پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

کیا شیعوں کے پیروں پر مسح کی قرآن و حدیث میں کوئی دلیل ھے؟


قرآن مجيد اور پاؤں كا مسح

وضو ميں پاؤں كا مسح ايك اور ايسا اعتراض ہے جسے اہلسنت كے بعض علماء؛ شيعوں پر كرتے ہيں _ چونكہ اُن كى اكثريت پاؤں دھونے كو واجب سمجھتى ہيں اور پاؤں كے مسح كو كافى نہيں سمجھتى _

حالانكہ قرآن مجيد نے بالكل واضح الفاظ ميں پاؤں كے مسح كا حكم ديا ہے_ اس طرح مكتب اہلبيت(ع) كے پيروكاروں كا عمل قرآن مجيد كے بالكل مطابق ہے_ اس كے علاوہ پيغمبر اكرم(ص) كى بہت سى احاديث جن كى تعداد تقريباً تيس (30) سے بھى زيادہ ہے پاؤں كے مسح كو بيان كر رہى ہيں_ اور اس كے علاوہ بہت سے اصحاب اور تابعين (وہ لوگ جو اصحاب كے بعد والے زمانے ميں تھے) كا عمل پاؤں كے مسح كے بارے ميں موجود ہے نہ پاؤں دھونے كے بارے ميں_

ليكن مقام افسوس ہے كہ بعض مخالفين نے ان تمام ادلّہ سے چشم پوشى كرتے ہوئے، بغير كسى غور و فكر كے، ہم پر حملہ كرنا شروع كرديا اور تند و تيز الفاظ كے ذريعے، حق و عدالت سے دُورى اختيار كرتے ہوئے اس مذہب حقہ كے پيروكاروں كى سرزنش شروع كردى ہے_ ابن كثير؛ مذہب اہلسنت كے معروف عالم دين اپنى كتاب '' تفسير القرآن العظيم'' ميں كہتے ہيں:

'' روافض (ان كا مقصود اہلبيت(ع) كے پيروكار ہيں) نے وضو ميں پاؤں دھونے كے مسئلہ ميں مخالفت كى ہے اور جہالت و گمراہى كى وجہ سے بغير كسى دليل كے مسح كو كافى سمجھ ليا ہے_ حالانكہ قرآن مجيد كى آيت سے پاؤں دھونے كا وجوب سمجھا جاتا ہے_ اور رسولخدا(ص) كا عمل بھى آيت كے مطابق تھا_ حقيقت ميں اُن كے پاس اپنے نظريہ پر كوئي دليل نہيں ہے 1

بعض ديگر علماء نے بھى اسكى اندھى تقليد كرتے ہوئے اسكى بات كو اخذ كر ليا ہے اور اس مسئلہ پر تحقيق كرنے كى زحمت گوارا نہيں كى اور اپنى دلخواہ نسبت شيعوں كى طرف دى ہے_

شايد وہ اپنے تمام مخاطبين كو عوام تصوّر كر رہے تھے اور انہوں نے يہ نہ سوچا كہ ايك دن محققين انكى باتوں پر تنقيد كريں گے اور(انہيں باطل ثابت كريں گے)اس طرح انہيں اسلامى تاريخ كے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا_

اس وقت ہم سب سے پہلے قرآن مجيد كى خدمت ميں حاضر ہوتے ہيں اور اس مسئلہ كا فيصلہ دريافت كرتے ہيں_ سورة مائدہ (كہ جو پيغمبر اكرم(ص) پر نازل ہونے والى سب سے آخرى سورت ہے) كى آيت نمبر 6 ميں يوں ارشاد بارى تعالى ہے:

''يا ايّھا الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلوة فاغسلوا وُجوہكم و أيديكم إلى المرافق و اَمسَحُوا برُء وسكم و أرجلكم إلى الكعبين''

اے صاحبان ايمان جب تم نماز كے ليے اٹھو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں كو كہنيوں تك دھولو اور اپنے سر اور پاؤں كا ابھرى ہوئي جگہ تك مسح كرو'' واضح ہے كہ كلمہ ''ارجلكم'' (اپنے پاؤں)كا كلمہ '' روسكم'' (اپنے سر) پر عطف

ہے اور اس وجہ سے دونوں كا مسح كرنا واجب ہے نہ كہ دھونا_ چاہے '' ارجلكم'' كو نصب كے ساتھ پڑھا جائے يا جر كے ساتھ (غور كيجئے) 2

بہرحال قرآن مجيدنے پاؤں كے بارے ميں مسح كا حكم ديا ہے_

عجيب توجيہات

بعض لوگوں نے جب قرآن مجيد كے حكم كو اپنے پہلے سے معين كردہ مفروضہ كے خلاف ديكھا تو توجيہات كرنا شروع كرديں_ ايسى توجيہات كہ جو انسان كو حيران كر ديتى ہيں_ من جملہ:

1_ يہ آيت سنت پيغمبر (ص) كى وجہ سے اور جو احاديث آپ(ص) سے نقل ہوئي ہيں انكى خاطر منسوخ ہوگئي ہو ابن حزم نے اپنى كتاب '' الاحكام فى اصول الاحكام'' ميں لكھا ہے كہ ''چونكہ سنت ميں پاؤں دھونے كا حكم آيا ہے اس ليے ہميں قبول كرنا چاہيے كہ مسح والا حكم منسوخ ہوگيا ہے''_

جبكہ اولا ً: تمام مفسرين نے اس بات كو قبول كيا ہے كہ سورہ مائدہ وہ آخرى سورہ ہے جو پيغمبر اكرم (ص) پر نازل ہوئي ہے اور اس كى كوئي بھى آيت منسوخ نہيں ہوئي ہے_

ثانياً: جس طرح عنقريب بيان كيا جائيگا كہ جہاں پيغمبر اكرم (ص) سے وضو ميں پاؤں دھونے والى روايات نقل ہوئي ہيں اُن كے مقابلے ميں آپ(ص) سے ہى متعدد روايات پاؤں كے مسح كے بارے ميں بھى نقل ہوئي ہيں كہ آپ(ص) وضو ميں پاؤں كا مسح كيا كرتے تھے_

كس طرح ممكن ہے كہ ہم قرآن مجيد كے دستور كو اس قسم كى روايات كے ذريعے نسخ كرديں_

علاوہ بر اين، تعارض روايات كے باب ميں ثابت كيا گيا ہے كہ جب بھى روايات كے درميان تضاد ہو تو قرآن مجيد سے ان كى مطابقت كرنى چاہيے؛ جو روايات قرآن مجيد كے مطابق ہوں انہيں قبول كر لينا چاہيے اور جو قرآن مجيد كے مخالف ہوں ان پر عمل نہيں كرنا چاہيے_

2_ دوسرے كچھ افراد جيسے '' جصاص'' نے '' احكام القرآن'' نامى كتاب ميں لكھا ہے كہ ''وضو والى آيت مجمل ہے اور ہم احتياط پر عمل كرتے ہوئے پاؤں دھو ليتے ہيں تا كہ دھونا بھى صادق آجائے اور مسح بھي'' 3

حالانكہ سب جانتے ہيں كہ (غَسل) '' دھونا'' اور '' مسح كرنا'' دو مختلف اور متباين مفہوم ہيں اور دھونا ہرگز مسح كو شامل نہيں ہوتا ہے_

ليكن كياكيا جائے انكى پہلے سےقضاوت انہيں قرآن مجيد كے ظہور پر عمل نہيں كرنے ديتي_

3_ جناب فخر رازى كہتے ہيں كہ حتى اگر '' جرّ'' كے ساتھ بھى قرا ت كى جائے يعنى ''ارجلكم'' كا '' روؤسكم'' پر عطف كيا جائے تو بالكل واضح طور پر يہ پاؤں كے مسح پر دلالت كرتا ہے، ليكن پھر بھى اس كا مقصد پاؤں كا مسح كرنا نہيں ہوگا، بلكہ پاؤں كے مسح سے مُراد يہ ہوگى كہ پاؤں دھوتے وقت پانى استعمال كرنے ميں اسراف نہ كرو''4

حالانكہ اگر آيات قرآن ميں اس قسم كے اجتہاد اور تفسير بالرا ى كا دروازہ كُھل جائے تو پھر ظواہر قرآن پر عمل كرنے كے ليے كوئي چيز باقى نہيں رہے گي_ اگر ہميں اجازت ہو كہ ہم ''مسح'' كو '' دھوتے وقت اسراف نہ كرنے'' كے معنى ميں لے ليں تو پھر تمام آيات كے ظواہر كى دوسرى طرح تفسير كى جاسكتى ہے_

