پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|


اسعد وحید القاسم


گروہ ترجمہ سایٹ صادقین


۱۹۶۵ع میں فلسطین میں ایک حنفی مذھب رکھنے والے خاندان میں پیدا ھوئے، بکالور یوس کی ڈگری سٹی انجینیرنیگ میں حاصل کی، اور ماجسٹر کی ڈگری، بلڈنگ سازی میں حاصل کی اور مدیریت عامہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، تعلیم کے دوران بعض وھابی کتابوں سے مطلع ھوئے جس میں شیعہ مذھب پر حملہ تھے، نتیجہ میں شیعہ مذھب کے متعلق کتابوں کے مطالعہ کا شوق پیدا ھوا جس کا نتیجہ یہ ھوا کہ دو سال مطالعہ کے بعد اپنے شیعہ ھونے کا اعلان کردیا۔

شیعیت کی طرف پھلا قدم

ڈاکٹر اسعد کھتے ھیں : میں نے مذھبی اختلافات کے بارے میں مطالعہ فلیپین میں تعلیم کے دوران ۱۹۸۷ع میں شروع کیا، چونکہ میں نے دیکھا کچھ گروہ شیعہ نامی افراد پر کفر کا فتوای لگاتے ھیں، اس وقت میرا کوئی مقصد بھی نھیں تھا کہ اس طرح کے مسائل میں خود کو مبتلا کروں، مجھے اس کا شعور بھی نھیں تھا اور نہ کوئی ضرورت محسوس کر رھا تھا، حد اکثر میں اتنا جانتا تھا کہ شیعہ مسلمانوں کا ایک گروہ ھے، وہ لوگ سنی کی طرح نھیں ھوتے ان کے کافر ھونے کی کوئی وجہ نھیں ھے، وہ لوگ حضرت علی کو باقی اصحاب پیامبر سے بھتر جانتے ھیں، اماموں کی قبروں کا خیال و اھتمام رکھتے ھیں، مجھے کوئی ضرورت محسوس نھیں ھورھی تھی کہ شیعہ سنی میں کیا فرق ھے ۔ تحقیق یا مطالعہ کروں چونکہ میرا عقیدہ تھا کہ اس طرح سے مسئلہ میں الجھنے سے کوئی نتیجہ نھیں ھے ۔

مذاھب کے درمیان صلح و مصالحت

ڈاکٹر اسعد وحید القاسم کا نظریہ تھا کہ ھر ایک کو مذھب اختیار کرنے کا حق ھے اور اختلافی مسائل کو حل کرنے کی راہ تلاش کرنا ضروری ھے، لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں، گفتگو کے ذریعہ نتیجہ اور حق تک پہونچیں، تعصب، خودگرائی اور انانیت سے پرھیز کریں چونکہ یہ سب اندھی پیروی کے اسباب فراھم کرتے ھیں اور گفتگو و احترام کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کو قدرت، طاقت، عظمت و ترقی مل سکتی ھے ۔
وھابی علماء شیخ اسعد کے اس نظریہ کو تسلیم نھیں کرتے تھے ان کے خلاف پروپیگنڈہ، پابندیاں شروع کردیں، اس کے معنی یہ تھے کہ یا میں سنی رھوں، شیعوں کو کافر کھوں یا شیعہ ھوجاؤں اور ان کے تمام عقائد کا معتقد ھوجاؤں، یہ لوگ طالب علموں کے درمیان ایسی کتابیں تقسیم کرتے تھے جو شیعوں کو کافر کھتی تھیں اور یھودیوں سے زیادہ خطرناک شیعوں کو بتاتی تھیں ۔
اسی کا نتیجہ تھا کہ میں نے مزید مطالعہ کرنا شروع کردیا تاکہ میرے اسلامی تاریخ کے سوالوں کا جواب مل سکے جو جواب اب تک نھیں مل سکا تھا وہ مسئلہ خلافت و سیاسی نظام حکومت کا اسلامی تصور تھا ۔

بحث کا ثمرہ

اس سلسلہ میں میں نے المراجعات نامی کتاب کا مطالعہ کیا، اس کتاب میں جلب توجہ بات یہ ھے کہ کتاب قرآن و سنت کے ذریعہ دلیلیں قائم کرتی ھے صحیح مسلم و صحیح بخاری سے روایات نقل کرتی ھے، جس پر بعض وھابی علماء نے مجھ سے کھا کہ اگر اس طرح کی روایت بخاری میں ھوتی تو اس کو کافر کھہ دیتے ۔ چونکہ ھم میں سے کسی کے پاس صحیح مسلم و صحیح بخاری نھیں تھی تلاش کیا، ایک فلیپینی کے اسلامی تعلیمی ادارہ میں کتاب مل گئی، جس کے بعد ان تمام روایتوں کی تحقیق شروع کردی جو کتاب المراجعات میں اس کتاب کے حوالہ سے ذکر تھیں، تمام روایتیں اسی طرح معتبر کتابوں میں تھیں جس طرح مولف کتاب المراجعات نے لکھا تھا اس وقت مجھے یقین ھوگیا کہ شیعوں کا دعوی، اور اماموں کی خلافت کا ان کا عقیدہ صحیح ھے، امام علی علیہ السلام سے امام مھدی علیہ السلام تک ۔

