پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

قرآن کی ان دو آیتوں ..... کے مطابق مردے نہیں سنتے ہیں۔ اس جہت سے پیغمبر و ائمہ معصومین (ع) سے گفتگو کرنا اور انہیں سلام کرنا کیا یہ عمل بے فائدہ

اسلام کی نظر میں موت، انسان کے نابود اور فناء ہوجانے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ حقیقت انسان یعنی روح کو ایک جہان سے دوسرے جہان میں منتقل کرنے کے معنی میں ہے اور انسان کی زندگی اس عالم میں دوسرے انداز سے گزرے گی یہاں تک کہ قیامت اور روز محشر آپہونچے۔
قرآن کریم نے موت کے سلسلے میں کلمہ "توفی" 1 کا استعمال کیا ہے۔ جس کے معنی تمام کمال کے ساتھ لے لینے کے ہیں۔ قرآن کریم کی نگاہ میں الہی فرشتہ (ملک الموت) موت کے وقت انسان کو تمام حقیقت و شخصیت کے ساتھ اپنے قبضہ میں لیتا ہے اور اس جہان سے دوسرے جہان میں منتقل کرتا ہے۔
اسی بناء پر قرآن کی زبان میں وہ جو انسان کی شخصیت اور وجود کو شکل عطا کرتی ہے وہ اس کی روح ہے ۔موت کا فرشتہ انسان کے جسم کو کسی جگہ منتقل نہیں کرتا ہے ۔ بلکہ جسم اسی دنیا میں رہے گا اور آہستہ آہستہ خاک میں تبدیل ہو جائے گا ۔ لیکن انسان اپنی تمام حقیقت کے ساتھ مرنے کے بعد بھی باقی رہے گا۔
قرآن نے انسان کے مرنے سے لیکر قیامت تک کی حیات کو"برزخ"کے نام سے یاد کیا ہے۔
برزخ کے معنی دو چیزوں کے در میان فاصلہ کے ہیں ۔{ومن ورائھم برزخ الی یوم یبعثون}2
ترجمہ: اور ان کے پیچھے ایک عالم برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے۔
قرآن کی نگاہ میں موت فنا و نابودی نہیں ہے بلکہ انسان مرنے کے بعد اپنی تمام حقیقت اور واقعیت کے ساتھ برزخ میں زندگی گزارے گا۔
یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ انبیاء اور اولیاء الہی جو اس دنیا سے جا چکے ہیں ان سے کلام کیا جائے اور انھیں سلام کیا جائے، کیا وہ ہمارے کلام کو سنتے ہیں۔

۱۔ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے اس اوٹنی کے پیروں کو کاٹا جو ان کا معجزہ تھی اور حکم خدا وند کی نافرمانی کی تو عذاب الہی کے مستحق قرار پائے اور زلزلہ کے ذریعہ ہلاک ہوئے۔حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے ان کے ہلاک ہونے کے بعد گفتگو کی جس کو قرآن نے اس طرح سے بیان کیا ہے۔
{فاخذتھم الرجفة فا صبحوا فی دارھم جاثمین فتولی عنھم و قال یا قوم لقد ابلغتکم رسالة ربی و نصحت لکم و لکن لا تحبون الناصحین}3
ترجمہ: تو انھیں زلزلہ نے اپنی گرفت میں لے لیا کہ اپنے ہی گھر میں سر بہ زانو پیغام کو پہنچایا تم کو نصیحت کی مگر افسوس کہ تم نصیحت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتے ہو۔ شیعہ اور اہل سنت کی روایتوں میں آیا ہے کہ جب جنگ بدر مسلمانوں کی کامیابی کےساتھ تمام ہوگئی جس میں۷0 آدمی کفار قریش کے مارے گئے اور ٧0 آدمی گرفتار ہوئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا مشرکوں کی لاشوں کو ایک گڑھے میں ڈال دیا جائے۔اس کے بعد آپ نے ان میں سے ہر ایک کو اس کے نام سے پکارا اورفرمایا تمہارے پرور دگار نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے حق پایا؟
لیکن میرے پرور دگار نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اسے میں نے حق اور سچ پایا! اسی وقت بعض صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا کیا آپ مردوں کو آواز دے رہے ہیں؟
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو (یعنی وہ تم سے بہتر سن سکتے ہیں) وہ سن رہے ہیں لیکن جواب دینے پر قادر نہیں ہیں ۔4