نص ّ كے مقابلے ميں اجتہاد اور تفسير بالرا ي

بہت سے قرائن سے اندازہ ہوتا ہے كہ جسطرح ہمارے زمانے ميں اجتہاد در مقابل نص ايك قبيح اور غير قابل قبول امر سمجھا جاتا ہے؛ اسلام كے ابتدائي زمانے ميں اسطرح نہيں تھا_ با الفاظ ديگر جسطرح آج ہم احاديث پيغمبر(ص) اور آيات قرآن كے مقابلے ميں تعبّد اور تسليم محض ركھتے ہيں_ اُس زمانے ميں يہ تعبّد اس شدّت و قوت كے ساتھ نہيں تھا_

مثلا جب حضرت عمر نے اپنے معروف جملے ميں يوں كہا كہ '' متعتان كانتا محللتان فى زمن النبي(ص) و ا نا أحرمہما و اعاقب عليہما متعة النساء و متعة الحج'' دو متعے رسولخدا(ص) كے زمانے ميں حلال تھے ميں اُن دونوں كو حرام كرتا ہوں اور جو بھى اس حكم كى مخالفت كريگا ميں اسے سزا دونگا، ايك متعة النساء اور دوسرا متعہ حج 5 (يعنى حج تمتع اپنے خاص احكام كے ساتھ'' تو بہت كم يا اصلاً ديكھنے ميںنہيں آيا ہے كہ اصحاب ميں سے كسى نے اُن پر تنقيد كى ہو اور كہا ہو كہ نص كے مقابلے ميں اجتہاد جائز نہيں ہے (اور وہ بھى اس شدت كے ساتھ) _

حالانكہ اگر ہمارے زمانے ميں كوئي بڑے سے بڑا مسلمان فقيہہ يا دانشمند كہہ دے كہ ''فلان عمل رسولخدا(ص) كے زمانے ميں حلال تھا اور ميں اسے حرام كر رہا ہوں'' سب اس پر تعجّب كريں گے اور اس كى بات كو فضول اور غير قابل قبول سمجھيں گے اور جواب ميں كہيں گے كہ كسى كو بھى حق نہيں ہے كہ حرام خدا كو حلال يا حلال خدا كو حرام كر سكے كيونكہ احكام كو منسوخ كرنا يا نص ّكے مقابلے ميں اجتہاد كرنا كسى كے ليئے جائز نہيں ہے_

ليكن اسلام كے ابتدائي زمانے ميں اسطرح نہيں تھا_ اسى ليے بعض موارد ديكھنے كو ملتے ہيں كہ جس ميں فقہائ، احكام الہى كے مقابلے ميں مخالفت كى جرا ت كرتے تھے_

شايد پاؤں پر مسح كے انكار اور اسے دھونے ميں تبديل كرنے كامسئلہ بھى اسى اجتہاد كا شكار ہوا ہوگا_ شايد بعض لوگوں نے سوچا ہوگا كہ پاؤں چونكہ آلودگى كے نزديك رہتے ہيں بہتر ہے كہ انہيں دھوليا جائے چونكہ ان كے مسح كرنے كا كيا فائدہ ہے؟

بالخصوص اُس زمانے ميں تو بعض لوگ ننگے پاؤں رہتے تھے اور بالكل جوتے نہيں پہنتے تھے اسى وجہ سے آداب احترام مہمان ميں سے ايك يہ تھا كہ گھر ميں داخل ہوتے وقت اس كے پاؤں دھلواتے تھے ہمارى اس بات پر گواہ صاحب تفسير المناركا كى كلام ہے جسے انہوں آيت وضو كے ذيل ميں پاؤں دھونے كے قائل افراد كى توجيہ ميں بيان كيا ہے _ وہ كہتے ہيں كہ '' پاؤں پر تر ہاتھ كھينچ دينے سے؛ كہ جو اكثر اوقات غبار آلود اور كثيف ہوتے ہيں نہ صرف كوئي فائدہ نہيں ہے بلكہ پاؤں زيادہ كثيف ہوجاتے ہيں اور ہاتھ بھى آلودہ اور كثيف ہو جاتا ہے_

اور اہلسنت كے معروف فقيہ ابن قدامہ (متوفى 620 ھ ق) بعض علماء سے نقل كرتے ہيں كہ پاؤں چونكہ آلودگى كے نزديك ہيں جبكہ سر اس طرح نہيں ہے لہذا مناسب ہے كہ پاؤں كو دھو ليا جائے اور سر كا مسح كر ليا جائے 6 اسطرح انہوں نے اپنے اجتہاد اور استحسان كو ظاہر قرآن پر ترجيح ديتے ہوئے مسح كو چھوڑ ديا ہے اور آيت كى غلط توجيہ كردى ہے_

اس گروہ نے شايد اس بات كو بُھلا ديا ہے كہ وضو نظافت اور عبادت دونوں كا مركّب ہے، سر كا مسح كرنا وہ بھى بعض كے فتوى كے مطابق صرف ايك انگلى كے ساتھ؛ نظافت كا فائدہ نہيں ديتا ہے اس طرح پاؤں كا مسح بھي_

حقيقت ميں سر اور پاؤں كا مسح اس نكتہ كى طرف اشارہ ہے كہ وضو كرنے والا آدمى سر سے ليكر پاؤں تك اللہ تعالى كا مطيع ہو_ ورنہ نہ تو سر كا مسح نظافت كا موجب بنتا ہے اور نہ ہى پاؤں كا مسح_

بہرحال ہم اللہ تعالى كے فرمان كے تابع ہيں اور ہميں حق نہيں پہنچتا كہ اپنى قاصر عقول كے ساتھ احكام الہى ميں تبديلياں كريں_ جس وقت قرآن مجيد نے پيغمبر(ص) پر نازل ہونے والى آخرى سو رت ميں حكم دے ديا ہے كہ اپنے ہاتھ اور منہ كو دھولو اور سر اور پاؤں كا مسح كرلو تو ہميں اپنى ناقص عقلوں كے ذريعے فلسفہ چينى كر كے اس حكم كى مخالفت نہيں كرنى چاہيے اور اپنى مخالفتوں كى توجيہ كے ليے كلام خدا كى نامعقول توجيہات نہيں كرنى چاہئيں_

تفسير بالرا ى اور نص ّكے مقابلے ميں اجتہاد دو ايسى عظيم مصيبتيں ہيں جنہوں نے بعض مقامات ميں فقہ ا سلامى كے چہرے كو مخدوش كرديا ہے_

جوتوں پر مسح كرنا

واقعاً يہ عجيب بات كہ جس نے ہر غير جانبدار محقق كو حيرت ميں ڈال ديا ہے كہ يہى برادران كہ جو وضو ميں پاؤں پر مسح كے جائز نہ ہونے پر اتنا اصرار كرتے ہيں اور پاؤں دھونے كو واجب سمجھتے ہيں _ اكثر وضاحت كے ساتھ لكھتے ہيں كہ پاؤں دھونے كى بجائے جوتوں پر مسح كيا جاسكتا ہے وہ بھى مجبورى كے عالم ميں نہيں بلكہ اختيار كى حالت ميں اور صرف سفر ميں نہيں بلكہ حضر ميں بھى اور ہر حال ميں جوتوں پر مسح كيا جاسكتا ہے_

واقعاً انسان اس قسم كے احكام پڑھ كر حيران رہ جاتا ہے كہ پاؤں كا دھونا واجب تھا اور يا پھر جوتوں كے اوپرسے مسح جائز ہوگيا ہے

البتہ ايك گروہ كہ جو فقہ اہلسنت كى نظر ميں اقليّت شمار ہوتے ہيں جوتوں پر مسح كو جائز نہيں سمجھتے ہيں جيسے حضرت على ابن ابى طالب _؛ جناب ابن عباس اور امام مالك كہ جو اہلسنت كے ايك امام ہيں (انكے فتوى كے مطابق جوتوں پر مسح جائز نہيں ہے)_

دلچسپ يہ ہے كہ حضرت عائشےہ، كہ اہلسنت برادران جنكے فتاوى اور روايات كے ليے خاص اہميت كے قائل ہيں، ايك مشہور حديث ميں فرماتى ہيں كہ '' لئن تقطع قدمايى أحبّ إليّ من أن أمسح على الخفّين''اگر ميرے دنوں پاؤں كاٹ ديے جائيں ميرےليے اس سے زيادہ پسنديدہ ہے كہ ميں (وضو ميں) جوتوں پر مسح كروں'' 7

جبكہ وہ دن رات پيغمبر اكرم(ص) كے ساتھ تھيں اور آپ(ص) كا وضو ديكھ چكى تھيں_

بہرحال اگر يہ برادران اہل بيت رسولكى احاديث كى پيروى كرتے كہ جو ظاہر قرآن كے مطابق ہيں تو كبھى بھى پاؤں كے مسح كے علاوہ كسى چيز كو قبول نہ كرتے_

