پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

اولیائے الٰھی اور دینی رھبروں کو درخواست اور دعامیں واسطہ قرار دینا یا ان کو وسیلہ قرار دینا بدعت ھے اور اس کے جواز پر کوئی دلیل نھیں ھے، شیعہ


توسل کے لغوی معنی

خلیل بن احمد کھتے ھیں: ”توسل “، ”وسلت الی ربّی وسیلة“سے ماخوذ ھے یعنی کسی ایسے کام کو انجام دینا جس سے خداوندعالم کی قربت حاصل ھوتی ھو۔۔۔“1 ابن منظور افریقی کا کہنا ھے: ”وسیلہ اس چیز کو کھتے ھیں جس کے ذریعہ انسان اپنے مقصود و مطلوب تک پہنچنے کے لئے ہدایت حاصل کرسکے“2

توسل کے اصطلاحی معنی

توسل سے مراد یہ ھے کہ انسان کسی شخص یا کسی چیز کو خداوندعالم کی بارگاہ میں واسطہ قرار دے جس کے ذریعہ انسان خداوندعالم کی قربت حاصل کرسکے“3

وھابیوں کے فتوے

۱۔ شیخ عبد العزیز بن باز (حجاز کے سابق مفتی) کا کہنا ھے: ”کسی کی عظمت یا حق کو واسطہ قرار دینا بدعت ھے، لیکن شرک نھیں ھے؛ اسی وجہ سے اگر کوئی شخص کھے: اللّھم اِنّی اٴسئلک بجاہ اٴنبیائک اٴو بجاہ ولیّک فلان، اور بعبدک فلان، اٴو بحقّ فلان، اٴو برکة فلان“ ؛ یعنی پالنے والے! تجھے تیرے انبیاء کی عظمت کا واسطہ، یا تیرے فلاں ولی کا واسطہ، یا فلاں شخص کا واسطہ، یا فلاں شخص کے حق کا واسطہ، یا فلاں شخص کی برکت کا واسطہ، تو یہ تمام چیزیں کہنا جائز نھیں ھے، بلکہ بدعت اور شرک آلود ھیں“4
۲۔ شیخ صالح بن فوزان کا کہنا ھے: ”جو شخص خداوندعالم کے خالق اور رازق ھونے پر ایمان رکھے، لیکن اپنے اور خدا کے درمیان کسی شخص کو واسطہ قرار دے تو اس نے گویا دین خدا میں بدعت قائم کی ھے۔۔۔ اور اگر (چند) واسطوں (یعنی ان کے جاہ و مقام) کے ذریعہ توسل کرے لیکن ان کی عبادت نہ کرے تو یہ کام حرام، بدعت اور شرک ھے“۔5
۳۔وھابیوں کے فتووں کے مرکز نے توسل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں یوں تحریر کیا: ”پیغمبر اسلام یا ان کے علاوہ (دیگر انبیاء اور صالحین) کی ذات کو وسیلہ قرار دینا جائز نھیں ھے، اسی طرح پیغمبر اکرم یا ان کے علاوہ کسی دوسرے کے جاہ و مقام اور عظمت کو وسیلہ قرار دینا حرام ھے، کیونکہ یہ کام بدعت ھے، اور پیغمبر اکرم یا صحابہ کے ذریعہ اس سلسلہ میں کوئی حکم بیان نھیں ھوا ھے۔۔۔“۔6
۴۔ ناصر الدین البانی صاحب کا کہنا ھے: ”میرا عقیدہ ھے کہ جو لوگ اولیاء اور صالحین وغیرہ کو وسیلہ قرار دیتے ھیں وہ راہِ حق سے منحرف ھیں۔۔۔“۔7

توسل کا فلسفہ

توسل یعنی اپنے اور اپنے مقصود کے درمیان وسیلہ اور واسطہ قرار دینا، اور وسیلہ کی دو قسمیں ھیں: کبھی وسیلہ مادی چیزیں ھوتی ھیں؛ جیسے پانی، کھانا وغیرہ، جن کے ذریعہ انسان اپنی بھوک و پیاس مٹاتا ھے، اور کبھی وسیلہ معنوی چیزیں ھوتی ھیں؛ جیسے گناہ، انسان اپنے گناھوں کی بخشش کے لئے پیغمبر اکرم (ص) کے جاہ و مقام اور ان کی عظمت کا واسطہ دیتا ھے، دونوں صورتوں میں وسیلہ ضروری ھے، کیونکہ خداوندعالم نے جھان ہستی کو بھترین صورت میں پیدا کیا ھے، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے: ((اٴلَّذِي اٴحْسَنَ کُلَّ شَيْءٍ خَلَقَہُ)) 8، ”اس نے ھر چیز کو حسن کے ساتھ بنایا“۔
یہ کائنات، انسان کی ہدایت، ترقی اور تکامل کے لئے نظام علت و معلول اور اسباب و مسببات پر قائم ھے، انسان کی عام ضرورتیں مادی اسباب و علل کی بنیاد پر پوری ھوتی ھیں، اسی طرح خداوندعالم کا معنوی فیض جیسے ہدایت و مغفرت بھی اسی خاص نظام کے تحت ھے، خداوندعالم کا حکیمانہ ارادہ یہ ھے کہ یہ تمام چیزیں خاص اسباب و علل کے ذریعہ انسانوں تک پہنچے، لہٰذا جس طرح مادی دنیا میں یہ سوال نھیں ھوسکتا کہ خداوندعالم نے سورج کے ذریعہ زمین کو کیوں نورانی کیا ھے؟خداوندعالم نے بغیر کسی واسطہ کے اس کام کو کیوں انجام نہ دیا؟ اسی طرح معنوی مسائل میں یہ سوال نھیں کیا جاسکتا کہ خداوندعالم اپنی مغفرت کو اپنے اولیاء کے وسیلہ سے کیوں بندوں تک پہنچاتا ھے؟
اس سلسلہ میں شھید مطھری9 فرماتے ھیں: ”خدا کے کام ایک نظام کے تحت ھوتے ھیں، لہٰذا اگر کوئی نظام خلقت پر توجہ نہ کرے تو ایسا شخص گمراہ ھے اسی وجہ سے خداوندعالم نے گناھگاروں کو حکم دیا کہ رسول اکرم (ص) کے بیت الشرف پر جائیں اور خود استغفار کرنے کے علاوہ آنحضرت (ص) بھی ان کے لئے طلب مغفرت کریں، قرآن مجید میں ارشاد ھوتا ھے:
((وَلَوْ اٴَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَہُمْ جَاءُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا)) 10
”اور کا ش جب ان لوگوںنے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناھوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ھی توبہ قبول کرنے والا اور مھربان پاتے“۔
اسی وجہ سے ھم دیکھتے ھیں کہ قرآن اور سنت میں وسیلہ اور توسل کے سلسلہ میں بھت زیادہ تاکید کی گئی ھے، چنانچہ ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
(( یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوا إِلَیْہِ الْوَسِیلَةَ ۔۔۔)) 11
” ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔۔۔“۔

