پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

بخشش و مغفرت خداوند عالم کا حق ھے لہٰذا دینی رھبروں سے شفاعت کی درخواست پر کیا دلیل ھے؟


شفاعت اُن اصول میں سے ھے جن کے سلسلہ میں قرآن اور احادیث میں تاکید اور وضاحت کی گئی ھے اور اسلامی تمام ھی فرقے اس کو ایک مسلّم قانون کے عنوان سے قبول کرتے ھیں، اولیائے الٰھی سے شفاعت کی حقیقت یہ ھے کہ یہ حضرات خدا کے نزدیک عظمت و منزلت کے پیش نظر خدا سے یہ چاھیں کہ خاص شرائط کے تحت گناھگاروں کے گناھوں سے در گزر فرمائے۔
اولیائے الٰھی تمام گناھگاروں کی شفاعت نھیں کریں گے بلکہ صرف ان لوگوں کی شفاعت کریں گے جن کا خدا سے ایمانی رشتہ نہ ٹوٹا ھو اور شافعین سے روحانی رابطہ محفوظ ھو، دوسرے الفاظ میں یوں کھیں: انسان معنوی کمال کے لحاظ سے اس قدر پستی میں غرق نہ ھوجائے کہ تکامل و ترقی کی طاقت کھوبیٹھے اور ایک پاک انسان میں تبدیل ھونے کی صلاحیت ختم کر بیٹھے۔
مسلمانوں کے درمیان شفاعت کا عقیدہ اتنا راسخ ھے کہ جس عالم اور دانشور یا ایک عام انسان سے سوال کریں تو اس کو اسلامی عقائد میں شمار کرے گا، اور ھمیشہ اپنی دعاؤں میں حقیقی شافعین کی شفاعت کا ذکر کرتا ھے، اور کم سے کم اتنا تو سبھی کھتے ھیں: ”پالنے والے! پیغمبر اکرم (ص) کو ھمارا شفیع قرار دے اور آنحضرت (ص) کی شفاعت کو ھمارے حق میں قبول فرما۔

شافعین کے ذریعہ فیوض الٰھی کا پہنچنا

خلقت کا نظام علت اور معلول کے نظام پر قائم ھے، انسان کی مادی ضرورتیں طبیعی اسباب و علل کے ذریعہ (البتہ خدا کی اجازت سے) پوری ھوتی ھیں، اسی طرح معنوی فیض بھی ھے جو مذکورہ قانون سے الگ نھیں ھے، لہٰذا ہدایت، راہنمائی، بخشش اور مغفرت جو کہ فیض الٰھی ھے اسی قانون کے تحت ھیں۔
مثال کے طور پر خداوندعالم کا حکیمانہ ارادہ یہ ھو کہ اس دنیا میں ہدایت انبیاء علیھم السلام کے ذریعہ بندوں تک پہنچے، کیونکہ انبیاء علیھم السلام کے علاوہ خداوندعالم کے براہ راست خطاب کی شائستگی کوئی نھیں رکھتا۔
اس لحاظ سے کوئی ممانعت نھیں ھے کہ عالم آخرت میں خداوندعالم کی رحمت و مغفرت بھی اسی نظام کے تحت، یعنی خدا کی رحمت و بخشش پاک ارواح کے ذریعہ ھم گناھگاروں کے شامل حال ھو، جن میں خدا کی مغفرت کی لیاقت پائی جاتی ھو، جس طرح اس دنیا میں فیض الٰھی (یعنی ہدایت و راہنمائی) انبیاء علیھم السلام کے ذریعہ ھم تک پہنچتی ھے۔
اگرچہ یہ صحیح ھے کہ خدا کا یہ فیض و کرم براہ راست اور بلا کسی واسطہ کے بھی گناھگاروں تک پہنچ سکتا ھے لیکن خداوندعالم کی حکیمانہ مشیت نے یہ چاھا کہ اس کا معنوی فیض اُس عالم میں بھی اس دنیا کی طرح خاص اسباب و علل کے ذریعہ لوگوں تک پھونچے، لیکن کیوں؟
کیونکہ اولیائے الٰھی، نیک اور صالح بندے، ملائکہ اور حاملان عرش جنھوں نے اپنی عمر اطاعت خدا میں گزاری اور خدا کے حدود سے ایک قدم بھی باھر نہ نکالا، ان حضرات کا اکرام و احترام ھونا چاہئے اور ان کے احترام کی ایک نشانی خاص شرائط کے تحت گناھگاروں کی بخشش کی دعا ھے۔
اولیائے الٰھی کی شفاعت بلاوجہ اور بلا شرط نھیں ھے اور ھرگز یہ حضرات ذاتی طور پر شفاعت کے مالک نھیں ھیں، روز قیامت زمام حکومت خدا کے دست قدرت میں ھوگی، ھم ھمیشہ اسی کو ”مالک یوم الدین“ کھتے ھیں لیکن مالک مطلق ھونے کے باوجود صاحب منزلت و عظمت اولیاء کو اجازت دے گا کہ گناھگاروں کی شفاعت کریں۔

