پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|


سعید سامرائی



ترجمہ: شبیہ الحسن فیضی
(گروہ ترجمہ: سائٹ صادقین )


آپ شھر سامراء میں پیدا ھوئے اور ایسے گھرانہ میں نشؤ و نما و تربیت پائی جو مذھبِ حنفی سے تعلق رکھتے تھے، لیکن آپ مذھبی خصوصیت کے قائل نہ تھے، اور نہ مذھبی حیثیت سے کسی تعصّب کا شکار تھے، بلکہ ھر اس چیز کی طرف مائل ھوتے و رجحان رکھتے جس کو دلیلین و براھین بحث و تحقیق کے ذریعہ ثابت کرتی تھیں، اسی وجہ سے انھوں نے یونیورسٹی کی تعلیم کے تمام کرنے کے بعد مذھب شیعہ اختیار کرلیا ( کیونکہ آپ ادلّہ و براھین کے ذریعہ ثابت شدہ امور کو تسلیم کرتے تھے ) ۔
اس کے بعد عراق کے بعثی نظام (صدام کا دور حکومت) جو وھاں پر مسلط اور حاکم تھا، اس سے چھٹکارا پانے کی غرض سے عراق سے باھر دوسرے ملک میں ھجرت کی، اور وہ فی الحال لندن میں مقیم ھیں ۔

صحیح عقیدہ کی شناخت کا راستہ

ڈاکٹر سعید کا نظریہ ھے کہ حق اور صحیح اعتقاد کی معرفت حاصل کرنے کے دو راستے پائے جاتے ھیں، ایک تو یہ ھے کہ خود اس صحیح اعتقاد تک پھونچے، دوسرے یہ کہ وہ وھم و خیال کے ذریعہ اپنے اعتقاد کو صحیح جانے اور مانے ۔

پھلا راستہ

یہ ھے کہ وہ شخص غور و فکر اور برھان و دلیل کے ذریعہ صحیح عقیدہ کی معرفت حاصل کرے اور اس عقیدہ تک پھونچے ۔

