پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|


خوشابا شمعون حنا (شیخ علی)


شبیہ الحسن فیضی
( گروہ ترجمہ: سائٹ صادقین )


سابق عیسائی اور عراق کے باشندہ ھیں، آپ ۱۹۶۴ ع میں عراق کی راجدھانی بغداد میں پیدا ھوئے، اور ایک ایسے عیسائی گھرانے میں نشؤ و نما پائی جو عیسائی مذھب نیز اس کے رسم و رواج کا نھایت پابند تھا ۔
خوشابا شمعون اپنی زندگی کے حالات کو اس طرح بیان کرتے ھیں :
میری زندگی کے ابتدائی ایام میں میرے لئے تعمید ۔ 1 کے مراسم، دوسرے بچوں کی طرح کلیسا میں انجام دیئے گئے ۔
اور سات سال کی عمر میں میرے والد نے( اخذ تناول ۔ 2 کے لئے مجھے بھیجا ۔
یہ ایام میری زندگی کے بھترین اوقات میں سے تھے، کیونکہ ان ایام میں بھت سے مذھبی امور کی تعلیم حاصل کی تھی ۔

عیسائی ماحول کا اثر

خوشابا شمعون مزید بیان کرتے ھیں: جب میں سن بلوغ کو پھونچا تو عبادت خانہ و کلیسا میں بڑی پابندی سے میری رفت و آمد ھوگئی، جس کی بنا پر میرے ذھن میں عیسائی مذھب کے عقائد و تعلیمات نھایت عمدہ طریقہ سے راسخ ھوگئے تھے، لھٰذا نماز، روزہ اور دوسرے دینی امور کو انجام دیا کرتا تھا، بڑے نظم و ضبط اور شوق سے کلیسا میں جایا بھی کرتا تھا، خاص طور سے اتوار کے دن جو ( القداس الکبیر ) کے نام سے جانا جاتا ھے، اس میں اپنے پروردگار سے طلبِ مغفرت و استغفار اور اعلان توبہ کی کیفیت کو سیکھا، جس کا اعتراف ھم کلیسا میں پادری کے سامنے کیا کرتے تھے، اور پادری چھوٹے سے لکڑی کے بنے ھوئے کمرے بیٹھا رھتا تھا، جو ایک میٹر مربع زیادہ بڑا نھیں تھا، اس کمرے میں ایک پردہ پڑا رھتا، جس کے بیچ میں دو جگہ سوراخ تھا، ایک مردوں کے لئے اور دوسرا عورتوں کے لئے، ھم لوگ پادری کے سامنے بیٹھ کر اپنے گناھوں کا اعتراف کیا کرتے تھے، وہ ھمیں دوبارہ گناہ نہ کرنے کا حکم دیتا، اور بعض دعائیں و وظائف کو پڑھنے کو ھم پر واجب کرتا، تاکہ وہ خطائیں اور گناہ بخش دیئے جائیں ۔
عیسائیت سے اس وقت مجھے اور زیادہ قلبی لگاؤ ھوگیا، جب میرے والد نے میرے چھوٹے بھائی کو ( کلیسا ) میں دینی علوم حاصل کرنے کےلئے بھیجا، تاکہ وہ مذھبی راھنما و پادری بنے، میرا بھائی سال میں ایک بار اور بھت کم مدت کے لئے گھر میں آیا کرتا تھا، لھٰذا میرے والد اس کی ملاقات کے لئے گھر روانہ کرتے اور کبھی کبھی کلیسا میں بھی ملاقات کے لئے بھیجا کرتے تھے، میں وھاں کی معنوی فضا و روحانی ماحول کو جو اس جگہ پر چھایا رھتا رھا دیکھتا، اس سے وھاں کی تعلیم اور ان موضوعات کے بارے میں بھی سوال کیا کرتا تھا، جو انھیں پڑھایا جاتا تھا، وہ ھم سے بھت سے مسائل کے متعلق گفتگو کرتا تھا، لیکن میں ان مسائل کو اس زمانہ میں نھیں سمجھتا تھا، مجھے یہ بات بھی یاد ھے کہ میں دل ھی دل میں ایسی معنوی زندگی پر رشک کیا کرتا تھا، اور کھتا تھا کہ یہ کتنی اچھی زندگی ھے، جو لوگوں اور دنیا اور مافیھا سے دور ھے ۔