شفاعت ایک قسم کی تطھیر اور پاکیزگی ھے

قرآن مجید کی رو سے موت زندگی کا خاتمہ نھیں ھے بلکہ ایک دوسرے عالم کی طرف راستہ ھے جس کا نام برزخ ھے، وھاں کی زندگی اس دنیاوی زندگی سے مکمل طور جدا ھے، وھاں ایک گروہ کو عذاب ھوگا اور د وسرا گروہ نعمت و آرام میں ھوگا۔
گناھگاروں کا وہ گروہ جس نے خدا سے ایمانی رابطہ کو ختم نہ کیا، اور اس کی بارگاہ کے شافعین سے معنوی رابطہ برقرار رکھا ھو، عالم برزخ میں ایک حد تک عذاب میں مبتلا ھوں گے اور یھی عذاب گناھگاروں کے بعض بُرے آثار کو ختم کردے گا، یہ لوگ جس وقت قیامت میں قدم رکھیں گے، عالم برزخ میں نسبی طھارت کی وجہ سے عالم آخرت میں خدا کی بخشش و مغفرت کی مزید لیاقت حاصل کرلیں گے، در حقیقت شافعین کی شفاعت گناھوں کے تمام بُرے آثار کو ختم کردے گی اور روح کے آئینہ کوگناھوں کے زنگ سے بالکل صاف کردی گی۔

شفاعت اور دنیاوی سفارش میں فرق

بعض لوگ کچھ جاھل افراد کے غلط پروپیگنڈوں سے متاثر ھوکر یہ تصور کرتے ھیں کہ اولیائے الٰھی کی شفاعت بھی دنیاوی سفارش کی طرح ھے اور آج کل کے الفاظ میں ایک طرح کی ”قبیلہ پرستی“ ھے اور بعض لوگوں کے لئے قانون شکنی ھے، لہٰذا ذہنوں سے اس غلط فھمی کو دور کرنے کے لئے دونوں شفاعت کے فرق کو تین طریقوں سے واضح کرتے ھیں:

1۔ عالم آخرت میں شفاعت کا مسئلہ خدا کے دست قدرت میں ھوگا اور اسی کی وجہ سے شفاعت کی جائے گی، خدا کی ذات شفیع کو تحریک کرے گی اور اس کی عظمت و کمال کی وجہ سے حق شفاعت عطا ھوگا، اپنی رحمت و مغفرت کو شفیع کے ذریعہ بندوں تک پہنچانا مقصد ھوگا۔ لیکن دنیاوی شفاعتوں اور سفارشوں کا مسئلہ بالکل برعکس ھے کیونکہ خود مجرم ھی شفیع کو تحریک کرتا ھے ا ور اگر مجرم کی طرف سے تحریک نہ ھو تو وہ ھرگز شفاعت کرنے کے لئے نہ سوچے، اگر قرآن مجید حکم دیتا ھے کہ اس دنیا میں گناھگاروں کا ایک گروہ پیغمبر اکرم (ص) کے حضور میں پہنچے اور آپ سے دعا اور بخشش طلب کرے 1 تو یہ کام بھی براہ راست خداوندعالم سے شروع ھوتا ھے کیونکہ وھی گناھگاروں کو حکم دیتا ھے کہ اس طرح پیغمبر اکرم (ص) کے پاس جائیں اور مغفرت کی دعا کی درخواست کریں، اگر اس کا حکم نہ ھوتا تو قطعاً پیغمبر کی خدمت میں نہ جاتے اور اگر جاتے بھی تو خدا کی اجازت اور اس کے حکم کے بغیر اس کا کوئی اثر نہ ھوتا۔