ایک مذھب سے دوسرے مذھب کی طرف

ابتدا میں میرے ذھن میں نھیں تھا کہ میں سنی مذھب ترک کردوں اور اب بھی میرا عقیدہ نھیں کہ میں نے سنی مذھب ترک کردیا ھے اور حقانیت اھل بیت و استحقاق خلافت ائمہ ک عقیدہ کا مطلب یہ نھیں ھے کہ میں سنی باقی نہ رھوں، بلکہ اس کو اپنے عقائد کی ترمیم اور اصلاح سمجھتا تھا ۔
اگر سنی مذھب کے معنی ھیں سنت رسول پر قائم رھنا تو اھل بیت کی معرفت کے ساتھ سنت رسول کو بھتر طریقہ سے اپنایا جاسکتا ھے یھی وہ لوگ ھیں جو سنت پر پابند ھیں لیکن جو میرے ارد گرد تھے ان لوگوں نے مجھ کو شیعہ کھنا شروع کردیا، پھر میں نے بھی شیعہ ھونے کا اعلان کردیا میرا عقیدہ ھے کہ مسلمانوں کو مذھب کی بنیاد پر نھیں، صدق نیت و اخلاص کی بنیاد پر تقسیم کیا جاسکتا ھے ورنہ ھمارے پاس ایک ظاھری اسلام ھوگا جس میں بے معنی رسومات ھونگے اور تعصب، حقیقی مسلمان وہ ھیں جو دل اور روح کے ساتھ تسلیم امر پروردگار ھوتے ھیں حق جانتے ھیں حق پر عمل کرتے ھیں ۔

خاندان اور سماج کا رد عمل

اس سلسلہ میں ڈاکٹر اسعد کھتے ھیں : مجھے اس چیز کی فکر نھیں تھی کہ میرے گھر اور میرے سماج کا کیا رد عمل ھوگا چونکہ مذھب سے مذھب کی طرف منتقل ھونا شخصی مسئلہ ھے ھر ایک کی اپنی عقل و سمجھ ھے، خاندان، معاشرہ اور حسب کام نھیں آئیں گے، حسن نصیب تھا کہ میرے گھر کے افراد نے کوئی نامناسب رد عمل ظاھر نھیں کیا اور اب تک ھمارے روابط اچھے ھیں، مگر سماج نے سخت رد عمل دکھایا ۔ ھمارا سماج دین تعصب، قبیلہ کی فکر رکھتا ھے، جو بھی ایسا کرتا ھے اس سے نفرت، بغض رکھنے لگتے ھیں بھت کم ھوتا ھے کہ اس کو انصاف کی نظر سے نظر کریں، بھت سارے بچھڑ گئے، آخر امر بعض دوسرے دوستوں کو اپنایا، ھمارے دوستوں میں بھت سے اھل علم بھی ھیں ۔ سوچ اور سمجھ کی ضرورت ھے ۔

تالیفات

۱ ۔ أزمۃ الخلافۃ و الامامۃ و آثارھا المعاصرة
یعنی، امامت و خلافت اور اس کے جدید آثار، کتاب ۱۴۱۸ ھ میں دار المصطفٰی سے شایع ھوئی یہ کتاب چار فصلوں پر مشتمل ھے ۔
۱ ۔ امامت و خلافت کے متعلق شریعت اسلام کا نظریہ ۔
۲ ۔ امامت و خلافت کی کھانی ۔
۳ ۔ خلیفہ و امام کی شخصیت ۔
۴ ۔ امامت و خلافت کی مشکل کا اسلام اور مسلمانوں پر اثر ۔
۲ ۔ شیعہ اثنا عشری کی ایک حقیقت
یہ کتاب ۱۴۲۱ ھ موسسۂ معارف اسلامی سے شایع ھوئی ۔
کتاب بعض عقیدتی مسائل پر بحث کرتی ھے جیسے امامت، عدالت، اصحاب، قرآن اور شیعہ، شیعہ اور سنت نبوی، متعہ، امام مھدی ۔
۳ ۔ اسلامی مدیریت پر ایک تحقیق ۔ ڈاکٹر اسعد کی تھیسس تھی ۔

کتاب امامت و خلافت اور اس کے آثار ، پر ایک نظر

جب امت دئے ھوئے علم کو ضایع کردیتی ھے اور جن دلیلوں کو رسول خدا نے خدا کی طرف سے اس کے حوالہ کیا ھے اس کو اخذ نھیں کرتی تو قوم میں سرکشی، اختلاف پیدا ھوجائے گا، امت حق اور باطل کے دو حصوں میں تقسیم ھوجائے گی، جب امت مصلحت کے نام پر نص الٰھی کو ترک کردے گی خداوند اپنی نعمتوں کو ان کے اس ظلم کی وجہ سے واپس لے لیگا اور اس وجہ سے کہ وہ لوگ فھم و دانائی کا دعوی کر رھے ھونگے اور خود کو فرمان خدا نص الٰھی سے بھی آگے تصور کر رھے ھونگے، جب ھوای نفس کی پیروی کی جارھی ھوگی اور نئے نئے احکام وضع کئے جارھے ھوں، ضلالت، انحراف، اختلاف وجود میں آئے گا، مصائب و مشکلات، فتنہ رونما ھونے لگیں گے، یھی حالت امت اسلام کی ھوئی ھے، نص کثیر کے ھوتے ھوئے اجتھاد کیا اور دعوی یہ تھا کہ انھوں نے اختلاف فتنہ سے بچنے کے لئے کیا ھے حالانکہ ان لوگوں نے ھوای نفس کی پیروی کی، قبائلی تعصب برتا، حب رئاست کی اساس پر سب کچھ کیا، فتنہ برپا کیا، خود کو لوگوں کا پیشوا اور جانشین پیامبر مقرر کرلیا قوم نے بھی ان کی پیروی کی اور وصیت پیامبر کو نظر انداز کیا ۔ جس کی وجہ سے مصائب و آلام و مشکلات ٹوٹ پڑے ۔ خیر و رفاہ سے محروم رھی ظالم حکام ان پر مسلط ھوئے، معالم دین، احکام شریعت ضایع ھوگئے، جاھلیت نے سر اونچا کیا ۔ بد نظمی نے مسلمانوں کو اپنے پنجہ میں لے لیا ۔ دھوکہ، جعل سازی، تاریخ نص میں پدیدار ھوئی، مقدس مآبی اور تقدیس جیسی صفات وجود میں آئی، امت، فرقہ، مذھب میں ھٹ گئی ۔