2۔ روایت میں ذکر ہوا ہے: رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی زندگی کے آخری حصہ میں ایک رات کو بعض صحابہ کرام کے ہمراہ قبرستان بقیع کی جانب روانہ ہوئے وہاں پہنچنے کے بعد اہل بقیع سے اس طرح سے خطاب کیا !سلام ہو تم لوگوں پرکہ تم مومنین کی جگہ پر قرار پائے، تم لوگوں نے مجھ پر سبقت کی ہے اور میں بھی عنقریب تم لوگوں سے آملونگا۔5

3۔ اہل سنت کی روایتوں میں ذکر ہوا ہے: جس وقت مردہ کو قبر میں چھپا کر اس کے عزیز و اقارب جانے لگتے ہیں ابھی مردہ ان کے قدموں کی آواز کو سنتا ہی رہتا ہے کہ خدا کی جانب سے دو فرشتے اس سے سوال کرنے کے لئے آ پہنچتے ہیں۔ 6

4۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے: (اذا مرّ الرجل بقبر اخیہ یعرفہ، فسلم علیہ رد علیہ السلام و عرفہ و اذا مر بقبر لا یعرفہ فسلم علیہ رد علیہ السلام) 7 جب کوئی اپنے مومن بھائی کی قبر کے پاس سے گزرے اور اسے پہچانتا ہو اگر اس پر سلام کرے تو وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے اور اسے پہچانتا ہے لیکن جب کسی ایسی قبر کے پاس سے گزرے جسے وہ نہیں پہچانتا ہے اگر اسے سلام کرے تو وہ بھی اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔

5۔ شیعہ اور اہل سنت کی روایتوں میں ذکر ہوا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: کوئی نہیں ہے کہ مجھ پر سلام کرے مگر وہ جس کے سلام کو خدا میری روح تک پہنچاتا ہے اور میں اس کا جواب دیتا ہوں8

6۔ جو چیزیں دفن اور اس کے آداب میں مستحب ہیں ان میں سے ایک مردہ کی تلقین ہے جس پر شیعہ اور سنّی علماء کا اتفاق ہے اور بہت سی روایتیں اس سلسلہ سے ذکر ہوئی ہیں 9
یہ حکم مردوں کے سننے پر دوسری دلیل ہے ان مورد میں جہاں خداوند عالم نے ارادہ کیا ہے کہ وہ سنیں۔
ان تمام دلیلوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ خدا وند عالم کے ارادہ کی بنیاد پر حتی کہ معمولی مردے اپنے زائر کو پہچانتے ہیں، انکے کلام کو سنتے اور انکے سلام کا جواب بھی دیتے ہیں۔
قرآن کی نظر میں موت نابودی اور فناء نہیں ہے بلکہ انسان وہاں اپنی تمام حقیقت کے ساتھ زندگی گزارے گا۔ اسی وجہ سے سلام کرنا اور اولیاء الہی سے کلام کرنا ( کہ جو وجود اور خداسے قربت کی آخری منزل پر فائز ہیں) نہ یہ صرف عمل بے فائدہ و بیکار نہیں ہے ۔بلکہ یہ عمل پسندیدہ اور صحیح ہے۔
اسی بنا پر جب ہم اولیاء الہی کے قبور کی زیارت کے لئے جاتے ہیں تو اذن دخول میں پڑھتے ہیں ۔
"واعلم انّ رسولک و خلفائک علیہم السلام احیاء عندک یرزقون یرون مقامی و یسمعون کلامی و یردون سلامی" 10
بار الہ میں جانتا ہوں کہ تیرے خلفاء اور رسول (کہ ان پر درود سلام ہو) زندہ ہیں اور تیرے نزدیک رزق حاصل کرتے ہیں اور ہمارے کھڑے ہونے کی جگہ کو دیکھ رہے ہیں، ہمارے کلام کو سن رہے ہیں اور ہمارے سلام کا جواب بھی دے رہے ہیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد اصحاب،تابعین اور تمام مسلمان چاہے وہ سنی ہوں یا شیعہ ان کی سیرت تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پکارتے تھے اور ان سے مدد طلب کرتے تھے11
سمہودی جو اہل سنت کے علماؤں میں سے ہیں لکھتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کےبعد ان سے توسل اختیار کرنا ممکن ہے، اس معنی میں ہے کہ ان سے دعا کی درخواست کریں اس طرح سے جیسے ان کی زندگی میں ان سے دعا کی درخواست کرتے تھے۔
اس قسم کے توسل کا ذکر بیہقی کی روایت میں مالک الدار سے اور ابن ابی شیبہ سے بھی صحیح سند کے ساتھذکر ہوا ہے۔
لوگ عمر بن خطاب کے زمانہ میں قحط و خشکسالی سے دچار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی نے ان کی قبر کے پاس آکر اس طرح سے کہا ( یا رسول اللہ استسقی اللہ لا متک فانھم قد ھلکوا) 12 اے اللہ کے رسول اپنی امت کے لئے خدا سے بارش کی سفارش کر دیں کیونکہ وہ سب ھلاک ہوجائیں گے۔ اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دعا کی درخواست ان کی رحلت کے بعد ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا وفات کے بعد بھی امکان رکھتی ہے اور جو ان سے دعا کی درخواست کرتا ہے وہ اس کی درخواست کا علم رکھتے ہیں۔13
اس آیہ کریمہ {انک لا تسمع الموتی} {وانت بمسمع من فی القبور} میں جو بیان ہوا ہے کہ مردہ سنتے نہیں ہیں وہ حقیقت میں ان کافروں کے لئے ہے جن کے دل مردہ ہوگئے ہیں انھیں، مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ مردہ ظاہری طور پر نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اس لئے کہ وہ محسوس کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہوتے ہیں ۔
اسلام سے دشمنی رکھنے والا کافر بھی حق کو دیکھنے وا لی آنکھ اور حق سننے والا کان نہیں رکھتا ہے۔ اس آیت کا اصلی مقصد کافروں کی مذمت اور ملامت کرنا اور انہیں مردوں سے تشبیہ دینا ہے۔
یعنی خدا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خطاب کر کے کہہ رہا ہے اے پیغمبر آپ کافروں کی ہدایت نہیں کر سکتے اورانہیں حق بات نہیں سمجھا سکتے ہیں (کیو نکہ وہ مردہ ہیں اوران پر کسی بات کا کوئی اثر ہونے والا نہیں ہے)



