پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

اذان میں «حَیَّ عَلٰی خَیرِالعَمَل» کہنے پر شیعوں کی کیا دلیل ہے؟

مسلمان اذان اور اقامت میں"حی علی الفلاح"کے بعد"حی علی خیر العمل" کہنے کے بارے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں، چنانچہ اہل سنت اس بات کے قائل ہیں کہ اذان و اقامت میں اس جملہ کا کہنا جائز نہیں ہے، البتہ بعض اہل سنت اس کو مکروہ جانتے ہیں، لیکن اہل بیت عصمت و طہارت (ع) اور آپ کے شیعہ اس بات کے قائل ہیں کہ یہ فصل (جملہ) اذان و اقامت کا جزء ہے،اوربغیر اس کے اذان باطل ہے، لہٰذا اس با ت پر نظر رکھتے ہوئے کہ اذان و اقامت ان مسائل میں سے ہے جن سے مسلمانوں کو روزانہ متعددمرتبہ سرو کار رہتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس موضوع کو مکمل طورپر محل بحث قرار دیکر تحقیق کی جائے تاکہ اصل حقیقت سامنے آسکے:

شیعہ علماء کے فتاوے

شیعہ علماء ان دلیلوں کی اتباع میں جو رسول اسلام (ص) اور اہل بیت (ع) کے ذریعہ پہونچی ہیں اس بات پر متفق ہیں کہ "حی علی خیر العمل" اذان و اقامت کا جزء ہے، اور اس کے بغیر اذان اور اقامت باطل ہے ۔
1۔ سید مرتضی (رح) اپنی کتاب" الا نتصار " میں کہتے ہیں: " وہ امور جو امامیہ مذہب کو دیگر مذاہب سے ممتاز کرتے ہیں ان میں سے اذان اور اقامت میں"حی علی الفلاح" کے بعد" حی علی خیر العمل" کاکہنا ہے، اور اس کی علت؛ تمام امامیہ علماء کا اجماع اور اتفاق ہے، البتہ اہل سنت کا کہنا ہے کہ عصر رسالت میں ایک زمانے تک یہ جملہ جزء اذان و اقامت تھا، لیکن یہ حکم بعد میں منسوخ ہو گیا، لہٰذا جو شخص اس کے نسخ ہونے کا قائل ہے اس کو اپنے اس دعوی پر دلیل پیش کرنا چاہیئے، لیکن ان کے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں ہے " ۱
2۔ علامہ حلی (رح) کہتے ہیں: " اہل سنت لوگوں کو" حی علی خیر العمل" کہنے سے منع کرتے ہیں، لیکن شیعہ امامیہ اپنے ائمہ (ع) سے متواتر روایات نقل ہو نے کی بناپر اس کے مستحب ہو نے پر اتفاق نظر رکھتے ہیں" ۲
3۔ صاحب جواہر شیخ محمد حسن نجفی کہتے ہیں: قول اشہرکی بنا پر (البتہ شہرت روائی اس قدر نہیں پائی جاتی کہ جس کی بناپر اجماع کا دعوی کیا جا سکے) ہمارے نزدیک فتوے کے لحاظ سے "حی علی خیر العمل" جزء اذان و اقامت ہے، بلکہ کتاب"المدارک" میں نقل ہوا ہے کہ یہ فصل جملہ، مذہب امامیہ کے نزدیک جزء اذان ہے اور اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اسی طرح کی نسبت کتاب "تذکرة "او نہایۃ الاحکام " میں علمائے امامیہ کی طرف دی گئی ہے،اور کتاب" ذکریٰ "میں اس کی نسبت تمام اصحاب امامیہ کی طرف دی گئی ہے، اور کتاب "المسالک "میں آیا ہے کہ اس بارے میں فرقہٴ امامیہ اور ان کے علماء کے نزدیک کوئی اختلاف نہیں ہے، اسی طرح کتاب" غنیہ "کی اس عبارت سے ظاہر ہوتا ہے:
"ہمارے تمام اصحاب (علماء) کا اجماع ہے کہ اذان ۱۸ فصول پر مشتمل ہے، نہ اس سے زیادہ اورنہ ا س سے کم، چنانچہ چار مرتبہ تکبیر، اور توحید کی شہادت، رسالت کی شہادت، اس کے بعد "حی علی الصلاة"اس کے بعد" حی علی الفلاح" پھر" حی علی خیر العمل" کہے، اس کے بعد تکبیر اور لاالٰہ الا الله کہے گا، اوران میں سے ہر ایک کو دو دو مرتبہ کہے گا "۔ ۳

«حی علی خیر العمل» کے جزء اذان ہونے پر شیعوں کی جانب سے چند دلائل

اذان میں اس جملہ کی جزئیت پر چند دلیلوں کے ذریعہ استدلال کیا گیا ہے:

پہلی دلیل: اس کی مشروعیت پر تمام مسلمانوں کا اتفاق و اجماع ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جملہ رسول خدا (ص) کے زمانہ میں جزء اذان تھا، اس لئے کہ جس طرح فرقۂ امامیہ، زیدیہ، اور اسماعیلیہ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اسی طرح اہل سنت نے اس کو متعدد طرق سے نقل کیا ہے، نیز متعدد صحابہ سے نقل کیا گیا ہے کہ زمانۂ رسالت میں لو گ اس جملہ کو اذان میں کہتے تھے، اگرچہ بعض اہل سنت اس بات کے قائل ہوئے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے جناب بلال سے کہا کہ اس کو اذان سے حذف کردیا جائے، اور اس کی جگہ "الصلاة خیر من النوم"کہا جائے ! یعنی ان لوگوں کے نزدیک یہ جملہ نسخ ہوگیا تھا اور اس کی جگہ دوسرا جملہ بڑھا دیا گیا تھا۔یہ لوگ پھر اس کے ناسخ کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں:
بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اسلام (ص) نے جناب بلال سے کہا تھا کہ اس کو حذف کرکے اس کی جگہ"الصلاة خیر من النوم"بڑھا دو،اور بعض نے اس کے ناسخ کے بارے میں سکو ت اختیار کیا ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے خود بلال سے کہا کہ"حی علی خیر العمل" اذان میں کہو، چنانچہ بلال رسول کے حکم پر عمل کرتے ہوئے آنحضرت کی وفات تک یہ جملے اذان میں کہتے رہے ۔ ۴

عدم جزئیت اور اہل سنت کی دلیلوں کی جانچ پڑتال

جملہ ٴ (حی علی خیر العمل) اذان کا جزء نہیں ہے، اس بارے میں اہل سنت کی دلیلوں کا خلاصہ درج ذیل تین باتوں میں ہوتا ہے:
1۔ معتبر احادیث کے ذریعہ ثابت نہیں ہوتا کہ" حی علی خیر العمل" اذان کی فصل ہے، اور جن مصادر میں اس کا ذکر آیا ہے جیسے سنن الکبری؛ للبیہقی اور المصنف؛ لابی شیبہ، تو ان کی دوسرے درجہ کی حیثیت ہے۔
2۔ جن روایات سے اس جملہ کاجزء اذان ہونا ثابت ہوتا ہے وہ سب روایات ضعیف ہیں، لہٰذا یہ روایتیں درجۂ اعتبار سے ساقط ہیں ۔
3۔ اگرچہ بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام اپنے زمانہ میں اس فصل کو اذان میں کہتے تھے، لیکن ہمارے لئے رسول خدا (ص) کا قول وفعل حجت ہے صحابہ کا نہیں ۔

مذکورہ ادلہ کی تحقیق

اہل سنت کی پہلی دلیل کے بارے میں ہمارا یہ کہنا ہے کہ:
اولاً: روایات کاصحیحین (صحیح بخاری اور صحیح مسلم) میں نقل نہ ہونا دلیل نہیں ہوسکتا کہ یہ روایات صحیح نہیں ہیں؛ کیونکہ رسول الله (ص) کی تمام سنت؛ صحیحین میں نقل نہیں ہوئی ہے، چنانچہ بہت سی صحیح السند روایات ایسی پائی جاتی ہیں جوصحیحین میں موجود نہیں لیکن دوسری کتب میں موجود ہیں،جن کو اہل سنت تسلیم کرتے ہیں اور ان کے مطابق فتوے بھی دیتے ہیں ۔
ثانیاً: اگر یہ فقرہ اذان سے نسخ ہو گیاتھا تو پھر حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد پر کیونکر پوشیدہ رہا جبکہ حدیث ثقلین کی رو سے آپ کی اقتداء کرنا واجب ہے، اور اگر ان سے روگردانی کی تو صحیح ہدایت نہیں مل سکتی یا حدیث سفینہ میں آیا ہے کہ یہ (اہل بیت) ضلالت اور گمراہی سے کشتیٔ نجات ہیں؟ پس اگر حکم"حی علی خیر العمل" اذان سے منسوخ ہوا ہوتا تو یقیناً حضرت علی (ع) اور آپ کی پاک اولاد کو معلوم ہوا ہوتا جن سے حدیث ثقلین اور حدیث سفینہ کے مطابق تمسک کرنا واجب ہے۔
ثالثاً: "حی علی خیر العمل" سے متعلق جو روایتیں نقل کی گئیں ہیں ان سب سے استفادہ ہوتا ہے کہ یہ فقرہ، عصر رسالت میں جزء اذان تھا، یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق رسول (ص) کی وفات تک یہ جملہ اذان میں کہا جاتا تھا، لہٰذا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فقرہ اذان میں شامل تھا، اور اس کا جزء شمار کیا جاتا تھا، لیکن اگر کوئی اس کے نسخ ہونے کے بار ے میں شک کرے تو اسے استصحابِ جزئیت کر کے اس کی بقا کا حکم لگانا ہوگا، کیونکہ کسی حکم کا نسخ ہونا، دلیل ِ قطعی چاہتا ہے جو فی الحال مفقود ہے ۔