ماھیت خلافت و امامت

اھل سنت اور شیعہ مذھب کے نقطۂ نگاہ سے مسئلہ امامت و خلافت کی تعریف و توضیح دیتے ھوئے شیخ اسعد کھتے ھیں :
اھل سنت کا نظریہ ھے کہ امامت و خلافت ایک سیاسی منصب ھے جس کے ذمہ، حدود شرعی نافذ کرنا، مصالح مسلمین کی پاسبانی کرنا اور دشمنان اسلام و مسلمین سے جنگ کرنا ھے ۔ اس کے علاوہ معالم دین کی تفسیر، حقائق کی توضیح وغیرہ حفاظت دین جیسی ذمہ داری اس منصب کا جزء ھے ۔ جیسا کہ رسول کی ذمہ داری کا حصہ تھی ۔
ماوردی دین اور سلطان کے روابط بیان کرتے ھوئے لکھتے ھیں کہ جس دین کی سلطنت و قدرت زائل ھوجاتی ھے اس کے احکام تبدیل ھوجاتے ھیں، اس کے اعلام فنا ھوجاتے ھیں، ھر ایک رھنما کی اپنی بدعت ھوتی ھے، ھر زمانہ میں اس کا اپنا ایک اثر ھوتا ھے جس طرح اگر سلطان کا کوئی دین نہ ھو جس کی بنا پر لوگوں کے دل اس پر مرکوز ھوں اس کی اطاعت کو واجب جانتا ھو، اس کی نصرت کو لازم، کبھی سلطان کی سلطنت نھیں رہ سکتی اور اس کی عیش و نوش کے ایام ختم ھوسکتے ھیں ایسا حکمراں سلطان زور اور مفسد زمان ھوگا ۔
اس بنیاد پر کسی ایک کو امام بنایا جو سلطان وقت اور زعیم قوم ھو، واجب ھے جس کے سلطنت سے دین محفوظ اور اس کی سلطنت سنت دین و احکام شریعت کی اساس پر جاری رہ سکتی ھے ۔ 1اس دین و دولت کے درمیان ارتباط جس میں دونوں کی مصلحت ھے پھر بھی ولایت اور مسلمین جو خلافت و امامت میں خلاصہ ھوتی ھے اس کی اھمیت اس ارتباط میں مجسم دکھائی دیتی ھے ۔ علماء اھل سنت اس مسئلہ کو نہ یہ کہ فروع دین و احکام فقہ میں شمار کرتے ھیں بلکہ اس سلسلہ میں گفتگو کو بھی مجاز نھیں جانتے چونکہ خلفاء پر نکتہ چینی و اعتراض وجود میں آتے ھیں ۔
امام غزالی کھتے ھیں :
تم کو علم ھو کہ امامت کے سلسلہ میں دقت و بحث، مھم امور میں سے نھیں ھے اور نہ ھی امور معقولات و عقائد کا جزء ھے، بلکہ فقھی مسائل سے مربوط ھے، بلکہ تعصب بھڑکانے والی شی ھے، جو اس کی طرف متوجہ نہ ھو سالم تر ھے اس شخص سے جو اس مسئلہ کی طرف متوجہ ھو گرچہ حق بجانب ھو اور حق بجانب نہ ھو تو کیسی سلامتی ؟! 2
اس طرح سے امامت و خلافت کا مسئلہ اھل سنت کے نزدیک فرعی اور غیر مھم و جانبی مسئلہ ھے اور اس کا دین سے کوئی ربط بھی نھیں ھے مسئلہ اصحاب کے حوالہ تھا ابتداء امر سے ۔ پھر لوگوں کے حوالہ ھے ھر زمانہ میں کہ وہ اپنا ولی اختیار کریں، ارشاد خداوند ھے (و امرھم شوریٰ بینھم) ۳ اس کی ولایت و اختیار و امور، مشورت کے ذریعہ ھے ۔
جب کہ شیعہ مذھب کا عقیدہ ھے کہ امامت الٰھی مقام ھے اور استمرار نبوت ھے، وہ تمام فرائض جو نبوت پر مبنی تھے امامت پر بھی ھیں صرف امام پر وحی نھیں آتی اس تفسیر کے ساتھ امامت ایک بلند مقام ھے جو سیاسی قیادت و زعامت و رھبری سے بھی بلند ھے، اس منصب تک مشورہ یا الیکشن کے ذریعہ نھیں پھنچا جاسکتا، اس کا راستہ صرف نصب الٰھی ھے جس کی خبر ھم تک رسول پھنچائیں گے ۔
شیعہ امامت کو اصول دین میں مانتے ھیں اور ایمان کو کامل نھیں جانتے بجز اعتقاد بہ امامت ائمہ صادقین اثنا عشر، جن کا ایک فرد ھر زمانہ میں ضرور ھوگا جو لوگوں کو ھدایت دیتا ھے دین کی حفاظت کرتا ھے ۔ اِنَّمَا أنۡتَ مُنۡذِرۡ وَ لِکُلِّ قَوۡمٍ ھٰاد 4 آپ منذر ھیں اور ھر قوم کا ھدایت گر ھوتا ھے ۔ یَوۡمَ نَدۡعُوۡا کُلُّ اُنَاسِ بِامَامِھِمۡ، 5 جس دن ھر گروہ کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے ۔ قول رسول ھے : من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاھلیۃ، جو اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانے اور مرجائے اس کی موت قبل از اسلام (جاھلیت) کی موت ھے ۔ 6
یہ تمام احادیث و آیات تاکید کرتی ھیں کہ رسالت اسلام کے اھداف، رحلت پیامبر خاتم الانام کے بعد پورے نھیں کئے جاسکتے بجز امامت خلفاء ھادی و مرشد کے ذریعہ ۔