آفاقی معرفت میں موانع

خوشابا شمعون کھتے ھیں: ( جس وقت میری عمر بیس سال سے زیادہ ھوئی تو میں نے عیسائی عقائد و معتقدات کے بارے میں غور و فکر کیا )
مگر بڑے افسوس کی بات ھے، ان عقائد کو تحقیق و تعقل سے نھیں، بلکہ اندھی تقلید سے قبول کیا جاتا ھے، اور اس بات پر ایمان رکھنا کہ کلیسا کی طرف سے دی جانے والی تمام تعلیمات صحیح اور حق ھیں، نیز ان پر اعتقاد رکھنا ضروری ھے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دی ھوئی تعلیمات ھیں ۔
اس زمانہ میں کبھی بھی میرے ذھن میں یہ نھیں آیا، کہ ان عقائد کے بارے میں تحقیق و تلاش کی جائے اور ھم اس سلسلہ میں اپنے آپ کو قابل ملامت بھی نھیں سمجھتے تھے، کیونکہ اکثر لوگوں کو ھم اسی طرح پاتے تھے، وہ لوگ بھی غور و فکر و تحقیق نھیں کرتے تھے، اس لئے کہ دنیوی زندگی و مادیات کی مصروفیت نے عقل و فکر کو ایک ھی چیز میں محدود و منحصر کردیا تھا، وہ تھی دنیا میں اچھی زندگی گذارنے کے اسباب و وسائل کو جمع کرنے کی فکر تاکہ شان و شوکت کے ساتھ زندگی بسر ھو، رھی آخرت، دین، عبادات اور اعتقادات کی بات تو وہ صرف آباء و اجداد کے رسم و رواج، عادات و اطوار اور ان کی تقلید ھے، ھم ان کی ادائیگی بھی فقط تقلید کے طور پر انجام دیتے ھیں ۔
اسی طرح کلیسا میں حاضر ھونے کا سبب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صحیح تعلیمات حاصل کرنے کے لئے نھیں ھے، بلکہ فقط و فقط کلیسا کی طرف سے جن مراسم کا حکم دیا گیا ھے، انھیں ادا کرنا، توبہ کا اعلان، طلبِ مغفرت اور واضح طور یوں کھا جائے کہ بعض اخلاقی و تربیتی موعظہ و نصیحت کے سننے کے لئے اکٹھا ھوتے ھیں ۔

بے جا تعصب اور وھمی تقدیس

خوشابا شمعون کا کھنا ھے: اھم ترین معتقدات جس پر بھرپور اور بڑی قوت سے ایمان رکھتے تھے، وہ یہ کہ فقط عیسائی مذھب حق اور صحیح ھے، اس کے علاوہ باقی ادیان و مذاھب باطل و خرافاتی ھیں، جیسے یھودیت ایک باطل مذھب ھے، کیونکہ یھودی مذھب کے ماننے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اتباع نھیں کرتے ھیں، اس لئے وہ پروردگار کے غصب کے مستحق ھیں، اور مسلمان بھی اسی طرح پروردگار کے غصب کے مستحق ھیں، اس بنا پر جو عیسائی نھیں ھں، وہ جنت میں داخل نھیں ھوسکتے، جس قدر بھی عمل کرتا رھیں، اور عیسائی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے ھیں، ان سے محبت کرتے ھیں، اور ان کی پیروی و اتباع کرتے ھیں، یقینی طور پر وہ جنت میں جائیں گے، ان کا عمل چاھے جیسا ھو، کیونکہ ان عیسائیوں کے گناہ اور ان کی غلطیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وسیلہ سے بخش دی گئی ھیں ۔

