پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

قرآن کریم تحریف سے منزہ ھے یا نھیں اس پر فریقین کیا کھتے ھیں؟


عدم تحريف قرآن

شيعوں كے خلاف ہونے والے جھوٹے پروپيگنڈے كے برعكس ہم اعتقاد ركھتے ہيں كہ آج جو قرآن مجيدہمارے اور تمام مسلمانوں كے پاس ہے يہ بالكل وہى قرآن مجيد ہے جو پيغمبر اكرم (ص) پر نازل ہوا اور اس ميں حتى ايك لفظ كى بھى كمى و زيادتى نہيں ہوئي ہے _ ہم نے اس مسئلہ كو اپنى تفسير، اصول فقہ و غيرہ كى متعدد كتب ميں وضاحت كے ساتھبيان كيا ہے اور عقلى و نقلى ادلّہ كے ذريعہ اسے ثابت كيا ہے _

ہم قائل ہيں كہ تمام مسلمان علماء اعم از شيعہ و سنى كا اس بات پر اجماع ہے كہ قرآن مجيد ميں كسى چيز كا اضافہ نہيں ہوا ہے اور دونوں مذہب كے محققين كى اكثريت جو اتفاق كے قريب ہے اس بات كى قائل ہے كہ اس ميں كسى قسم كى كمى بھى واقع نہيں ہوئي ہے _

دونوں طرف كے چند گنے چُنے افراد اس بات كے قائل ہيں كہ قرآن مجيد ميں كمى واقع ہوئي ہے جبكہ مشہور علماء اسلام ان كى اس بات كے طرفدار نہيں ہيں_

فريقين كى دو كتابيں

ان گنتى كے چند علماء ميں سے ايك اہل سنت عالم دين ''ابن الخطيب مصري'' ہيں جنہوںنے ''الفرقان فى تحريف القرآن''نامى كتاب لكھى جو 1948عيسوى بمطابق (1367 ہجرى قمري)ميں نشرہوئي _ ليكن بروقت الازہر يونيورسٹى كے علماء اس كتاب كى طرف متوجہ ہوگئے اور انہوں نے، اس كتاب كے نسخوں كو جمع كركے ضائع كردےاليكن اس كے چند نسخے غير قانونى طور پر آس پاس كے لوگوں تك پہنچ گئے_

اسى طرح ايك كتاب (فصل الخطاب فى تحريف كتاب ربّ الا رباب) كے نام سے شيعہ محدث حاجى نورى كے توسط سے لكھى گئي جو 1291ہجرى قمرى ميں شائع ہوئي_اس كتاب كے شائع ہوتے ہى حوزہ علميہ نجف اشرف كے بزرگ علماء نے اس كتاب كے مطالب سے اظہار برائت كيا اور اس كتاب كى جمع آورى كا حكم ديديا_اور اس كے بعد كئي كتابيں اس كے رد ميں لكھى گئيں_جن ميں سے چند ايك كے نام يہ ہيں_

1_نامور فقيہ مرحوم محمود بن ابى القاسم المعروف بہ معرب طہرانى (متوفى سال 1313ھ_ق) نے (كشف الارتياب فى عدم تحريف الكتاب)نامى كتاب لكھى جو كتاب فصل الخطاب كا ردّ تھا_

2_مرحوم علامہ سيد محمد حسين شہرستانى (متوفي1315ھ_ق)نے بھى ايك كتاب بنام (حفظ الكتاب الشريف عن شبہة القول بالتحريف)حاجى نورى كى كتاب فصل الخطاب كے جواب ميں لكھى _

3_مرحوم علامہ بلاغى (متوفى 1352ھ_ق) حوزہ علميہ نجف كے عظيم محقق نے بھى اپنى مشہور كتاب (تفسير آلاء الرحمن)ميں ايك قابل ملاحظہ باب، فصل الخطاب كے رد ميں لكھا ہے 1

4_ہم نے بھى اپنى كتاب (انوار الاصول)ميں عدم تحريف قرآن مجيد كے بارے ميں انتہائي مفصل بحث كى ہے اور فصل الخطاب كے شبہات كا دندان شكن جواب ديا ہے_