خلفاء و ائمہ کی شخصیت

اھل سنت کا عقیدہ ھے کہ نبی نے کسی کو معنی نھیں کیا اور نہ ھی اس کے شرائط اور کیفیت انقعاد بیعت اور اختیار کے سلسلہ میں کچھ فرمایا ھے، اس لئے ان لوگوں نے اس سلسلہ میں اصحاب رسول کے قول کو مستند بنایا ھے ان کے فعل و کارنامہ کو دلیل تصور کیا ھے تمام اھل سنت کا اس امر پر اجماع ھے کہ صحیح اور حق خلافت، ابوبکر، عمر، عثمان، علی تک تھی ان کو خلفاء راشدین کھتے ھیں، اس کے علاوہ غیر راشد اور غیر شخص کی بھی خلافت کو صحیح جانتے ھیں جیسے اموی اور عباسی خلفاء، عثمانی خلفاء ۔
لیکن شیعوں کا عقیدہ ھے کہ خلافت کے لئے بھترین نص، واضح و صاف لفظوں میں حضرت علی علیہ السلام کے لئے وارد ھوئی ھیں اور اھل بیت رسول سے اماموں کے لئے بھی عام شکل میں نص ھے حدیث ثقلین، آیہ تطہیر، آیہ مباھلہ، حدیث سفینہ وغیرہ کو دلیل کے عنوان سے پیش کیا ھے ۔
تاریخی واقعات کو دیکھنے پر معلوم ھوتا ھے کہ معاویہ و یزید جیسے لوگوں تک خلافت پھنچی ھے جنھوں نے دینی حقائق کو منحرف کیا، ناشایستہ و منکر و حرام افعال انجام دئے ھیں، شراب پیا ھے، نفس محترم کا قتل کیا ھے، منبروں سے علی (ع) پر لعنت کی ھے مدینہ کو ناجائز امور کے لئے مباح کیا ھے کعبہ کو منجنیق سے مارا اور منھدم کیا ھے آگ لگائی ھے جرم کی انتھا کی ھے کربلا میں اھل بیت نبوت کو ذبح کیا ھے جن میں سرفھرست حضرت امام حسین علیہ السلام ھیں ۔

امام شناسی کا معیار

مولف، رسول خدا سے منقول روایت کو معرفت امام و خلیفہ کا معیار بتاتے ھیں جن کی اطاعت واجب ھے، حدیث یہ ھے : جو اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانے اور اس کی موت آجائے اس کی موت قبل از اسلام کی موت ھے، جو امام اپنائے بغیر مرجائے اس کی موت جاھلیت کی موت ھے ۔ 7
ولی امر کی اطاعت نص قرآن کے مطابق واجب ھے یَا أیُّھَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اَطِیۡعُوا اللہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُولَ وَ اُوۡلِی الاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۸ ۔ اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو، اس کے رسول اور اولیاء امر کی جو تم میں سے ھیں اطاعت کرو ۔
حدیث کا مطلب ھے کہ اخروی خسارہ میں وھی ھے جو اطاعت ولی امر نہ کرے یا امام کو نہ پہچانے، امام کی بیعت نہ کرے ۔
استاد اسعد قاسم نے اس حدیث کو خلافت ابی بکر و علی علیہ السلام پر تطبیق کرکے مقایسہ کیا ھے ۔

1. ابوبکر کی خلافت

حضرت فاطمہ زھراء بنت رسول نے مرتے دم تک ابوبکر کی بیعت نھیں کی، اور ان کے شوھر حضرت علی نے ابوبکر کی بیعت نھیں کی، بلکہ جناب زھرا دنیا سے چلی گئیں ابوبکر کی بیعت نھیں کی بلکہ ناراض رھیں اور وصیت کی کہ ان کے جنازہ پر نہ آئے نماز میت ادا نہ کرے، حتی دفن میں شریک نہ ھونے پائے جیسا کہ بخاری نے کتاب صحیح میں ذکر کیا ھے، عبارت یہ ھے : فغضبت فاطمۃ بنت رسول اللہ فھجرت ابابکر فلم تزل مھاجرتہ حتی توفیت و عاشت بعد رسول اللہ ستۃ اشھر فلما توفیت دفنھا زوجھا علی لیلاً و لم یاذن بھا ابابکر و صلی علیھا ۔ 9 یعنی فاطمہ بنت رسول ناراض تھیں، ان سے مقاطعہ کئے ھوئے تھیں یھاں تک کہ آپ وفات کر گئیں کل ۶ مھینہ رسول خدا کے بعد زندہ رھیں وفات کے بعد حضرت علی ان کے شوھر نے ان پر نماز پڑھی اور رات میں دفن کیا، انھوں نے اجازت نھیں دی کہ ابوبکر حاضر ھوں ۔ اب ھمارے پاس دو راستہ ھے تیسرا کوئی نھیں ۔
یا ابوبکر وھی خلیفہ ھے جس کی اطاعت واجب ھے پس فاطمہ زھراء کی موت، قبل از اسلام اور جاھلیت کی موت ھے یا فاطمہ زھرا کی موت جاھلیت کی موت نھیں ھے، پس ابوبکر خلیفہ نھیں ھیں جن کی اطاعت واجب ھو ۔
پھلا احتمال، اس لئے باطل ھے کہ جناب زھراء کو جنت کی بشارت ھے اس میں ذرا بھی شک نھیں، ایک پورا سورہ، سورہ انسان (دھر) (ھل اتی) جناب زھرا کی شان میں نازل ھوا ھے جو جنت کی بشارت دیتا ھے ۔
رسول خدا نے فرمایا ھے :
فاطمہ سیدة نساء اھل الجنۃ 10 یا فاطمہ الا ترضی ان تکونی سیدة نساء المومنین او سیدة نساء ھذہ الامۃ ۔ 11 یہ فاطمہ زھرا ھیں جو خاتون اھل جنت ھیں اور زنان بھشت کی سربراہ ھیں ۔ اے فاطمہ کیا تم راضی نھیں ھو کہ نساء مومنین کی سردار یا اس امت کی سیدہ رھو ۔ فاطمہ وہ ھیں جن کے غضب سے رسول غضبناک ھوتے ھیں فاطمہ وہ ھیں جو رسول کا ٹکڑا ھیں، جس نے ان کو غضبناک کیا اس نے رسول کو غضبناک کیا ۔ 12
اب یہ مھم نھیں کہ کس نے زھرا کو ناراض و غضبناک کیا مھم یہ ھے کہ جس نے فاطمہ زھرا کو غضبناک کیا اس سے خدا و رسول ناراض و غضبناک ھیں اور اس کی موت، جاھلیت کی موت ھے ۔ آپ کے بارے میں ارشاد ھے : اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ لِیُذۡھِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ أھۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَھِّرَکُمۡ تَطۡھِیۡراً ۔ ۱۳