وسیلہ اور توسل کے اقسام

خدا اور اپنی حاجتوں تک پہنچنے کے لئے وسیلہ کی چند قسمیں ھیں:
۱۔ جس قسم کے جائز ھونے پر مسلمانوں کا اتفاق اور اجماع ھے؛
۲۔ جس قسم کے جائز نہ ھونے پر مسلمان کا اتفاق ھے؛
۳۔ جس قسم کے بارے میں مسلمانوں اور وھابیوں کے درمیان اختلاف ھے۔
وہ مقاماتجن کے جواز پر اتفاق ھے:

۱۔ خداوند عالم کی ذات اور اس کے اسماء و صفات کو وسیلہ قرار دینا

خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے: (( وَلِلَّہِ الْاٴَسْمَاءُ الْحُسْنَی فَادْعُوہُ بِہَا۔۔۔)) 12
”اور اللہ ھی کے لئے بھترین نام ھیں لہٰذا اسے انھیں ناموں کے ذریعہ پکارو۔۔۔“۔
ترمذی نے اپنی سند کے ساتھ بریدہ سے نقل کیا ھے کہ پیغمبر اکرم (ص) سے میں نے سنا کہ ایک شخص خداوندعالم کو اس کے صفات اور اسماء کی قسم دیتا ھے اور کھتا ھے: ”اللّھم اِني اٴسالک باٴنّي اٴشہد اٴنّک اٴنت اللّٰہ لا الہ اِلاَّ انت الاٴحد الصمد الّذی لم یلد و لم یولد و لم یکن لہ کفواً احد“
اس وقت پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: تو نے خداوندعالم کے اس اسم اعظم کا واسطہ دیا کہ اگر اس کو اس اسم اعظم کے ساتھ پکارا جائے تو وہ ضرور جواب دیتا ھے اور اس کے وسیلہ سے سوال کیا جائے تو ضرور عطا کرتا ھے“۔13
شیخ عبد العزیز بن باز کا کہنا ھے: ”۔۔۔توسل اور وسیلہ خدا کی ذات، اس کے صفات اور اس کی توحید کے ذریعہ ھونا چاہئے جیسا کہ صحیح حدیث میں بیان ھوا ھے۔۔۔“14

۲۔ اطاعت اور ایمان کے ذریعہ توسل

عمل صالح کے ذریعہ توسل کرنا خداوندعالم کے نزدیک بھترین واسطوں میں سے ھے اور اس پر امت مسلمہ اتفاق رکھتی ھے۔
آلوسی آیہ شریفہ ((وَابْتَغُوا إِلَیْہِ الْوَسِیلَةَ )) کے ذیل میں کھتے ھیں: ”خداوندعالم نے اطاعت کا حکم دیا ھے“۔ 15
حضرت ابراھیم اور ان کے فرزند اسماعیل( علیھما السلام ) نے خانہ خدا کو تقرب الٰھی کے لئے بنایا، جیسا کہ اس سلسلہ میں خداوندعالم فرماتا ھے: ((وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاہِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنْ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ اٴَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیم)) 16
”اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراھیم و اسماعیل خانہ کعبہ کی دیواروں کو بلند کر رھے تھے اور دل میں یہ دعا بھی تھی کہ پروردگارا! ھماری محنت کو قبول فرمالے کہ تو بھترین سننے والا اور جاننے والا ھے“۔
اس کے بعد عرض کی: ((رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اٴُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ وَاٴَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ اٴَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ)) 17
”پروردگارا! ھم دونوں کو اپنا مسلمان اور فرمانبردار قرار دےدے اور ھماری اولاد میں بھی ایک فرمانبردار امت پیدا کر، ھمارے مناسک دکھلادے اور ھماری توبہ قبول فرما کہ تو بھترین توبہ قبول کرنے والا مھربان ھے“۔
شیخ عبد العزیز بن باز کا کہنا ھے: ” اسی طرح جائز توسل کی قسموں سے اعمال صالحہ کے ذریعہ توسل کرنا ھے؛ روایت میں بیان ھوا ھے: کچھ لوگ ایک غار میں بند ھوگئے تھے، ان میں سے ھر ایک نے اپنے نیک اور عمل صالح کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دیتے ھوئے خدا سے نجات طلب کی: چنانچہ ایک نے اپنے ماں باپ سے نیکی کی قسم دی، دوسری نے زنا سے محفوظ رہنے کی قسم دی اور تیسرے نے امانت ادا کرنے کی قسم دی؛ چنانچہ خداوندعالم نے ان سب کو نجات عطا کردی، (اور اس غار کا منھ کھل گیا)“ 18
مصطفی محمود آیہ شریفہ((وَابْتَغُوا إِلَیْہِ الْوَسِیلَةَ)) کے ذیل میں کھتے ھیں: ”ھر انسان کا وسیلہ اس کا اپنا عمل ھے، اور انسان کا بھترین عمل پیغمبر اکرم (ص) کی پیروی کرنا اور تمام اعمال میں آپ کو اسوہ اور نمونہ عمل قرار دینا ھے۔۔۔“19