مرحوم حاجى نورى اگر چہ عالم دين تھے ليكن بقول علامہ بلاغى انہوں نے ضعيف روايات پر اعتماد كيا ہے اور مذكورہ كتاب شائع ہونے كے بعد خود بھى نادم و پشيمان ہوئے_اور حوزہ عليمہ نجف اشرف كے تمام بزرگ علماء نے اس اقدام كو واضح طور پر ايك غلطى قرار دياہے_ 2

اور دلچسپ بات يہ ہے كہ كتاب فصل الخطاب كے شائع ہونے كے بعد ہر طرف سے حاجى نورى كى مخالفت كا ايسا عظيم طوفان اٹھا كہ وہ خود اپنے دفاع ميں ايك رسالہ لكھنے پر مجبور ہوگئے جس ميں انہوں نے لكھا كہ ميرى مراد عدم تحريف قرآن مجيد تھى لوگوں نے ميرى تعبيرات سے سوء استفادہ كيا ہے_ 3

مرحوم علامہ سيد ھبة الدين شہرستانى كہتے ہيں كہ ميں اس وقت سامرا ميں تھا اور ميرزا شيرازى بزرگ نے اس وقت سامرا كو علم و دانش كا مركز بنا ديا تھا _جس محفل ميں بھى ہم جاتے ہر طرف سے حاجى نورى اور اُن كى كتاب كے خلاف صدائيں بلند ہوتى تھيں _اور بعض لوگ تو انتہائي نازيباالفاظ كے ساتھ انكو يا دكرتے تھے 4

كيا اتنى مخالفت كے با وجود بھى حاجى نورى كى باتوں كو شيعہ عقيدہ شمار كرنا چاہيے؟ بعض متعصب وہابى اس كتاب (فصل الخطاب)كو بہانہ بنا كر تحريف قرآن كے نظريہ كو شيعوں كى طرف نسبت ديتے ہيں حالانكہ :

1_ايك كتاب كى تاليف اس مسئلہ ميں شيعہ عقيدہ پر دليل بن سكتى ہے تو پھراس تحريف قرآن والے نظريہ كو علمائے اہل سنت كى طرف بھى نسبت دينى چاہيے كيونكہ ابن الخطيب مصرى نے بھى تو (الفرقان فى تفسير القرآن)نامى كتاب لكھى تھى اور اگر جامعة الازہر كے علماء كى ترديد اس كتاب كے مطالب كى نفى پر دليل بن سكتى ہے تو علمائے نجف اشرف كا اظہار برائت بھى فصل الخطاب كے مفاہيم كى نفى پردليل بن سكتاہے_

2_اہل سنت كى دو مشہور تفاسير، تفسير قرطبي، اور تفسير در المنثورميں حضرت عائشہ (زوجہ رسول(ص)) سے نقل كيا گيا ہے كہ :

(و انّہا _اى سورة الاحزاب (11) كانت ماتى آية فلم يبق منہا الّا ثلاثٌ و سبعين) 5

سورة الاحزاب كى 200 آيات تھيں اور اب 73 سے زيادہ باقى نہيں بچى ہيں

اس سے بڑھ كر صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں بھى ايسى روايات نظر آتى ہيں جن سے تحريف كى بُو آتى ہے 6

ليكن ہم ہر گز كسى ايك مصنف يا چند ضعيف روايات كى وجہ سے تحريف والے قول كو اہل سنت كى طرف نسبت نہيں ديتے ہيں_

اسى طرح انہيں بھى كسى ايك مصنف يا چند ضعيف روايات كى وجہ سے كہ جنكا جمہور علمائے شيعہ نے انكار كيا ہے، اس قول تحريف كو شيعوں كى طرف نسبت نہيں دينى چاہيے_

3_حاجى نورى كى كتاب فصل الخطاب ميں عام طور پر ان تين راويوں سے احاديث لى گئي ہيں كہ جو يا تو فاسد المذہب، يا كذّاب اورجھوٹے يا مجہول الحال ہيں _(احمد ابن محمد السيارى، فاسد المذہب، على ابن احمد كوفي، كذّاب، اور ابى الجارود مجہول يا مردود) 7