دوسرا راستہ

یہ ھے کہ وہ شخص جن لوگوں کی عدالت اور ان کے احترام کا قائل ھے، ان کی پیروی کرتے ھوئے تقلیدی طور پر ان کے بتائے ھوئے عقیدہ کو مان لے، یہ راستہ کبھی تو انسان کو حق تک پھونچائے گا، اُس صورت میں جب کہ جن لوگوں کے آراء و نظریات، طور طریقہ اور ان کے افعال کی پیروی کر رھا ھے، وہ لوگ خود بھی حق پر ھوں اور کبھی یہ راستہ انسان کو گمراھی و ضلالت کی طرف لے جاتا ھے، جب خود ان لوگوں کا راستہ صحیح نہ ھو، ایسی صورت میں اپنے اعتقاد کے مطابق سوچے گا کہ وہ حق پر ھے، در حالیکہ یہ اس کا وھم و گمان رھے گا، یہ وھی حالت و کیفیت ھے، جس کی توصیف قرآن کریم کر رھا ھے:
" یَحۡسَبُونَ اَنَّھُمۡ یُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعاً "(سورۂ کھف) خیال کرتے ھیں کہ یہ اچھے اعمال انجام دیتے ھیں ۔
" أَلا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِن لاَّ يَشْعُرُونَ " (سورۂ بقرہ) خبردار ھوجاؤ بے شک یھی لوگ فسادی ھیں لیکن سمجھتے نھیں ۔
لیکن پھلے راستے کے متعلق حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے جمل کے روز، حق کے گروہ کے بارے میں سوال کرنے پر، سائل کے جواب میں بیان فرمایا ھے، امام علیہ السلام نے یہ نھیں کھا: ( انا علیٰ الحقّ ) ھم حق پر ھیں، اگر یہ بات کھتے تو بھی بات بالکل سچی تھی، بلکہ آپ نے فرمایا: ( اعرف الحق تعرف اھلہ ) حق کو پھچانو تاکہ اس کے ذریعہ اھل حق کو پھچان جاؤ ۔
ڈاکٹر سعید کا نظریہ ھے کہ اگر جستجو و تحقیق کرنے والا انسان پھلی قسم کے لوگوں میں سے ھے، تو صحیح و حق کتابوں کا مطالعہ اس کے لئے فائدہ مند ھوگا، لیکن اگر وہ دوسری قسم کے افراد میں ھے، اور پھلے ھی سے جن کتابوں کو مطالعہ غرض سے لایا ھے، ان سے بد گمان ھے، اور انھیں اچھی نظروں سے نھیں دیکھتا، تو ایسا شخص ان کتابوں کے پڑھنے سے اپنے کو رنجیدہ، غمگین، شکستہ خاطر پائے گا اور اس کا دل تنگ ھوتا جائے گا، کیونکہ وہ ایسی عبارتوں اور متون کو پڑھ رھا ھے، جن سے حقائق روشن و واضح ھو رھے ھیں، نیز ایسے واضح و جلی نصوص سامنے آرھے ھیں، جن سے اس کے اندر ھیجانی کیفیت پیدا ھو رھی ھے اور گردن شرم سے جھکتی جا رھی ھے، اب ایسی صورت میں یا تو ان نصوص کی تکذیب کرے گا، لھٰذا حتیٰ الامکان انھیں جھٹلانے کی کوشش میں لگ جائے گا، یہ کمزور و ضعیف افراد کی فکر ھے کہ جو حق بات کے سامنے لاجواب و حیران ھو کر رہ جاتے ھیں، کیونکہ ان سے کوئی جواب نھیں بن پڑتا ھے، لھٰذا اوھام کا سھارا لیتے ھوئے ان کا انکار کر دیں گے، یا یہ کہ خداوند عالم کی طرف سے غیبی امداد ھو، جس کی بنا پر ایسی حالت سے تیزی کے ساتھ گزر جائیں گے اور اپنے نفسوں پر غالب آکر انھیں حق کے طور طریقہ اور نصوص کے مطابق چلنے پر آمادہ کریں گے ۔

فرقہ پرستی کے تعصّب سے پرھیز

ڈاکٹر سعید سامرائی کا نظریہ ھے کہ فرقہ پرستی، حق کی شناخت و معرفت کے اھم ترین موانع اور رکاوٹوں میں سے ھے، یہ فرقہ وارانہ تعصب ایسا مانع ھے کہ جو بحث و تحقیق اور جستجو کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آتا ھے، یا حق و حقیقیت کے واضح و روشن ھوجانے کے بعد اس کی قبولیت کے بجائے، حق سے گریز کرنے پر آمادہ کرتا ھے ۔
ڈاکٹر سعید فرقہ پرستی اور اس کے تعصب کی توصیف اس طرح کرتے ھیں، کہ یہ قلبی و دلی احساسات و جذبات ھیں، جن کی بنیاد جعلی و بے حقیقت تاریخ پر رکھی گئی ھے، اس کی ساری تعلیمات جھالت و نادانی اور حقیقت سے نا واقفیت پر رکھی گئی ھے، اس کا وجود کینہ، حسد اور نفاق پر قائم ھے، سب سے اھم چیز یہ کہ اس کو اوضاع پر مسلّط، حکّام نے اپنے سیاسی حالات کو استوار و محکم کرنے کے لئے امت میں تفرقہ اندازی سے کام لیا ھے، تاکہ لوگوں پر حکومت کی جاسکے، واضح الفاظ میں یہ کہ فرقہ پرستی اھل سنت کا ادراک و احساس ھے، اس معنیٰ میں کہ شیعوں کے مقابلہ میں کینہ و عناد رکھتے ھیں، اس لئے کہ شیعہ ان کے پیشواؤں کو کسی سبب و وجہ سے تسلیم نھیں کرتے ھیں، یا شیعوں کا ادراک و احساس ھے کہ اھل سنت ان کے آئمہ علیھم السلام کو نھیں مانتے ھیں، اور اھل سنت ظالمین کو دوست رکھتے ھیں، نیز ان کے معاون و مددگار ھیں، یہ ساری باتیں فرقہ واریت کے تعصب میں تحقیق و جستجو کے بغیر ھوتی ھیں، اور ان کے درمیان فرق نھیں کرتے کہ کون ظالم کا ساتھ دیتا ھے، اور کون ظالموں سے اپنی ناراضگی کا اظھار کرتا ھے ۔