1. سورہ سجدہ، آیہ ۱۱ ۔
2. سورہ مومنون : آیة۱۰۰۔
3. سورہ اعراف: آیة ۷۸ و ۷۹۔
4. بحار الانوار، ج ۱۹،ص ۳۴۶ ۔صحیح بخاری،ج ۵، ص ۷۷۔صحیح مسلم،ج ۸، ص ۱۶۳۔سنن نسائی، ج ۴، ص ۱۱۰
5. مفید ارشاد، ج ۱،ص ۱۸۱۔مناقب آل ابی طالب، ج ۱، ص ۲۰۱۔ سنن ترمذی،ج ۲، ص ۲۵۸، ح ۱۰۵۹۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۱۰، ص ۱۸۳)
6. صحیح بخاری، ج ۲، ص ۹۲و۱۰۲
7. کنز العمال، ج ۱۵، ص ۶۴۶، ح ۴۲۵۵۶۔ احیاء العلوم، ج۴، ص ۴۷۴۔ الفقہ علی المذاھب الاربع، ج ۱، ص ۳۸۷۔
8. سنن ابی داوود: ج۱،ص۴۵۳،ح۲۰۴۱۔ مسند احمد بن حنبل:ج۲،ص ۵۲۷
9. الفقہ علی المذاھب الاربعہ: ج۱،ص۳۸۷۔ صحیح بخاری:ج۲،ص۶۳۱،ح۱ و ۲ ۔ الجامع الصغیر: ص ۲۱۰ و ...
10. مفاتیح الجنان، ص ۵۲۹
11. رک: الف ابن جوزی، الوفاء فی فضائل المصطفی، باب طلب شفا از قبر نبی اکرم ب: وفاء الا خبار دار المصطفی، ج ۲، ص ۴۱۳۔
12. بیھقی و ابن ابی شیبہ آن صحابی را ( بلال بن حرث ) معرفی کرد ہ اند: الدعوة الاسلامیة، ج ۲، ص ۲۰۷
13. وفا ء الوفاء سمھودی، ج ۴، ص ۱۳۷۴؛ الدعوة الاسلامیة، ج ۲، ص ۲۰۷



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
8+9 =