فرقہ و ارانہ دشمنى كى خاطر اسلام كى جڑوں كوكھوكھلانہ كيا جائے _
4_جن لوگوں كا اصرار ہے كہ مذہب شيعہ كو تحريف قرآن كے عقيدہ سے متہم كيا جائے، گويا وہ اس بات كى طرف متوجہ نہيں ہيں كہ فرقہ وارانہ خصومت كى خاطر وہ اسلام كى جڑيں كاٹ رہے ہيں _كيونكہ غير مسلم لوگ كہيں گے كہ عدم تحريف كا عقيدہ مسلمانوں كے در ميان مسلم اور متفقہ عقيدہ نہيں ہے _

كيونكہ ايك عظيم گروہ تحريف قرآن كا قائل ہے _ ہم ان بھائيوں كو نصيحت كرتے ہيں كہ فرقہ واريت اور تعصب آميز دشمنى كى خاطر قلب اسلام يعنى قرآن مجيد كو نشانہ نہ بنائيں_آيئےسلام اور قرآن پر رحم كيجئے اور بے جا تحريف كى باتوں كو اُچھال كر دشمن كو موقع فراہم نہ كيجئے_

5_شيعوں كے خلاف يہ تہمت اور افترا اس قدر پھيل چكى ہے كہ ايك مرتبہ ہم عمرہ كى خاطر بيت اللہ مشرف ہوئے _ سعودى عرب كے وزير مذہبى امور سے ہمارى ملاقات ہوئي اس نے ہمارا پر تپاك استقبال كيا _ليكن كہنے لگا تمہارا قرآن ہمارے قرآن سے مختلف ہے (سمعت ان لكم مصحفا غير مصحفنا) ميں نے جواب ميں كہا، اس بات كو آزمانا انتہائي آسان ہے _آپ خود ہمارے ساتھ تشريف لے چليے يا اپنا نمائندہ بھيج ديں(تمام اخراجات ہمارے ذمہ ہونگے)واپس تہران چلے چلتے ہيں_ قرآن مجيد تمام مساجد اور گھروں ميں موجود ہيں _تہرا ن ميں ہزاروں مسجديںاور لاكھوں گھر ہيں _مسجد يا گھر كا انتخاب آپكے نمائندے كے اختيار ميں ہوگا _وہ جس گھر كا انتخاب كرے گا ہم اُس دروازے پر دستك ديكر قرآن مجيد طلب كريں گے اس وقت آپ ديكھ لينا كہ شيعوں كے گھروں ميں موجود قرآن مجيد، ديگر مسلمان ممالك كے قرآن مجيد كے ساتھ ايك لفظ كا بھى فرق نہيں ركھتا ہے _ آپ جيسے اعلى تعليم يافتہ لوگوں كو اس قسم كى جھوٹى افواہوں كا شكار نہيں ہونا چاہيے

6_ہمارے بہت سے قاري، انٹرنيشنل مقابلہ قرا ت ميں اوّل نمبر پرآئے ہيں _ہمارے حافظ، بالخصوص ہمارے كمسن حفاظ نے بہت سے اسلامى ممالك ميں تعجب خيز اور قابل تحسين قرآنى منظر پيش كيئے ہيں_ ہر سال ہزاروں كى تعداد ميں ہمارے حفّاظ اور قاريوں ميں اضافہ ہوتا ہے_ ہمارے وسيع و عريض ملك ميں جگہ جگہ حفظ، قرا ت، تفسير قرآن كى كلاسيں اور علوم قرآن كے كالج و يونيورسٹياں موجود ہيں _ان تمام چيزوں كا اثبات، نزديك سے مشاہدہ كے ذريعہ تمام لوگوں كے لئے آسان ہے _

ان تمام موارد ميں صرف اسى قرآن مجيد سے استفادہ كيا جاتا ہے جو تمام مسلمان ممالك ميں متداول ہے اور ہمارا كوئي بھى باشندہ اس معروف قرآن كے علاوہ كسى دوسرے قرآن كو نہيں پہچانتا ہے _ اور ہمارے ہاں كسى بھى مجلس يا محفل ميں تحريف قرآن كى بات نہيںكى جاتى ہے_