ڈاکٹر سعید مزید بیان کرتے ھیں

لھٰذا فرقہ واریت اور اس کے تعصّب کا باعث وہ شخص ھے، جو ایسے تکلیف دہ احساسات و جذبات کو لوگوں میں پھیلاتا ھے کہ جن کی بنیاد بیھودہ باتوں اور تربیت و تعلیم دینے والوں کی نادانی پر استوار یا خبیث حکّام کی توجیہ و تاویل پر قائم ھے، یا ان دونوں ھی باتوں پر ان کی بنیاد رکھی گئی ھے، اب اس کے بعد فرقہ پرستی کا نام اس شخص پر صادق آتا ھے، جو غلط و نادرست نظریات و مواقف پر قائم ھو، خواہ وہ ان احساسات و جذبات میں غور و فکر سے کام لیتا ھو، یا بغیر غور فکر کے اس میں الجھا ھو ۔

مذھب شیعہ اختیار کرنے کے اھم اسباب

ڈاکٹر سعید نے تحقیق و جستجو کی منطق و بنیاد پر شیعہ کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کیا، وہ اس سلسلہ میں فرماتے ھیں کہ کسی کے قلم کی اعجاز بیانی نے مجھے حیرت و تعجب میں نھیں ڈالا، جس قدر سید عبد الحسین شرف الدین موسوی عاملی (رحمۃ اللہ علیہ) کے قلم کی اعجاز بیانی نے حیرت و تعجب میں ڈالا ( یقیناً ان کے قلم کی طاقت و توانائی تو موصوف کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والوں کو ھی معلوم ھے ) جب کہ مذھب اھل بیت علیھم السلام سے آشنائی کے متعلق جن کتابوں کو میں نے ابتدا میں پڑھا اور ان کا مطالعہ کیا، وہ آپ ھی کی تالیف و تصنیف کردہ کتابیں تھیں، موصوف کی کتابوں، بحثوں اور نوشتہ جات نے جو تاثرات میرے اندر پیدا چھوڑے ھیں، ان کے بعد کسی کی تحریر نے وہ اثر قائم نھیں کیا، یقیناً ان کے قلمی اعجاز کی ایک عظیم تاثیر رھی ھے، اس منھج و مسلک کے متعلق جس باب میں بھی انھوں نے قلم اٹھایا ھے، ان میں آناً فآناً، سلسلہ وار مطالب و مضامین کی گہرائی و گیرائی بدرجہ اتم نظر آتی رھی ھے، میں تدریجی طور پر جس قدر بھی کا مطالعہ کرتا تھا، ان کے بیان کردہ مطالب و مضامین میں نھایت ھی عمیق استدلال اور مضامین میں ارتباط پاتا تھا ۔

