پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|


دمرداش بن زکی العقالی


گروہ ترجمہ سایٹ صادقین


مصر میں پیدا ھوئے، اقلیم اسیوط کے عقال گاؤں میں پرورش پائی قاھرہ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی ۔

متعدد ذمہ داریاں اور سروسیں

کچھ دنوں تک وکیل پیشہ رھے وزارت عدل مصر کی طرف سے سرکاری جج بنے، ترقی کرکے جسٹس چانسلر کے عھدہ پر پھنچے ۱۹۷۵ع میں سعودی عرب کے وزارت داخلہ (ھوم منسٹری میں اڈوائزر کی ذمہ داری سنبھالی اور مصر عدلیہ کی طرف سے معاون رھے پھر مصر واپس آئے، کچھ دن قضاوت میں رھے لیکن سیاسی مصروفیات کی وجہ سے عھدہ ترک کردیا اور مصر لیبرل پارٹی میں ممبر بن گئے اور ۱۹۸۴ع میں پارٹی کے اتفاق آراء سے نائب رئیس منتخب ھوئے ۔۱۹۸۶ع میں مصری پریسیڈنٹ کے حکم نامہ کے تحت ایوان بالا میں ممبر ھوگئے ۔۱۹۸۷ع میں عام الیکشن میں خود کو امیدوار قرار دیا اور ۱۲۷۰۰۰ ووٹ حاصل کرکے پارلمنٹ تک پھنچے ۔ مصر کے تمام الیکشن میں کسی امیدوار کو اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ملنے کا یہ پھلا اتفاق تھا پارلمنٹ ممبر منتخب ھوجانے کے بعد مصر کی عام سلامی کے لئے فعالیت شروع کردی ۔

فکری سفر

متعدد شغل اختیار کرنے کے سبب ذھن کھلے اور اپنے عقائد میں تجدید نظر کرنے کی فکر پیدا ھوئی اور جستجو شروع کردی آخر کار اللہ نے ان کے دل کو نور بخشا اور حق تک رسائی ھوئی، دیکھا کہ وہ اھل بیت کے پاس ھے ان کی اتباع شروع کردی ۔

مذھب اھل بیت اختیار کرنے کا پھلا قدم

جناب دمرداش کھتے ھیں : دو دھائی مذھب حق تلاش کرنے کے بعد مجھے نصیب ھوا ۔ جستجو جاری رکھی آخر الامر اطمینان کی حد کو پھنچے اھل سنت کی کتابوں سے اھل حق تک رسائی ھوئی ۔

دوسرا قدم شیعہ مذھب کے سفر میں

دمرداش کو سعودی عرب کی وزارت میں مشاورت کی ذمہ داری اور مصر سرکار کی طرف سے معاون اس کے بعد حاجیوں کے ساتھ آنے والی کتابوں کی تفیشی کمیٹی میں ممبر کی ذمہ داری ملی اس کمیٹی کا کام ایرانی حاجیوں کے ساتھ آنے والی کتابوں کو ضبط کرنا تھا اگر وہ قانون ضبط کے تحت آرھی ھے ۔ سعودی حکومت کا مقصد اس کمیٹی کے تشکیل دینے کا یہ تھا کہ ھم جن کتابوں کو روکتے یا ضبط کرتے ھیں وہ جید علماء کی صوابدید پر قانونی بنیاد پر ھوتی ھے یہ کتابیں ملک میں گمراھی و ضلالت پھیلاتی ھیں ان کی روک تھام شرعا واجب ھے ۔ کمیٹی کی ذمہ داری سنبھالنے سے پھلی اتفاقا ایک دن بھت سارے ایرانی حاجیوں کی بھت ساری کتابیں ضبط کی گئی سعودی حکومت کو بھت پسند آیا کہ اس طرح کی کتابیں اس کمیٹی کے ذریعہ ضبط ھوئی جس میں دمرداش ھوں تو بھت اچھا ھوگا ۔
حکومت کے اس فیصلہ کے کچھ دن بعد کمیٹی صدر دمرداش کے پاس سرکاری لیٹر لیکر آئے کہ وہ اس پر دستخط کرے کہ کمیٹی نے ان کتابوں کو بادقت دیکھا ان کو ضبط کرنا، فنا کرنا واجب ھے چونکہ وہ اس کا ممبر ھے اور سارے ممبروں کی اس پر دستخط ھوتی ھے دمرداش کھتے ھیں کہ میں نے کھا : میرے بھائی میں کیسے دستخط کروں جب کہ ان کتابوں کی صورت تک نھیں دیکھی ھے ۔ دمرداش نے کمیٹی صدر سے کتابوں کا مطالبہ کیا کہ دیکھے اس میں ھے کیا پھر اس لیٹر پر دستخط کرے ۔ لیکن صدر راضی نھیں ھوا خود صدر اور اس کے ساتھی نے دستخط کر دیے اور وزارت داخلہ کے نمایندہ کو پیش کردیا یہ کھتے ھوئے کہ اس دو دستخط پر اکتفاء کیا جائے اور قانونی مشاور دمرداش کی دستخط کی ضرورت نھیں ھے ۔ لیکن وزارت داخلہ کا متعلقہ مسؤول انصاف پسند تھا اس نے مجھے بلایا بڑی آؤ بھگت کی مجھے سے کھا جو پڑھنا چاھو لے جاسکتے ھو کمیٹی ممبران نے کھا ان کتابوں کو ھرگز نھیں پڑھیں گے ان کو معلوم سے اس میں کیا ھے وزارت داخلہ کے اس مسؤول نے دو مھینہ کا مجھے وقت دیا خود وہ شخص تعلیم یافتہ تھا اسے علم تھا کہ دو مھینہ کا عرصہ کم از کم درکار ھے میں نے کتابیں لیں اور مطالعہ میں مشغول ھوگیا ۔ میں نے دیکھا کہ ھر سطر کے پڑھنے سے میرے وجود میں ایک نیا انسان وجود میں آرھا ھے آخری مطالعہ میرا حدیث ثقلین پر تھا میں نے دقت کی جو کچھ شیعوں کے نزدیک ھے اور اھل سنت کے یھاں ۔