عدم تحريف پر عقلى اور نقلى دليليں

7_ہمارے عقيدہ كے مطابق بہت سے عقلى اور نقلى دلائل موجود ہيں جو قرآن مجيد كى عدم تحريف پر دلالت كرتے ہيں كيونكہ ايك تو خود قرآن مجيد فرماتا ہے : (انا نحن نزلنا الذكر و انا لہ لحافظون) (ہم نے قرآن مجيد كو نازل كيا اور اس كى حفاظت بھى ہمارے ذمہ ہے8 ايك اور مقام پريوں ارشاد ہوتا ہے:

(و انہ لكتاب عزيز_لايا تيہ الباطل من بين يديہ و لا من خلفہ تنزيل من حكيم حميد_ 9

''يہ كتاب شكست ناپذير ہے _اس ميں باطل اصلا سرايت نہيں كر سكتا ہے نہ سامنے سے ا ور نہ پيچھے كى طرف سے كيونكہ يہ حكيم و حميد خدا كى طرف سے نازل ہوئي ہے ''

كيا اس قسم كى كتاب جسكى حفاظت كى ذمہ دارى خود اللہ تعالى نے لى ہو اس ميں كوئي تحريف كرسكتا ہے ؟

اور ويسے بھى قرآن مجيد كوئي متروك اور بھلائي گئي كتاب نہيں تھى كہ كوئي اس ميں كمى يا زيادتى كرسكے _

كاتبان وحى كى تعدادچودہ سے ليكر تقريبا چار سو (400) تك نقل كى گئي ہے _جيسے ہى كوئي آيت نازل ہوتى يہ افراد فورا اسے لكھ ليتے تھے _ علاوہ بر اين سينكڑوں حافظ قرآن پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ ميں تھے جو آيت كے نازل ہوتے ہى اس كو حفظكر ليتے تھے اور قرآن مجيد كي تلاوت كرنا اس زمانے ميں انكى سب سے اہم عبادت شمار ہوتى تھى _ اور دن رات قرآن مجيد كى تلاوت كى جاتى تھى _

اس سے بڑھ كر قرآن مجيد، اسلام كا بنيادى قانون اور مسلمانوں كى زندگى كا آئين و اصول تھا اور زندگى كے ہر شعبے ميں قرآن مجيد حاضر و موجود تھا _

عقل يہ حكم لگاتى ہے كہ ايسى كتاب ميں تحريف اور كسى كمى اور زيادتى كا امكان نہيں ہے_

آئمہ معصومين سے جو روايات ہم تك پہنچى ہيں وہ بھى قرآن مجيد كى عدم تحريف اور تماميت پر تاكيد كرتى ہيں _

امير المومنين على (ع)، نہج البلاغہ ميں واضح الفاظ ميں فرماتے ہيں:

( انزل عليكم الكتاب تبيانا لكل شى و عمر فيكم نبيّہ ازمانا حتى اكمل لہ و لكم فيما انزل من كتاب، دينہ الذى رضى لنفسہ)10

(اللہ تعالى نے ايسا قرآن مجيد نازل كيا جو ہر شے كو بيان كرتا ہے پھراس نے اپنے پيغمبر (ص) كو اتنى عمر عطا فرمائي كہ وہ اپنے دين كوتمہارے ليے قرآن مجيد كے وسيلہ سے كامل كرديں _

نہج البلاغہ كے خطبوں ميں بہت سے مقامات پر قرآن مجيد كا تذكرہ ہوا ہے ليكن كہيں بھى قرآن مجيد كى تحريف سے متعلق زرہ برابراشارہ نہيں ملتا بلكہ قرآن مجيد كے كامل ہونے كو بيان كيا گيا ہے_

نويں امام حضرت امام محمد تقى _ اپنے ايك صحابى كو لوگوں كے حق سے منحرف ہو جانے كے بارے ميں فرماتے ہيں _

(و كان من نبذہم الكتاب ان ا قامو حروفہ و حرفو حدودہُ)11

بعض لوگوں نے قرآن مجيد كو چھوڑ ديا ہے، وہ اس طرح كہ اس كے الفاظ كو انہوں نے حفظ كرليا ہے اور اس كے مفاہيم ميں تحريف كى ہے_