2۔ صحیح شفاعتوں میں شفیع مقام ربوبیت کے تحت تاثیر قرار پاتا ھے لیکن غلط شفاعتوں اور سفارشوں میں صاحب قدرت شفیع کی باتوں سے متاٴثر ھوتا ھے اور خود شفیع مجرم کے اصرار اور اس کی گفتگو کے تحت تاثیر قرار پاتا ھے۔

3۔ دنیاوی شفاعتوں میں قانون کو بعض لوگوں کے حق میں جاری کیا جاتا ھے اور شفیع کا اثر و رسوخ قانون گزار یا قانون نافذ کرنے والے پر غلبہ کرلیتا ھے، آخر کار صاحب قدرت صرف کمزور اور ناتواں لوگوں پر قدرت کا اثر دکھاتا ھے جبکہ اُخروی شفاعت میں کوئی اپنی قدرت کا خداوندعالم پر دباؤ نھیں ڈال سکتا، اور قانون نافذ ھونے سے نھیں روک سکتا، شفاعت ؛ خداوندرحمن کی لامحدود اور وسیع رحمت و مغفرت کا نام ھے جس کا سرچشمہ اسی کی ذات ھے جس کے ذریعہ پاک ھونے کی صلاحیت رکھنے والوں کو پاک کرنا چاھتی ھے۔
بھت سے لوگ شفاعت سے محروم ھوجائیں گے، نہ اس وجہ سے کہ خدا کا قانون بعض لوگوں کے لئے ھے، بلکہ ان میں خدا کی وسیع رحمت و مغفرت حاصل کرنے کی صلاحیت نہ ھوگی، اس لحاظ سے وہ اس حالت پر باقی رھیں گے اور اصطلاح کے مطابق رحمت خدا کسی تاجر کا گاؤ صندوق یا کوئی بینک نھیں ھے جس کی پونجی ختم ھوجائے گی بلکہ مدّمقابل میں لیاقت ا ور صلاحیت ھونا چاہئے تاکہ رحمت خدا کو حاصل کرسکے۔
اگر خداوندعالم فرماتا ھے:
((إِنَّ اللّٰہ لا یغفر اٴَن یشرک بہ)) 2
”بے شک خداوندعالم اپنے ساتھ شرک کو معاف نھیں کرے گا“۔
اس کی وجہ یہ ھے کہ مشرک کا دل ایسا ظرف ھوتا ھے جس کا منھ بند ھے کہ اگر سات سمندروں میں ڈالا جائے تو اس کے اندر ایک قطرہ بھی نہ جائے گا، یا اس بنجر زمین کی طرح ھے جس پر کتنی ھی بارش ھوجائے تو بھی خس و خار کے علاوہ کچھ نھیں اُگے گا۔
اگر قرآن مجید میں اس بات کی تاکید ھوئی ھے کہ اولیائے الٰھی کی شفاعت انھیں لوگوں کو نصیب ھوگی جن سے خدا راضی ھو، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
((وَلاٰ یَشْفَعُونَ إِلّا لِمَنِ ارتَضیٰ)) 3
”اور (فرشتے)کسی کی سفارش بھی نھیں کر سکتے مگریہ کہ خدا اس کو پسند کرے“۔
اس کی وجہ یہ ھے کہ وہ جانتا ھے کہ معنوی فیض اور وسیع رحمت حاصل کرنے کی لیاقت کون رکھتا ھے اور کون نھیں رکھتا، جیسا کہ مشھور و معروف شاعر جناب سعدی کھتے ھیں:

گر خواجہ شفاعت نکند روز قیامت باید کہ زمشاطہ نرنجیم کہ زشتیم”اگر روز قیامت شافع ھماری شفاعت نہ کریں تو ھمیں ان سے شکوہ نھیں کرنا چاہئے کیونکہ ھم خود برے ھیں“۔
ایسا نھیں ھے کہ صرف مشرکین ھی شفاعت سے محروم رھیں گے بلکہ ایسے لوگ بھی جنھوں نے گناھوں کی زیادتی کی وجہ سے رحمت و مغفرت خدا کی صلاحیت ختم کرڈالی ھو شافعین کی شفاعت کے ذریعہ لطف الٰھی سے محروم رہ جائیں گے۔

شفاعت پر قرآنی دلائل

حقیقی شافعین کی شفاعت کے سلسلہ میں بھت زیادہ آیات ھیں جن سب کو بیان نھیں کیا جاسکتا، قارئین کرام! جن آیات کو آپ حضرات کے سامنے پیش کیا جائے گا ان میں شفاعت کے مسئلہ کو واضح طور پر خاص شرائط کے تحت (جن میں سے ایک اھم مسئلہ اذن الٰھی ھے) ایک مسلّم عنوان سے بیان کیا ھے، اگرچہ شافعین کا نام اور خصوصیات بیان نھیں ھوئے ھیں بلکہ صرف شافعین کے صفات اور شرائط بیان کئے گئے ھیں۔
اب ھم یھاں پر پانچ آیات بیان کرتے ھیں، جن کے پیش نظر دو چیزیں ثابت ھوتی ھیں:
الف۔ روز قیامت ”شفاعت“ ایک قرآنی حقیقت ھے۔
ب۔ بعض خاص صفات رکھنے والے حضرات شفاعت کا حق رکھتے ھیں۔
قرآنی آیات:

1۔ ((مَنْ ذَا الَّذِی یَشْفَعُ عِنْدَہُ إِلاَّ بِإِذْنِہِ )) 4
”کون ھے جو اس کی بارگاہ میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے“۔
اس آیت کا ظاھر اس بات کو ثابت کرتا ھے کہ کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر شفاعت نھیں کرسکتا، لیکن اس آیت میں ایک اشارہ یہ بھی پایا جاتا ھے کہ روز قیامت بعض شافعین خدا کی اجازت سے شفاعت کریں گے۔

2۔ ((مٰا مِنْ شَفیعٍ إِلاٰمِنْ بَعْدِ إِذْنِہِ)) 5
”کوئی (بھی) اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کرنے والا نھیں ھے“۔

3۔ ((لاَیَمْلِکُونَ الشَّفَاعَةَ إِلاَّ مَنْ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَانِ عَہْدًا )) 6
” اس وقت کوئی شفاعت کا صاحب اختیارنہ ھوگا مگروہ جس نے رحمن کی بارگاہ میں شفاعت کا عہد لے لیا ھے“۔
یعنی صرف وھی حضرات شفاعت کریں گے جن کو خداوندعالم نے شفاعت کا وعدہ دیا ھو اور خدا سے ایسا عہد کیا ھو اور خدا نے ان کے باطل خداؤں کے درمیان صرف ان حضرات کو شفاعت کا وعدہ دیا ھے جنھوں نے خدا کی وحدانیت اور اس کی عبودیت کی گواھی دی ھو، جیسا کہ حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے میں ارشاد ھوتا ھے جن کو عیسائی معبود مانتے ھیں:

4۔ (( یَوْمَئِذٍ لاَتَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلاَّ مَنْ اٴَذِنَ لَہُ الرَّحْمَانُ وَرَضِیَ لَہُ قَوْلاً )) 7
”اس دن کسی کی سفارش کام نہ آئے گی سوائے ان کے جنھیں خدانے اجازت دیدی ھواور وہ ان کی بات سے راضی ھو “۔

5۔ (( وَلاَتَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَہُ إِلاَّ لِمَنْ اٴَذِنَ لَہُ )) 8
”اور اس کے یھاں کسی کی سفارش بھی کام آنے والی نھیں ھے مگروہ جس کوخود اجازت دیدے“۔