۳۔ قرآن کریم کو وسیلہ قرار دینا

احمد بن حنبل عمران بن حصین سے نقل کرتے ھیں کہ حضرت رسول اکرم (ص) نے فرمایا: ”قرآن کی تلاوت کرواور اسی کے ذریعہ خداوندعالم سے سوال کرو۔۔۔“20

۴۔ روز قیامت، پیغمبر اکرم (ص) کو وسیلہ قرار دینا

روز قیامت، پیغمبر اکرم (ص) کو وسیلہ قرار دینا یعنی روز قیامت مومنین آنحضرت کو وسیلہ قرار دیں گے اور خدا کی بارگاہ میں ان سے شفاعت طلب کریں گے، بخاری، پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کرتے ھیں: ”مومنین روز قیامت ایک جگہ جمع ھوکر کھیں گے: کیا بھتر ھوگا اگر پیغمبر اکرم (ص) ھماری شفاعت فرمائیں۔۔۔ چنانچہ اس موقع پر آنحضرت (ص) کے نزدیک آکر اپنی حاجت پیش کریں گے اور آنحضرت سے شفاعت کی درخواست کریں گے“۔
وھابیوں کی فتوی کمیٹی کھتی ھے: ”روز قیامت مومنین سب سے پھلے جناب آدم کے پاس ،اس کے بعد جناب نوح کے پاس، اس کے بعد حضرت موسی اور حضرت عیسیٰ علیھم السلام کے پاس جاکر پناہ طلب کریں گے، سب معذرت چاھیں گے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: حضرت محمد (ص) کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ خدا کے ایسے بندے ھیں جن کے گزشتہ اور آئندہ کے گناہ بخش دئے گئے ھیں، ان کے پاس جاؤ وھی تمھاری شفاعت کریں گے، اس موقع پر پیغمبر اکرم (ص) سجدہ میں گرجائیں گے اور خدا کی بارگاہ میں ان کے لئے مغفرت اور بخشش طلب کریں گے۔۔۔“21

۵۔ پیغمبر اکرم (ص) کی حیات میں آپ کے آثار کو وسیلہ قرار دینا

کبھی کسی شخصیت کو وسیلہ قرار دیا جاتا ھے اور کبھی اس کے آثار سے اور کبھی کبھی اس جگہ سے کہ جھاں پر وہ بزرگ شخصیت قیام پذیر ھوئی ھے۔
احمد بن حنبل وغیرہ نے نقل کیا ھے: ”پیغمبر اکرم (ص) جس وقت وضو فرماتے تھے، تو اصحاب آپ کے وضو کے پانی سے تبرک حاصل کرنے کے لئے اتنی زیادہ سبقت لیتے تھے کہ ان کے ھلاک ھوجانے کا خوف لاحق ھوتا تھا“۔22

۶۔ پیغمبر اکرم (ص) کی حیات میں آپ کی دعا کے ذریعہ توسل

پیغمبر اکرم (ص) چونکہ ایک عظیم المرتبت اور جلیل القدر شخصیت ھیں اسی وجہ سے آپ کی دعا ردّ نھیں ھوتی، لہٰذا اپنی حاجت پوری ھونے کے لئے آنحضرت (ص) کی دعا سے توسل کیا جاسکتا ھے۔
جب برادران یوسف علیہ السلام نے اپنی خطا اور گناہ کو سمجھ لیا اور اس پر پشیمان ھوگئے تو اپنے پدر بزرگوار سے درخواست کی کہ ان کے لئے دعا کریں، خداوندعالم اس سلسلہ میں فرماتا ھے:
((قَالُوا یَااٴَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ ۔ قَالَ سَوْفَ اٴَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّی إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ )) 23
”ان لوگوںنے کھا:بابا جان! اب آپ ھمارے گناھوں کے لئے استغفار کریں ھم یقینا خطاکار تھے۔ انھوں نے کھا کہ میں عنقریب تمھارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بھت بخشنے والا مھربان ھے“۔
اسی طرح منافقین کی مذمت کرتے ھوئے ارشاد ھوتا ھے:
((وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَکُمْ رَسُولُ اللهِ لَوَّوْا رُئُوسَہُمْ وَرَاٴَیْتَہُمْ یَصُدُّونَ وَہُمْ مُسْتَکْبِرُونَ )) 24
”اور جب ان سے کھا جاتا ھے کہ آؤ رسول اللہ تمھارے حق میں استغفار کریں گے تو سر پھرا لیتے ھیں اور تم دیکھو گے کہ استکبار کی بنا پر منھ بھی موڑ لیتے ھیں“۔