پيغمبر اكرم(ص)؛ نے معتبر اور صحيح حديث ميں فرمايا كہ '' ميں تمہارے درميان دو گرانقدر چيزيں چھوڑكر جا رہا ہوں ايك كتاب خدا اور دوسرى ميرى عترت اور اہلبيت كہ اگر ان دونوں سے تمسك كروگے تو كبھى گمراہ نہيں ہوگے_

امام محمد باقر _ فرماتے ہيں كہ تين چيزوں ميں؛ ميں كسى سے تقيّہ نہيں كرتا ہوں 1_ مسكرات كے نہ پينے ميں (چونكہ بعض فقہاء نبيذ كو جائز سمجھتے تھے) 2_ جوتوں پر مسح والے مسئلہ ميں اور 3_ حج تمتع ميں _ '' ثلاثةٌ لا أتّقى فيہنّ أحداً شُربُ المُسكر و مسحٌ الخُفّين و مُتعة الحجّ'' 8

پاؤں پر مسح اور احاديث اسلامى

اماميہ فقہاء اس بات پر متّفق ہيں كہ وضو ميں پاؤں كے مسح كے علاوہ كوئي چيز قابل قبول نہيں ہے_ اور اس مسئلہ ميں اہلبيت كے واسطہ سے منقول روايات بھى بالكل واضح ہيں_

آپ نے امام باقر _ سے نقل كى گئي مذكورہ بالا روايت كو ملاحظہ فرمايا كہ جو بالكل واضح ہے، اسى قسم كى اور بہت سى روايات موجود ہيں_

ليكن جو احاديث اہلسنت كى كتب ميں بيان ہوئي ہيں وہ ايك دوسرے سے مكمل طور پر اختلاف ركھتى ہيں_ دسيوں احاديث پاؤں پر مسح كى طرف اشارہ يا اسے بيان كرتى ہيں كہ پيغمبر اكرم(ص) سر كے مسح كے بعد پاؤں پر مسح كرتے تھے، جبكہ بعض دوسرى احاديث ميں پاؤں دھونے كو پيغمبر (ص) كى طرف نسبت دى گئي ہے_ اور بعض ميں جوتوں پر مسح كرنے كى نسبت دى گئي ہے

احاديث كى پہلى قسم كہ جو صرف مسح كا حكم ديتى ہيں اہل سنت كى معروف كتب ميں موجود ہيں جيسے:

1_ صحيح بخاري
2_ مسند احمد
3_ سنن ابن ماجہ
4_ مستدر ك حاكم
5_ تفسير طبرى
6_ درّ المنثور
7_كنزل العمال

و غيرہ كہ ان كتب كا معتبر ہونا اہلسنت كے نزديك مسلم ہے_

اور ان روايات كے راوى بھى مشہور اصحاب ميں سے ہيں_ جيسے:
1_ اميرالمؤمنين على (ع)
2_ جناب ابن عباس
3_ انس بن مالك (پيغمبر اكرم(ص) كے مخصوص خادم)
4_ جناب عثمان بن عفّان
5_ بسر بن سعيد
6_ رفاعہ
7_ ابوظبيان و غيرہ

ہم يہاں ان روايات ميں سے صرف پانچ كو نقل كرنے پر اكتفاء كرتے ہيں_

ہميں تعجب تو آلوسى جيسے مشہور مفسّر كى بات پر ہے، وہ كہتے ہيں كہ پاؤں پر مسح كے بارے ميں صرف ايك روايت ہے جو شيعوں كے ليے ثبوت بن گئي ہے 9

1_ عن عليّ ابن ابى طالب (ع) قال: كنتُ أرى أن باطنَ القَدَمَين أحقّ بالمسح من ظاہر ہما حتيّ رأيتُ رسولُ الله (ص) يمسح ظاہرَہُما:

'' اميرالمؤمنين على _ فرماتے ہيں كہ ميں خيال كرتا تھا كہ پاؤں كے تلولے ان كى پُشت كى نسبت مسح كرنے كے زيادہ سزاوار ہيں يہانتك كہ ميں نے رسولخدا(ص) كو ديكھا كہ پاؤں كى پشت پر مسح كرتے ہيں'' 10

2_ عن ابى مطر قال: بينما نحن جلوس مع على _ فى المسجد، جاء رجلٌ إلى عليّ ّ _ و

قال: أرنى وضوء رسول الله (ص) فدعا قنبر فقال أتيتنى بكوز من مائ، فغسل يدہ و وجہہہ ثلاثاً فأدخَل بعض أصابعة فى فيہ و استنشق ثلاثاً و غسل ذارعيہ ثلاثاً و مسحَ رأسہ واحدة ____ و رجليہ إلى الكعبين'' 11

ابى مطر كہتے ہيں كہ ہم ايك مرتبہ حضرت على (ع) كے ہمراہ مسجد ميں بيٹھے تھے كہ اتنے ميں ايك آدمى آيا اور آپ(ع) كى خدمت ميں عرض كرنے لگا كہ مجھے رسولخدا(ص) جيسا وضو كركے دكھا يئےآپ(ع) نے قنبر كو آواز دى اور فرمايا كہ پانى كا ايك برتن لے آؤ، اس كے بعد آپ(ع) نے ہاتھ اور منہ كو تين مرتبہ دھويا _ انگلى كے ذريعے دانت صاف كيے اور تين مرتبہ استنشاق كيا (ناك ميں پانى ڈالا) اور پھر (چہرے) اور ہاتھوں كو تين مرتبہ دھويا اور ايك مرتبہ سر كا مسح اور ايك مرتبہ اُبھرى ہوئي جگہ تك پاؤں كا مسح كيا''

اگرچہ دونوں حديثيں اميرالمؤمنين على _ كے توسط سے پيغمبر اكرم(ص) سے نقل ہوئي ہيں ليكن دو مختلف واقعات كو حكايت كرتى ہيں _ اور ان ميں قدر مشترك يہ ہے كہ رسولخدا(ص) وضو كے دوران پاؤں پر مسح كيا كرتے تھے_

3_ عن بسربن سعيد قال: أتى عثمان المقاعد فدعا بوضوء فتمضض و استنشق؛ ثم غسل وجہہ ثلاثاً و يديہ ثلاثاً ثلاثاً ثم مسح برأسہ و رجليہ ثلاثاً ثلاثاً؛ ثم قال: رأيتُ رسول الله ہكذا توضّأ، يا ہؤلائ

أكذلك ؟ قالوا: نعم لنفر من أصحاب رسول الله (ص) عندہ: 12

بسر بن سعيد نقل كرتے ہيں كہ حضرت عثمان بيٹھك ميں (جہاں لوگ مل بيٹھتے ہيں) آئے اور وضو كے ليے پانى مانگا اور كلّى كى اور ناك ميں پانى ڈالا، اس كے بعد چہرے كو تين مرتبہ دھويا اور دونوں ہاتھوں كو بھى تين تين مرتبہ دھويا اور سر اور پاؤں كا تين مرتبہ مسح كيا، اس كے بعد كہنے لگے ميں نے پيغمبر اكرم(ص) كو ديكھا ہے كہ اس طرح وضو فرماتے تھے (اس كے بعد حاضرين محفل كو مخاطب كرتے ہوئے فرمايا كہ جواصحاب رسول تھے) اے لوگو كيا اسى طرح ہے ؟ سب نے كہا جى ہاں''

اس حديث سے معلوم ہوتا ہے كہ نہ صرف حضرت عثمان بلكہ ديگر اصحاب بھى صراحت كے ساتھ گواہى ديتے تھے كہ پيغمبر اكرم(ص) وضو كے وقت پاؤں پر مسح كيا كرتے تھے (اگرچہ اس روايت ميں سر اور پاؤں كا مسح تين مرتبہ ذكر كيا گيا ہے _ممكن ہے بعض اصحاب كى نظر ميں يہ مستحب ہو يا راوى كا اشتباہ ہو)

4_ عن رفاعة بن رافع أنہ، سمع رسول الله (ص) يقول: أنّہ لا تتمّ صلوة لأجد حتى يسبغ الوضوئ، كما أمرہ الله عز وجلّ يغسل وجہہ و يديہ إلى المرفقين و يمسح برأسہ و رجليہ إلى الكعبين؛

رفاعہ بن رافع كہتے ہيں كہ ميں نے رسولخدا(ص) سے سُنا فرما رہے تھے تم ميں سے كسى كى نماز اس وقت تك صحيح نہيں ہے جب تك اس طرح وضو نہ كرے جسطرح اللہ تعالى نے حكم ديا ہے: كہ چہرے كو اور ہاتھوں كوكہنيوں تك دھوئے اور سركا اور پاؤں كا اُبھرى ہوئي جگہ تك مسح كرے '' 13

