پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

متعہ (نکاح موقت) اور اس کا فلسفہ کیا ھے ؟


اسلام کے عطا کردہ حقوق سے متعلق مسائل کا جب ھم گہری نظر سے مطالعہ کرتے ھیں تو ھم پر یہ حقیقت روشن ھوجاتی ھے کہ اسلام نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں انسان کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر قوانین وضع کیے ھیں اور وہ انسانی ضروریات وحاجات کے ساتھ برابر توازن و تناسب برقرار رکھتے ھیں ۔ اسلام کے روشن احکام اپنی ٹھیک ٹھیک اصل حالت میں تمام زمانوں میں انسان کے طبعی اور فطری تقاضوں کو پورا کرتے ھیں ۔ انسانوں کے طاقتور ترین جذبوں میں سے ایک، جذبہ جنسی بھی ھے اللہ تعالی نے نسل انسانی کو باقی رکھنے اور اس میں توسیع کے لئے یہ جذبہ انسان کے اندر رکھا ھے ۔
اسلام نے جو قانون ازدواج اپنی شریعت میں وضع کیا ھے، وہ اس جذبے اور خواھش کی صحیح اور شائستہ طریقے پر تکمیل کے لئے وضع کیا ھے بلا شبہ دائمی شادی انسانی کو گناھوں کی آلودگی سے بچاتی ھے اور اس کی عفت کی حفاظت کے لئے ایک موثر کردار ادا کرتی ھے ۔ اس کے باوجود وہ تمام حالات و اسلام میں عارضی شادی کا قانون وضع کیا گیا ھے ۔ تاکہ حالات و شرائط میں جنسی تقاضوں کا مثبت جواب دیا جاسکے ۔

متعہ قرآن و حدیث کی رو سے

اس بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ھے :
" فما استمتعتم بہ منھن فاتوھن اجورھم فریضةً " 1
" جن عورتوں سے تم نے نکاح موقت (متعہ ) کیا ھے ان کا مہراداکردو ۔"
شیعہ مفسرین نے متفقہ طور پر اور اھل سنت سے تعلق رکھنے والے مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کے بارے میں کھا ھے کہ یہ متعہ کے بارے میں نازل ھوئی ھے ۔
اس قانون کے بارے میں پیشوایان اسلام کی کچھ احادیث اور اقوال بھی موجود ھیں جن سے بعض کا یھاں ذکر کیا جاتا ھے ۔
عبد اللہ ابن مسعود فرماتے ھیں ؛
" ایک جنگ میں ھم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ھمراہ تھے ۔ چونکہ ھماری بیویاں ھمارے ساتھ نہ تھیں اس لئے جنسی خواھش کا ھم پر بڑا دباؤ تھا ۔ ھم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا ھم کوئی ایسا طریقہ اختیار کریں کہ ھمارے اندر سے یہ جنسی خواھش بالکل ھی ختم ھوجائے ؟
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کرنے سے ھمیں روک دیا اور ھمیں عارضی مدت کے لئے شادی کرنے کی اجازت دے دی اور اس آیت کی تلاوت فرمائی :
" یایھا الذین آمنوا لاتحرموا طیبات ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین ۔ " 2
" اے وہ لوگو جو ایمان لائے ھوان پاکیزہ کاموں کو جو اللہ نے حلال فرمائے ھیں تم انھیں اپنے اور حرام نہ ٹھہرا لو اور تجاوز نہ کرو کیونکہ اللہ تعالی تجاوز کرنے والوں کو پسند نھیں فرماتا ۔۔"
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :
" اگر عمر عارضی شادی (متعہ ) کی ممانعت نہ کرتے تو سوائے بدبخت انسان کے کوئی زنا کا مرتکب نہ ھوتا ۔ " 3
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :
" جو شخص متعہ کو حلال نہ سمجھے وہ ھم میں سے نھیں ھے ۔"

