پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|


احمد کواسی حنیف


گروہ ترجمہ سایٹ صادقین


ولادت

احمد کواسی، ٹرنیڈاڈ جزیرہ، بحر کارایب میں ۱۹۵۶ عیسوی میں پیدا ھوئے یہ جزیرہ ھمیشہ اضطراب و بدامنی و ناانتظامی کا شکار رھا ھے جس کے بھت سے اسباب ھیں، اس کی وجہ سے لوگ اس جزیرہ کو چھوڑ کو دوسرے علاقوں میں چلے جاتے ھیں، زیادہ تر لوگ یو ایس اے امریکا اور کناڈا جاتے ھیں ۔
احمد کواسی حنیف ان لوگوں میں سے ھیں جنھوں نے کناڈا کا رخ کیا اور اس ملک میں تعلیم حاصل کی اور سیاسی، نفسیاتی علوم میں لیسانس حاصل کیا ۔

آغاز

جیسا کہ معلوم ھے امریکی براعظم میں سیاہ فام باشندوں کو اجتماعی، اقتصادی جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے، یہ لوگ در اصل افریقہ براعظم سے تعلق رکھتے ھیں جن کو انگلینڈ، فرانس، پرتغال کے استعماری دور میں، یورپی تاجروں کے ذریعہ افریقہ سے امریکہ غلام بنا کر لایا گیا تھا، اس وقت سے سفید فام لوگوں کے ساتھ ان کی مشکلات ھیں جس طرح ریڈ انڈینس اور باقی اصل باشندوں کے ساتھ ھیں ۔
گذشت زمان کے ساتھ سیام فام باشندوں کی تعداد میں بھی اضافہ ھوا جب کہ سفید فام لوگوں کی طرف سے ھمیشہ ان پر ظلم ھوتا رھتا ھے، اس ظلم کی وجہ سے ان کی شخصیت بھی متاثر ھوئی ۔
استاد احمد کواسی اس سلسلہ میں کھتے ھیں :
"سیاہ فام لوگ صرف اقتصادی اعتبار سے مظلوم نھیں ھیں بلکہ ثقافتی اعتبار سے بھی مظلوم ھیں امریکا میں سماج سے دور رھنے اور اپنے اصل وطن سے بےخبر رھنے کی وجہ سے ان کی افریقی اصالت بھی کھو گئی ۔
وہ یورپی اور امریکی صحیح باشندے بھی نھیں بن سکے اس کھوئی ھوئی اصالت اور گم شدہ شخصیت کی ان کو تلاش ھوئی، چونکہ سیاہ فام تھے، سماج نے ان کو قبول نھیں کیا، ان کا کوئی مقام نھیں، ان لوگوں نے زمینی اور آسمانی آئین جیسے کمیونیسم اسلام میں خود کو تلاش کرنا شروع کردیا ۔ آخر الامر ان لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا یہی وہ آئین تھا جو ان کو الٰھی شخصیت دیتا ھے ۔

صرف اسلام

استاد احمد، سیام فام لوگوں کی اسلام کی طرف توجہ کے اسباب بیان کرتے ھوئے کھتے ھیں کہ اس کی ایک دوسری وجہ یہ ھے کہ وہ لوگ عمومی ذرایع ابلاغ (نیوز پیپر، ٹیکلی ویژن وغیرہ) استعمال نھیں کرتے یہ ذرایع اسلام کی غیر واقعی بلکہ بری تصویر پیش کرتے ھیں اور افریقی نسل کے لوگ ان کو اپنا دشمن اور سرکاری کارندہ سمجھتے ھیں ۔
نیز مسیحیت ان کو غربی بناتی ھے جب کہ غرب ان کو رد کرتا ھے اس کا نتیجہ یہ ھے کہ ان کو صرف اسلام کے دامن میں پناہ نظر آتی ھے، اور افسوس کی بات یہ ھے کہ جب کوئی مسلمان ھوجاتا ھے اس کو اذیت و آزاد دینا شروع کردیتے ھیں جب کہ آزادی کا نعرہ بھی بلند کرتے ھیں ۔

منشا انقلاب

حق شناسی اور تبلیغ دین کے لئے استاد احمد نے دین اسلام کے متعلق بھت زیادہ مطالعہ کیا اور اس مطالعہ کی برکت تھی کہ ان کو جس گمشدہ حقیقت کی تلاش تھی مل گئی، اور دائرہ اسلام میں آنے کے بعد مذھب اھل بیت (ع) کو اپنا آئین انتخاب کیا ۔ آپ کھتے ھیں :
میں نے دیکھا کہ یہ مذھب عصر جدید کی تمام آئیڈیا لوجی کا مضبوطی سے مقابلہ کرسکتا ھے، اور یہی وہ مذھب ھے جو اس عصر حاضر میں اپنے وجود کا دفاع کر رھا ھے ۔ یہ وہ مذھب ھے جو اس دور میں اسلامی معاشرہ بنانے کی صلاحیت اور قدرت رکھتا ھے
اس مذھب نے خصوصا بیسویں صدی میں بھت سی کامیابیاں حاصل کی ھیں ۔
میرے شیعہ مذھب اختیار کرنے کی ایک وجہ مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ ھے :
1 ۔ تاریخ الشیعۃ من الامام علی الی الامام جعفر الصادق (ع)
2 ۔ الشیعہ، تالیف علامہ طباطبائی
3 ۔ اصل الشیعۃ و اصولھا، تالیف مرحوم آیۃ اللہ کاشف الغطاء
4۔ الارشاد، تالیف شیخ مفید
5 ۔ المراجعات، تالیف شرف الدین عاملی
جب میں نے ان کتابوں کا مطالعہ کیا تو معلوم ھوا کہ اسلامی تاریخ میں دو گروپ ھیں ۔
1 ۔ اھل بیت اور شیعوں کا گروپ، جنھوں نے ابتداء ھی سے ظلم و بندگی غیر خدا کا مقابلہ کیا، اور راہ خدا میں جھاد کیا ھے ۔
2 ۔ حکومت و خلافت کا گروپ اور اس کے طرفدار جس کی نگاہ میں حکومت کی مخالفت خروج از دین کے برابر ھے ۔
عاشورا اور شھادت کا جذبہ جو اھلبیت ع سے منسلک ھے، یھی وہ شی ھے جس کے دم سے آج اسلام کا وجود باقی ھے ۔

استاد احمد کے اقدامات

1 ۔ کناڈا میں سیام فام لوگوں کے درمیان اسلام کی ترویج ۔
2 ۔ علمی اداروں اور انسٹیٹیوٹ میں لکچر دینا ۔
3 ۔ حوزوی تعلیم حاصل کرنا ۔
4 ۔ اسلام کے سلسلہ میں مقالہ تحریر کرنا ۔
5 ۔ دوسروں کو ھدایت دینا ۔
اللہ کے فضل و کرم سے چار لوگوں کو اسلام کا صحیح راستہ دکھا چکے ھیں، ان کو شیعہ مسلمان بنایا ھے جن مین دو مرد اور دو عورتیں ھیں اس کے علاوہ خود ان کا بھائی ۱۹۸۲ میں یورک یونیورسٹی ٹورنٹو میں تعلیم کے دوران ان کے ساتھ مسلمان ھوئے ھیں ۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
9+9 =