آخر کار

اس طرح کے مطالعہ کے بعد اس کا ھم و غم یہ تھا کہ اپنے عقائد کو قرآن کریم سے استنباط کرے آھستہ آھستہ روشن نظریہ دستیاب ھوا اور خورشید حقیقت کا طلوع ھوا اپنے پرانے مذھبی عقائد پر باقی نھیں رہ سکا اندھی تقلید بےشعور پیروی کو ترک کرکے مذھب اھل بیت شیعہ اثنا عشری کو اختیار کرلیا ۔

تالیفات

۱۔ دعائم المنھج الاسلامی (اسلامی اصول کے ارکان) ناشر دار الصفوہ ۱۴۱۷ھ اس کتاب کے بارے میں ۔ المنھاج میگزین کے چوتھے شمارہ فصل زمستان ۱۴۱۷ھ میں اس طرح ذکر ھے : مولف کا نظریہ ھے کہ اسلامی اصول اس کے طریقہ بیان پر منحصر ھیں جو انسان کو خود اپنی معرفت دلاتے ھیں پھر خدا کی معرفت حاصل ھوجاتی ھے ۔ مقام عبودیت کو حاصل کرنے کے لئے اپنی بحث کو دو فعلوں میں رکھا ھے ۔
۱ ۔ فصل معرفت، فعل عبودیت
فصل معرفت میں اس کے راہ اور مصادر کے سلسلہ میں بحث کیا ھے یہ بتاتے ھوئے کہ اھل نظر اس سلسلہ میں دو متضاد راستہ اپنائے ھوئے ھیں چونکہ ان کا مکتب فکر الگ الگ ھے ۔ اس طرح مولف، فطرت، حس، عقل، الھام، وحی جیسے مسائل کو حل کرتے ھیں ۔ مولف نے کتاب کو دائرہ کار عقل کی بحث پر ختم کیا ھے کہ اس کا دائرہ حصول اطمینان از وجود وحی ھے اور عبودیت کے مسئلہ کو بیان نھیں کیا ھے ۔
۲ ۔ محاضرات عقائدیہ (عقائدی تقاریر)
مرکز ابحاث عقائدی قم نے دمرداش کی حدیث ثقلین پر تقریر کے مجموعہ کو کتاب کی شکل میں شایع کیا ھے ۔ مرکز ابحاث عقائدی قم کی دعوت پر دمرداش نے حدیث ثقلین پر کچھ تقریریں کی تھیں جن کو کتاب کی شکل میں مرکز نے شایع کیا اس مجموعہ کے مباحث یہ ھیں ۔
۱ ۔ الرحلۃ الی الثقلین (منزل ثقلین کا سفر) ۔ اس بحث میں اپنا زندگی نامہ کہ کس طرح مذھب اھل بیت سے آشنائی اور آخر میں رسائی ھوئی اور اھل بیت ع کے عظیم مقام اور شان و منزلت کو بیان کیا ھے ۔
۲ ۔ الامامہ فی القرآن (قرآن میں امامت کا تذکرہ) منظم و بھترین استدلال قرآن کی آیتوں سے پیش کرتے ھیں اور اھل بیت ع کی امامت پر دلیل قائم کرتے ھیں آخر میں حاضرین کے سوالوں کے جوابات ھیں ۔
۳ ۔ الامام الحسین فی سفر الشھداء (امام حسین شھادت کی کتاب) اس مفصل و طولانی تقریر میں امام حسین کے جد امجد حضرت ابراھیم علیہ السلام سے لیکر نانا رسول خدا ص تک انبیاء کی تاریخ ھے اور بنی خدا سے قریش کے حسد کا تذکرہ اسلام کے خلاف ان کی جنگ اور ممانعت اسلام منھدم کرنے کی ان کی تمام داخلی کوششوں کا ذکر ھے ۔ امام حسین کے مدینہ سے خروج اور حضرت موسی کا مصر سے خوفزدہ حالت میں خروج پھر ان دونوں کا مقایسہ کیا ھے بنی امیہ نے امام حسین کے قتل کے بعد کیا کیا اور امام مھدی کے ظھور کے بعد ان کا انجام کیا ھوگا سب کا تذکرہ ھے ۔
۴ ۔ انتخاب الطریق من الظلمات الی النور (تاریکی سے نور کا راستہ) اس میں سفر حق کی تفصیلات ذکر کی ھیں ۔ جو پھلی تقریر ھے جس میں ایرانی حاجیوں کی کتابیں جسے سعودی حکومت نے ضبط کرلیا تھا ان کتابوں سے کس طرح فائدہ اٹھایا اور اھل بیت کی عظمت اور ان کا مقام حدیث ثقلین کے ذریعہ معلوم ھوا اس کا تذکرہ کیا ھے ۔
۵ ۔ من ھم الشیعۃ (شیعہ کون ھیں؟) متعدد امور کی طرف اس کتاب میں اشارہ کیا ھے بعض قرآنی آیات کی تفسیر اور نبی پاک اور ائمہ ھدی علیھم السلام کی سنت کا تذکرہ اور نبی خدا کے بعد، ھدایت الٰھی کی ذمہ داری، اھل بیت اور امام کو نقل ھونے کی کیفیت اور شیعوں کا وارث اھل بیت ھونا اور یھی وہ لوگ ھیں جن کے ذریعہ خدا کا دین کامیاب ھوگا اور ظھور قائم کے بعد یہ دین ھر دین پر غالب ھوگا ۔