اہل سنت کی دوسری دلیل کے بارے میں ہمارا نظریہ

اولاً: سب سے پہلے ہمیں علمائے رجال کی جانب سے ان احادیث کے راویوں کی جرح و تعدیل کس معیار اور ضابطہ کے تحت ہوئی ہے اس پر غور کرنا ہوگا، آیا یہ مخالفت، مذہب کے مخالف ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے،یاپھر حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان راویوں کو ضعیف قرار دیا گیا ہے؟ہمیں ان تمام باتوں پر غور کرکے فیصلہ کر نا ہوگا۔
ثانیاً: بالفرض اگر ہم تسلیم کرلیں کہ ان روایتوں کے راوی ضعیف ہیں، لیکن ان احادیث کے طرق و اسناد کی کثرت نیز ان کا متعدد ہونا، ان روایتوں کوسرحدا عتبار تک پہنچادیتا ہے، کیونکہ شیعہ اور اہل سنت کی اصطلاحِ حدیث کے مطابق وہ احادیث بھی قابل قبول ہیں جو ایک دوسرے کی تقویت کرتی ہوں ۔ ۵
مثلاً نمونہ کے طور پر اہل سنت اس حدیث پر ضعیف ہونے کے باوجود عمل کرتے ہیں:
((علی الید ما اخذت حتی توٴ دیہ)) ۶
جبکہ اس حدیث کا راوی صرف سمرہ بن جندب ہے (جو ضعیف ہے) ؟
ثالثاً: شیعہ،اسماعیلیہ اورز یدیہ کے علماء کی ایک بڑی تعداد نے ان روایات کو صحیح اورحسن طرق و اسنادکے ذریعہ نقل کیاہے کہ"حی علی خیر العمل"رسول (ص) کے زمانہ میں جزء اذان تھا، اور یہ رسول (ص) کے زمانہ میں نسخ نہیں ہوا تھا، لہٰذا وہ روایات جو اہل سنت کے یہاں ضعیف طرق کے ساتھ وارد ہوئی ہیں ان کی شیعہ روایات کے ذریعہ تقویت ہوسکتی ہے جو صحیح اور حسن طرق کے ساتھ نقل ہوئی ہیں، یہ مطلب اس وقت اور بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جب ہم خلفاء کی سیاست پر غور کریں کیونکہ عالم اسلام اس بات کو یقینا جانتا ہے کہ خلفاء حضرات نے بہت سے احکام میں رد و بدل کیاہے، لہٰذا امکان ہے کہ ُان مقامات میں سے ایک مقام یہ بھی ہو۔

اہل سنت کی تیسری دلیل کے بارے میں ہمارا قول

اولاً: اہل سنت حضرات تو، اصحاب رسول کے عمل پر خاص کر کچھ زیادہ ہی توجہ دیتے ہیں، اور اس کو سو فیصد حجت مانتے ہیں، اور اپنے فتاوے میں اصحاب کے قول وفعل کو مرجع اور مصدر سمجھتے ہیں، لہٰذا انھیں تو اس جملہ "حی علی خیر العمل"کو بدرجۂ اولی اذان میں کہنا چاہیئے البتہ یہ توہم لوگ ہیں کہ جو اصحاب کے قول و فعل کو حجت نہیں مانتے ۔
ثانیاً: ایسا نہیں ہے کہ یہ جملہ صرف رسول (ص) کے بعض صحابہ کہتے تھے بلکہ ہم نے اس سے پہلے اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ یہ فقرہ رسول (ص) کے زمانہ میں بھی جزء اذان تھا اور جناب بلال اس کو اذان میں کہتے تھے،یہاں تک کہ رسول (ص) کی وفات تک یہ جملہ دھرایا جاتا رہا،اور نسخ نہیں ہوا لہٰذا اگر شک کیا جائے تو ایسی صورت میں ہم استصحاب کے ذریعہ اس کی بقا کا حکم لگاتے ہوئے اسے شارع کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔

دوسری دلیل: اہل بیت (ع) اور صحابہ کی اذان میں یہ جملہ تھا۔

اگرکوئی کتب تاریخ وسیر وحدیث کا مطالعہ کرے تووہ دیکھے گا کہ بہت سے صحابہٴ کرام، تابعین، تبع تابعین اور اہل بیت رسول (ص)، اپنی اذانوں میں "حی علی خیر العمل" کہتے تھے، البتہ بعض روایتوں سے صرف اتنا استفادہ ہوتا ہے کہ یہ حضرات نماز صبح میں یہ فقرہ کہتے تھے، لیکن بعض دوسری روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فقرہ تمام نمازوں میں کہا جاتا تھا، چنانچہ ان میں سے بعض شحصیتوں کے اسماء یہاں ہم نقل کرتے ہیں:

1۔ بلال بن رباح حبشی (ت ۲۰ ھ)
کتاب کنزالعمال میں آیا ہے کہ جناب بلال ہمیشہ نماز صبح میں" حی علی خیر العمل" کہتے تھے۔ ۷
حضرت رسول خدا (ص) نے ارشاد فرمایا: تمھارا بہترین عمل نماز صبح ہے، اس وقت آپ نے بلال کو حکم دیا کہ اذان میں" حی علی خیر العمل" کہو ۔ ۸

2۔ علی ابن ابی طالب - (ت ۴۰ھ)
امام مؤید با لله زیدی کتاب " شرح تجرید " میں اپنی سند کے ساتھ امام علی (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
میں نے رسول خدا (ص) سے سنا کہ آپ نے فرمایا: تمھارا بہترین عمل نماز صبح ہے،اس وقت آپ نے بلال کوحکم دیاکہ اذان میں"حی علی خیر العمل" کہیں۔ ۹

3 ۔ ابو رافع
حافظ علوی زیدی اپنی سند کے ساتھ ابی رافع سے نقل کرتے ہیں: جب بھی رسول اسلام (ص) اذان میں"حی علی خیر العمل" پر پہنچتے تھے تو " لا حول ولا قوة الا بالله " کہتے تھے ۔ ۱۰

4۔ عقیل بن ابی طا لب (ع)
حافظ علوی زیدی اپنی سند کے ساتھ عبیدہ سلمانی سے نقل کرتے ہیں: عقیل ابن ابی طالب (ع) جب تک زندہ رہے اس وقت تک " حی علی خیر العمل" کہتے رہے ۔ ۱۱

5 ۔ حسن بن علی بن ابی طالب (ع) -
زیدیہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے بزرگ عالم جناب قاسم بن محمد نقل کرتے ہیں: اس بات پر اتفاق ہے کہ ابن عمر،حسن و حسین علیہما السلام،بلال اور صحابہ کی ایک بڑی جماعت اپنی اذانوں میں" حی علی خیر العمل"کہتی تھی ۔ ۱۲

6 ۔ ابو محذورہ (ت ۵۹ ھ)
محمد بن منصور کتاب" الجامع " میں صحیح سند کے ساتھ ابی محذورہ سے جو رسول (ص) کے موٴذنوں میں سے تھے، نقل کرتے ہیں:
رسول خدا (ص) نے مجھے حکم دیا کہ اذان میں"حی علی خیر العمل"کہوں ۔ ۱۳

7 ۔ حسین بن علی ابن ابی طالب (ع) -
قبلا ً آپ کی حدیث کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ ۱۴

8 ۔ زید بن ارقم
شوکانی،نیل الاوطارمیں اور محب الدین طبری اپنی کتاب" احکام الاحکام" میں نقل کرتے ہیں کہ زید بن ارقم اپنی اذان میں" حی علی خیر العمل" کہتے تھے ۔ ۱۵

9 ۔ عبد الله ابن عباس
حافظ علوی اپنی سند کے ساتھ عبیدہٴ سلمانی سے نقل کرتے ہیں: حضرت علی (ع)، حسن (ع)، حسین (ع)، عقیل ابن ابی طالب (ع)، ابن عباس (رض)، عبد الله بن جعفر (رض) اورمحمد بن حنفیہ (رض) جب تک زندہ رہے اپنی اذان میں" حی علی خیر العمل" کہتے رہے ۔ ۱۶

10 ۔ عبد الله ا بن عمر (ت ۷۳ ھ)
محمد بن سیرین ابن عمر کے بارے میں نقل کرتے ہیں: جب بھی آپ اذان میں"حی علی الفلاح"پر پہنچتے تھے تو " حی علی خیر العمل" کہتے تھے ۔ ۱۷
عبد الرزاق اپنی کتاب" المصنف" میں اپنی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں: جب بھی عبد الله ابن عمراذان میں" حی علی الفلاح" پر پہنچتے تھے تو" حی علی خیر العمل" کہتے تھے ۔ ۱۸
اسی طرح زید بن محمد نافع سے نقل کرتے ہیں: جب بھی عبد الله ابن عمراذان میں" حی علی الفلاح "پر پہنچتے تھے تو " حی علی خیر العمل" ضرورکہتے تھے ۔ ۱۹
عبد الله ابن عمر کے بارے میں مختلف طرق سے اہل سنت اور زیدیہ کاکتابوں میں یہ با ت پایۂ ثبوت کو پہونچی ہوئی ہے کہ جب بھی عبدالله ابن عمراذان میں"حی علی الفلاح" پر پہنچتے تھے تو " حی علی خیر العمل" کہتے تھے ۔