1۔ شفاعت اور فرشتے

گزشتہ آیات میں حقیقی شافعین کا نام نھیں آیا ھے صرف خصوصیات بیان ھوئی ھیں، لیکن بعض آیات میں شافعین کا نام بھی بیان ھوا ھے، جیسا کہ ارشاد خداوندی ھے:
(( وَکَمْ مِنْ مَلَکٍ فِی السَّمَاوَاتِ لاَتُغْنِی شَفَاعَتُہُمْ شَیْئًا إِلاَّ مِنْ بَعْدِ اٴَنْ یَاٴْذَنَ اللهُ لِمَنْ یَشَاءُ وَیَرْضَی )) 9
”اور آسمانوں میں کتنے ھی فرشتے ھیں جن کی سفارش کسی کے کام نھیں آسکتی جب تک خدا (جس کے بارے میں چاھے اور اسے پسندکرے) اجازت نہ دیدے“۔
اس آیہٴ شریفہ میں آسمانی فرشتے خاص شرائط کے تحت حقیقی شفاعت کرنے والوں کے عنوان سے یاد کئے گئے ھیں۔

2۔ شفاعت اور صاحب مقام محمود

قرآن کریم نے پیغمبر اکرم (ص) کو صاحب ”مقام محمود“ کے عنوان سے یاد کیا ھے جس کو اسلامی روایات میں ”مقام شفاعت“ سے تفسیر کیا گیا ھے، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ھوتا ھے:
((وَمِنْ اللَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہِ نَافِلَةً لَکَ عَسَی اٴَنْ یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَحْمُودًا ))10
”اوررات کے ایک حصہ میں قرآن کے ساتھ بیدار رھیں یہ آپ کے لئے اضافہٴ خیرھے عنقریب آپ کاپروردگار اس طرح آپ کو مقام محمود تک پہنچا دے گا“۔
مشھور و معروف سنی مفسر علامہ زمخشری کھتے ھیں: مذکورہ آیت میں جس ”مقام محمود“ کا ذکر ھوا ھے اس سے مراد رسول اکرم (ص) کی وہ عظیم الشان عظمت ھے کہ جو شخص بھی رسول اکرم (ص) کو اس مقام پر دیکھے گا تو اس مقام کی وجہ سے ان کی مدح و ثنا کرنے لگے گا، مقام شفاعت سے بلند و بالا اور کیا مقام ھوسکتا ھے جو تمام اھل محشر کے لئے باعثِ فخر و مباھات ھے۔ 11
اسی طرح شیعہ مشھور مفسر مرحوم شیخ طبرسی فرماتے ھیں: اسلامی مفسرین کا اس بات پر اتفاق ھے کہ ”مقام محمود“ سے مراد وھی ”مقام شفاعت“ ھے، اس کے بعد موصوف فرماتے ھیں: روز قیامت پیغمبر اکرم (ص) ”پرچم توحید“ لئے ھوں گے اور سبھی انبیاء (علیھم السلام) اس پرچم کے نیچے ھوں گے، آنحضرت (ص) سب سے پھلے شفاعت کرنے والے ھوں گے اور سب سے پھلے آپ ھی کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ 12
اسلامی روایات میں اس آیت کے ذیل میں تواتر سے یہ بات بیان ھوئی ھے کہ ”مقام محمود“ سے مراد شفاعت ھے، علامہ سیوطی نے ”در منثور“ 13 میں اور علامہ بحرینی نے تفسیر ”برھان“ 14 میں بزرگ علمائے اسلام سے دس روایت نقل کی ھیں جن کو اختصار کی وجہ سے یھاں بیان نھیں کیا جاسکتا۔