مباحث و موضوعات

امت اسلام کی زمانہ انتظار و مشکلات میں ذمہ داریاں، ایک گفتگو ھے جسے فکر اسلامی کلب جلسہ نمبر ۱۲ میں ذکر کیا جس کا اھتمام اسلامی مرکز انگلینڈ نے کیا تھا، اور شوون اسلامیہ میگزین نے اس کو اپنے شمارہ۱۴۲۱میں نشر کیا ھے ۔ اس جلسہ کا عنوان تھا اس عالمی دور میں امت اسلامی اور الٰھی منصوبوں کا مستقبل آنے والی نسلوں کے لئے ۔ اس مقالہ میں عالمی اصطلاح پر بحث کی ھے اور بیان کیا ھے کہ آئندہ کی دنیا اسلام کے حق میں ھے چونکہ یہ خود عالمی دین ھے اور دین کی قیادت بھی امام مھدی کے بدست عالمی ھے ۔ اس مقالہ میں عیسیٰ مسیح اسلام کے نبی خدا محمد ص کے متعلق پیش گوئی کا تذکرہ ھے اور حضرت مسیح امام مھدی کی نصرت کے لئے واپس آئیں گے امام مھدی ھر دور کے لئے نازل قرآن کو نافذ کریں گے ۔

نکات


اللہ کی کتاب میں امامت

کاتب اپنی کتاب (عقائدی تقاریر) میں اظھار کرتے ھیں کہ موضوع امامت جیسا کہ حق ھے ۔ عظیم ترین دینی موضوعات کا جزء ھے اور سب سے اھم ھے اس کی طرف عقلوں کو توجہ رکھنا اور تحقیق و تلاش کرنا ضروری ھے ۔ امامت درخت ایمان کا پھل ھے مبارک درخت جس کی جڑ کو خداوند نے زمین میں ثابت رکھا ھے جو لا الہ الا اللہ ھے اور اس درخت کی نمودار شاخ آسمان میں ھے جو محمد رسول اللہ ھے اور اس کا واقعی ثمرہ امامت ھے جو علی ولی اللہ ھے ۔ اگر درخت بےثمر ھو اس کا کام تمام ھے وہ زمین پر بوجھ کے مانند ھے زمین کو اس درخت کی کوئی ضرورت نھیں ھے ۔ کاتب، امامت کو جو رکن دین ھے اس کی مظلومیت کا تذکرہ کرتے ھیں جسے منھدم کردیا گیا ھے پھر دوسرے ارکان کو بھی گذشت ایام کے ساتھ ساتھ منھدم کردیا گیا ھے ۔

اختیار الٰھی

کاتب کا نظریہ ھے کہ ھر مخلوق کو اختیار الٰھی کے مطابق خلق کیا ھے یعنی وہ بےھودہ بےغرض پیدا نھیں کیا گیا ھے چونکہ خدائے حکیم سے بیھودہ فعل صادر ھونا محال ھے ارشاد ھوتا ھے أفَحَسِبۡتُمۡ أنَّمَا خَلَقۡنَاکُمۡ عَبَثاً ۔ کیا تم خیال کرتے ھو کہ ھم نے تمھیں بےھودہ و بےغرض خلق کردیا ھے ۔ ھر مخلوق تقدیر و اختیار الٰھی کے تحت خلق ھوئی ھے ۔ دقت کرنے والا محقق اس نتیجہ تک پھنچ سکتا ھے کہ سنت خلق سنت اختیار الٰھی کے مطابق ھے ۔ ارشاد خداوند ھے : وَ رَبُّک یَخۡلُقُ مَا یَشَاءُ وَ یَخۡتَارُ مَا کَانَ لَھُمُ الۡخِیَرَة سُبۡحَانَ اللہِ وَ تَعَالَیٰ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ تمھارا پالنے والا جو چاھتا ھے خلق و اختیار کرتا ھے اس میں کسی کو کوئی اختیار نھیں ھے ۔ قرآن مجید نے اشارہ کیا ھے کہ اختیار تمام عالم ثلاث میں ھے خواہ وہ عالم جماد ھو نبات ھو حیوان ھو ۔
ارشاد خداوند ھے : ان کے مختلف رنگ ھیں اور پھاڑ بھی سفید و سرخ ھیں الگ الگ رنگ والے ھیں اور کالے گورے انسانوں و جانوروں میں الگ الگ رنگ والے ھم نے خلق کیا ھے اس آیت میں اشارہ ھے کہ تمھیں عالم اختیار الٰھی کے تحت خلق کیا گیا ھے ۔ خلق اور اختیار اللہ کی تجلیات میں سے ھے ۔