11۔ جابر بن عبد الله
حافظ علوی اپنی سند کے ساتھ جابر بن عبد الله سے نقل کرتے ہیں: عصر رسالت میں موٴذن"حی علی الفلاح" کے بعد "حی علی خیر العمل" کہتا تھا، یہاں تک کہ عمر ابن خطاب کا زمانہ آیا تو خلیفہ نے اس سے نہی کردی، تاکہ لوگ جہاد میں سستی نہ کریں ۔ ۲۰

12۔ عبد الله ابن جعفر
حافظ علوی اپنی سند کے ساتھ عبیدۂ سلمانی سے نقل کرتے ہیں: عبد الله ابن جعفر بن ابی طالب جب تک زندہ رہے اذان میں"حی علی خیر العمل" کہتے رہے ۔ ۲۱

13۔ محمد ابن علی بن ابی طالب
حافظ علوی اپنی سند کے ساتھ محمد ابن بشر سے نقل کرتے ہیں: ایک شخص محمد بن حنفیہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے خبر ملی ہے کہ اذان کی تشریع صرف ایک خواب کی بنا پر ہوئی، جسے ایک انصاری مرد نے دیکھا تھااور اس نے اسے جب رسول الله (ص) سے بیان کیا تو آپ نے بلال سے کہا کہ ان فقرات کو اذان میں کہو،محمد بن حنفیہ نے کہا: جو شخص جاہل ہے وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرتا ہے، امر اذان اس سے کہیں بلند مقام رکھتا ہے (یاد رکھو یہ جملہ اس وقت سے شروع ہوا کہ) جب رسول خدا (ص) معراج پر تشریف لے گئے،تو وہاں آپ نے سنا کہ ایک فرشتہ ان جملوں کو کہہ رہا ہے: الله اکبر،الله اکبر،یہاں تک کہ اس نے "حی علی خیر العمل" کہا ۔ ۲۲

14 ۔ انس بن مالک
حافظ علوی زیدی اپنی سند کے ساتھ انس بن مالک سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اسلام (ص) نے فرمایا: اور جب جبریل بلند ہوئے اور اپنی انگشت شہادت کو اپنے داہنے کان پر رکھا، اور اذان کے کلمات کو دو دو کرکے ادا کرنے لگے، ان میں سے ایک فقرہ میں یہ بھی تھا: " حی علی خیر العمل" ۔ ۲۳

15۔ علی بن حسین بن علی علیہ السلام
ابن ابی شیبہ اور بیہقی اپنی سند کے ساتھ مسلم ابن ابی مریم سے نقل کرتے ہیں:
علی ابن الحسین (ع) ہمیشہ اپنی اذان میں"حی علی الفلاح" کے بعدیہ جملہ کہتے تھے: "حی علی خیر العمل" ۔ ۲۴
یہ مضمون متعد د طرق و اسناد کے ساتھ مختلف مدارک و منابع میں پایا جاتا ہے ۔

16 ۔ ابو امامہ بن سہل بن حنیف (ت۱۰۰ ھ)
محب الدین طبری (جو اپنے زمانہ میں شافعی فرقہ کے امام تھے) کتاب"احکام الاحکام" میں نقل کر تے ہیں:
"ابو امامہ جب بھی اذان کہتے تھے تو جملۂ"حی علی خیر العمل"کو فراموش نہیں کرتے تھے"۔ ۲۵
بیہقی کہتے ہیں: ابوامامہ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ وہ اذان میں"حیّ علی خیر العمل" ضرور کہتے تھے ۔ ۲۶
ابن حزم کہتے ہیں: صحیح سند کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ ابن ابی عمر و و ابی امامہ بن سہل بن حنیف اذان میں ہمیشہ"حیّ علی خیر العمل" کہتے تھے ۔ ۲۷

17 ۔ محمد ابن علی الباقر علیہ السلام
حافظ علوی اپنی سند کے ساتھ ابی الجارود سے نقل کرتے ہیں: ابی جعفر امام محمدباقر (ع) اذان میں ہمیشہ " حی ّ علی خیر العمل" کہتے تھے۔ ۲۸
نیزامام محمدباقر (ع) سے ۲۲/ طرق کے ساتھ منجملہ جعفر جعفی کے طریق سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: میری اورمیرے اجداد: رسول (ص)، علی (ع)، حسن (ع) حسین (ع) اورعلی ابن الحسین (ع) کی اذان میں"حیّ علی خیر العمل" اور"حی ّ علی خیر العمل"ہے۔ ۲۹

18 ۔ زید بن علی (ت ۱۲۱ ھ)
حافظ علوی طیبہ بن حیا ن کے ذریعہ نقل کرتے ہیں: زید بن علی ہمیشہ موٴذن کو" حی ّ علی خیر العمل " کا حکم دیتے تھے۔ ۳۰

19۔ یحی بن زید بن علی (ت ۱۲۵ ھ)
حافظ علوی اپنی سند کے ساتھ حسان سے نقل کرتے ہیں: میں نے یحی بن زید کے لئے ایک مرتبہ خراسان میں اذان کہی تو آپ نے مجھے"حی علی خیر العمل"اور" حی علی خیر العمل" کہنے کا حکم دیا۔ ۳۱

