پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|


ڈاکٹر تاج الدین جاعونی


گروہ ترجمہ سایٹ صادقین


اشمی کینگڈم جورڈن کی راجدھانی عمان میں پیدا ھوئے ، اعلی تعلیم حاصل کی اور لیڈیس میڈیسن (طب النساء) میں P . H . D کیا ، رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی مطالعہ کا بھی شوق رکھتے تھے ، کافی وقت اس مطالعہ کے لئے مخصوص کیا جس کی بنا پر میڈیسن کو دین اور اخلاق کے ساتھ ملایا ۔ سائنس ، ایمان ، اخلاق کو جمع کیا ، اس کا ایک ثمرہ یہ تھا کہ اسلامی دنیا کی کتابوں میں ایک قیمتی کتاب چار حصوں پر مشتمل تالیف کی جس کا عنوان ھے ۔ (انسان ، اللہ کی ایک عجیب مخلوق ، تخلیق و تصویر انسان ، طب اور قرآن کی روشنی میں) یہ کتاب عربی زبان میں اس نام سے شایع ھوئی ھے ۔ " الانسان ھذا الکائن العجیب اطوار خلقہ و تصویرہ فی الطب و القرآن " اس کتاب کی تالیف کے ذریعہ انھوں نے عالم انسانیت کو ایک طبی اسلامی ثقافت پیش کی جس سے مسلمان کے ایمان و عقیدہ میں قوت پیدا ھوتی ھے ، اس کتاب کے ذریعہ سائنس کو دین سے ملایا جس سے عظمت قرآن کی اعجاز آور دلیلیں زندگی کے ھر شعبہ میں نظر آتی ھیں۔
فھم انسانی میں قرآنی اساس پر رشد و ترقی کا موقع فراھم کیا ، وہ لوگ جو اسلامی حقیقت و ھویت کو مٹانے پر تلے ھوئے ھیں ان کے خلاف دلیلیں اور براھین پیش کئے کہ اسلام دین جاوید ھے ۔

دینی تعلیم کا اھتمام

ڈاکٹر تاج الدین نے خود کو ایسا رکھا کہ ڈاکٹری اور میڈیسن مانع نھیں ھوسکا کہ دینی تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھیں ، اس مشغلہ و تعلیم کے ساتھ ساتھ صحیح معرفت کا مطالعہ اور اس کی تلاش جاری رکھی ۔
ڈاکٹر تاج الدین کھتے ھیں کہ اسلام نے قرآن و حدیث کے ذریعہ طلب علم و کسب معرفت پر تاکید کی ھے ، جاھل انسان کو اندھا شمار کیا ھے ، اور علم کو معیار ارزش قرار دیتا ھے اور سطحی نگاہ کو بیھودہ امر جانا ھے ، اس آیت کو دیکھو کیا کھہ رھی ھے الّذِینَ جَاھَدُوا فِینَا لَنَھۡدِیَنَّھُمۡ سُبُلَنَا 1 جو لوگ ھمارے لئے کوشش کرتے ھیں ھم ان کو اپنا راستہ دکھلاتے ھیں ۔ آپ نے دیکھا کہ قرآن علم و معرفت کے حاصل کرنے پر کتنا زور دے رھا ھے ، یہ علم و فکر ھے جس کے ذریعہ تامل و تدبر حاصل ھوتا ھے اور کائنات کی باریکیوں تک رسائی ھوتی ھے اور ذھن کھلتا ھے ، دل گشادہ ھوتا ھے ، اللہ تعالی کا فرمان ھے قل ھل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون انما یتذکر اولوا الالباب 2 کیا وہ لوگ جو علم والے ھیں اور جو جاھل ھیں برابر ھوسکتے ھیں ؟ ھرگز برابر نھیں ھوسکتے ، اھل عقل کیوں نھیں سمجھنے کی کوشش کرتے ۔ دوسری جگہ پر ارشاد ھے یعلمکم اللہ و اللہ بکل شی علیم 3 اللہ تمھیں علم دیتا ھے اور اس کو ھر شی کا علم ھے قرآن مجید ، عالم و جاھل میں فرق و امتیاز ڈالتا ھے ، پھر اس کو حیران و حیرت میں نھیں چھوڑ دیتا بلکہ ھر طرح کے فیض حاصل کرنے تدبر و تعمق کرنے کا حکم دیتا ھے جو راہ علم ھے ، بھت سی آیتیں ھیں جو انسان کو بیدار کرتی ھیں ، غافل رھنے سے روکتی ھیں ، شاید واقعیت کو اور حق کو درک کرسکے ، ارشاد خداوندی ھے : اِنَّ فِی ذَالِکَ لِذِکۡرَی لِمَن کَانَ لَہُ قَلۡبٌ أوۡ ألۡقَی السَّمۡعَ وَ ھُوَ شَھیدٌ 4 اس کتاب میں عبرتیں ھیں جن کے پاس دل ھے یا غور سے سنتے ھیں اور اھل فکر ھیں ۔
قرآن عالم و جاھل میں فرق ڈالتا ھے ۔ پھر اس کے سامنے ھر طرح کے علوم و معارف سے پیش کرتا ھے ، طبیعت انسان ، زندگی سیاست ، سماج ، احکام ، حقوق و قوانین ، تاریخ ، میڈیسن وغیرہ اور سب کے سب انسان کو بافھم و شعور بنانے کے لئے ، اور اس کو عبرت و علم اخذ کرنے کی تاکید کے لئے ھیں ۔
ڈاکٹر احمد ، علم دین حاصل کرنے کی اھمیت کے سلسلہ میں کھتے ھیں : انّہ ما من حرکۃ الا و أنت محتاج فیھا الی معرفۃ " تمھاری کوئی بھی ایسی حرکت نھیں ھے جس میں تم کو علم کی ضرورت نہ ھو ، علم معیار حیثیت انسان ھے ، قرآن مجید نفوس کو بیدار اور عقلوں کو تامل کرنے پر زور دیتا ھے اور بھت ساری آیتیں ھیں جو اس کو چراغ ھدایت کے عنوان سے حق و باطل کا راستہ دکھا رھی ھیں ۔