5_ عن ابى مالك الاشعرى أنّہ قال لقومہ: اجتمعوا اصلّى بكم صلوة رسول الله صلى الله عليہ و آلہ و سلم فلمّا اجتمعوا قال: ہل فيكم أحد من غيركم؟ قالوا لا الّا ابن أخت لنا، قال: ابن أخت القوم منہم؛ فدعا بجفنة فيہا ماء فتوضّا و مضمض و استنشق و غسل وجہہ ثلاثاً و ذراعيہ ثلاثا ثلاثاً و مسح برأسہ و ظہر قدميہ ثم صلّى بہم، 14

ابومالك اشعرى سے نقل ہوا ہے كہ انہوں نے اپنى قوم سے كہا كہ جمع ہو جاؤ تا كہ ميں تمہارے سامنے رسولخدا(ص) جيسى نماز پڑھوں_ جب سب جمع ہوگئے تو انہوں نے پوچھا تمہارے درميان كوئي غير تو نہيں ہے؟ سب نے كہا نہيں صرف ايك ہمارا بھانجا ہے (كہ ہمارى اس بہن كى شادى دوسرے قبيلے ميں ہوئي تھي) كہنے لگے؛ كوئي بات نہيں _بھانجا بھى قبيلہ كا فرد ہوتا ہے (اس عبادت سے پتہ چلتا ہے كہ اس دور كى حكومت كى طرف سے _ بعض سياسى مسائل كى وجہ سے _ رسولخدا(ص) كى نماز يا وضو كى وضاحت كرنا ممنوع تھا) اس كے بعد انہوں نے پانى كا برتن مانگا اور اس طرح

وضو كيا_ كلّى كى اور ناك ميں پانى ڈالا اور چہرے كو تين مرتبہ دھويا اسى طرح ہاتھوں اور بازوؤں كو تين مرتبہ دھويا اس كے بعدسركا اور پاؤں كى پشت كا مسح كيا اس كے بعد اپنے قبيلہ كے ساتھ نماز پڑھي''_

مندرجہ بالا نقل ہونے والى روايات، اُن روايات كا مختصر سا حصہ ہيں جو اہلسنت كى معروف كتب ميں مشہور راويوں كے توسط سے نقل ہوئي ہيں_ لہذا جو لوگ كہتے ہيں كہ اس بارے ميں كوئي روايت نقل نہيں ہوئي يا صرف ايك روايت نقل ہوئي ہے وہ ناآگاہ اور متعصّب قسم كے لوگ ہيں جو خيال كرتے ہيں كہ شايد حقائق سے چشم پوشى كرنے يا ان كا انكار كرنے كى وجہ سے انہيں ختم كيا جاسكتا ہے_

يہ وہى لوگ ہيں جو سورہ مائدہ كى آيت كے مسح كے وجوب پر دلالت كرنے سے انكار كرتے ہيں اور حتى كہ كہتے ہيں كہ يہ آيت صراحت كے ساتھ پاؤں دھونے پر دلالت كرتى ہے جس كى وضاحت سابقہ صفحات پر گذر چكى ہے_

مخالف روايات

ہم اس بات كا انكار نہيں كرتے ہيں كہ سابقہ روايات كے مقابلے ميں دو قسم كى دوسرى روايات بھى اہلسنت كى معروف كتب ميں نقل ہوئي ہيں_

ان ميں سے ايك گروہ وہ روايات ہيں جو كہتى ہيں كہ رسولخدا(ص) وضو كے وقت پاؤں دھوتے تھے_ اور دوسرا گروہ ان روايات كا ہے جو كہتى ہيں كہ آپ(ص) وضو كے وقت نہ پاؤں كو دھوتے تھے اور نہ مسح كرتے تھے بلكہ جوتوں پر مسح كرتے تھے

ايسے وقت ميں ہميں علم اصول كے مسلّم قاعدہ كو فراموش نہيں كرنا چاہيے كہ اگر ايك مسئلہ كے بارے ميں روايات كے دو گروہ آپس ميں متضاد اور متعارض ہوں تو سب سے پہلے دلالت كے لحاظ سے جمع كرنے كى كوشش كرنى چاہيے يعنى ان روايات كى اس طرح تفسير كرنى چاہيے كہ تضاد ختم ہوجائے اور روايات آپس ميں جمع ہوجائيں (البتہ يہ تفسير اور جمع، عرفى فہم كے معياروں كے مطابق ہونى چاہيے)_

اور اگر يہ جمع دلالى ممكن نہ ہو تو پھر روايات كى قرآن مجيد كے ساتھ تطبيق كرنا چاہيے_ يعنى ديكھنا چاہيے كہ كونسى روايت قرآن مجيد كے مطابق ہے اسے اخذ كرنا چاہيے اور دوسرى روايت كو ترك كرنا چاہيے_ يہ ايسا قانون ہے جو معتبر ادلّہ كے ذريعے ثابت ہے_

اب اس قاعدہ كے مطابق ان دو قسم كي(مسح اور دھونے والى) روايات كے درميان جمع يوں كيا جاسكتا ہے كہ رسولخدا(ص) وضو كے دوران مسح والے حكم پر عمل كرتے تھے اور بعد ميں نظافت كے ليے كبھى پاؤں كودھوليا كرتے تھے اور يہ دھونا وضوكا حصّہ نہيں تھا_ بعض راوى جو اس منظر كا مشاہدہ كر رہے ہوتے تھے خيال كرتے كہ يہ پاؤں دھونا، وضو كا جزء ہے_

اتفاق سے شيعوں ميں بھى بہت سے افراد اكثر يہى كام كرتے ہيں يعنى وضو ميں مسح والے فريضےپر عمل كرنے كے بعد صفائي كى خاطر اپنے دونوں پاؤں كو اچھى طرح دھوليتے ہيں_

اور اس زمانے ميں اس كام كى زيادہ ضرورت محسوس ہوتى تھى كيونكہ گرمى كى وجہ سے كھلے جوتے پہنے جاتے تھے نہ كہ بند جوتے، اور كھلے جوتے ميں پاؤں جلدى آلودہ ہوتے ہيں_

بہرحال پاؤں كا مسح ايك واجبى فريضہ تھا جو عام طور پر دھوئے جانے والے پاؤں سے جُدا تھا_

يہ احتمال بھى ہوسكتا ہے كہ بعض فقہاء كو نص ّ كے مقابلہ ميں اجتہاد نے اُكسايا ہوكہ مسح كے مقابلے ميں پاؤں دھونے كا فتوى ديں كيونكہ انہوں نے سوچا ہوگا كہ پاؤں كى آلودگى صرف دھونے سے ہى دور ہوسكتى ہے_ اس ليے انہوں نے سورہ مائدہ كے ظہور كو ترك كرديا جو واضح طور پر مسح كا حكم ديتا ہے جيسا كہ علمائے اہلسنت كے بعض كلمات ميں اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ بہتر يہ ہے كہ آلودگى كو دور كرنے كيلئے پاؤں كو دھوليا جائے اور مسح كافى نہيں ہے_

سہل اور آسان شريعت

يقيناً اسلام ايك عالمگير مذہب ہے جو روئے زمين كے تمام علاقوں اور تمام زمانوں كے ليئے ہے_ اس كے ساتھ ساتھ مكمل طور پر آسان اور سہل شريعت ہے _ ذرا سوچئے دن رات ميں پانچ مرتبہ پاؤں كو دھونا، دنيا كے مختلف علاقوں ميں كتنى مشكلات ايجاد كريگا_ اس سختى كى وجہ سے ممكن ہے بعض لوگ وضو اور نماز سے بيزار ہوجائيں_

اور يہ نص ّ كے مقابلے ميں اجتہاد اور مسح كى روايات كو چھوڑنے كا نتيجہ ہے_

يہ احتمال بھى منتفى نہيں ہے كہ پاؤں دھونے كى بعض احاديث (نہ سارى احاديث) بنواميّہ كے دور ميں كہ جب احاديث گھڑنے كا بازار گرم تھا اور معاويہ جعلى احاديث گھڑنے كے ليے بہت سى رقم خرچ كرتا تھا، جعل كى گئي ہوں_ كيونكہ سب لوگ جانتے تھے كہ حضرت على (ع)؛ وضو ميں پاؤں كے مسح كے قائل ہيں اور معاويہ كا اصرار تھا كہ ہرچيزميں على (ع) كى مخالفت كى جائے اور برعكس عمل كيا جائے_ مندرجہ ذيل دو احاديث پر غور كيجئے_