20 ۔ محمد بن زید بن علی
حافظ علوی نے اپنی سند کے ساتھ احمد بن مفضل سے نقل کیا ہے: محمد بن زید بن علی اپنی اذان میں" حی علی خیر العمل" کہتے تھے ۔ ۳۲

21 ۔ محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب (ت ۱۳۵ ھ)
حافظ علوی نے اپنی سند کے ساتھ عبد الله ابن محمد بن عمر بن ابی سے نقل کرتے ہیں: میرے باپ اپنی اذان میں"حی علی خیر العمل"ضرور کہتے تھے ۔ ۳۳

22 ۔ جعفر ابن محمد الصادق علیہ السلام
حافظ علوی اپنی سند کے ساتھ معاویہ بن عمار سے نقل کرتے ہیں: میں نے جعفر ابن محمد (ع) سے سنا کہ آپ اذان میں"حی علی خیر العمل" کہتے ہیں۔ ۳۴

23 ۔ حسین ابن علی صاحب فخ (ت ۱۶۹ ھ)
حافظ علوی اپنی سند کے ساتھ عنترہ بن حسین عصافی سے نقل کرتے ہیں: حسین ابن علی صاحب فخ،اپنی اذان میں"حی علی خیر العمل" کہتے تھے۔ ۳۵

24 ۔ موسی ابن جعفر الکاظم علیہ السلام
شیخ صدوق (رح) اپنی سند کے ساتھ ابن ابی عمیر سے نقل کرتے ہیں: میں نے امام علی رضاعلیہ السلام سے"حی علی خیر العمل" کے بارے میں اس لئے دریافت کیا کہ اس کو اہل سنت نے حذف کردیا ہے؟ آپ نے فرمایا: آیا تو اس کی ظاہری علت معلوم کرنا چاہتا ہے یا پھر اس کی باطنی علت پوچھنا چاہتا ہے ؟ میں نے کہا دونوں دریافت کرنا چاہتا ہوں، امام نے کہا: اس کی ظاہری علت یہ تھی کہ لوگ نماز پر زیادہ توجہ کی بنا پر جہاد کو ترک نہ کردیں، اور اس کی باطنی علت یہ ہے کہ بہترین عمل ولایت ہے، لہٰذا جس نے اس کے حذف کرنے کا منصوبہ بنایا اس کا مقصدلوگوں کو ولایت سے دور کرنا تھا ۔ ۳۶

25 ۔ علی ابن موسی الرضا علیہ السلام
نیز شیخ صدوق (رح) فضل بن شاذان کے ذریعہ امام علی رضا علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں: حضرت نے فرمایا: لفظ "حی علی خیر العمل" اذان کے درمیان اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہ جملہ وسط اذان میں دعوت ہے فلاح اور بہترین عمل کے لئے ۳۷

26 ۔ حسن بن یحی بن حسین بن زید بن علی (ت ۲۶۰ ھ)
حافظ علوی زیدی اپنی سند کے ساتھ حسن بن یحی سے نقل کرتے ہیں: اہل بیت رسول (ص) کا اس بات پر اجماع ہے کہ اذان و اقامت میں"حی علی خیر العمل" کہنا چاہیئے ۔ ۳۸

تیسری دلیل: عترت رسول کا اجماع

فریقین کی تمام روایتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کا اجماع اس بات پر تھا کہ" حی علی خیر العمل" اذان و اقامت کا جزء ہے، چنانچہ عالم اہل سنت دسوقی اپنے حاشیہ میں کہتے ہیں: حضرت علی (ع) اذان و اقامت میں"حی علی خیر العمل" کہتے تھے، اور شیعہ مذہب کا عقیدہ ہے کہ یہ جملہ اذان و اقامت کا جزء ہے۔ ۳۹
اسی طرح حافظ علوی کہتے ہیں: علی ابن ابی طالب (ع)، حسن (ع)، حسین (ع)، عقیل ابن ابی طالب (رح)، ابن عباس (رض)، عبد الله ابن جعفر (رض)، اور محمد ابن حنفیہ (رض) جب تک زندہ رہے یہ جملہ اذان میں کہتے رہے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ یہ جملہ اذان میں ہمیشہ سے تھا۔ ۴۰
علامہ صلاح بن احمد بن مہدی کہتے ہیں: "حی علی خیر العمل"پر اہلبیت (ع) کا اجماع ہے کہ یہ جز ء اذان ہے ۔ ۴۱