3۔ پیغمبر اکرم (ص) کے راضی ھونے تک عطا

ایک دوسری آیت میں بیان ھوا ھے کہ خداوندعالم اپنے محبوب رسول کو اس قدر عطا کرے گا کہ آپ راضی ھوجائیں گے، جیسا کہ ارشاد خداوندی ھے:
((وَلَلْآخِرَةُ خَیْرٌ لَکَ مِنْ الْاٴُولَی ۔ وَلَسَوْفَ یُعْطِیکَ رَبُّکَ فَتَرْضَی )) 15
”اورآخرت تمھارے لئے دنیا سے کھیں زیادہ بھتر ھے۔اور عنقریب تمھاراپروردگار تمھیں اس قدر عطاکر دے گا کہ خوش ھو جاوٴگے“۔
مذکورہ دوسری آیت میں دو لحاظ سے شک و تردید پیدا کی جاسکتی ھے:
1۔ رسول اکرم (ص) کی اس عطا کے لئے کوئی زمانہ اور جگہ معین نھیں ھے، یہ کیسے معلوم ھو کہ اس عطا کی جگہ روز قیامت ھے۔
2۔ خداوندعالم جو کچھ اپنے محبوب رسول کو عطا کرے گا وہ واضح اور روشن نھیں ھے، شاید شفاعت کے علاوہ اور کوئی چیز ھو!
لیکن پھلا شک پھلی آیت پر توجہ کرنے سے دور ھوجاتا ھے کیونکہ پھلی آیت میں خداوندعالم نے آخرت کی تعریف کی ھے اور اس کو دنیا پر ترجیح دی ھے اس کے فوراً بعد ارشاد فرمایا ھے: ”خداوندعالم آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ھوجائیں گے“، ان دونوں آیات کا ایک ساتھ بیان ھونا اس بات پر گواہ ھے کہ اس عطا کا زمان و مکان عالَم آخرت ھے۔
پیغمبر اکرم (ص) جو کہ ”رحمة للعالمین“ کے درجہ پر فائز ھیں اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ اس خوفناک روز میں امت کے لئے فکر مند رھیں اور بے شمار لوگوں کی بخشش و مغفرت سے شاد و مسرور ھوں، اور اس حقیقت کی بنا پر دوسرا شک بھی دور ھوجاتا ھے کہ اس سے مراد امت کی شفاعت کا حق ھے، جو پیغمبر اکرم (ص) کی رضایت اور خوشنودی کا باعث ھوگا۔
اسی بات کی تائید اسلامی روایات سے بھی ھوتی ھے جن میں مذکورہ آیت کی تفسیر شفاعت سے کی گئی ھے۔ 16
قارئین کرام! یھاں تک قرآنی دلائل کے ذریعہ اصل شفاعت کے با رے میں آگاھی ھوگئی، لیکن شفاعت کے سلسلہ میں روایات اس قدر زیادہ ھیں جن کو اس مضمونمیں بیان نھیں کیا جاسکتا، ھم سو سے زیادہ روایتوں میں سے چند روایات بیان کرنے پر اکتفاء کرتے ھیں:
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
”اٴعطیتُ خمساً و اٴعطیتُ الشفاعة، فادّخرتھا لِامّتي فہيلِمَن لایشرکُ بالله شیئاً“ 17
”خداوندعالم نے مجھے پانچ چیزیں عطا فرمائیں، جن میں سے ایک شفاعت ھے اور میں نے اس کو اپنی امت کے لئے محفوظ رکھا ھے، شفاعت ان لوگوں کو حاصل ھوگی جنھوں نے خدا کے ساتھ شرک نہ کیا ھو“۔
اسی طرح آنحضرت (ص) ایک دوسرے مقام پر فرماتے ھیں:
”انا اٴوّل شافع و اٴوّل مُشفّعٍ“ 18
”میں سب سے پھلا شفاعت کرنے والا ھوں اور میری ھی شفاعت سب سے پھلے قبول کی جائے گی“۔
جناب ابوذر کھتے ھیں:
”صلّ رسول الله (ص) لیلةَ فقراء بآیة حتی اصبحَ یرکَع و یسجد بھا ((إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ)) 19 فلمّا اصبحَ قلتُ یارسول الله مازلتُ تقرء ہذہ الآیة حتی اصبحت ترکع بھاوتسجد بھا، قالَ: انی ساٴلت ربّی عزّ و جلّ الشفاعةَ لِامتّی فاٴعطانیھا، فھی نائلةٌ ان شاء الله لمن لا یشرک بالله عزّ و جلّ شیئاً“۔ 20
”رسول اکرم (ص) ایک رات صبح تک نماز پڑھتے رھے اور رکوع و سجود کرتے رھے، یھاں تک اس آیہٴ شریفہ کی تلاوت کی: ((إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ ۔۔۔)) (یعنی اگر تو ان پر عذاب کرے گا تو وہ تیرے ھی بندے ھیں اور اگر معاف کردے گا تو صاحب عزت بھی ھے اور صاحب حکمت بھی ھے)، جب صبح نمودار ھوئی، میں نے آپ کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: میں اپنے پروردگار سے شفاعت طلب کررھا تھا، اور اس نے بھی میرا سوال پورا کردیا ھے، لہٰذا یہ شفاعت خدا کی مرضی سے اس شخص کے شامل حال ھوگی جس نے خدا کے ساتھ میں شرک نہ کیا ھو“۔
قارئین کرام! ھم یھاں پر پیغمبر اکرم (ص) کی انھیں چند روایات پر اکتفاء کرتے ھیں، ھم نے قرآن مجید کی موضوعی تفسیر ”منشور جاوید“ 21 میں پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے شفاعت کے بارے میں تقریباً سو عدد روایتیں نقل کی ھیں، جو خود شفاعت، شافعین کے شرائط، شفاعت ھونے والوںکے شرائط کیا ھوں گے اور شفاعت کا نتیجہ کیا ھوگا، ان تمام چیزوں کے بارے میں تفصیلی طور پر بیان کیا ھے (شفاعت کے حوالہ سے مزید تفصیل کے لئے مذکورہ کتاب کا مطالعہ فرمائیں)