متعہ حقوق اسلام کی رو سے

عارضی مدت کی شادی اور دائمی کا شادی اپنے اکثر احکام میں یکساں ھیں البتہ ان کے ایک حصے میں فرق و اختلاف موجود ھے ۔
پھلے مرحلے میں جو باتیں ان دونوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ھیں ان میں سے ایک یہ ھے کہ عارضی شادی میں عورت اور مرد ایک مقررہ مدت کے لئے شادی کرنے کا فیصلہ کرتے ھیں ۔ جب یہ مدت ختم ھوجاتی ھے تو وہ ایک دوسرے معاھدے کے تحت کتب فقہ میں مذکورہ شرائط کے مطابق پیمان عقد کی مدت میں اضافہ کرلیتے ھیں ۔
دوسرے یہ کہ عارضی مدت کی شادی اپنے شرائط کے لحاظ سے نسبتاً زیادہ آزادی کی حامل ھوتی ھے ۔ اس طرح کی شادی میں عورت کے سارے اخراجات کی ذمہ داری مرد پر عائد نھیں ھوتی مگر یہ کہ وہ عقد کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ کوئی معاھدہ کرلیں ۔ نیز یہ کہ عورت اور مرد بغیر کسی باھمی معاھدہ کے ایک دوسرے کی وراثت کے حقدار نھیں ھوتے ۔
اور اسی طرح عارضی مدت کی اس شادی کے نتیجے میں اگر کوئی اولاد پیدا ھوتی ھے تو وہ دائمی شادی کے ذریعہ ولادت پانے والی اولاد کے برابر ھوتی ھے ۔ دونوں کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نھیں ھوتا ۔
مثلاً دونوں طرح کی شادیوں میں مہر ضروری ھے ۔ اور ان دونوں طرح کی شادیوں میں، مرد اپنی بیوی کی ماں اور بیٹی کے ساتھ شادی نھیں کرسکتا ۔ کیونکہ وہ دونوں اس کے لئے محرم قرار پاتی ھیں ۔ اور جیسا کہ دائمی شادی میں طلاق کے بعد عورت کے لئے عدت گزارنا لازم ھوتا ھے اسی طرح عارضی مدت کی شادی میں بھی عورت کے لئے عدت کے ایام گزارنا ضروری ھے البتہ اس فرق کے ساتھ کہ دائمی بیوی کے لئے تین ماھواری یا تین ماہ (بعض روایات میں ) کی مدت ھے اور عارضی مدت والی بیوی کے لئے دوماھواری یا پینتالیس (45) روز کی مدت مقرر ھے ۔ 4