ڈاکٹر سعید مزید بیان کرتے ھیں

سید شرف الدین موسوی (رح) نے ایک دین کے متعدد مسالک کو متحد کرنے میں پے در پے بھت سی کاوشیں انجام دیں، جو اھل علم سے پوشیدہ نھیں ھیں، آپ کا مسلک و منھج اس سلسلہ میں مشکلات کو ڈھونڈ کر علمی اعتبار سے ان کا جواب و راہِ حل نکالنا ھوتا تھا کہ جن سے فرار کی کوئی باقی نھیں رہ جاتی تھی، اور نہ تو اس میں اشکال کی گنجائش رھتی تھی، اور ان سے دلوں کی کجی و کثافت دور ھوجاتی تھی، اس طرح جو مسلمانوں کے اندر طرح طرح کے شائعات اور غلط بیانیاں ایک دوسرے کے متعلق، انھیں دور کرنے کے لئے پائی جاتی تھیں، ان کی بیخ کنی کر دیا کرتے تھے، یہ نھج و طور طریقہ میری نظر میں ایسے ھزاروں طریقوں سے بھتر ھے کہ جن میں مشکلوں کے نہ پائے جانے کے باوجود، انھیں بھی فرموش کرنے کا حکم دیا جائے ۔

اعتقادی انقلاب

نتیجہ میں ڈاکٹر سعید نے اپنے اوپر لازم و ضروری قرار دیا تھا کہ بحث و تحقیق میں وہ دلیل و برھان کے تابع رھیں، لھٰذا ان کے نزدیک حق و حقیقت کو تسلیم کرنے اور اس کے اذعان و یقین کرنے کے علاوہ کوئی راہ چارہ نظر نہ آتی تھی ۔
ڈاکٹر سعید اعتقادی انقلاب کے متعلق مزید کھتے ھیں: جب کسی کے اندر اعتقاد میں انقلاب کی حالت پیدا ھوتی ھے، تو وہ چند صفات کی طرف اشارہ کرتی ھے: اول: ایسا شخص بچپنے میں حاصل کردہ تعلیمات کو محفوظ نھیں رکھتا، بلکہ اس سے دوری اختیار کرتا ھے، کیونکہ اس زمانے میں جو کچھ سیکھا تھا، وہ اس انسان پر منقلب و تبدیل ھو چکا ھوتا ھے، پس جو چیزیں تعلیم و تعلّم کے ذریعہ اس کے دل و دماغ میں رچی بسی تھیں وہ زائل ھوجاتیں ھیں ۔
دوم: ایسا انسان دوسروں کی رائے و نظریات کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ھوتا ھے، اگر ایسا نہ ھو، تو اس کے اعتقاد و نظریات میں نہ تبدیلی ھوگی اور نہ دوسروں کی رائے قبول کرے گا، خاص طور سے عقیدہ کے متعلق یہ چیز قبول نہ کرے گا ۔
سوم: ایسا شخص حق و حقیقت کی جستجو و تلاش کرتا ھے، اور اپنے ماضی کی تعلیم و تربیت پر باقی نھیں رھتا، بلکہ اس میں تحقیق و جستجو اور جانچ پڑتال کرتا ھے ۔
چھارم: ایسا شخص حق کی خدمت میں راغب و مائل ھوتا ھے، اس میں کسی طرح کی کوتاھی سے کام نھیں لیتا ھے، ورنہ اگر دیکھا جائے تو مذھبِ شیعہ اختیار کرنے والوں کو کون سا دنیوی فائدہ ھوتا ھے ؟ بلکہ جو شخص بھی شیعہ ھوا ھے، اس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ھے، اور اس حالات بھی تاریخ میں ملتے ھیں، کیونکہ دنیا قرن اول ھجری سے لے کر ھمیشہ شیعوں سے روگردان رھی ھے، اور شیعوں کو مسلسل ظلم و ستم، طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا ھے، انھیں قید خانوں میں ڈالا گیا، پھانسی دی گئی، قتل کیا گیا، زندہ درگور کیا گیا، جلا وطن کیا گیا، اور طرح طرح کی سزائیں دی گئیں ۔
ڈاکٹر سعید مذھب اھل بیت (ع) کے اختیار کرنے کے سلسلے میں اپنے متعلق بیان کرتے ھیں: میں نے لندن، فرانس اور نیویارک میں مذھب شیعہ نھیں اختیار کیا ھے، کہ جھان پر شیعہ امن و امان میں ھیں، بلکہ میں نے بغداد میں رہ کر اپنے شیعہ ھونے کا اعلان کیا، جھاں عفالقہ کا عروج اور ان کا طاغوت صدام حکومت کر رھا تھا، جس جگہ شیعوں کو قید خانوں میں ڈالا جاتا تھا، جلا وطن کیا جا رھا تھا، قتل کیا جاتا، اور طرح طرح کی سزائیں دی جا رھی تھی ۔
میں مزید یہ بھی بیان کرتا ھوں کہ میں نے اس وقت اپنی شیعیت کا اعلان کیا، جب کہ صدّامیوں کی طرف سے شیعوں پر بھت زیادہ مظالم ھوتے تھے انھیں ھر طرح کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ۔ یہ بھت ھی پر آشوب زمانہ تھا ۔ اور یہ سن ۱۹۷۰ عیسوی اور ۱۹۸۰ عیسوی کی دَھائیوں کا زمانہ تھا، لھٰذا ایسے موقع پر دنیوی بھبودی کے بارے میں کوئی سوچ بھی نھیں سکتا، جس طرح دنیوی امور میں فکری خوشحالی و آسودہ حالی کا بھی امکان نھیں پایا جاتا ۔