اسلام کی صورت کو مسخ کرنا

خوشابا شمعون مزید کھتے ھیں: ( میرے والد اسلام اور مسلمانوں کی صورت کو بری طرح مسخ کر کے پیش کرتے تھے، جب کبھی ھم لوگوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں گفتگو ھوتی تھی، میرے والد ان کی شکل و صورت کو بگاڑ کر پیش کرتے تھے، نیز ان کی برائیاں کیا کرتے تھے، اور ھم سے ایسی داستانیں و واقعات نقل کیا کرتے تھے کہ جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت مجروح ھوتی تھی، میرے والد کھتے تھے کہ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برائی کرتے ھیں، جو کہ " ابن اللہ " ھیں، اسی طرح ان کی مادر گرامی کی برائی کرتے ھیں، ان دونوں کو جھٹلاتے اور ان کا مذاق اڑاتے ھیں ۔
مجھے اچھی طرح یاد ھے کہ جب ٹیلی ویژن سے قرآن کی تلاوت ھوتی تھی، تو میرے اس کو بند کرنے کا حکم دیتے تھے، تاکہ ھم تلاوت قرآن کو نہ سنیں ۔
جس کے نتیجہ میں، میں اسلام سے بغض و عناد رکھتا تھا، اور اس کی جو صورت میرے دل و دماغ میں رچی بسی تھی، وہ یہ کہ اسلام خرافات و باطل مذھب کے علاوہ کچھ بھی نھیں ھے، جس کو جزیرۃالعرب کے ایک شخص جن کا نام محمد صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم ھے، وہ لائے ھیں، اور میرے والد نے کھا: قرآن جس کو وہ لوگ آسمانی و مقدس کتاب خیال کرتے ھیں، وہ خود محمد صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تالیف کردہ اور ان ھی کی کتاب ھے، جسے مسلمان زبردستی پروردگار عالم کی طرف منسوب کرتے ھیں، میرا اعتقاد ھے کہ اکثر عیسائی اس بات پر متفق ھیں !)

بحث و تحقیق کی فضا کا ھموار ھونا

مشیت الٰھی خوشابا شمعون کے بھی شامل حال ھوئی، ان پر خدا کی رحمت ھو، جب وہ انقلاب اسلامی ایران کے بعد ایران تشریف لائے، انھیں دین اسلام کے سلسلہ میں بعض مسائل کے مطالعہ، تحقیق اور بحث و گفتگو کا سنھرا موقع ملا، بھت سے عراقی مسلمانوں سے ایران میں ملاقات ھوئی، یھاں تک کہ ان میں اور عراقی مسلمانوں میں اسلام اور عیسائیت کے بارے میں بحث و گفتگو اور مناظرے ھوتے رھے، یہ بحث و گفتگو غالباً اطمینان سے ختم نھیں ھوتی تھی، کیونکہ یہ لوگ بعض اعتراضات و سوالات عیسائیت کے بارے میں کرتے تھے، جس کا جواب دینے سے خوشابا شمعون عاجز ھوجاتے تھے ۔
لھٰذا وہ لوگ اپنے دل میں کھا کرتے تھے، یقیناً ان تمام اعتراضات کے جوابات موجود ھیں ۔
اور عیسائی علماء و کلیسا کے پادری ان دینی امور کی وضاحت پر قادر ھیں، جیسے بنوّّت (بیٹا ھونا ) تجسید (خدا کا جسم ھونا ) اور مسئلہ تثلیث وغیرہ ،
اس لئے کہ یہ مسائل عیسائیت کے اسرار میں شمار کئے جاتے ھیں، جن کا ادراک کرنا عیسائیوں کے علاوہ کوئی نھیں کرسکتا ھے، جو روح القدس سے مملو ھیں ۔

معرفتِ اسلام کی مکمل کوشش

خوشاباشمعون کھتے ھیں: میں نے اسلامی کتب و عقائد کا مطالعہ کرنا شروع کردیا، اور اسی کے ساتھ مجھے قرآن کریم کے پڑھنے کا شوق تھا، خاص طور سے جب مجھے معلوم ھوا، کہ اس مقدس کتاب میں بھت سی آیات موجود ھیں، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی مادر گرامی حضرت مریم سلام اللہ علیھا کے بارے میں نازل ھوتی ھیں، اور ان کے واقعات بیان کرتی ھیں ۔
میں نے اس آسمانی کتاب (قرآن کریم ) کو پڑھنا شروع کیا، بالخصوص ان آیات کو جو حضرت عیسٰی علیہ السلام اور ان کی مادر گرامی کے بارے میں تھیں، قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی مادر گرامی کے بارے میں جن عظیم صفات کا تذکرہ کیا ھے، اس سے مجھے بڑا تعجب ھوا، چونکہ میرے ذھن میں دوسری باتیں رچی بسی تھیں کہ مسلمان جناب عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کی برائی کرتے ھیں، لھٰذا مجھے یقین نھیں ھو رھا تھا، مگر میں نے اس آسمانی کتاب کو بالکل ان لوگوں کے بیان کے برعکس پایا، کیونکہ قرآنی آیتوں میں ان دونوں کے تذکرہ کو بڑی عظمت و وقار کے ساتھ بیان کیا ھے، اسی طرح میں نے ان آیتوں کو بھی پڑھا، جن میں عیسائیوں کے دوسرے عقائد کا بیان ھے، جیسے مسئلۂ تثلیث، بنوّت (بیٹا ھونا) صلیب اور فدیہ وغیرہ، میں نے ان قوی دلیلوں کو دیکھا جنھیں قرآن کریم نے ایسے کے مسائل باطل ھونے پر قائم کی ھیں ۔