۷۔ پیغمبر اکرم (ص) کے دنیا میں آنے سے پھلے آپ کی ذات سے توسل کرنا

حاکم نیشاپوری نقل کرتے ھیں: ”حضرت آدم علیہ السلام سے جب ترک اولیٰ ھوا تو انھوں نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا: پالنے والے! تجھے حضرت محمد (ص) کے حق کا واسطہ میری خطا سے درگزر فرما! خداوندعالم نے فرمایا: ”اے آدم! تم کو یہ کلمات کس نے سکھائے؟! تو جناب آدم علیہ السلام نے فرمایا: پالنے والے! میں نے ساق عرش پر یہ تحریر دیکھی: ”لا الہ الا الله، محمد رسول الله“، جس سے میں سمجھ گیا کہ تیرا رسول تیرے نزدیک سب سے زیادہ کریم انسان ھے، کیونکہ تو نے اس کے نام کو اپنے نام کے ساتھ قرار دیا ھے، اس موقع پر خداوندعالم نے فرمایا: ھاں، میں نے تمھیں بخش دیا، وہ تمھاری ذریت میں سے آخری پیغمبر ھے، اگر وہ نہ ھوتے تو تمھیں بھی خلق نہ کرتا“۔ 25

۸۔ انبیاء اور اولیاء سے ان کی زندگی میں توسل

ابن تیمیہ کا کہنا ھے: ترمذی نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ھے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے ایک شخص کو حکم دیا کہ اس طرح دعا کرو: ”اللّٰھم إني اٴساٴلک و اٴتوجّہ إلیک بنبیّک“26، (پالنے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ھوں، اور تیرے نبی کی عزت و جلالت کی قسم دیتا ھوں، میری حاجت کو پورا کردے)، اسی طرح ابوبکر حضرت رسول اکرم (ص) کے خدمت میں تشریف لائے اور عرض کی: میں قرآن حفظ کرتا ھوں لیکن بھول جاتا ھوں تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: اس طرح دعا کرو: ”اللّٰھم إني اٴساٴلک و اٴتوجّہ إلیک بنبیّک“27وہ مقاماتجن کے ناجائز ھونے پر اتفاق ھے:
توسل کی بعض قسمیں مسلمانوں کے اتفاق نظر سے جائز نھیں ھیں، منجملہ:

۱۔ طاغوت سے توسل

خداوندعالم کا ارشاد ھے: ((یُرِیدُونَ اٴَنْ یَتَحَاکَمُوا إِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ اٴُمِرُوا اٴَنْ یَکْفُرُوا بِہ۔۔۔)) 28
”(وہ لوگ) یہ چاھتے ھیں کہ سرکش لوگوں کے پاس فیصلہ کرائیں جبکہ انھیں حکم دیا گیا ھے کہ طاغوت کا انکار کریں“۔

۲۔ بتوں سے توسل

خداوندعالم فرماتا ھے: ((وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَضُرُّہُمْ وَلاَیَنْفَعُہُم وَیَقُولُونَ ہَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللهِ ۔۔۔)) 29
”اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ھیں جو نہ نقصان پہنچا سکتے ھیں اور نہ فائدہ، اوریہ لوگ کھتے ھیں کہ یہ خدا کے یھاں ھماری شفاعت کرنے والے ھیں “۔

اختلافی مقامات

قارئین کرام! جیسا کہ ھم نے اشارہ کیا کہ عام مسلمانوں اور وھابیوں کے درمیان توسل کی قسموںمیں اختلاف ھے، اور وہ مقامات درج ذیل ھیں:
۱۔ پیغمبر اکرم (ص) اور اولیائے الٰھی کے جاہ و مقام کے ذریعہ ان کی برزخی حیات میں توسل؛
۲۔ پیغمبر اکرم (ص) اور اولیائے الٰھی کی دعاؤں کے ذریعہ ان کی برزخی حیات میں توسل؛
۳۔ پیغمبر اکرم (ص) اور اولیائے الٰھی کے آثار کے ذریعہ ان کی برزخی حیات میں توسل؛
پیغمبر اکرم (ص) کے جاہ و مقام کے ذریعہ ان کی برزخی حیات میں توسل
یہ قسم تمام مسلمانوں کے لحاظ سے جائز ھے لیکن وھابی حضرات نہ صرف اس قسم کو جائز نھیں مانتے بلکہ اس کو شرک قرار دیتے ھیں۔
چنانچہ وھابی علماء نے فتویٰ دیا: ” پیغمبر اکرم (ص) اور ان کے علاوہ (انبیاء اور صالحین) کی ذات سے توسل کرنا جائز نھیں، اسی طرح پیغمبر اکرم (ص) اور دیگر اولیاء کے جاہ و جلال کے ذریعہ بھی توسل حرام ھے“۔ 30

توسل کے جائز اور اس کے مستحب ھونے پر چند دلائل

توسل کے جائز اور اس کے مستحب ھونے پر بھت سی دلیلیں ھوسکتی ھیں ھم یھاں پر چند کی طرف اشارہ کرتے ھیں:

۱۔ طبرانی نے ”المعجم الکبیر“ میں صحیح سند کے ساتھ عثمان بن حنیف سے نقل کیا ھے: ”ایک شخص عثمان بن عفان کے پاس اپنی حاجت لے کر چند بار حاضر ھوا، لیکن جناب عثمان نے اس کی باتوں پر توجہ نہ کی؛ یھاں تک کہ ایک روز راستہ میں عثمان بن حنیف (اس حدیث کے راوی ) سے ملاقات ھوئی اور اس سلسلہ میں شکایت کی، عثمان بن حنیف نے ان سے کھا: وضو کے لئے پانی لاؤ ،وضو کرو؛ اور مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھو، نماز کے بعد پیغمبر اکرم (ص) کو وسیلہ قرار دو اور اس طرح کھو: ”اللّٰھم إني اٴساٴلک و اٴتوجّہ إلیک نبیّک محمّد صلّی الله علیہ وسلم نبيّ الرحمة یا محمّد إنّي اٴتوجّہ بک إلی ربّي فتقضي لي حاجتي“، اور پھر اپنی جات طلب کرو۔
عثمان بن حنیف کھتے ھیں: اس شخص نے اسی طرح یہ عمل انجام دیا، اور پھر حضرت عثمان کے گھر گیا ،دیکھتے ھی دربان آیا اور ان کو عثمان بن عفان کے پاس لے گیا، چنانچہ انھوں نے بھی بھت احترام سے بٹھایا اور پھر مکمل طور پر ان کی حاجت پوری کی، اور کھا: میں ابھی تمھاری حاجت کی فکر میں تھا اور اس کے بعد جب بھی کوئی حاجت ھو تو میرے پاس آجانا، اس کے بعد عثمان بن حنیف کھتے ھیں: یہ عمل میری طرف سے نھیں تھا، بلکہ ایک روز ایک نابینا شخص پیغمبر اکرم (ص) کے پاس حاضر ھوا اور اس نے اپنی نابینائی کی شکایت کی، آنحضرت (ص) نے اس سے فرمایا: تم صبرو، لیکن وہ نہ مانا، اس کے بعد آنحضرت (ص) نے یہ عمل بتایا، جس کے بعد اس شخص کی آنکھوں میں نور آگیا اور اس نے اپنی مراد پالی۔
اس حدیث کو اھل سنت کے بھت سے علماء نے نقل کیا ھے؛ جیسے: حاکم نیشاپوری31، ابن عبد البر32، ابونعیم اصفھانی33، ذھبی34، حافظ ھیثمی 35 اور متقی ہندی36 وغیرہ۔

۲۔ دارمی نے اپنی سنن میں ابو الجوزاء اوس بن عبد اللہ سے نقل کیا ھے: ایک مرتبہ مدینہ میں بھت زیادہ قحط پڑا، چند اصحاب جمع ھوکر جناب عائشہ کی خدمت میں حاضر ھوئے اور قحط کی شکایت کی ،جناب عائشہ نے کھا: قبر پیغمبر اکرم (ص) پر جاؤ اور آسمان کی طرف ایک سوراخ کھول دو تاکہ قبر اور آسمان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ رھے، چنانچہ ایسا ھی کیا گیااس موقع پر خداوندعالم نے پیغمبر اکرم (ص) سے توسل کی برکت سے بھت زیادہ بارش کی، جس کی بدولت سبزہ لھرانے لگے اور اونٹ موٹے ھوگئے۔۔۔۔ 37
اور چونکہ اس حدیث کی سند میں سعید بن زید 38 ھیں اور ”البانی“ نے اس کو ضعیف قرار دینے کی کوشش کی ھے، جبکہ ”سعید بن زید “علم رجال کے ایک مسلم شخص ھیں اور یحیٰ بن معین نے ان کو موثق مانا ھے، اسی طرح بخاری، ابن سعد، عجلی، ابوزرعہ اور ابوجعفر دارمی نیز اھل سنت کے دوسرے رجالی علماء نے ان کو موثق مانا ھے۔ 39

۳۔ قسطلانی نقل کرتے ھیں: ”ایک عرب پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کے پاس آکر عرض کرتا ھے: پالنے والے! تو نے حکم دیا کہ غلاموں کو آزاد کرو، یہ تیرے حبیب ھیں اور میں تیرا بندہ، تجھے تیرے پیغمبر کے حق کا واسطہ مجھے جہنم کی آگ سے آزاد فرما، اس موقع پر ھاتف غیبی کی آواز آئی: اے شخص تو نے جہنم سے آزادی صرف اپنے لئے کیوں طلب کی، تمام مومنین کے لئے کیوں نہ طلب کی، جاتجھے آزاد کردیا“۔ 40