عقیدۂ حق کی جستجو

ڈاکٹر تاج الدین کھتے ھیں : قرآن مجید نے عقیدت و معرفت یعنی علم و عقیدہ کے لازم و ملزوم ھونے کو بیان کردیا ھے ارشاد ھے لٰکِنَّ الرّسِخُونَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡھُمۡ وَ الۡمُؤمِنُونَ یُؤمِنُونَ بِمَا اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَا اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیمِینَ الصَّلَوة وَ الۡمُؤۡتُونَ الزَّکَوة وَ الۡمُؤۡمِنُونَ بِاللہِ وَ الۡیَوۡمِ الآخِر اُولَئکَ سَنُؤۡتِیھِمۡ أجۡراً عَظِیماً 5 جو لوگ ٹھوس علم و معرفت رکھتے ھیں اور جو ایمان والے ھیں ، ایمان رکھتے ھیں جو آپ پر نازل کیا گیا ھے اور جو آپ سے پھلے انبیاء تھے ان پر نازل کیا تھا اور جو لوگ نماز قائم کرتے ھیں ، زکات ادا کرتے ھیں ۔ اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ھیں یھی وہ لوگ ھیں جن کو دو مرتبہ اللہ اجر دےگا ۔
دوسری آیت میں ارشاد ھے : وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ أنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَبِّکَ فَیُؤمِنُوا بِہ فَتُخۡبِتَ لَہُ قُلُوبُھُمۡ وَ اَنَّ اللہَ لَھَادِ الَّذِیۡنَ ءَامَنُوا اِلَی صِرَاطِ مُّسۡتَقِیم 6 جو اھل علم ھیں ان کو علم ھوگا کہ یہ حق ھے تمارے پالنے والے کی طرف سے بس وہ ایمان لائے اور پھر ان کے دل زندہ ھوتے ھیں خشیت رکھتے ھیں اور اللہ ھدایت دینے والا ھے ایمان والوں کو صراط مستقیم کی ، نیز ارشاد ھے شَھِدَ اللہُ أنَّہُ لا اِلٰہَ اِلا ھُوَ وَ الۡمَلائِکَۃُ وَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ قَائِماً بِالۡقِسۡطِ لا اِلٰہ اِلا ھُوَ الۡعَزیزُ الۡحَکِیمُ 7 اللہ گواھی دیتا ھے کہ کوئی خدا بجز اللہ اور فرشتہ اور تمام اھل علم گواہ ھیں کہ نھیں ھے کوئی سوائے اس کے جو عزت و حکمت والا ھے ۔
یقینا قرآن نے طلب علم ، معرفت نفس ، شناخت کائنات ، معرفت اللہ ، معرفت احوال الناس اور تاریخی جانکاری کی دعوت دی ھے آزادی فکر کی تاکید کی ھے ، صحیح نتیجہ تک پھنچنے کا حکم دیا ھے فَبَشِّرۡ عِبَادِ الَّذِیۡنَ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَہُ اُوۡلٰئِکَ الَّذِیۡنَ ھَدَاھُمُ اللہُ وَ اُوۡلَئِکَ ھُمۡ اُوۡلُوا الاَلۡبَابِ 8 بشارت میرے ان بندوں کو جو باتیں غور سے سنتے ھیں پھر جو سب سے بھتر و انس ھوتا ھے اس کی پیروی کرتے ھیں اس کو اپناتے ھیں ۔ اور پھر ایک جگہ پر ارشاد ھوتا ھے کہ لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی 9 دین میں جبر و اکراہ نھیں ھے ھدایت ، ضلالت سے واضح طور پر جدا ھو گئی ھے ۔
اسی لئے ڈاکٹر تاج الدین نے صحیح اسلامی مذھب کی تلاش شروع کردی آبائی مذھب سے قطع نظر اور سماج کے عقائد کو کنارے رکھ کر آپ نے طویل مطالعہ کا آغاز کردیا ۔