دین اسلام کے قبول کرنے کا رحجان

خوشابا شمعون بیان کرتے ھیں: ( ان تمام مطالعات و تحقیقات کے بعد میرے دل و دماغ نے اسلام کے بیان کردہ افکار و اعتقادات طرف رحجان و تمایل پیدا کرلیا، لیکن میں نے اپنے اس داخلی رحجان و شعور کو پوشیدہ رکھا، اور میں حتیٰ الامکان مسلمانوں سے ملاقات کے موقع پر ان شکوک و شبھات کے بارے میں بحث و گفتگو کرتا تھا، جن کی مجھے تلاش و جستجو ھوا کرتی تھی ۔

عقل اور نفس کے درمیان نزاعی حالت کا وجود

خوشابا شمعون مزید بیان کرتے ھیں: دن گزرتے رھے، جس قدر بھی میں تلاش و مطالعہ کرتا تھا، میرا یہ رحجان بڑھتا چلا جارھا تھا ۔ لھٰذا میں اضطراب و بے چینی کے عالم میں زندگی بسر کر رھا تھا، اور اپبے نفس میں ایک نزاعی کیفیت پاتا تھا، لیکن میں کسی طرح کا فیصلہ کرنے پر قادر نہ تھا، اور یہ بھی نھیں سمجھ پاتا تھا، کہ کیا کروں ۔
ایک دن میں نے انسان کی ھدایت اور اس کے موانع کے موضوع پر ایک عالم کو تقریر کرتے ھوئے سنا، اس نے قرآنی آیت کی تلاوت کی، جس نے میرے پورے وجود کو جھنجوڑ دیا، گویا وہ میری کیفیت و حالت کے متعلق بیان کر رھا ھے، اور وہ آیت یہ تھی:
( فَبَشِّرْ عِبَادِ فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ) 3
پیمغبر آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے جو باتوں کو سنتے ھیں، اور جو بات اچھی ھوتی ھے اس کا اتباع کرتے ھیں )
اس کے بعد یہ نزاع میرے اندر حد سے زیادہ بڑھتی گئی، میرے قلق، اضطراب اور بے چینی کی انتھا نہ رھی، مجھے احساس ھوگیا کہ میری عقل اسلام کی بیان کردہ دلیلوں و براھین کے سامنے تسلیم ھو رھی ھے، میں نے بھی سمجھ لیا کہ اسلامی اعتقادات میرے آباء و اجداد کے عقائد کی بہ نسبت فطرت سے زیادہ قریب ھیں، اسی طرح میرے دل نے اسلامی اعتقادات کی حقانیت کی گواھی دی ۔
اس کے بعد دین اسلام کے پابند مسلمانوں کے ساتھ معاشرت و رفت و آمد کے ذریعہ میں نے انھیں بھت قریب سے دیکھا، تو میرے لئے یہ انکشاف ھوا، مسلمان جناب عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی مادر گرامی حضرت مریم سلام اللہ علیھا کا احترام، تعظیم و تکریم اور ان حضرات سے محبت کرتے ھیں، خاص طور سے اس احترام و تعظیم کا مشاھدہ میں بحث و گفتگو اور سوال و جواب کے موقع پر کیا، یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کا ذکر جب بھی کرتے تھے، تو ان کے ساتھ علیہ السلام یا علیھا السلام ضرور لاتے تھے، اسی طرح پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ علیھم السلام کی حدیثوں کو بیان کرتے وقت بھی تعظیم و تکریم کا اظھار کرتے تھے، جو ان حضرات(ع) سے جناب عیسیٰ علیہ السلام و ان کی مادر گرامی کی مدح و ثناء کے بارے میں وارد ھوئی ھیں، یہ تمام چیزیں باعث بنیں کہ سارا بغض و عناد، دشمنی اور کینہ، دوستی، محبت اور اُنس میں تبدیل ھوجائے ) ۔