تالیفات

۱) ۔ " حجج النھج، المختار من نھج البلاغہ ":
یہ کتاب سن ۱۴۰۷ ھجری مطابق ۱۹۸۷ عیسوی میں موسسہ فجر بیروت سے شائع ھوئی ھے ۔
اس کتاب کے مقدمہ میں مؤلف کھتے ھیں: میں نے دو موضوع کے تحت نصوص کا انتخاب کیا ھے، اور مجھے ان دونوں موضوع سے کافی دلچسپی تھی، یا اس بھتر طریقہ سے یہ کھوں کہ دونوں موضوع میں سے کسی سے ارتباط پایا جاتا رھا ھو، بایں معنیٰ کہ ایک چیز دوسرے کے لئے سبب و علت قرار پائے، چنانچہ پھلا موضوع امام علی علیہ السلام کی تمام معاصرین پر فوقیت، فضیلت اور برتری کے عنوان سے ھے، جس کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث و نصوص اور وصیت کو دلیل بناتے ھوئے ثابت کیا گیا ھے ۔
اور دوسرا موضوع امام علی علیہ السلام کی خلافت بلافصل کو انھیں احادیث و نصوص اور وصیت کو دلیل و برھان بناتے ھوئے ثابت کیا ھے، چونکہ ان دونوں موضوع میں بھت گہرا رابطہ پایا جاتا ھے، بنا بر این ان منتخب کلمات میں آپ امام علی علیہ السلام کے خطبہ کو جو جنگ صفین کے موقع پر بیان فرمایا ھے، اور اس سے قبل و بعد کے کلام نیز سائل کے سوال اور امام علیہ السلام کے جواب ملاحظہ کریں گے ۔
آپ نے وصیت کو دو مقام پر ذکر فرمایا: یعنی یہ کہ آپ (ع) حضرت رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصی و جانشین ھیں، اسی طرح دیگر احادیث و نصوص جن کو میں نے انتخاب کیا ھے، جس طرح ان منتخب احادیث میں اس سے بھی کھیں زیادہ وسعت و شمولیت پائی جاتی ھے، جن میں دیگر ائمہ اھل بیت علیھم السلام کا ذکر ملتا ھے ۔ اور امام علی علیہ السلام ان میں اول شمار کئے گئے ھیں……
یہ کتاب مقدمہ کے علاوہ چار ابواب پر مشتمل ھے:
باب اول: نھج البلاغہ پڑھنے والے شخص کو کیا حاصل ھوگا ۔
باب دوم: خطبوں، خطوط، موعظوں اور کلمات کا انتخاب، نیز اھم موضوعات اور ان کی شرحیں ۔
باب سوم: منتخب کلمات کے ملحقات و ضمیمے، یہ چند فصلوں پر مشتمل ھے، منجملہ ان میں امام (ع) کے فضائل و مناقب، وصیت، نصوص، اور دوسروں پر برتری، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد امام (ع) کی خلافت بلافصل کے متعلق اپنے حق سے دفاع، شوریٰ، عائشہ اور اس کے حامی و طرفدار اور یوم جمل، معاویہ، عمرو عاص، اور صفین، بغض و عناد رکھنے والے اور راہ راست سے منحرف افراد ۔
باب چھارم: عبد اللہ نعمت کے ترتیب دیئے گئے، نھج البلاغہ کے منابع و مآخذ سے منتخب کلام کے حوالہ جات، یہ تین فصلوں پر مشتمل ھے ۔
یہ بعض منتخب خطبوں اور کلام کے منابع و مصادر پر مشتمل ھیں، بعض نامے، خطوط اور بعض مسائل کے جوابات اور کلمات حکمت کے منابع و مآخذ شامل ھیں ۔

