پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

برزخ کسے کہتے ہیں؟ اور برزخی زندگی کیسی ہوتی ہے؟ اس کے واقعی اور حقیقی ہونے کی دلیلیں کیاہیں؟


مرنے کے بعد انسان کے انجام سے آگاہ ہونا، ایسے مسائل میں سے ہے کہ جسے اکثر لوگ جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور غالباً یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ موت کی حقیقت کیا؟
کیا موت زندگی کی انتہا ہے اور موت کے ذریعہ انسان کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کیلئے بجھ جاتا ہے اور مرنے کے بعد تاریکی، ظلمت اور عدم کے سوا کچھ بھی نہیں ہے؟
یا نہیں ، بلکہ موت ایک ذریعہ ہے دوسرے عالم میں جانے کا، ایک ایسا عالم کہ جو یہاں سے بہتر، روشن تر اور پرنور و واضح ہے اور حقیقت میں یہ موت ایک ایسا پل ہے کہ جس سے انسان عبور کر کے نئی زندگی میں قدم رکھتا ہے؟
اصولی طور پہ فلسفی مسائل کو دو طریقے سے تقسیم کیا جاتا ہے۔
1۔ ایسے مسائل جو اسپیشل اور خاص ہوں اور صرف فلسفہ والے اس کے بارے میں غور وفکر کرتے ہیں یا اپنی رأے دے سکتے ہیں۔
2۔ ایسے مسائل جو عام ہیں اور ہر انسان کی فطرت میں اس کے بارے میں غور و فکر کا جذبہ پایا جاتاہو۔ مرنے کے بعد زندگی کے ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ اسی دوسری قسم کی ایک کڑی ہے۔
مثلاً تقدیر و سرنوشت کا مسئلہ جو فلسفی بھی ہے لیکن عمومی بھی ہے اور ہر کوئی اس کے بارے میں تفکر کرتا ہے اگر چہ ممکن ہے کہ سب کا تفکر و تدبر حقیقت کو آشکار کرنے میں کسی قسم کی مدد نہ کرے بلکہ فقط ایک فلسفی کی دقیق اور ظریف فکر اس مسئلے کو حل کرے۔ انسان کی موت کے بعد اس کی سرنوشت کی جانکاری تین اصولوں پر مبنی ہے جس کی تحقیق کی جاسکتی ہے۔
1۔ انسان کی حقیقت کیاہے؟ آیا اس کی حقیقت یہی مادی بدن ہے یا نہیں بلکہ اس کی اصالت کچھ اور ہے جو اس بدن سے ایک طرح سے مربوط ہے؟
2۔ انسان کی حقیقت کیاہے؟ آیا موت زندگی کی انتہا اور انجام کا نام ہے یا نہیں بلکہ موت دوسرے عالم میں نئی زندگی کے لئے ایک روشن دان کا نام ہے کہ جس سےاندر داخل ہوسکتا ہے۔
3۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ انسان کی موت کی حقیقت یہ ہے کہ موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے، اس صورت میں ان دو زندگیوں کے درمیان کیسا رابطہ ہے اور اس رابطہ کو کیا کہا جاتا ہے؟
اب ہم ان تین اصولوں کے بارے میں بحث کریں گے۔

پہلا اصول: انسان کی حقیقت اور واقعیت

کیا ایک انسان کی حقیقت اور واقعیت اس کے ظاہری اور مادی بدن پہ ختم ہوجاتی ہے یا نہیں بلکہ یہ مادی بدن، دوسری حقیقت پر ایک پردہ اور حجاب ہےاور وہی حقیقت انسان کی واقعیت اور وجود کو تشکیل دیتی ہے۔
دوسرے لفظوں میں کیا انسان کا وجود ہستی اور مادی ہے اور روح و روان کی حقیقت صرف یہ ہے کہ مادہ اس میں اور یہ مادہ میں متقابل تاثیر رکھتے ہیں، یا نہیں بلکہ اس مادی بدن کے پشت پردہ ایک اور واقعیت اور حقیقت ہے کہ جس کیلئے یہ بدن صرف وسیلہ اور ذریعہ ہے اور بس؟
مادی گر (وہ لوگ جو وجود اور ہستی کو مادہ اور انرجی کے برابر جانتے ہیں) ۔ پہلے نظریہ کے قائل ہیں۔ ان کی نظر میں روح بدن کے اجزاء کے منسجم ہونے کا اثر اور نتیجہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں روح، اجزاء کے ایک دوسرے کے ساتھ فعل وانفعال کا نتیجہ ہے۔ بدن کے مادہ اور اجزا کی صورت میں ایک شعور اور ادراک جلوہ گر ہوتا ہے جسے روح کہتے ہیں اور اس کی حقیقت یہی ہے کہ یہ صرف مادیت کا اثر ہے اسی طرح جس طرح کبد (جگر) سے صفراء اور جبڑوں کے غدودوں سے بزاق (لعاب دھن) ترشح ہوتا ہے۔ اسی طرح بدن کے اجزاء میں ایک دوسرے سے ارتباط اور پیوند کی صورت میں شعور اور ادراک، خوشی اور غم اور حب وبغض وجود میں آتا ہے۔
اس مکتب میں، روح مادیت کا کیمکل اثر ہے نہ یہ کہ مستقل اور بدن سے جدا جوہر، جبکہ الٰہی لوگ، روح کو جو کہ مادہ سے مرتبط ہے، معتقد ہیں کہ اس کا بدن کے ساتھ رابطہ ہے۔
مادی گروں کے اس سلسلے میں دلائل اور اس کی تحقیق ایک مفصل بحث ہے جس کی اس مختصر سے مضمون میں گنجائش نہیں ہے۔ (اصالت روح از نظر قرآن کی طرف رجوع کریں) اس بنا پر الٰہیین کی دلیلوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
الہٰہیین نے انسان کی حقیقت کو بیان کرنے اور یہ کہ انسان کی حقیقت ایک ایسا گوہر ہے جو اس بدن سے مرتبط ہے کے سلسلے میں وسیع طور پر بحث کی گئی ہے اور انھوں نے اپنے مدعا کو ثابت کرنے کیلئے دسیوں دلیلیں قائم کی ہیں لیکن ان متعدد دلیلوں میں سےہم روشن ترین اور واضح ترین دلیلیں جو تجربی پہلو بھی رکھتی ہیں کو ہی بیان کریں گے۔

1۔ "میں" یا ایسی واقعیت جو ہر چیز کا موضوع ہے

ہر انسان اپنے کاموں کو ایک فاعل کی طرف نسبت دیتا ہے جسے اردو میں، "میں"؛ فارسی میں۔ "من"عربی میں،"انا" اور انگریزی میں"آئی" کہا جاتا ہےاور انسان کہتا ہے: میں نے کھانا کھایا، میں نے پانی پیا، میں نے دیکھا، میں نے سنا، میں گیا، میں آیا، اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے بدن کے تمام اعضاء وجوارح کو بھی اسی کی طرف نسبت دیتا ہےاور کہتا ہے: میرا بدن، میرا دل، میرا کان، میری آنکھ، میری فکر وغیرہ۔ کبھی کبھار تو اس سے بھی آگے جاتا ہے اور اپنے پورے بدن کو اس کی طرف نسبت دیتا ہے اور کہتاہے:میرا بدن،اس قسم کی نسبتیں (یعنی اپنے افعال و اعضاء وجوارح حتی پورے بدن کو "میں"نام کی شے کی طرف نسبت دیتا ہے اور اس طرح کی نسبت جسم وبدن کو چھوڑ کر ایک اور واقعیت کی تلاش میں ہے کہ جو موضوع قضیہ کے عنوان سے ان نسبتوں پر مبنی اور مشتمل ہے۔
لہٰذا انسان کے وجود میں بدن کے علاوہ ایک اور واقعیت بنام"میں"موجود ہے جو انسان کی حقیقت کو تشکیل دیتی ہے اوراگر ہم ایسی فطری حقیقت کے منکر ہوجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمام قضیوں میں "موضوع"، محمول کے بغیر ہے اور چونکہ یہ حقیقت بدن اور اس کے اعضاء و جوارح سے وسیع تر ہے لہٰذا طبیعی طور پر ایک غیر مادی شے کہلائے گی اگر چہ اس مادی نظام کے سا تھ بھی اس کا رابطہ برقرار ہے۔