اختیار الٰھی کے سامنے سرکشی

کاتب لکھتے ھیں کہ اللہ نے جب کھنکھناتی مٹی سے انسان خلق کرنے کا ارادہ کرلیا اور فرشتوں کو اس کی خبر دی اور انسان خلق ھوچکا اس کے ارادہ کے سامنے لوگوں کو تسلیم ھوجانے کا وقت آیا تو خدا نے حکم دیا یھی وہ جگہ تھی جب ابلیس نے سر پیچی کی اور کافر ھوگیا شیطان نے خدا کا انکار نھیں کیا نہ اس کے خالق ھونے کا انکار کیا نہ رازق ھونے کا انکار کیا نہ فاطر ھونے کا انکار کیا صرف وہ اختیار الٰھی کے مقابلہ میں آگیا ۔ اللہ نے کیوں اس کو زمین پر اپنا خلیفہ اختیار کیا دوسروں پر آدم کو برتری کیوں دی ان کو اسماء کی تعلیم کیوں دی ؟ ابلیس کھتا ھے : خَلَقۡتَنِی مِنۡ نَّارِ وَ خَلَقۡتَہ مِنۡ طِین ۔ اس کو مٹی سے بنایا ھے مجھے آگ سے ۔ کیا میں سجدہ کروں اس کو جسے تو نے مٹی سے بنایا ھے ۔ اللہ کا رد عمل کیا تھا یھی تو نہ فَاھۡبِطۡ مِنۡھَا فَمَا یَکُوۡنُ لَکَ أن تَتَکَبَّرَ فِیھَا فَاخۡرُجۡ اِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِینَ ۔ اترجا یھاں سے تو اس دنیا میں تکبر نھیں کرسکتا نکل جا یھاں سے ذلیل ھو کر اللہ نے نھیں کھا تو نے عبادت نھیں کی تو نے مجھے خدا نھیں مانا ۔ کیا تجھے یاد نھیں ھے میں تیرا خالق ھوں تونے خود کو خدا سمجھ لیا ھے ۔ یہ سب نھیں کھا اللہ نے کھا ۔ تجھے میرے حکم پر تکبر کرنے میرے اختیار پر اعتراض کرنے آدم کو خلیفہ بنانے سے ناراضی ھونے کا اختیار نھیں ھے ۔ تجھے تسلیم ھونا چاھئے اور سرکشی و اعتراض نھیں کرنا چاھئے ۔

نبی آدم اور الٰھی اختیار

کاتب اپنی اس تقریر میں انسانوں پر خدائی اختیار اس کے امتحانات کا تذکرہ کرتے ھیں یہ انسان اس کو قبول کرتا ھے یا انکار اختیار الٰھی پر راضی رھنا اس کے اوامر پر تسلیم رھنا نجات و کامیابی کا وسیلہ ھے اور اس کے حکم سے سر پیچی و تکبر کرنا ناکامی و ھلاکت کا سبب ھے ۔
ابلیس کھتا ھے : میں نے تیری عبادت کی زمین پر تیری عبادت کی آسمان پر اور اب اس مخلوق (آدم) سے مجھے آزمایا اس کو خلق کیا مٹی سے اور مجھے حکم دیا اس کا سجدہ کرو سخت ھے میرے لئے کہ کسی مٹی کو سجدہ کروں، اس کی ذریت کو بھی مبتلا کر جس میں مجھے مبتلا کیا ھے ان میں ایک دوسرے کو برتری دے، دیکھ آپس میں کیا کرتے ھیں ۔ اس سلسلہ میں یہ آیت گفتگو کر رھی ھے، وَ کَذَلِکَ فَتَنّا بَعۡضَھُم بِبَعۡض لِّیَقُولُواۡ أ ھَؤُلاءِ مَنَّ اللہُ عَلَیۡھِمۡ مِّن بَیۡنِنَا أ لَیۡسَ اللہُ بِأعۡلَمَ بِالشَّاکِرِینَ … اسی طرح ھم نے ایک دوسرے کے ذریعہ ایک دوسرے کا امتحان لیا یہ کھیں گے کیا وہ لوگ یھی ھیں جن پر اللہ نے منت کی ان کو عظمت دی، ھم میں سے یہ کیا اللہ نھیں جانتا کون شکر گذار ھے ۔ (انعام ۵۳)
اللہ نے دیکھا کہ ابلیس کی بات درست ھے اس کی حجت صحیح ھے، اس کی عدل و تقدیر کا تقاضا تھا کہ بنی آدم پر ابتداء خلافت سے اس اختیار و امتحان کو جاری رکھے ۔ جب آدم کے ایک سے زیادہ بیٹے ھوگئے قانون الھی یھاں پر بھی ظاھر ھوا تاکہ دیکھے کون اس کے اختیار سے راضی رھتا ھے اور کون نھیں ۔ امتحان سے پھلے دونوں بیٹے مسلمان تھے، و الدلیل انھما قربا للہ قرباناً ،دلیل یہ ھے کہ ان دونوں نے اللہ کی خاطر قربانی پیش کی، اگر کوئی ایک کافر ھوتا تو وہ قربانی نھیں پیش کرتا ارشاد ھے ۔ آدم کے دونوں بیٹے کی کھانی نقل کرو جب ان دونوں نے اللہ کو قربانی پیش کی ایک سے قربانی قبول کی گئی اور ایک سے قبول نھیں کی گئی تو اس نے کھا میں تمھیں قتل کر ڈالوں گا ۔ اس بدبخت بیٹے نے اللہ کے اختیار پر رضایت نھیں دی جب کہ اس نے اللہ کو قربانی پیش کی تھی یعنی وہ خدا کو جانتا پھچانتا ایمان رکھتا تھا اختیار الٰھی کے سامنے تسلیم نہ رھنے کی وجہ سے، حضور الھی سے طرد کردیا گیا بدبخت قرار دیا گیا اپنے بھائی ھی کو قتل کرنے کا مجرم قرار پایا ۔
ابلیس آدم زادہ کے خون بھائی کے بدست بھنے سے بھت خوش ھوا، اس نے کھا میں اپنے چیلنج میں کامیاب ھوگیا ۔ اس لئے ارشاد خداوند ھے ۔ اَفَتَخِذُونَہ وَ ذُرِیَّتَہ أوۡلِیَاءَ مِنۡ دُونِی وَ ھُمۡ لَکُمۡ عَدُوٌ بئۡسَ لِلظّالِمِینَ بَدَلا ۔ کیا تم لوگ اس کو اور اس کی ذریت کو اپنا ولی بناتے ھو مجھے نھیں، جبکہ وہ تم سب کا دشمن ھے، ظلم کرنے والے کا برا انجام ھوتا ھے ۔ سنت اختیار الٰھی کا سلسلہ اس طرح چلتا رھے گا، کبھی متوقف نھیں ھوگا اور نہ ھی تبدیلی آسکتی ھے ۔