يہ اور اسكى مانند ديگر احاديث سے يہ پتہ چلتا ہے كہ قرآن مجيد كے الفاظ ميں كسى قسم كى تبديلى نہيں ہوئي بلكہ اس كے معانى ميں تحريف ہوئي ہے _ بعض لوگ اپنى خواہشات اور ذاتى منافع كى خاطر آيات كى خلاف واقع تفسير و تو جيہ كرتے ہيں _ يہاں سے ايك اہم نكتہ واضح ہو جاتا ہے كہ اگر بعض روايات ميں تحريف كى بات ہوئي بھى ہے تو اس سے تحريف معنوى اور تفسير بالرائي مراد ہے نہ الفاظ و عبارات كى تحريف_

دوسرى طرف سے بہت سى معتبر روايات جو ائمہ معصومينسے ہم تك پہنچى ہيں ميں بيان كيا گيا ہے كہ روايات كے صحيح و ناصحيح ہونے كى تشخيص كے لئے بالخصوص جب انكے در ميان ظاہراً تضاد و اختلاف پايا جارہاہو تو معيار، قرآن مجيد كے ساتھ تطبيق دينا ہے _ جو حديث قرآن مجيد كے مطابق ہو وہ صحيح ہے اس پر عمل كيا جائے اور جو حديث قرآن مجيد كے خلاف ہو اسے چھوڑ ديا جائے _

(اعرضوا ہما على كتاب الله فما وافق كتاب الله فخذوہ و ما خالف كتاب الله فردّوہ)

يہ بالكل واضح دليل ہے كہ قرآن مجيد ميں تحريف نہيں ہوئي ہے_ كيونكہ اگر تحريف ہوجاتى تو قرآن مجيد حق و باطل كى تشخيص كا معيار قرار نہيں پاسكتاتھا_

ان تمام ادلہ سے بڑھ كر مشہور حديث ''حديث ثقلين'' شيعہ و اہل سنت كتابوں ميں كثرت كے ساتھ نقل ہوئي ہے 12 جس ميں پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا:

(انى تارك فيكم الثقلين كتاب الله و عترتى اہل بيتى ما ان تمسكتم بہما لن تضلو)

ميں تمہارے در ميان دو يادگارگرانبہا چيزيں چھوڑ كر جارہاہوں ايك اللہ كى كتاب اور دوسرى ميرى عترت ہے اگر ان دونوں سے تمسك ركھا تو ہر گز گمراہ نہيں ہوگے _

يہ پر مغز حديث شريف بالكل واضح كررہى ہے كہ قرآن مجيد، عترت پيغمبر(ص) كے ساتھ قيامت تك لوگوں كى ہدايت كے ليے ايك انتہائي مطمئن پناہ گاہ ہے _ اب اگر قرآن مجيد خود تحريف كا شكار ہو جا تا تو وہ كس طرح لوگوں كے لئے ايك مطمئن پناہ گاہ بن سكتا تھا اور انہيں ہر قسم كى گمراہى سے نجات دلا سكتا تھا_

اختتاميہ كلمات

آخرى بات يہ ہے كہ اللہ تعالى كے نزديك يہ گناہ كبيرہ ہے كہ كسى پر ايسى بات يا ايسے كام كى تہمت لگائي جائے جو اس نے نہ كہى ہو يا اُسے انجام نہ ديا ہو _

ہم نے ہر مقام پر كہا ہے اور اب بھى كہتے ہيں كہ مذہب شيعہ كے علماء و محققين ميں سے كوئي بھى (خود انكى اپنى كتابوں كى گواہى كے مطابق) تحريف كا قائل نہيں تھا اور نہ ہے _ليكن پھر بھى بعض تعصب اور ہٹ دھرم قسم كے لوگ اس تہمت پر اصرار كرتے ہيں _پتہ نہيں قيامت والے دن وہ كيا جواب ديں گے كيونكہ ايك طرف تو تہمت لگا رہے ہيں اور دوسرى طر ف قرآن مجيد كى اہميت كو كم كررہے ہيں _