2۔ مختلف حوادث اور تغییرات میں انسان کی ثابت شخصیت

روح کے اس مادی نظام سے جدا اور مستقل ہونے پر ایک اور گواہ اور دلیل پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ابتدا سے تغییر و تحول اور حوادث کا شکار ہوتا ہے لیکن حقیقت میں ان حوادث کے باوجود ثابت اور باقی رہتا ہے یعنی اس کی شخصیت ہمیشہ ثابت رہتی ہے۔ دوسری عبارت میں انسانی زندگی چند مرحلوں سے گزرتی ہے۔ پہلے بچہ ہوتا ہے پھر جوانی اور شباب کی منزل پہ پہنچتا ہے اور پھر بڑھاپااس کی آخری منزل قرا پاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان تمام مراحل میں اس کی حقیقت ثابت ہوتی ہے اور اس حقیقت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آتی اور انسان احساس کرتا ہے اور کہتا ہے، ایک دن میں چھوٹا تھا، ایک دن جوان اور آج میں بوڑھا اور کمزور ہوگیا ہوں۔
یعنی اس کے اندر بنیادی تبدیلیاں وجود میں آتی ہیں لیکن ہر حالت میں ایک قائم و دائم اور ثابت حالت کا احساس کرتا ہے اور یہ تین مرحلوں میں اس کے جسم میں تبدیلیاں آتی ہیں، اس کے باوجود اس کی حقیت ثابت ہے اور اگر اصالت اور حقانیت جسم کے ساتھ ہوتی، یعنی اگر یہ مادی جسم اصل اور حقیقی ہوتا تو یہ ثابت بھی نہ ہوتا کیونکہ کئی مرحلوں میں اس کے بدن پر تغییر وتحول عارض ہوا ہے اور اس زندگی میں مختلف جسموں کے ساتھ روبرو ہوا ہے یعنی کبھی چھوٹا تھا، کبھی جوان اور کبھی ضعیف وکمزور لہٰذا یہ حقیقت بھی متغیر ہوجاتی۔
پس چونکہ اسنان کی واقعی ہویت اور شخصیت متغیر نہیں ہوتی، اس بناء پر ان تغییرات و تحولات کے پیچھے ایک چپھی ہوئی ثابت حقیقت ہے جو ہمیشہ سے اپنی وحدت کو محفوظ رکھے ہوئے ہے اور اس جسمی تغییر و تحول کو قبول کرتے ہوئے اپنے کمال کی راہ کو جاری رکھتی ہے۔ اگر ہم چاہیں اس تجربی دلیل کو ایک منطقی برہان کی روشنی میں بیان کریں تو اس طرح کہیں گے۔
1۔ انسان اپنے اندر ہمیشہ ایک ثابت اور قائم حقیقت و واقعیت کا "میں"کے نام سے ادراک کرتا ہے۔
2۔ انسان کے مادی وجود کاحصہ (خود جسم اور باقی قوا) ثابت نہیں ہیں اور انسان کے بدن کے تمام جراثیم ہر آٹھ سال کے بعد تبدیل ہوجاتے ہیں ۔
نتیجہ: "میں" کی حقیقت، انسان کا مادی وجود نہیں ہے بلکہ ایک غیر مادی شخصیت اور ہویت ہے کیونکہ اگرانسان کی واقعیت اسی مادہ اور انرجی میں ہوتی جو اس بدن میں پوشیدہ ہے تو انسان ایک ثابت شخصیت نہ رہتا اور اپنے آپ کو "میں" کی طرف منسوب نہ کرتا اور یہ دنیا بھر کی تمام عدالتیں، پولیس، لوگ وغیرہ بھی اس انسان کو جس نے ۲۰ سال کی عمر میں کوئی جرم کیا ہے، ۴۰ سال کی عمر میں اس کی سزا کیوں دیتے ہیں کیونکہ وہ شخصیت جس نے جرم کیا تھا نابود ہوگئی ہے اور اب تو دوسری شخصیت (یعنی تیسرا اور چوتھا بدن) وجود میں آئی ہے۔

3۔ بدن کی غفلت کے باوجود حضور شخصیت

فرض کریں، ایک انسان، ایک وسیع اور ہرے بھرے باغ میں آرام کررہا ہے، اور اس باغ میں بھی ایسا سکون اور آرام حکمفرماہے کہ کوئی بھی چیز انسان کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرتی، مثلاً نہ ہوا اتنی گرم یا سرد ہو کہ اسے تکلیف پہنچائے اور نہ ہی ایسی ہوا ہو کہ جس سے شور برپا ہوجائے یا درختوں کےپتے اس ہوا کی وجہ سے خش خش کی آواز پیدا کرکے اسے اپنی طرف متوجہ کریں۔ نہ ہی کسی پرندے کی آواز ہو اور نہ ہی پانی کی اور۔۔۔خلاصہ یہ کہ ایک سکون مطلق، اس باغ پر حاکم ہے اور کسی قسم کا شور شرابہ نہیں ہے، اس دوران، وہ لگاتار کوشش کرتا ہے کہ ہر چیز سے رابطہ قطع کردے یہاں تک کہ اپنے بدن اور تمام اعضاء وجوارح کو بھول جائے۔ اس موقع پر جہاں وہ مطلق طور پہ ہر چیز کو بھول جاتا ہے وہیں پہ ایک چیز کا مشاہدہ کرتا ہے اور وہ خود اس کی اپنی حقیقت، ہستی اور اپنا وجود ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کے اندر ایک حقیقت اور واقعیت پائی جاتی ہے جسے ہر گز فراموش نہیں کیا جاسکتا اور یہ واقعیت بدن اور اعضاء و جوارح کے علاوہ اور کوئی شے ہے کیونکہ اعضاء و جوارح کے فراموش کئےجانے کے باوجود وہ فراموش نہیں کی جاتی ہے۔ 1
اس استدلال اور برہان میں اس قدر مقدمہ چینی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے مختصر طور پر بھی بیان کیا جاسکتا ہے اور وہ اس طرح کہ انسان کبھی کبھار گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہے اور ہر چیز سے غافل ہوجاتا ہے حتی اینکہ کبھی کبھار تو اس کے نزدیک ہی ایک حادثہ ہوجاتا ہے لیکن وہ اس کی طرف متوجہ تک نہیں ہوتا۔ اس صورت میں بھی ایک چیز سے غافل نہیں ہوتا اور وہ اس کی علمی و فکری شخصیت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی حقیقت و واقعیت اور ہے جو فوق الذکر حالات کے پس پردہ قرار پاتی ہے۔