علمائے اھل سنت کا نظریہ

۱۔ نور الدین سمھودی کا کہنا ھے: ”پیغمبر اکرم (ص)کی جاہ و عظمت کے ذریعہ توسل، استغاثہ اور شفاعت انبیاء اور سلف صالح کی سیرت رھی ھے اور ھر زمانہ میں یہ عمل انجام ھوتا آیا ھے؛ چاھے آنحضرت (ص) کی خلقت سے پھلے ھو یا خلقت کے بعد، یھاں تک کہ آپ کی دنیاوی اور برزخی حیات میں بھی، اور جس طرح سے اعمال کے ذریعہ توسل کرنا صحیح ھے؛ اسی طرح حدیث غار کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) کی ذات پاک سے توسل کرنا بھی جائز بلکہ بھتر ھے۔۔۔“ 41
۲۔ ڈاکٹر عبد الملک سعدی کا کہنا ھے: ”جب کوئی شخص کھے: ” اللّھم إني توسلت إلیک بجاہ نبيّ اٴو صالح“، (پالنے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ھوں تیرے بنی یا صالح بندوں کے وسیلہ سے) تو اس کے جائز ھونے میں کسی کو شک نھیں کرنا چاہئے، کیونکہ کسی کی جاہ و عظمت اس کی ذات نھیں ھے جس سے توسل کیا گیا ھے بلکہ جاہ و منزلت خدا کے نزدیک اس کے مرتبہ کا نام ھے، اور یہ اس کے اعمال صالح کا خلاصہ ھے، خداوندعالم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ھے: ((وَ کانَ عِندَ الله وَجیھاً))، 42 اور وہ خداوندعالم کے نزدیک آبرومند اور صاحب عزت تھے۔۔۔“ 43
۳۔ قسطلانی کھتے ھیں: ”رسول اکرم (ص) کے زائر کے لئے مناسب ھے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی ذات پاک سے زیادہ دعا کرے، تضرع ،استغاثہ اور توسل کرے اور شفاعت کی درخواست کرے“۔ 44
۴۔ زرقانی صاحب اپنی شرح میں کھتے ھیں: ”پیغمبر اکرم (ص) سے توسل کرنا چاہئے کیونکہ آنحضرت (ص) کے توسل سے گناھوں کے پھاڑ گر جاتے ھیں“۔
۵۔ ابن الحاج ابو عبد اللہ عبدری مالکی کھتے ھیں: ”اگر کسی کی زیارت کے لئے جاؤ ،حالانکہ اس کی وفات ھوچکی ھو تو اگر اس سے برکت کی امید ھو تو اس سے توسل کرنا چاہئے، جن کی سرِ فھرست پیغمبر اکرم (ص) ھیں۔۔۔“۔ 45
۶۔ حسن بن علی سقاف شافعی کا کہنا ھے: ”تمام مخلوقات کے سید و سردار (حضرت محمد (ص) جو کہ ظلمتوں کا نور ھیں) سے توسل، استغاثہ اور طلب شفاعت کرنا مستحب ھے، جس کے سلسلہ میں بھت زیادہ تاکید ھوئی ھے، خصوصاً مشکلات اور پریشانیوں کے وقت، اور علمائے علم و عمل اور اھل عبادت نیز عظیم محدثین اور ائمہ سلف کی سیرت بھی یھی رھی ھے“۔
۷۔ نووی صاحب اپنی بعض کتابوں میں توسل کے مستحب ھونے کے قائل ھیں۔46
۸۔ غماری اپنی کتاب کے مقدمہ میں تحریر کرتے ھیں: ”توسل کے استحباب، شافعی مذھب اور دیگر ائمہ کے نزدیک ثابت ھے جن کی جلالت اور وثاقت پر اجماع ھے“۔ 47
۹۔ ابن حجر مکّی نے شافعی کے ان اشعار میں سے یہ دو شعر تحریر کئے ھیں جو اھل بیت پیغمبر اکرم (ص) سے شافعی کے توسل پر دلالت کرتے ھیں:
آل النبيّ ذریعتي و ھم إلیہ وسیلتیاٴرجو بھم اٴعطوا غداً بیدی الیمین صحیفتي 48
”اھل بیت میرا ذریعہ ھیں اور وھی میرا وسیلہ ھیں، ان کے ذریعہ میں امیدوار ھوں کے روز قیامت میرا نامہ اعمال میرے داہنے ھاتھ میں دیا جائے“۔
۱۰۔ زینی دحلان تحریر کرتے ھیں: ”جو شخص گزشتہ (ائمہ اور علماء ) کے اذکار اور وِردُوں پر عمل کرے تو ان میں مقدس ذوات کے ذریعہ توسل پایا جاتا ھے، اور کسی نے بھی اس کے اوپر اعتراض نھیں کیا ھے یھاں تک کہ منکرین (وھابی) آئے ۔ اور اگر توسل کے تمام نمونوں کو جمع کیا جائے تو ایک عظیم کتاب ھوجائے گی۔۔۔“ 49
مرحوم علامہ امینی توسل کی توجیہ کرتے ھوئے فرماتے ھیں: ”توسل کے معنی اس سے زیادہ نھیں ھے کہ کوئی شخص ذوات مقدسہ کو واسطہ دے کر خداوندعالم سے نزدیک ھو، اور ان کو اپنی حاجات کے پورا ھونے کے لئے وسیلہ قرار دے، کیونکہ وہ حضرات خداوندعالم کے نزدیک آبرومند ا ورصاحب عزت ھیں، ایسا نھیں ھے کہ یہ ذوات مقدسہ حاجتوں کو پورا کرنے میں مستقل طور پر دخالت رکھتے ھوں، بلکہ وہ تو فیض کا راستہ، اور معبود اور بندوں کے درمیان واسطہ ھیں۔۔۔ اس عقیدہ کے ساتھ کہ عالم وجود میں صرف ذات خداوندی ھے، جو لوگ ذوات مقدسہ سے توسل کرتے ھیںان کی یھی نیت ھوتی ھے، لہٰذا اس صورت میں توحید کے مخالف بھی نھیں ھے؟۔۔۔“ 50

پیغمبر اکرم (ص) کی حیات برزخی میںدعا کے ذریعہ توسل

اس قسم کے توسل کے جواز بلکہ راجح ھونے پر مسلمانوں کا عقیدہ ھے، لیکن اس کے مقابل وھابیوں نے اس قسم کے توسل کو ناجائز اور حرام قرار دیا ھے۔
چنانچہ ابن تیمیہ کا کہنا ھے: ” توسل؛ یعنی کوئی شخص پیغمبر اکرم (ص) سے یہ چاھے کہ اس کے لئے د عا کریں؛ جیسا کہ آپ کسی زندہ انسان سے کھتے ھیں: میرے لئے دعا کرنا، اسی طرح صحابہ کرام، پیغمبر اسلام (ص) سے دعا کے لئے کھتے تھے، لہٰذا دعا کے لئے کہنا صرف زندہ شخص سے صحیح اور جائز ھے، لیکن مردہ انبیاء اور صالحین سے دعا کی درخواست جائز نھیں ھے۔۔۔“ 51