2. امام علی (ع) کی خلافت

امام علی علیہ السلام کی خلافت جیسا کہ علامہ مودودی کھتے ھیں کہ روایتیں جو ساری صحیح اور معتبر ھیں کھتی ھیں کہ اصحاب پیامبر اور دیگر لوگ جو مدینہ میں تھے سب علی (ع) کے پاس آئے ان سے کھا امور سدھر نھیں سکتے آپ کے بغیر لوگوں کے لئے امام ضروری ھے، آج آپ سے زیادہ اس منصب کا مستحق کوئی بھی نھیں ھے ۔
اور جب حضرت علی (ع) نے حکومت سنبھالی، دور عثمان کی مشکلات و مسائل سامنے آئے، عوام اور حکومت حقیقتاً انتھاء فساد کو پھنچ چکی تھی خصوصا جو اسلامی، علوی حکومت میں شگاف ھوا اور وہ بعض لوگوں کی نافرمانی جن میں سر فھرست عائشہ اور معاویہ ھیں ۔
عائشہ، ان کی بغاوت کے سلسلہ میں رسول خدا نے فرما دیا تھا میں دیکھ رھا ھوں کہ تم (اے میری ازواج) میں سے ایک پر حوآب کے کتے بھونک رھے ھیں، پھر عائشہ سے کھا، اے حمیرا کھیں وہ تم نہ ھونا ۔ (قال رسول الله –ص- : كأني باحداكن قد نبحها كلاب الحوأب وإياك أن تكوينها يا حميراء ۱۴
دوسری روایت میں ھے کہ رسول نے فرمایا : میں دیکھ رھا ھوں تم میں سے ایک اونٹ پر سوار ھے اور جارھی ھے حوآب پھنچنے پر اس پر کتے بھونک رھے ھیں اس کے داھنے اور بائیں طرف بھت سی مخلوق قتل کی جارھی ھے ۔ ۱۵ تیسری روایت میں ھے کہ رسول نے فرمایا : اے حمیرا میں دیکھ رھا ھوں کہ تم کو حوآب کے کتے بھونک رھے ھیں اور تم علی سے جنگ کر رھی ھو، تم ناحق ھو ۔ ۱۶ نبی پاک کی پیشین گوئی میں سے ایک یہ ھے کہ رسول خدا مسجد میں تقریر کر رھے تھے، عائشہ کے کمرہ کی طرف اشارہ کرکے کھا ۔ یھیں فتنہ ھے یھی فتنہ ھے جھاں سے شیطان کی سینگ نکلے گی ۱۷ اور معاویہ کے سلسلہ میں رسول خدا کی پیش گوئی حتمیات اور مسلمات تاریخ میں سے ھے ۔
خالد بن عربی سے روایت ھے : میں ابو سعید خدری کے ساتھ حذیفہ کے پاس گیا ھم نے کھا کچھ رسول خدا کی باتیں اس فتنہ کے سلسلہ میں سنائیے حذیفہ نے کھا ! میں نے رسول کو کھتے سنا ھے دوروا مع الکتاب حیث دار ۔ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ رھو جدھر بھی جائے، ھم لوگوں نے کھا اور اگر لوگوں میں اختلاف ھوجائے تو کس کے ساتھ رھیں ؟ رسول نے جواب دیا : انظروا الفئۃ التی فیھا ابن سمیۃ (یعنی عمار بن یاسر) فالزموھا فانہ یدور مع کتاب اللہ ۔ جس گروہ کے ساتھ عمار بن یاسر فرزند سمیہ ھوں ان کے ساتھ رھو کہ وہ قرآن مجید کے ساتھ ھیں ۔ پھر حذیفہ نے کھا: میں نے رسول اللہ کو عمار سے کھتے ھوئے سنا ھے : یا ابا الیقظان لن تموت حتی تقتلک الفئۃ الباغیۃ عن الطریق ۱۸ اے ابو یقظان تم نھیں مرسکتے تم کو راہ حق سے بغاوت کیا ھوا منحرف گروہ قتل کرے گا ۔
صحیح بخاری میں رسول خدا سے نقل ھے : ویح عمار تقتلہ الفئۃ الباغیۃ عمار یدعوھم الی اللہ و یدعونہ الی النار ۱۹ افسوس کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، عمار ان کو اللہ کی طرف بلا رھے ھونگے اور وہ گروہ ان کو اپنے ساتھ جہنم کی دعوت دے رھا ھوگا ۔
آیا اب بھی کوئی شک کی جگہ باقی رہ گئی ھے ؟ کیا اب بھی معاویہ کے سلسلہ میں کسی کو شک باقی رہ سکتا کہ وہ کون تھا اس کا انجام کیا ھے ؟ نبی کے کلمات کے کچھ اور معنی نھیں ھوسکتے، عمار اور جو ان کے ساتھ ھیں اس کا راستہ اللہ کا ھے ان کے دشمن، باغی، خارجی اپنے زمانہ کی امام سے سرکشی کئے ھوئے، جھنم کا راستہ اپنائے ھوئے ھیں ۔
معاویہ نے صرف حضرت علی کے مد مقابل سرکشی پر اکتفاء نھیں کیا، عھد امام علی علیہ السلام میں جانشین رسول بن بیٹھا اھل شام نے بھی اسی امر پر اس کی بیعت کی، پھر اس نے مصر کو جو اپنے زمانہ کے امام کی سرپرستی و اطاعت میں تھا اس کو چھینا اور اپنے دائرہ حکومت میں لے آیا، جزیرہ عرب کے بھت سے علاقوں پر حملہ کرکے اپنے اختیار میں لے لیا، مغربی عراق پر قبضہ کیا، جب کہ رسول فرماتے تھے اگر اس طرح کی کسی کو جرأت پیدا ھوجائے اور ایک وقت میں دو جانشین پیامبر بن بیٹھیں اور دو خلیفہ کی بیعت ھونے لگے، دوسرے والے کو قتل کر ڈالو 20