4۔ علوم عصر کی تحقیقات میں روح

اب تک ہم "روح"کی واقعیت سے جو اس بدن کے علاوہ دوسری چیز ہے سے آشنا ہوئے۔ جو کچھ ہم نے کہا، کچھ تجربیاتی دلیلوں کا سلسلہ تھا جوعام فہم تھا اور اس کے ذریعہ ہم نے تجرد روح کو ثابت کیا جو غالب افراد کے لئے یقین آور ثابت ہوسکتی ہیں۔ اب اس مطلب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ضروری ہے ایک ایسی علمی تحریک کی طرف اشارہ کیا جائے جو ۱۹ویں صدی کے اواخر میں انسان شناسی کیلئے شروع ہوئی تا کہ تجربی اور فلسفی علوم کا ہمگام ہوناثابت ہوسکے۔ اس کے بعد قرآن کی رو سے اس کو بیان کریں گے۔ ۱۸۸۲ء میں ایک گروہ بنام "جمعیت تحقیق روح "کی تاسیس کی گئی جس کے صدر ایک انگلستانی مفکر اور کیمبرج یونیورسٹی کے استاد "جومیک" تھے۔
اس گروہ کے ارکان یہ تھے: اولیورڈ لوچ (جنھیں "طبیعی علوم کے ڈاروین" کا لقب دیا گیا تھا) ، ویلیم کروکس، یہ انگلینڈ کے ایک ماہر کیمسٹ تھے۔ فریڈرک میرس اور ہارسن، یہ امریکہ کی ہارڈ وارڈ یونیورسٹی کے پروفیسر تھے۔ ان کے علاوہ ہیز لوپ کلمبیائی یونیورسٹی کے پروفیسر اور دوسرے بڑے بڑے دانشور جیسے: عارمی، باریف، بورمو، علم طب کی یونیورسٹی کے پروفیسر:شارل پیشہ، ایک بڑے ریاضی دان بنام کامل فلا مارین اور فرانسوی ستارہ شناس وغیرہ۔
اس گروہ نے روح کے بارے میں دقیق مطالعہ کیا اور علمی آثار و کتب تالیف کرنے میں مشغول ہوگئے یہاں تک کہ ۴۵ سال کی مدت میں ان کی جانب سے ۵۰ سے زیادہ موٹی اور ضخیم کتابیں لکھی گئیں بہت سارے مسائل ان کی مدد سے حل ہوگئے۔
در حقیقت خداے متعال نے دور حاضر میں علم کا ایک باب بشریت کیلئے کھول دیا اور معلوم ہوا کہ انسان کے وجود میں روح ہے جو بدن کے بغیر بھی مستقل طور پہ زندہ رہ سکتا ہے اور مختلف امور کو انجام دے سکتا ہے۔
معلومات اور حقائق جو کہ احضار روح کے مواقع پر ارواح کی جانب سےدانشوروں کیلئے کشف اور مشاہدہ ہوئی ہیں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انسان کا اس بدن کے علاوہ بھی ایک مستقل وجود ہے جو ہر گز نہیں مرتا اور نہ ہی نابود ہوتا ہے اور اس سلسلے میں بہترین دلیل یہی ہے کہ ارواح کا ساکنین زمین کے ساتھ رابطہ ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ روح مستقل اور باقی ہونے کے ساتھ ساتھ باذن خدا بہت سارے کام انجام دینے پر قادر ہے۔
یہ علمی تحریک جو اب بھی مغربی دنیا میں جاری ہے، ان لوگوں کیلئے جو جلدی قبول نہیں کرتے یا ان کی چشم امید مغربی دنیا پر مرکوز ہے، اطمینان آور ثابت ہوسکتی ہے۔
اب ان فلسفی و تجربی دلیلوں اور عصر حاضر میں علمی تحقیقات کی طرف اشارہ کئے جانے کے بعد مناسب ہے کہ روح اور اس کی حقیقت کو قرآنی فیصلے سے پرکھا جائے۔

قرآن اور تجرد روح

قرآن کریم میں بہت ساری ایسی آیات ہیں جو روح کے مادہ سے مجرد ہونے اور اس کے آثار پہ گواہی دیتی ہیں اور ہمارے لئے بیان کرتی ہیں کہ انسان کی حقیقت اس کے مادی بدن میں خلاصہ ہوکر ہی نہیں رہ جاتی بلکہ یہ جسم اس کیلئے صرف ایک وسیلہ اور ذریعہ ہے اور اس کی واقعیت و حقیقت اس کی روح وجان ہے۔ اس سلسلے میں آیات بہت زیادہ ہیں، ہم صرف چند ایک کی طرف اشارہ کریں گے۔

1۔ موت کے وقت جان نکالنا؛ خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے کہ وہ موت اور نیند کے وقت انسانوں کی جان لیتا ہے لیکن جس کی موت کا وقت نہیں پہنچا ہے، اس کی جان اس کے بدن میں ایک معین مدت کیلئے واپس پلٹا دیتا ہے: >اللہ یتوفیٰ الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضی علیھا الموت ویرسل الاخری الی اجلٍ مسمیٰ ان فی ذلک لاٰیات لقوم یتفکرون< (زمر:۴۲) خدا موت اور نیند کے وقت پوری طرح جانیں نکال لیتا ہے، پھر جس کی موت قطعی ہوتی ہے اس کی جان رکھ لیتا ہے اور دوسرے کی جان کو ایک معین مدت تک واپس بھیج دیتا ہے، اس فعل میں صاحبان فکرکیلئے آیت اور نشانیاں ہیں۔
"توفی" کا کلمہ "اخذ" کے معنی میں ہے یعنی پوری طرح لینا (نہ کہ مارنا یا ماردینایا موت) آیت کریمہ میں اس تعبیر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ موت اور نیند کے وقت اس بدن سے ہٹ کر ایک ایسی واقعیت ہوتی ہے جسے خدا اخذکرتا ہے اورنکال لیتا ہے۔ پھر جن لوگوں کی موت کا وقت قطعی ہوتا ہے ان کی جان اپنے پاس محفوظ کرلیتا ہے اور دوسروں کی جان واپس پلٹا دیتا ہے تا کہ وہ اپنے بدن کے ساتھ رہ کر زندگی کو جاری رکھ سکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسانی شخصیت کو اس کا مادی اور خارجی و ظاہری پہلو تشکیل دیتا تو "اخذ، امساک، ارسال"جیسے مفاہیم کا استعمال کرنا ہر گز صحیح نہ ہوتا کیونکہ یہ مفاہیم روح کے سلسلے میں صحیح ہیں نہ کہ مادی جسم کے بارے میں۔
2۔>أ اذا ضللنا فی الارض أ انا لفی خلق جدید< (سجدہ:۱۰) آیا اس وقت (مرنے کے بعد) جب زمین میں ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گے نئی زندگی پائیں گے؟
ان کا اعتراض یہ تھا کہ مرنے کے بعد بدن ریزہ ریزہ اور ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر زمین کے ساتھ مل جائے گا اور نابود ہوجائے گا۔اس وقت کیسے ممکن ہے کہ یہ بدن دوبارہ ان اجزاء سے مل کرزندہ ہوسکتاہے کیونکہ یہ محال ہے؟ قرآن کریم اس اعتراض کے جواب میں فرماتاہے جو کہ ہمارے لئے دلیل ہے۔حقیقت ہمارےپاس ہے اور جو کچھ زمین میں بکھر گیا وہ ان کی حقیقت نہیں ہے۔
>قل یتوفاکم ملک الذی وکل بکم ثم انکم الی ربکم ترجعون< (سجدہ: ۱۱) کہو موت کا فرشتہ جو تمہاری جانیں لینے پر مامور ہوا ہے، تمہاری جانیں لیتا ہے اور پھر تم اپنے پروردگار کی طرف واپس پلٹا دیے جاؤ گے۔
جیسا کہ پہلی آیت میں ذکر کیا گیا، توفی کے معنی موت نہیں بلکہ اخذ اور لینا ہیں۔ پس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ انسان موت کے بعد دو قسموں میں تقسیم ہوجاتا ہے:
الف) بدن اور ظاہری جسم جو مٹی کے ساتھ مل کر فرسودہ اور بوسیدہ ہوکر زمینی تغییرات کے ذریعہ پورے عالم میں پھیل جاتا ہے۔
ب) انسان کی واقعیت اورحقیقت جو "یتوفا" میں"کم"کےلفظ سے روشن ہوتی ہے یعنی موت کا فرشتہ اس واقعیت کو لے لیتا ہے اور وہ حقیقت خدا کے پاس ہے اور ہر گز زمین میں گم اور نابود نہیں ہوسکتی ہے۔
اس آیت شریفہ میں ایک علمی دلیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ ہےکہ: جو کچھ زمین میں بوسیدہ ہوکر منتشر ہوجائے گا انسان کا جسمی وجود ہے اور جو کچھ انسان کی حقیقت ہے وہ ملک الموت کے پاس ہے جو اسے خدا کے پاس حاضر کرتا ہے اور باقی ہے۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کی اس بوسیدہ شیء کے علاوہ ایک اور حقیقت ہے جسمیں مادی آثار (بوسیدہ ہونا، ریزہ ریزہ ہونا، بکھرنا وغیرہ) ہر گز نہیں پائے جاتے۔
اس بناپر فوق الذکر آیات اور دلائل سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کی حقیقت اس کے بدن سے جدا اور مستقل ہے اور اس سے کہیں آگے بڑھ کر ہے اور اس میں تغییر و تحول ہرگز نہیں پایا جاسکتا اور وہ حقیقت دائم و قائم ہے۔