وفات رسول کے بعد بلال نے اذان دینا کیوں ترک کیا؟

تاریخ اسلام سے استفادہ ہوتا ہے کہ جناب بلال نے وفات رسول (ع) کے بعد اہل بیت (ع) کے علاوہ اور کسی کیلئے اذان نہیں کہی، اور اس بناپر کہ غاصب خلافت کہیں ان کو تحریف شدہ اذان کہنے پر مجبور نہ کرے اس لئے آپ مدینہ چھوڑ کر شام چلے گئے، اور آخر عمر تک وہیں قیام پذیر رہے ۔ ۴۲
عالم اہل سنت اوزاعی کہتے ہیں: ایک مرتبہ جناب بلال، عمر ابن الخطاب کے پاس آئے، اور جب نماز کا وقت ہوا تو بلال نے عمر سے کئی مرتبہ کہا: نماز، نماز، عمر نے ان سے کہا: میں نماز کا وقت تم سے بہتر جانتا ہوں، بلال نے ان سے کہا: البتہ میں ہر حال میں تم سے وقت کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں، کیونکہ تم تواپنی بیوی کے خچر سے بھی زیادہ گمراہ ہو ! ۴۳
مذکورہ عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ بلال اور عمر و ابوبکر اور ان کے چاہنے والوں کے درمیان سیاسی اختلاف کافی حد تک بڑھ چکا تھا، یعنی بلال کو اس بات پر مجبورکرنے کی کوشش کی جارہی تھی کہ وہ اذان سے"حی علی خیر العمل" نکال دیں، اور اس کی جگہ" الصلاہ خیر من النوم" داخل کردیں ! لیکن بلال نے انکار کردیا، تب ان لوگوں نے ان کو چھوڑ دیا اور ان کی جگہ سعد قرظ اور ابو محذورہ جیسے لوگوں کو اذان کیلئے معین کیا اور بلال کے بارے میں شہرت کردی کہ ان کی آنکھیں ضعیف ہوگئیں ہیں، اور ان کی زبان میں لکنت ہے ! اور دوسری جانب ایک حدیث بھی گڑ ھ دی کہ بلال اذان میں "الصلاہ خیر من النوم" کہتے تھے! مگر بلال اس سیاسی چال کو سمجھ گئے، لہٰذا ان کی ذات سے کہیں غلط بات پر تائید و تصدیق نہ ہو جائے اس لئے آپ نے مدینہ کو ترک کردیا اور شام چلے گئے ۔
قوشچی حنفی شرح تجرید میں کہتے ہیں: حضرت عمر نے اپنے ایک خطبہ میں لوگوں کو مخاطب قرار دیکر کہا: اے لوگو! تین چیزیں عہد رسول میں تھیں لیکن میں ان سے نہی کرتا ہوں، اور ان کوحرام قرار دیتاہوں، جو بھی اب ان کو انجام دے گا میں اس کو سخت سزادوںگا، اور یہ تین چیزین یہ ہیں: متعة النساء، حج تمتع، اور حی علی خیر العمل ۔ ۴۴
علمائے زیدیہ قائل ہیں کہ عمر ابن الخطاب کے علاوہ اور کسی نے"حی علی خیر العمل" اذان میں کہنے سے نہیں روکا۔ ۴۵
حلبی کہتےہیں: صحیح سندکے ذریعہ ثابت ہے کہ"حی علی خیرالعمل" رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اذان کا جزء تھا یہاں تک کہ عمر کے زمانے میں اس سے منع کردیا گیا ! ۴۶
تفتازانی اپنے حاشیہ میں جسے انھوں نے شرح عضدی جو کہ شرح مختصر الاصول موٴلفہ ابن حاجب ہے،میں لکھاہے، کہتے ہیں: "حی علی خیر العمل" رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اذان کا جزء تھا،یہ عمرتھے جنھوں نے لوگوں کو اس کے کہنے سے باز رکھا،تاکہ لوگ جہاد میں جانے سے نہ کترائیں ۔ ۴۷
شوکانی کہتے ہیں: صحیح طریق کی ساتھ یہ بات پایہٴ ثبوت کو پہنچی ہوئی ہے کہ" حی علی خیر العمل" رسول (ص) کے زمانہ میں اذان کا جزء تھا، یہ عمر تھے جنھوں نے لوگوں کو اس کے کہنے سے باز رکھا ۔ ۴۸
پس مذکورہ تمام تفصیلات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جملہ رسول الله (ص) کے زمانہ میں جزء اذان تھا لہٰذا اب اگر اس کی جزئیت میں کسی کو شک ہو جائے تو قانون استصحاب کے تحت وہ اس کی جزئیت کا استصحاب کر سکتا ہے ۔
محترم قارئین! وہ علت اوراجتہاد جواذان میں عمرکے"حی علی خیر العمل" نہ کہنے کے لئے بیان کیا جاتا ہے وہ یہ ہے:
چونکہ لوگ نماز میں زیادہ مشغول ہونے کی بناپر جہاد کرنے سے باز ہو جائیں گے لہٰذا" حی علی خیر العمل" نماز میں نہ کہا جائے !
عمر کا یہ اجتہاد چند دلیلوں کی بناپر ناقص ہے:

1۔ رسول (ص) کے زمانے میں تو عمر کے زمانے سے زیادہ جہاد اور دفاع کی ضرورت تھی لہٰذا رسول (ص) نے کیوں نہیں اپنے زمانے میں اس کو منع کیا ؟ بلکہ آپ نے منع کرنے کے بجائے اس کو نماز میں پڑھنے کاحکم دیا ۔

2۔ بالفرض مذکورہ علت کی بنا پر عمر نے لوگوں کو اس کے اذان میں کہنے سے روکا تو کیا یہ دائمی اور ہمیشہ کیلئے تھا ؟ بلکہ یہ حکم ایک زمانے کیلئے مخصوص تھا، کیونکہ ہمیشہ جہاد کا موقع اور موسم نہیں ہوتا، لہٰذا اہل سنت سے دریافت کرنا چاہیئے کہ اب کونسا جہاد ہے جس نے تم کواس کے کہنے سے روک رکھا ہے ؟ فی الحال تو حالت صلح ہے، تو پھر کیوں نہیں" حی علی الفلاح" کے بعد اذان میں"حی علی خیر العمل" کہتے ؟

منبع: شیعہ شناسی و پاسخ بہ شبہات؛ علی اصغر رضوانی، جلد ۲، ص۲۶۳ - ۳۷۵ - مترجم مقاله: محمد منیرخان ہندی لکھیم پوری (گروہ ترجمہ سایٹ صادقین)


۱. الانتصار مسئلہ ۳۵۔
۲. تذکرة الفقہاء جلد ۳، ص۴۲۔
۳. جواہر الکلام جلد۹، ص ۸۱، ۸۲۔
۴. وسائل الشیعہ جلد۵، ص ۴۱۶ ۔ الاذان بحی علی خیر العمل، حافظ علوی، زیدی ص ۹۱۔
۵. نصب الرایةجلد۱، ص۹۳۔
۶. مسند احمد بن حنبل ج ۵، ص ۸، ۱۲، ۱۳۔
۷. کنز العمال جلد ۸، ص ۳۴۲، حدیث نمبر ۲۷۱۷۴۔ مجمع الزوائد جلد ۱، ص ۳۳۰۔
۸. البحرالزخارجلد۲،ص۱۹۱۔الشفاء جلد۱،ص۲۶۰۔
۹. جواہر الاخباروا لآثارجلد۲، ص۱۹۱۔ الاعتصام بحبل الله المتین جلد۱،ص۲۰۹۔
۱۰. الاذان بحی علی خیر العمل ص ۲۸ ۔ الاعتصام جلد ۱، ص ۲۸۹۔
۱۱. الاذان بحی علی خیر العمل ص ۲۸ ۔ الاعتصام جلد ۱، ص ۲۸۹۔
۱۲. الاعتصام بحبل الله المتین ص ۳۰۷۔ الروض النضیر، ج۱ ص۵۴۲۔
۱۳. میزان الاعتدال ج۱، ص ۱۳۹۔ لسان المیزان ج ۱، ۲۶۸۔ البحر الزخار ج۲، ص ۱۹۲۔
۱۴. الاعتصام ص ۳۰۷ ۔
۱۵. نیل الاوطار جلد ۲، ص ۴۴۔
۱۶. الاذان بحی علی خیر العمل ص ۵۴۔
۱۷. بیہقی؛ السنن الکبری جلد۱،ص ۴۲۵۔
۱۸. المصنف ج۱، ص۲۶۰، حدیث نمبر۱۷۸۶۔
۱۹. الاعتصام ج ۱، ص ۲۹۵ ۔
۲۰. الاذان بحی علی خیر العمل ص ۳۰۔ الاعتصام جۮیر العمل ص ۹۱ ۔
۳۹. حاشیہ دسوقی ج ۱، ص ۱۹۳ ۔
۴۰. الاذان بحی علی خیر العمل ص ۱۰۹۔ الاعتصام ج ۱، ص ۲۹۴ ۔
۴۱. شرح الہدایہ ص ۲۹۴ ۔
۴۲. تاریخ مدینة دمشق ج ۷،ص ۱۳۶، نمبر۴۹۳ ۔ تہذیب الکمال ج ۴،ص ۲۸۹ ۔ اسد الغابةج۱،ص ۲۰۸۔
۴۳. مختصر تاریخ دمشق ج ۵، ص ۲۶۶، ۲۶۷ ۔
۴۴. شرح تجرید قوشجی ص ۳۷۴ ۔
۴۵. کتاب الاحکام ج ۱، ص ۸۴ ۔الاذان بحی علی خیر العمل ص ۷۸۔
۴۶. السیرة الحلبیہ جلد ۲، ص ۹۸۔
۴۷. مبادی الفقہ الاسلامی، ص ۳۸ ۔
۴۸. نیل الاوطار ج ۲ ص ۲۳۔




تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
7+5 =