1_ صحيح مسلم ميں بيان ہوا ہے كہ معاويہ نے سعد بن ابى وقاص كو حكم ديا كہ اميرالمومنين على (ع) پر سب و شتم كرے اور لعنت كرے(كيونكہ سعد بن ابى وقاص سختى كے ساتھ اس كام سے پرہيز كرتے تھے) سعد نے كہا ميں نے رسولخدا(ص) كى زبان سے تين فضيلتيں على (ع) كے بارے ميں ايسى سنى ہيں جنہيں ميں كبھى نہيں بُھلا سكتا ہوں؛ اے كاش اُن ميں سے ايك فضيلت ميرے ليے بھى ہوتى تو ميں اسے عظيم ثروت پر ترجيح ديتا_ اس كے بعد انہوں نے جنگ تبوك كا واقعہ اور '' اما ترضى أن تكون لى بمنزلة ہارون من موسى '' كا جملہ نقل كيا_ اسى طرح جنگ خيبر كاواقعہ اور حضرت على (ع) كى شان ميں رسولخدا(ص) كا مشہور جملہ جو آپ(ص) نے حضرت على (ع) كے بارے ميں فرمايا تھااور واقعہ مباہلہ كونقل كيا_15

اس حديث سے بخوبى اندازہ ہوتا ہے كہ معاويہ؛ اميرالمؤمنين على _ كى مخالفت پر كتنا اصرار كرتا تھا_

2_ بہت سى روايات سے استفادہ ہوتا ہے كہ اسلام كى ابتدائي صديوں ميں دو گروہوں نے جعل حديث كا سلسلہ شروع كيا تھا_

ايك گروہ_ بظاہر صالح اور زاہد (مگر سادہ لوح) افراد پر مشتمل تھا جو قصد قربت كے ساتھ احاديث گھڑتا تھا_ ان ميں سے بعض ايسے ديندار لوگ تھے جو لوگوں ميں تلاوت قرآن كى رغبت ايجاد كرنے كے ليے اس كى سورتوں كے فضائل كے بارے ميں عجيب و غريب احاديث بناتے تھے اور پيغمبر اكرم(ص) كى طرف نسبت ديتے تھے اور مقام افسوس يہ ہے كہ ان كى تعداد بھى كم نہيں تھي

اہلسنت كے معروف عالم جناب قرطبى اپنى كتاب تذكار كے (ص 155) پر لكھتے ہيں: كہ ان احاديث كا كوئي اعتبار نہيں جنہيں جھوٹى احاديث گھڑنے والوں نے قرآن مجيد كى سورتوں كے فضائل كے بارے ميں جعل كيا ہے_ كيونكہ يہ كام ايك بڑى جماعت نے قرآن كى سورتوں كے فضائل ميں بلكہ تمام اعمال كے بارے ميں انجام ديا ہے انہوں نے قصد قربت كے ساتھ احاديث گھڑى ہيں _وہ خيال كرتے تھے كہ اس انداز ميں لوگوں كو نيك اعمال كى طرف دعوت ديتے ہيں (وہ لوگ جھوٹ كو جو كہ ايك بدترين گناہ ہے زہد و فقاہت كے ساتھ بالكل مُنافى نہيں سمجھتے تھے)
يہى دانشمند (قرطبي) اپنى كتاب كے بعد والے صفحہ پر خود '' حاكم'' سے اور بعض شيوخ محدّثين سے نقل كرتے ہيں كہ ايك زاہد نے اپنى طرف سے قربة الى اللہ قرآن مجيد اور اس كى سورتوں كے فضائل كے بارے ميں احاديث جعل كيں جب اس سے پوچھا گيا كہ يہ كام تم نے كيوں كيا ہے؟ تو كہنے لگے ميں نے ديكھا ہے كہ لوگ قرآن مجيد كى طرف كم توجہ كرتے ہيں انہيں رغبت دلانے كے ليئے ميں نے يہ كام كيا ہے_ اور جب ان كو كہا گيا كہ پيغمبر اكرم(ص) نے خود فرمايا ہے كہ '' من كذّب عليّ فليتبوء مقعدہ من النّار'' جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا اس كا ٹھكانہ جہنم ہے_ تو جواب ميں كہنے لگے پيغمبر اكرم(ص) نے فرمايا ہے كہ '' من كذب عليّ ...'' جس نے ميرے خلاف جھوٹ بولا_ اور ميں نے تو آپ(ص) كے فائدے ميں جھوٹ بولا ہے

اس قسم كى احاديث نقل كرنے ميں قرطبى تنہا نہيں ہيں بلكہ اہلسنت كے بعض ديگر علماء نے بھى انہيں نقل كيا ہے (مزيد وضاحت كے ليے كتاب '' الغدير'' كى پانچويں جلد ميں ''كذّابين اور وضّاعين'' كى بحث كيطرف رجوع كيجئے) _

دوسرا گروہ: ان لوگوں كا تھا جو بھارى رقم لے كر معاويہ اور بنو اميہ كے حق اور اميرالمؤمنين(ع) كى مذمت ميں احاديث گھڑتے تھے_ ان ميں سے ايك سمرة ابن جندب تھا جس نے چار لاكھ درہم معاويہ سے ليے اور يہ حديث اميرالمؤمنين (ع) كى مذمت اور انكے قاتل كى شان ميں گھڑى اور كہا كہ يہ آيت شريفہ''و من الناس من يشرى نفسہ؛ ابتغاء مرضات الله ...'' 16 على (ع) كے قاتل عبدالرحمن ابن ملجم كى شان ميں نازل ہوئي ہے_

اور يہ آيت '' و من الناس من يُعجبك قولہ فى الحياة الدنيا ...'' 17 علي(ع) كے بارے ميں نازل ہوئي ہے_18

نعوذ بالله من ہذہ الاكاذيب_
اس بناء پر تعجب نہيں ہے كہ على _ كى مخالفت ميں كچھ روايات وضو ميں پاؤں دھونے كے ليئے جعل كردى گئي ہوں_

جوتوں پر مسح، عقل و شرع كے ترازو ميں

جيسا كہ پہلے بھى اشارہ كياگيا ہے كہ جو لوگ پاؤں پر مسح كے مسئلہ كى شدّت كے ساتھ نفى كرتے ہيں اور پاؤں دھونے كو واجب سمجھتے ہيں_ وہى لوگ اجازت ديتے ہيں كہ وضو ميں جوتوں پر مسح كيا جاسكتا ہے اور دليل كے طورپر پيغمبر اكرم(ص) سے نقل ہونے والى بعض روايات كو پيش كرتے ہيں حالانكہ اہلبيتكے توسط سے نقل ہونے والى احاديث عموماً اس بات كى نفى كرتى ہيں اور خود اہلسنت كے واسطہ سے نقل ہونے والى متعدد معتبر احاديث صريحاً اس كے خلاف ہيں_

اس بات كى وضاحت ضرورى ہے كہ احاديث اہل بيت (ع)كى پيروى كرتے ہوئے شيعہ فقہاء كا اس بات پر اجماع ہے كہ جوتوں پر مسح كرنا كسى صورت ميں جائز نہيں ہے_ ليكن بہت سے اہلسنت فقہاء نے اس كام كو سفر اور حضر ميں بطور مطلق جائز قرار ديا ہے اگرچہ بعض علماء نے اسےضرورت كے مقامات ميں منحصر كيا ہے_

يہاں پر چند سوالات سامنے آتے ہيں؛ من جملہ:

1_ پاؤں پر مسح كرنا تو جائز نہيںتھا كسى طرح جوتوں پر مسح كرنا جائز ہوگيا ہے حالانكہ جب پاؤں دھونے كى بات آتى تھى تو دليل يہى تھى كہ پاؤں چونكہ آلودہ ہوتے ہيں اس ليے انہيں دھونا بہتر اور مسح كرنا كافى نہيں ہے_

كيا آلودہ جوتوں پر مسح كر لينا پاؤں دھونے كا قائم مقام بن سكتا ہے_

جبكہ بہت سے علماء اہلسنت اس بات كے قائل ہيں كہ پاؤں دھونے اور جوتوں پر مسح كرنے ميں اختيار ہے_

2_ كيوں علماء نے قرآن مجيد كے ظہور كو ترك كرديا ہے جس ميں سر اور پاؤں كے مسح كا حكم تھا اور جوتوں پر مسح كو ترجيح دى ہے؟

3_ كيوں علمائے اہلسنت، روايات اہلبيت(ع) سے چشم پوشى كرتے ہيں جس ميں بالاتفاق جوتوں پر مسح كرنے سے منع كيا گيا ہے _ اور پيغمبر اكرم(ص) نے اہلبيت (ع) كو ہى قرآن مجيد كے ساتھ باعث نجات شمار كيا ہے؟