دوسرا اصول: موت کی حقیقت کیا ہے؟

یہ تو روشن ہوگیا کہ انسان کی واقعیت وہی نفس ہے جو مادہ سے مجرد اور خالی ہے اور یہ واقعیت آثار مادہ سے پیراستہ اور منزہ ہونے کی بناپر خدا کی مشیت سے موت کے بعد بھی باقی اور جاودان رہتی ہے اور جو کچھ ہم نے بیان کیا، اس سے موت کی حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے، کیونکہ انسان کی واقعیت، اس کی جاودان روح ہےاور موت بھی روح کی بدن سے جدائی کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے جو حالات کے تغییر پانے کی وجہ سے ان دو میں جدائی ڈال دیتی ہے یعنی انسان کی روح کمال کی رُو سے ایسی منزل تک پہنچ جاتی ہے کہ اُسے اب بدن کی ضرورت نہیں رہتی اور اس کیلئے ایسے حالات فراہم ہوجاتے ہیں کہ اپنی حیات کو مناسب طریقے سے خودجاری رکھ سکے۔
اگر ۱۹ ویں صدی میں مادی گری کا بخار اوپر چڑھ گیاتھا اور لوگ ماوراء طبیعت کے مسائل جیسے خدا، فرشتہ، روح، عالم غیب وغیرہ کے سلسلے میں شک وتردید کرنے لگے تھے تو بیسویں صدی بلکہ اس سے تھوڑی مدت پہلے ہی ورق الٹ گیا اور روح پر یقین رکھنے والوں اور اس کے سلسلے میں تحقیق کرنے والوں نے مارواء طبیعت سے متعلق علمی حقائق کو لوگوں پر آشکار کردیا اور اس کے بعد روح کی اصالت اور بقا (موت کے بعد) کا مسئلہ سب نے قبول کرلیا اور پہلے اصول کو بیان کرتے وقت اس کے ضمن میں یہ مسئلہ بھی واضح ہوگیا۔

قرآن اور روح کی بقا

چونکہ ہمارے اس موضوع کی تحقیق کا منبع قرآن کریم اور ائمہ معصومین (ع) کا کلام ہے، لہٰذا روح کی جاودانی اور بقا کی اسی دیدگاہ سے بحث کریں گے۔ قرآن کریم میں بہت ساری ایسی آیات ہیں جو صریح طور پہ گواہی دیتی ہیں کہ موت کے بعد انسانی حیات مستمر اور دائم رہتی ہے۔ان آیات کی تفسیر کو یہاں پہ ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہےپس ہم نمونے کے طور پر کچھ آیتوں پر ہی اکتفا کریں گے۔

1۔ خدا کی راہ میں شہید زندہ ہیں

بہت ساری ایسی آیتیں ہیں جو گواہی دیتی ہیں کہ خدا کی راہ میں مرنے والے زندہ ہیں۔ اس میں سے نمونے کے طور تین آیتیں ذکر کی جاتی ہیں۔
الف) >ولاتقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولٰکن لاتشعرون < (بقرہ: ۱۵۴) جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں انھیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھ سکتے۔
جملہ "ولکن لا تشعرون" یعنی تم نہیں سمجھ سکتے، درک نہیں کرسکتے، پر توجہ کئے بغیر تصور ہوتا ہے کہ خدا کی راہ میں شہید ہونے والوں کی حیات سےمراد ان کی اجتماعی حیات ہےکیونکہ یہ فداکار گروہ ہمیشہ لوگوں کے دلوں اور افکار میں جگہ بنائے ہوئے ہے اور ان کا نام اور ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہتی ہےاور ان کی فداکاریاں، ملتوں اور امتوں کے تاریخی صفحات میں نقوش کی مانند پابرجا ہیں لیکن آیت کا آخری حصہ اس بات کی نفی کرتاہے کیونکہ اگر اجتماعی زندگی مراد ہوتی تو یہ ایک ایسا مطلب نہیں ہے جو اسلامی امت اور خاص کر بیدار اور روشن دل لوگوں کیلئے مخفی اور پوشیدہ ہو اور پھرخدا آکر اس جملے کے ذریعہ لوگوں پر اس مفہوم کو آشکار کرے، نہیں بلکہ لوگوں کیلئے اس طرح کی حیات عام طور پہ قابل درک اور فہم ہوتی ہے۔
ب) >ولاتحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتاً بل احیاء عند ربھم یرزقون< (آل عمران: ۱۶۹) خدا کی راہ میں مارے جانے والے لوگوں کو مردہ مت سمجھو (گمان نہ کرو) وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے پاس رزق پاتے ہیں۔
ج) >فرحین بما اٰتا ھم اللہ من فضلہ و یستبشرون بالذین لم یلحقوا بھم من خلفھم الا خوف علیھم ولا ھم یحزنون< (آل عمران: ۱۷۰) وہ لوگ ان نعمتوں کی وجہ سے جو خدا نے انھیں اپنے فضل سے بخش دی ہیں مسرور ہیں اور ان لوگوں کی وجہ سے وجو ان سے ملحق نہیں ہوئے ہیں خوش خبر ہیں کیونکہ نہ انھیں کسی قسم کا خوف ہے اور نہ غم ہے۔
>یستبشرون بنعمۃٍ من فضل اللہ و ان اللہ لا یضیع اجر المؤمنین< (آل عمران: ۱۷۱) وہ لوگ خدا کی نعمتوں کی وجہ سے خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور بے شک، خدا وند، ان افراد با ایمان کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
یہ ذکر کی گئی آیات شریفہ معنی اور دلالت کے لحاظ سے بالکل صریح، واضح اور قطعی ہیں اور ان آیات میں خدائے متعال، راہ حق میں شہید ہونے والوں کو نہ صرف زندہ اور حی جانتا ہے بلکہ صراحتاً ان کی جسمانی اور معنوی زندگی کے آثار کو بھی بیان کرتاہے کیونکہ شہداء کا رزق پانا، خوشحال ہوناوغیرہ کو جسمی وروحی آثار میں شمار کیا جاتا ہے۔

2۔ سورۂ یٰسین کے ذکر مومن کی مرنے کے بعد گفتگو

حضرت عیسیٰ (ع) نے تین مبلغ تبلیغ کیلئے ایک شہر کی طرف روانہ کئے، وہاں کے شہر والوں نے ان کی دعوت کا انکار کیا اور صرف ایک آدمی جو شہر کے کنارے سے آیا تھا ایمان لایا ۔لوگوں نے اس پہ حملہ کیا اور اسے شہید کردیا اور اس نے شہید ہونے کے بعد یہ پیغام دیا۔ >انی اٰمنت بربکم فاسمعون قیل ادخل الجنۃ قال یالیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی و جعلنی من المکرمین< (یٰسین: ۲۵۔۲۷) اس نے کہا: میں تمھارے (بھیجے ہوئے لوگوں یا رسولوں کے ) خدا پر ایمان لایا (اسی ایمان لانے کی وجہ سے) اس سے کہا گیا: جنت میں داخل ہوجاؤ، اس نے کہا: اے کاش! میری قوم جانتی کہ میرے پروردگار نے مجھے بخش دیا اور میرا اکرام کیا۔
یہاں پہ جنت سے مراد، برزخی جنت ہے جس میں اسے داخل کیا گیا نہ کہ اخروی جنت، کیونکہ اس کی یہ آرزو کہ اے کاش!وہ لوگ اس کا حال جان لیں، اخروی دنیا کہ جہاں آنکھوں سے پردے ہٹ جائیں گے اور لوگ ایک دوسرے کی وضعیت سے آگاہ ہوجائیں گے کے ساتھ مناسب نہیں ہے بلکہ ایسی ناواقفیت اس دنیا کے ساتھ مناسب ہے کہ جہاں انسان ایک دوسرے کی حالت نہیں جانتے اور اس بارے میں بہت ساری آیتیں بطور گواہ موجود ہیں۔
اس کے علاوہ اس کے بعد آنے والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرد مومن کے شہید ہونے، بخشے جانے اور جنت میں داخل کئے جانے کے بعد، اس کی قوم کا چراغ حیات ایک آسمانی صیحہ سے خاموش ہوگیا جیسا کہ قرآن فرماتاہے: >وما انزلنا علیٰ قومہ من بعدہ من جندٍ من السماء وما کنا منزلین ان کانت الا صیحۃً واحدۃً فاذا ھم خامدون< (یٰسین:۲۸۔۲۹) اس کی قوم پر، اس کے بعد ہم نے آسمان سے سپاہی (لشکر) نہیں بھیجے اور ہم ہر گز ایسا نہیں کرتے، یہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ایک ناگہانی صیحہ کہ (جسکی وجہ سے) سب کے سب خاموشی سے چلے گئے۔
ان دو آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے جنت میں داخل ہونے کے بعد اس کی قوم اس دنیا میں زندگی بسر کرتی رہی کہ ناگہان اسے موت نےآلیا اور ایسی جنت، برزخی جنت کے علاوہ نہیں ہوسکتی۔