حق و حقیقت قبول کرنے کے موانع

خوشابا شمعون کا بیان ھے: ( میری زندگی خوشی و فرحت اور خوف و ھراس کے درمیان گذر رھی تھی، بلکہ یہ یوں کھوں تو مبالغہ نہ ھوگا کہ میرے اندر رحمانی لشکر اور شیطانی لشکر کے درمیان ایک معرکہ اور کار زار کی حالت پیدا ھوگئی تھی، لھٰذا رحمانی و الٰھی لشکر مجھے فطرت و عقل کی آواز اور حق کے اتباع نیز اسے قبول کرنے کا حکم دے رھا تھا کہ جو میرے اوپر واضح و روشن ھوچکا تھا، دوسری طرف اس کے مقابلہ میں شیطانی لشکر مجھے مسلسل وسوسہ اور شکوک و شبھات میں ڈال رھا تھا کہ تم کس طرح اپنے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑ کر دوسرا مذھب اختیار کرسکتے ھو ؟ کیا یہ حق ھے، اور تمھارے باپ دادا سب کے سب باطل پر تھے اور ان حقائق سے غافل تھے کہ جن کا تم نے انکشاف کیا ھے؟ اسی طرح کی دوسری صورت اپنے گھرانے کے متعلق تھی کہ کیا تم انھیں بھی اس حقیقت کے بارے میں قانع کرسکتے ھو ؟ اگر انھیں معلوم ھوگیا کہ تم نے اپنا آبائی دین چھوڑ کر اسلام قبول کرلیا، تو کیا وہ تمھیں اپنے گھرانے کی فرد تسلیم کریں گے، درحالی کہ تم پر خود بھی واضح ھے کہ وہ لوگ اسلام کے متعلق کس قدر بغض و عناد رکھتے ھیں ؟ یہ سارے وسواس و شبھات میرے دل میں موجود تھے اور حق و حقیقت کے واضح ھوجانے کے بعد اسے قبول کرنے میں رکاوٹ و مانع بنے ھوئے تھے ) ۔

عقل و نفس کے درمیان نزاع و معرکہ کی شدّت

یہ معرکہ خوشابا شمعون کے باطن میں نھایت شدید ھوتا جا رھا تھا، جس کی صورت حال وہ اس طرح بیان کرتے ھیں: ( یہ بات اچھی طرح میرے ذھن نشین ھے کہ تین دن تک مجھے نہ کھانے کی خواھش تھی، اور نہ پینے کی، میں کھانا اس وقت تناول کرتا تھا، جب بھت شدید بھوک لگتی تھی، اس زمانے میں میری نیند اُڑگئی تھی، بے خوابی کی کیفیت طاری ھوگئی تھی، اور مجھے کسی طرح جوانی کے عالم میں بھی سکون نھیں ملتا تھا کہ میں کس راستہ کو اختیار کروں، گویا اس وقت یہ امر میرے لئے ایک ناممکن شئے کی صورت حال اختیار کرچکا تھا ۔
ایک رات میں نے بارگاہ خداوندی میں سچّے دل سے تضرّع و زاری کرتے ھوئے اس عظیم معرکہ، شکوک و شبھات اور اضطراب سے نجات پانے کے لئے مدد مانگی ۔ دوسرے دن صبح ھوتے ھی میں نے اپنے اندر ایک عظیم قوت و طاقت کا احساس کیا، جو اس کے پھلے میرے اندر نھیں پائی جاتی تھی، میں نے شرحِ صدر کا احساس کیا، اور میری ھدایت کے راستے میں جتنی رکاوٹوں، وسوسوں اور شبھات کو شیطان نے قرار دیئے تھے، میں نے ان سب کو روند ڈالا، لھٰذا میں نے اپنی زندگی کے دشوار و سخت ترین مرحلہ کو بڑے سکون و اطمینان سے طے کرتے ھوئے فیصلہ کیا کہ اسلام کو قبول کروں، اور حق و حقیقت کے راستے پر گامزن ھوجاؤں، نیز اپنے باپ دادا کے تقلیدی دین کو چھوڑ دوں، جس کے نتیجہ میں میری نئی زندگی سعادت مندی کے ساتھ شروع ھوئی ھے ) ۔