تغییر مذھب

ڈاکٹر جاعونی نے حقیقت کی تلاش جاری رکھی اور ھر قسم کی سابقہ ذھنیت سے قطع نظر صرف خدا کی مدد سے سعی و تلاش شروع کی جس کا نتیجہ یہ ھوا کہ آپ نے اھل بیت ع کو خلائق کے درمیان خدا کا منتخب ، سفینہ نجات امت ، دین میں اختلاف سے امان ، پرچم ھدایت ، امت کے درمیان رسول کی امانت پایا اور اگر اھل بیت نہ ھوتے تو حق ضائع ھوجاتا نور الٰھی خاموش ھوجاتا ۔ اس لئے ڈاکٹر جاعونی نے اپنی عقل اور دل کی آنکھیں کھول لیں تاکہ ان بزرگواروں سے علم حاصل کریں اور یہ بھی سمجھ لیا کہ حق تک رسائی کا یقینی ترین راستہ اھل بیت کا راستہ ھے جس مین کسی شک و شبھہ کی گنجائش نھیں ھے انھوں نے ھی امت اسلامیہ کو گمراہ کن راستوں کے اتباع کرنے سے بےنیاز کر دیا ھے ۔ اور پھر کیا تھا ڈاکٹر جاعونی اپنے سابق مذھب پر نہ ٹک سکے اور انھوں نے اپنے دل کی گھرائوں سے مذھب اھل بیت کو اپنا لیا اور حق کی دعوت دینا شروع کر دیا اور اپنی ذاتی مصلحتوں اور مفادات کی خاطر کتمان حقائق کرنے والوں کے برخلاف حقائق کا اعلان کرنا شروع کر دیا اور اس طرح آپ نے ایک بھاری ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھا لی ۔ آپ کی جملہ کار کردگیوں میں سے ایک بعض مجلوں میں مقالات کی نشر و اشاعت ھے جس کے ذریعہ آپ نے معارف و حقائق اھل بیت اور ان کی عظمت و منزلت اور رسول اسلام کے بعد ان کی خلافت کے استحقاق کو بیان کرنا شروع کر دیا ۔

تالیف

الانسان ھٰذا الکائن العجیب اطوار خلقہ و تصویرہ فی الطب و القرآن
یہ کتاب سنہ ۱۴۱۳ھ میں دار العماد اردن سے چار جلدوں میں شائع ھو چکی ھے
اس کتاب کے مقدمہ میں مولف فرماتے ھیں کہ جو کچھ مین پیش کر رھا ھوں اسے علمی لقطہ یا مشاھدات قرآنی یا طبی حقائق سمجھنا چاھئے جس سے بھت سے لوگ آشنا ھیں اور یہ کوئی نئی چیز نھیں ھے نہ ہی کوئی معما یا اسرار ھیں جسے مین کشف کر رھا ھوں بلکہ قرآنی آیات یا کھی لیجئے کہ وہ معجزات ھیں جس کا جاننا سمجھنا اور اس پر عبور رکھنا ضروری ھے ۔
مولف اس کتاب کے چار اجزاء میں خلقت انسان اور رحم مادر میں نطفہ سے لیکر انسان ھونے تک اور زندگی کے جملہ مراحل میں اس کے حالات کا جائزہ لیتے ھیں
اور بحث کے درمیان طبی اصولوں اور نصیحتوں کی طرف اشارہ کیا ھے جس سے انسان اپنی زندگی میں بروئے کار لاکر بھت سی بیماریون سے محفوظ رھ سکتا ھے اسی طرح عورتوں اور بچوں کی حمایت و حفاظت کے سلسلہ میں بھت سی نصیحتیں پیش کی ھیں ۔



1. سورہ عنکبوت ۶۹
2. سورہ زمر ۹
3. سورہ بقرہ ۲۸۲
4. سورہ ق ۳۷
5. سورہ نساء ۱۶۲
6. سورہ حج ۵۴
7. سورہ آل عمران ۱۸
8. سورہ زمر ۱۷ ۔ ۱۸
9. سورہ بقرہ ۲۵۶



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
10+7 =