3۔ فرعونیوں کو آگ کے سامنے پیش کیا جاتاہے

>النار یعرضون علیھا غدواً و عشیاً و یوم تقوم الساعۃ ادخلوا آل فرعون اشدالعذاب< (غافر: ۴۶) آل فرعون ہر روز، صبح و شام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت برپا ہوگی، حکم ہوگا کہ آل فرعون کو سخت ترین عذاب کیا جائے۔
آیت کے دو حصوں سے پتہ چلتاہے کہ وہ لوگ عالم برزخ میں باقی اور زندہ ہیں کیونکہ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ان پر صبح و شام آگ نازل کی جاتی ہے لیکن قیامت کے بعد ان پر سخت ترین عذاب نازل کیا جائے گا اور اس کے علاوہ اگر آیت کا دوسرا حصہ >یوم تقوم الساعۃ< نہ ہوتا تو پہلا حصہ زیادہ واضح نہ ہوتا لیکن دوسرے فقرہ سے واضح ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہی عالم برزخ کا عذاب ہے ورنہ ان دو جملوں کا جمع کرنا صحیح نہیں ہوگا۔

4۔ امت نوح، غرق ہونے کے بعد آگ میں

"مما خطیئاتھم اُغرقوا فُادخلوا ناراً فلم یجدوا من دون اللہ انصاراً" (نوح: ۲۵) خطاؤں کی وجہ سے کہ جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے، غرق ہوگئے اور بالآخرہ آگ میں ڈالے گئے اور انھوں نے خدا کے بغیر کسی کو اپنا مددگار نہیں پایا۔
ممکن ہے تصور کیا جائے چونکہ ان کا آگ میں ڈالا جانا حتمۮدا (ص) اورائمہ اطہار علیہم السلام کے کلام پاک میں بھی برزخی حیات کو وسیع اور مفصل طور پہ بیان کیا گیا ہے اور اس موضوع کے بارے میں حدیثی اور اعتقادی کتابوں میں مخصوص ابواب ذکر کئے گئے ہیں جس میں سے بعض کو نمونے کے طور پہ بیان کریں گے۔
1۔ پیغمبر اسلام (ص) اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بقیع کے قبرستان کی طرف گئے اور اہل قبور سے اس طرح کلام کرنے لگے: " السلام علیکم دار قوم مؤمنین انتم لنا فرط و انا بکم لاحقون لیھنئ لکم ما اصبحتم فیہ" 2 تم پر درود کہ تم ایمان کے مقام پر فائز ہو، تم نے ہم سے سبقت حاصل کرلی اور ہم بھی عنقریب تم سے ملنے والے ہیں، تمھیں وہ نعمتیں مبارک ہوں جن سے تم سرافراز کئے گئے ہو۔
2۔ میت پہ تلقین پڑھناجو اسلامی فقہ کے مسلمات میں سے ہے، ان لوگوں کیلئے جو جہان فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کرگئے ہیں، کی برزخی حیات کیلئے ایک دلیل اور علامت ہے۔ تلقین کرنے والا، تلقین کے وقت میت کو اس کے نام و نشان کے ساتھ پکارتا ہے اور کہتا ہے: جب خدا کے مامور فرشتے تمہارے پاس آئیں اور تم سے تمہارے خدا، دین، پیغمبر اور امام کے بارے میں پوچھیں تو کہو: "رضیت باللہ رباً وبالاسلام دیناً و بمحمدٍ نبیاً وبعلی اماماً" میں خوشنود ہوں کہ خدا میرا پروردگار، اسلام میرا دین، محمد (ص) میرے پیغمبر اور علی بن ابی طالب علیہ السلام میرے امام ہیں۔
ان سب چیزوں سے عیاں ہے کہ موت، صرف ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہونے کا نام ہے اور مردہ انسان اس عالم میں دیکھتا ہے ، سنتا ہے اور اپنے پچھلوں کے ساتھ گفتگو بھی کرتا ہے۔ اس سلسلے میں اہلسنت کی کتابوں میں ذکر کی گئی تلقین کے ترجمہ پر اکتفا کرتے ہیں۔
صاحب کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعۃ لکھتے ہیں:مستحب ہےکہ میت کی تدفین کے بعد اور اس کی قبر کو اس کی خاک سے ہموار کرنے کے بعد مندرجہ ذیل کلمات کے ساتھ اسے تلقین دی جائے۔تلقین دینے والامیت کو اس کے اور اس کی ماں کے نام سے پکارے اور اگر ماں کا نام نہیں جانتاتو حوا کا �سے ایک آدمی میت کی بالین پر قرار پائے اور اسے اس کے اور اس کی ماں کے نام سے مخاطب کرے کیونکہ وہ سنتا ہے لیکن جواب نہیں دے پاتا، تین دفعہ اس عمل کو تکرار کرے اور پھر کہے: "اذکر ما خرجت علیہ من الدنیا شھادۃً ان لا الہ الااللہ و ان محمدا رسول اللہ و لک رضیت باللہ رباً و بالاسلام دیناً و محمدٍ نبیاً و بالقرآن اماماً"اس کے بعد فرمایا: اس موقع پہ دو سوال کرنے والے فرشتے اسے ترک کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے کہتے ہیں، جو کچھ ہمیں مطلوب تھا اسے تلقین کی گئی۔

تیسرا اصول: دنیا وآخرت کا آپسی رابطہ

اب تک کی بحث و گفتگو میں ہم نے تحقیق کر کے دو اصولوں کو ثابت کیا۔
1۔ انسان کی واقعیت اور اس کا نفس مجرد اوراس کی روح جاودان ہے۔
2۔ موت زندگی کی انتہا نہیں ہے بلکہ دوسرے عالم کیلئے روشن کی مانند ہے اور انسان مرنے کے بعد ہمیشہ کیلئے زندہ رہتا ہے۔
تیسرا اصول جس میں بحث، بہت ہی اہمیت کی حامل ہےاس دنیا اور عالم برزخ کا رابطہ ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے، کوئی تصور کرے کہ ان دو میں، کچھ موانع اور مشکلات ہیں جو انسان کو دیکھنے اور سننے سے روکتے ہیں۔
اس اصول کے اثبات کیلئے، مغرب والوں کے تجربیات اور آزمائشوں سے صرف نظر کرتے ہوئے فقط قرآن اور احادیث کی روشنی میں بحث کریں گے کیونکہ ممکن ہے یہ تجربیات اور آزمائشات قابل اعتماد نہ ہوں لہٰذا ہمارے لئے قابل اعتماد چیز خدا و اہل بیت (ع) کا کلام ہے۔
قرآنی آیات ہمارے اور اہل برزخ کے درمیان موجود رابطے کو بیان کرتی ہیں۔ ہم چند آیتوں کو ذکر کریں گے تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان دو زندگیوں میں کس قسم کا رابطہ ہے اور جو لوگ موت کے پل سے عبور کرکے اس دنیا میں پہنچ چکے ہیں، ان کا ہم سے کس قسم کاتعلق ہے؟ ( اگرچہ یہ حکم ایک کلی قانون نہ ہو پھر بھی ایک گروہ کے بارے میں قطعی اور حتمی طور پہ ثابت ہے)

