھیں کی جاتی معتبر نھیں ھے ۔ ابو خیثمہ کھتے ھیں کہ مجھ سے احمد نے کھا، اس کے ذریعہ سے، اس کی کوئی روایت نقل مت کرنا ۔ ابو داؤد سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کھا ۔ وہ ایک دورغ گو تھا ۔ ابو حاتم نے کھا کہ وہ شخص مضبوط نھیں ھے ۔ ابن عدی: جو بھی نقل کرتا ھے اس پر توجہ نھیں دی جاتی اور ابن عبد البر: ضعیف ھے ۔ بلکہ اس کے ضعیف ھونے پر اجماع ھے ۔ نیز وہ شخص اپنے اپنے باپ سے نقل کرتا ھے ۔ ابن حبان نے کھا ۔ اس کے باپ دادا سے ایک جعلی نسخہ نقل کیا ھے جس کو کتابوں میں ذکر کرنا جائز نھیں ھے بجز تعجب کی صورت میں ۔ حاکم نے کھا ۔ اس کے والد اور جد سے ایک نسخہ منقول ھے جس میں غلط چیزیں ھیں ۔ ۱۵
ان سب کے علاوہ اگر اس حدیث کو بالفرض صحیح تسلیم کرلیا جائے پھر بھی وہ خبر واحد ھے نہ علم اخذ کیا جاسکتا ھے اور نہ اس پر عمل کیا جاسکتا ھے اور اس قابل نھیں ھوسکتی کہ معتبر حدیث متواتر نص حدیث ثقلین جس کو ۳۰ صحابی سے زیادہ افراد نے نقل کیا ھے اس کے مدمقابل قرار پائے ۔ پھر بھی اگر صحیح مان لیا جائے تو معنی و مدلول کے لحاظ سے، کتاب و سنت اور کتاب و عترت میں کوئی تنافی نھیں ھے ۔ حدیث ثقلین کے معنی یہ ھیں کہ اس سنت محمد کو صرف عترت محمد سے اخذ کیا جائے، نہ دوسروں سے ۔ یہ وہ چیز تھی جسے علماء اعلام مثل ابن حجر ھیثمی نے درک کیا ھے کھتے ھیں کتاب اللہ و سنتی کی روایت میں یھی مراد ھے، جس حدیث میں صرف کتاب کا تذکرہ ھے ۔ ان احادیث کا نتیجہ یہ ھے :
۱ ۔ رسول اسلام نے تاکید فرمائی ھے کہ کتاب و سنت اور علماء اھل بیت سے تمسک رکھنا امت کا فرض ھے، امت صرف اس صورت میں گمراھی و ضلالت سے بچ سکتی ھے ۔ اور یہ تینوں روز قیامت تک ایک ساتھ ھیں ۔ ۱۶ ھمارے اس نتیجہ کی ایک تائید ۔ متقی ھندی کی روایت ھے جنھوں نے دونوں حدیث نقل کی ھے ۔ ۱۷
۲ ۔ برفرض یہ کہ رسول کا یہ فرمان کہ میں نے تمھارے درمیان، کتاب اللہ و سنت مصطفیٰ کو چھوڑے دے رھا ھوں ۔ تو پھر عمر کے لئے کیونکر جائز ھوا کہ وہ کھے حسبنا کتاب اللہ ۔ ۱۸ اب سمجھ میں آیا کہ اس حدیث کو خاندان نبوت کے بعد میں آنے والے دشمنوں نے خود گڑھ رکھا ھے یا وہ لوگ اصحاب کے اھل بیت رسول سے دور ھوجانے کی توجیہ کرتے ھیں ۔
۳ ۔ امت قرآن و سنت سے متمسک رھی لیکن گمراھی سے نہ بچ سکی، اصحاب آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے رھے ایک دوسرے کے مخالف رھے، ھر ایک اپنے نظریہ پر ثابت، اور اس کی تائید و تاکید کے درپے تھا اور ھر ایک رسول کی حدیث کا سھارا لیتا تھا اور لیتا ھے ۔ آج بھی علماء و فقھاء کے درمیان ایک ھی مسئلہ میں طرح طرح کے اقوال و نظریات ھیں اور سب کتاب و سنت سے متمسک رھنے کا دعوی کرتے ھیں ۔ جب کہ کتاب و سنت کا ایک ثابت نظریہ ھے ۔ اور حق صرف ایک ھے جو بدل نھیں سکتا ۔ یہ اختلاف بتا رھا ھے کہ امت گمراھی و ضلالت میں ھے ۔ ارشاد خداوند ھے: فَمَاذا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلا الضَّلالَ فَأنّی تُصۡرَفُونَ ۔ ۱۹ حق کے سواء ضلالت کے علاوہ اور کیا ھے تم لوگ کھاں جارھے ھو ۔ اللہ نے تفرقہ اور دین میں اختلاف کرنے سے منع کیا ھے ۔ اللہ عز و جل کا فرمان ھے ۔ تم لوگ ان لوگوں کی طرح مت ھوجاؤ، جو روشن دلیلیں واضح برھان (دین) آنے کے بعد بکھر گئے، فرقہ فرقہ ھوگئے، ان کے لئے سخت عذاب ھے ۲۰
۴ ۔ کیسے ھوسکتا ھے کہ رسول اپنی سنت سے متمسک رھنے کا حکم دیں جب کہ وہ جانتے ھیں کہ منافقین کیسی کیسی، کیا کیا تحریفات ایجاد کریں گے تکذیب کریں گے، خود فرماتے ھیں ۔ " قد کثرت علیَّ الکذّابۃ فمن کذب علیَّ متعمّداً فلیتبوا مقعدہ من النار ۔ ۲۱ مجھ سے جھوٹی باتیں نقل کرنے والے بھت زیادہ ھوگئے ھیں ۔ (جو بات میں نے نھیں کھی ھے اسے مجھ سے منسوب کر کے بیان کرنے والے بھت زیادہ ھوگئے ھیں) جو بھی عمداً مجھ سے منسوب کرے اس کا انجام جھنم ھے ۔ اس حدیث رسول سے واضح ھوتا ھے کہ آپ کی زندگی میں کذابین بکثرت پائے جاتے تھے، تو پھر مرنے کے بعد ان کی کیا کثرت ھوگی، آیا اب بھی رسول خدا کی عقل میں نھیں آیا کہ اپنے بعد ایک معیار ایک ھادی و مرشد حدفاصل مقرر فرما دیں جو صحیح و غلط، جھوٹ و سچ، حق و باطل میں تمیز کا ملاک ھو ۔
۵ ۔ خداوند متعال نے اپنی محکم کتاب قرآن مجید میں صاف لفظوں میں بیان کیا ھے کہ قرآن کو مفسر و مبین کی ضرورت ھے، ارشاد ھے ۔ وَ أنۡزَلۡنَا اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡھِمۡ ۔ ۲۲ پس مسلمانوں کو بیان نبی کی ضرورت ھے، امت کو شرح پیامبر و توضیح کی ضرورت ھے رسول، دلالت و معانی و مقاصد قرآن و آیت کو بیان کریں گے، یہ وہ قرآن ھے جس میں اختلاف نھیں ھے، کھیں سے کوئی باطل نھیں ھے اس کو نبی کی حاجت ھے، تو کیا سنت کو مبین و مفسر کی حاجت نھیں ھے ؟ اس کو تو قرآن سے بھی زیادہ مفسر کی ضرورت ھے چونکہ اس میں، اختلاف من گڑھت، جعل، نسبت سازی، بھت زیادہ ھے، جسے منافقین اور منحرفین نے ایجاد کی اھے ۔

تحجر فکری سے رھائی

جناب ادریس کھتے ھیں کہ میرا مقصد تھا کہ میں اپنے دین سے متعلق کافی بصیرت رکھوں ۔ چونکہ قرآن کی آیت ھے: قُلۡ ھذِہِ سَبِیلِی أدۡعُوا اِلَی اللہِ عَلی بَصِیرَة أنَا وَ مَن اتَّبَعَنِی ۔ ۲۳ کے تحت بھت محنت کی، کوشش کی، تلاش کیا، تاکہ اندھی تقلید میں اسیر نہ رہ جاؤں ۔ اصول، عقائد میں تقلید بھی نھیں ھے ۔ اب اللہ کی بھت زیادہ حمد کرتا ھوں کہ اس نے مجھے راستہ دکھایا، مجھے اس راستہ پر نھیں لے گیا کوئی بجز برھان و دلیل ۔ اور یھی مذھب اھل بیت ھے ۔ اس کا شکر ھے کہ اس نے اس آیت کا مصداق قرار دیا: سب باتوں کو غور سے سنتے ھیں پھر سب سے بھترین بات کو اخذ کرتے ھیں، اس کا شکر ادا کرتا ھوں کہ نعمت عقل پر ۔ اھل عقل اپنے عقائد پر منجمد نھیں رھتے، بلکہ حق و حقیقت امکان و توانائی کے ساتھ تلاش کرتے ھیں، یھاں تک کہ ان کو وہ حقیقت مل جائے، ارشاد رب العزت ھے جو لوگ ھم تک پھنچنے کی کوشش کرتے ھیں ھم ان کو اپنا راستہ دکھادیتے ھیں ۔ ۲۴