دین اسلام کی عمیق معرفت

خوشابا شمعون نے اس کے بعد چند سال دقیق و گہرے مطالعہ و بحث کے لئے تنھائی اختیار کی، تاکہ اصول اسلام، فروع اسلام اور اس کے احکام و نظریات کے بارے میں عمیق معلومات ھوسکے، اسی طرح گذشتہ دین کے بارے زیادہ سے زیادہ اور عمیق جانکاری ھوسکے، اس کے بعد دونوں کے اندر اعتقادات و تعلیمات کا تقابلی جائزہ لیا، تو روز روشن کی طرح حق کو جلی اور واضح پایا، جس سے یقین ھوگیا کہ جن اعتقادات کو ( عیسائیت ) اپنے ماننے والوں پر تحمیل کرتی ھے، اور انھیں اسرار مسیحیت کے نام سے جانتی ھے، ان میں تناقض و تضاد پائے جائے ھیں، جن کو نہ تو عقل قبول کرتی ھے اور نہ ھی انھیں درک کرتی ھے ( کیونکہ ان میں تناقضات کا وجود ھے ) جیسے مسئلہ تثلیت ، بنوّت ( بیٹا ھونا ) تجسید ( جسم والا ھونا ) اس طرح کے اعتقادات وغیرہ جن کا عقل سے دور کا تعلق بھی نھیں ھے۔ اس کے برعکس اسلام کے تمام عقائد عقلی دلیلوں پر استوار ھیں، خاص طور سے توحید جو اصول دین میں سے ھے، اس پر اسلام استوار ھے، کیونکہ اس میں معارف الٰھی کا سمندر موجزن ھے، جن کی معرفت حاصل کرکے انسان دنیا میں یکتاپرستی، توحیدی اور خوش بختی و سعادت مندی کی زندگی بسر کرتا ھے ۔

قبولیت حق کے متعلق تجربہ

خوشابا شمعون جنھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام ( علی ) رکھا ھے، بیان کرتے ھیں: ( میرا اعتقاد ھے کہ تعصب، جھل و نادانی، ھویٰ و ھوس کی پیروی اور غفلت وغیرہ یہ بنیادی اسباب ھیں، جو انسان کو حق ماننے اور قبول کرنے سے روکتے ھیں ) ۔
لھٰذا وہ معتقد ھیں کہ صرف بحث و جستجو اور مطالعہ انسان کو فائدہ نھیں پھونچا سکتے، جب تک کہ اس نے اپنے نفس کا تزکیہ نہ کیا ھو، قلبی طور پر حق کو قبول کرنے کے لئے زمین ھموار نہ کی ھو، اور اپنے باطن کو تمام شکوک و شبھات سے پاک نہ کیا ھو، جو انسان کے لئے حق واضح ھونے کے بعد اسے قبول کرنے میں مانع ھوتے ھیں، منجملہ ان میں وہ چیزیں ھیں، جو انسان کی ذاتی مصلحت سے ھماھنگ نھیں ھیں، نیز انھیں میں سے انسان کے وجود میں راسخ موروثی عقائد اس کے عواطف بھی مخلوط ھیں، اور کسی انسان میں اتنی طاقت نھیں ھے کہ آسانی سے ان سے نجات حاصل کرسکے جب تک جھاد بالنفس اور قبول حق و حقیقت کے لئے آمادہ نہ ھوگیا ھو ۔