1۔ صالح (ع) کا اپنی قوم کی ارواح سے کلام کرنا

بہت ساری ایسی آیات ہیں جو بیان کرتی ہیں کہ انسان کا گزشتگان کے ساتھ رابطہ برقرار ہے، ان ہی میں سے ایک آیت حضرت صالح (ع) سے مربوط ہے کہ جس میں انھوں نے ہلاک ہونے والی اپنی قوم سے گفتگو کی۔
"فعقروا الناقۃ و عتوا عن امر ربھم و قالوا یا صالح أتنابما تعدنا ان کنت من المرسلین فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جاثمین فتولیٰ عنھم و قال یا قوم لقد ابلغتکم رسالۃ ربی و نصحت لکم ولکن لا تحبون الناصحین" (اعراف:۷۷۔۷۹) انھوں نے اونٹ کو (جو صالح کا معجزہ تھا) کاٹ دیا (پے کردیا) اور خدا کے حکم سے سرپیچی کی اور کہا: اے صالح! اگر پیغمبر ہو تو جس عذاب کا ہم سے وعدہ کیا ہے لاؤ، پس ایک زلزلہ (آسمانی صیحہ اور چیخ کے اثر سے) نے انھیں گرفتار کیا اور وہ اپنے گھروں میں بے جان ہوکر مرگئے۔ اس وقت (صالح) نے ان سے دوری اختیار کی اور کہا: اے قوم! میں نے تمھیں خدا کا پیغام پہنچایا لیکن تم ناصحین کو دوست نہیں رکھتے۔
ان تین آیتوں کے مضمون پر ذرا غور کریں۔
پہلی آیت سے پتہ چلتا ہے کہ قوم صالح نے ان سے عذاب کی درخواست کی۔ دوسری آیت میں نزول عذاب اور ان کی ہلاکت کو بیان کیا گیا ہے اور تیسری آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حضرت صالح اپنی قوم کو مخاطب قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: میں نے تمہیں خدا کے پیغام اور احکام سے آگاہ کیا لیکن تم لوگوں کو نصیحت کرنے والے پسند نہیں ہیں۔
حضرت صالح کی اپنی قوم کے ساتھ ان کی ہلاکت کے بعد گفتگو کے سلسلے میں تین واضح دلیلیں ہیں:
1۔ آیتوں کا نظم اور ترتیب ( جو کہ بیان کیا گیا)
2۔ فتولیٰ کے لفظ پر حرف فاء جو ترتیب پر دلالت کرتا ہے ، ان کی نابودی کے بعد ان سے مخاطب ہوئے اور کہا
3۔ جملہ"ولکن لا تحبون الناصحین" جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ حسد، عناد اور شقاوت میں اتنا غرق ہوگئے تھے کہ مرنے کے بعد بھی ان کی یہ حالت باقی تھی اور انھیں نصیحت کرنے والے پسند نہیں تھے۔
آیات کے ظاہر سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت صالح اپنی قوم کی ارواح سے کلام کرتے ہیں، انھیں اپنامخاطب قرار دیتے ہیں اور ان کے حسد اور عناد کی جو مرنے کے بعد بھی ان کے ساتھ باقی ہے خبر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: اب بھی تم لوگ اہل نصیحت کو پسند نہیں کرتے۔
سوال: حضرت کا سوال واقعی اور جدی نہیں تھا بلکہ ان کا کلام ایک غزل گو کی مانند ہے جو معشوق کے در و دیوار کو مخاطب قرار دیتا ہے؟
جواب: اگر کوئی آیت شریفہ کے مضمون کو زبان حال پر حمل کرے اور اسے ایک غزل سے تشبیہ دے اور ان کے خطاب کو معشوق و محبوب کا خطاب قرار دے تو یہ تفسیر بہ رأی کا روشن ترین اور بارزترین مصداق اور نمونہ ہوگا اور ایک طرح کی قبل از وقت قضاوت ہوگی جو غلط اور نامناسب ہے کیونکہ تفسیر بہ رأی کی حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان پہلے سے ایک عقیدہ اتخاذ کرے اور پھر اس کے دفاع میں آیت کے ظاہر کی تاویل کرے اور اسے اپنی مرضی اور عقیدے کے مطابق معنی کرے اور چونکہ سوال کرنے والا اس دنیا اور عالم برزخ کے درمیان موجود ارتباط کی پہلے سے نفی کرتا ہے اس لئے اس طرح کی تفسیر کرتا ہے۔ پیغمبر اسلام (ص) نے ایسے گروہ کے بارے میں فرمایا ہے:"من فسر القرآن برأیہ فلیتبوأمقعدہ من النار"یعنی اگر کوئی قرآن کی اپنی رأے سے تفسیر کرے ( تفسیر بہ راے انجام دے) اس کی جگہ جہنم میں ہے۔
سوال: حضرت صالح اپنی قوم میں اس گروہ سے خطاب کرتے ہیں جو بچ گئےتھے اور ان پر ایمان لا چکے تھے؟
جواب: اس قسم کا احتمال بہت ہی ضعیف بللکہ بے بنیاد ہے کیونکہ اگر ان کے مخاطب ان کی قوم کے باایمان افراد ہوتے تو آیت میں کیوں ذکر ہوا" ولکن لا تحبون الناصحین"تم لوگ اہل نصیحت کو پسند نہیں کرتے"

2۔ حضرت شعیب (ع) کی اپنی قوم سے گفتگو

"فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جاثمین الذین کذبو ا شعیباً کان لم یغنوا فیھا الذین کذبوا شعیباً کانوا ھم الخاسرین فتولیٰ عنھم و قال یا قوم لقد ابلغتکم رسالات ربی و نصحت لکم فکیف اٰسیٰ علی قوم کافرین" (اعراف: ۹۱۔۹۳) زلزلے نے انھیں گرفتار کیا اور وہ لوگ گھروں میں فنا ہوگئے۔ وہ لوگ کہ جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا گویا کہ اس شہر میں نہیں تھے، وہ لوگ کہ جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا سخت خسارے میں تھے، اس (شعیب) نے ان سے منہ موڑا اور کہا: اے میری قوم! میں نے خدا کا پیغام تم تک پہنچایا اور تمھیں نصیحت کی، میں کیسے ان لوگوں پر جو کافر ہیں افسوس کروں؟
آیات سے استدلال کرنے کا طریقہ وہی ہے جو حضرت صالح (ع) سے مربوط آیات میں بیان کیا گیا۔

3۔ پیغمبر اسلام (ص) کی انبیاء کرام (ع) کی ارواح سے گفتگو

''وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا أجعلنا من دون الرحمٰن اٰلھۃ یُعبدون" (زخرف: ۴۵) اپنے سے پہلے نبیوں سے پوچھو، کیا تم نے خدائے رحمان کے بغیر اور خدا قرار دیے تا کہ ان کی عبادت کریں؟
ظاہر آیت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر (ص) گزشتہ انبیاء کے ساتھ جو دوسرے عالم میں ہیں رابطہ برقرار کرسکتے ہیں، ان سے سوال کرسکتے ہیں، پوچھ سکتے ہیں اور جب تک ہمیں عقلی دلیل اس سے منع نہ کرے، ہمیں کوئی حق نہیں ہے کہ ہم آیت کے ظاہر کو قبول نہ کریں اور اسے ترک کردیں۔
سوال: یہاں پر مراد یہود و نصاریٰ کے علماء ہیں نہ کہ انبیاء سے جیسا کہ دوسری آیت میں بیان فرماتا ہے: "فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فاسئل الذین یقرؤن الکتاب من قبلک لقد جاء ک الحق من ربک" (یونس: اگر جو چیز ہم نے تمھاری طرف بھیجی (نازل کی) میں تجھے شک ہے ہو تو ان لوگوں سے پوچھو کہ جن کی طرف تم سے پہلے کتاب بھیجی اور وہ اسے پڑھتے ہیں، بے شک تم پر حق تمہارے پروردگار کی جانب سے نازل ہوا ہے"
جواب: یہ احتمال بہت ہی ضعیف ہے کیونکہ :
1۔ایک آیت کی دوسری آیت کے ذریعہ تفسیرکرنا اس وقت صحیح ہے جب وہ آیت مبہم اور نامفہوم ہو لیکن اگر مورد نظر آیت میں کسی قسم کا ابھام نہ ہو تو صحیح نہیں ہے کہ ظاہر آیت کو ترک کردیں اور اس کی تاویل کریں اور کہیں، مراد یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کے علماء سے سوال کرو نہ کہ گزشتہ انبیاء سے۔ کیونکہ اس میں کسی قسم کا تعارض نہیں ہے کہ پیغمبر دونوں گروہوں سے سوال کریں خاص کر یہ دو راستے دو گروہوں کیلئے قرار پائیں اس طرح سے کہ گزشتہ انبیاء سے پیغمبر اسلام (ص) سوال کریں اور علماء یہود و نصاریٰ سے امت مسلمہ سوال کرے، اور اس آیت میں مخاطب پیغمبر (ص) ہیں لیکن ہدف یہ ہو کہ امت کو دعوت دی جائے کہ علمائے اہل کتاب سے پوچھو۔
اس بات کی دلیل کہ خداوند متعال نے ان دو آیتوں میں دو راہیں قرار دی ہیں، ایک اور آیت ہے کہ جس میں تیسری راہ کی نشان دہی کی گئی ہے، خدا وند متعال فرماتا ہے:"ولقد اتینا موسیٰ تسع آیاتٍ بیناتٍ فاسئل بنی اسرائیل اذجاء ھم فقال لہ فرعون انی لاظنک یٰموسیٰ مسحوراً" (اسراء:۱۰۱) ہم نے موسی کو نو معجزے دیے، بنی اسرائیل سے پوچھو کہ جب موسی ان کی طرف واپس پلٹےتو فرعون نے ان سے کہا: میں گمان کرتا ہوں کہ تم سحر زدہ ہوگئے ہو۔
اس آیت میں خود بنی اسرائیل سےکلام کرنے کو کہا گیا ہے نہ کہ علما یہود سے اور ہم بلا سبب ہر گز اس آیت کی تاویل نہیں کرسکتے۔
2۔ پہلی آیت میں سوال، تمام انبیاء ما سبق سے مقصود ہے جیسے نوح، (ع) ابراہیم وغیرہ جبکہ دوسری آیت میں اہل کتاب کے دانشور مراد ہیں جو اپنی کتاب (عہدین) کی طرف رجوع کر کے جواب دے سکتے ہیں اور تمام انبیاء بھی حکم پروردگار کے مطابق امانت الٰہی کو ہمارے پیغمبر (ص) کے سپرد کردیں۔ اس صورت میں ضروری نہیں ہے کہ ہم پہلی آیت کے وسیع دائرے اور مفہوم کو علماء اہل کتاب میں منحصر کردیں۔
3۔ مورد بحث آیت شریفہ سورہ زخرف میں ہے اور مفسرین متفق القول ہیں کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ہے ( جیسا کہ اس کے مضمون سے بھی پتہ چلتا ہے) ، اہل کتاب کے علماء یا ان پہ ایمان رکھنے والا خاص گروہ موجود نہیں تھا کہ جس کی طرف پیغمبر (ص) وجوع کرتے اور اس سے سوال پوچھتے۔