4_ درست ہے (برادران كى كتب ميں)بعض روايات نقل ہوئي ہيں جن ميں بيان ہوا ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) نے جوتوں پر مسح كيا ہے ليكن اس كے مقابلے ميں ديگر معتبر ورايات بھى موجود ہيں جن ميں ذكر كيا گيا ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) پاؤں پر مسح كيا كرتے تھے_ روايات كے تعارض اور تضاد كے وقت كيوں علمائے اہلسنت قرآن مجيد كى طرف رجوع نہيں كرتے اور روايات كے اختلاف كے حل كيلئے اسے حاكم قرار ديتے ہوئے اسے اپنا مرجع قرار نہيں ديتے ہيں_

اس مسئلہ ميں ہم جتنا زيادہ غور و فكر كرتے ہيں ہمارے تعجب ميں اضافہ ہوتا ہے_

كتاب '' الفقہ على المذاہب الاربعہ'' ميں يوں بيان كيا گيا ہے كہ ضرورت اور اضطرار كے وقت جوتوں پر مسح كرنا واجب اور بغير ضرورت كے جائز ہے اگرچہ پاؤں كا دھونا افضل ہے_

اس كے بعد '' حنابلہ'' سے نقل كيا گيا ہے كہ جوتوں پر مسح كرنا اُن كو باہر نكالنے اور پاؤںدھونے سے افضل ہے_ كيونكہ اس ميں رخصت كا اخذ كرنا اور نعمت كا شكر بجا لانا ہے_ امام ابوحنيفہ كے بعض پيروكاروں نے بھى اس بات كى تائيد كى ہے_ 19

اس كے بعد اسى كتاب ميں دعوى كيا گيا ہے كہ جوتوں پر مسح كرنا بہت سى روايات كے ذريعہ ثابت ہے جو تواتر كے قريب ہيں_20

قابل توجہ يہ ہے كہ اس كتاب ميں جوتوں كے بارے ميں مفصّل بحث كى گئي ہے كہ ايسے جوتوں كى شرائط كيا ہيں، مسح كى مقدار كيا ہے، مسح كى مدت كتنى ہے (يعنى كتنے دن تك لگاتار جوتوں پر مسح كيا جاسكتا ہے) جوتوں پر مسح كرنے كے مستحبّات؛ مكروہات اور مُبطلات كيا ہيں_ اس طرح اگر ايك جوتے پر دوسرا جوتا پہنا ہو اس كا كيا حكم ہے، جوتے كى جنس كيا ہونى چاہيے كيا ضرورى ہے كہ جوتا حتماً چمڑے كا ہو يا اگر چمڑے كے علاوہ كسى اور چيز سے بنايا گيا ہو تو كافى ہے_

اسى طرح شگاف دار جوتوں اور بے شگاف جوتوں كا كيا حكم ہے؟ ... الغرض اس كتاب ميں بہتمفصّل گفتگو انہى جوتوں كے بارے ميں كى گئي ہے_ 21

5_ علماء اہلسنت كيوں جوتے پر مسح والى روايات كو ضرورت؛ سفر اور جنگ كے موارد اور جہاں جوتوں كا اتارنا ممكن نہيں يا بہت ہى مشكل ہے، حمل نہيں كرتے يہ ايسے سوالات ہيں جن كا جواب نہيں ہے اور صرف پہلے ہى سےقضاوت كرلينا اس سادہ سے مسئلہ ميں شور و غل كا باعث بنا ہے_

ميں نے خود جدّہ ائير پورٹ پر مشاہدہ كيا كہ برادران اہلسنت ميں سے ايك آدمى وضو كے ليے آيا اس نے وضو كے دوران اچھى طرح اپنے پاؤں كو دھويا_ اس كے بعد دوسرا شخص آيا اس نے ہاتھ؛ منہ دھونے كے بعد جوتوں پر ہاتھ پھير ليا اور نماز كے ليے چلا گيا ميں حيرت ميں ڈوب گيا اور سوچنے لگا كہ كيا ممكن ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) جيسے حكيم كى طرف سے ايسا حكم ديا گيا ہو جس كى توجيہ ممكن نہيں ہے_

ان سوالات كے بعد ضرورى ہے كہ ہم اس مسئلہ كے اصلى مدارك كى تلاش ميں جائيں_ اور روايات كے درميان سے اس فتوى كے اصلى نكتہ اور اسى طرح ايك عقلى راہ حل كو تلاش كريں_

روايات چند اقسام پر مشتمل ہيں

الف) جو روايات اہلبيتكے منابع ميں نقل ہوئي ہيں وہ عام طور پر بلكہ بالاتفاق جوتے پر مسح كرنے سے منع كرتى ہيں_ مثال كے طور پر :

1_ شيخ طوسى نے ابوالورد سے نقل كيا ہے، وہ كہتے ہيں كہ ميں نے امام محمد باقر _ كى خدمت ميں عرض كيا كہ ابوظبيان نقل كرتا ہے كہ ميں نے حضرت على _ كو ديكھا كہ انہوں نے پانى پھينك ديا اور جوتوں پر مسح كرليا_ آپ(ع) نے فرمايا ابوظبيان جھوٹ بولتا ہے_

'' أما بلغكم قول عليّ (ع) فيكم: سبق الكتابُ الخُفّين؟ فقلتُ: ہل فيہما رُخصةٌ؟ فقال إلا من عَدُوّ تقيّةً اُو ثُلج: تخاف على رجليك'' 22

كيا تم نے نہيں سُناہے كہ على _ نے فرمايا ہے كتاب خدا (سورة مائدہ كى آيت جو پاؤں كے مسح كا حكم ديتى ہے) جوتوں پر مسح كرنے والے حكم پر مقدم ہے ميں نے عرض كى كيا جوتوں پر مسح كرنے كے بارے ميں كوئي رخصت ہے؟ آپ(ع) نے فرمايا نہيں مگر يہ كہ دشمن كے خوف سے تقيّہ كرنا مقصود ہو يا برف بارى كى وجہ سے تمہارے پاؤں كو خطرہ ہو_

اس حديث سے چند نكات كا استفادہ ہوتا ہے_

اولاً: حالانكہ اہلسنت كى روايات ميں مشہور يہ ہے كہ حضر ت على (ع) جوتے پر مسح كو جائز نہيں سمجھتے تھے_ پھر كس طرح ابوظبيان و غيرہ نے جرا ت كى ہے كہ آپ(ع) كى طرف جھوٹى نسبت ديں، كيا يہ كوئي سازش تھي؟ اس سوال كا جواب ہم بعد ميں ديں گے_

ثانياً: حضرت على (ع) نے راستہ دكھايا ہے وہ فرماتے ہيں كہ قرآن مجيد ہر چيز پر مقدم ہے، كوئي چيز قرآن مجيد پر مقدم نہيں ہوسكتى ہے_ اگر كوئي روايت ظاہرى طور پر قرآن مجيد كے خلاف ہو تو اس كى توجيہ و تفسير كرنى چاہيے_

بالخصوص اگر كوئي روايت سورة مائدہ (وہ سورة جس ميں وضو كا حكم بيان ہوا ہے) كے خلاف ہو كہ اس كى كوئي بھى آيت نسخ نہيں ہوئي ہے_

ثالثاً: امام محمد باقر _ نے بھى رہنمائي كى ہے كہ اگر جوتوں پر مسح كے بارے ميں كوئي روايت وارد ہوئي ہو تو اسے ضرورت و اضطرار؛ جيسے شديد سردى كہ جسكى وجہ سے پاؤں كو خطرہ ہو، پر حمل كيا جائيگا_

2_ مرحوم شيخ صدوق نے '' من لا يحضرہ الفقيہ'' ميں ايك حديث ميں اميرالمؤمنين (ع) سے نقل كيا ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا :

'' إنّا اہلُ بيت: ... لا نمسح على الخفّين فمن كان من شيعتنا فليقتد بنا وليَستنَّ بُسنتنا'' 23

كہ ہم خاندان اہلبيت جوتے پر مسح نہيں كرتے ہيں پس جو بھى ہمارا پيروكار ہے ہمارى اقتداكرے اور ہمارى سنت كے مطابق عمل كرے_

3_ ايك حديث ميں امام جعفر صادق _ سے عجيب تعبير نقل ہوئي ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا:

'' مَن مَسح على الخفّين فقد خالف الله و رؤسولَہ و كتابَہُ و وضوئہ لم يتمّ و صلاتُہ غيرُ مُجزية'' 24

جس نے جوتے پر مسح كيا، اس نے خدا، رسول(ص) اور قرآن مجيد كى مخالفت كي، اس كا وضو درست نہيں ہے اور اس كى نماز كفايت كرنے والى نہيں _

حضرت على _ سے جو روايت جوتوں پر مسح كى ممنوعيّت كے بارے ميں نقل ہوئي ہے، ہميں جناب فخر رازى كى اُس بات كى ياد دلاتى ہے جو انہوں نے بسم اللہ كے جہر و اخفاء والے مسئلہ ميں بيان كى ہے_ بسم اللہ كے بارے ميں كچھ لوگ قائل تھے كہ اس كا آہستہ پڑھنا واجب ہے جبكہ حضرت على _ بسم اللہ كو بالجہر پڑھنا ضرورى سمجھتے تھے تو اس پر جناب فخر رازى كہتے ہيں كہ:

'' من اتخذّ عليّا إماماً لدينہ قد استمسك بالعروة الوثقى فى دينہ و نفسہ'' 25

جس نے دين ميں حضرت على (ع) كو اپنا پيشوا بنايا تو وہ اپنے دين اور نفس ميں عروة وثقى (مضبوط سہارے) سے متمسك ہوگيا ہے _

ليكن اس كے باوجود ہم ديگر روايات كو بھى ذكر كر ديتے ہيں تا كہ كسى كو اعتراض نہ رہے

ب) جو روايات جوتوں پر مسح كرنے كى اجازت ديتى ہيں دو قسم كى ہيں:

قسم اول: وہ روايات ہيںجو مطلق طور پر اس مسح كى اجازت ديتى ہيں جيسے سعد بن ابى وقاص كى مرفوعہ حديث جو انہوں نے رسولخدا(ص) سے جوتوں پر مسح كے بارے ميں نقل كى ہے كہ ''أنہ لا يأس بالوضوء على الخفّين'' 26

ايك دوسرى حديث ميںكہ جو بيہقى كى نقل كے مطابق صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں حذيفہ سے منقول ہے_ يوں آيا ہے كہ:

'' مشى رسول الله إلى سباطة قوم فبال قائماً ثم دعا بمائ: فجئتُہ بماء فتوضّأ و مسح على خُفّيہ'' 27

انتہائي معذرت اور شرمندگى كے ساتھ مجبوراً اس حديث كا ترجمہ كر رہے ہيں ''رسولخدا(ص) ايك قوم كے كوڑا كركٹ پھينكنے كى جگہ گئے اور كھڑے ہوكر پيشاب كيا_ اس كے بعد پانى مانگا، ميں (حذيفہ) ان كے ليے پانى ليكر گيا_ آپ(ص) نے وضو كيا اور جوتوں پر مسح كيا''

ہميں اطمينان ہے كہ يہ حديث جعلى ہے اور بعض منافقين كى طرف سے رسولخدا(ص) كے تقدس كو داغدار كرنے كے ليے جعل كى گئي ہے_ اور اس كے بعد صحيح بخارى اور صحيح مسلم جيسى كتب ميں (مصنفين كى سادگى كى وجہ سے) شامل ہوگئي ہے_

جو شخص تھوڑى سى بھى شخصيّت كا مالك ہو، كيا اس قسم كا كام كرتا ہے كہ جس كے بہت سے نامطلوب لوازم ہوں؟ مقام افسوس ہے كہ صحاح ستّہ ميں اس قسم كى روايات نقل كى گئي ہيں اور آج تك علماء ان روايات سے استدلال كرتے ہيں_

بہرحال ان روايات اور اس قسم كى دوسرى روايات ميں جوتوں پر مسح كو بغير كسى قيد و شرط كے ذكر كيا گيا ہے_

قسم دوم:
ان روايات سے استفادہ ہوتا ہے كہ جوتوں پر مسح (اگر جائز ہے) تو صرف ضرورت كےمقامات كے ساتھمخصوصہے_ جيسے مقدام بن شريح كى روايت جو انہوں نے حضرت عائشےہ سے نقل كى ہے_ وہ كہتا ہے ميں نے حضرت عائشےہ سے جوتوں پر مسح كے بارے ميں

سوال كيا؛ انہوں نے كہا حضرت على _ كے پاس جاؤ وہ سفر ميں رسولخدا(ص) كے ہمراہ جاتے تھے ميں انكى خدمت ميں آيا اور ان سے اس مسئلہ كے بارے ميں سوال كيا تو انہوں نے فرمايا

''كنّا إذا سافرنا مع رسول الله (ص) يأمرنا بالمسح على خفافنا'' 28

جب ہم رسولخدا(ص) كے ہمراہ سفر پر جاتے تھے تو آپ(ص) ہميں جوتوں پر مسح كرنے كا دستور ديتے تھے''

اس تعبير سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے كہ جوتوں پر مسح كرنے كا مسئلہ ضرورت كے موارد كے ساتھ مربوط تھا_ اس ليئے فرمايا ہے كہ رسولخدا(ص) سفر ميں يوں دستور ديتے تھے_اور اس قسم كى ديگر روايات_

اہلسنت كے معروف منابع ميں ذكر ہونے والى تمام روايات ميں (پہلے سے كى جانے والى قضاوت سے چشم پوشى كرتے ہوئے) غور فكر كرنے سے معلوم ہوتا ہے كہ :

اولا: علم اصول كے مشہور قاعدہ (قاعدہ جمع يعنى مطلق كو مقيد كے ذريعے تقييد لگائي جائے) كے مطابق ان روايات كو جو بغير قيد و شرط كے جوتوں پر مسح كوجائز قرار ديتى ہيں، موارد ضرورت و اضطرار پر حمل كيا جائے جيسے سفر يا ميدان جنگ ميں يا اس قسم كے ديگرمقامات ميں_ اور دلچسپ يہ ہے كہ سنن بيہقى ميں ايك مفصّل باب جوتوں پر مسح كرنے كى مدت كے بارے ميں ذكر كيا گيا ہے اور چند روايات كے ذريعے اس مدت كو سفر ميں تين دن اور حضر وغيرہ ميں ايك دن، بيان كيا گيا ہے_29

كيا يہ سارى روايات؛ اس حقيقت كيلئے روشن دليل نہيں ہيں كہ جوتوں پر مسح كے بارے ميں جو كچھ روايات ميں بيان كيا گيا ہے وہ ضرورت اور اضطرار كے حالات كے ساتھ مخصوص ہے_ اور عام حالات ميں جوتے نہ اتارنے اور پاؤں پر مسح نہ كرنے كا كوئي جواز نہيں ہے_

اور يہ جو بعض علماء كہتے ہيں كہ يہ اجازت امت سے عُسر و حرج كو دور كرنے كيلئے ہے _ يہ بات قابل قبول نہيں ہے_ كيونكہ عام جوتوں كے اتارنے ميں ذرہ بھر زحمت نہيں ہے_

ثانياً: اہلبيت اور اہلسنت كے معروف منابع ميں حضرت على (ع) سے متعدد روايات نقل ہوئي ہيں كہ وہ فرماتے تھے يہ مسح سورہ مائدہ كى چھٹى آيت كے نزول سے پہلے تھا_اس سے پتہ چلتا ہے كہ اگر اجازت تھى بھى تو آيت كے نزول سے پہلے تھي_ آيت كے نزول كے بعد حتى جنگ اور سفر ميں بھى جوتوں پر مسح جائز نہيں تھا_ كيونكہ جوتے نہ اتار سكنے كى صورت ميں اصحاب تيمّم كرتے تھے، چونكہ تيمّم كا حكم بھى بطور كلى اس آيت كے ذيل ميں آيا ہے_

ثالثاً: اگر بعض اصحاب نے پيغمبر اكرم(ص) كو حضر ميں جوتوں پر مسح كرتے ديكھا ہے تو اس كى وجہ يہ ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) كے جوتوں پر شگاف تھا جس ميں سے پاؤں پر مسح كرنا ممكن تھا_

مشہور شيعہ محدّث مرحوم صدوق اپنى شہرہ آفاق كتاب '' من لا يحضرہ الفقيہ'' ميں لكھتے ہيں كہ: نجاشى نے پيغمبر اكرم(ص) كو جوتے ہديہ ميں ديے تھے جنكے اوپر شگاف تھا، پيغمبر اكرم(ص) نے ايك مرتبہ جوتے پہنے ہوئے اپنے پاؤں پر مسح كيا، بعض ناظرين نے گمان كيا كہ آپ(ص) نے جوتوں پر مسح كيا ہے_ 30

معروف محدث جناب بيہقى نے اپنى كتاب '' السنن الكبرى '' ميں ايك باب''باب الخفّ الذى مسح عليہ رسول اللہ(ص) '' (وہ مخصوص جوتے جن پر رسولخدا(ص) نے مسح كيا) كے عنوان سے ذكر كيا ہے_ اس باب كى بعض احاديث سے معلوم ہوتا ہے كہ اكثر مہاجرين اور انصار كے جوتے بھى اسى طرح اوپر سے كھلے تھے''و كانت كذلك خفاف المہاجرين و الأنصار مخرقة مشققة'' 31