منبع: وھابیت، مبانی فکری و کارنامہ عملی، جعفر سبحانی تبریزی، ص ۲۸۳ تا ۲۹۴۔ ترجمہ اردو: اقبال حیدر حیدری (گروہ ترجمہ سایٹ صادقین)


1. سورہ نساء، آیت ۶۴۔
2. سورہ نساء، آیت۴۸ اور ۱۱۶۔
3. سورہ انبیاء، آیت ۲۸۔
4. سورہ بقرہ، آیت۲۵۵ ۔
5. سورہ یونس، آیت۳۔
6. سورہ مریم، آیت ۸۷۔”لاَیَمْلِکُونَ “ سے مراد وھی باطل معبود ھیں جن کے بارے میں اسی سورہ کی آیت نمبر ۸۱/ میں بیان ھوا ھے، چنانچہ ا رشاد ھوتا ھے: ” اتخذوا من دون اللہ آلھة“ ۔
7. سورہ طہ، آیت۱۰۹ ۔
8. سورہ سباء، آیت ۲۳۔
9. سورہ نجم، آیت ۲۶۔
10. سورہ اسراء، آیت ۷۹۔
11. تفسیر کشاف، ج ۲، صفحہ ۲۴۳۔
12. مجمع البیان،ج ۳، صفحہ ۴۲۳۵۔
13. تفسیر الدرالمنثور،ج ۴، صفحہ ۱۹۷۔
14. تفسیر الدرالمنثور،ج ۴، صفحہ ۱۹۷۔
15. سورہ ضحی، آیت ۴ تا ۵۔
16. دیکھئے: تفسیر مجمع البیان، ج۵، صفحہ۵۰۵، و تفسیر برھان، ج۴، صفحہ۴۷۳۔، تفسیر الدر المنثور، ج۶، ص ۳۶۱، اس کے علاوہ محدثین اور مفسرین نے جناب ابن عباس سے اس جملہ کو نقل کیا ھے: ”رضاہ اٴن تدخل اُمّتہ الجنة“ (آنحضرت اس چیز پر راضی ھوں کہ امت جنت میں چلے جائے)
17. مسند احمد، ج۱، صفحہ۳۰۱، سنن نسائی، ج۱، صفحہ ۱۷۲، سنن دارمی، ج۱، صفحہ۳۲۳ وغیرہ۔
18. سنن ترمذی، ج۵، صفحہ۲۴۸، سنن دارمی،ج۱، ص۲۶۔
19. سورہ مائدہ، آیت۱۱۸۔
20. مسند احمد، ج۵، ص ۱۴۹۔
21. منشور جاوید، ص ۱۵۵، تا ۱۷۸، اور مفاھیم القرآن، ج ۴ص ۳۱۵ تا ۳۳۷۔




تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
10+7 =