احادیث میں برزخی حیات

قرآن کی رو سے ہماری بحث ختم ہوگئی۔ اسلامی روایات میں بھی یہ موضوع وسیع طور پہ ذکر ہوا ہے جسے ہم بطور اختصار بیان کریں گے۔

1۔ پیغمبراسلام (ص) کی جنگ بدر میں مرنے والوں سے گفتگو

جب جنگ بدر ختم ہوگئی اور مشرکین کے ۷۰ لوگ مارے گئے اور ۷۰ اسیر ہوگئے جس کی بنا پر باقی مشرکین میدان جنگ سے فرار کرگئے۔ پیغمبر اسلام (ص) نے حکم دیا، ان کے لاشے اجتماعی طور پر ایک کنویں میں ڈالے جائیں۔ جب ان کے اجساد کنویں میں ڈالے گئے تو پیغمبر اسلام (ص) نے ایک ایک کو آوازدی اور فرمایا: اے عتبہ! اے شیبہ! اے امیہ! اےابو جہل!۔۔۔ جو کچھ خدا نے تم سے وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اس وعدہ حق کو پالیا ؟مجھ سے میرے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا، میں نے اس حق و حقیقت کو پایا۔ اس موقع پر مسلمانوں کے ایک گروہ نے پیغمبر (ص) سے پوچھا: آیا آپ ان لوگوں کو پکارتے ہیں جو مرگئے ہیں؟ پیغمبر (ص) نے فرمایا: تم ان سے سننے میں زیادہ قوی نہیں ہو لیکن ان میں جواب دینے کی قدرت نہیں ہے۔
ابن ہشام کہتا ہے: اس وقت پیغمبر اسلام (ص) نے کفار قریش کے مُردوں کو مخاطب قرار دیا اور فرمایا: اپنے پیغمبر کیلئے تم کتنے برے رشتہ دار تھے؟ تم نے مجھے جھٹلایا جب کہ دوسروں نے میری تصدیق کی، تم نے مجھے میری زادگاہ سے باہر کردیا جب کہ دوسروں نے مجھے پناہ دی، تم مجھ سے جنگ کرنے کیلئے جمع ہوگئے جب کہ دوسروں نے میری مدد کی، کیا تم نے خدا کے دیئے ہوئے وعدے کو حق پایا؟
واقعہ بدر کو شعراء نے اپنے کلام میں پیش کرکے اسے ایک جاودانی رنگ عطا کردیا ہے اور شیعہ وسنی، تاریخ وحدیث سب نے پیغمبر اسلام (ص) کے اس واقعہ یعنی کفار قریش کے جنگ بدر کے مقتولین سے کلام کرنے کا واقعہ نقل کیا ہے حتی شعراء زمان نے بھی اپنے کلام میں اس کا ذکر کیا ہے۔
حسان بن ثابت جو کہ پیغمبر اسلام (ص) کا مشہور صحابی اور ان کے دور کا بہترین شاعر تھے اپنے شاعری کے کلام میں حقائق کو بیان کرکے مسلمانوں کی مدد کرتے تھے۔ خوش قسمتی سے ان کے اشعار کا دیوان چھپ بھی چکا ہے، اس میں واقعہ بدر اور خاص کر اس ماجرے کے سلسلے میں قصیدہ تحریر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ینادیھم رسول اللہ لما
قذفناھم کباکب فی القلیب
الم تجدوا کلامی کان حقاً؟
وامراللہ یاخذ بالقلوب
فما نطقوا ولو نطقوا لقالوا
صدقت وکنت ذا رأی مصیب 4

یعنی جب ان (مقتولین) کو اجتماعی طور پر کنویں میں ہم نے ڈالا تو پیغمبر (ص) نے ان سےفرمایا: کیا میرے کلام کو مطابق حق نہیں پایا اور خدا کا فرمان دلوں کو لے لیتا ہے۔ انھوں نے کلام نہیں کیا لیکن اگر کرتے بھی تو یہی کہتے: اے رسول خدا آپ سچ کہتے ہیں اور آپ کی رائے صائب اور صحیح تھی۔
اس کے علاوہ کوئی بھی جملہ اس سے زیادہ صریح اور واضح نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (ص) نے فرمایا: وہ تم سے زیادہ اور بہتر سن سکتے ہیں لیکن انھیں جواب دینے کی طاقت نہیں ہے۔ "ماانتم باسمع منھم" اور اس کے علاوہ کوئی بیان اس سے زیادہ گویا بھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (ص) نے ان سب کو اپنے ان کے نام سے پکارا اور ان سے اس طرح بات کی گویا کہ صاحب حیات اور زندہ ہیں۔
کسی بھی مسلمان کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس مسلم تاریخی واقعہ کا اپنی غلط رائے گیری کے سبب سے انکار کرے اور کہے چونکہ یہ امر میری مادی اور ناقص عقل کے ساتھ ناسازگار ہے لہٰذا صحیح نہیں ہے۔ یہاں ہم اس کلام کااصلی متن (عربی زبان میں) ذکر کریں گے تاکہ عربی زبان جاننے والے دیکھیں، پیغمبر اسلام (ص) کا کلام کس قدر واضح اور روشن ہے۔
"فلما القاھم فی القلیب وقف علیھم رسول اللہ فقال: یا اھل قلیب ھل وجدتم ماوعدکم ربکم حقاً فانی وجدت ما وعدنی ربی حقاً فقال لہ اصحابہ یا رسول اللہ اتکلم قوماً موتیٰ؟ فقال لھم: لقد علموا ان ما وعدھم ربھم حقاً۔۔۔ 5