نبی نوح و حضرت ابراھیم دور میں اختیار الھی

کاتب اپنے بیان میں قرآنی آیات سے استفادہ کرتے ھوئے اس مطلب کو بیان کرتا ھے ۔ اِنَّ اللہَ اصۡطَفَی ءادَمَ وَ نُوحاً ۔ اللہ نے اصطفاء کیا آدم اور نوح کو، اصطفاء یعنی برگزیدہ و برتر لوگوں کو اختیار کرنا، یہ صرف اختیار نھیں ھے بلکہ ایک ایسا اختیار ھے جس میں علم و قدرت الٰھی اور بندوں سے خدا کی آگاھی متجلی ھے ۔ پھر اصطفاء میں اضافہ ھوا، ارشاد ھے ۔ اِنَّ اللہَ اصۡطَفَی آدَمَ وَ نُوۡحاً وَ آلَ اِبۡرَاھِیۡمَ وَ آل عِمۡرَانَ ۔ اس آیت میں صرف آدم و نوح و ابراھیم کو منحصر نھیں رکھا، آل کو بھی داخل کیا ۔ جب اللہ نے ابراھیم کا امتحان لے لیا، خوشخبری دی گئی ۔ اِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمٰاماً ۔ میں آپ کو لوگوں کا پیشوا بنا رھا ھوں ۔ حضرت ابراھیم نے اس منصب کو قبول کیا اور دائرہ وسیع ھونے کی تمنا کی ۔ " قَال وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِی " میری نسل کو بھی جواب مثبت ملا اور اھل معصیت کو خارج کردیا ۔ " قَالَ لا یَنَالُ عَھۡدِی الظَّالِمِینَ "۔ آپ کی دعا مستجاب لیکن یہ عھدہ اھل معصیت ظالم کے لئے نھیں ھے ۔

بیت اھل بیت

خداوند متعال کی مشیت تھی کہ حضرت ابراھیم خلیل علیہ السلام اس گھر کی تعمیر کریں " وَ اِذۡ بَوّآنَا لاِبۡرَاھِیۡمَ مَکَانَ الۡبَیۡتَ أن لّا تُشۡرِکَ بی شَیۡئاً ۔ وَاِذۡ یَرۡفَعُ اِبۡرَاھِیۡمَ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَیۡتِ وَ اِسۡمَاعِیۡلَ " ھر گھر کے لئے گھر والا ضروری ھے، اللہ نے ابراھیم اور نسل ابراھیم کو اھل بیت قرار دیا ھے، یہ لوگ ناشناس نھیں تھے ۔فرشتے حضرت ابراھیم کے پاس آئے اور ان کو خبر دی کہ ھمیں قوم لوط کے لئے بھیجا گیا ھے جس پر حضرت ابراھیم نے گفتگو شروع کردی اور ان کی زوجہ بیت بھی وھاں پر تھی ارشاد ھے ۔ وَ امۡرَتہ قَائِمَۃٌ فَضَحِکَتۡ فَبَشِّرۡنَاھَا بِاِسۡحَاقَ وَ مِن وَرَاءِ اِسۡحَاقَ یَعۡقُوبَ قَالَتۡ یَا وَیۡلَتَیٰ أ اَلِدُ وَ اَنَا عَجُوزٌ وَ ھَذَا بِعۡلِی شَیۡخاً اِنَّ ھَذا لَشَیۡ عَجِیبٌ قَالُوا اَ تَعۡجِبنَ مِنۡ أمۡرِ اللہِ رَحۡمَۃُ اللہ وَ بَرَکَاتُہ عَلَیۡکُمۡ اَھۡلَ الۡبَیۡتِ ۔ اس وقت ان کی زوجہ قیام فرما تھیں ان کو ھنسی آگئی ھم نے خبر دی کہ تم کو اسحاق نامی بچہ پیدا ھوگا اور اسحاق کے بعد یعقوب، اس وقت اس نے کھا عجیب بات ھے مجھے بچہ پیدا ھوگا میں بوڑھی عورت ھوں اور یہ میرا شوھر بوڑھا ھے یہ واقعا عجیب ھے ۔ ان فرشتوں نے کھا تم کو کیا اللہ کی امر و تدبیر پر تعجب ھے جب کہ اس کی رحمت و برکت تم سب اھل بیت پر ھے ۔ (سورہ ھود)
اھل بیت کا سلسلہ حضرت ابراھیم کی تعمیر بیت سے شروع ھوا ابراھیم، اسحاق، یعقوب، سلسلہ وار اور جب بنی اسرائیل کے کاروان نبوت کا سلسلہ ختم ھوگیا، چونکہ ان لوگوں نے اللہ کا شکریہ ادا انھیں کیا اور خود کو منحرف کردیا، اللہ نے نسل اسماعیل بن ابراھیم میں آل محمد کو قرار دے دیا ۔
آیت اصطفاء میں آل ابراھیم، آل عمران کا ذکر ھے، جب کہ آل عمران میں صرف حضرت مریم اور ان کے بیٹے عیسی مسیح علیہ السلام ھیں اس کا مطلب یہ ھے کہ مریم کو آل عمران کا رحم قرار دیا جس طرح سارہ کو اس سلسلہ کا رحم قرار دیا اور ان کو خوش خبری دی ۔
بنی اسرائیل پر چشمہ خیر کے مسدود ھونے کی قوی ترین عقلی و نقلی دلیل یہ تھی کہ پورے بنی اسرائیل میں کوئی مرد نھیں تھا جو جناب مریم کا کفو، شوھر ھوسکتا ۔ ارشاد ھے ( وَ مَرۡیَمَ ابِنۡۃ عِمۡرَانَ الَّتِی أحۡصَنَتۡ فَرۡجَھَا فَنَفَخۡنَا فِیہِ مِن رُّوۡحِنَا وَ صَدَّقَتۡ بِکَلِمَٰتِ رَبِّھَا و کُتُبِہِ وَ کَانَتۡ فِی الۡقَانِتِینَ ۔ خداوند متعال اس وجہ سے اس سلسلہ خیر کے سلسلہ میں بیان کرتا ھے ۔ اور حضرت مریم و حضرت عیسی علیہ السلام واسطہ کے طور پر بیان کر رھے ھیں کہ اب بنی اسرائیل امامت کا سلسلہ ختم ھوگیا اور آل محمد کی امامت کا سلسلہ شروع ھو رھا ھے ۔
وَ اِذۡ قَالَ عِیۡسَی بۡنُ مَرۡیَمَ یَا بَنِی اِسۡرَائِیلُ اِنّی رَسُولُ اللہِ اِلَیۡکُمۡ مُصَدِّقاً لِمَا بَیۡنَ یَدَیّ مِنَ التَّوۡرَاة وَ مُبَشِّراً بِرَسُوۡل یَأتِی مِن بَعۡدِی اسۡمُہُ أحۡمَدُ ۔ میں تمھارے لئے اللہ کا رسول ھوں تصدیق کرتا ھوں جو کچھ بھی ھمارے پاس ھے جسے توریت نے ذکر کیا ھے اور خبر دیتے ھوئے ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ھے ۔