اگر آپ كا بہانہ وہ بعض ضعيف روايات ہيں جو ہمارى كتابوں ميں نقل ہوئي ہيں تو اس قسم كى ضعيف روايات آپ كى حديث و تفسير كى كتابوں ميں بھى موجود ہيں_ جنكى طرف پہلے اشارہ كياجاچكا ہے_

كوئي بھى مذہب ضعيف روايات كى بنا پر استوارنہيں ہوتا ہے _

اور ہم نے كبھى بھى ابن الخطيب مصرى كى كتاب (الفرقان فى تحريف القرآن) كى خاطر يا آپ كى ان ضعيف روايات كى خاطر جو تحريف قرآن پر مشتمل ہيں آپ پر تحريف قرآن كى تہمت نہيں لگائي _ اور ہم كبھى بھى قرآن مجيد كو تخريب كارى كرنے والے تعصّب كا شكار نہيں ہونے ديں گئے_

دن رات تحريف قرآن كى باتيں نہ كيجئے _ اسلام، مسلمين اور قرآن مجيد پر ظلم نہ كيجئے اور اپنے مذہبى تعصب كى وجہ سے بار بار تحريف قرآن كى رٹ لگا كر پورى دنيا كے مسلمانوں كے اصلى سرمائے يعنى قرآن مجيد كے اعتبار كو كم نہ كيجئے _دشمن كو بہانہ فراہم نہ كيجئے _تم اگر اس طريقے سے شيعوں اور اہل بيت (ع) كے پيروكاروں سے انتقام لينا چاہتے ہو تو جان لوتم جہالت اور نادانى سے اسلام كى بنيادوں كو كھو كھلا كررہے ہو_كيونكہ تم كہتے ہو كہ مسلمانوں كا ايك عظيم گروہ تحريف قرآن كا قائل ہے اور يہ قرآن مجيد پر ظلم عظيم ہے _

آخر ميں پھر ايك دفعہ صراحت كے ساتھ كہتے ہيں كہ شيعہ اوراہل سنت كا كوئي محقق بھى تحريف قرآن كا قائل نہيں ہے بلكہ سب علما ء اس قرآن مجيد كو جو پيغمبر (ص) اكرم پر نازل ہوا اور جو آج مسلمانوں كے ہاتھوں ميں ہے ايك ہى سمجھتے ہيں _اور خود قرآن مجيد كى تصريح كے مطابق عقيدہ ركھتے ہيں كہ اللہ تعالى نے قرآن مجيد كى حفاظت كا ذمہ اُٹھايا ہے اور ہر قسم كى تحريف، تبديلى اور زوال سے اسے محفوظ ركھنے كى ضمانت دى ہے _

ليكن دونوں طرف سے بعض بے خبر، نا آگاہ متعصب قسم كے لوگ، ايك دوسرے كى طرف تحريف كى نسبت ديتے ہيں اور اس مسئلے كو اختلاف كے عروج تك پہنچاديتے ہيں اللہ تعالى ان سب كو ہدايت فرمائے _(آمين)

منبع: شيعہ جواب ديتے ہيں؛ مؤلف: آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي - مترجم: معارف اسلام پبلشرز


1. آلاء الرحمن، جلد 1ص 25_
2. آلاء الرحمن، جلد 2 ص 311_
3. الذريعہ، جلد 16ص 231_
4. برہان روشن، ص 143_
5. تفسير قرطبي، جلد 14ص 113و تفسير الدر المنثور، جلد 5 ص 180_
6. صحيح بخارى، جلد 8ص 208 تا 211و صحيح مسلم، جلد 4، ص 167و جلد 5، ص 116_
7. ان تين راويوں كے مزيد حالات كے ليے رجال نجاشي، فہرست شيخ اور ديگر رجالى كتب كى طرف مراجعہ كيا جائے _
8. سور ةحجر آيت 9_
9. سورة فصلت آيت 41و 42_
10. نہج البلا غہ خطبہ 86_
11. كافى، جلد8 ص 53_
12. وسائل الشيعہ، جلد 18ص 80_



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
10+1 =