فلسفہ متعہ

جیسا کہ پھلے تحریر کیا ھے کہ تنھا دائمی نکاح جنسی مسائل کے حل پر قدرت نھیں رکھتا کیونکہ بعض اوقات مردوں کو ایسی ضروریات پیش آتی ھیں جن کی بنا پر وہ اپنی بیویوں سے جنسی فوائد حاصل نھیں کرسکتے ۔ یقیناً اس عرصہ کے دوران ان کے جنسی جذبات شدید مشکلات کا شکار ھوتے ھیں اور اگر شریعت کے مطابق اس مشکل کا حل نہ ھوسکے تو ممکن ھے کہ وہ آلودگیوں کا شکار ھوجائیں ۔
دوسرا موضوع جس کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جانا چاھیئے وہ سن بلوغ کو پھنچنے والے نوجوانوں کا مسئلہ ھے ۔ اس سن کو پھنچنےکے ساتھ ھی ان کے اندر جنسی خواھش بیدار ھوجاتی ھے لیکن وہ معمول کے مطابق فوری طور پر شادی نھیں کر سکتے ۔ ان کی زندگی کا یھی وہ دور ھوتا ھے جس میں وہ حرام اور ناجائز راستوں پر پڑجاتے ھیں ۔
برٹرینڈ رسل لکھتا ھے :
" ان کی دنیا میں اجتماعی اور اقتصادی ضروریات اور مشکلات نے ھماری خواھش اور تدبیر کے علی الرغم نوجوانوں کی شادیوں کو موخر کر رکھا ھے ۔ کیونکہ آج سے سو( 100) یا دو (200 ) سال پھلے ایک طالب علم اٹھارہ یا بیس سال کی عمر میں اپنی تعلیم کی تعلیم کی تکمیل کرلیتا تھا اور جنسی خواھش کے بیدار ھوتے ھی یا سن بلوغ کے آغاز ھی میں شادی کے لئے پوری طرح تیار ھوتا تھا، اس زمانے میں بہت کم لوگ ایسے ھوتے تھے جو اپنی عمر کے تیس چالیس سال کسی خاص علم و فن میں مھارت حاصل کرنے کے لئے صرف کر دیتے تھے ۔
لیکن اس دور جدید میں طلبہ بیس سال کی عمر کے بعد علم و صنعت کے کسی خاص شعبے میں مھارے حاصل کرنے کے لئے اپنی جدوجھد کا آغاز کرتے ھیں اور پھر کسی خاص شعبے میں مھارت حاصل کر لینے کے بعد وہ کافی دنوں تک تلاش معاش اور معاشی استقلال کے لئے سرگرداں رہتے ھیں اس طر ح وہ تیس (30) یا پینتیس (35) سال کی عمر میں اس قابل ھوتے ھیں کہ شادی کریں اور ازدواجی زندگی کا آغاز کریں ۔ اس صورت میں ان نوجوان طلبہ کے لئے سن بلوغ کو پھنچنے اور شادی کرنے کا درمیانی عرصہ کافی طویل ثابت ھوتا ھے اور ان کی زندگی کا یھی وہ دور ھے جو بہت ھی حساس اور جنسی جذبے کے جوش و خروش کا دور کھلاتا ھے اور اسی دور میں انھیں ھوا و ھوس اور زندگی کی دلفریبیوں کے خلاف مزاحمت کرنے پڑتی ھے ۔
ھمارے لئے یہ بات مناسب نھیں ھے کہ ھم انسان کی عمر یا انسان کے معاشرتی نظام سے اس حساس اور جذباتی دور کو ساقط کردیں ۔ اگر ھم نے زندگی کے اس حساس اور طویل دور کو کوئی اھمیت نہ دی اور اس کے بارے میں کوئی فکر نہ کی تومعاشرہ کے مردوں اور عورتوں کی صحت، نسل اور اخلاق میں بڑا فساد رونما ھوگا ۔ اس صورت میں ھمیں کیا کرنا چاھیئے ۔ ؟
برٹرینڈرسل نے اس سوال کا جواب کچھ اس طرح دیا ھے :
" اس مشکل کو حل کرنے کی صحیح راہ یہ ھے کہ ھمارے سماجی قوانین، عمر کے اس حساس دور میں لڑکیوں اور لڑکوں کے لئے، عارضی مدت کی شادی کو جائز قرار دیں کیونکہ وہ اپنی عمر کے اس دور میں خاندانی زندگی اور دائمی شادی کی مشکلات کو برداشت نھیں کرسکتے ۔ یہ عارضی مدت کی شادی، ان نوجوانوں کو مختلف مفاسد، ناجائز اعمال، گناہ کی روحانی اذیت، اصول اور قوانین کی خلاف ورزی اور گوناگوں امراض سے محفوظ رکھ سکتی ھے ۔"
رسل کی اصطلاح میں اس طرح کی شادی کو بغیر اولاد والی شادی کا نام دیا جاسکتا ھے ۔
ایسے حالات میں جب کہ دائمی شادی سے فائدہ اٹھانا ممکن ھے تو جنسی خواھش کے جوش و خروش کو کس طرح ٹھنڈا کیا جائے ۔؟
کیا اس کے لئے ریاضت اور رہبانیت کی راہ اختیار کی جائے ۔ ؟
کیا تمام نوجوان ایسے صبر وتحمل کے ئے تیار ھوسکتے ھیں اور اپنی عفت اور پاکدامنی کی حفاظت کرسکتے ھیں ۔ ؟
یا پھر ان کے لئے کوئی اور تدبیر سوچی جائے ۔ ؟
اس صورت میں دو ھی راستے کھلے ھیں ایک یہ کہ ھم نوجوان کو ان کےحال پر چھوڑ دیں تا کہ لڑکے اور لڑکیاں ناجائز روابط استوار کریں اور ان تمام مفاسد اور برے نتائج کا سامنا کریں جو انھیں کوئی شعور نھیں ۔
کیا یہ راستہ ایک صحیح راستہ ھوسکتا ھے ؟
کیا ان ناجائز تعلقات کے بعد یہ لڑکے اور لڑکیاں اپنی دائمی ازدواجی زندگی میں ایسے میاں بیوی ثابت ھوسکیں گے جو زندگی اور خاندان کے تقاضوں کو پورا کرسکیں ۔ ؟
دوسرا راستہ یہ ھے کہ ان نوجوانوں کے لئے عارضی مدت کی شادی تجویز کریں تا کہ اس طرح وہ اپنی جنسی خواھش کے تقاضوں کو پورا کرسکیں ۔
بلاشبہ صحیح راستہ یھی دوسرا راستہ ھے ۔ کیونکہ ھمارے جوانوں کے لئے جنسی خواھش پورا کرنے کی کوئی راہ اس کے سوا نھیں ھے ورنہ وہ ہر طرح کی الودگی اور گناہ میں مبتلا ھوجائیں گے ۔ اس کے بہترین گواہ وہ اعداد و شمار ھیں جو اخلاقی فساد اور جنسی انار کی کے بارے میں مغربی ممالک کے رسائل و جرائد میں شائع ھوتے رہتے ھیں :
امریکہ کا ایک مجلہ " دہسپرڈ " لکھتا ھے :
" ناجائز بچوں کی تعداد کروڑ تک پھنچ گئی ھے اور فرانس کے ہر سو (100) بچوں میں سے سات بچے حرامی اور ناجائز ھوتے ھیں ۔" 5
یہ بات بڑی افسوس ناک ھے کہ کچھ لوگ یہ سمجھتے ھیں کہ انھوں نے ان طریقوں سے نوجوانوں کی مشکلات کو حل کر ڈالا ھے ۔ یہ وہ لوگ ھیں جو نوجوانوں کے اخلاق اور اخلاقی قدروں کو کوئی اھمیت نھیں دیتے ۔ یہ نوجوانوں کے گناہ اور آلودگیوں میں مبتلا ھونے کو توروا رکھتے ھیں لیکن انھیں عارضی مدت کی شادی کے اس اچھے قانون سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نھیں دیتے ۔
یقیناً ان لوگوں نے غلط فیصلوں اور بے جا اعتراضات کی راہ اختیار کی ھے۔ اس کی وجہ یہ ھے کہ انھوں نے عارضی مدت کے شادی کا مطالعہ مذہب کے نقطہ نظر سے نھیں کیا ھے اور حقوق اور اجتماعیت کے نقطہ نظر سے انھوں نے عارضی مدت کی شادی کے مسئلہ کو شاید و باید ھی جانچا ھے ۔