سورہ شوریٰ میں اختیار کا تذکرہ

سورہ شوری میں سلسلہ امامت کا تذکرہ نسل زھرا میں اس طرح سے " شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّینِ مَا وَصَّی بہِ نُوحًا وَ الَّذِی أوۡحَیۡنا اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَیۡنَا بِہ اِبۡرَاھِیمَ وَ مُوسَی وَ عِیسَی اَنۡ أقِیۡمُوا الدِّینَ وَ لاتَتَفَرِّقُوا فیہِ ۔ پھلی شی جسے خداوند نے اپنے بندہ و رسول سے کیا یا عبدی و رسولی محمد ھا قد آل الیک میراث النبیین جمیعا ھا قد آلت الیک انوار انبیاء جمیعا و وصایای لھم جمیعا اصبحت وصایای لک و لامتک ۔ اے میرے بندے، میرے رسول محمد، لو تمھارے پاس تمام نبیوں کی میراث منتقل ھوگئی ھے، تمام انبیاء کے انوار تمھارے حوالہ ان کو میری تمام شفارشیں ۔ حکم وصیت و ارشاد سب تمھارے اور تمھاری امت کے لئے ۔
اللہ تعالی کا فرمان ھے : اللہُ الّذِی اَنۡزَلَ اِلَیۡکَ الۡکِتَابَ بِالۡحَقِّ وَ الۡمِیۡزَانَ ۔ میزان، امام معصوم ھے جو کتاب کے ساتھ اس کی حفاظت کا ضامن اور مفسر ھے، اس کے ظاھری تناقص اور تحریف شدہ یا غلط تفسیروں کو تشخیص دیتا ھے ۔ پھر آیت مودت ھے ۔ ذٰلِکَ الَّذِی یُبَشُّر اللہُ عِبَادَہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ قُلۡ لا أسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ أجۡرًا اِلا الۡمَوَدَّة فِی الۡقُرۡبَیٰ وَ مَن یَقتَرِفَ حَسَنَۃً نَّزِدۡ لَہ فِیۡھَا حُسۡنًا اِنَّ اللہَ غَفُورٌ شَکُورٌ ۔ یہ وہ شی ھے جس کی اللہ اپنے با ایمان بندوں، نیکو کار بندوں کو خوشخبری دے رھا ھے، کھدو مجھکو تم سے کوئی اجر نھیں چاھئے، تم سب میرے قرابت داروں سے محبت و مودت رکھو اب جو نیکی کرے گا، ھم اس کی نیکی میں اضافہ کریں گے، اللہ شکر گزار معاف کرنے والا ھے ۔ وحی خدائی نے منحصر کردیا ھے کہ ھدایت خدا، رسول اور اولاد رسول کے بدست ھے، محبت کا مطالبہ کیا ھے کہ یھی ائمہ ھدایت و پیشوای امت ھیں ۔

سارہ، مریم، زھرا سلام اللہ علیھن

موھبت امامت نور زھرا سے مرتبط ھے ۔ سورہ شورا میں ھے " للّٰہِ مُلۡکُ السَّمَٰواتِ وَ الأرۡضِ یَخۡلُقُ مَا یَشَاءُ یَھَبُ لِمَنۡ یَشَاءُ اِناثًا وَ یَھَبُ لِمَنۡ یَشَاءُ الذَّکُورَ أوۡ یُزَوِّجُھُمۡ ذُکۡراناً وَ اِنَاثًا وَ یَجۡعَلُ مَن یَشَاءُ عَقِیماً اِنَّہ عَلِیمٌ قَدِیرٌ ۔ موھبت کا آغاز، مونث سے شروع کیا " وَ یَھِبُ لِمَن یَشَاءُ اِنَاثاً " اس کے بعد ھے " وَ یَھَبُ لِمَنۡ یَشَاءُ الذَّکُورَ "۔ مناسب مرد موھبت کرتا ھے مونثوں کو ازدواج یا ان کی تزویج کراتا ھے ۔ مذکر سے یا مونث سے یھی وہ تربت ھے جس کے سپرد نطفہ کیا جاتا ھے ۔اس لئے تم سے کھا ۔ سارہ سے آل مرتبط ھے اس طرح مریم جن کا عیسیٰ مسیح اپنی قوم سے کھتا تھا ۔ سلسلہ خیر بنی اسرائیل تمھارے پاس ھے، کون مستحق ھے کہ مریم کا شوھر قرار پائے ۔
سورہ مریم میں نیک لڑکیوں کا تذکرہ نیک لڑکوں سے پھلے ھے ۔ الطیبات للطیبین ۔ نیک لڑکیاں نیک لڑکوں کے لئے ھیں ۔ جس طرح الخبیثات للخبیثین ۔ بری لڑکیاں برے لڑکوں کے لئے ھیں انھیں مطالب کی طرف اشارہ ھے ۔ قول رسول ھے ۔ ما کان لفاطمۃ کفو غیر علی ۔ علی کی وہ ذات تھی جسے فاطمہ کے لئے خلق کیا تھا یہ اختیار ھے، یہ امامت کا اصطفاء و انتخاب ھے ۔