اس بناء پر قوى احتمال ہے كہ وہ اصحاب بھى اپنے پاؤں پر مسح كرتے ہوں_ اس بحث كے تعجّب آور مراحل ميں سے ايك يہ ہے كہ جن راويوں نے جوتوں پر مسح والى روايات كو نقل كيا ہے انہيں كبھى كبھار رسولخدا(ص) كى خدمت ميں حاضرى كا شرف حاصل ہوتا تھا_ ليكن حضرت على (ع) كہ جو ہميشہ آنحضرت(ص) كى خدمت ميں موجود رہتے تھے؛ اہلسنت كى مشہور ورايات كے مطابق؛ اس مسح كے مخالف تھے_

اس سے زيادہ تعجب آور يہ ہے كہ حضرت عائشےہ كہ جو اكثر اوقات آنحضرت(ص) كے ہمراہ تھيں، فرماتى ہيں :

'' لئن تقطع قدمايى أحبّ إليّ من أن أمسح على الخفّين'' 32

اگر ميرے دونوں پاؤں كٹ جائيں يہ ميرے ليئےس سے زيادہ پسنديدہ ہے كہ ميں اپنے جوتوں پر مسح كروں''

بحث كا آخرى نتيجہ

1_ قرآن مجيد نے وضو ميں اصلى فريضہ پاؤں كے مسح كو قرار ديا ہے (سورہ مائدہ آيت 6) اس طرح اہلبيتكى تمام روايات اور انكى اتباع كرنے والے تمام اماميہ فقہاء كا فتوى بھى اسى آيت كے مطابق ہے_

2: اہلسنت كے فقہاء، وضوميں اصلى فريضہ غالباً پاؤں دھونے كو قرار ديتے ہيں ليكن ان ميں اكثر اجازت ديتے ہيں كہ اختيارى صورت ميں جوتوں پر مسح كيا جاسكتا ہے البتہ ان ميں سے بعض اس مسح كو ضرورت كے موارد ميں منحصر كرتے ہيں_

3: جو روايات اہلسنت كے منابع ميں جوتوں پر مسح كے بارے ميں ذكر ہوئي ہيں اس قدرمتضاد و متناقض ہيں كہ ہر محقق كو شك ميں ڈال ديتى ہيں_ بعض روايات بغير كسى قيد و شرط كے جوتوں پر مسح كى اجازت ديتى ہيں، بعض كلى طور پر منع كرتى ہيں جبكہ بعض ضرورت كے مواقع كے ساتھ مختص كرتى ہيں اور اس كى مقدار سفر ميں تين دن اور حضر ميں ايك دن بيان كرتى ہيں_

4: روايات كے درميان بہترين جمع كا طريقہ يہ ہے كہ اصلى حكم پاؤں پر مسح كرنا ہے (اور انكے عقيدہ كے مطابق پاؤں دھونا ہے) اور ضرورت و اضطرار كے وقت جيسے جنگ اور دشوار سفر كہ جس ميں نعلين كے بجائے بند جوتے (انكى تعبير كے مطابق خُفّ) پہنتے تھے اور اُن كا اتارنا بہت مشكل تھا جوتوںپر (مسح جبيرہ كى مثل) مسح كرتے تھے_

منبع: شيعہ جواب ديتے ہيں؛ مؤلف: آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي - مترجم: معارف اسلام پبلشرز


1. تفسير القرآن العظيم، جلد 2، ص 518_
2. اس مطلب كى وضاحت يہ ہے كہ كلمہ '' ارجلكم'' كے اعراب كے بارے ميں دو مشہور قرا تيں ہيں ايك جر كے ساتھ قرا ت كہ جسے بعض مشہور قرّاء جيسے حمزہ؛ ابوعمرو، ابن كثير اور حتى عاصم نے (ابوبكر كى روايت كے مطابق) لام كى زير كے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرى طرف بعض مشہور قرّاء نے اسے نصب كے ساتھ پڑھا ہے اور آجكل قرآن مجيد كے تمام رائج نسخوں ميں اسى دوسرى قرا ت كے مطابق اعراب لگايا گيا ہے_
ليكن دونوں اعراب كے مطابق يقينا معنى كے اعتبار سے كوئي فرق نہيں پڑتا ہے_ كيونكہ اگر زير كے ساتھ پڑھا جائے تو بالكل واضح ہے كہ ''ارجلكم'' كا '' رؤس'' پر عطف ہے اس كا معنى يہ ہے كہ وضو ميں پاؤں كا مسح كرو (جسطرح سر كا مسح كرتے ہو)اگر شيعہ اس قرا ت كے مطابق عمل كريں كہ جس كے اور بھى بہت سے طرفدار ہيں تو اس ميں كيا عيب ہے؟
اور اس سے بڑھ كر اگر فتح (زبر) كے ساتھ بھى پڑھا جائے پھر بھى ''ارجلكم ''كا عطف ''برو سكم'' كے محل پر ہوگا اور واضح ہے كہ برؤسكم محل كے اعتبار سے منصوب ہے كيونكہ '' و امسحوا'' كا مفعول ہے _ پس دونوں صورتوں ميں آيت كا معنى يہى بنے گا كہ پاؤں كا مسح كرو_
ہاں بعض لوگوں نے يوں خيال كيا ہے كہ اگر ''ارجلكم '' كو فتح (زبر) كے ساتھ پڑھا جائے تو اس كا '' وجوہكم'' پر عطف ہوگايعنى ہاتھ اور منہ كو دھويئےس طرح پاؤں كو دھوليجئے حالانكہ يہ بات ادبيات عرب كے قواعد كے بھى خلاف اور قرآن مجيد كى فصاحت كے ساتھ بھى سازگار نہيں ہے_
بہرحال يہ بات ادبيات عرب كے اس لئے خلاف ہے كيونكہ معطوف اور معطوف عليہ كے در ميان كبھى اجنبى جملہ واقع نہيں ہوتا ہے_ بلكہ ايك معروف اہلسنت عالم كے بقول محال ہے كہ '' ارجلكم '' كا ''وجوہكم'' پر عطف ہو كيونكہ ہرگز فصيح عربى ميں ايسا جملہ نہيں بولا جاتا ہے كہ مثلا كوئي كہے '' ضربتُ زيداً و مررتُ ببكر و عمراً'' كہ ''ميں نے زيد كو مارا اور بكر كے قريب سے گزرا اور عمر كو'' يعنى عمرو كو بھى مارا (شرح منية المصلى ص 16)
حتى كہ عام افراد بھى اس قسم كا جملہ نہيں بولتے ہيں چہ جائيكہ قرآن مجيد جو فصاحت كا اكمل و اتم نمونہ ہے اس قسم كا جملہ بيان كرے_
پس جس طرح اہلسنت كے بعض محققين نے كہا ہے كہ بلاشك و شبہہ نصب كى صورت ميں كلمہ '' ارجلكم'' كا عطف '' بر ء ؤسكم'' كے محل پر ہوگا اور ہرحال ميں آيت كا مفہوم يہى بنے گا كہ وضو كرتے وقت سر اور پاؤں كا مسح كرو_
3. احكام القرآن؛ جلد 2؛ ص 434_
4. تفسير كشّاف؛ جلد 1؛ ص 610_
5. اس حديث كے مصادر، نكاح موقّت كى بحث ميں بيان ہوچكے ہيں_
6. المغنى ابن قدامہ؛ جلد 1؛ 117_
7. مبسوط سرخسى؛ جلد 1، ص 98_
8. كافى؛ جلد 3، ص 32_
9. روح المعانى؛ جلد 6، 87_
10. مسند احمد جلد 1 ص 124_
11. كنز العمال، جلد 9، ص 448_
12. مسند احمد، جلد 1؛ ص 67_
13. سنن ابن ماجہ؛ جلد 1؛ ص 156_
14. مسند احمد، جلد 5؛ ص 342_
15. صحيح مسلم؛ جلد 7، ص 120_
16. سورہ بقرة آيت 207_
17. سورة بقرة آية 204_
18. ابن ابى الحديد معتزلى طبق نقل منتہى المقال شرح حال ''سمرة ''_
19. الفقہ على المذاہب الاربعہ، جلد 1؛ ص 135_
20. ايضاً، ص 136_
21. ايضاً، از ص 135 تا ص 147_
22. تہذيب الاحكام، جلد 1، حديث 1092_
23. من لا يحضرہ الفقيہ؛ جلد 4، ص 415_
24. وسائل الشيعہ؛ جلد 1، ص 279_
25. تفسير كبير فخر رازى جلد1، ص 207_
26. السنن الكبرى؛ جلد 1، ص 269_
27. ايضاً؛ ص 270_
28. ايضاً؛ ص 272_
29. السنن الكبرى؛ جلد 1؛ ص 275، 276_
30. من لا يحضرہ الفقيہ، جلد 1، ص 48_
31. السنن الكبرى؛ جلد 1، ص 283_
32. مبسوط سرخسى؛ جلد 1، ص 98_



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
3+4 =