2۔ تلقین

تلقین کی رسم کہ جس کے بارے میں پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں، مرنے کے بعد دائمی اور جاودانی حیات کے علاوہ ہمارے اور مرے ہوئے لوگوں کے درمیان رابطہ کی ایک نشانی بھی ہے اور دلیل بھی اور یہ رابطہ اس قدر واضح ہے کہ بخاری، انس بن مالک سے اور وہ پیغمبر (ص) سے حدیث نقل کرتا ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو وہ تشییع کرنے والوں کے پاؤں کی آواز بھی سنتا ہے ۔ 6
ابو بکر اور علی ابن ابی طالب (ع) کی پیغمبر اسلام (ص) کے ساتھ گفتگو بھی اس رابطہ کیلئے بہترین مؤید ہے اور یہ گفتگو دنیا و آخرت کے رابطے کو واضح طور پہ بیان کرتی ہے۔
ابن ہشام اپنی کتاب"سیرہ" میں لکھتے ہیں: جس دن پیغمبر (ص) رحلت فرماگئے، ابو بکر پیغمبر (ص) کی بالین پہ حاضر ہوئے، پیغمبر (ص) کے روئے مبارک سے کپڑاہٹایا اور بوسہ دیتے ہوئے کہا: ''بابی انت و امی اما الموتۃ التی کتب اللہ علیک فقدذقتھا ثم لن یصیبک بعد ھا موتۃً ابداً" یعنی میرے ماں باپ آپ پر فدا، یہ موت کہ جسے خدا نے آپ کیلئے مقدر کیا تھا، کا آپ نے مزہ چکھا، اب اس کے بعد آپ ہر گز موت نہیں دیکھو گے، پھر دوبارہ ان کے چہرے پہ کپڑا ڈال دیا۔
حضرت امیر المومنین علی (ع) جب پیغمبر (ص) کو غسل دے رہے تھے تو انھیں مخاطب کرکے فرمایا: "میرے ماں باپ آپ پہ فدا! آپ کی رحلت سے نبوت کا سلسلہ اور وحی الہٰی اور آسمانی خبریں قطع ہوگئیں جو کسی کے مرنے سے قطع نہیں ہوتیں۔اگر یہ صبر اور شکیبائی نہ ہوتی کہ جس کی طرف آپ نے ہمیں سختیوں کے مقابلے میں دعوت دی ہے تو آپ کے فراق میں اس قدر آنسو بہاتا کہ آنسوؤں کےسرچشمہ کو خشک کردیتا، لیکن ہمارا غم و اندوہ، اس راہ میں باقی اور دائمی ہے اور یہ آپ کی راہ میں بہت کم ہے اور اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اس عالم میں ہمیں یاد کرنا اور ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا" 7
اس جملے سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ امام (ع) فرماتے ہیں: "اذکر عند ربک واجعلنا من بالک" ہمیں اپنے پروردگار کے پاس یاد کرو اور اپنی یاد میں باقی رکھو" یہ حدیثیں اور اس طرح کی دسیوں مثالیں واضح طور پہ گواہی دیتی ہیں کہ انسان کا اس عالم (عالم برزخ سے رابطہ باقی اور برقرار ہے)

فقہاء اور محدثین کے کلمات کی روشنی میں برزخی حیات

برزخی حیات تمام مسلمانوں کا اعتقادی اصول ہے اور سب اسے مانتے ہیں اور اسلام کی تمام بڑی ہستیوں نے اپنے عقائدی رسالوں میں اسلامی عقائد کو بیان کرتے وقت اسے مسلمات کا جزء قرار دیا ہے۔ اہل سنت کے بعض علماء کے نظریات مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ احمد بن حنبل متوفی ۲۴۱ھ لکھتے ہیں: "عذاب قبر حق ہے اور میت سے اس کے خدا اور دین کے بارے میں سوال ہوتا ہے اور میت جنت یا جہنم میں اپنا مقام دیکھتی ہے جس طرح سے دو فرشتوں کا اس سے قبر میں سوال کرنا حقیقت ہے" 8
2۔ ابو جعفر طحاوی متوفی۳۲۱ھ لکھتے ہیں: "ہم عذاب قبر کے بارے میں جو اس کا حقدار ہو ایمان رکھتے ہیں، اسی طرح کہ جس طرح سے دو فرشتوں کے ذریعہ خدا،دین اور پیغمبر کے بارے میں میت سے سوال کے بارے میں معتقد ہیں جیسا کہ احادیث نبوی میں وارد ہوا ہے" 9
3۔ ابو الحسن اشعری متوفی ۳۲۴۔۳۶۰ھ اپنے رسالہ میں لکھتے ہیں: "ہم عذاب قبر، حوض کوثر، میزان، صراط اور مردوں کے دوبارہ مبعوث ہونے کے معتقد ہیں" 10
4۔ بزدوی متوفی ۳۳۱ لکھتے ہیں: "قبر میں دو فرشتوں کا سوال کرنا، اہل سنت کے نزدیک حق ہے اور مومن مسلمان ان کا جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے" 11
5۔ امام رازی آیت "ویستبشرون بالذی لم یلحقوا بھم" کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "یہ آیت قیامت میں پہلے انسانوں کی برزخی حیات پر گواہ ہے جیسا کہ پیغمبر (ص) کی گفتار سے ملتا ہے: قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے کنوؤں میں سے ایک کنواں ہے اور یہ اس حقیقت پر دوسرا گواہ ہے"پھر لکھتے ہیں:"قبر میں عذاب وثواب کی احادیث تواتر کے قریب ہیں" 12
6۔ ابن تیمیہ متوفی ۷۴۶ھ کا قول ہے: "سوال وجواب کے وقت، بدن میں روح کے واپس آنے کے بارے میں صحیح اور متواتر احادیث واردہوئی ہیں" 13
7۔ تفتازانی متوفی ۷۹۱ درج ذیل آیات کو برزخی حیات کے سلسلے میں دلیل قرار دیتے ہیں:
الف) النار یعرضون علیھا غدواً و عشیاً (غافر:۴۶) آل فرعون قیامت سے پہلے ہر روز صبح اور شام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
ب) اغرقوا فادخلوا ناراً (نوح: ۲۵) قوم نوح سزا کے طور پر پہلے غرق ہوئے اور پھر آگ میں ڈالے گئے۔
ج) قالواربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین (غافر: ۱۱) انھوں نے کہا: خدایا ہمیں دوبار زندہ کیا اور دوبار موت دی۔
پہلی حیات موت کے بعد عالم برزخ کی زندگی ہے اور دوسری حیات نفخ صور (صور پھونکے جانے) کے وقت ہے۔ یعنی تمام برزخی قیامت سے پہلے مریں گے اور پھر نفخ صور سے دوبارہ مبعوث کئے جائیں گے۔
ہم نے اہل سنت کے علماء کے کلام کو یہاں پہ نقل کیا اور چونکہ شیعہ برزخی حیات کے معتقد ہیں اور ان کے یہاں یہ حیات مسلم ہے اور اس سلسلے میں شیخ مفید اور شیخ صدوق جیسے بزرگوں نے کتابیں بھی تالیف کررکھی ہیں اور اس مسئلے کو مذہب تشیع کا جزو قرار دیا ہے، اس لئے محققین خود ہی ان کی کتابوں کو ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ 14

منبع: گروہ ترجمہ سایٹ صادقین


1. اشارات بوعلی سینا: ۲،ص۲۹۲۔۲۹۳؛شفاء: بخش طبیعیات: ۲۸۲
2. ابن سعد، طبقات: ج۲، ص۲۰۴؛ ابن ہشام، سیرہ: ج۳، ص۶۴۳؛ مفید، ارشاد: ص۹۵
3. الفقہ علی المذاھب الاربعۃ،ج۱، ص۳۸۷: (صرف مالکی فرقہ تلقین کو مکروہ سمجھتا ہے
4. دیوان حسان:۱۲۔۱۳
5. صحیح بخاری:ج۵، ص۹۷۔۹۸؛ صحیح مسلم:ج۴، کتاب جنت، ص۷۱
6. صحیح بخاری: ج۲، ص۹۰
7. نہج البلاغہ: خطبہ۲۳۰
8. احمد بن حنبل،السنۃ: ص۵۰
9. شرح العقیدۃ الطحاویۃ: قسمت متن۳۹۶
10. الانابۃ: اصل۲۶
11. اصول دین، ص۱۶۵، مسئلہ۴۸
12. تفسیر فخر رازی:ج۴، ص۱۴۶۔ ۱۴۹
13. ابن قیم الجوزیہ: الروح، ص۵۰
14. شرح عقائد صدوق:ص۴۴؛ اوائل المقالات: ص۴۹





تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
7+9 =