امت کا رد عمل

سورہ شوری میں سلسلہ اصطفاء و داستان انتخاب کو بیان کیا، امت کو باخبر کیا، تفرقہ، سرکشی، شک، اضطراب، تمھت زنی، غلط گوئی سے بچنے کا حکم دیا ۔ تمام شریعت الٰھی کا خلاصہ جسے انبیاء کے ذریعہ لوگوں تک پھنچایا ھے ۔ أنۡ أقِیمُوا الدِّینَ وَ لا تَتَفَرِّقُوا فِیہِ " دین میں تفرقہ و مذھب بندی مت کرو، دین اسلام و حق پر ثابت رھو تفرقہ، گروہ بندی ھمیشہ سرکشی کی وجہ سے ھوتی ھے، ارشاد رب ھے ۔ وَ مَا تَفَرَّقُوا اِلا مِن بَعۡدِ مَا جَاءَ ھُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیَا بَیۡنَھُمۡ ۔ ان لوگوں نے علم آنے کے بعد تفرقہ ایجاد نھیں کیا بجز سرکشی کے ذریعہ ۔
سرکشی کے معنی یہ ھیں کہ جن کو خدا نے اخیتار کیا تھا اس کو تسلیم نہ کرنا ۔ جیسا کہ تاریخ اسلام میں واقعہ غدیر وغیرہ جیسی مناسبتوں میں ذکر ھے ۔ خداوند متعال ان کی سرکشی کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کھتا ھے ۔
وَ لَولا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکۡ لَقُضِیَ بَیۡنَھُمۡ (انعام ۲۸) اگر اللہ کا فیصلہ وقت مقررہ تک ان کو مھلت دینا نہ ھوتا تو ان کا کام تمام ھوچکا ھوتا اگر خدا کا یہ فیصلہ نہ ھوتا تو کبھی بھی کوئی رسول خدا پر جرأت نھیں کرسکتا تھا، نھیں کھہ سکتا تھا کہ پاگل ھوگیا ھے انہ لیھجز (العیاذ باللہ) فوراً عذاب کا شکار ھوجاتا ۔
آیت اس بات پر تمام ھوتی ھے ۔ اَلَّذِینَ اُوتُو الۡکِتَابَ مِن بَعۡدِ ھِمۡ لَفِی شَکّ مّنۡہُ مُریب ۔ جن لوگوں کو یہ کتاب دی گئی ھے اس پر شک کرتے ھیں یعنی تفرقہ اور مذھب بندی سے کتاب الٰھی میں شک پیدا ھوتا ھے جس سے اضطراب و عدم اطمینان کی کیفیت وجود میں آتی ھے، رسول خدا نے کیا کھا، کیا نھیں کھا، کیوں نھیں کھا ۔ اس آیت کے کیا معنی ھیں اس آیت کا کیا مطلب ھے ۔ ایسا کیا ھو گیا ھے کہ رسول کی عبادات، قرآن کے فرامین مشکوک ھوگئے ھیں اب یہ بھی نھیں جانتے کہ رسول نے وضو کس طرح کیا جب کہ زندگی بھر لوگوں کے سامنے وضو کرتے رھے ۔ یہ نتیجہ ھے عروة الوثقی سے متمسک نہ رھنے گا بغاوت اور تفرقہ کرنے کا ۔
ایک آیت میں ارشاد حق ھے ۔ أمۡ یَقُولُونَ افۡتَرَی عَلَی اللہِ کَذِبًا ۔ اللہ پر جھوٹ اور افتراء کیا ۔ اھل سنت کی بعض روایتوں میں وارد ھوا ھے قال بعضھم لعل ھذا من عند رسول اللہ و لیس من اللہ، بعض اھل سنت نے کھا ھے شاید یہ چیز رسول کی طرف سے ھے نہ کہ خدا کی طرف سے ۔
جب رسول نے ان کو امامت کی خبر دی اور مودت کا مطالبہ کیا، واجب قرار دیا اللہ کے امر پر تسلیم رھنے کے بجائے شک میں پڑ گئے، کوئی ھے جو المیہ روز پنجشبہ میں کیا ۔ انہ لیھجر، ھذیان بک رھا ھے کس نے گمان کیا رسول اللہ، اللہ پر افتراء کر رھے ھیں ۔ اس طرح اعتراض کرنے والا اور تسلیم نہ ھونے والا دائرہ اسلام و ایمان سے خارج ھوگیا ۔ کوئی ھے جو گمان کرتا ھے امر خدا ھے لیکن امر خدا پر عمل نھیں کرنا چاھتا بھرحال نتیجہ ایک ھی ھے ۔