عارضی مدت کی شادی کے مخالفین کیا کہتے ھیں ۔ ؟

عارضی مدت کی شادی کے مخالفین اپنی دانست میں اس مسئلہ پر بڑے وزنی اعتراضات کرتے ھیں ۔ ھم ان کے اعتراضات کو یھاں نقل کر رھے ھیں تا کہ بات واضح ھوجائے اور پھر ہر اعتراض کا جواب بھی دیں گے ۔

پھلا اعتراض

اگر شادی کا معاھدہ عارضی مدت کے لئے ھوتو میاں بیوی ایک دوسرے کو محبت اور الفت کے مضبوط رشتے میں نھیں باندھ سکیں گے ۔
جواب :
یہ اعتراض اس قانون کی حکمت تشریع کو نہ جاننے کی وجہ سے پیدا ھوا ھے جیسا کہ ھم اس سے پھلے کہہ چکے ھیں کہ جنسی تقاضوں کا جواب دینے کے لئے دائمی شادی کافی نھیں ھے ۔ اسی لئے جنسی خواھشات کو صحیح اور معقول طریقے سے پورا کرنے کی خاطر مذکورہ شرائط کے تحت عارضی مدت کی شادی کی اجازت دی گئی ھے اور اس کے لئے قانون بنایا گیا ھے ۔
اگر اس شادی کا مقصد خاندان کی تشکیل اور مرد عورت کے درمیان انس پیدا کرنا ھوتا تو یہ اعتراض بالکل بجا ھوتا ۔ لیکن اس قانون کی جو حکمت تشریع ھے اس کی روشنی میں اس اعتراض کی کوئی گنجائش نھیں رہتی بلکہ یہ کھا جاسکتا ھے :
" عارضی مدت کی شادی ان لوگوں کے لئے ایک بہترین راستہ ھے جو شادی کرنے کے لئے آمادہ ھیں اور وہ اپنی آئندہ ھونے والی رفیقہ حیات کے ساتھ اخلاقی ھم اھنگی کے خواھاں ھیں ۔ اس صورت میں وہ ایک جائز طریقے سے کچھ عرصے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ھیں اور ایک دوسرے کی اخلاقی صفات سے آگاہ ھوسکتے ھیں اور اخلاقی ھم آھنگی پانے کے بعد وہ اپنی عارضی شادی کو دائمی شادی میں تبدیل کرسکتے ھیں ۔"