خلافت کی جنگ کا مسلمانوں پر اثر

رسول کی وفات کے بعد امامت مسلمین کی جنگ کا کیا اثر ھوا، بعض اصحاب کو حرص و لالچ تھا وہ اس حکومت پر قبضہ کرنا چاھتے تھے جس کو رسول نے قائم کیا تھا اور اس حکومت کی حفاظت اور بقاء کے لئے وصیت و نصیحت اور تعین حاکم بھی کردیا تھا، حضرت علی علیہ السلام کو معین کیا اور اس کا اعلان بھی کردیا تھا رسول کے خلاف جرأت اور جسارت ان کے حکم کی نافرمانی، حرص و لالچ کی پیروی کا نتیجہ کیا ھوا، یھی تو نہ کہ احکام دین اپنے صحیح راستہ سے ھٹا دیے گئے، تحریف کر دیئے گئے، مسلمانوں میں گمراھی و ضلالت آگئی، ارکان دین منھدم ھوگئے، احادیث پیامبر میں جعل سازیاں شروع ھوگئیں ۔
تاریخی حقائق کی تحریف ھوئی، صرف اس لئے کہ ھوس پرست لالچ حاکم کی آبرو باقی رھے، اس کے لئے مذھبی توجیہ، دینی دلیل قائم کی جاسکے، خواہ رسول کی عزت و آبرو ریزی ھی کیوں نہ ھو یا خود اصل دین ضایع ھی کیوں نہ ھو رھا ھو، اس طرح اصحاب کی تقدیس ھونے لگی ان کی شان و منزلت بڑھا دی گئی، ان کو ناقل دین، محافظ دین، امانت دار اسلام کھا جانے لگا، ان کی عدالت میں کسی شک کرنے کی گنجائش ختم کردی گئی، اگر کسی نے ان کی عدالت پر کوئی حملہ کیا کوئی حرف لکھا کچھ سوچا کچھ کھا تو دائرہ کفر میں آنے کا فتوی لگنے لگا، یہ سب اس لئے کہ جو باعظمت تھے ان کی عظمت گٹھائی جائے، جو امانت دار تھے ان کو خائن کھا جاسکے جو محافظ دین تھے ان کو باغی کھا جائے، اھل بیت رسول کے مد مقابل تقدیس و تعظیم و تکریم شروع ھوئی، اھل بیت کو رھا کرکے اصحاب کے ارد گرد چکر لگانے لگے، اھل بیت کے مقام کو قوم یا مخلوق نے بلند نھیں کیا، اللہ اور اس کے رسول نے عظمت کی خبر دی ھے، اھل بیت سے حسد میں کسی کی تکریم و تعظیم نھیں ھوسکتی کفر و ھلاکت ھے ۔ اصحاب کی تقدیس و تعظیم خود ساختہ خلافت کو صحیح دکھلانے کے لئے صحیح ثابت کرنے کے لئے کی گئی ھے، جب کہ اللہ کے ارادہ نے رسول کے ذریعہ آل رسول کے بارہ فرد کو امت کا راھنما، پیشوا، جانشین رسالت خلیفہ معین کرچکا ھے ۔
امت کے متفرق ھونے، گروہ گروہ، مذھب مذھب ھونے کی یھی وجہ ھے، اس وقت اتنے مذاھب و فرقے ھیں کہ شمار نھیں کیا جاسکتا، جو بھی کچھ کھہ دے اسے اخذ کیا جانے لگا چونکہ امت نے منبع اسلام، اصل قیادت جسے خدا نے انتخاب کیا تھا ضایع کردیا، اس مصیبت کے نتیجہ میں جو مصائب ٹوٹے ھیں اور آج تک جاری ھیں، یہ بنیادی مشکلات ھیں، قابل درگزر نھیں ھیں اس کے نقصانات کو کم نھیں کیا جاسکتا اور نہ ھی بچا جاسکتا ھے ۔ مولف نے اپنی کتاب میں جو بھی لکھا ھے، بعض چیزوں کی طرف اشارہ کر رھے ھیں:

۱ ۔ دین و حکومت میں جدائی

مولف کھتے ھیں : عام مسلمانوں کا خیال ھے کہ حکومت اور دین میں جدائی ھمارے عالم اسلام میں ۱۹۲۴ع سے وجود میں آئی ھے جب عثمانی خلافت کا تختہ پلٹا گیا، اگر یہ بات صحیح ھے تو صرف اس معنی میں صحیح ھے کہ ظاھری، صوری دین جس کو عثمانی خلفاء اپنائے ھوئے تھے اور ان کو سلاطین سابق سے میراث میں ملا تھا، اس دین سے اور حکومت میں جدائی ۱۹۲۴ع سے رونما ھوئی، لیکن اگر ھم محمدی اسلام اور حقیقی واقعی دین کی طرف توجہ کریں تو اس دین اور حکومت میں جدائی سقیفہ کے دن سے شروع ھوئی ھے حقیقی اسلام کو مسلمان معاشرہ سے سقیفہ کے تنازعہ سے ھی دور کردیا گیا ھے اور پھر دین و حکومت کی جدائی کی کامل تصویر، معاویہ بن ابوسفیان کے مسند خلافت، عرش حکومت و اقتدار پر بیٹھنے کے بعد ھی سے نمودار ھوئی، جس دن اس منصب کو جاھلیت کے ارمانوں کو حاصل کرنے اور شھوت و لذت، لھو و لعب میں غرق ھونے کا ایک وسیلہ بنا لیا گیا جب کہ اسلام اور اس کی اصل تعلیم کو عام کرنا فریضہ ھے ۔ اس لئے غزالی کھتے ھیں کہ دین و دولت میں جدائی بھت زمانہ سے چلی آرھی ھے وہ کھتے ھیں :
زمانہ قدیم سے امت اسلام پر جو مصیبتیں آئی ھے ان کی طاقت و قوت کو ضعف و کمزوری میں بدل ڈالا گیا، علم اور حکومت میں جدائی ھے، ھر ایک کا الگ الگ راستہ مقرر ھوجانا ھے ۲۱ ۔
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ ھمارے پاس اسلامی نظام ھونا محال ھے جب تک اس کا سربراہ ایسا شخص نہ ھو جو اسلامی عقائد و احکام کو بخوبی جانتا ھو، اس کی تعلیمات کو نافذ کر رھا ھو، وہ بھی نہ صرف رسومات کی حد تک بلکہ اس سے زیادہ مھم امور جیسے اجتماعی عدالت کا نفاذ اور اسلامی اخلاق کی ترویج ۔

2 ۔ جھل و پسماندگی کا عام ھوجانا

مسلم ممالک پر طرح طرح کے جھل، طرح طرح کی پسماندگیاں چھائی ھوئی ھیں، خلفاء، ان کے درمیان تنازعات، ان مھم اسباب میں سے تھے جس کی وجہ سے مسلمان جاھل رہ گئے ھیں، اسلام کی بدنما، تحریف شدہ تصویر سامنے آئی ھے، اسلامی نظام و طرز حکومت سے لوگ وحشت کھاتے ھیں، یھی وہ شی تھی جس کی بنا پر احادیث گھڑی گئیں، اسرائیلیات کا اسلام میں نفوذ ھوا تفسیر و تاویل قرآن مجید کا مذاق بنایا گیا، حقائق تاریخ کو بگاڑا گیا بے روح رسومات، تقالید، اطوار، خرافات نے اسلام کی جگہ لے لی ۔ مولف، بعض جھالتوں کو نمونہ کے طور پر ذکر کرتے ھوئے کھتے ھے :
۱ ۔ تاریخی حقائق سے لاعلمی
۲ ۔ اقتصادی مسائل سے نادانی
۳ ۔ سماجی امور سے ناواقفیت
یہ وہ نمونہ ھیں جو مسلم دنیا میں عام ھوئے ھیں ۔
ھماری اسلامی تاریخ میں بھت مھم اور عظیم سے عظیم واقعات رونما ھوئے ھیں، لیکن آج کی حقیقت پنھان ھے، اس کی تفصیل و تفسیر غیر واقعی ھے، اس طرح سے نقل کیا گیا ھے کہ جو اپنی اصل حقیقت سے دور ھے ۔ مثال کے طور پر کربلا کا واقعہ، جو کہ اسلام کی نجات، بنی امیہ سے مسلمانوں اور دین محمد کی رھائی کے لئے، بنی امیہ کی اسلام اور اھل بیت رسول اور اھل اسلام سے دشمنی کو کشف کرنے کے لئے واقع ھوا تھا، آج کوئی بھی اس کا یہ مقصد جانتا ھی نھیں، اس میں کئی طرح کی تحریفات ھوئی ھیں اور گذشت زمانہ کے ساتھ ساتھ اس امت نے اس واقعہ کی کیا کیا غلط سے غلط تفسیر و تاویل پیش کی ھے ۔ کوئی کھتا ھے حسین بن علی ایک جلد باز انسان تھے جنھوں نے اپنے کو خودکشی و ھلاکت میں ڈالا، خیر خواھوں کی بات نھیں مانی اور ولی امر مسلمین یزید بن معاویہ سے سرکشی نہ کرنے، بغاوت نہ کرنے کی تجویز کو نھیں مانا ۔
بھت سے ایسے بھی مسلمان ھیں جو عاشور کو خوشی کی مناسبت جانتے ھیں، نہ اس لئے کہ امام حسین کو قتل کیا گیا ھے، بلکہ اس عنوان کے ساتھ کہ آج کا دن وہ دن ھے کہ جس میں اللہ نے موسی علیہ السلام کو فرعون سے نجات دی ۔
امویوں نے عاشور کے دن کے بڑے بڑے فضائل مرتب کئے، انبیاء کی نجات کا دن قرار دیا، جو اس دن روزہ رکھے اس کی فضیلت اور ثواب مقرر کئے، یہ لوگ اس طرح جشن و سرور مناتے ھیں جیسے کہ بھت بڑی عید ھو ۔ اسی طرح اقتصادی مسائل سے نادانی کا قصہ ھے ۔
علماء اسلام و مفکرین دین اس امر کی تلاش میں ھیں کہ اسلامی نظام اقتصاد جو قابل اجراء ھو اس کو مرتب کریں، لیکن مذھبی پیچیدگی کی وجہ سے حتی ان کے علماء بھی قاصر ھیں چہ جائیکہ عوام، پس اسلامی نظام اقتصادی کی حتی بدیھی چیز بھی نھیں جانتے، مثلا، اسلامی ٹیکس کی ایک قسم جس کو خمس سے تعبیر کیا جاتا ھے ۔ یہ اصطلاح یہ لفظ قرآن مجید میں صاف لفظوں میں وارد ھوا ھے ( وَ اعۡلَمُوا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَیٔ فَاِنَّ للہِ خُمُسَہُ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِی الۡقُرۡبَیٰ ۲۲ اھل بیت کی راہ پر چلنے والے اس آیت کا مطلب سمجھتے ھیں، یعنی پورے سال میں حاصل منافع کا پانچواں حصہ امام وقت کو دینا ۔
لیکن عام مسلمان اس کی پیچیدگیوں میں گھرے ھوئے ھیں اور یہ پیچیدگیاں اس وقت سے ظاھر ھوئیں جب خلیفہ ابوبکر نے فرزند رسول فاطمہ زھرا کا حق خمس روک لیا اور دینے سے باز رھا جب کہ وہ سھم ذوی القربی کے زمرہ میں آتا تھا ۔
ابوبکر کے طرفداروں نے اس آیت کو مخصوص کردیا غنائم جنگی سے اور اس میں بھی صرف حاکم کا اختیار ھے جو چاھے کرے، لیکن شیعہ حضرات کھتے ھیں کہ جس پر خمس واجب ھوجاتا ھے، اس کو ادا کرتے ھیں اور اپنے علماء و مراجع کے حوالہ کرتے ھیں جو امام کے غیبت میں ان کے جانشین و نمایندہ ھیں، یا خود خمس کے موارد صرف میں مراجع کی اجازت سے خرچ کرتے ھیں، اس خمس کی وجہ سے ان کے علماء ھر دور میں حکومت سے بے نیاز ھوتے ھیں ۔