جواز اور مستحب ھونے پر دلیل

1- خداوند عالم ارشاد فرماتا ھے: ((وَلَوْ اٴَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَہُمْ جَا ءُ وْ کَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا)) 52
”اور کا ش جب ان لوگوںنے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناھوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ھی توبہ قبول کرنے والا اور مھربان پاتے“۔
ممکن ھے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ آیت کے ظاھر سے یہ معلوم ھوتا ھے کہ یہ حکم پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ سے متعلق ھے، لیکن ملاک اور معیار کے پیش نظر آنحضرت (ص) کی وفات کے بعد بھی اسی حکم کو جاری کیا جاسکتا ھے، کیونکہ ھر زمانہ میں گناھگار موجود ھیں اور ان کو وسیلہ کی ضرورت ھے تاکہ وہ خداوندعالم سے طلب مغفرت اور اپنی بخشش کے لئے واسطہ قرار دے، اسی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد بھی اصحاب اس آیت کے حکم کے مطابق استغفار کی درخواست کرتے تھے اور یہ مطلب برزخی حیات ،عالم برزخ اور دنیا میں پائے جانے والے رابطہ کے پیش نظر مزید ثابت ھوجاتا ھے۔ 53
۲۔ بیہقی اور ابن ابی شیبہ نقل کرتے ھیں: ”حضرت عمر کی خلافت کے دوران سخت قحط آیا، رسول اکرم (ص) کے صحابی بلال بن حرث علیہ الرحمہ آنحضرت (ص) کی قبر کے پاس آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ (ص)! اپنی امت کے لئے باران رحمت طلب کیجئے، کیونکہ آپ کی امت ھلاک ھوا چاھتی ھے، رسول اکرم (ص) نے عالم خواب میں ان سے فرمایا: عنقریب باران رحمت نازل ھوگی“54 اس حدیث میں بلال نے پیغمبر اکرم (ص) کی دعا سے توسل کیا۔
۳۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں: ”ا� بخش دیا جائے گا“56

توسل سے روکنا بنی امیہ کی بدعت ھے

حاکم نیشاپوری اپنی سند کے ساتھ ”داود بن ابی صالح “سے نقل کرتے ھیں: ایک روز مروان روضہٴ رسول (ص) میں وارد ھوا، تو وھاں ایک شخص کو دیکھا جس نے اپنی پیشانی قبر رسول (ص) پر رکھی ھوئی ھے، اس موقع پر مروان نے اس کا بازو پکڑا اور کھا: تم جانتے ھو کیا کررھے ھو؟ اس شخص نے ایک ٹھنڈی سانس لی، مروان نے دیکھا کہ وہ شخص ابوایوب انصاری ھیں، انھوں نے مروان سے کھا: ھاں میں جانتا ھوں کیا کررھا ھوں! میں ان پتھروں کی وجہ سے یھاں نھیں آیا ھوں ،بلکہ رسول خدا (ص) کے لئے حاضر ھوا ھوں، اس کے بعد پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کیا کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: ”دین کے سلسلہ میں پریشان نہ ھونا، اگر کوئی اھل والی اور حاکم ھو، بلکہ تم اس وقت دین کے سلسلہ میں پریشان ھونا جب کوئی نا اھل والی اور حاکم ھوجائے“۔ 57

پیغمبر اکرم (ص) کے آثار سے ان کی برزخی حیات میں توسل

تمام مسلمان (ھمیشہ سے) اس قسم کے جائز ھونے کا نظریہ رکھتے تھے، لیکن وھابیوں نے اس کو حرام قرار دیا ھے، وھابی علماء نے اس کی حرمت کے فتوے دئے ھیں، ھم یھاں پر خلاصہ کے طور پر چند روایات نقل کرتے ھیں:
۱۔ سمھودی شافعی نے مطلّب سے نقل کیا ھے: پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد صحابہ کرام، آنحضرت (ص) کی قبر کی مٹی کو تبرک کے طور پر اٹھالیتے تھے، یھاں تک کہ جناب عائشہ نے روک دیا اور حکم دیا: قبر کے چاروں طرف ایک دیوار بنادی جائے کھیں پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کی مٹی ختم نہ ھوجائے۔ 58
۲۔ امام بخاری نے اپنی کتاب ”اعتصام“ میں اپنی سند کے ساتھ ابی بردہ سے نقل کیا ھے: میں جس وقت مدینہ منورہ میں وارد ھوا، عبد اللہ بن سلام سے ملاقات ھوئی، انھوں نے مجھ سے کھا: ھمارے یھاں آؤ تاکہ تمھیں اس ظرف میں پانی پلاؤں جس میں آنحضرت (ص) پانی پیا کرتے تھے تاکہ تم اس سے پانی پی کر سیراب ھوجاؤ، نیز آنحضرت (ص) کے نماز پڑھنے کی جگہ نماز پڑھو، چنانچہ میں ان کے ساتھ ان کے مکان پر گیا، اور اس ظرف میں پانی پیا نیز تھوڑے خرمے کھائے اور اس مخصوص جگہ نماز پڑھی۔ 59
۳۔ امام بخاری نے کتاب ”الادب المفرد“60 میں بھی عبد الرحمن بن رزین سے روایت کی ھے کہ فرمایا: اتفاق سے سر زمین ”ربذہ“ سے گزر ھوا، معلوم ھوا کہ رسول اکرم (ص) کے صحابی ”سلمہ بن اکوع“ وھاں رھتے ھیں، لہٰذا میں ان کی خدمت میں حاضر ھوا، ان کی خدمت میں سلام کیا، انھوں نے اپنے ھاتھوں کو باھر نکالا اور فرمایا: ان دونوں ھاتھوں سے پیغمبر اکرم (ص) کی بیعت کی ھے، چنانچہ ھم نے اٹھ کر ان کے ھاتھوں کا بوسہ دیا۔

منبع: شیعہ شناسی و پاسخ بہ شبھات؛ علی اصغر رضوانی، ج۱، ص۱۵۴ تا ۱۶۸۔ ترجمہ: اقبال حیدر حیدری