دوسرا اعتراض

شیعہ معاشرہ میں عورتوں اور لڑکیوں نے عارضی مدت کی شادی کو پسند و قبول نھیں کیا ھے ۔ ؟
جواب :
ھمیں یہ دیکھنا چاھیئے کہ اس نفرت کا سبب اس کے خلاف زہریلا پروپگنڈہ اور ناجائز فائدے ھیں جو ھوس رانی کرنے والے مردوں نے اس سے اٹھائے ھیں ۔ ظاہر ھے ان ناجائز فائدوں کو اصل قانون کے کھاتے میں ڈالنا قرین انصاف نھیں ھے ۔
اس سے پھلے ھم لکھ چکے ھیں کہ دینی نظام میں دائمی شادی کی طرح عارضی مدت کی شادی کے لئے بھی کچھ شرائط اور ضوابط ھیں جو تمام عورتوں اور مردوں کے پیش نظر رھنے چاھئں ۔ اور اس عارضی مدت کی شادی کو ان ضوابط کے حدود میں ھی رکھنا چاھیئے ۔
بلاشبہ اگر ان حدود و شرائط کو نظر انداز کردیا گیا اور فقط صیغہ پڑھنے کی شرط ھی پر اکتفا کیا گیا تو اس قسم کی شادی کے خلاف نفرت اور بے چینی ھی پیدا ھوگی اور لوگوں کے عام خیالات اس عمدہ اور مقدس قانون کے بارے میں خراب ھوتے رھیں گے ۔

تیسرا اعتراض

عارضی مدت کی شادی اور اجارے و کرائے کے درمیان کوئی فرق نھیں۔ اس سے عورت کی شخصیت ختم ھوجاتی ھے ۔ ؟
جواب :
یہ اعتراض مذکورہ بالا تمام اعتراض سے زیادہ کمزور اور زیادہ بے بنیاد ھے ۔ پھلی بات تو یہ کہ عارضی مدت کی شادی کا اجارہ سے کوئی تعلق نھیں ۔ اس کی دلیل یہ ھے کہ اگر ھم فقھاء کی تصریح کے مطابق عارضی مدت کی شادی کے عقد کو لفظ اجارہ کے ساتھ پڑھیں یعنی عورت یہ کھے " اجرتک نفسی " میں نے خود کو اجارہ پر تیرے حوالے کیا تو یہ صحیح نھیں ھوگا ۔
دوسرے یہ کہ عارضی مدت کی شادی اور دائمی شادی میں اس اعتبار سے کوئی فرق نھیں ھے کیونکہ دائمی شادی میں مہر کا مقرر کیا جانا عورت کی شخصیت کو کوئی نقصان نھیں ھے پھنچاتااور عورت کی حیثیت اور اس کے انسانی شرف کے زوال کا سبب نھیں بنتا ۔
اس دوسری قسم کی شادی کا معاملہ بھی یھی ھے اس لئے کہ دائمی شادی اور عارضی مدت کی شادی درمیان فرق صرف مدت کا ھے ۔
یہ بات بڑی عجیب ھے کہ اگر ایک عورت اپنے ارادے و اختیار سے کسی مرد کے ساتھ عارضی مدت کے لئے شادی پر آمادہ ھوتی ھے تو لوگوں کے نزدیک یہ کرائے پر اٹھنے والی عورت ھوئی اور ان کی منطق کے مطابق اس سے عورت کی انسانی شخصیت پستی میں گرجاتی ھے ۔ لیکن وہ عورتیں جو انتھائی بے شرمی کے ساتھ اور حیا سوز حرکات و اعمال کے ساتھ فلموں کے اندر اپنے جسموں کی نمائش کرتی ھیں یا رقص و سرود کی محفلوں میں ناچ کر اور گا کر ہزاروں حریص نگاھوں کی تسکین ھوس کا سامان فراھم کرتی ھیں ۔ کیا وہ کرائے پر اٹھنے والی عورتیں نھیں ھیں۔ ؟
اسی طرح ان لوگوں کی نگاھوں میں وہ عورتیں پستی میں نھیں گری ھوتی ھیں جن کے کئی کئی آشنا ھوتے ھیں ۔ اگر یہ لوگ واقعی عورتوں کے ھمدرد ھیں اور وہ عورت کی شخصیت کی حفاظت کرنا چاھیتے ھیں تو وہ فحاشی کے ان اڈوں کے بارے میں فکر کریں جو تمام غیر صحت مند معاشروں کے اندر موجود ھیں ۔ کیا ان جگھوں پر عورتیں کسی شرافت مندانہ زندگی سے بہرہ مند ھیں ؟
کیا انھیں یہ محسوس ھوتا ھے کہ ان کی بھی کوئی شخصیت ھے ؟
کیا معاشرہ کی طرف سے ٹھکرائی ھوئی ان عورتوں کی اذیت انگیز اور ذلت آمیز زندگی، قیدیوں اور زمانہ قدیم کی لونڈیوں سے بدتر نھیں ھے ؟