سماجی امور میں پسماندگی

شادی کا مسئلہ سب سے اھم مسئلہ ھوتا ھے ھر سماج میں ان میں سے ایک راستہ وقتی شادی (متعہ) ھے ۔
مسلمانوں کا اتفاق ھے کہ تعدد ازواج الٰھی حکم اور جائز ھے جو بعض مشکلات کے حل کے لئے شارع نے جعل کیا ھے اور سب لوگ اس کو سمجھتے ھیں حالانکہ اس سے غلط استفادہ بھی ھوتا ھے، لیکن مسلمانوں کے درمیان وقتی نکاح کے سلسلہ میں سخت اختلاف ھے مگر جس امر کو ھر سالم، آزاد عقل درک کرتی ھے کہ معاشرہ کی مشکلات کا ایک راہ حل خود ازدواج متعہ ھے جھاں پر دائمی شادی نھیں کی جاسکتی وھاں پر اس طریقہ کار کو اپنایا جاسکتا ھے، حالانکہ اس میں سوء استفادہ کا امکان ھے ۔
بھرحال اجتماعی ضرورت اس امر کی مقتضی ھے کہ اس کی حلیت زمان رسول تک محدود نہ رہ جائے ۔ جنسی مسائل صرف نبی کے دور میں نھیں تھے اور نہ ھی اس کا کوئی زمانہ یا دور ھوتا ھے نہ اس کے لئے کوئی قوم یا جگہ کا تعین ھوتا ھے، اب تو یہ مشکل ھر روز بڑھتی چلی جارھی ھے وہ بھی ھر جگہ، شاید سماج کی سب سے پھلی مشکل آج کل یھی ھو ۔
نکاح میں وقت بندی کا برا تصور، نفسیاتی اسباب، عادات و تقالید کی وجہ سے ھے جس سے چھٹکارا نھیں پایا جاسکتا ۔ پھر بھی حرام ھونے کی دلیل نھیں قرار دیا جاسکتا ۔
اور اگر تشریع الٰھی عرب کی عادات و تقالید کو باقی رکھتا تو آج بھی لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا چونکہ آج کے حالات ایسے ھوگئے ھیں اگر ھم ان کو دفن نہ کریں ان کی زندگی اھانت و حقارت کے ساتھ گزر رھی ھے ۔
اس کے علاوہ اگر ایک معاشرہ کی عادات و رسومات اچھی نہ لگیں تو اس کا مطلب یہ نھیں کہ دوسرے معاشرہ میں بھی وہ چیز بری ھے ۔ اسلام کسی ایک قوم کسی ایک سماج کے لئے نھیں آیا ۔ ھر زمان ھر مکان کے لئے آیا ھے، جنسی مشکل اس وقت سب سے بڑی مشکل بن کر سامنے آئی ھے اس کو اخلاق، نصیحت و ارشاد حتی ایڈز کی بیماری بھی نھیں روک سکتی ۔



1. الماوردی، ادب الدین و الدنیا: 111
2. أبو حامد الغزالي، الاقتصاد في الاعتقاد: 234
3. سورہ شوریٰ ۳۸
4. سورہ رعد ۷
5. سورہ اسراء ۷۱
6. صحیح مسلم کتاب امارہ ج ۴ / ۵۱۷
7. صحیح مسلم کتاب امارہ ج ۴ / ۵۱۷
8. سورہ نساء ۵۹
9. صحیح البخاری ۔ باب غزوہ خیبر ۵ /۳۸۲
10. صحيح البخاري كتاب فضائل الصحابة باب مناقب فاطمة: 5 / 75
11. صحيح البخاري كتاب الاستئذان 8 / 202
12. صحيح البخاري كتاب فضائل الصحابة باب مناقب فاطمة: 5 / 75
13. سورہ احزاب ۳۳
14. الامامہ و السیاسۃ ابن قتیبۃ دینوری ۱ / ۸۲
15. تاریخ ابن کثیر ۶ / ۲۲۱
16. العقد الفريد لابن عبد ربه: 3 / 108
17. صحیح البخاری کتاب الخمس ۴ / ۲۱۷
18. مستدرک الحاکم ۲ / ۱۴۸
19. صحیح البخاری کتاب الجھاد ۴ / ۵۲
20. صحیح مسلم کتاب الامارہ ۴ / ۵۱۹
21. محمد الغزالی ماۃ سوال عن الاسلام ۲ / ۳۵۱
22. سورہ انفال ۴۱




تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
4+10 =