اختیار الھی کا نظام، شھد کی مکھی کی دنیا

کاتب کھتا ھے کہ اللہ کا یہ نظام حتی جانوروں کی دنیا میں بھی ھے آیات قرآنیہ میں عجیب و غریب امور تکوینی کی طرف اشارہ ھے : ایک آیت یہ ھے ۔ وَ مَا مِن دَابّۃ فِی الأرۡضِ وَ لا طَائِرِ یَطِیرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلا اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتَابِ مِن شَیۡ ثُمَّ اِلَی رَبِّھِمۡ یُحۡشَرُونَ " کوئی بھی حرکت کرنے والا زمین پر نھیں ھے اور ھوا میں لڑنے والا پرندہ نھیں ھے مگر یہ کہ اس جیسی اور بھی دنیا ھے، ھم نے کتاب میں کوئی چیز چھوڑی نھیں ھے پھر سب کے سب اللہ کے پاس محشور کئے جائینگے ۔ آپ دیکھئے کہ حیوانوں کی دنیا میں بھی اختیار اور انذار پایا جاتا ھے ۔ آئیے دقت کریں کہ شھد کی مکھی کی دنیا میں تعجب آور اختیار الٰھی ھے یھاں تک کہ قرآن مجید میں ایک طولانی سورہ اس کے نام سے ھے ۔ اس کے متعلق وحی ھو رھی ھے ۔ معجزہ نحل خود دلیل وجود امامت ھے ۔
وَ أوۡحَی رَبُّکَ اِلَی النَّحلِ أنِ اتَّخِذِی مِنَ الۡجِبَال بُیُوتًا وَ مِنَ الشَجَرِ وَ مِمَّا یَعۡرُشُونَ ۔ خطاب نحل سے ھے ۔ لفظ نحل عربی مفھوم کے ساتھ مذکر ھے یا مونث، مفرد ھے یا جمع نھیں معلوم ۔ بعد کا جملہ ان تخدی بتا رھا ھے کہ مونث ھے اور مفرد ۔ آیت میں صیغہ جمع مذکر و مونث، اتخذن ۔ اتخذوا نھیں ھے، مفرد مونث اتخذی ھے ۔ جو بھی اسکول کی ابتدائی تعلیم رکھتے ھیں جانتے ھیں کہ مملکت نحل میں ایک مکھی رانی ھوتی ھے، یہ ملکہ نحل سقیفہ سے آئی ھے شھد کی دیگر مکھیوں نے مل کر اسے انتخاب کیا ھے ؟ ھر گز نھیں ۔ شھد کی مکھی کا انڈا جب پھوٹتا ھے اور بچہ نکلتا ھے ۔ تین طرح کے بچے ھوتے ھیں ۔ (۱) مذکر (۲) نوکر (کام کرنے والے) ایک عدد ملکہ ۔ اگر انڈے سے دو ملکہ پیدا ھوجائیں تو دونوں ایک چھتہ میں نھیں رہ سکتے ۔ دوسری ملکہ کچھ نوکر (عاملہ) کے ساتھ اس چھتہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جاتے ھیں اور نیا چھتہ بناتے ھیں نہ یہ کہ ایک چھتہ میں دو لوگ امامت کرتے ھیں ۔ اس شھد کی مکھی نے یہ صفات کھاں سے حاصل کیا ھے ؟ یہ تکوینی صفات ھے اللہ کی طرف سے تاکہ مثال دی جاسکے، اگر ایک کیڑا اس طرح نظم زندگی رکھتا ھے اور اپنے امام کی پیروی کرتا ھے تا کہ شھد ایجاد کرسکے جو لوگوں کے لئے شفا قرار پائے ۔ تو اگر یہ انسان منظم ھوجائیں اور اپنے امام کی پیروی کریں سوچو کیا ایجاد کریں گے ۔
اگر سارے لوگ امیر المومنین حضرت علی (ع) کی امامت پر متفق ھوجاتے یہ زمین جنت میں بدل جاتی ھے ارشاد خداوند ھے " لاکلو من فوقھم و من تحت ارجلھم ۔ وَ اَن لّو اسۡتَقَامُوا عَلَی الطَّرِیقَۃِ لاَسۡقَیۡنَاھُمۡ مَّاءً غَدَقاً " اگر یہ لوگ توریت انجیل اور جو خدا کی طرف سے نازل کیا گیا ھے اس پر عمل کرتے تو یہ لوگ فراوانی کے ساتھ اوپر اور نیچے اور اپنے پیروں تلے سے کھاتے ھر چیز فراوان و میسر ھوتی
اگر راہ پر ثابت رھتے تو ھم ان کو میٹھا پانی پلاتے ۔

امامت کا نظام دینا، جمادات میں

امامت کا سلسلہ حتی جمادات میں بھی پایا جاتا ھے جیسا کہ ھم کو بیروتونات نیروتونات، الیکترونات میں بتایا گیا ھے، جبکہ بسیط شی ھے یہ کیا ایک عجیب نھیں ھے ۔ ذرہ بنتا ھے نوات اور الیکترونات سے جب وہ مرکزی ذرہ کے گرد طواف کرتا ھے اور مرکز ایک جگہ ثابت رھتا ھے اور آرام آرام اپنے مرکز میر حرکت کرتا ھے کس نے اس نوات کے لئے اس مرکز اور الیکترونات کے لئے مدار خلق و مقرر کیا ھے

خاتمہ

مسک الختام یہ کہ اللہ نے اھل ایمان کو کرامت سے نوازا ھے ان کو محمد و آل محمد سے محبت کرنے والوں میں سے قرار دیا ھے خدا فریاد کر رھا ھے ایک عظیم کام کے لئے لوگ آمادہ ھوں اور امام مھدی قائم آل محمد کے لشکر میں شامل ھوں ۔ بَقِیّۃُ اللہِ خَیۡرُ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُؤمِنِینَ (سورہ ھود) بقیہ خدا تمھارے لئے بھتر ھے اگر ایمان رکھتے ھو ۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
10+9 =