چوتھا اعتراض

عارضی مدت کی شادی کے نتیجے میں جو اولاد پیدا ھوتی ھے اس کا کیا کیا جائے گا ؟
جواب :
جیسا کہ آپ سطور بالا میں پڑھ چکے ھیں کہ عارضی مدت کی شادی کے نتیجے میں پیدا ھونے والے فرزند اور دائمی شادی کے ذریعہ تولد ھونے والے فرزند کے درمیان کوئی فرق نھیں ھے ۔ باپ کا یہ فرض ھوتا ھے کہ وہ اپنے اس بیٹے کی بھی ویسی ھی نگھداشت کرے جیسی دائمی شادی کے نتیجے میں پیدا ھونے والے فرزندوں کی کرتا ھے ۔
بالفرض اگر باپ اس بارے میں اپنا فرض ادا کرنے میں کوتاھی سے کام لیتا ھے تو حاکم شرع کو مداخلت کرنی چاھیئے اور باپ کو اپنے بیٹے کے حقوق ادا کرنے کا پابند بنانا چاھیئے ۔ اس کے باوجود اگر کچھ لوگ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کوتاھی سے کام لیں تو اس کا شادی کے اصل قانون سے کوئی تعلق نہ ھوگا جیسا کہ دائمی شادی کے بارے میں بھی بعض لوگ بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاھی اور خلاف ورزی کے مرتکب ھوتے ھیں ۔
یہ بات واضح ھے کہ اگر دائمی شادی کی طرح عارضی مدت کی شادی کا بھی رجسٹریشن ھوتو اس کی حیثیت بھی قانونی ھوجائے گی اور کوئی مشکل پیدا نھیں ھوگی اور ناجائز فائدے اٹھانے کا بھی سدباب ھوجائے گا ۔
اس طرح یہ بات واضح ھوگئی کہ عارضی مدت کی شادی سے پیدا ھونے والے فرزند اور دائمی شادی سے تولد ھونے والے فرزند دونوں ھم مرتبہ اور مساوی ھیں ۔ اسلامی احکام ان دونوں کے بارے میں کوئی امیتاز نھیں برتتے جیسا کہ ابتدائی دور میں بعض لوگ عارضی مدت کی شادی کے ذریعہ تولد ھوئے لیکن کسی نے ان پر حقارت کی نظر نھیں ڈالی اور وہ قوانین کی نظر میں باعتبار شخصیت اور تمام مسلمانوں کے ھم مرتبہ اور مساوی رھے ھیں ۔



1. سورہ نساء آیت 24 ۔
2. صحیح مسلم ج 3 ص 120 ۔
3. وسائل جلد 14 ص 440 ۔
4. رسالہ توضیح المسائل میں عدت کے احکام تفصیل سے درج کیے گئے ھیں ۔
5. حقوق زن در اسلام و جھان ۔ ص 214 (فارسی کتاب)



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
4+4 =