1. ترتیب العین، مادہ ”وسل“۔
2. لسان العرب، مادہ ”وسل“۔
3. دیکھئے: تفسیر روح المعانی، آلوسی، ج۶، صفحہ۱۲۴ تا۱۲۸ ۔
4. شیخ بن باز، مجموع فتاوی و مقالات متنوعة، ج ۴، صفحہ ۳۱۱۔
5. المنقی من فتاوی الشیخ بن فوزان، ج۲، صفحہ ۵۴۔
6. البدع و المحدثات و مالااصل لہ، صفحہ ۲۶۵ تا ۲۶۶۔
7. فتاوی الالبانی، صفحہ ۴۳۲۔
8. سورہ سجدہ، آیت ۷۔
9. مجموعہ آثار ،ج۱، صفحہ ۲۶۴۔
10. سورہ ٴ نساء، آیت ۶۴۔
11. سو رہ مائدہ، آیت ۳۵۔
12. سورہ اعراف، آیت ۱۸۰۔
13. صحیح ترمذی، ج۵، ص ۵۱۵، حدیث ۳۴۷۵۔
14. مجموع فتاوی و مقالات متنوعة، ج ۴، صفحہ ۳۱۱۔
15. روح المعانی، ج ۶، صفحہ، ۱۲۴۔
16. سورہ بقرہ، آیت ۱۲۷۔
17. سورہ بقرہ، آیت ۱۲۸۔
18. سنن ترمذی، حدیث ۳۴۷۵، مجموع فتاوی و مقالات متنوعة، ج ۴، صفحہ ۳۱۱۔
19. من اسرار القرآن، مصطفیٰ محمود، صفحہ ۷۶ تا ۷۷۔
20. مسند احمد، ج۴، صفحہ ۴۴۵۔
21. البدع و المحدثات و مالااصل لہ، صفحہ ۲۶۵ تا ۲۶۶، صحیح بخاری حدیث ۷۴۴۰، صحیح مسلم، حدیث ۱۹۳۔
22. صحیح بخاری، ج ۱، صفحہ ۵۵؛ مسند احمد، ج ،۴ صفحہ ۳۲۹ ۔
23. سورہ یوسف، آیت ۹۷و۹۸۔
24. سورہ منافقون، آیت ۵۔
25. مستدرک حاکم، ج ۲، صفحہ۶۱۵ ۔
26. مجموعة الرسائل و المسائل، ج ۱، صفحہ ۱۳۔
27. التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۱۰، نقل از جامع الاصول۔
28. سورہ نساء، آیت۶۰۔
29. سورہ یونس، آیت ۱۸۔
30. البدع و المحدثات و مالااصل لہ، صفحہ ۲۶۵ تا ۲۶۶،
31. المستدرک علی الصحیحین، ج ۳، صفحہ ۱۰۸۔
32. الاصابہ، ج ۴، صفحہ ۳۸۲۔
33. حلیة الاولیاء ج ۳، صفحہ۱۲۱ ۔
34. سیر اعلام النبلاء، ج۲، صفحہ ۱۱۸ نمبر ۷۔
35. مجمع الزوائد، ج ۹، صفحہ ۳۵۶۔
36. کنز العمال، ج ۱۳، صفحہ۶۳۶، حدیث ۳۷۶۰۸۔
37. سنن دارمی، ج ۱، صفحہ۴۳ ۔
38. التوسل انواعہ و احکامہ، صفحہ۱۲۸ ۔
39. تہذیب التہذیب، ج ۴، صفحہ ۲۹۔
40. قسطلانی، المواھب اللدنیة، ج۴، صفحہ ۵۸۴ ۔
41. وفاء الوفاء، ج۴، صفحہ ۱۳۷۲۔
42. سورہ احزاب، آیت۶۹۔
43. البدعة فی مفھومھا الاسلامی، صفحہ ۴۵۔
44. المواھب اللدنیة، ج۴، صفحہ ۵۹۳۔
45. المدخل، ج۱، صفحہ ۲۵۴۔
46. حاشیة الایضاح علی المناسک، صفحہ ۴۵۰ و ۴۹۸؛ شرح المہذّب (المجموع) ج ۸، صفحہ ۲۷۴، شرح الاذکار، باب اذکار الحجّ، صفحہ ۳۰۷۔
47. غماری، مقدمہٴ ارغام المبتدع الغبیّ بجواز التوسل بالنبي ۔
48. صواعق المحرقہ، صفحہ ۱۸۔
49. زینی دحلان، الدرر السنیة، صفحہ ۳۱۔
50. الغدیر، ج ۳، صفحہ۴۰۳ ۔
51. زیارة القبور، ص ۲۴ تا ۲۵۔
52. سورہ ٴ نساء، آیت ۶۴۔
53. دیکھئے: شیعہ شناسی و پاسخ بہ شبھات، بحث حیات برزخی۔
54. زینی دحلان، الدرر السنیة، صفحہ ۱۸۔
55. سورہ ٴ نساء، آیت ۶۴۔
56. الروض الفائق، صفحہ ۳۸۰؛ وفاء الوفاء، ج ۴، صفحہ ۱۳۹۹؛ المواھب اللدنیة، ج ۴، صفحہ۵۸۳ ؛ صالح الاخوان، ص ۵۴۰؛ مشارق الانوار، ج۱، ص۱۲۱۔
57. مستدرک حاکم، ج ۴، صفحہ ۵۶۰، حدیث ۸۵۷۱؛ شفاء السقام، صفحہ ۱۵۲ ؛ وفاء الوفاء، ج ۴، صفحہ ۱۳۵۳، ۱۴۰۴؛ مجمع الزوائد، ج ۴، صفحہ۲ ۔
58. وفاء الوفاء، ج ۱، صفحہ ۳۸۵۔
59. صحیح بخاری، ج ۱، صفحہ ۱۵۴۔
60. الادب المفرد، صفحہ ۱۴۴؛ الطبقات الکبریٰ،ج ۴، صفحہ ۳۹۔




تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
1+1 =