تالیف

۱ ۔ " ھبۃ السماء، رحلتی من المسیحیۃ الیٰ الاسلام " :
یہ کتاب ۱۴۲۰ ھجری مطابق ۲۰۰۰ عیسوی میں " دار الصادقین للطباعۃ والنشر" سے شائع ھوچکی ھے، اس کتاب میں عیسائی مذھب چھوڑ کر اسلام کو قبول کرنے کے متعلق مختصر حالات کا تذکرہ ھے نیز جو حقائق ان کے لئے کشف ھوئے ھیں انھیں بھی ذکر کیا ھے ۔
کتاب کے خاتمہ میں مولف کا بیان ھے: ( جس چیز نے مجھے اس کتاب کے لکھنے پر آمادہ کیا، وہ میرا انسانیت کی ذمہ داری کے متعلق احساس و شعور ھے تاکہ میرے دوسرے بھائی بھی اس سے استفادہ کریں، ان کے کانوں میں بھی حق کی آواز پھونچے اور خوابِ غفلت سے بیدار ھوں ۔
بڑے افسوس کی بات ھے کہ جس مشکل میں اکثر انسان زندگی گزار رھے ھیں، وہ بنیادی مقصد سے دوری ھے کہ ھمیں خدا نے کس لئے خلق کیا، اور لوگوں کی ساری طاقت و فکر دنیا اور اس کے زیب و زینت کے حصول میں لگی ھوئی ھے، اور دین و مذھب، معنوی مسائل اور حب الٰھی، اکثر لوگوں کے نزدیک حاشیہ و اضافی امور میں شمار ھوتے ھیں یا وہ بالکل ایسے امور سے غافل ھیں، اس کے علاوہ ایک سبب یہ تھا کہ میرے عیسائی بھائی جو جناب عیسیٰ علیہ السلام کے لائے ھوئے اعتقادات و تعلیمات سے بھت دور ھیں، وہ صرف نام کی پیروی کرتے ھیں، ان کے لئے بھی ایک لمحۂ فکر یہ بنے، اور جو تعلیمات و اعتقادات دور حاضر میں ان پر تحمیل کئے جا رھے ھیں، وہ ان کی تعلیمات کے مخالف ھے، کیونکہ انھوں نے جو توحید و یکتاپرستی کے اعتقادات تعلیم کئے تھے، وہ اس وقت بت پرستی کے مشابہ ھوگیا ھے، جیسے مسئلہ تثلیت، بنوّت، اور جس شریعت و مذھب کی انھوں نے تاکید کی تھی، متعدد مرتبہ اس کے متعلق وصیت فرمائی تھی اسے پس پشت ڈال دیا، اور اس کے بدلے میں ایک فرضی شئے پر اکتفا کرلیا ھے، لھٰذا میری یہ آواز ھر آزاد، حق و حقیقت کی تلاش کرنے والے عیسائی کے لئے ھے کہ جو چیزیں کلیسا کی طرف سے انھیں تعلیم دی جاتی ھیں، انھیں مسلّم و یقینی سمجھتے ھوئے ان کے قبول کرنے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ تمام عقائد و دینی امور میں عمیق تحقیق، تلاش و جستجو سے کام لیں، کیونکہ یہ مسئلہ بڑی اھمیت کا حامل ھے، اس لئے کہ جو اخروی زندگی ھمارے سامنے پیش آنے والی ھے، اس کی بد بختی اور خوش بختی ھماری دنیوی زندگی کے اعتقادات و اعمال ھی کا نتیجہ ھوگی کیونکہ ( الدنیا مزرعۃ الآخرہ ) دنیا آخرت کی کھیتی ھے، اس لئے ھمیں چاھئے کہ اس کے متعلق وقت صرف کریں، غور و فکر کریں، اور زیادہ سے زیادہ اھمیت دیں، یہ بھت عظیم و خطیر امر ھے، لھٰذا عقلمند کو خود بھی کوشش کرنا چاھئے، اور اپنے افکار کا استعمال ایسے راستے کے انتخاب میں کرنا چاھئے کہ جو آخرت کی زندگی کے لئے سعادت کا باعث بنے ۔
اس کتاب میں ایک مقدمہ اور دو فصلیں ھیں:
مقدمہ: اس میں ان کے حالات زندگی اور عیسائیت چھوڑ کر اسلام کے قبول کرنے کی کیفیت کا تذکرہ ھے ۔
فصل اول: اس میں درج ذیل مطالب شامل ھیں: کتاب مقدس ، عھد قدیم ، عھد جدید، عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی حیات عھد جدید میں، صلیب ، قیامت ، فدیہ، اصلی خطا، عھد جدید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کون ھیں، ثالوث اقدس اور شریعت ۔
فصل دوم: اس فصل میں اسلام کے بارے میں بحث و گفتگو کی ھے، زندگی حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، ان کی نبوت کی دلیلیں اور معجزے، قرآن کریم، قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعات، شریعت ۔



1. تعمید: (عیسائی مذھب میں) پانی سے غسل دینے کی ایک رسم ھے جو پاکیزگی و نقاوت کی طرف اشارہ ھے، اور نجاست و گناھوں سے پاک ھونے کی نشانی و علامت سمجھی جاتی ھے نیز یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلیسا کی طرف قانونی طور منسوب ھونا ھے ۔
2. تناول: یہ شرقی کلیسا اور خاص طور سے بغداد میں متعارف ھے کہ جب بچہ سات سال کا ھوجائے تو گرمی کی تعطیلات میں سات ھفتہ کے لئے کسی شھر کے کلیسا میں بھیجا جاتا ھے تاکہ نماز اور دوسرے مذھبی مراسم کو سیکھے ۔
3. الزمر آیت: ۱۷۔ ۱۸ ۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
4+2 =