۲) ۔ " الطائفیۃ فی العراق، الواقع و الحل " :
یہ کتاب ۱۴۱۳ ھجری مطابق ۱۹۹۲ عیسوی میں مؤسسہ فجر لندن سے شائع ھوئی ۔
اس کتاب کی تعریف میں مؤلف نے تحریر فرمایا ھے: " میرا اعتقاد و نظریہ ھے اور میں اسے تسلیم کرتا ھوں کہ اکثر و بیشتر اھل سنت اس افسوسناک مسائل و صورت حال کی اطلاع نھیں رکھتے مگر جس فرقہ وارانہ تعصّب پر ان کی تربیت کی گئی ھے، اور انھیں کے دباؤ میں وہ پلے بڑھے ھیں، لھٰذا سب سے پھلے عراق کے لئے ۔ دوسرے عمومی طور پر تمام عراقیوں کے لئے، تیسرے جو اس روش کے دباؤ میں ھیں، چوتھے عراق کے مظلوم شیعوں کے لئے، جس چیز نے مجھے اس کتاب کے لکھنے پر آمادہ کیا ھے، وہ یہ ھے کہ اس قابلِ افسوس صورت حال کو اھل سنت کے لئے واضح و روشن کروں کہ جس موقف پر وہ قائم ھیں اور انھیں صحیح موقف و طرز عمل کی نشاندھی کروں، جس پر عمل پیرا ھونا چاھئے، اور اس موقف کے پیچھے کس کا ھاتھ ھے، جس پر وھاں کے اھل سنت قائم ھیں، اس کے اسباب و محرکات کو شیعوں کے لئے بھی واضح کر دینا چاھتا ھوں …………… "
یہ کتاب ایک مقدمہ اور چار ابواب پر مشتمل ھے، ھر باب میں کچھ مقالے اور اس کے خلاصے ھیں، ان ابواب میں درج ذیل عناوین ھیں:
۱ ۔ کیا عراق میں فرقہ وارانہ مشکلات ھیں ؟
۲ ۔ فرقہ وارانہ مشکل ۔
۳ ۔ حل کا راستہ ۔
۴ ۔ مسلمان، مبادی، ماضی اور مفروضہ موقعیت کے مثلث میں ۔

۳) ۔ " صدام و شیعۃ العراق ":
یہ کتاب ۱۹۹۱عیسوی میں موسسۂ فجر لندن سے شائع ھوئی ھے، اس کتاب میں ایک مقدمہ، سات فصلیں اور ایک خاتمہ کا ذکر ھے، ان فصول میں درج ذیل موضوعات کے محور پر بحث کی گئی ھے منجملہ: شیعوں اور شیعت کے اصل حالات و مشکلات، ان کا وجود اور ان کی تاریخ، عراق اور عربوں سے ایرانیوں کا طرز عمل و رویّہ اور فاسد کون لوگ ھیں و ……… ،



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
7+8 =