۱ ۔ نیجیریہ، قلزم اطلس کے خلیج غینا کے ساحل پر مغربی افریقہ کا ایک ملک ھے جس کی کل آبادی ۱۳۰ ملین سے اوپر ھے جو افریقی ممالک کے باشندوں کے اعداد و شمار کے اعتبار سے بڑی حکومت ھے اور تقریبا ۷۰ فیصدی مسلمان ھیں اور مسلک کے اعتبار سے اکثریت مالکیوں کی ھے اور اس ملک میں ۵ فیصدی شیعہ بھی ھیں ۔
۲ ۔ دیکھئے: مناقب ابن مغازلی شافعی ص ۲۳۴، مناقب خوارزمی حنفی ص ۱۵۴، فرائد السمطین جوینی شافعی ج ۲ ص ۱۴۳ ۔
۳ ۔ اس حدیث کو فضائل الصحابہ امام احمد بن حنبل ج ۲ ص ۷۷۹، کنز العمال متقی ھندی ج ۱ ص ۱۸۶، مناقب ابن مغازلی ص ۲۳۵، صواعق محرقہ ابن حجر ج ۲ ص ۴۳۸، ذخائر العقبیٰ طبری ص ۱۶، اسعاف الراغبین صبان شافعی (در ھامش نور الابصار) ص ۱۰۳، ینابیع المودہ قندوزی حنفی ج ۱ ص ۱۰۲، ۱۱۹، ۱۲۳، مجمع الزوائد ھیثمی ج ۹ ص ۱۶۳، طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۵۰، مسند ابی یعلی ج ۲ ص ۲۹۷ ۔
۴ ۔ دیکھئے: سنن ترمزی ج ۶ ص ۱۲۴، نظم درر السمطین زرندی حنفی ص ۲۳۲، ینابیع المودہ قندوزی ج ۱ ص ۹۹، تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۱۱۰، مصابیح السنۃ نغوی ج ۲ ص ۴۵۷، معجم کبیر طبرانی ج ۳ ص ۱۶۶ ۔
۵ ۔ القاموس المحیط مادہ ثقل ج ۳ ص ۳۴۲ ۔
۶ ۔ دیکھئے: صحیح مسلم بشرح النووی ج ۱۵ ص ۱۷۵، کتاب فضائل الصحابہ باب فضائل علی ع ۔
۷ ۔ دیکھئے: مجمع الزوائد للھیثمی ج ۹ ص ۱۶۳، الدر المنثور للسیوطی ج ۲ ص ۶۰، کنز العمال ج ۱ ص ۱۸۸، المعجم الکبیر للطبرانی ج ۵ ص ۱۶۶ ۔
۸ ۔ دیکھئے کتاب حدیث الثقلین و فقھہ، علی احمد السالوس ۔
۹ ۔ موطا امام مالک ج ۲ ص ۳۲۱ کتاب القدر ۔
۱۰ ۔ مستدرک الحاکم ج ۱ ص ۱۷۱ ۔
۱۱ ۔ فتح المالک بتبویب التمھید لابن عبد البر ج ۹ ص ۲۸۳، التمھید لابن عبد البر ج ۱ ص ۵۲۵ ۔
۱۲ ۔ دیکھئے: کنز لاعمال ج ۱ ص ۱۸۸ ۔
۱۳ ۔ دیکھئے: تنویر الحوالک للسیوطی ص ۶۴۸ ۔
۱۴ ۔ دیکھئے: تھذیب التھذیب ج ۱ ص ۳۱۰ تا ۳۱۲ ۔
۱۵ ۔ دیکھئے: تھذیب التھذیب ج ۱ ص ۴۰۴، ۴۰۵ ۔
۱۶ ۔ دیکھئے: تھذیب التھذیب ج ۱ ص ۴۲۱ تا ۴۲۳ ۔
۱۷ ۔ کنز العمال ج ۱ ص ۱۸۸ ۔
۱۸ ۔ یہ جلات عمر نے رسول خدا کی رحلت کے موقع پر اپنی زبان پر جاری کئے ھیں جسے صحاح و مسانید نے ذکر کیا ھے ۔
۱۹ ۔ سورہ یونس ۳۲ ۔
۲۰ ۔ سورہ آل عمران ۱۰۵ ۔
۲۱ ۔ دیکھئے الکافی للکلینی ج ۱ ص ۶۲، الخصال للصدوق ج ۱ ص ۲۲۵ ۔
۲۲ ۔ سورہ نحل ۴۴ ۔
۲۳ ۔ سورہ یوسف ۱۰۸ ۔
۲۴ ۔ سورہ عنکبوت ۶۹ ۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
3+5 =